اتوار 22 دسمبر، 2019 |

اتوار 22 دسمبر، 2019



مضمون۔ کیا کائنات، بشمول انسان ایٹمی توانائی سے مرتب ہوئی ہے؟

SubjectIs the Universe, Including Man, Evolved by Atomic Force?

سنہری متن:سنہری متن: زبور 114: 7آیت

’’”اے زمین تْو رب کے حضور، یعقوب کے خداکے حضور تھرتھرا۔‘‘



Golden Text: Psalm 114 : 7

Tremble, thou earth, at the presence of the Lord, at the presence of the God of Jacob.





سبق کی آڈیو کے لئے یہاں کلک کریں

یوٹیوب سے سننے کے لئے یہاں کلک کریں

████████████████████████████████████████████████████████████████████████


جوابی مطالعہ: زبور107 : 21تا25، 28تا30، 43 آیات


21۔ کاش کہ لوگ خداوند کی شفقت کی خاطر اور بنی آدم کے لئے اْس کے عجائب کی خاطر اْس کی ستائش کرتے!

22۔ وہ شکر گزاری کی قربانیاں گزرانیں۔ اور گاتے ہوئے اْس کے کاموں کا بیان کریں۔

23۔ جو لوگ جہازوں میں بحر پرجاتے ہیں اور سمندر پر کاروبار میں لگے رہتے ہیں۔

24۔ وہ سمندر میں خداوند کے کاموں کو اوراْس کے عجائبات کو دیکھتے ہیں۔

25۔ کیونکہ وہ حکم دے کر طوفانی ہوا چلاتا ہے جو اْس میں لہریں اٹھاتی ہے۔

28۔ تب وہ اپنی مصیبت میں خداوند سے فریاد کرتے ہیں اور وہ اْن کو اْن کے دکھوں سے رہائی بخشتا ہے۔

29۔ وہ آندھی کو تھما دیتا ہے اور لہریں موقوف ہوجاتی ہیں۔

30۔ تب وہ اْس کے تھم جانے سے خوش ہوتے ہیں۔ یوں وہ اْن کو بندر گاہِ مقصد تک پہنچا دیتا ہے۔

43۔ دانا اِن باتوں پر توجہ کرے گا اور خداوند کی شفقت پر غور کرے گا۔

Responsive Reading: Psalm 107 : 21-25, 28-30, 43

21.     Oh that men would praise the Lord for his goodness, and for his wonderful works to the children of men!

22.     And let them sacrifice the sacrifices of thanksgiving, and declare his works with rejoicing.

23.     They that go down to the sea in ships, that do business in great waters;

24.     These see the works of the Lord, and his wonders in the deep.

25.     For he commandeth, and raiseth the stormy wind, which lifteth up the waves thereof.

28.     Then they cry unto the Lord in their trouble, and he bringeth them out of their distresses.

29.     He maketh the storm a calm, so that the waves thereof are still.

30.     Then are they glad because they be quiet; so he bringeth them unto their desired haven.

43.     Whoso is wise, and will observe these things, even they shall understand the lovingkindness of the Lord.



درسی وعظ



بائبل


درسی وعظ

بائبل

1۔ زبور 46: 1تا3 (تا پہلا)، 4تا7 (تا پہلا)، 10، 11 (تا پہلا) آیات

1۔ خدا ہماری پناہ اور قوت ہے۔ مصیبت میں مْستعد مددگار۔

2۔ اس لئے ہم کو کچھ خوف نہیں خواہ زمین اْلٹ جائے۔ اور پہاڑ سمندر کی تہہ میں ڈال دئیے جائیں۔

3۔ خواہ اْس کا پانی شور مچائے اور موجزن ہو اور پہاڑ اْس کی طْغیانی سے ہل جائیں۔

4۔ ایک ایسا دریا ہے جس کی شاخوں سے خدا کے شہر کو یعنی حق تعالیٰ کے مقدس مسکن کو فرحت ہوتی ہے۔

5۔ خدا اْس میں ہے۔ اْسے کبھی جْنبش نہ ہوگی۔ خدا صبح سویرے اْس کی کْمک کرے گا۔

6۔ قومیں جھْنجھلائیں۔سلطنتوں نے جْنبش کھائی۔ وہ بول اٹھا۔زمین پگھل گئی۔

7۔ لشکروں کا خداوند ہمارے ساتھ ہے۔ یعقوب کا خدا ہماری پناہ ہے۔

10۔ خاموش ہو جاؤ اور جان لو کہ میں خدا ہوں۔ مَیں قوموں کے درمیان سر بلند ہوں گا۔

11۔ لشکروں کا خداوند ہمارے ساتھ ہے۔ یعقوب کا خدا ہماری پناہ ہے۔

1. Psalm 46 : 1-3 (to 1st .), 4-7 (to 1st .), 10, 11 (to 1st .)

1     God is our refuge and strength, a very present help in trouble.

2     Therefore will not we fear, though the earth be removed, and though the mountains be carried into the midst of the sea;

3     Though the waters thereof roar and be troubled, though the mountains shake with the swelling thereof.

4     There is a river, the streams whereof shall make glad the city of God, the holy place of the tabernacles of the most High.

5     God is in the midst of her; she shall not be moved: God shall help her, and that right early.

6     The heathen raged, the kingdoms were moved: he uttered his voice, the earth melted.

7     The Lord of hosts is with us; the God of Jacob is our refuge.

10     Be still, and know that I am God: I will be exalted among the heathen, I will be exalted in the earth.

11     The Lord of hosts is with us; the God of Jacob is our refuge.

2۔ خروج 3باب1تا7، 10 تا12 (تا؛)، 15 (تا:) آیات

1۔ اور موسیٰ اپنے سسر یترو کی جو مدیان کا کاہن تھا بھیڑ بکریاں چراتا تھا اور وہ بھیڑ بکریوں کو ہنکاتاہو ااْن کو بیابان کی پرلی طرف سے خدا کے پہاڑ کے نزدیک لے آیا۔

2۔ اور خداوند کا ایک فرشتہ جھاڑی میں سے آگ کے شعلہ میں اْس پر ظاہر ہوا۔ اْس نے نگاہ کی اور کیا دیکھتا ہے کہ ایک جھاڑی میں آگ لگی ہوئی ہے پر وہ جھاڑی بھسم نہیں ہوتی۔

3۔ تب موسیٰ نے کہا کہ میں اب ذرا اْدھر کترا کر اِس منظر کو دیکھوں کہ یہ جھاڑی کیوں نہیں جل جاتی۔

4۔ جب خداوند نے دیکھا کہ وہ دیکھنے کو کترا کر آرہا ہے تو خدا نے اْسے جھاڑی میں سے پکارا اور کہا اے موسیٰ! اے موسیٰ! اْس نے کہا مَیں حاضر ہوں۔

5۔ تب اْس نے کہا اِدھر پاس مت آ۔ اپنے پاؤں سے جوتا اْتار کیونکہ جس جگہ تْو کھڑا ہے وہ مقدس زمین ہے۔

6۔ پھر اْس نے کہا مَیں تیرے باپ کا خدا یعنی ابراہام کا خدا اور یعقوب کا خدا اور اضحاق کا خدا ہوں۔ موسیٰ نے اپنا منہ چھپایا کیونکہ وہ خدا پر نظر کرنے سے ڈرتا تھا۔

7۔ اور خداوند نے کہا مَیں نے اپنے لوگوں کی تکلیف جو مصر میں ہیں خوب دیکھی اور اْن کی فریاد جو بیگار لینے والوں کے سبب سے ہے سْنی اور مَیں اْن کے دکھو ں کو جانتا ہوں۔

10۔ سو اب آ مَیں تجھے فرعون کے پاس بھیجتا ہوں کہ تْو میری قوم بنی اسرائیل کو مصر میں سے نکال لائے۔

11۔ موسیٰ نے خدا سے کہا مَیں کون ہوں جو فرعون کے پاس جاؤں اور بنی اسرائیل کو مصر سے نکال لاؤں؟

12۔ اْس نے کہا مَیں ضرور تیرے ساتھ رہوں گا۔

15۔ پھر خدا نے موسیٰ سے کہا کہ تْو بنی اسرائیل سے یوں کہنا کہ خداوند تمہارے باپ دادا کے خدا ابراہام کے خدا اور یعقوب کے خدا اور اضحاق کے خدا نے مجھے تمہارے پاس بھیجا ہے۔

2. Exodus 3 : 1-7, 10-12 (to ;), 15 (to :)

1     Now Moses kept the flock of Jethro his father in law, the priest of Midian: and he led the flock to the backside of the desert, and came to the mountain of God, even to Horeb.

2     And the angel of the Lord appeared unto him in a flame of fire out of the midst of a bush: and he looked, and, behold, the bush burned with fire, and the bush was not consumed.

3     And Moses said, I will now turn aside, and see this great sight, why the bush is not burnt.

4     And when the Lord saw that he turned aside to see, God called unto him out of the midst of the bush, and said, Moses, Moses. And he said, Here am I.

5     And he said, Draw not nigh hither: put off thy shoes from off thy feet, for the place whereon thou standest is holy ground.

6     Moreover he said, I am the God of thy father, the God of Abraham, the God of Isaac, and the God of Jacob. And Moses hid his face; for he was afraid to look upon God.

7     And the Lord said, I have surely seen the affliction of my people which are in Egypt, and have heard their cry by reason of their taskmasters; for I know their sorrows;

10     Come now therefore, and I will send thee unto Pharaoh, that thou mayest bring forth my people the children of Israel out of Egypt.

11     And Moses said unto God, Who am I, that I should go unto Pharaoh, and that I should bring forth the children of Israel out of Egypt?

12     And he said, Certainly I will be with thee;

15     And God said moreover unto Moses, Thus shalt thou say unto the children of Israel, The Lord God of your fathers, the God of Abraham, the God of Isaac, and the God of Jacob, hath sent me unto you:

3۔ خروج 4باب1تا7 آیات

1۔ تب موسیٰ نے جواب دیا لیکن وہ تو میرا یقین ہی نہیں کریں گے نہ میری بات سنیں گے۔ وہ کہیں گے خداوند تجھے دکھائی نہیں دیا۔

2۔ اور خداوند نے موسیٰ سے کہا یہ تیرے ہاتھ میں کیا ہے؟ اْس نے کہا لاٹھی۔

3۔ پھر اْس نے کہا اِسے زمین پر ڈلا دے اْس نے اْسے زمین پر ڈال اور وہ سانپ بن گئی اور موسیٰ اْس کے سامنے سے بھاگا۔

4۔ تب خداوند نے موسیٰ سے کہا ہاتھ بڑھا کر اْس کی دْم پکڑ لے۔ اْس نے ہاتھ بڑھایا اور اْسے پکڑ لیا۔وہ اْس کے ہاتھ میں لاٹھی بن گیا)۔

5۔ تاکہ وہ یقین کریں کہ خداوند اْ ن کے باپ دادا کا خدا ابراہام کا خدا اور یعقوب کا خدا اور اضحاق کا خدا تجھے دکھائی دیا۔

6۔ پھر خداوند نے اْسے یہ بھی کہا کہ اپنا ہاتھ اپنے سینے پر رکھ کر ڈھانک لے۔ اْس نے اپنا ہاتھ سینے پر رکھ کر ڈھانک لیااور جب اْس نے ہاتھ نکال کر دیکھا تو اْس کا ہاتھ کوڑھ سے برف کی مانند سفیدتھا۔

7۔ اْس نے کہا تْو اپنا ہاتھ پھر اپنے سینے پر رکھ کر ڈھانک لے۔ اْس نے پھر اْسے سینے پر رکھ کر ڈھانک لیا۔ جب اْس نے اْسے باہر نکال کر دیکھا تو وہ پھر اْس کے باقی جسم کی مانند ہو گیا۔

3. Exodus 4 : 1-7

1     And Moses answered and said, But, behold, they will not believe me, nor hearken unto my voice: for they will say, The Lord hath not appeared unto thee.

2     And the Lord said unto him, What is that in thine hand? And he said, A rod.

3     And he said, Cast it on the ground. And he cast it on the ground, and it became a serpent; and Moses fled from before it.

4     And the Lord said unto Moses, Put forth thine hand, and take it by the tail. And he put forth his hand, and caught it, and it became a rod in his hand:

5     That they may believe that the Lord God of their fathers, the God of Abraham, the God of Isaac, and the God of Jacob, hath appeared unto thee.

6     And the Lord said furthermore unto him, Put now thine hand into thy bosom. And he put his hand into his bosom: and when he took it out, behold, his hand was leprous as snow.

7     And he said, Put thine hand into thy bosom again. And he put his hand into his bosom again; and plucked it out of his bosom, and, behold, it was turned again as his other flesh.

4۔ خروج 5باب1 (موسیٰ کو)، 1 (جاکر) (تا چوتھا،)، 2 آیات

1۔ اِس کے بعد موسیٰ۔۔۔ نے جا کر فرعون سے کہا کہ خداوند اسرائیل کا خدا یوں فرماتا ہے کہ میرے لوگوں کو جانے دے۔

2۔ فرعون نے کہا خداوند کون ہے کہ مَیں اْس کی بات مان کر اسرائیل کو جانے دوں؟ مَیں خداوند کو نہیں جانتا اور مَیں اسرائیل کو جانے بھی نہیں دوں گا۔

4. Exodus 5 : 1 (to Moses), 1 (went) (to 4th ,), 2

1     And afterward Moses … went in, and told Pharaoh, Thus saith the Lord God of Israel, Let my people go,

2     And Pharaoh said, Who is the Lord, that I should obey his voice to let Israel go? I know not the Lord, neither will I let Israel go.

5۔ خروج 14باب 5 (تا پہلا)، 8 (اور وہ)، 10 (اور دی)، 13، 14، 21تا23 (تا دوسرا)، 26، 27، 31 آیات

5۔ جب مصر کے بادشاہ کو خبر ملی کہ وہ لوگ چل دئیے تو فرعون اور اْس کے خادموں کا دل اْن لوگوں کی طرف سے پھرا۔

8۔ ۔۔۔ اور اْس نے بنی اسرائیل کا پیچھا کیا۔

10۔ ۔۔۔تب بنی اسرائیل نے خداوند سے فریاد کی۔

13۔ تب موسیٰ نے لوگوں سے کہا ڈرو مت چْپ چاپ کھڑے ہو کر خداوند کی نجات کے کام کو دیکھو جو وہ آج تمہارے لئے کرے گا کیونکہ جن مصریوں کو تم آج دیکھتے ہو اْن کو پھر کبھی نہ دیکھو گے۔

14۔ خداوند تمہاری طرف سے جنگ کرے گا اور تم خاموش رہو گے۔

21۔ پھر موسیٰ نے اپنا ہاتھ سمندر کے اوپر بڑھایا اور خداوند نے رات بھر تْند پوربی ہوا چلا کر اور سمندر کو پیچھے ہٹا کر اْسے خشکی بنا دیا اورپانی دو حصے ہو گیا۔

22۔ اور بنی اسرائیل سمندر کے بیچ میں خشک زمین پر چل کر نکل گئے اور اْن کے دہنے اور بائیں ہاتھ پانی دیوار کی طرح تھا۔

23۔ اور مصریوں نے تعاقب کیا اور فرعون کے سب گھوڑے اور رتھ اورسوار ان کے پیچھے پیچھے سمندر کے بیچ میں چلے گئے۔

26۔ اور خداوند نے موسیٰ سے کہا کہ اپنا ہاتھ سمندر کے اوپر بڑھا تاکہ پانی مصریوں اور اْن کے رتھوں اور سواروں پر پھر بہنے لگے۔

27۔ اور موسیٰ نے اپنا ہاتھ سمندر کے اوپر بڑھایا اور صبح ہوتے ہوتے سمندر پھر اپنی اصلی قوت پر آگیا اور مصری اْلٹے بھاگنے لگے۔ اور خداوند نے سمندر کے بیچ میں ہی مصریوں کو تہہ و بالا کر دیا۔

31۔ اوراسرائیلیوں نے وہ بڑی قوت جو خداوند نے مصریوں پر ظاہر کی دیکھی اور وہ لوگ خداوند سے ڈرے اور خداوند پر اْس کے بندے موسیٰ پر ایمان لائے۔

5. Exodus 14 : 5 (to 1st ,), 8 (and he) (to :), 10 (and the), 13, 14, 21-23 (to 2nd ,), 26, 27, 31

5     And it was told the king of Egypt that the people fled: and the heart of Pharaoh and of his servants was turned against the people,

8     …and he pursued after the children of Israel:

10     …and the children of Israel cried out unto the Lord.

13     And Moses said unto the people, Fear ye not, stand still, and see the salvation of the Lord, which he will shew to you to day: for the Egyptians whom ye have seen to day, ye shall see them again no more for ever.

14     The Lord shall fight for you, and ye shall hold your peace.

21     And Moses stretched out his hand over the sea; and the Lord caused the sea to go back by a strong east wind all that night, and made the sea dry land, and the waters were divided.

22     And the children of Israel went into the midst of the sea upon the dry ground: and the waters were a wall unto them on their right hand, and on their left.

23     And the Egyptians pursued, and went in after them to the midst of the sea,

26     And the Lord said unto Moses, Stretch out thine hand over the sea, that the waters may come again upon the Egyptians, upon their chariots, and upon their horsemen.

27     And Moses stretched forth his hand over the sea, and the sea returned to his strength when the morning appeared; and the Egyptians fled against it; and the Lord overthrew the Egyptians in the midst of the sea.

31     And Israel saw that great work which the Lord did upon the Egyptians: and the people feared the Lord, and believed the Lord, and his servant Moses.

6۔ عاموس 4باب13 آیت

13۔ کیونکہ دیکھ اْسی نے پہاڑوں کو بنایا اور ہوا کو پیدا کیا۔ وہ انسان پر اْس کے خیالات کو ظاہر کرتا ہے اور صبح کو تاریک بنا دیتا ہے اور زمین کے اونچے مقامات پر چلتا ہے۔ اْس کا نام خداوند رب الافواج ہے۔

6. Amos 4 : 13

13     For, lo, he that formeth the mountains, and createth the wind, and declareth unto man what is his thought, that maketh the morning darkness, and treadeth upon the high places of the earth, The Lord, The God of hosts, is his name.



سائنس اور صح


1۔ 583 :20 (تا۔)، 24 (خدا)۔25

خالق۔ ۔۔۔خدا جس نے وہ سب کچھ خلق کیا جو خلق ہوا ہے اور جو خود کے مخالف ایک بھی ایٹم یا ایک بھی عنصر خلق نہ کر سکا۔

1. 583 : 20 (to .), 24 (God)-25

Creator. … God, who made all that was made and could not create an atom or an element the opposite of Himself.

2۔ 465 :17 (اصول)۔6

اصول اور اْس کا خیال ایک ہے، اور وہ ایک خدا، قادر مطلق، ہمہ دانی اور ہمہ جائی ہستی ہے، اور اْس کا سایہ انسان اور کائنات ہے۔اومنی لاطینی اسمِ صفت سے اخذ کیا گیا ہے جو کْل کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ پس خدا کْل طاقت یا توانائی، کْل سائنس یا حقیقی علم، ہمہ جائیت کو ملاتا ہے۔کرسچن سائنس کی مختلف وضاحتیں اْس عقل کی جانب اشارہ کرتی ہیں جو کبھی مادا نہیں ہوتااوروہ ایک اصول رکھتا ہے۔

2. 465 : 17 (Principle)-6

Principle and its idea is one, and this one is God, omnipotent, omniscient, and omnipresent Being, and His reflection is man and the universe. Omni is adopted from the Latin adjective signifying all. Hence God combines all-power or potency, all-science or true knowledge, all-presence. The varied manifestations of Christian Science indicate Mind, never matter, and have one Principle.

3۔ 507 :21۔25

ایک مادی دنیا فانی عقل اور انسان کو خالق کا مفہوم دیتی ہے۔ سائنسی الٰہی تخلیق لافانی عقل اور خدا کی تخلیق کردہ کائنات کا اعلان کرتی ہے۔

لا متناہی عقل ابدیت کے ذہنی مالیکیول کی طرف سے سب کو خلق کرتی اور اْن پر حکومت کرتی ہے۔

3. 507 : 21-25

A material world implies a mortal mind and man a creator. The scientific divine creation declares immortal Mind and the universe created by God.

Infinite Mind creates and governs all, from the mental molecule to infinity.

4۔ 484 :9 (میں)۔15

الٰہی سائنس میں، مادے کے فرضی قوانین عقل کی شریعت کو تسلیم کرتے ہیں۔ جنہیں فطری سائنس اور مادی قوانین کی اصطلاح دی جاتی ہے وہ فانی عقل کی مادی حالتیں ہیں۔ جسمانی کائنات بشر کے شعوری اور لاشعوری خیالات کو ظاہر کرتی ہے۔ جسمانی طاقت اور فانی عقل ایک ہیں۔

4. 484 : 9 (In)-15

In divine Science, the supposed laws of matter yield to the law of Mind. What are termed natural science and material laws are the objective states of mortal mind. The physical universe expresses the conscious and unconscious thoughts of mortals. Physical force and mortal mind are one.

5۔ 209 :10۔11، 16۔30

دنیا عقل کے بنا، اْس ذہانت کے بنا شدید متاثر ہو گی جو طوفانوں کو اپنی گرفت میں دبائے رکھتی ہے۔

زمین کو تشکیل دینے والی آمیختہ معدنیات یا مجتمع مواد، مادوں کوایک دوسرے کے ساتھ جوڑ کر رکھنے والی نسبت، طول و عرض، فاصلے اور فلکی اجسام کے چکر تب حقیقی اہمیت نہیں رکھتے جب ہم یہ یاد کرتے ہیں کہ اِن سب کو روح میں انسان اور کائنات کی ترجمانی کے ذریعے روحانی حقیقت کو جگہ دینی چاہئے۔ جب یہ سب کیا جاتا ہے تو اِس تناسب میں، انسان اور کائنات کو ہم آہنگ اور ابدی پایا جاتا ہے۔

مادی مواد یا دنیاوی بناوٹیں، فلکیاتی حساب کتاب، قیاسی مفروضوں کے تمام تر مجموعے، جن کی بنیادمادی قانون یا زندگی کے مفروضوں اور اْس ذہانت پر ہوتی ہے جو مادے میں پائی جاتی ہے، سب بالا آخر غائب ہوجائے گی، روح کے لامتناہی سنگ ریز میں نِگل لی جائے گی۔

5. 209 : 10-11, 16-30

The world would collapse without Mind, without the intelligence which holds the winds in its grasp.

The compounded minerals or aggregated substances composing the earth, the relations which constituent masses hold to each other, the magnitudes, distances, and revolutions of the celestial bodies, are of no real importance, when we remember that they all must give place to the spiritual fact by the translation of man and the universe back into Spirit. In proportion as this is done, man and the universe will be found harmonious and eternal.

Material substances or mundane formations, astronomical calculations, and all the paraphernalia of speculative theories, based on the hypothesis of material law or life and intelligence resident in matter, will ultimately vanish, swallowed up in the infinite calculus of Spirit.

6۔ 124 :14۔31

کائنات کو، انسان کی مانند، اس کے الٰہی اصول، خدا، کی طرف سے سائنس کے ذریعے واضح کیا جانا چاہئے، تو پھر اسے سمجھا جا سکتا ہے، لیکن جب اسے جسمانی حواس کی بنیاد پر واضح کیا جاتا ہے اور نشوونما، بلوغت اور زوال کے ماتحت ہوتے ہوئے پیش کیا جاتا ہے،تو کائنات، انسان کی مانند، ایک معمہ بن جاتا ہے اوریہ جاری رکھنا چاہئے۔

پیروی، ملاپ اور دلکشی عقل کی ملکیتیں ہیں۔یہ الٰہی اصول سے تعلق رکھتے ہیں، اور یہ خیالی قوت کی تعدیل کی حمایت کرتے ہیں، جس نے زمین کو اس کے مدار میں چھوڑا اور متکبر لہروں سے کہا، ”یہاں تک پر آگے نہیں۔“

روح تمام چیزوں کی زندگی، مواد اور تواتر ہے۔ ہم قوتوں کے نقش قدم پر چلتے ہیں۔ انہیں چھوڑ دیں تو مخلوق نیست ہو جائے گی۔ انسانی علم انہیں مادے کی قوتیں کہتا ہے،لیکن الٰہی سائنس یہ واضح کرتی ہے کہ وہ مکمل طور پر الٰہی عقل کے ساتھ تعلق رکھتی ہیں اور اس عقل میں میراث رکھتی ہیں، اور یوں انہیں اْن کے جائز گھر اور درجہ بندی میں بحال کرتی ہے۔

6. 124 : 14-31

The universe, like man, is to be interpreted by Science from its divine Principle, God, and then it can be understood; but when explained on the basis of physical sense and represented as subject to growth, maturity, and decay, the universe, like man, is, and must continue to be, an enigma.

Adhesion, cohesion, and attraction are properties of Mind. They belong to divine Principle, and support the equipoise of that thought-force, which launched the earth in its orbit and said to the proud wave, "Thus far and no farther." 

Spirit is the life, substance, and continuity of all things. We tread on forces. Withdraw them, and creation must collapse. Human knowledge calls them forces of matter; but divine Science declares that they belong wholly to divine Mind, are inherent in this Mind, and so restores them to their rightful home and classification.

7۔ 200 :4۔7

موسیٰ نے ایک قوم کو مادے کی بجائے خدا کی عبادت میں آگے بڑھایا اور لافانی سوچ کے وسیلہ بابرکت ہونے کی بلند انسانی حیثیتوں کو بیان کیا۔

7. 200 : 4-7

Moses advanced a nation to the worship of God in Spirit instead of matter, and illustrated the grand human capacities of being bestowed by immortal Mind.

8۔ 139 :4۔9

ابتدا سے آخر تک، پورا کلام پاک مادے پر روح، عقل کی فتح کے واقعات سے بھرپور ہے۔ موسیٰ نے عقل کی طاقت کو اس کے ذریعے ثابت کی جسے انسان معجزات کہتا ہے؛ اسی طرح یشوع، ایلیاہ اور الیشع نے بھی کیا۔ مسیحی دور کو علامات اور عجائبات کی مدد سے بڑھایا گیا۔

8. 139 : 4-9

From beginning to end, the Scriptures are full of accounts of the triumph of Spirit, Mind, over matter. Moses proved the power of Mind by what men called miracles; so did Joshua, Elijah, and Elisha. The Christian era was ushered in with signs and wonders.

9۔ 321 :6۔2

عبرانیوں کوشریعت دینے والا، بولنے میں دھیما،جو کچھ اْس پر ظاہر ہو اتھاوہ لوگوں کو سمجھانے سے مایوس تھا۔ حکمت سے ہدایت پا کر جب اْس نے اپنا عصا زمین پر پھینکا، تو اْس نے اسے سانپ بنتے دیکھا، موسیٰ اِس کے سامنے بھاگ نکلا، مگر عقل نے اْسے واپس لوٹنے اور اس سانپ سے نپٹنے کا حکم دیا، تو پھر موسیٰ کا خوف دور ہوا۔ اس واقعہ میں سائنس کی حقیقت دیکھی گئی۔مادا محض مختصراً سامنے لایا گیا۔ دانائی کے حکم تلے سانپ، بدی، الٰہی سائنس کے فہم کی بدولت تباہ ہوئی، اور اس کا ثبوت وہ عصا تھا جس کے آگے جھکنا تھا۔اْسے خبردا رکرنے کے لئے موسیٰ کا بھرم اپنی طاقت تب کھو چْکاتھا جب اْس نے یہ دریافت کیا کہ جو کچھ اْس نے بظاہر دیکھا ہے وہ حقیقتاً تھا نہ کہ مادی عقیدے کا ایک حصہ تھا۔

جب موسیٰ نے پہلے اپنا ہاتھ اپنے سینے پر رکھ کر ڈھانکا اور پھر برف کی مانند سفید ایک مہلک بیماری کے ساتھ باہر نکالااور پھر اْسی وقت اسی سادہ مرحلے کے ساتھ اپنے ہاتھ کو اِس کی فطری حالت میں بحال کرلیا توسائنسی طور پر یہ بات ظاہر ہوئی کہ کوڑھ فانی عقل کی ایک تخلیق ہے نہ کہ مادے کی کوئی حالت ہے۔الٰہی سائنس میں اِس ثبوت کی بدولت خدا نے موسیٰ کے خوف کو کم کردیا، اور اِس کی اندرونی آواز اْس کے لئے خدا کی آواز بن گئی، جس نے کہا، ”اور یوں ہوگا کہ اگر وہ تیرا یقین نہ کریں اور پہلے معجزے کو بھی نہ مانیں تو وہ دوسرے معجزے کے سبب سے یقین کریں گے۔“اور پھر آنے والی صدیوں میں یہ ہوا، کہ یسوع کی بدولت ہستی کی سائنس کو ظاہر کیا گیا، جس نے پانی کو مے میں تبدیل کر کے اپنے طالب علموں کو عقل کی طاقت دکھائی، اور عقل کی بالا دستی کو ثابت کرنے کے لئے اْنہیں سکھایا کہ کیسے بغیر نقصان پہنچائے سانپوں سے نپٹنا ہے،کیسے بیمار کو شفا دینی اور بدروحوں کو نکالنا ہے۔

9. 321 : 6-2

The Hebrew Lawgiver, slow of speech, despaired of making the people understand what should be revealed to him. When, led by wisdom to cast down his rod, he saw it become a serpent, Moses fled before it; but wisdom bade him come back and handle the serpent, and then Moses' fear departed. In this incident was seen the actuality of Science. Matter was shown to be a belief only. The serpent, evil, under wisdom's bidding, was destroyed through understanding divine Science, and this proof was a staff upon which to lean. The illusion of Moses lost its power to alarm him, when he discovered that what he apparently saw was really but a phase of mortal belief.

It was scientifically demonstrated that leprosy was a creation of mortal mind and not a condition of matter, when Moses first put his hand into his bosom and drew it forth white as snow with the dread disease, and presently restored his hand to its natural condition by the same simple process. God had lessened Moses' fear by this proof in divine Science, and the inward voice became to him the voice of God, which said: "It shall come to pass, if they will not believe thee, neither hearken to the voice of the first sign, that they will believe the voice of the latter sign." And so it was in the coming centuries, when the Science of being was demonstrated by Jesus, who showed his students the power of Mind by changing water into wine, and taught them how to handle serpents unharmed, to heal the sick and cast out evils in proof of the supremacy of Mind.

10۔ 566 :1۔24

جیسے بنی اسرائیل کو بحرم قلزم، انسانی خوف کے تاریک اتار چڑھاؤ، سے گزرتے ہوئے فتح مندی کے ساتھ ہدایت ملی، جیسے اْنہیں بیابان میں،انسانی امیدوں کے بڑے صحرا میں تکالیف کے ساتھ گزرتے ہوئے، اور وعدہ کی ہوئی خوشی کی توقع لگائے ہوئے، راہنمائی ملی، اسی طرح سمجھ سے روح تک، وجودیت کے مادی فہم سے روحانی فہم تک کے سفر کے دوران روحانی خیال تما تر جائز خواہشات کی راہنمائی کرے گا اور اْن سب کو جلال کے لئے تیار کرے گا جو خدا سے محبت رکھتے ہیں۔واضح طور پر سائنس رْکتی نہیں بلکہ اْن کے آگے چلتی ہے، یعنی دن میں بادل کے ستون اور رات میں آگ کی صورت، تاکہ اْنہیں الٰہی بلندیوں تک راہنمائی دے۔

اگر ہمیں آئیون ہو کہانی میں سر والٹر سکاٹ کا وہ بیان یاد ہو جو انہوں نے ربیقہ یہودی کے وسیلہ دیا،

جب اسرائیل محبوبِ خدا،

غلامی کی زمیں سے آیا باہر،

اْس کے اجداد کا خدا اْس کے سامنے چلا،

عجب راہنما تھا بصورت شعلہ اور دھواں۔

ہم اْس دعا کو دوہرا سکتے ہیں جس پر یہ گیت ختم ہوتا ہے۔

ہاں جب راہِ یہودہ میں آیا،

ہر رات بصورت سایہ و طوفان،

تْو رہنا صابر، غضب میں دھیما،

اک جلتا اور روشن نور!

10. 566 : 1-24

As the children of Israel were guided triumphantly through the Red Sea, the dark ebbing and flowing tides of human fear, — as they were led through the wilderness, walking wearily through the great desert of human hopes, and anticipating the promised joy, — so shall the spiritual idea guide all right desires in their passage from sense to Soul, from a material sense of existence to the spiritual, up to the glory prepared for them who love God. Stately Science pauses not, but moves before them, a pillar of cloud by day and of fire by night, leading to divine heights.

If we remember the beautiful description which Sir Walter Scott puts into the mouth of Rebecca the Jewess in the story of Ivanhoe, —

When Israel, of the Lord beloved,

Out of the land of bondage came,

Her fathers' God before her moved,

An awful guide, in smoke and flame, —

we may also offer the prayer which concludes the same hymn, —

And oh, when stoops on Judah's path

In shade and storm the frequent night,

Be Thou, longsuffering, slow to wrath,

A burning and a shining light!

11۔ 503 :12۔15

غلطی کی تاریکی سے الٰہی سائنس، یعنی خدا کا کلام کہتا ہے کہ، ”خدا حاکم کْل“ ہے، اور ازل سے موجود محبت کی روشنی کائنات کو روشن کرتی ہے۔

11. 503 : 12-15

Divine Science, the Word of God, saith to the darkness upon the face of error, "God is All-in-all," and the light of ever-present Love illumines the universe.


روز مرہ کے فرائ

منجاب میری بیکر ایڈ

روز مرہ کی دعا

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ ہر روز یہ دعا کرے: ’’تیری بادشاہی آئے؛‘‘ الٰہی حق، زندگی اور محبت کی سلطنت مجھ میں قائم ہو، اور سب گناہ مجھ سے خارج ہو جائیں؛ اور تیرا کلام سب انسانوں کی محبت کو وافر کرے، اور اْن پر حکومت کرے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 4۔

مقاصد اور اعمال کا ایک اصول

نہ کوئی مخالفت نہ ہی کوئی محض ذاتی وابستگی مادری چرچ کے کسی رکن کے مقاصد یا اعمال پر اثر انداز نہیں ہونی چاہئے۔ سائنس میں، صرف الٰہی محبت حکومت کرتی ہے، اور ایک مسیحی سائنسدان گناہ کو رد کرنے سے، حقیقی بھائی چارے ، خیرات پسندی اور معافی سے محبت کی شیریں آسائشوں کی عکاسی کرتا ہے۔ اس چرچ کے تمام اراکین کو سب گناہوں سے، غلط قسم کی پیشن گوئیوں،منصفیوں، مذمتوں، اصلاحوں، غلط تاثر ات کو لینے اور غلط متاثر ہونے سے آزاد رہنے کے لئے روزانہ خیال رکھنا چاہئے اور دعا کرنی چاہئے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 1۔

فرض کے لئے چوکس

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ وہ ہر روز جارحانہ ذہنی آراء کے خلاف خود کو تیار رکھے، اور خدا اور اپنے قائد اور انسانوں کے لئے اپنے فرائض کو نہ کبھی بھولے اور نہ کبھی نظر انداز کرے۔ اس کے کاموں کے باعث اس کا انصاف ہوگا، وہ بے قصور یا قصوارہوگا۔ 

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 6۔


████████████████████████████████████████████████████████████████████████