اتوار 22اگست،2021



مضمون۔ عقل

SubjectMind

سنہری متن: دانی ایل 12 باب3 آیت

”اور اہلِ دانش نورِ فلک کی مانند چمکیں گے اور جن کی کوشش سے بہتیرے صادق ہو گئے ستاروں کی مانند ابد الا آباد تک روشن ہوں گے۔“



Golden Text: Daniel 12 : 3

They that be wise shall shine as the brightness of the firmament; and they that turn many to righteousness as the stars for ever and ever.





سبق کی آڈیو کے لئے یہاں کلک کریں

یوٹیوب سے سننے کے لئے یہاں کلک کریں

████████████████████████████████████████████████████████████████████████


جوابی مطالعہ: امثال 9 باب9، 10 آیات • واعظ 9 باب13تا15 آیات • امثال 3 باب13، 17 آیات


9۔ دانا کو تربیت کر اور وہ اور بھی دانا بن جائے گا۔ صادق کو سکھا اور وہ علم میں ترقی کرے گا۔

10۔ خداوند کا خوف حکمت کا شروع ہے اور اْس قدوس کی پہچان فہم ہے۔

13۔ مَیں نے یہ بھی دیکھا کہ دنیا میں حکمت ہے اور یہ مجھے بڑی چیز معلوم ہوئی۔

14۔ایک چھوٹا شہر تھا اور اْس میں تھوڑے سے لوگ تھے۔ اْس پر ایک بادشاہ چڑھ آیا اور اْس کا محاصرہ کیا اور اْس کے مقابل بڑے بڑے دمدمے باندھے۔

15۔ مگر اْس شہر میں ایک کنگال دانشور مرد پایا گیا اور اْس نے اپنی حکمت سے اْس شہر کو بچا لیا۔

13۔ مبارک ہے وہ آدمی جو حکمت کو پاتا ہے اور وہ جو فہم حاصل کرتا ہے۔

17۔ اْس کی راہیں خوشگوار راہیں ہیں اور اْس کے سب راستے سلامتی کے ہیں۔

Responsive Reading: Proverbs 9 : 9, 10; Ecclesiastes 9 : 13-15; Proverbs 3 : 13, 17

9.     Give instruction to a wise man, and he will be yet wiser: teach a just man, and he will increase in learning.

10.     The fear of the Lord is the beginning of wisdom: and the knowledge of the holy is understanding.

13.     This wisdom have I seen also under the sun, and it seemed great unto me:

14.     There was a little city, and few men within it; and there came a great king against it, and besieged it, and built great bulwarks against it:

15.     Now there was found in it a poor wise man, and he by his wisdom delivered the city.

13.     Happy is the man that findeth wisdom, and the man that getteth understanding.

17.     Her ways are ways of pleasantness, and all her paths are peace.



درسی وعظ



بائبل


درسی وعظ

بائبل

1۔ امثال 3باب5تا8 آیات

5۔ سارے دل سے خداوند پر توکل کراور اپنے فہم پر تکیہ نہ کر۔

6۔ اپنی سب راہوں میں اُسکو پہچان اور وہ تیری راہنمائی کرے گا۔

7۔ تو اپنی ہی نگاہ میں دانشمندنہ بن۔خداوند سے ڈر اور بدی سے کنارہ کر۔

8۔ یہ تیری ناف کی صحت اور تیری ہڈیوں کی تازگی ہو گی۔

1. Proverbs 3 : 5-8

5     Trust in the Lord with all thine heart; and lean not unto thine own understanding.

6     In all thy ways acknowledge him, and he shall direct thy paths.

7     Be not wise in thine own eyes: fear the Lord, and depart from evil.

8     It shall be health to thy navel, and marrow to thy bones.

2۔ ایوب 22 باب 21، 22 آیات

21۔ اْس سے ملا رہ تو سلامت رہے گا اور اِس سے تیرا بھلا ہوگا۔

22۔ میں تیری منت کرتا ہوں کہ شریعت کو اْس کی زبانی قبول کر اور اْس کی باتوں کو اپنے دل میں رکھ۔

2. Job 22 : 21, 22

21     Acquaint now thyself with him, and be at peace: thereby good shall come unto thee.

22     Receive, I pray thee, the law from his mouth, and lay up his words in thine heart.

3۔ ایوب 23باب 10 (وہ جانتا ہے)، 14 آیات

10۔۔۔۔وہ اْس راستہ کو جس پر چلتا ہوں جانتا ہے۔ جب وہ مجھے تا لے گا تو میں سونے کی مانند نکل آؤں گا۔

14۔کیونکہ جو کچھ میرے لئے مقرر ہے وہ پورا کرتا ہے اور بہت سی ایسی باتیں اْس کے ہاتھ میں ہیں۔

3. Job 23 : 10 (he knoweth), 14

10     …he knoweth the way that I take: when he hath tried me, I shall come forth as gold.

14     For he performeth the thing that is appointed for me: and many such things are with him.

4۔ دانی ایل 2باب1، 2، 4، 5 (تا چوتھا)، 6 (تا:)، 10 (تا؛)، 12 (تا،) 16، 19، 23، 27 (تا دوسرا)، 28 (یہاں) (تا)، 46 (بادشاہ نے)، 47 (جواب دیا)، 48 آیات

1۔ اور نبو کد نضر نے اپنی سلطنت کے دوسرے سال میں ایسے خواب دیکھے جن سے اْس کا دل گھبرا گیا اور اْس کی نیند جاتی رہی۔

2۔ تب بادشاہ نے حکم دیا کہ فالگیروں اور نجومیوں اور جادوگروں اور کسدیوں کو بلائیں کہ بادشاہ کے خواب اْسے بتائیں چنانچہ وہ آئے اور بادشاہ کے حضور کھڑے ہوئے۔

4۔ تب کسدیوں نے بادشاہ کے حضور ارامی زبان میں عرض کی کہ اے بادشاہ ابد تک جیتا رہ! اپنے خادموں سے خواب بیان کر اور ہم اْس کی تعبیر بیان کریں گے۔

5۔ بادشاہ نے کسدیوں کو جواب دیا کہ میں تو یہ حکم دے چکا ہوں کہ اگر تم خواب نہ بتاؤ اور اْس کی تعبیر نہ کر و تو ٹکڑے ٹکڑے کئے جا ؤ گے۔

6۔ لیکن اگر خواب اور اْس کی تعبیر بتاؤ تو مجھ سے انعام اور صلہ اور بڑی عزت حاصل کرو گے

10۔ کسدیوں نے بادشاہ سے عرض کی کہ روئے زمین پر ایسا تو کوئی نہیں جو بادشاہ کی بات بتا سکے۔

12۔ اس لئے بادشاہ غضب ناک اور سخت قہر آلودہ ہوا۔

16۔ اور دانی ایل نے اندر جا کر بادشاہ سے عرض کی کہ مجھے مہلت ملے تو میں بادشاہ کے حضور تعبیر بیان کروں گا۔

19۔ پھر رات کوخواب میں دانی ایل پر وہ راز کھْل گیا اور اْس نے آسمان کے خدا کو مبارک کہا۔

23۔ مَیں تیرا شکر کرتا ہوں اور تیری ستائش کرتا ہوں اے میرے باپ دادا کے خدا جس نے مجھے حکمت اور قدرت بخشی اور جو کچھ ہم نے تجھ سے مانگا تْو نے مجھ پر ظاہر کیا کیونکہ تْو نے بادشاہ کا معاملہ ہم پر ظاہر کیا ہے۔

27۔ دانی ایل نے بادشاہ سے عرض کی۔

28۔۔۔۔ آسمان پر ایک خدا ہے جو راز کی باتیں آشکارا کرتا ہے اور اْس نے نبوکد نضر بادشاہ پر ظاہر کیا ہے کہ آخری ایام میں کیا وقوع میں آئے گا۔

46۔ تب بادشاہ نے۔۔۔

47۔۔۔۔دانی ایل سے کہا فی الحقیقت تیرا خدا معبودوں کا معبود اور بادشاہوں کا خداوند اور بھیدوں کا کھولنے والا ہے کیونکہ تْو اِس راز کو کھول سکا۔

48۔ تب بادشاہ نے دانی ایل کو سرفراز کیا اور اْسے بہت سے بڑے بڑے تحفے عطا کئے اور اْسے بابل کے تمام صوبوں پر فرمانروائی بخشی اور بابل کے تمام حکیموں پر حکمرانی عنایت کی۔

4. Daniel 2 : 1, 2, 4, 5 (to 4th ,), 6 (to :), 10 (to :), 12 (to ,), 16, 19, 23, 27 (to 2nd ,), 28 (there) (to .), 46 (to king), 47 (answered), 48

1     And in the second year of the reign of Nebuchadnezzar Nebuchadnezzar dreamed dreams, wherewith his spirit was troubled, and his sleep brake from him.

2     Then the king commanded to call the magicians, and the astrologers, and the sorcerers, and the Chaldeans, for to shew the king his dreams. So they came and stood before the king.

4     Then spake the Chaldeans to the king in Syriack, O king, live for ever: tell thy servants the dream, and we will shew the interpretation.

5     The king answered and said to the Chaldeans, The thing is gone from me: if ye will not make known unto me the dream, with the interpretation thereof, ye shall be cut in pieces,

6     But if ye shew the dream, and the interpretation thereof, ye shall receive of me gifts and rewards and great honour:

10     The Chaldeans answered before the king, and said, There is not a man upon the earth that can shew the king’s matter:

12     For this cause the king was angry and very furious,

16     Then Daniel went in, and desired of the king that he would give him time, and that he would shew the king the interpretation.

19     Then was the secret revealed unto Daniel in a night vision. Then Daniel blessed the God of heaven.

23     I thank thee, and praise thee, O thou God of my fathers, who hast given me wisdom and might, and hast made known unto me now what we desired of thee: for thou hast now made known unto us the king’s matter.

27     Daniel answered in the presence of the king, and said,

28     …there is a God in heaven that revealeth secrets, and maketh known to the king Nebuchadnezzar what shall be in the latter days.

46     Then the king…

47     …answered unto Daniel, and said, Of a truth it is, that your God is a God of gods, and a Lord of kings, and a revealer of secrets, seeing thou couldest reveal this secret.

48     Then the king made Daniel a great man, and gave him many great gifts, and made him ruler over the whole province of Babylon, and chief of the governors over all the wise men of Babylon.

5۔ یسعیاہ 50 باب4، 7، 10 آیات

4۔ خداوند خدا نے مجھ کو شاگردوں کی زبان بخشی تاکہ مَیں جانوں کہ کلام کے وسیلہ سے کس طرح تھکے ماندے کی مدد کروں۔ وہ مجھے ہر صبح جگاتا ہے اور میرا کان لگاتا ہے تاکہ مَیں شاگردوں کی طرح سنوں۔

7۔ خداوند خدا میری حمایت کرے گا اس لئے میں شرمندہ نہ ہوں گا اور اِسی لئے میں نے اپنا منہ سنگ خار کی مانند بنایا۔

10۔ تمہارے درمیان کون ہے جو خداوند خدا سے ڈرتا اور اْس کے خادم کی باتیں سنتا ہے جو اندھیرے میں چلتا اور روشنی نہیں پاتا؟ خداوند خدا کے نام پر توکل کرے اور اپنے خدا پر بھروسہ رکھے۔

5. Isaiah 50 : 4, 7, 10

4     The Lord God hath given me the tongue of the learned, that I should know how to speak a word in season to him that is weary: he wakeneth morning by morning, he wakeneth mine ear to hear as the learned.

7     For the Lord God will help me; therefore shall I not be confounded: therefore have I set my face like a flint, and I know that I shall not be ashamed.

10     Who is among you that feareth the Lord, that obeyeth the voice of his servant, that walketh in darkness, and hath no light? let him trust in the name of the Lord, and stay upon his God.

6۔ متی 4 باب23آیت

23۔اور یسوع تمام گلیل میں پھرتا رہا اور اْن کے عبادتخانوں میں تعلیم دیتا اور بادشاہی کی خوشخبری کی منادی کرتا اور لوگوں کی ہر طرح کی بیماری اور ہر طرح کی کمزوری کو دور کرتا رہا۔

6. Matthew 4 : 23

23     And Jesus went about all Galilee, teaching in their synagogues, and preaching the gospel of the kingdom, and healing all manner of sickness and all manner of disease among the people.

7۔ متی 5 باب1، 2آیات

1۔ وہ اِس بھیڑ کو دیکھ کر پہاڑ پر چڑھ گیا اور جب بیٹھ گیا تو اْس کے شاگرد اْس کے پاس آئے۔

2۔ اور وہ اپنی زبان کھول کر اْن کو یوں تعلیم دینے لگا۔

7. Matthew 5 : 1, 2

1     And seeing the multitudes, he went up into a mountain: and when he was set, his disciples came unto him:

2     And he opened his mouth, and taught them, saying,

8۔ متی 25 باب1تا 13آیات

1۔ اْس وقت آسمان کی بادشاہی اْن دس کنواریوں کی مانند ہوگی جو اپنی مشعلیں لے کر دلہے کے استقبال کو نکلیں۔

2۔ اْن میں پانچ بے وقوف اور پانچ عقلمند تھیں۔

3۔ جو بے وقوف تھیں اْنہوں نے اپنی مشعلیں تو لے لیں مگر تیل اپنے ساتھ نہ لیا۔

4۔ مگر عقلمندوں نے اپنی مشعلوں کے ساتھ اپنی کپیوں میں تیل بھی لے لیا۔

5۔ اور جب دلہے نے دیر لگائی تو سب اونگھنے لگیں اور سو گئیں۔

6۔ آدھی رات کو دھوم مچی کہ دیکھو دْلہا آگیا! اْس کے استقبال کو نکلو۔

7۔ اْس وقت وہ سب کنواریاں اپنی اپنی مشعل درست کرنے لگیں۔

8۔ اور بے وقوفوں نے عقلمندوں سے کہا کہ اپنے تیل میں سے کچھ ہم کو بھی دے دو کیونکہ ہماری مشعلیں بجھی جاتی ہیں۔

9۔ عقلمندوں نے جواب دیا کہ شاید ہمارے تمہارے دونوں کے لئے کافی نہ ہو۔ بہتر یہ ہے کہ بیچنے والوں کے پاس جا کر اپنے لئے مول لے لو۔

10۔ جب وہ مول لینے جا رہی تھیں تو دْلہا آگیا اور جو تیار تھیں وہ اْس کے ساتھ شادی کے جشن میں اندر چلی گئیں اور دروازہ بند ہوگیا۔

11۔ پھر وہ باقی کنواریاں بھی آئیں اور کہنے لگیں اے خداوند! اے خداوند! ہمارے لئے دروازہ کھول دے۔

12۔ اْس نے جواب میں اْن سے کہا مَیں تم سے سچ کہتا ہوں کہ مَیں تم کو نہیں جانتا۔

13۔ پس جاگتے رہو کیونکہ تم نہ اْس دن کو جانتے ہو نہ اْس گھڑی کو جب ابنِ آدم آئے گا۔

8. Matthew 25 : 1-13

1     Then shall the kingdom of heaven be likened unto ten virgins, which took their lamps, and went forth to meet the bridegroom.

2     And five of them were wise, and five were foolish.

3     They that were foolish took their lamps, and took no oil with them:

4     But the wise took oil in their vessels with their lamps.

5     While the bridegroom tarried, they all slumbered and slept.

6     And at midnight there was a cry made, Behold, the bridegroom cometh; go ye out to meet him.

7     Then all those virgins arose, and trimmed their lamps.

8     And the foolish said unto the wise, Give us of your oil; for our lamps are gone out.

9     But the wise answered, saying, Not so; lest there be not enough for us and you: but go ye rather to them that sell, and buy for yourselves.

10     And while they went to buy, the bridegroom came; and they that were ready went in with him to the marriage: and the door was shut.

11     Afterward came also the other virgins, saying, Lord, Lord, open to us.

12     But he answered and said, Verily I say unto you, I know you not.

13     Watch therefore, for ye know neither the day nor the hour wherein the Son of man cometh.

9۔ کلسیوں 1باب 9تا13 آیات

9۔ اِس لئے جس دن سے یہ سنا ہے ہم بھی تمہارے واسطے یہ دعا کرنے اور درخواست کرنے سے باز نہیں آتے کہ تم کمال روحانی حکمت اور سمجھ کے ساتھ اْس کی مرضی کے علم سے معمور ہوجاؤ۔

10۔ تاکہ تمہارا چال چلن خداوند کے لائق ہو اور اْس کو ہر طرح سے پسند آئے اور تم میں ہر طرح کے نیک کام کا پھل لگے اور خدا کی پہچان میں بڑھتے جاؤ۔

11۔ اور اْس کے جلال کی قدرت کے موافق ہر طرح کی قدرت سے قوی ہوتے جاؤ تاکہ خوشی کے ساتھ ہر صورت سے صبر اور تحمل کر سکو۔

12۔ اور باپ کا شکر کرتے رہو جس نے ہم کو اِس لائق کیا کہ نور میں مقدسوں کے ساتھ حصہ پائیں۔

13۔ اْسی نے ہم کو تاریکی کے قبضہ سے چھڑا کر اپنے عزیز بیٹے کی بادشاہی میں داخل کیا۔

9. Colossians 1 : 9-13

9     For this cause we also, since the day we heard it, do not cease to pray for you, and to desire that ye might be filled with the knowledge of his will in all wisdom and spiritual understanding;

10     That ye might walk worthy of the Lord unto all pleasing, being fruitful in every good work, and increasing in the knowledge of God;

11     Strengthened with all might, according to his glorious power, unto all patience and longsuffering with joyfulness;

12     Giving thanks unto the Father, which hath made us meet to be partakers of the inheritance of the saints in light:

13     Who hath delivered us from the power of darkness, and hath translated us into the kingdom of his dear Son:



سائنس اور صح


1۔ 373 :15۔16 (تا،)

”خداوند کا خوف حکمت کا شروع ہے۔“

1. 373 : 15-16 (to ,)

"The fear of the Lord is the beginning of wisdom,"

2۔ 275 :10۔24

ہستی کی حقیقت اور ترتیب کو اْس کی سائنس میں تھامنے کے لئے، وہ سب کچھ حقیقی ہے اْس کے الٰہی اصول کے طور پر آپ کو خدا کا تصور کرنے کی ابتدا کرنی چاہئے۔ روح، زندگی، سچائی، محبت یکسانیت میں جْڑ جاتے ہیں، اور یہ سب خدا کے روحانی نام ہیں۔سب مواد، ذہانت، حکمت، ہستی، لافانیت، وجہ اور اثر خْدا سے تعلق رکھتے ہیں۔یہ اْس کی خصوصیات ہیں، یعنی لامتناہی الٰہی اصول، محبت کے ابدی اظہار۔ کوئی حکمت عقلمند نہیں سوائے اْس کی؛ کوئی سچائی سچ نہیں، کوئی محبت پیاری نہیں، کوئی زندگی زندگی نہیں ماسوائے الٰہی کے، کوئی اچھائی نہیں ماسوائے اْس کے جو خدا بخشتا ہے۔

جیسا کہ روحانی سمجھ پر ظاہر ہوا ہے، الٰہی مابعدلاطبیعیات واضح طور پر دکھاتا ہے کہ سب کچھ عقل ہی ہے اور یہ عقل خدا، قادر مطلق، ہمہ جائی، علام الغیوب ہے یعنی کہ سبھی طاقت والا، ہر جگہ موجود اور سبھی سائنس پر قادر ہے۔ لہٰذہ حقیقت میں سبھی کچھ عقل کا اظہار ہے۔

2. 275 : 10-24

To grasp the reality and order of being in its Science, you must begin by reckoning God as the divine Principle of all that really is. Spirit, Life, Truth, Love, combine as one, — and are the Scriptural names for God. All substance, intelligence, wisdom, being, immortality, cause, and effect belong to God. These are His attributes, the eternal manifestations of the infinite divine Principle, Love. No wisdom is wise but His wisdom; no truth is true, no love is lovely, no life is Life but the divine; no good is, but the good God bestows.

Divine metaphysics, as revealed to spiritual understanding, shows clearly that all is Mind, and that Mind is God, omnipotence, omnipresence, omniscience, — that is, all power, all presence, all Science. Hence all is in reality the manifestation of Mind.

3۔ 246 :23۔26

لافانی حکمران کے ماتحت انسان ہمیشہ خوبصورت اور عظیم ہوتا ہے۔ ہر آنے والا سال حکمت، خوبصورتی اور پاکیزگی کو عیاں کرتا ہے۔

3. 246 : 23-26

Man, governed by immortal Mind, is always beautiful and grand. Each succeeding year unfolds wisdom, beauty, and holiness.

4۔ 283 :4۔12

عقل تمام تر حرکات کا منبع ہے، اور اِس کے متواتر اور ہم آہنگ عمل کو پرکھنے یا اس پر مزاحمت کرنے والی کسی قسم کی سستی نہیں پائی جاتی۔ عقل ”کل، آج اور ابد تک“ زندگی، محبت اور حکمت کے ساتھ یکساں ہے۔ مادہ اور اِس کے اثرات، گناہ، بیماری اور موت، فانی عقل کی حالتیں ہیں جو عمل کرتی، رد عمل کرتی اور پھر اختتام کو پہنچتی ہیں۔ وہ عقل کی حقیقتیں نہیں ہیں۔ وہ خیالات نہیں بلکہ بھرم ہیں۔ اصول ہی مطلق ہے۔ یہ غلطی سے تسلیم نہیں ہوتا، بلکہ فہم پر تکیہ کرتا ہے۔

4. 283 : 4-12

Mind is the source of all movement, and there is no inertia to retard or check its perpetual and harmonious action. Mind is the same Life, Love, and wisdom "yesterday, and to-day, and forever." Matter and its effects — sin, sickness, and death — are states of mortal mind which act, react, and then come to a stop. They are not facts of Mind. They are not ideas, but illusions. Principle is absolute. It admits of no error, but rests upon understanding.

5۔ 89 :18۔24

فہم لازمی طور پر تعلیمی مراحل پر انحصار نہیں کرتا۔یہ خود تمام تر خوبصورتی اور شاعری اور اِن کے اظہار کی طاقت رکھتا ہے۔روح، یعنی خدا کو تب سنا جاتا ہے جب حواس خاموش ہوں۔ جو کچھ ہم کرتے ہیں ہم سب اْس سے زیادہ کرنے کے قابل ہیں۔ روح کا عمل یا اثر آزادی عطا کرتا ہے، جو تخفیف کا مظاہر اور غیر تربیت یافتہ ہونٹوں کی گرمجوشی واضح کرتی ہے۔

5. 89 : 18-24

Mind is not necessarily dependent upon educational processes. It possesses of itself all beauty and poetry, and the power of expressing them. Spirit, God, is heard when the senses are silent. We are all capable of more than we do. The influence or action of Soul confers a freedom, which explains the phenomena of improvisation and the fervor of untutored lips.

6۔ 84 :3۔23، 28۔9

پرانے نبیوں نے اپنی پیش بینی ایک روحانی، غیر جسمانی نقطہ نظر سے حاصل کی نہ کہ بدی کی پیشن گوئی کرنے اور کسی افسانے کو غلط حقیقت بنانے سے کی، نہ ہی انسانی عقیدے اور مادے کے بنیادی کام سے مستقبل کی پیشنگوئی کرنے سے کی۔ جب ہستی کی سچائی کے ساتھ ہم آہنگی کے لئے سائنس میں کافی ترقی کی، تو انسان غیر ارادی طور پر غیب دان اور نبی بن گیا، جو بھوتوں، بدروحوں یا نیم دیوتاؤں کے اختیار میں نہیں بلکہ واحد روح کے قابو میں تھا۔ یہ ہر وقت موجود، الٰہی عقل اور اْس خیال کا استحقاق ہے جو اِس عقل کے ساتھ تعلق رکھتا ہے تاکہ ماضی، حال اور مستقبل کو جانے۔

ہستی کی سائنس سے آگاہی ہمیں مزید وسیع پیمانے پر الٰہی عقل کے ساتھ مکالمہ کرنے کے قابل بناتی ہے، تاکہ اْن واقعات کی پیش گوئی اور پیش بینی کی جائے جو کائنات کی فلاح سے تعلق رکھتے ہیں، تاکہ الٰہی لحاظ سے متاثر ہوا جا سکے اور البتہ آزاد عقل کی وسعت کو چھوْا جا سکے۔

یہ سمجھنا کہ عقل لامحدود ہے، مادیت میں جکڑی نہیں، بصیرت اور سماعت کے لئے آنکھ اور کان کی محتاج نہیں نہ ہی قوت حرکت کے لئے پٹھوں اور ہڈیوں پر انحصار کرتی ہے، عقل کی اْس سائنس کی جانب ایک قدم ہے جس کی بدولت ہم انسان کی فطرت اور وجود سے متعلق آگاہی پاتے ہیں۔

ہم سب مناسب طور پر یہ جانتے ہیں کہ روح خدا، الٰہی اصول سے آتی ہے اور اِس کی تعلیم مسیح اور کرسچن سائنس کے وسیلہ ملتی ہے۔ اگر اِس سائنس کو اچھی طرح سے سیکھا اور مناسب طور پر سمجھا گیا ہے تو ہم اس سے کہیں درست طریقے سے سچائی کو جان سکتے ہیں جتنا کوئی ماہر فلکیات ستاروں کو پڑھ سکتا یا کسی گرہن کا اندازہ لگا سکتا ہو۔

یہ ذہن خوانی غیب بینی کے بالکل الٹ ہے۔ یہ روحانی فہم کی تابانی ہے جو روح کی صلاحیت کو ظاہر کرتی ہے نہ کہ مادی حِس کی۔یہ روحانی حِس انسانی عقل میں اْس وقت آتی ہے جب موخر الذکر الٰہی عقل کو تسلیم کرتی ہے۔

کسی شخص کو اچھائی کرنے نہ کہ بدی کرنے کے قابل بناتے ہوئے اس قسم کے الہام اْسے ظاہر کرتے ہیں جو ہم آہنگی کو تعمیر کرتا اور ہمیشہ قائم رکھتا ہے۔

6. 84 : 3-23, 28-9

The ancient prophets gained their foresight from a spiritual, incorporeal standpoint, not by foreshadowing evil and mistaking fact for fiction, — predicting the future from a groundwork of corporeality and human belief. When sufficiently advanced in Science to be in harmony with the truth of being, men become seers and prophets involuntarily, controlled not by demons, spirits, or demigods, but by the one Spirit. It is the prerogative of the ever-present, divine Mind, and of thought which is in rapport with this Mind, to know the past, the present, and the future.

Acquaintance with the Science of being enables us to commune more largely with the divine Mind, to foresee and foretell events which concern the universal welfare, to be divinely inspired, — yea, to reach the range of fetterless Mind.

To understand that Mind is infinite, not bounded by corporeality, not dependent upon the ear and eye for sound or sight nor upon muscles and bones for locomotion, is a step towards the Mind-science by which we discern man's nature and existence.

All we correctly know of Spirit comes from God, divine Principle, and is learned through Christ and Christian Science. If this Science has been thoroughly learned and properly digested, we can know the truth more accurately than the astronomer can read the stars or calculate an eclipse. This Mind-reading is the opposite of clairvoyance. It is the illumination of the spiritual under-standing which demonstrates the capacity of Soul, not of material sense. This Soul-sense comes to the human mind when the latter yields to the divine Mind.

Such intuitions reveal whatever constitutes and perpetuates harmony, enabling one to do good, but not evil.

7۔ 85 :15۔18

یہ مرقوم ہے کہ یسوع،ایک بار جب وہ اپنے شاگردوں کے ساتھ سفر کر رہا تھا، ”اْن کے خیالات کو جانتا تھا“، اْس نے اْن کا سائنسی مطالعہ کیا تھا۔اِسی طریقے سے اْس نے بیماری کو جانا اور بیمار کو شفا بخشی۔

7. 85 : 15-18

It is recorded that Jesus, as he once journeyed with his students, "knew their thoughts," — read them scientifically. In like manner he discerned disease and healed the sick.

8۔ 98 :4۔8

آج کا نبی ذہنی اْفق میں اْس دور کی علامات یعنی مسیحت کے اْس دوبارہ ظہور کو سنبھالے رکھتا ہے جو بیمار کو شفا دیتا اور غلطی کو نیست کرتا ہے، اور کوئی دوسرا نشان نہیں دِیا جائے گا۔ماسوائے عقل کے بدن کو نجات نہیں مل سکتی۔

8. 98 : 4-8

The prophet of to-day beholds in the mental horizon the signs of these times, the reappearance of the Christianity which heals the sick and destroys error, and no other sign shall be given. Body cannot be saved except through Mind.

9۔ 378 :3۔10، 22۔32

بیماری میں کوئی ذہانت نہیں ہوتی۔ نادانستہ طور پر آپ خود کو تکلیف میں رہنے کی سزا دیتے ہیں۔ یہ فہم آپ کو اِس خود کار سزا کو تبدیل کرنے اور سچائی کے ساتھ ہر صورت حال کا مقابلہ کرنے کے قابل بنائے گا۔بیماری عقل سے چھوٹی ہے اور عقل اِسے قابو کر سکتی ہے۔

نام نہاد انسانی عقل کے بغیر نہ کوئی اشتعال انگیزی اور نہ نظام میں کوئی غفلت کاکام ہوسکتا ہے۔غلطی کو تلف کر دیں تو آپ اِس کے اثرات کو تباہ کر تے ہیں۔

عقل کی سلطنت کو متنازعہ بنانے کے لئے یا عقل کو تخت سے محروم کرنے اور خود کے ہاتھ میں حکمرانی لینے کے لئے بیماری کوئی ذہانت نہیں ہے۔بیماری نہ ہی ایک خداداد طاقت اور نہ ہی خود ساختہ مادی قوت ہے، جو چالاکی سے عقل کے ساتھ لڑائی لیتی اور پھر آخر کار اِسے فتح کر لیتی ہے۔ زندگی کا خاتمہ کرنے یا ہم آہنگی کومخالفت کی ایک طویل ٹھنڈی رات کے ساتھ سرد کرنے کے لئے خدا نے مادے کوکبھی طاقت عطا نہیں کی۔ایسی طاقت الٰہی اجازت کے بغیر ناقابل فہم ہے، اور اگر ایسی طاقت الٰہی طور پر بھیجی گئی ہوتی،تو یہ ہماری اْس دانش سے کم ظاہر ہوتی جس کا مظاہرہ ہم عموماً انسانی حکومت میں دیکھتے ہیں۔

9. 378 : 3-10, 22-32

Disease has no intelligence. Unwittingly you sentence yourself to suffer. The understanding of this will enable you to commute this self-sentence, and meet every circumstance with truth. Disease is less than mind, and Mind can control it.

Without the so-called human mind, there can be no inflammatory nor torpid action of the system. Remove the error, and you destroy its effects.

Disease is not an intelligence to dispute the empire of Mind or to dethrone Mind and take the government into its own hands. Sickness is not a God-given, nor a self-constituted material power, which copes astutely with Mind and finally conquers it. God never endowed matter with power to disable Life or to chill harmony with a long and cold night of discord. Such a power, without the divine permission, is inconceivable; and if such a power could be divinely directed, it would manifest less wisdom than we usually find displayed in human governments.

10۔ 379 :6۔8

الٰہی عقل میں مقرر کردہ ہر اثر کو قابو میں کرتے ہوئے اور ساری وجہ کو پہچانتے ہوئے،دنیا کا حقیقی اختیار عقل میں ہے۔

10. 379 : 6-8

The real jurisdiction of the world is in Mind, controlling every effect and recognizing all causation as vested in divine Mind.

11۔ 492 :7۔21 (تا دوسرا)،25۔28

ہستی، پاکیزگی، ہم آہنگی، لافانیت ہے۔یہ پہلے سے ہی ثابت ہو چکا ہے کہ اس کا علم، حتیٰ کہ معمولی درجے میں بھی، انسانوں کے جسمانی اور اخلاقی معیار کو اونچا کرے گا، عمر کی درازی کو بڑھائے گا، کردار کو پاک اور بلند کرے گا۔ پس ترقی ساری غلطی کو تباہ کرے گی اور لافانیت کو روشنی میں لائے گی۔ہم جانتے ہیں ایک بیان جسے بہتر ثابت کیا گیا ہو اْسے درست بھی ہونا چاہئے۔ نئے خیالات متواتر طور پر بڑھ رہے ہیں۔ یہ دو مخالف نظریات، کہ مادہ کچھ ہے، یا عقل ہی سب کچھ ہے، اْس وقت تک زمین پر متنازعہ رہیں گے جب تک کسی ایک کو فتح مند تسلیم نہیں کیا جاتا۔ جنرل گرانٹ نے اپنی مہم سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا: ”اگر اس میں پورا موسم گرما بھی لگتا ہے تو مَیں اس زمین پر لڑنے کی تجویز دیتا ہوں۔“ سائنس کہتی ہے: سب کچھ عقل اور عقل کا خیال ہے۔ آپ کو اس زمین پر لڑنا چاہئے۔ مادہ آپ کے لئے کوئی مدد فراہم نہیں کر سکتا۔

خدا عقل ہے، اور خدا لامحدود ہے؛ لہٰذہ سبھی کچھ عقل ہے۔ اس بیان پر وجود کی ساری سائنس بنیاد رکھتی ہے اور سائنس کا اصول ہم آہنگی اور لافانیت کا اظہار کرتے ہوئے الٰہی ہے۔

11. 492 : 7-21 (to 2nd .), 25-28

Being is holiness, harmony, immortality. It is already proved that a knowledge of this, even in small degree, will uplift the physical and moral standard of mortals, will increase longevity, will purify and elevate character. Thus progress will finally destroy all error, and bring immortality to light. We know that a statement proved to be good must be correct. New thoughts are constantly obtaining the floor. These two contradictory theories — that matter is something, or that all is Mind — will dispute the ground, until one is acknowledged to be the victor. Discussing his campaign, General Grant said: "I propose to fight it out on this line, if it takes all summer." Science says: All is Mind and Mind's idea. You must fight it out on this line. Matter can afford you no aid.

God is Mind, and God is infinite; hence all is Mind. On this statement rests the Science of being, and the Principle of this Science is divine, demonstrating harmony and immortality.


روز مرہ کے فرائ

منجاب میری بیکر ایڈ

روز مرہ کی دعا

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ ہر روز یہ دعا کرے: ’’تیری بادشاہی آئے؛‘‘ الٰہی حق، زندگی اور محبت کی سلطنت مجھ میں قائم ہو، اور سب گناہ مجھ سے خارج ہو جائیں؛ اور تیرا کلام سب انسانوں کی محبت کو وافر کرے، اور اْن پر حکومت کرے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 4۔

مقاصد اور اعمال کا ایک اصول

نہ کوئی مخالفت نہ ہی کوئی محض ذاتی وابستگی مادری چرچ کے کسی رکن کے مقاصد یا اعمال پر اثر انداز نہیں ہونی چاہئے۔ سائنس میں، صرف الٰہی محبت حکومت کرتی ہے، اور ایک مسیحی سائنسدان گناہ کو رد کرنے سے، حقیقی بھائی چارے ، خیرات پسندی اور معافی سے محبت کی شیریں آسائشوں کی عکاسی کرتا ہے۔ اس چرچ کے تمام اراکین کو سب گناہوں سے، غلط قسم کی پیشن گوئیوں،منصفیوں، مذمتوں، اصلاحوں، غلط تاثر ات کو لینے اور غلط متاثر ہونے سے آزاد رہنے کے لئے روزانہ خیال رکھنا چاہئے اور دعا کرنی چاہئے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 1۔

فرض کے لئے چوکس

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ وہ ہر روز جارحانہ ذہنی آراء کے خلاف خود کو تیار رکھے، اور خدا اور اپنے قائد اور انسانوں کے لئے اپنے فرائض کو نہ کبھی بھولے اور نہ کبھی نظر انداز کرے۔ اس کے کاموں کے باعث اس کا انصاف ہوگا، وہ بے قصور یا قصوارہوگا۔ 

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 6۔


████████████████████████████████████████████████████████████████████████