اتوار 22 ستمبر، 2019 |

اتوار 22 ستمبر، 2019



مضمون۔ مادہ

SubjectMatter

سنہری متن:سنہری متن: 2 کرنتھیوں 6باب16آیت

’’اور خدا کے مقدِس کو بتوں سے کیا مناسبت ہے؟ کیونکہ ہم زندہ خدا کے مقدِس ہیں۔ چنانچہ خدا نے فرمایا ہے کہ مَیں اْن میں بسوں گا اور اْن میں چلوں پھروں گا اور مَیں اْن کا خدا ہوں گا اور وہ میری امت ہوں گے۔‘‘



Golden Text: II Corinthians 6 : 16

And what agreement hath the temple of God with idols? for ye are the temple of the living God; as God hath said, I will dwell in them, and walk in them; and I will be their God, and they shall be my people.





سبق کی آڈیو کے لئے یہاں کلک کریں

یوٹیوب سے سننے کے لئے یہاں کلک کریں

████████████████████████████████████████████████████████████████████████


جوابی مطالعہ: گلتیوں 3باب3آیت • 1کرنتھیوں 6باب15، 19، 20 آیات • 1 کرنتھیوں 8باب 4تا6آیات


3۔ کیا تم ایسے نادان ہو کہ روح کے طور پر شروع کر کے اب جسم کے طور پر پورا کرنا چاہتے ہو؟

15۔ کیا تم نہیں جانتے کہ تمہارے بدن مسیح کے اعضاء ہیں؟

19۔ کیا تم نہیں جانتے کہ تمہارا بدن روح القدس کا مقدِس ہے جو تم میں بسا ہوا ہے اور تم کو خدا کی طرف سے ملا ہے؟ اور تم اپنے نہیں۔

20۔ کیونکہ قیمت سے خریدے گئے ہو۔ پس اپنے بدن سے اور روح سے جو خدا کی ہے، اْسی کا جلال ظاہر کرو۔

4۔ ہم جانتے ہیں کہ بْت دنیا میں کوئی چیز نہیں اور سِوا ایک کے اور کوئی خدا نہیں۔

5۔اگرچہ آسمان اور زمین میں بہت سے خدا کہلاتے ہیں (چنانچہ بہتیرے خدا اور بہتیرے خداوند کہلاتے ہیں۔)

6۔ لیکن ہمارے نزدیک تو ایک ہی خدا ہے یعنی باپ جس کی طرف سے سب چیزیں ہیں اور ہم اْسی کے لئے ہیں اور ایک ہی خداوند ہے یعنی یسوع مسیح جس کے وسیلہ سے سب چیزیں موجود ہوئیں اور ہم بھی اْسی کے وسیلہ سے ہیں۔

Responsive Reading: Galatians 3 : 3; I Corinthians 6 : 15, 19, 20; I Corinthians 8 : 4-6

3.     Are ye so foolish? having begun in the Spirit, are ye now made perfect by the flesh?

15.     Know ye not that your bodies are the members of Christ?

19.     What? know ye not that your body is the temple of the Holy Ghost which is in you, which ye have of God, and ye are not your own?

20.     Therefore glorify God in your body, and in your spirit, which are God’s.

4.     We know that an idol is nothing in the world, and that there is none other God but one.

5.     For though there be that are called gods, whether in heaven or in earth, (as there be gods many, and lords many,)

6.     But to us there is but one God, the Father, of whom are all things, and we in him; and one Lord Jesus Christ, by whom are all things, and we by him.



درسی وعظ



بائبل


درسی وعظ

بائبل

1۔ استثناء 5باب6، (تا پہلا)، 7تا9 (تا:) آیات

6۔ مَیں خداوند تیرا خدا ہوں۔

7۔ میرے آگے تْو اور معبودوں کو نہ ماننا۔

8۔ تْو اپنے لئے کوئی تراشی ہوئی مورت نہ بنانا نہ کسی چیز کی صورت بنانا جو اوپر آسمان میں یا نیچے زمین پر یا زمین کے نیچے پانی میں ہے۔

9۔ تْو اْن کے آگے سجدہ نہ کرنا نہ اْن کی عبادت کرنا۔

1. Deuteronomy 5 : 6 (to 1st ,), 7-9 (to :)

6     I am the Lord thy God,

7     Thou shalt have none other gods before me.

8     Thou shalt not make thee any graven image, or any likeness of any thing that is in heaven above, or that is in the earth beneath, or that is in the waters beneath the earth:

9     Thou shalt not bow down thyself unto them, nor serve them:

2۔ یسعیاہ 42باب 6تا8، 12، 16تا18 آیات

6۔ میں خداوند نے تجھے صداقت سے بلایا میں ہی تیرا ہاتھ پکڑوں گا اور تیری حفاظت کروں گا اور لوگوں کے عہد اور قوموں کے نور کے لئے تجھے دوں گا۔

7۔ کہ تْو اندھوں کی آنکھیں کھولے اور اسیروں کو قید سے نکالے اور اْن کو جو اندھیرے میں بیٹھے ہیں قید خانے سے چھڑائے۔

8۔ یہواہ مَیں ہی ہوں۔ یہی میرا نام ہے مَیں اپنا جلال کسی دوسرے کے لئے اور اپنی حمد کھودی مورتوں کے لئے روانہ رکھوں گا۔

12۔ وہ خداوند کا جلال ظاہر کریں اور جزیروں میں اْس کی ثناء خوانی کریں۔

16۔اور اندھوں کو اِس راہ سے جسے وہ نہیں جانتے لے جاؤں گا میں اْن کو اِن راستوں سے جن سے وہ آگاہ نہیں لے چلوں گا۔ مَیں اْن کے آگے تاریکی کو روشنی اور اونچی نیچی جگہوں کو ہموار کر دوں گا میں اْن سے یہ سلوک کروں گا اور اْن کو ترک نہ کروں گا۔

17۔جو کھودی ہوئی مورتوں پر بھروسہ کرتے اور ڈھالے ہوئے بتوں سے کہتے ہیں تم ہمارے معبود ہو وہ پیچھے ہٹیں گے اور بہت شرمندہ ہوں گے۔

18۔ اے بہرو سنو اے اندھو نظر کرو تاکہ تم دیکھو۔

2. Isaiah 42 : 6-8, 12, 16-18

6     I the Lord have called thee in righteousness, and will hold thine hand, and will keep thee, and give thee for a covenant of the people, for a light of the Gentiles;

7     To open the blind eyes, to bring out the prisoners from the prison, and them that sit in darkness out of the prison house.

8     I am the Lord: that is my name: and my glory will I not give to another, neither my praise to graven images.

12     Let them give glory unto the Lord, and declare his praise in the islands.

16     And I will bring the blind by a way that they knew not; I will lead them in paths that they have not known: I will make darkness light before them, and crooked things straight. These things will I do unto them, and not forsake them.

17     They shall be turned back, they shall be greatly ashamed, that trust in graven images, that say to the molten images, Ye are our gods.

18     Hear, ye deaf; and look, ye blind, that ye may see.

3۔ یوحنا 9باب1تا3، 6، 7، 15، 26تا28، 30، 32تا38 آیات

1۔ پھر اْس نے جاتے وقت ایک شخص کو دیکھا جو جنم کا اندھا تھا۔

2۔اور اْس کے شاگردوں نے اْس سے پوچھا اے ربی! کس نے گناہ کیا تھا جو یہ اندھا پیدا ہوا۔ اس شخص نے یا اِس کے ماں باپ نے؟

3۔ یسوع نے جواب دیا کہ نہ اِس نے گناہ کیا تھا نہ اِس کے ماں باپ نے یہ اِس لئے ہوا کہ خدا کے کام اْس میں ظاہر ہوں۔

6۔یہ کہہ کر اْن نے زمین پر تھوکا اور تھوک سے مِٹی سانی اور وہ مٹی اندھے کی آنکھوں پر لگا کر

7۔اْس سے کہا جا شیلوخ (جس کا ترجمہ ”بھیجا ہوا“ ہے) کے حوض میں دھو لے۔ پس اْس نے جا کر دھویا اور بِینا ہو کر واپس آیا۔

15۔پھر فریسیوں نے بھی اْس سے پوچھا تْو کس طرح بِینا ہوا؟ اْس نے اْن سے کہا اْس نے میری آنکھوں پر مٹی لگائی۔ میں نے دھو لیا اور اب بِینا ہوں۔

26۔پھر انہوں نے اْس سے کہا اْس نے تیرے ساتھ کیا کِیا؟ کس طرح تیری آنکھیں کھولیں؟

27۔اْس نے انہیں جواب دیا میں تو تم سے کہہ چکا اور تم نے نہ سْنا۔ دوبارہ کیوں سننا چاہتے ہو؟ کیا تم بھی اْس کے شاگرد ہونا چاہتے ہو؟

28۔ وہ اْسے برا بھلا کہنے لگے کہ تْو ہی اْس کا شاگرد ہے۔ ہم تو موسیٰ کے شاگرد ہیں۔

30۔ اْس آدمی نے جواب میں اْن سے کہا یہ تو تعجب کی بات ہے کہ تم نہیں جانتے کہ وہ کہاں کا ہے حالانکہ اْس نے میری آنکھیں کھولیں۔

32۔ دنیا کے شروع سے کبھی سننے میں نہیں آیا کہ کسی نے جنم کے اندھے کی آنکھیں کھولی ہوں۔

33۔ اگر یہ شخص خدا کی طرف سے نہ ہوتا تو کچھ نہ کر سکتا۔

34۔اْنہوں نے جواب میں اْس سے کہا تْو تو بالکل گناہوں میں پیدا ہوا۔ تْو ہم کو کیا سکھاتا ہے؟ اور انہوں نے اْسے باہر نکال دیا۔

35۔ یسوع نے سنا کہ انہوں نے اْسے باہر نکال دیا اور جب اْس سے ملا تو کہا کیا تْو خدا کے بیٹے پر ایمان لاتا ہے؟

36۔ اْس نے جواب میں کہا اے خداوند وہ کون ہے کہ میں اْس پر ایمان لاؤں؟

37۔ یسوع نے اْس سے کہا تْو نے تو اْسے دیکھا ہے اور جو تجھ سے باتیں کرتا ہے وہی ہے۔

38۔ اْس نے کہا اے خداوند میں ایمان لاتا ہوں اور اْسے سجدہ کیا۔

3. John 9 : 1-3, 6, 7, 15, 26-28, 30, 32-38

1     And as Jesus passed by, he saw a man which was blind from his birth.

2     And his disciples asked him, saying, Master, who did sin, this man, or his parents, that he was born blind?

3     Jesus answered, Neither hath this man sinned, nor his parents: but that the works of God should be made manifest in him.

6     When he had thus spoken, he spat on the ground, and made clay of the spittle, and he anointed the eyes of the blind man with the clay,

7     And said unto him, Go, wash in the pool of Siloam, (which is by interpretation, Sent.) He went his way therefore, and washed, and came seeing.

15     Then again the Pharisees also asked him how he had received his sight. He said unto them, He put clay upon mine eyes, and I washed, and do see.

26     Then said they to him again, What did he to thee? how opened he thine eyes?

27     He answered them, I have told you already, and ye did not hear: wherefore would ye hear it again? will ye also be his disciples?

28     Then they reviled him, and said, Thou art his disciple; but we are Moses’ disciples.

30     The man answered and said unto them, Why herein is a marvellous thing, that ye know not from whence he is, and yet he hath opened mine eyes.

32     Since the world began was it not heard that any man opened the eyes of one that was born blind.

33     If this man were not of God, he could do nothing.

34     They answered and said unto him, Thou wast altogether born in sins, and dost thou teach us? And they cast him out.

35     Jesus heard that they had cast him out; and when he had found him, he said unto him, Dost thou believe on the Son of God?

36     He answered and said, Who is he, Lord, that I might believe on him?

37     And Jesus said unto him, Thou hast both seen him, and it is he that talketh with thee.

38     And he said, Lord, I believe. And he worshipped him.

4۔ رومیوں 6باب16، 19 آیات

16۔ کیا تم نہیں جانتے کہ جس کی فرمانبرداری کے لئے اپنے آپ کو غلاموں کی طرح حوالہ کر دیتے ہو اْسی کے غلا ہو جس کے فرمانبردار ہو خواہ گناہ کے جس کا انجام موت ہے خواہ فرمانبرداری کے جس کا انجام راستبازی ہے۔

19۔ میں تمہاری انسانی کمزوری کے سبب سے انسانی طور پر کہتا ہوں۔ جس طرح تم نے اپنے اعضاء بدکاری کرنے کے لئے ناپاکی اور بدکاری کی غلامی کے حوالے کئے تھے اْسی طرح اب اپنے اعضاء پاک ہونے کے لئے راستبازی کی غلامی کے حوالہ کردو۔

4. Romans 6 : 16, 19

16     Know ye not, that to whom ye yield yourselves servants to obey, his servants ye are to whom ye obey; whether of sin unto death, or of obedience unto righteousness?

19     I speak after the manner of men because of the infirmity of your flesh: for as ye have yielded your members servants to uncleanness and to iniquity unto iniquity; even so now yield your members servants to righteousness unto holiness.

5۔ رومیوں 8باب5، 9 (تا دوسرا)، 14 آیات

5۔ کیونکہ جو جسمانی ہیں وہ جسمانی باتوں کے خیال میں رہتے ہیں لیکن جو روحانی ہیں وہ روحانی باتوں کے خیال میں رہتے ہیں۔

9۔ لیکن تم جسمانی نہیں بلکہ روحانی ہو۔

14۔ اس لئے کہ جتنے خدا کے روح کی ہدایت سے چلتے ہیں وہی خدا کے فرزند ہیں۔

5. Romans 8 : 5, 9 (to 2nd ,), 14

5     For they that are after the flesh do mind the things of the flesh; but they that are after the Spirit the things of the Spirit.

9     But ye are not in the flesh, but in the Spirit,

14     For as many as are led by the Spirit of God, they are the sons of God.

6۔ 1کرنتھیوں 10باب14، 19، 20 آیات

14۔ اس سبب سے اے میرے پیارو! بت پرستی سے بھاگو۔

19۔ پس میں کیا یہ کہتا ہوں کہ بتوں کی قربانی کوئی چیز ہے یا بت کچھ چیز ہے؟

20۔ نہیں بلکہ یہ کہتا ہوں کہ جو قربانی غیر قومیں کرتی ہیں شیاطین کے لئے قربانی کرتی ہیں نہ کہ خدا کے لئے اور میں نہیں چاہتا کہ تم شیاطین کے شریک ہو۔

6. I Corinthians 10 : 14, 19, 20

14     Wherefore, my dearly beloved, flee from idolatry.

19     What say I then? that the idol is any thing, or that which is offered in sacrifice to idols is any thing?

20     But I say, that the things which the Gentiles sacrifice, they sacrifice to devils, and not to God: and I would not that ye should have fellowship with devils.

7۔ اعمال 17باب16تا18، 22تا25، 27 (وہ)، 28 آیات

16۔ جب پولوس ایتھنے میں اْن کی راہ دیکھ رہا تھا تو شہر کو بتوں سے بھرا ہوا دیکھ کر اْس کا جی جل گیا۔

17۔ اس لئے وہ عبادت خانہ میں یہودیوں اور خدا پرستوں سے اور چوک میں جو ملتے تھے اْن سے روز بحث کیا کرتے تھے۔

18۔ اور چند اَپکوری اور ستوئیکی فیسْوف اْس کا مقابلہ کرنے لگے۔ بعض نے کہا کہ یہ بکواسی کیا کہنا چاہتا ہے؟ اوروں نے کہا یہ غیر معبودوں کی خبر دینے والا معلوم ہوتا ہے اس لئے کہ یسوع اور قیامت کی خوشخبری دیتا تھا۔

22۔ پولس نے اریوپْگس میں کھڑے ہو کر کہا کہ اے اتھینے والو! میں دیکھتا ہوں کہ تم ہر بات میں دیوتاؤں کے بڑے ماننے والے ہو۔

23۔ چنانچہ میں نے سیر کرتے اور تمہارے بتوں پر غور کرتے وقت ایک ایسی قربان گاہ بھی پائی جس پر لکھا تھا کہ نہ معلوم خدا کے لئے۔ پس جس کو تم بغیر معلوم کئے پوجتے ہو میں تم کو اْسی کی خبر دیتا ہو۔

24۔ جس خدا نے دنیا اور اْس کی سب چیزوں کو پیدا کیا وہ ا ٓسمان اور زمین کا مالک ہو کر ہاتھ کے بنائے ہوئے مندروں میں نہیں رہتا۔

25۔ نہ کسی کا محتاج ہوکر آدمیوں کے ہاتھوں سے خدمت لیتا ہے کیونکہ وہ تو خود سب کو زندگی اور سانس اور سب کچھ دیتا ہے۔

27۔۔۔۔ہر چند وہ ہم میں سے کسی سے دور نہیں۔

28۔کیونکہ اْسی میں ہم جیتے اور چلتے پھرتے اور موجود ہیں۔ جیسا تمہارے شاعروں میں سے بعض نے کہا کہ ہم تو اْس کی نسل بھی ہیں۔

7. Acts 17 : 16-18, 22-25, 27 (he), 28

16     Now while Paul waited for them at Athens, his spirit was stirred in him, when he saw the city wholly given to idolatry.

17     Therefore disputed he in the synagogue with the Jews, and with the devout persons, and in the market daily with them that met with him.

18     Then certain philosophers of the Epicureans, and of the Stoicks, encountered him. And some said, What will this babbler say? other some, He seemeth to be a setter forth of strange gods: because he preached unto them Jesus, and the resurrection.

22     Then Paul stood in the midst of Mars’ hill, and said, Ye men of Athens, I perceive that in all things ye are too superstitious.

23     For as I passed by, and beheld your devotions, I found an altar with this inscription, TO THE UNKNOWN GOD. Whom therefore ye ignorantly worship, him declare I unto you.

24     God that made the world and all things therein, seeing that he is Lord of heaven and earth, dwelleth not in temples made with hands;

25     Neither is worshipped with men’s hands, as though he needed any thing, seeing he giveth to all life, and breath, and all things;

27     …he be not far from every one of us:

28     For in him we live, and move, and have our being; as certain also of your own poets have said, For we are also his offspring.

8۔ 1یوحنا 5باب4، 20، 21 آیات

4۔ جو کوئی خدا سے پیدا ہوا ہے وہ دنیا پر غالب آتا ہے اور وہ غلبہ جس سے دنیا مغلوب ہوئی ہے ہمارا ایمان ہے۔

20۔ اور یہ بھی جانتے ہیں کہ خدا کا بیٹا آگیا ہے اور اْس نے ہمیں سمجھ بخشی ہے تاکہ اْس کو جو حقیقی ہے جانیں اور ہم اْس میں جو حقیقی ہے یعنی اْس کے بیٹے یسوع مسیح میں ہیں۔ حقیقی خدا اور ہمیشہ کی زندگی یہی ہے۔

21۔ اے بچو! اپنے آپ کو بتوں سے بچائے رکھو۔

8. I John 5 : 4, 20, 21

4     For whatsoever is born of God overcometh the world: and this is the victory that overcometh the world, even our faith.

20     And we know that the Son of God is come, and hath given us an understanding, that we may know him that is true, and we are in him that is true, even in his Son Jesus Christ. This is the true God, and eternal life.

21     Little children, keep yourselves from idols. Amen.



سائنس اور صح


1۔ 335 :7 (روح)۔8 (تا دوسرا)

روح، یعنی خدا نے سب کو خود سے اور خود میں بنایا۔ روح نے مادے کو کبھی نہیں بنایا۔

1. 335 : 7 (Spirit)-8 (to 2nd .)

Spirit, God, has created all in and of Himself. Spirit never created matter.

2۔ 591 :8۔15

مادہ۔ خرافات؛ فانیت؛ فانی عقل کا دوسرا نام؛ بھرم؛ ذہانت، مواد،اور غیر ذہانت اور فانیت میں زندگی؛ زندگی کا اختتام موت، اور موت کااختتام زندگی؛ بے حس کے اندر احساس؛مادے سے پیدا ہونے والی عقل؛ سچائی کا مخالف؛ روح کا مخالف؛ خدا کا مخالف؛ وہ جس سے فانی عقل کوئی پہچان نہیں رکھتی؛ وہ جسے فانی عقل صرف عقیدے میں ہی دیکھتی، محسوس کرتی، سنتی، چکھتی اور سونگھتی ہے۔

2. 591 : 8-15

Matter. Mythology; mortality; another name for mortal mind; illusion; intelligence, substance, and life in non-intelligence and mortality; life resulting in death, and death in life; sensation in the sensationless; mind originating in matter; the opposite of Truth; the opposite of Spirit; the opposite of God; that of which immortal Mind takes no cognizance; that which mortal mind sees, feels, hears, tastes, and smells only in belief. 

3۔ 146 :5۔6

پہلی بت پرستی مادے پر یقین تھا۔

3. 146 : 5-6

The first idolatry was faith in matter.

4۔ 119 :1۔5 (تا،)

جب ہم مبہم روحانی قوت کو وقف کر دیتے ہیں، یعنی کہ، جب ہم ایسا اپنے نظریات میں کرتے ہیں، تو بے شک ہم مادے کو جو کچھ یہ نہیں رکھتا یا نہیں رکھ سکتا اْس کے ساتھ حقیقتاً وقف نہیں کر سکتے، ہم قادر مطلق کا انکار کرتے ہیں،

4. 119 : 1-5 (to ,)

When we endow matter with vague spiritual power, — that is, when we do so in our theories, for of course we cannot really endow matter with what it does not and cannot possess, — we disown the Almighty,

5۔ 94 :1۔3

یسوع نے تعلیم دی کہ ایک خدا، ایک روح جو انسان کو خود کی شبیہ اور صورت پر خلق کرتا ہے، روح سے ہے نہ کہ مادے سے۔

5. 94 : 1-3

Jesus taught but one God, one Spirit, who makes man in the image and likeness of Himself, — of Spirit, not of matter.

6۔ 292 :13۔18

مادہ فانی عقل کا ابتدائی عقیدہ ہے، کیونکہ اس نام نہاد عقل کو روح کا کوئی ادراک نہیں ہے۔فانی عقل کے لئے مادہ حقیقی ہے اور بدی اصلی ہے۔بشر کے نام نہاد حواس مادی ہیں۔ لہٰذہ بشر وں کی نام نہاد زندگی مادے پر منحصر ہے۔

6. 292 : 13-18

Matter is the primitive belief of mortal mind, because this so-called mind has no cognizance of Spirit. To mortal mind, matter is substantial, and evil is real. The so-called senses of mortals are material. Hence the so-called life of mortals is dependent on matter.

7۔ 174 :4۔6

کیا تہذیب صرف بت پرستی کی ایک بلند شکل ہے، کہ انسان کو نہانے کے برش، تولیوں، غسل خانے، خوراک، ورزش اور ہوا کے آگے جھکنا چاہئے؟

7. 174 : 4-6

Is civilization only a higher form of idolatry, that man should bow down to a flesh-brush, to flannels, to baths, diet, exercise, and air?

8۔ 186 :32۔11 (تا،)

دوسرے دیوتارکھتے ہوئے اور ایک سے زیادہ عقلوں پر یقین رکھتے ہوئے، انسانی عقل ابتداء ہی سے بت پرست تھی۔

چونکہ بشر فانی وجودیت پر بھی غور نہیں کرتا، تو وہ سب جاننے والی عقل اور اْس کی تخلیق سے کس حد تک بے خبرہوگا۔

یہاں آپ دیکھ سکتے ہیں کہ کیسے نام نہاد مادی فہم خود کی خیالات کی اشکال تعمیر کرتا ہے، انہیں مادی نام دیتا ہے، اور پھر ان کی عبادت کرتا اور اْن سے ڈرتا ہے۔غیر قوم کے اندھے پن کے ساتھ، یہ کسی مادی دیوتا یا دوا کو اس سے بڑھ کر ایک طاقت منسوب کرتا ہے۔انسانی عقل کے عقائد اسے چراتے اور غلام بناتے ہیں۔

8. 186 : 32-11 (to ,)

The human mind has been an idolater from the beginning, having other gods and believing in more than the one Mind.

As mortals do not comprehend even mortal existence, how ignorant must they be of the all-knowing Mind and of His creations.

Here you may see how so-called material sense creates its own forms of thought, gives them material names, and then worships and fears them. With pagan blindness, it attributes to some material god or medicine an ability beyond itself. The beliefs of the human mind rob and enslave it,

9۔ 214 :18۔21

ہم مادے کے آگے سر جھکاتے اور غیر قوموں کے بت پرستوں کی مانند خدا سے متعلق محدود خیالات کو خاطر میں لاتے ہیں۔انسانوں کو اْس چیز سے ڈرنے اور پیروی کرنے کی طرف مائل کیا جاتا ہے جسے وہ روحانی خدا کی نسبت زیادہ مادی جسم تصور کرتے ہیں۔

9. 214 : 18-21

We bow down to matter, and entertain finite thoughts of God like the pagan idolater. Mortals are inclined to fear and to obey what they consider a material body more than they do a spiritual God.

10۔ 170 :32۔3

مادہ جو خود اپنے ہاتھوں میں اپنی طاقت رکھتا ہے اور ایک خالق ہونے کا دعویٰ کرتا ہے، وہ ایک ایسا افسانہ ہے جس میں ایسے معاشرے کی طرف سے غیر قومیت اور شہوت کو بہت توثیق ملتی ہے جس میں انسانیت اپنے اخلاقی مرض میں مبتلا ہوجاتی ہے۔

10. 170 : 32-3

Matter, which takes divine power into its own hands and claims to be a creator, is a fiction, in which paganism and lust are so sanctioned by society that mankind has caught their moral contagion.

11۔ 308 :1۔4

کیا آپ اس یقین میں زندہ رہتے ہیں کہ عقل مادے میں ہے، اور کہ بدی عقل ہے، یا کیا آپ اس زندہ ایمان میں رہتے ہیں کہ یہاں ماسوائے ایک خدا کے اور کوئی ہے نہ ہو سکتا ہے، اور اْس کے حکموں پر عمل کر رہے ہیں؟

11. 308 : 1-4

Art thou dwelling in the belief that mind is in matter, and that evil is mind, or art thou in the living faith that there is and can be but one God, and keeping His commandment?"

12۔ 228 :25۔27

خدا سے جدا کوئی طاقت نہیں ہے۔ قادر مطلق میں ساری طاقت ہے، اور کسی اور طاقت کو ماننا خدا کی بے حرمتی کرنا ہے۔

12. 228 : 25-27

There is no power apart from God. Omnipotence has all-power, and to acknowledge any other power is to dishonor God.

13۔ 208 :5۔16

کلام کہتا ہے، ”کیونکہ اْسی میں ہم جیتے اور چلتے پھرتے اور موجود ہیں۔“ پھر خدا سے آزاد ایسی کون سی طاقت دکھائی پڑتی ہے جو بیماری کا موجب بنتی اور اْسے ٹھیک کرتی ہے؟یہ ایمان کی غلطی، بشری عقل کاقانون، ہر لحاظ سے غلط، گناہ، بیماری اور موت کو گلے لگانے کے سوا اور کیا ہے؟یہ لافانی عقل کے، سچائی کے اور روحانی قانون کے بالکل برعکس ہے۔ یہ خدا کے اچھے کردار کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتا کہ وہ کسی شخص کو بیمار کرے اور پھر انسان کو خود شفا پانے کے لئے چھوڑ دے، یہ فرض کرنا نہایت مضحکہ خیز بات ہے کہ مادہ بیماری کا سبب اور اعلاج دونوں ہو سکتا ہے، یا روح، خدا بیماری پیدا کرتا ہے اور اس کا اعلاج مادے پر چھوڑ دیتا ہے۔

13. 208 : 5-16

The Scriptures say, "In Him we live, and move, and have our being." What then is this seeming power, independent of God, which causes disease and cures it? What is it but an error of belief, — a law of mortal mind, wrong in every sense, embracing sin, sickness, and death? It is the very antipode of immortal Mind, of Truth, and of spiritual law. It is not in accordance with the goodness of God's character that He should make man sick, then leave man to heal himself; it is absurd to suppose that matter can both cause and cure disease, or that Spirit, God, produces disease and leaves the remedy to matter.

14۔ 393 :16۔24

اپنے اس فہم میں مضبوط رہیں کہ الٰہی عقل حکومت کرتی ہے اور یہ کہ سائنس میں انسان خدا کی حکومت کی عکاسی کرتا ہے۔ اس بات کا خوف بالکل نہ رکھیں کہ مادہ کسی قسم کے قانون کے نتیجہ میں درد، سوجن اور سوزش کا شکار ہو سکتا ہے، جبکہ یہ خود واضح بات ہے کہ مادے میں درد ہو سکتا ہے نہ سوجن ہوسکتی ہے۔آپ کا بدن کسی درخت سے لگے ہوئے زخم یا ایسی برقی تار کے کھنچنے کی نسبت پریشانی اور زخموں سے زیادہ تکلیف اٹھائے گا جو فانی عقل کے لئے نہیں ہیں۔

14. 393 : 16-24

Be firm in your understanding that the divine Mind governs, and that in Science man reflects God's government. Have no fear that matter can ache, swell, and be inflamed as the result of a law of any kind, when it is self-evident that matter can have no pain nor inflammation. Your body would suffer no more from tension or wounds than the trunk of a tree which you gash or the electric wire which you stretch, were it not for mortal mind. 

15۔ 397 :26۔32

ہم فانی عقل اور مادے کا الگ الگ اعلاج کبھی نہیں کر سکتے، کیونکہ وہ یکجا ہو جاتے ہیں۔اس عقیدے کو ترک کردیں کہ فانی دماغ، حتیٰ کہ عارضی طور پر، کھوپڑی کے اندر دب جاتا ہے، اور آپ تیزی سے مزید مردانہ یا زنانہ بن جائیں گے۔ آپ پہلے کی نسبت خود کو اپنے خالق کو بہتر طور پر سمجھنے لگیں گے۔

15. 397 : 26-32

We can never treat mortal mind and matter separately, because they combine as one. Give up the belief that mind is, even temporarily, compressed within the skull, and you will quickly become more manly or womanly. You will understand yourself and your Maker better than before.

16۔ 425 :23۔4

جب مادے پر عقیدے کو فتح کر لیا جاتا ہے تو شعور بہتر بدن تشکیل دیتا ہے۔ روحانی فہم کے وسیلے مادی عقیدے کی تصحیح کریں تو آپ کی روح آپ کو نیا بنائے گی۔ ماسوائے خدا کو رنجیدہ کرنے کے آپ کبھی خوفذدہ نہیں ہوں گے، اور آپ یہ کبھی یقین نہیں رکھیں گے کہ دل یا آپ کے بدن کا کوئی بھی حصہ آپ کو تباہ کر سکتا ہے۔

اگر آپ کے پھیپھڑے مضبوط اور کشادہ ہیں اور انہیں ایسا ہی رکھنا چاہتے ہیں، تو موروثیت کے مخالف عقیدے کے خلاف ذہنی احتجاج کرنے کے لئے ہمیشہ تیار رہیں۔ کسی بھی قسم کے حالات سے جنم لینے والی بیماری یا پھیپھڑوں، تپِ دِق، موروثی کھپت سے متعلق تمام تر خیالات کو خارج کردیں، تو آپ دیکھیں گے کہ فانی عقل سچائی سے ہدایت پا کراْس الٰہی طاقت کی پیروی کرتی ہے ہے جو بدن کو صحتمندی کی جانب لے جاتی ہے۔

16. 425 : 23-4

Consciousness constructs a better body when faith in matter has been conquered. Correct material belief by spiritual understanding, and Spirit will form you anew. You will never fear again except to offend God, and you will never believe that heart or any portion of the body can destroy you.

If you have sound and capacious lungs and want them to remain so, be always ready with the mental protest against the opposite belief in heredity. Discard all notions about lungs, tubercles, inherited consumption, or disease arising from any circumstance, and you will find that mortal mind, when instructed by Truth, yields to divine power, which steers the body into health.

17۔ 380 :32۔1

مادے یا جسم کا ہر وہ قانون، جس سے انسان پر حکومت کرنے کی امید رکھی جاتی ہے،زندگی یعنی خدا کے قانون سے خالی پن اور خلا سمجھا جاتا ہے۔

17. 380 : 32-1

Every law of matter or the body, supposed to govern man, is rendered null and void by the law of Life, God.

18۔ 428 :15۔21

ہمیں وجودیت کو ”گمنام خدا کے لئے“ مخصوص نہیں کرنا چاہئے جس کی ہم ”لاعلمی سے عبادت“ کرتے ہیں، بلکہ ابدی معمار، ابدی باپ، اور اْس زندگی کے لئے کرنی چاہئے جسے فانی فہم بگاڑ نہیں سکتا نہ ہی فانی عقیدہ نیست کر سکتا ہے۔انسانی غلط فہمیوں کی تلافی کر نے کے لئے اور اْس زندگی کے ساتھ اْن کا تبادلہ کرنے کے لئے جو روحانی ہے نہ کہ مادی ہمیں ذہنی طاقت کی قابلیت کا ادراک ہونا چاہئے۔

18. 428 : 15-21

We should consecrate existence, not "to the unknown God" whom we "ignorantly worship," but to the eternal builder, the everlasting Father, to the Life which mortal sense cannot impair nor mortal belief destroy. We must realize the ability of mental might to offset human misconceptions and to replace them with the life which is spiritual, not material.

19۔ 467 :5 (تیرا)۔7، 13۔16

آپ نہ کوئی ذہانت، نہ زندگی، نہ مواد، نہ سچائی، نہ محبت رکھیں گے ماسوائے اْس کے جو روحانی ہو۔ ۔۔۔دوسرے دیوتا نہ رکھتے ہوئے، اْس کی راہنمائی کے لئے ایک کامل عقل کے سوا کسی اور کے پاس نہ جاتے ہوئے، انسان خدا کی صورت پرہے، پاک اور ابدی، وہی عقل رکھتے ہوئے جو مسیح کی بھی تھی۔

19. 467 : 5 (Thou)-7, 13-16

Thou shalt have no intelligence, no life, no substance, no truth, no love, but that which is spiritual. … Having no other gods, turning to no other but the one perfect Mind to guide him, man is the likeness of God, pure and eternal, having that Mind which was also in Christ.


روز مرہ کے فرائ

منجاب میری بیکر ایڈ

روز مرہ کی دعا

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ ہر روز یہ دعا کرے: ’’تیری بادشاہی آئے؛‘‘ الٰہی حق، زندگی اور محبت کی سلطنت مجھ میں قائم ہو، اور سب گناہ مجھ سے خارج ہو جائیں؛ اور تیرا کلام سب انسانوں کی محبت کو وافر کرے، اور اْن پر حکومت کرے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 4۔

مقاصد اور اعمال کا ایک اصول

نہ کوئی مخالفت نہ ہی کوئی محض ذاتی وابستگی مادری چرچ کے کسی رکن کے مقاصد یا اعمال پر اثر انداز نہیں ہونی چاہئے۔ سائنس میں، صرف الٰہی محبت حکومت کرتی ہے، اور ایک مسیحی سائنسدان گناہ کو رد کرنے سے، حقیقی بھائی چارے ، خیرات پسندی اور معافی سے محبت کی شیریں آسائشوں کی عکاسی کرتا ہے۔ اس چرچ کے تمام اراکین کو سب گناہوں سے، غلط قسم کی پیشن گوئیوں،منصفیوں، مذمتوں، اصلاحوں، غلط تاثر ات کو لینے اور غلط متاثر ہونے سے آزاد رہنے کے لئے روزانہ خیال رکھنا چاہئے اور دعا کرنی چاہئے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 1۔

فرض کے لئے چوکس

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ وہ ہر روز جارحانہ ذہنی آراء کے خلاف خود کو تیار رکھے، اور خدا اور اپنے قائد اور انسانوں کے لئے اپنے فرائض کو نہ کبھی بھولے اور نہ کبھی نظر انداز کرے۔ اس کے کاموں کے باعث اس کا انصاف ہوگا، وہ بے قصور یا قصوارہوگا۔ 

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 6۔


████████████████████████████████████████████████████████████████████████