اتوار 22مارچ، 2020 |

اتوار 22مارچ، 2020



مضمون۔ مادا

SubjectMatter

سنہری متن:سنہری متن: زکریاہ 2باب13آیت

’’اے بنی آدم خداوند کے حضور خاموش رہو۔‘‘



Golden Text: Zechariah 2 : 13

Be silent, O all flesh, before the Lord.





سبق کی آڈیو کے لئے یہاں کلک کریں

یوٹیوب سے سننے کے لئے یہاں کلک کریں

████████████████████████████████████████████████████████████████████████


جوابی مطالعہ: 1کرنتھیوں 2باب9، 10، 12تا14 آیات


9۔ بلکہ جیسا لکھا ہے ویسا ہی ہوا کہ جو چیزیں نہ آنکھوں نے دیکھیں نہ کانوں نے سنیں نہ آدمی کے دل میں آئیں۔ وہ سب خدا نے اپنے محبت رکھنے والوں کے لئے تیار کر دیں۔

10۔ لیکن ہم پر خدا نے اْن کو روح کے وسیلہ سے ظاہر کیا۔

12۔ بلکہ ہم نے نہ دنیا کی روح بلکہ وہ روح پایاجوخدا کی طرف سے ہے تاکہ اْن باتوں کو جانیں جو خدا نے ہمیں عنایت کی ہیں۔

13۔ اور ہم اْن باتوں کو اْن الفاظ میں نہیں بیان کرتے جو انسانی حکمت نے ہمیں سکھائے ہوں بلکہ اْن الفاظ میں جو روح نے سکھائے ہیں اور روحانی باتوں کا روحانی باتوں سے مقابلہ کرتے ہیں۔

14۔ مگر نفسانی آدمی خدا کے روح کی باتیں قبول نہیں کرتا کیونکہ وہ اْس کے نزدیک بے وقوفی کی باتیں ہیں اور نہ وہ انہیں سمجھ سکتا ہے کیونکہ وہ روحانی طور پر پرکھی جاتی ہیں۔

Responsive Reading: I Corinthians 2 : 9, 10, 12-14

9.     As it is written, Eye hath not seen, nor ear heard, neither have entered into the heart of man, the things which God hath prepared for them that love him.

10.     But God hath revealed them unto us by his Spirit.

12.     Now we have received, not the spirit of the world, but the spirit which is of God; that we might know the things that are freely given to us of God.

13.     Which things also we speak, not in the words which man’s wisdom teacheth, but which the Holy Ghost teacheth; comparing spiritual things with spiritual.

14.     But the natural man receiveth not the things of the Spirit of God: for they are foolishness unto him: neither can he know them, because they are spiritually discerned.



درسی وعظ



بائبل


درسی وعظ

بائبل

1۔ یسعیاہ 60 باب1تا4 (تاپہلا)

1۔ اْٹھ منور ہو کیونکہ تیرا نور آگیا اور خداوند کا جلال تجھ پر ظاہر ہوا۔

2۔ کیونکہ دیکھ تاریکی زمین پر چھا جائے گی اور تیرگی اْمتوں پر لیکن خداوند تجھ پر طالع ہوگا اور اْس کاجلال تجھ پر نمایا ں ہوگا۔

3۔ اور قومیں تیری روشنی کی طرف آئیں گی اور سلاطین تیرے طلوع کی تجلی میں چلیں گے۔

4۔ اپنی آنکھیں اْٹھا کر چاروں طرف دیکھ۔

1. Isaiah 60 : 1-4 (to 1st :)

1     Arise, shine; for thy light is come, and the glory of the Lord is risen upon thee.

2     For, behold, the darkness shall cover the earth, and gross darkness the people: but the Lord shall arise upon thee, and his glory shall be seen upon thee.

3     And the Gentiles shall come to thy light, and kings to the brightness of thy rising.

4     Lift up thine eyes round about, and see:

2۔ 2سلاطین 6باب8تا17 آیات

8۔ اور شاہ ارام شاہ اسرائیل سے لڑ رہا تھا اور اْس نے اپنے خادموں سے مشورت لی اور کہا کہ میں فلاں فلاں جگہ ڈیرا ڈالوں گا۔

9۔ سو مرد خدا نے شاہ اسرائیل کو کہلا بھیجا خبردار تْو فلاں جگہ سے مت گزرنا کیونکہ وہاں ارامی آنے کو ہیں۔

10۔ اور شاہ اسرائیل نے اْس جگہ جس کی خبر مردِ خدا نے دی تھی اور اْس کو آگاہ کر دیا تھا آدمی بھیجے اور وہاں سے اپنے آپ کو بچایا اور یہ فقط ایک یا دو بار ہی نہیں ہوا۔

11۔ اس بات کے سبب سے شاہ ارام کا دل بہت بے چین ہوا اور اْس نے اپنے خادموں کو بلاکر اْن سے کہا کیا تم مجھے نہیں بتاؤ گے کہ ہم میں سے کون شاہ اسرائیل کی طرف ہے۔

12۔ تب اْس کے خادموں میں سے ایک نے کہا نہیں اے میرے مالک! اے میرے بادشاہ! بلکہ الیشع جو اسرائیل میں نبی ہے تیری اْن باتوں کو جو تْو خلوت گاہ میں کہتا ہے شاہ اسرائیل کو بتا دیتا ہے۔

13۔ اْس نے کہا جا کر دیکھو وہ کہاں ہے تاکہ مَیں اْسے پکڑوا منگواؤں اور اْسے یہ بتایا گیا کہ وہ دوتن میں ہے۔

14۔ تب اْس نے وہاں گھوڑوں اور رتھوں اور ایک بڑے لشکر کو روانہ کیا سو اْنہوں نے راتوں رات آکر اْس شہر کو گھیر لیا۔

15۔ اور جب اْس مرد خدا کا خادم صبح کو اٹھ کر باہر نکلا تو دیکھا ایک لشکر مع گھوڑوں اور رتھوں کے شہر کے چوگرد ہے سو اْس خادم نے جا کر اْس سے کہا ہائے اے میرے مالک! ہم کیا دعا کریں؟

16۔ اْس نے جواب دیا خوف نہ کر کیونکہ ہمارے ساتھ والے اْن کے ساتھ والوں سے زیادہ ہیں۔

17۔ اور الیشع نے دعا کی اور کہا اے خداوند اْس کی آنکھیں کھول دے تاکہ وہ دیکھ سکے تب خداوند نے اْس جوان کی آنکھیں کھول دیں اور اْس نے جو نگاہ کی تو دیکھا کہ الیشع کے گردا گرد کا پہاڑ آتشی گھوڑوں اور رتھوں سے بھرا ہے۔

2. II Kings 6 : 8-17

8     Then the king of Syria warred against Israel, and took counsel with his servants, saying, In such and such a place shall be my camp.

9     And the man of God sent unto the king of Israel, saying, Beware that thou pass not such a place; for thither the Syrians are come down.

10     And the king of Israel sent to the place which the man of God told him and warned him of, and saved himself there, not once nor twice.

11     Therefore the heart of the king of Syria was sore troubled for this thing; and he called his servants, and said unto them, Will ye not shew me which of us is for the king of Israel?

12     And one of his servants said, None, my lord, O king: but Elisha, the prophet that is in Israel, telleth the king of Israel the words that thou speakest in thy bedchamber.

13     And he said, Go and spy where he is, that I may send and fetch him. And it was told him, saying, Behold, he is in Dothan.

14     Therefore sent he thither horses, and chariots, and a great host: and they came by night, and compassed the city about.

15     And when the servant of the man of God was risen early, and gone forth, behold, an host compassed the city both with horses and chariots. And his servant said unto him, Alas, my master! how shall we do?

16     And he answered, Fear not: for they that be with us are more than they that be with them.

17     And Elisha prayed, and said, Lord, I pray thee, open his eyes, that he may see. And the Lord opened the eyes of the young man; and he saw: and, behold, the mountain was full of horses and chariots of fire round about Elisha.

3۔ یسعیاہ 17باب7، 8 آیات

7۔ اْس روز انسان اپنے خالق کی طرف نظر کرے گا اور اْس کی آنکھیں اسرائیل کے قدوس کی طرف دیکھیں گی۔

8۔ اور وہ مذبحوں یعنی اپنے ہاتھ کے کام پر نظر کرے گا اور اپنی دستکاری یعنی یسرتوں اور بتوں کی پرواہ نہ کرے گا۔

3. Isaiah 17 : 7, 8

7     At that day shall a man look to his Maker, and his eyes shall have respect to the Holy One of Israel.

8     And he shall not look to the altars, the work of his hands, neither shall respect that which his fingers have made, either the groves, or the images.

4۔ متی 13باب1تا3 (تاپہلا)، 10تا17 آیات

1۔ اْسی روز یسوع گھر سے نکل کر جھیل کے کنارے جا بیٹھا۔

2۔ اور اْس کے پاس ایسی بھیڑ جمع ہوگئی کہ وہ کشتی پر چڑھ بیٹھا اور ساری بھیڑ کنارے پر کھڑی رہی۔

3۔ اور اْس نے اْن سے بہت سی باتیں تمثیلوں میں کہیں۔

10۔ شاگردوں نے پاس آکر اْس سے کہا کہ تْو اْن سے تمثیلوں میں کیوں باتیں کرتا ہے؟

11۔اْس نے جواب میں اْن سے کہا اِس لئے کہ تم کو آسمان کی بادشاہی کے بھیدوں کی سمجھ دی گئی ہے مگر اْن کو نہیں دی گئی۔

12۔ کیونکہ جس کے پاس ہے اْسے دیا جائے گا اور اْس کے پاس زیادہ ہو جائے گا اور جس کے پاس نہیں ہے اْس سے وہ بھی لے لیا جائے گا جو اْس کے پاس ہے۔

13۔ مَیں اْن سے تمثیلوں میں اِس لئے باتیں کرتا ہوں کہ وہ دیکھتے ہوئے نہیں دیکھتے اور سنتے ہوئے نہیں سنتے اور نہیں سمجھتے۔

14۔ اور اْن کے حق میں یسعیاہ کی یہ پیشن گوئی پوری ہوتی ہے کہ تم کانوں سے سنو گے پر ہر گز نہ سمجھو گے اور آنکھوں سے دیکھو گے پر ہر گز معلوم نہ کرو گے۔

15۔ کیونکہ اِس امت کے دل پر چربی چھا گئی ہے اور وہ کانوں سے اونچا سنتے ہیں اور اْنہوں نے اپنی آنکھیں بند کر لیں ہیں تا ایسا نہ ہو کہ آنکھوں سے معلوم کریں اور کانوں سے سنیں اور دل سے سمجھیں اور رجوع لائیں اور میں اْن کو شفا بخشوں۔

16۔لیکن مبارک ہیں تمہاری آنکھیں اس لئے کہ وہ دیکھتی ہیں اور تمہارے کان اس لئے کہ وہ سنتے ہیں۔

17۔ لیکن مَیں تم سے سچ کہتا ہوں کہ بہت سے نبیوں اور راستبازوں کو آرزو تھی کہ جو کچھ تم دیکھتے ہو دیکھیں مگر نہ دیکھا اور جو باتیں تم سنتے ہو سنیں مگر نہ سنیں۔

4. Matthew 13 : 1-3 (to 1st ,), 10-17

1     The same day went Jesus out of the house, and sat by the sea side.

2     And great multitudes were gathered together unto him, so that he went into a ship, and sat; and the whole multitude stood on the shore.

3     And he spake many things unto them in parables,

10     And the disciples came, and said unto him, Why speakest thou unto them in parables?

11     He answered and said unto them, Because it is given unto you to know the mysteries of the kingdom of heaven, but to them it is not given.

12     For whosoever hath, to him shall be given, and he shall have more abundance: but whosoever hath not, from him shall be taken away even that he hath.

13     Therefore speak I to them in parables: because they seeing see not; and hearing they hear not, neither do they understand.

14     And in them is fulfilled the prophecy of Esaias, which saith, By hearing ye shall hear, and shall not understand; and seeing ye shall see, and shall not perceive:

15     For this people’s heart is waxed gross, and their ears are dull of hearing, and their eyes they have closed; lest at any time they should see with their eyes, and hear with their ears, and should understand with their heart, and should be converted, and I should heal them.

16     But blessed are your eyes, for they see: and your ears, for they hear.

17     For verily I say unto you, That many prophets and righteous men have desired to see those things which ye see, and have not seen them; and to hear those things which ye hear, and have not heard them.

5۔ لوقا 10 باب21 آیات

21۔ اْسی گھڑی وہ روح القدس سے خوشی میں بھر گیا اور کہنے لگا اے باپ آسمان اور زمین کے خداوند مَیں تیری حمد کرتا ہوں کہ تْو نے یہ باتیں داناؤں اور عقلمندوں سے چھپائیں اور بچوں پر ظاہرکیں۔ ہاں اے باپ! کیونکہ ایسا ہی تجھے پسند آیا۔

5. Luke 10: 21

21     In that hour Jesus rejoiced in spirit, and said, I thank thee, O Father, Lord of heaven and earth, that thou hast hid these things from the wise and prudent, and hast revealed them unto babes: even so, Father; for so it seemed good in thy sight.

6۔ گلتیوں 6 باب 7تا9 آیات

7۔ فریب نہ کھاؤ۔ خدا ٹھٹھوں میں نہیں اْڑایا جاتا کیونکہ آدمی جو کچھ بوتا ہے وہی کاٹے گا۔

8۔ جو کوئی اپنے جسم کے لئے بوتا ہے وہ جسم سے ہلاکت کی فصل کاٹے گا اور جو روح کے لئے بوتا ہے وہ روح سے ہمیشہ کی زندگی کی فصل کاٹے گا۔

9۔ ہم نیکی کے کام کرنے میں ہمت نہ ہاریں کیونکہ اگر بے دل نہ ہوں گے تو عین وقت پر کاٹیں گے۔

6. Galatians 6 : 7-9

7     Be not deceived; God is not mocked: for whatsoever a man soweth, that shall he also reap.

8     For he that soweth to his flesh shall of the flesh reap corruption; but he that soweth to the Spirit shall of the Spirit reap life everlasting.

9     And let us not be weary in well doing: for in due season we shall reap, if we faint not.

7۔ 1یوحنا 2باب15تا17 آیات

15۔ نہ دنیا سے محبت رکھو نہ اْن چیزوں سے جو دنیا میں ہیں۔ جو کوئی دنیا سے محبت رکھتا ہے اْس میں باپ کی محبت نہیں۔

16۔ کیونکہ جو کچھ دنیا میں ہے یعنی جسم کی خواہش اور آنکھوں کی خواہش اور زندگی کی شیخی وہ باپ کی طرف سے نہیں بلکہ دنیا کی طرف سے ہے۔

17۔ دنیا اور اْس کی خواہش دونوں مٹتی جاتی ہیں لیکن جو خدا کی مرضی پر چلتا ہے وہ ابد تک قائم رہے گا۔

7. I John 2 : 15-17

15     Love not the world, neither the things that are in the world. If any man love the world, the love of the Father is not in him.

16     For all that is in the world, the lust of the flesh, and the lust of the eyes, and the pride of life, is not of the Father, but is of the world.

17     And the world passeth away, and the lust thereof: but he that doeth the will of God abideth for ever.



سائنس اور صح


1۔ 335 :7 (روح)۔15

روح، یعنی خدا نے سب کو خود سے اور خود میں بنایا۔ روح نے مادے کو کبھی نہیں بنایا۔ روح میں ایسا کچھ نہیں ہے جس سے ماد ے کو بنایا جا سکے، کیونکہ جیسا کہ بائبل واضح کرتی ہے کہ”جو کچھ پیدا ہوا اْس میں سے کوئی چیز بھی“ لوگوس، ایؤن یا خدا کے کلمے کے بغیرپیدا نہیں ہوئی۔ روح ہی واحد مواد ہے، یعنی دیدہ اور نادیدہ لامحدود خدا۔ روحانی اور ابدی سب چیزیں حقیقی ہیں۔ مادی اور عارضی چیزیں غیر مادی ہیں۔

1. 335 : 7 (Spirit)-15

Spirit, God, has created all in and of Himself. Spirit never created matter. There is nothing in Spirit out of which matter could be made, for, as the Bible declares, without the Logos, the Æon or Word of God, "was not anything made that was made." Spirit is the only substance, the in-visible and indivisible infinite God. Things spiritual and eternal are substantial. Things material and temporal are insubstantial.

2۔ 292 :13۔26

مادہ فانی عقل کا ابتدائی عقیدہ ہے، کیونکہ اس نام نہاد عقل کو روح کا کوئی ادراک نہیں ہے۔فانی عقل کے لئے مادہ حقیقی ہے اور بدی اصلی ہے۔بشر کے نام نہاد حواس مادی ہیں۔ لہٰذہ بشر وں کی نام نہاد زندگی مادے پر منحصر ہے۔

مادی انسان اور فانی عقل کی ابتدا کو واضح کرتے ہوئے یسوع نے کہا: ”تم میری باتیں کیوں نہیں سمجھتے؟ اسلئے کہ میرا کلام سْن نہیں سکتے۔ تم اپنے باپ ابلیس (بدکار)سے ہو اور اپنے باپ کی خواہشوں کو پورا کرنا چاہتے ہو۔ وہ شروع ہی سے خونی ہے اور سچائی پر قائم نہیں رہا کیونکہ اْس میں سچائی ہے ہی نہیں۔ جب وہ جھوٹ بولتا ہے تو اپنی ہی سی کہتا ہے کیونکہ وہ جھوٹا ہے بلکہ جھوٹ کا باپ ہے۔“

2. 292 : 13-26

Matter is the primitive belief of mortal mind, because this so-called mind has no cognizance of Spirit. To mortal mind, matter is substantial, and evil is real. The so-called senses of mortals are material. Hence the so-called life of mortals is dependent on matter.

Explaining the origin of material man and mortal mind, Jesus said: "Why do ye not understand my speech? Even because ye cannot hear my word. Ye are of your father, the devil [evil], and the lusts of your father ye will do. He was a murderer from the beginning, and abode not in the truth, because there is no truth in him. When he speaketh a lie, he speaketh of his own: for he is a liar, and the father of it."

3۔ 591 :8۔10 (تا؛)، 12 (سچائی کے مخالف) صرف

مادہ۔ خرافات؛ فانیت؛ فانی عقل کا دوسرا نام؛ بھرم؛ ذہانت، مواد،اور غیر ذہانت اور فانیت میں زندگی؛۔۔۔سچائی کا مخالف؛

3. 591 : 8-10 (to ;), 12 (the opposite of Truth) only

Matter. Mythology; mortality; another name for mortal mind; illusion; intelligence, substance, and life in non-intelligence and mortality; … the opposite of Truth;

4۔ 38 :24۔32

یسوع نے دوسروں کے لئے راہ تیار کی۔ اْس نے مسیح کا نقاب اْٹھایا، جو الٰہی محبت کا روحانی خیال ہے۔ جو لوگ صرف اپنی خوشی اور حواس کی تسکین میں جیتے ہوئے گناہ پر یقین کرنے اور خودی میں دفن ہیں اْن کے لئے اْس نے مادیت میں کہا: آنکھیں ہیں پر تم دیکھتے نہیں، کان ہیں پر تم سنتے نہیں؛ کہ کہیں تم دل سے سمجھ نہ لو اور باز آؤ اور میں تمہیں شفا دوں۔ اْس نے تعلیم دی کہ مادی حواس سچائی کواور اْس کی شفائیہ قوت کو خاموش کرتے ہیں۔

4. 38 : 24-32

Jesus mapped out the path for others. He unveiled the Christ, the spiritual idea of divine Love. To those buried in the belief of sin and self, living only for pleasure or the gratification of the senses, he said in substance: Having eyes ye see not, and having ears ye hear not; lest ye should understand and be converted, and I might heal you. He taught that the material senses shut out Truth and its healing power.

5۔ 284 :15۔18، 21۔23، 28۔32

کیا دیوتا کو مادی حواس کے وسیلہ جانا جا سکتا ہے؟ کیا وہ مادی حواس جو روح کی براہ راست گواہی حاصل نہیں کرتے، وہ روحانی زندگی، سچائی اور محبت کی درست گواہی نہیں دیتے؟

جسمانی حواس خدا کا کوئی ثبوت حاصل نہیں کر سکتیں۔ وہ نہ تو آنکھ سے روح کو دیکھ سکتے ہیں نہ کان سے سْن سکتے ہیں، نہ ہی وہ روح کو محسوس کر سکتے، چکھ سکتے یا سونگھ سکتے ہیں۔

کرسچن سائنس کے مطابق، انسان کے صرف وہی حواس روحانی ہیں، جو الٰہی عقل سے ظاہر ہوتے ہیں۔ خیالات خدا سے انسان میں منتقل ہوتے ہیں، لیکن نہ احساس اور نہ ہی رپورٹ مادی جسم سے عقل میں جاتے ہیں۔ باہمی رابطہ ہمیشہ خدا سے ہوکر اْس کے خیال، یعنی انسان تک جاتا ہے۔

5. 284 : 15-18, 21-23, 28-32

Can Deity be known through the material senses? Can the material senses, which receive no direct evidence of Spirit, give correct testimony as to spiritual life, truth, and love?

The physical senses can obtain no proof of God. They can neither see Spirit through the eye nor hear it through the ear, nor can they feel, taste, or smell Spirit.

According to Christian Science, the only real senses of man are spiritual, emanating from divine Mind. Thought passes from God to man, but neither sensation nor report goes from material body to Mind. The intercommunication is always from God to His idea, man.

6۔ 209 :31۔32

روحانی فہم خدا کو سمجھنے کی ایک با خبر، متواتر صلاحیت ہے۔

6. 209 : 31-32

Spiritual sense is a conscious, constant capacity to understand God.

7۔ 210 :5۔10

مسیحت کا اصول اور ثبوت روحانی فہم کے وسیلہ سمجھے جاتے ہیں۔ انہیں یسوع کے اظہاروں کے سامنے رکھا جاتا ہے، اْس کے بیمار کو شفا دینے، بدروحوں کو نکالنے اور اْس موت یعنی جو ”سب سے پچھلا دْشمن ہے جسے نیست کیا جائے گا“، اِسے تباہ کرنے کے وسیلہ مادے اور اِس کے نام نہاد قوانین کے لئے اْس کی لاپروائی دکھاتے ہیں۔

7. 210 : 5-10

The Principle and proof of Christianity are discerned by spiritual sense. They are set forth in Jesus' demonstrations, which show — by his healing the sick, casting out evils, and destroying death, "the last enemy that shall be destroyed," — his disregard of matter and its so-called laws.

8۔ 294 :9۔18

یہ یقین کہ مادا سوچتا، دیکھتا یا محسوس کرتا ہے اِس یقین کی نسبت زیادہ حقیقی ہے کہ مادا لطف اندوز ہوتا اور دْکھ اْٹھاتا ہے۔ یہ فانی عقیدہ، جس کااْلٹ نام انسان یا غلطی ہے،کہہ رہا ہے: ”مادے میں ذہانت اور احساس ہوتا ہے۔ اعصاب محسوس کرتے ہیں۔دماغ سوچتا اور گناہ کرتا ہے۔ معدہ ایک انسان کوغضب ناک بنا سکتا ہے۔ زخم انسان کو معذور اور مادا انسان کو قتل کر سکتا ہے۔“نام نہاد مادی حواس کا یہ فیصلہ انسان کو نشانہ بناتا ہے اور جسمانیات اور امراضیات کی مانند اْنہیں جھوٹی گواہی کا، اور حتیٰ کہ اْن غلطیوں کا احترام کرنا سکھاتا ہے جو روحانی حس اور سائنس کی بدولت نیست کی جاتی ہیں۔

8. 294 : 9-18

The belief that matter thinks, sees, or feels is not more real than the belief that matter enjoys and suffers. This mortal belief, misnamed man, is error, saying: “Matter has intelligence and sensation. Nerves feel. Brain thinks and sins. The stomach can make a man cross. Injury can cripple and matter can kill man." This verdict of the so-called material senses victimizes mortals, taught, as they are by physiology and pathology, to revere false testimony, even the errors that are destroyed by Truth through spiritual sense and Science.

9۔ 122 :1۔14

جسمانی حواس کا ثبوت اکثر اوقات ہستی کی حقیقی سائنس کو تبدیل کر دیتا ہے، اور یوں گناہ، بیماری اور موت کو ظاہری قوت عطا کرتے ہوئے مخالفت کی سلطنت قائم کرتا ہے؛ لیکن بہتر سمجھا جائے تو زندگی کے بڑے حقائق غلطیوں کی اِس تکون کوشکست دیتے، اِس کی جھوٹی گواہی کی مخالفت کرتے، اور آسمان کی بادشاہی کو ظاہر کرتے ہیں، جو زمین پر ہم آہنگی کی اصل سلطنت ہے۔ مادی حواس کا روح کی سائنس کو تبدیل کرنا عملی طور پر اْنیس سو سال قبل یسوع کے اظہارات کی بدولت سامنے لایا گیا، تاہم یہ نام نہاد حواس ابھی بھی فانی عقل کو فانی بدن کے معاون بناتے اور دماغ اور اعصاب جیسے مادے کے مخصوص حصوں کو درد اور خوشی کی نشستوں کے طور پر لاگو کرتے ہیں، جہاں سے یہ نام نہاد عقل اپنی خوشی یا دْکھ کی حالت کو بیان کرتی ہے۔

9. 122 : 1-14

The evidence of the physical senses often reverses the real Science of being, and so creates a reign of discord, — assigning seeming power to sin, sickness, and death; but the great facts of Life, rightly understood, defeat this triad of errors, contradict their false witnesses, and reveal the kingdom of heaven, — the actual reign of harmony on earth. The material senses' reversal of the Science of Soul was practically exposed nineteen hundred years ago by the demonstrations of Jesus; yet these so-called senses still make mortal mind tributary to mortal body, and ordain certain sections of matter, such as brain and nerves, as the seats of pain and pleasure, from which matter reports to this so-called mind its status of happiness or misery.

10۔ 120 :7۔9، 15۔24

سائنس جسمانی حواس کی جھوٹی گواہی کو تبدیل کرتی ہے، اور اس تبدیلی کے باعث بشر ہستی کے بنیادی حقائق تک پہنچتے ہیں۔

صحت مادے کی حالت نہیں بلکہ عقل کی حالت ہے؛اور نہ ہی مادی حواس صحت کے موضوع پر قابل یقین گواہی پیش کر سکتے ہیں۔ شفائیہ عقل کی سائنس کسی کمزور کے لئے یہ ہونا ناممکن بیان کرتی ہے جبکہ عقل کے لئے اِس کی حقیقتاً تصدیق کرنا یا انسان کی اصلی حالت کو ظاہر کرنا ممکن پیش کرتی ہے۔اس لئے سائنس کا الٰہی اصول جسمانی حواس کی گواہی کو تبدیل کرتے ہوئے انسان کو بطور سچائی میں ہم آہنگی کے ساتھ موجود ہوتا ظاہر کرتا ہے، جو صحت کی واحد بنیاد ہے؛ اور یوں سائنس تمام بیماری سے انکار کرتی، بیمار کو شفا دیتی، جھوٹی گواہی کو برباد کرتی اور مادی منطق کی تردید کرتی ہے۔

10. 120 : 7-9, 15-24

Science reverses the false testimony of the physical senses, and by this reversal mortals arrive at the fundamental facts of being.

Health is not a condition of matter, but of Mind; nor can the material senses bear reliable testimony on the subject of health. The Science of Mind-healing shows it to be impossible for aught but Mind to testify truly or to exhibit the real status of man. Therefore the divine Principle of Science, reversing the testimony of the physical senses, reveals man as harmoniously existent in Truth, which is the only basis of health; and thus Science denies all disease, heals the sick, overthrows false evidence, and refutes materialistic logic.

11۔ 84 :19۔23

یہ سمجھنا کہ عقل لامحدود ہے، مادیت میں جکڑی نہیں، بصیرت اور سماعت کے لئے آنکھ اور کان کی محتاج نہیں نہ ہی قوت حرکت کے لئے پٹھوں اور ہڈیوں پر انحصار کرتی ہے، عقل کی اْس سائنس کی جانب ایک قدم ہے جس کی بدولت ہم انسان کی فطرت اور وجود سے متعلق آگاہی پاتے ہیں۔

11. 84 : 19-23

To understand that Mind is infinite, not bounded by corporeality, not dependent upon the ear and eye for sound or sight nor upon muscles and bones for locomotion, is a step towards the Mind-science by which we discern man's nature and existence.

12۔ 227 :5 (دی)۔13، 24۔29

۔۔۔غلام بنانے والے حواس کے دعووں سے انکار اور اْنہیں برطرف کیا جانا چاہئے۔ الٰہی عقل کے قانون کو انسان کی قید کو ختم کرنا چاہئے اگرچہ بشرانسان کے غیر منفک حقوق سے لاعلمی اور نہ اْمید غلامی کی محکومی کو جاری رکھے گا، کیونکہ چند عوامی معلمین الٰہی طاقت سے لاعلمی کی اجازت دیتے ہیں، یعنی ایسی لا علمی جو انسان کی غلامی، دْکھوں کے تسلسل کی بنیاد ہے۔

دنیا کے باسیو، ”خدا کے فرزندوں کی جلالی آزادی“ کو قبول کریں، اور آزاد ہوں! یہ آپ کا الٰہی حق ہے۔ مادی حِس کے بھرم نے، نہ کہ الٰہی قانون نے، آپ کو باندھا ہوا ہے، آپ کے آزاد اعضاء کو جکڑا ہوا ہے، آپ کی صلاحتیوں کو معزول کر رکھا ہے، آپ کے بدن کو لاغر کیا ہوا ہے، اور آپ کی ہستی کی تختی کو خراب کر رکھا ہے۔

12. 227 : 5 (the)-13, 24-29

…the claims of the enslaving senses must be denied and superseded. The law of the divine Mind must end human bondage, or mortals will continue unaware of man's inalienable rights and in subjection to hopeless slavery, because some public teachers permit an ignorance of divine power, — an ignorance that is the foundation of continued bondage and of human suffering.

Citizens of the world, accept the "glorious liberty of the children of God," and be free! This is your divine right. The illusion of material sense, not divine law, has bound you, entangled your free limbs, crippled your capacities, enfeebled your body, and defaced the tablet of your being.

13۔ 393 :8۔15

عقل جسمانی حواس کی مالک ہے، اور بیماری، گناہ اور موت کو فتح کرسکتی ہے۔ اس خداداد اختیار کی مشق کریں۔ اپنے بدن کی ملکیت رکھیں، اور اِس کے احساس اور عمل پر حکمرانی کریں۔ روح کی قوت میں بیدار ہوں اور وہ سب جو بھلائی جیسا نہیں اْسے مسترد کر دیں۔ خدا نے انسان کو اس قابل بنایا ہے، اور کوئی بھی چیز اْس قابل اور قوت کو بگاڑ نہیں سکتی جو الٰہی طور پر انسان کو عطا کی گئی ہے۔

13. 393 : 8-15

Mind is the master of the corporeal senses, and can conquer sickness, sin, and death. Exercise this God-given authority. Take possession of your body, and govern its feeling and action. Rise in the strength of Spirit to resist all that is unlike good. God has made man capable of this, and nothing can vitiate the ability and power divinely bestowed on man.


روز مرہ کے فرائ

منجاب میری بیکر ایڈ

روز مرہ کی دعا

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ ہر روز یہ دعا کرے: ’’تیری بادشاہی آئے؛‘‘ الٰہی حق، زندگی اور محبت کی سلطنت مجھ میں قائم ہو، اور سب گناہ مجھ سے خارج ہو جائیں؛ اور تیرا کلام سب انسانوں کی محبت کو وافر کرے، اور اْن پر حکومت کرے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 4۔

مقاصد اور اعمال کا ایک اصول

نہ کوئی مخالفت نہ ہی کوئی محض ذاتی وابستگی مادری چرچ کے کسی رکن کے مقاصد یا اعمال پر اثر انداز نہیں ہونی چاہئے۔ سائنس میں، صرف الٰہی محبت حکومت کرتی ہے، اور ایک مسیحی سائنسدان گناہ کو رد کرنے سے، حقیقی بھائی چارے ، خیرات پسندی اور معافی سے محبت کی شیریں آسائشوں کی عکاسی کرتا ہے۔ اس چرچ کے تمام اراکین کو سب گناہوں سے، غلط قسم کی پیشن گوئیوں،منصفیوں، مذمتوں، اصلاحوں، غلط تاثر ات کو لینے اور غلط متاثر ہونے سے آزاد رہنے کے لئے روزانہ خیال رکھنا چاہئے اور دعا کرنی چاہئے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 1۔

فرض کے لئے چوکس

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ وہ ہر روز جارحانہ ذہنی آراء کے خلاف خود کو تیار رکھے، اور خدا اور اپنے قائد اور انسانوں کے لئے اپنے فرائض کو نہ کبھی بھولے اور نہ کبھی نظر انداز کرے۔ اس کے کاموں کے باعث اس کا انصاف ہوگا، وہ بے قصور یا قصوارہوگا۔ 

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 6۔


████████████████████████████████████████████████████████████████████████