اتوار 21 مارچ،2021



مضمون۔ مادا

SubjectMatter

سنہری متن: 42 زبور 11 آیت • اعمال 17 باب28 آیت

”اے میری جان تْوں کیوں گری جاتی ہے؟ تْو اندر ہی اندر کیوں بے چین ہے؟ خدا سے امید رکھ کیونکہ وہ میرے چہرے کی رونق اورمیرا خدا ہے۔ کیونکہ اْسی میں ہم جیتے اور چلتے پھرتے اور موجود ہیں۔“



Golden Text: Psalm 42 : 11; Acts 17 : 28

Why art thou cast down, O my soul? and why art thou disquieted within me? hope thou in God: for I shall yet praise him, who is the health of my countenance, and my God. For in him we live, and move, and have our being.





سبق کی آڈیو کے لئے یہاں کلک کریں

یوٹیوب سے سننے کے لئے یہاں کلک کریں

████████████████████████████████████████████████████████████████████████


جوابی مطالعہ: رومیوں 8 باب1تا6 آیات


1۔ پس اب جو مسیح یسوع میں ہیں اُن پر سزا کا حکم نہیں،جو جسم کے مطابق نہیں بلکہ روح کے مطابق چلتے ہیں۔

2۔ کیونکہ زندگی کے روح کی شریعت نے مسیح یسوع میں مجھے گناہ اورموت کی شریعت سے آزاد کردیا۔

3۔اس لئے کہ جو کام شریعت جسم کے سبب سے کمزور ہو کر نہ کر سکی وہ خدا نے کیا یعنی اْس نے اپنے بیٹے کو گناہ آلود جسم کی صورت میں اور گناہ کی قربانی کے لئے بھیج کر جسم میں گناہ کی سزا کا حکم دیا۔

4۔تاکہ شریعت کا تقاضا ہم میں پورا ہو جو جسم کے مطابق نہیں بلکہ روح کے مطابق چلتے ہیں۔

5۔کیونکہ جو جسمانی ہیں وہ جسمانی باتوں کے خیال میں رہتے ہیں لیکن جو روحانی ہیں وہ روحانی باتوں کے خیال میں رہتے ہیں۔

6۔اور جسمانی نیت موت ہے مگر روحانی نیت زندگی اور اطمینان ہے۔

Responsive Reading: Romans 8 : 1-6

1.     There is therefore now no condemnation to them which are in Christ Jesus, who walk not after the flesh, but after the Spirit.

2.     For the law of the Spirit of life in Christ Jesus hath made me free from the law of sin and death.

3.     For what the law could not do, in that it was weak through the flesh, God sending his own Son in the likeness of sinful flesh, and for sin, condemned sin in the flesh:

4.     That the righteousness of the law might be fulfilled in us, who walk not after the flesh, but after the Spirit.

5.     For they that are after the flesh do mind the things of the flesh; but they that are after the Spirit the things of the Spirit.

6.     For to be carnally minded is death; but to be spiritually minded is life and peace.



درسی وعظ



بائبل


درسی وعظ

بائبل

1۔ 8 زبور:1، 4تا6، 9 آیات

1۔ اے خداوند ہمارے رب! تیرا نام تمام زمین پر کیسا بزرگ ہے! تْو نے اپنا جلال آسمان پر قائم کیا۔

4۔ تو پھر انسان کیا ہے کہ تْو اْسے یاد رکھے اور آدم زاد کیا ہے کہ تْو اْس خبر لے؟

5۔ کیونکہ تْو نے اْسے خدا سے کچھ ہی کمتر بنایا ہے اور جلال اور شوکت سے اْسے تاجدار کرتا ہے۔

6۔ تْو نے اْسے اپنی دستکاری پر تسلط بخشا ہے۔ تْو نے سب کچھ اْس کے قدموں کے نیچے کر دیا ہے۔

9۔ اے خداوند ہمارے خدا! تیرا نام تمام زمین پر کیسا بزرگ ہے!

1. Psalm 8 : 1, 4-6, 9

1     O Lord our Lord, how excellent is thy name in all the earth! who hast set thy glory above the heavens.

4     What is man, that thou art mindful of him? and the son of man, that thou visitest him?

5     For thou hast made him a little lower than the angels, and hast crowned him with glory and honour.

6     Thou madest him to have dominion over the works of thy hands; thou hast put all things under his feet:

9     O Lord our Lord, how excellent is thy name in all the earth!

2۔ ایوب 12باب10 آیت

10۔ اْسی کے ہاتھ میں ہر جاندار کی جان اور کْل بنی آدم کا دم ہے۔

2. Job 12 : 10

10     In whose hand is the soul of every living thing, and the breath of all mankind.

3۔ 56 زبور: 4، 13 آیات

4۔ میرا فخر خدا پر اور اْس کے کلام پر ہے۔میرا توکل خدا پر ہے۔ مَیں ڈرنے کا نہیں۔ بشر میرا کیا کر سکتا ہے؟

13۔ کیونکہ تْو نے میری جان کو موت سے چھڑایا۔ کیا تْو نے میرے پاؤں کو پھسلنے سے نہیں بچایا تاکہ مَیں خدا کے سامنے زندوں کے نور میں چلوں؟

3. Psalm 56 : 4, 13

4     In God I will praise his word, in God I have put my trust; I will not fear what flesh can do unto me.

13     For thou hast delivered my soul from death: wilt not thou deliver my feet from falling, that I may walk before God in the light of the living?

4۔ واعظ 3 باب14، 15 آیات

14۔اور مجھ کو یقین ہے کہ سب کچھ جو خدا کرتا ہے ہمیشہ کے لئے ہے۔ اِس میں کچھ کمی بیشی نہیں ہو سکتی اور خدا نے یہ اِس لئے کیا ہے کہ لوگ اْس سے ڈرتے رہیں۔

15۔ جو کچھ ہے وہ پہلے ہو چکا اور جو کچھ ہونے کو ہے وہ بھی ہو چکا اور خدا گزشتہ کو پھر طلب کرتا ہے۔

4. Ecclesiastes 3 : 14, 15

14     I know that, whatsoever God doeth, it shall be for ever: nothing can be put to it, nor any thing taken from it: and God doeth it, that men should fear before him.

15     That which hath been is now; and that which is to be hath already been; and God requireth that which is past.

5۔ لوقا 4 باب14، 15، 38تا40 آیات

14۔ پھر یسوع روح کی قوت سے بھرا ہوا گلیل کو لوٹا اور سارے گردو نواح میں اْس کی شہرت پھیل گئی۔

15۔اور وہ اْن کے عبادتخانوں میں تعلیم دیتا رہا اور سب اْس کی بڑائی کرتے رہے۔

38۔ پھر وہ عبادتخانہ سے اٹھ کر شمعون کے گھر میں داخل ہوا اور شمعون کی ساس کو بڑی تپ چڑھی ہوئی تھی اور اْنہوں نے اْس کے لئے اْس سے عرض کی۔

39۔وہ کھڑا ہو کر اْس کی طرف جھکا اور تپ کو جھڑکا تو وہ اْتر گئی اور وہ اْسی دم اْٹھ کر اْن کی خدمت کرنے لگی۔

40۔ اور سورج کے ڈوبتے وقت وہ سب لوگ جن کے ہاں طرح طرح کی بیماریوں کے مریض تھے اْنہیں اْس کے پاس لائے اور اْس نے اْن میں سے ہر ایک پر ہاتھ رکھ کر اْنہیں اچھا کیا۔

5. Luke 4 : 14, 15, 38-40

14     And Jesus returned in the power of the Spirit into Galilee: and there went out a fame of him through all the region round about.

15     And he taught in their synagogues, being glorified of all.

38     And he arose out of the synagogue, and entered into Simon’s house. And Simon’s wife’s mother was taken with a great fever; and they besought him for her.

39     And he stood over her, and rebuked the fever; and it left her: and immediately she arose and ministered unto them.

40     Now when the sun was setting, all they that had any sick with divers diseases brought them unto him; and he laid his hands on every one of them, and healed them.

6۔ لوقا 5 باب12، 13، 18تا25 آیات

12۔ جب وہ شہر میں تھا تو دیکھو کوڑھ سے بھرا ہوا ایک آدمی یسوع کو دیکھ کر منہ کے بل گرا اور اْس کی منت کر کے کہنے لگا اے خداوند! اگر تْو چاہے تو مجھے پاک صاف کر سکتا ہے۔

13۔ اْس نے اْسے ہاتھ بڑھا کر چھوا اور کہا مَیں چاہتا ہوں کہ تْو پاک صاف ہو جا اور فوراً اْس کا کوڑھ جاتا رہا۔

18۔ اور دیکھو کئی مرد ایک آدمی کو جو مفلوج تھا چار پائی پر لائے اور کوشش کی کہ اْسے اندر لا کر اْس کے آگے رکھیں۔

19۔ اور جب بھیڑ کے سبب سے اْسے اندر لے جانے کی راہ نہ پائی تو کوٹھے پر چڑھ کر کھپریل میں سے اْس کو کھٹولے سمیت بیچ میں سے یسوع کے سامنے اْتار دیا۔

20۔ اْس نے اْن کا ایمان دیکھ کر کہا اے آدمی! تیرے گناہ معاف ہوئے۔

21۔ اِس پر فقیہ اور فریسی سوچنے لگے یہ کون ہے جو کفر بکتا ہے؟ خدا کے سوا اور کون گناہ معاف کر سکتا ہے؟

22۔ یسوع نے اْن کے خیالوں کو معلوم کر کے جواب میں اْن سے کہا تم اپنے دلوں میں کیا سوچتے ہو؟

23۔ آسان کیا ہے؟ یہ کہنا کہ تیرے گناہ معاف ہوئے یا یہ کہنا اْٹھ اور چل پھر۔

24۔ لیکن اِس لئے کہ تم جانو کہ ابن آدم کو زمین پر گناہ معاف کرنے کا اختیار ہے۔ (اْس نے مفلوج سے کہا) مَیں تجھ سے کہتاہوں اْٹھ اپنا کھٹولا اْٹھا کر اپنے گھر جا۔

25۔ اور وہ اْسی دم اْن کے سامنے اٹھا اور جس پر پڑا تھا اْسے اٹھا کر خدا کی تمجید کرتا ہوا گھر چلا گیا۔

6. Luke 5 : 12, 13, 18-25

12     And it came to pass, when he was in a certain city, behold a man full of leprosy: who seeing Jesus fell on his face, and besought him, saying, Lord, if thou wilt, thou canst make me clean.

13     And he put forth his hand, and touched him, saying, I will: be thou clean. And immediately the leprosy departed from him.

18     And, behold, men brought in a bed a man which was taken with a palsy: and they sought means to bring him in, and to lay him before him.

19     And when they could not find by what way they might bring him in because of the multitude, they went upon the housetop, and let him down through the tiling with his couch into the midst before Jesus.

20     And when he saw their faith, he said unto him, Man, thy sins are forgiven thee.

21     And the scribes and the Pharisees began to reason, saying, Who is this which speaketh blasphemies? Who can forgive sins, but God alone?

22     But when Jesus perceived their thoughts, he answering said unto them, What reason ye in your hearts?

23     Whether is easier, to say, Thy sins be forgiven thee; or to say, Rise up and walk?

24     But that ye may know that the Son of man hath power upon earth to forgive sins, (he said unto the sick of the palsy,) I say unto thee, Arise, and take up thy couch, and go into thine house.

25     And immediately he rose up before them, and took up that whereon he lay, and departed to his own house, glorifying God.

7۔ لوقا 8باب41، 42 (تا پہلا)، 51تا 56 آیات

41۔ اور دیکھو یائیر نام ایک شخص جو عبادتخانہ کا سردار تھا آیا اور یسوع کے قدموں پرگر کر اْس سے منت کی کہ میر ے گھر چل۔

42۔ کیونکہ اْس کی اکلوتی بیٹی قریباً بارہ برس کی تھی مرنے کو تھی۔

51۔ اور گھر میں پہنچ کر پطرس اور یوحنا اور یعقوب اور لڑکی کے ماں باپ کے سوا کسی کو اپنے ساتھ اندر نہ جانے دیا۔

52۔ اور سب اْس کے لئے رو پیٹ رہے تھے مگر اْس نے کہا ماتم نہ کرو۔ وہ مر نہیں گئی بلکہ سوتی ہے۔

53۔ وہ اْس پر ہنسنے لگے کیونکہ جانتے تھے کہ وہ مر گئی ہے۔

54۔ مگر اْس نے اْس کا ہاتھ پکڑا اور پکار کر کہا اے لڑکی اْٹھ۔

55۔ اْس کی روح پھر آئی اور وہ اْسی دم اْٹھی۔ پھر یسوع نے حکم دیا کہ لڑکی کو کچھ کھانے کو دو۔

56۔ اْس کے ماں باپ حیران ہوئے اور اْس نے انہیں تاکید کی کہ یہ ماجرا کسی سے نہ کہنا۔

7. Luke 8 : 41, 42 (to 1st .), 51-56

41     And, behold, there came a man named Jairus, and he was a ruler of the synagogue: and he fell down at Jesus’ feet, and besought him that he would come into his house:

42     For he had one only daughter, about twelve years of age, and she lay a dying.

51     And when he came into the house, he suffered no man to go in, save Peter, and James, and John, and the father and the mother of the maiden.

52     And all wept, and bewailed her: but he said, Weep not; she is not dead, but sleepeth.

53     And they laughed him to scorn, knowing that she was dead.

54     And he put them all out, and took her by the hand, and called, saying, Maid, arise.

55     And her spirit came again, and she arose straightway: and he commanded to give her meat.

56     And her parents were astonished: but he charged them that they should tell no man what was done.

8۔ 1 کرنتھیوں 15باب50 تا57 آیات

50۔ اے بھائیو! میرا مطلب یہ ہے کہ گوشت اور خون خدا کی بادشاہی کے وارث نہیں ہو سکتے اور نہ فنا بقا کی وارث ہو سکتی ہے۔

51۔ دیکھو میں تم سے بھید کی بات کہتا ہوں۔ ہم سب تو نہیں سوئیں گے مگر سب بدل جائیں گے۔

52۔ اور یہ ایک دم میں۔ ایک پل میں۔ پچھلا نرسنگا پھونکتے ہی ہوگا کیونکہ نرسنگا پھونکا جائے گا اور مردے غیر فانی حالت میں اْٹھیں گے اور ہم بدل جائیں گے۔

53۔ کیونکہ ضرور ہے کہ یہ فانی جسم بقا کا جامہ پہنے اور مرنے والا جسم حیاتِ ابدی کا جامہ پہنے۔

54۔ اور جب یہ فانی جسم بقا کا جامہ پہن چکے گا اور یہ مرنے والا جسم حیات ِ ابدی کا جامہ پہن چکے گا تو وہ قول پورا ہوگا جو لکھا ہے کہ موت فتح کا لْقمہ ہو گئی۔

55۔ اے موت تیری فتح کہاں رہی؟ اے موت تیرا ڈنک کہاں رہا؟

56۔ موت کا ڈنک گناہ ہے اور گناہ کا زور شریعت ہے۔

57۔ مگر خدا کا شکر ہے جو ہمارے خداوند یسوع مسیح کے وسیلہ سے ہم کو فتح بخشتا ہے۔

8. I Corinthians 15 : 50-57

50     Now this I say, brethren, that flesh and blood cannot inherit the kingdom of God; neither doth corruption inherit incorruption.

51     Behold, I shew you a mystery; We shall not all sleep, but we shall all be changed,

52     In a moment, in the twinkling of an eye, at the last trump: for the trumpet shall sound, and the dead shall be raised incorruptible, and we shall be changed.

53     For this corruptible must put on incorruption, and this mortal must put on immortality.

54     So when this corruptible shall have put on incorruption, and this mortal shall have put on immortality, then shall be brought to pass the saying that is written, Death is swallowed up in victory.

55     O death, where is thy sting? O grave, where is thy victory?

56     The sting of death is sin; and the strength of sin is the law.

57     But thanks be to God, which giveth us the victory through our Lord Jesus Christ.

9۔ متی 5 باب48 آیت

48۔ پس چاہئے کہ تم کامل ہو جیسا تمہارا آسمانی باپ کامل ہے۔

9. Matthew 5 : 48

48     Be ye therefore perfect, even as your Father which is in heaven is perfect.



سائنس اور صح


1۔ 468 :8۔15

سوال: ہستی کا سائنسی بیان کیا ہے؟

جواب: مادے میں کوئی زندگی، سچائی، ذہانت اورنہ ہی مواد پایا جاتا ہے۔کیونکہ خدا حاکم کْل ہے اس لئے سب کچھ لامتناہی عقل اور اْس کا لامتناہی اظہار ہے۔ روح لافانی سچائی ہے؛ مادہ فانی غلطی ہے۔ روح ابدی اور حقیقی ہے؛ مادہ غیر حقیقی اور عارضی ہے۔ روح خدا ہے اور انسان اْس کہ صورت اور شبیہ۔ اس لئے انسان مادی نہیں بلکہ وہ روحانی ہے۔

1. 468 : 8-15

Question. — What is the scientific statement of being?

Answer. — There is no life, truth, intelligence, nor substance in matter. All is infinite Mind and its infinite manifestation, for God is All-in-all. Spirit is immortal Truth; matter is mortal error. Spirit is the real and eternal; matter is the unreal and temporal. Spirit is God, and man is His image and likeness. Therefore man is not material; he is spiritual.

2۔ 275 :1۔9

مادے میں کھونے کے لئے زندگی نہیں ہے، اور روح کبھی مرتی نہیں ہے۔ عقل کی مادے کے ساتھ شراکت داری قادر مطلق اور ہر جا موجود عقل کو نظر انداز کرے گی۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ مادہ خدا، روح سے پیدا نہیں ہوا اور یہ ابدی نہیں ہے۔اِس لئے مواد مادی، زندہ نہیں اور نہ ہی ذہین ہے۔ الٰہی سائنس کا واضح نقطہ یہ ہے کہ خدا، روح، حاکمِ کْل ہے، اور اْس کے علاوہ کوئی طاقت ہے نہ کوئی عقل ہے، کہ خدا محبت ہے، اور اسی لئے وہ الٰہی اصول ہے۔

2. 275 : 1-9

Matter has no life to lose, and Spirit never dies. A partnership of mind with matter would ignore omnipresent and omnipotent Mind. This shows that matter did not originate in God, Spirit, and is not eternal. Therefore matter is neither substantial, living, nor intelligent. The starting-point of divine Science is that God, Spirit, is All-in-all, and that there is no other might nor Mind, — that God is Love, and therefore He is divine Principle.

3۔ 372 :1 (مادا)۔7

مادا بیمار نہیں ہوسکتا، اور دماغ لافانی ہے۔ فانی بدن مادے پر عقل کامحض ایک غلط فانی عقیدہ ہے۔ جسے آپ مادا کہتے ہیں وہ در اصل حل میں ایک غلطی، ابتدائی فانی عقل، میلٹن کی پیش کردہ ”افراتفری اور پرانی رات“ کے ساتھ مماثلت ہے۔اِس فانی عقل سے متعلق ایک نظریہ یہ ہے کہ اِس کے احساسات نئے انسان کو جنم دے سکتے، خون، گوشت اور ہڈیاں تشکیل دے سکتے ہیں۔ ہستی کی سائنس، جس میں سب کچھ الٰہی عقل، یا خدا اور اْس کا خیال شامل ہے، اِس دور میں واضح تر ہوگا مگر اِس عقیدے کے لئے کہ مادا انسان کا آلہ ہے یا یہ کہ انسان اپنی جسمانی سوچ میں داخل ہو سکتا ہے، اْس کے خود کے عقائد کے ساتھ اْسے باندھتا ہے اور پھر اْس کے بندھنوں کو مادا کہتا اور انہیں الٰہی شریعت کا نام دیتا ہے۔

جب انسان پوری طرح سے کرسچن سائنس کو ظاہر کرتا ہے، تو وہ کامل ہو جائے گا۔ وہ نہ گناہ کرے گا، دْکھ اٹھائے گا، مادے کے ماتحت ہوگا، اور نہ خدا کی شریعت کی نافرمانی کرے گا۔اس لئے وہ آسمان کے فرشتوں کی مانند ہوگا۔

3. 372 : 1 (Matter)-17

Matter cannot be sick, and Mind is immortal. The mortal body is only an erroneous mortal belief of mind in matter. What you call matter was originally error in solution, elementary mortal mind, — likened by Milton to "chaos and old night." One theory about this mortal mind is, that its sensations can reproduce man, can form blood, flesh, and bones. The Science of being, in which all is divine Mind, or God and His idea, would be clearer in this age, but for the belief that matter is the medium of man, or that man can enter his own embodied thought, bind himself with his own beliefs, and then call his bonds material and name them divine law.

When man demonstrates Christian Science absolutely, he will be perfect. He can neither sin, suffer, be subject to matter, nor disobey the law of God. Therefore he will be as the angels in heaven.

4۔ 391 :7۔28

بیماری کے پہلے یا بعد والے مرحلے پر اندھا اور پرسکون اعتماد کرنے کی بجائے اِن کے خالف بغاوت میں اْٹھ کھڑے ہوں۔ اِس یقین کو ختم کر دیں کہ آپ اْس ایک داخل ہونے والے درد کا علاج کر سکتے ہیں جو عقل کی طاقت سے تلف نہیں کیا جا سکتا، اور یوں آپ جسم میں درد کے بڑھنے کو روک سکتے ہیں۔ خدا کا کوئی قانون اِس نتیجے میں رکاوٹ نہیں بنتا۔اپنے گناہوں کی بجائے فرض کے لئے دْکھ سہنا غلطی ہے۔ مسیح یا سچائی دیگر فرضی تکالیف کو نیست کرے گا اور گناہ کے ختم ہونے کے تناسب سے ہی آپ کے خود کے گناہوں کی حقیقی تکالیف ختم ہوں گی۔

انصاف قانون کا اخلاقی مفہوم ہے۔ بے انصافی قانون کی غیر موجودگی ظاہر کرتی ہے۔جب جسم یہ کہتا ہوا لگے کہ ”مَیں بیمار ہوں،“ تو خود کو مجرم ہونے کا احساس نہ ہونے دیں۔چونکہ مادا بات نہیں کر سکتا، تو جو بولتا ہے وہ یقینا فانی عقل ہے؛ اِس لئے مخالفت کے ساتھ ایما کا سامنا کریں۔اگر آپ کہتے ہیں کہ ”مَیں بیمار ہوں“، تو آپ کو غلطی کا احساس ہے۔تو آپ کا دشمن آپ کو جج (فانی عقل)کے پاس لے جائے گا اور جج آپ کو سزا کا حکم دے گا۔بیماری میں خود کو کچھ ظاہر کرنے اور اپنے نام کا اعلان کرنے کی ذہانت نہیں ہے۔فانی عقل اکیلی اِسے خود سزا سناتی ہے۔اِس لئے بیماری کے ساتھ اپنی خود کی شرائط باندھیں، اور خود کے ساتھ اور دوسروں کے ساتھ عادل بنیں۔

4. 391 : 7-28

Instead of blind and calm submission to the incipient or advanced stages of disease, rise in rebellion against them. Banish the belief that you can possibly entertain a single intruding pain which cannot be ruled out by the might of Mind, and in this way you can prevent the development of pain in the body. No law of God hinders this result. It is error to suffer for aught but your own sins. Christ, or Truth, will destroy all other supposed suffering, and real suffering for your own sins will cease in proportion as the sin ceases.

Justice is the moral signification of law. Injustice declares the absence of law. When the body is supposed to say, "I am sick," never plead guilty. Since matter cannot talk, it must be mortal mind which speaks; therefore meet the intimation with a protest. If you say, "I am sick," you plead guilty. Then your adversary will deliver you to the judge (mortal mind), and the judge will sentence you. Disease has no intelligence to declare itself something and announce its name. Mortal mind alone sentences itself. Therefore make your own terms with sickness, and be just to yourself and to others.

5۔ 393 :16۔4

اپنے اس فہم میں مضبوط رہیں کہ الٰہی عقل حکومت کرتی ہے اور یہ کہ سائنس میں انسان خدا کی حکومت کی عکاسی کرتا ہے۔ اس بات کا خوف بالکل نہ رکھیں کہ مادہ کسی قسم کے قانون کے نتیجہ میں درد، سوجن اور سوزش کا شکار ہو سکتا ہے، جبکہ یہ خود واضح بات ہے کہ مادے میں درد ہو سکتا ہے نہ سوجن ہوسکتی ہے۔آپ کا بدن کسی درخت سے لگے ہوئے زخم یا ایسی برقی تار کے کھنچنے کی نسبت پریشانی اور زخموں سے زیادہ تکلیف اٹھائے گا جو فانی عقل کے لئے نہیں ہیں۔

جب یسوع یہ واضح کرتا ہے کہ ”بدن کا نور آنکھ ہے“ تو یقینا اْس کا مطلب یہ ہے کہ نور کا انحصار عقل پر ہے نہ کہ پچیدہ رطوبتوں، عدسوں، پٹھوں، آنکھ کی پْتلی یا جھِلی پر ہوتا ہے جو بصری عضو کو تعمیر کرتے ہیں۔

انسان کبھی بیمار نہیں ہوتا، کیونکہ عقل کبھی بیماری نہیں ہوتی اور نہ ہی مادا۔ آزمائش کرنے والا اور آزمایا جانے والا، گناہ اور گناہگار، بیماری اور اْس کی وجہ دونوں جھوٹا ایمان ہیں۔ بیماری میں پرسکون رہنا اچھا ہے؛ پر امید ہونا بھی بہتر ہے؛ لیکن یہ سمجھنا کہ بیماری حقیقی نہیں اور کہ سچائی اس کی دکھائی دینے والی حقیقت کو تباہ کر سکتی ہے سب سے بہتر ہے کیونکہ یہ سمجھ عالمگیر اور کامل علاج ہے۔

5. 393 : 16-4

Be firm in your understanding that the divine Mind governs, and that in Science man reflects God's government. Have no fear that matter can ache, swell, and be inflamed as the result of a law of any kind, when it is self-evident that matter can have no pain nor inflammation. Your body would suffer no more from tension or wounds than the trunk of a tree which you gash or the electric wire which you stretch, were it not for mortal mind.

When Jesus declares that "the light of the body is the eye," he certainly means that light depends upon Mind, not upon the complex humors, lenses, muscles, the iris and pupil, constituting the visual organism.

Man is never sick, for Mind is not sick and matter cannot be. A false belief is both the tempter and the tempted, the sin and the sinner, the disease and its cause. It is well to be calm in sickness; to be hopeful is still better; but to understand that sickness is not real and that Truth can destroy its seeming reality, is best of all, for this understanding is the universal and perfect remedy.

6۔ 368 :20۔31

جب ہم یہ جان لیتے ہیں کہ زندگی اور انسان اِس جسم کو زندہ رکھتے ہیں تو جسمانی حالات پر زندگی کا دستہ ثابت نہیں ہوتا۔نہ بدی، بیماری نہ موت روحانی ہو سکتی ہے، اور کسی شخص کی روحانی ترقی کے تناسب میں اِس پر مادی یقین بھی ختم ہو جاتا ہے۔کیونکہ مادے میں کوئی شعور یا انا نہیں ہوتی، اِس لئے یہ عمل نہیں کر سکتا، اِس کی حالتیں فریب نظری ہوتی ہیں، اور اِس کی یہ جھوٹی حالتیں دکھائی دینے والی بیماری کا وسیلہ ہوتی ہیں۔مادے کی وجودیت تسلیم کریں تو آپ یہ تسلیم کرتے ہیں کہ حقیقت میں فانیت (اور اسی لئے بیماری بھی) ایک بنیاد رکھتی ہے۔مادے سے انکار کریں تو آپ مادی حالتوں پر یقین کو تباہ کر سکتے ہیں۔

6. 368 : 20-31

That Life is not contingent on bodily conditions is proved, when we learn that life and man survive this body. Neither evil, disease, nor death can be spiritual, and the material belief in them disappears in the ratio of one's spiritual growth. Because matter has no consciousness or Ego, it cannot act; its conditions are illusions, and these false conditions are the source of all seeming sickness. Admit the existence of matter, and you admit that mortality (and therefore disease) has a foundation in fact. Deny the existence of matter, and you can destroy the belief in material conditions.

7۔ 369 :5۔13

اِس تناسب میں کہ انسانی فہم کے لئے جب مادا بطور انسان ساری ہستی کھو دیتا ہے تو اِسی تناسب میں وہ اِس کا مالک بن جاتا ہے۔وہ حقائق کے مزید الٰہی فہم میں داخل ہوجاتا ہے، اوروہ یسوع کی الٰہیات سمجھتا ہے جب یہ بیمار کو شفا دینے، مردے کو زندہ کرنے اور پانی پر چلنے سے ظاہر ہوئی۔اِن سب کاموں نے اِس عقیدے پر یسوع کے اختیار کو ظاہر کیا کہ مادا مواد ہے،کہ یہ زندگی کا ثالثی یا وجودیت کی کسی بھی شکل کو تعمیر کرنے والا ہو سکتا ہے۔

7. 369 : 5-13

In proportion as matter loses to human sense all entity as man, in that proportion does man become its master. He enters into a diviner sense of the facts, and comprehends the theology of Jesus as demonstrated in healing the sick, raising the dead, and walking over the wave. All these deeds manifested Jesus' control over the belief that matter is substance, that it can be the arbiter of life or the constructor of any form of existence.

8۔ 151 :18 (دی)۔21

خون، دل، پھیپھڑوں وغیرہ کا زندگی، خدا سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ حقیقی انسان کا ہر عمل الٰہی فہم کی نگرانی میں ہے۔

8. 151 : 18 (The)-21

The blood, heart, lungs, brain, etc., have nothing to do with Life, God. Every function of the real man is governed by the divine Mind.

9۔ 125 :31۔2 (تا پہلا)۔

لہٰذہ مادابالاآخر ایک فانی عقیدے سے زیادہ کچھ بھی ثابت نہیں ہوا، یعنی اپنے فرضی نامیاتی کام یا فرضی وجودیت کے وسیلہ کسی شخص کو متاثر کرنے کے لئے مکمل طور پر ناکافی۔

9. 125 : 31-2 (to 1st .)

Thus matter will finally be proved nothing more than a mortal belief, wholly inadequate to affect a man through its supposed organic action or supposed existence.

10۔ 249 :1۔11

آئیے سائنس کو قبول کریں، عقلی گواہی پر مشتمل تمام نظریات کو ترک کریں، ناقص نمونوں اور پْر فریب قیاس آرائیوں سے دست بردار ہوں؛ اور آئیے ہم ایک خدا، ایک عقل، اور اْس واحد کامل کو رکھیں جو فضیلت کے اپنے نمونوں کو پیدا کررہا ہے۔

خدا کی تخلیق کے ”آدم اور عورت“ کو سامنے آنے دیں۔ہمارے لئے زندگی میں جدت لاتی محسوس کرتے ہوئے اور کسی فانی یا مادی طاقت کو تباہی لانے کے قابل نہ سمجھتے ہوئے،آئیے روح کی قوت کو محسوس کریں۔تو آئیں ہم شادمان ہوں کہ ہم ”ہونے والی الٰہی قوتوں“ کے تابع ہیں۔ ہستی کی حقیقی سائنس ایسی ہی ہے۔زندگی یا خدا سے متعلق کوئی اور نظریہ فریب دہ اور دیومالائی ہے۔

10. 249 : 1-11

Let us accept Science, relinquish all theories based on sense-testimony, give up imperfect models and illusive ideals; and so let us have one God, one Mind, and that one perfect, producing His own models of excellence.

Let the "male and female" of God's creating appear. Let us feel the divine energy of Spirit, bringing us into newness of life and recognizing no mortal nor material power as able to destroy. Let us rejoice that we are subject to the divine "powers that be." Such is the true Science of being. Any other theory of Life, or God, is delusive and mythological.


روز مرہ کے فرائ

منجاب میری بیکر ایڈ

روز مرہ کی دعا

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ ہر روز یہ دعا کرے: ’’تیری بادشاہی آئے؛‘‘ الٰہی حق، زندگی اور محبت کی سلطنت مجھ میں قائم ہو، اور سب گناہ مجھ سے خارج ہو جائیں؛ اور تیرا کلام سب انسانوں کی محبت کو وافر کرے، اور اْن پر حکومت کرے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 4۔

مقاصد اور اعمال کا ایک اصول

نہ کوئی مخالفت نہ ہی کوئی محض ذاتی وابستگی مادری چرچ کے کسی رکن کے مقاصد یا اعمال پر اثر انداز نہیں ہونی چاہئے۔ سائنس میں، صرف الٰہی محبت حکومت کرتی ہے، اور ایک مسیحی سائنسدان گناہ کو رد کرنے سے، حقیقی بھائی چارے ، خیرات پسندی اور معافی سے محبت کی شیریں آسائشوں کی عکاسی کرتا ہے۔ اس چرچ کے تمام اراکین کو سب گناہوں سے، غلط قسم کی پیشن گوئیوں،منصفیوں، مذمتوں، اصلاحوں، غلط تاثر ات کو لینے اور غلط متاثر ہونے سے آزاد رہنے کے لئے روزانہ خیال رکھنا چاہئے اور دعا کرنی چاہئے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 1۔

فرض کے لئے چوکس

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ وہ ہر روز جارحانہ ذہنی آراء کے خلاف خود کو تیار رکھے، اور خدا اور اپنے قائد اور انسانوں کے لئے اپنے فرائض کو نہ کبھی بھولے اور نہ کبھی نظر انداز کرے۔ اس کے کاموں کے باعث اس کا انصاف ہوگا، وہ بے قصور یا قصوارہوگا۔ 

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 6۔


████████████████████████████████████████████████████████████████████████