اتوار 23 اگست، 2020  |

اتوار 23 اگست، 2020 



مضمون۔ عقل

SubjectMind

سنہری متن:سنہری متن: امثال 23 باب7 آیت

’’”کیونکہ جیسے اْس کے دل کے اندیشے ہیں وہ ویسا ہی ہے۔“‘‘



Golden Text: Proverbs 23 : 7

For as he thinketh in his heart, so is he.





سبق کی آڈیو کے لئے یہاں کلک کریں

یوٹیوب سے سننے کے لئے یہاں کلک کریں

████████████████████████████████████████████████████████████████████████


جوابی مطالعہ: 1 کرنتھیوں 2 باب5، 12 آیات • 1 پطرس 1 باب13، 14 آیات • 2 کرنتھیوں 10 باب3تا5 آیات


5۔ تمہارا ایمان انسان کی حکمت پر نہیں بلکہ خدا کی قدرت پر موقوف ہو۔

12۔ ہم نے نہ دنیا کی روح بلکہ وہ روح پایا ہے جو خدا کی طرف سے ہے تاکہ اْن باتوں کو جانیں جو خدا نے ہمیں عنایت کیں ہیں۔

13۔اس واسطے اپنی عقل کی کمر باندھ کر، ہوشیار ہوجاؤ،

14۔اور فرمانبردار فرزند ہو کر اپنی جہالت کے زمانہ پرانی خواہشوں کے تابع نہ بنو۔

3۔ کیونکہ ہم اگر چہ جسم میں زندگی گزارتے ہیں مگر جسم کے طور پر لڑتے نہیں۔

4۔ اس لئے کہ ہماری لڑائی کے ہتھیار جسمانی نہیں بلکہ خدا کے نزدیک قلعوں کو ڈھا دینے کے قابل ہیں۔

5۔ چنانچہ ہم تصورات اور ہر ایک اونچی چیز کو جو خدا کی پہچان کے بر خلاف آواز اٹھائے ہوئے ہیں ڈھا دیتے ہیں اور ہر ایک خیال کو قید کر کے مسیح کا فرمانبردار بنا دیتے ہیں۔

Responsive Reading: I Corinthians 2 : 5, 12; I Peter 1 : 13, 14; II Corinthians 10 : 3-5

5.     Your faith should not stand in the wisdom of men, but in the power of God.

12.     Now we have received, not the spirit of the world, but the spirit which is of God; that we might know the things that are freely given to us of God.

13.     Wherefore gird up the loins of your mind, be sober,

14.     As obedient children, not fashioning yourselves according to the former lusts in your ignorance.

3.     For though we walk in the flesh, we do not war after the flesh:

4.     (For the weapons of our warfare are not carnal, but mighty through God to the pulling down of strong holds;)

5.     Casting down imaginations, and every high thing that exalteth itself against the knowledge of God, and bringing into captivity every thought to the obedience of Christ.



درسی وعظ



بائبل


درسی وعظ

بائبل

1۔ استثناء 6 باب 1، 5 (تْو)، 14، 18، 19 آیات

1۔ یہ وہ فرمان اور آئین اور احکام ہیں جن کو خداوند تمہارے خدا نے تم کو سکھانے کا حکم دیا ہے تاکہ تم اْن پر اْس ملک میں عمل کرو جس ملک پر قبضہ کرنے کے لئے پار جانے کو ہو۔

5۔۔۔۔ تْو اپنے سارے دل اور اپنی ساری جان اور اپنی ساری طاقت سے خداوند اپنے خدا سے محبت رکھ۔

14۔ تم اور معبودوں کی یعنی اْن قوموں کے معبودوں کی جو تمہارے آس پاس رہتی ہیں پیروی نہ کرنا۔

18۔ اور تْو وہی کرنا جو خداوند کی نظر میں درست اور اچھا ہے تاکہ تیرا بھلا ہو اور جس اچھے ملک کی بابت خداوند نے تیرے باپ دادا سے قسم کھائی تْو اْس میں داخل ہو کر اْس پر قبضہ کر سکے۔

1. Deuteronomy 6 : 1, 5 (thou), 14, 18, 19

1     Now these are the commandments, the statutes, and the judgments, which the Lord your God commanded to teach you, that ye might do them in the land whither ye go to possess it:

5     …thou shalt love the Lord thy God with all thine heart, and with all thy soul, and with all thy might.

14     Ye shall not go after other gods, of the gods of the people which are round about you;

18     And thou shalt do that which is right and good in the sight of the Lord: that it may be well with thee, and that thou mayest go in and possess the good land which the Lord sware unto thy fathers,

19     To cast out all thine enemies from before thee, as the Lord hath spoken.

2۔ استثناء 4باب36 (تا:)،39 آیات

36۔ اْس نے اپنی آواز آسمان میں سے تجھ کو سنائی تاکہ تجھ کو تربیت کرے۔

39۔ پس آج کے دن تْو جان لے اوراس بات کو اپنے دل میں جما لے کہ اوپر آسمان میں اور نیچے زمین پر خداوند ہی خدا ہے اور دوسرا کوئی نہیں۔

2. Deuteronomy 4 : 36 (to :), 39

36     Out of heaven he made thee to hear his voice, that he might instruct thee:

39     Know therefore this day, and consider it in thine heart, that the Lord he is God in heaven above, and upon the earth beneath: there is none else.

3۔ زبور 141: 3، 4 آیات

3۔ اے خداوند میرے منہ پر پہرہ بٹھا۔ میرے لبوں کے دروازے کی نگہبانی کر۔

4۔ میرے دل کو کسی بری بات کی طرف مائل نہ ہونے دے کہ بدکاروں کے ساتھ مل کر شرارت کے کاموں میں مصروف ہو جائے اور مجھے اْن کے نفیس کھانوں سے باز رکھ۔

3. Psalm 141 : 3, 4

3     Set a watch, O Lord, before my mouth; keep the door of my lips.

4     Incline not my heart to any evil thing, to practise wicked works with men that work iniquity: and let me not eat of their dainties.

4۔ زبور 139: 23، 24 آیات

23۔ اے خداوند تْو مجھے جانچ اور میرے دل کو پہچان۔ مجھے آزما اور میرے خیالوں کو جان لے۔

24۔ اور دیکھ کہ مجھ میں کوئی بری روش تو نہیں اور مجھ کو ابدی راہ میں لے چل۔

4. Psalm 139 : 23, 24

23     Search me, O God, and know my heart: try me, and know my thoughts:

24     And see if there be any wicked way in me, and lead me in the way everlasting.

5۔ متی 4 باب 1تا11 آیات

1۔ اْس وقت روح یسوع کو جنگل میں لے گیا تاکہ ابلیس سے آزمایا جائے۔

2۔ اور چالیس دن اور چالیس رات فاقہ کر کے آخر کو اْسے بھوک لگی۔

3۔ اور آزمانے والے نے پاس آکر اْس سے کہا اگر تْو خدا کا بیٹا ہے تو فرما کہ یہ پتھر روٹیاں بن جائیں۔

4۔ اْس نے جواب میں کہا کہ آدمی صرف روٹی ہی سے جیتا نہ رہے گا بلکہ ہر بات سے جو خدا کے منہ سے نکلتی ہے۔

5۔ تب ابلیس اْسے مقدس شہر میں لے گیا اور ہیکل کے کنگرے پر کھڑا کر کے اْس سے کہا

6۔ اگر تْو خدا کا بیٹا ہے تو اپنے تائیں نیچے گرادے کیونکہ لکھا ہے کہ وہ تیری بابت اپنے فرشتوں کو حکم دے گا اور وہ تجھے ہاتھوں پر اٹھا لیں گے ایسا نہ ہو کہ تیرے پاؤں کو پتھر سے ٹھیس لگے۔

7۔ یسوع نے اْس سے کہا یہ بھی لکھا ہے کہ تْو خداوند اپنے خدا کی آزمائش نہ کر۔

8۔ پھر ابلیس اْسے ایک بہت اونچے پہاڑ پر لے گیا اور دنیا کی سب سلطنتیں اور سب شان و شوکت اْسے دکھائیں۔

9۔ اور اْسے کہا اگر تْو جھْک کر مجھے سجدہ کرے تو یہ سب کچھ تجھے دے دوں گا۔

10۔ یسوع نے اْس سے کہا اے شیطان دور ہو کیونکہ لکھا ہے کہ تْو خداوند اپنے خدا کو سجدہ کر اور صرف اْسی کی عبادت کر۔

11۔ تب ابلیس اْس کے پاس سے چلا گیا اور دیکھو فرشتے آکر اْس کی خدمت کرنے لگے۔

5. Matthew 4 : 1-11

1     Then was Jesus led up of the Spirit into the wilderness to be tempted of the devil.

2     And when he had fasted forty days and forty nights, he was afterward an hungred.

3     And when the tempter came to him, he said, If thou be the Son of God, command that these stones be made bread.

4     But he answered and said, It is written, Man shall not live by bread alone, but by every word that proceedeth out of the mouth of God.

5     Then the devil taketh him up into the holy city, and setteth him on a pinnacle of the temple,

6     And saith unto him, If thou be the Son of God, cast thyself down: for it is written, He shall give his angels charge concerning thee: and in their hands they shall bear thee up, lest at any time thou dash thy foot against a stone.

7     Jesus said unto him, It is written again, Thou shalt not tempt the Lord thy God.

8     Again, the devil taketh him up into an exceeding high mountain, and sheweth him all the kingdoms of the world, and the glory of them;

9     And saith unto him, All these things will I give thee, if thou wilt fall down and worship me.

10     Then saith Jesus unto him, Get thee hence, Satan: for it is written, Thou shalt worship the Lord thy God, and him only shalt thou serve.

11     Then the devil leaveth him, and, behold, angels came and ministered unto him.

6۔ یعقوب 4 باب7، 8 (تا پہلا)آیات

7۔ پس خدا کے تابع ہو جاؤ اور ابلیس کا مقابلہ کرو تو وہ تم سے بھاگ جائے گا۔

8۔ خدا کے نزدیک جاؤ تو وہ تمہارے نزدیک آئے گا۔

6. James 4 : 7, 8 (to 1st .)

7     Submit yourselves therefore to God. Resist the devil, and he will flee from you.

8     Draw nigh to God, and he will draw nigh to you.

7۔ متی 15 باب1تا3، 7 تا 11، 15 تا20 (تا:)آیات

1۔ اْس وقت فریسوں اور فقیہوں نے یروشلیم سے یسوع کے پاس آکر کہا کہ۔

2۔ تیرے شاگرد بزرگوں کی روایت کو کیوں ٹال دیتے ہیں کہ کھانا کھاتے وقت ہاتھ نہیں دھوتے؟

3۔ اْس نے جواب میں اْن سے کہا تم اپنی روایت سے خدا کا حکم کیوں ٹال دیتے ہو؟

7۔ اے ریاکارو! یسعیاہ نے تمہارے حق میں کیا خوب نبوت کی ہے کہ

8۔ یہ اْمت زبان سے تو میری عزت کرتی ہے مگر اِن کا دل مجھ سے دور ہے۔

9۔ اور یہ بے فائدہ میری پرستش کرتے ہیں کیونکہ انسانی احکام کی تعلیم دیتے ہیں۔

10۔ پھر اْس نے لوگوں کو پاس بلا کر اْن سے کہا سنو اور سمجھو۔

11۔ جو چیز منہ میں جاتی ہے وہ آدمی کو ناپاک نہیں کرتی مگر جو منہ سے نکلتی ہے وہی آدمی کو ناپاک کرتی ہے۔

15۔ پطرس نے جواب میں اْس سے کہا یہ تمثیل ہمیں سمجھا دے۔

16۔ اْس نے کہا کیا تم بھی اب تک بے سمجھ ہو؟

17۔ کیا نہیں سمجھتے کہ جو کچھ منہ میں جاتا ہے وہ پیٹ میں پڑتا ہے اور مزبلہ میں پھینکا جاتا ہے۔

18۔ مگر جو باتیں منہ سے نکلتی ہیں وہ دل سے نکلتی ہیں اور وہی آدمی کو ناپاک کرتی ہے۔

19۔ کیونکہ بْرے خیال، خونریزیاں، زناکاریاں، حرامکاریاں، چوریاں، جھوٹی گواہیاں، بد گوئیاں دل ہی سے نکلتی ہیں۔

20۔ یہی باتیں ہیں جو آدمی کو ناپاک کرتی ہیں۔

7. Matthew 15 : 1-3, 7-11, 15-20 (to :)

1     Then came to Jesus scribes and Pharisees, which were of Jerusalem, saying,

2     Why do thy disciples transgress the tradition of the elders? for they wash not their hands when they eat bread.

3     But he answered and said unto them, Why do ye also transgress the commandment of God by your tradition?

7     Ye hypocrites, well did Esaias prophesy of you, saying,

8     This people draweth nigh unto me with their mouth, and honoureth me with their lips; but their heart is far from me.

9     But in vain they do worship me, teaching for doctrines the commandments of men.

10     And he called the multitude, and said unto them, Hear, and understand:

11     Not that which goeth into the mouth defileth a man; but that which cometh out of the mouth, this defileth a man.

15     Then answered Peter and said unto him, Declare unto us this parable.

16     And Jesus said, Are ye also yet without understanding?

17     Do not ye yet understand, that whatsoever entereth in at the mouth goeth into the belly, and is cast out into the draught?

18     But those things which proceed out of the mouth come forth from the heart; and they defile the man.

19     For out of the heart proceed evil thoughts, murders, adulteries, fornications, thefts, false witness, blasphemies:

20     These are the things which defile a man:

8۔ فلپیوں 2باب 5 آیت

5۔ ویسا ہی مزاج رکھو جیسا مسیح یسوع کا تھا۔

8. Philippians 2 : 5

5     Let this mind be in you, which was also in Christ Jesus:

9۔ فلپیوں 4 باب7، 8 (جتنی باتیں) آیات

7۔ تو خدا کا اطمینان جو سمجھ سے بالکل باہر ہے تمہارے دلوں اور خیالوں کو مسیح یسوع میں محفوظ رکھے۔

8۔۔۔۔ جتنی باتیں سچ ہیں اور جتنی باتیں شرافت کی ہیں اور جتنی باتیں واجب ہیں اور جتنی باتیں پاک ہیں اور جتنی باتیں پسندیدہ اور جتنی باتیں دلکش ہیں غرض جو نیکی اور تعریف کی باتیں ہیں اْس پر غور کیا کرو۔

9. Philippians 4 : 7, 8 (whatsoever)

7     And the peace of God, which passeth all understanding, shall keep your hearts and minds through Christ Jesus.

8     …whatsoever things are true, whatsoever things are honest, whatsoever things are just, whatsoever things are pure, whatsoever things are lovely, whatsoever things are of good report; if there be any virtue, and if there be any praise, think on these things.

10۔ فلپیوں 3باب3، 4، 7، 8(تا:)، 10 (تا دوسرا)، 15، 16، 20 آیات

3۔ کیونکہ مختون تو ہم ہیں جو خدا کے روح کی ہدایت سے عبادت کرتے ہیں اور مسیح پر فخر کرتے ہیں اور جسم کا بھروسہ نہیں کرتے۔

4۔ گو مَیں تو جسم کا بھی بھروسہ کر سکتا ہوں اگر کسی اور کو جسم کا بھروسہ کرنے کا خیال ہو تو مَیں اْس سے بھی زیادہ کر سکتا ہوں۔

7۔ لیکن جتنی چیزیں میرے نفع کی تھیں اْن ہی کو مَیں نے مسیح کی خاطر نقصان سمجھ لیا ہے۔

8۔ بلکہ مَیں اپنے خداوند یسوع مسیح کی پہچان کی بڑی خوبی کے سبب سے سب چیزوں کو نقصان سمجھتا ہوں۔

10۔ اور مَیں اْس کو اور اْس کے جی اٹھنے کی قدرت کو معلوم کروں۔

15۔ پس ہم میں سے جتنے کامل ہیں یہی خیال رکھیں اور کسی بات میں تمہارا اور طرح کا خیال ہو تو خدااْس بات کو بھی تم پر ظاہر کردے گا۔

16۔ بہر حال جہاں تک ہم پہنچے ہیں اْسی کے مطابق چلیں۔

20۔ مگر ہمارا وطن آسمان پر ہے اور ہم ایک منجی یعنی خداوند یسوع مسیح کے وہاں سے آنے کے منتظر ہیں۔

10. Philippians 3 : 3, 4, 7, 8 (to :), 10 (to 2nd ,), 15, 16, 20

3     For we are the circumcision, which worship God in the spirit, and rejoice in Christ Jesus, and have no confidence in the flesh.

4     Though I might also have confidence in the flesh. If any other man thinketh that he hath whereof he might trust in the flesh, I more:

7     But what things were gain to me, those I counted loss for Christ.

8     Yea doubtless, and I count all things but loss for the excellency of the knowledge of Christ Jesus my Lord:

10     That I may know him, and the power of his resurrection,

15     Let us therefore, as many as be perfect, be thus minded: and if in any thing ye be otherwise minded, God shall reveal even this unto you.

16     Nevertheless, whereto we have already attained, let us walk by the same rule, let us mind the same thing.

20     For our conversation is in heaven; from whence also we look for the Saviour, the Lord Jesus Christ:



سائنس اور صح


1۔ 307 :25 (دی)۔30

الٰہی فہم بشر کی جان ہے، اور انسان کو سب چیزوں پر حاکمیت عطا کرتا ہے۔ انسان کو مادیت کی بنیاد پر خلق نہیں کیا گیا اور نہ اسے مادی قوانین کی پاسداری کا حکم دیا گیا جو روح نے کبھی نہیں بنائے؛ اس کا صوبہ روحانی قوانین، فہم کے بلند آئین میں ہے۔

1. 307 : 25 (The)-30

The divine Mind is the Soul of man, and gives man dominion over all things. Man was not created from a material basis, nor bidden to obey material laws which Spirit never made; his province is in spiritual statutes, in the higher law of Mind.

2۔ 496 :3 (یہاں)۔8

۔۔۔یہاں صرف ایک عقل ہے، اور یہ ہمیشہ موجود، قادر مطلق عقل انسان کے وسیلہ منعکس ہوتی اور پوری کائنات پر حکمرانی کرتی ہے۔آپ یہ سیکھیں گے یہ کرسچن سائنس میں پہلا فرض خدا کی فرمانبرداری کرنا، ایک عقل کو تسلیم کرنا اور ایک دوسرے سے اپنی مانند پیار کرنا ہے۔

2. 496 : 3 (there)-8

…there is but one Mind, and this ever-present omnipotent Mind is reflected by man and governs the entire universe. You will learn that in Christian Science the first duty is to obey God, to have one Mind, and to love another as yourself.

3۔ 311 :3۔6 (تا پہلا)

جسے ہم فانی عقل یا جسمانی عقل کی اصطلاح دیتے ہیں، جو اظہار کے لئے مادے پر انحصار کرتی ہے، وہ عقل نہیں ہے۔خدا عقل ہے: جو کچھ عقل، خدا نے بنایا یا بنا رہا ہے اچھا ہے، اور اْسی نے سب کچھ بنایا ہے۔

3. 311 : 3-6 (to 1st .)

What we term mortal mind or carnal mind, dependent on matter for manifestation, is not Mind. God is Mind: all that Mind, God, is, or hath made, is good, and He made all.

4۔ 372 :1۔13

یاد رکھیئے، دماغ عقل نہیں ہے۔ مادا بیمار نہیں ہوسکتا، اور دماغ لافانی ہے۔ فانی بدن مادے پر عقل کامحض ایک غلط فانی عقیدہ ہے۔ جسے آپ مادا کہتے ہیں وہ در اصل حل میں ایک غلطی، ابتدائی فانی عقل، میلٹن کی پیش کردہ ”افراتفری اور پرانی رات“ کے ساتھ مماثلت ہے۔اِس فانی عقل سے متعلق ایک نظریہ یہ ہے کہ اِس کے احساسات نئے انسان کو جنم دے سکتے، خون، گوشت اور ہڈیاں تشکیل دے سکتے ہیں۔ ہستی کی سائنس، جس میں سب کچھ الٰہی عقل، یا خدا اور اْس کا خیال شامل ہے، اِس دور میں واضح تر ہوگا مگر اِس عقیدے کے لئے کہ مادا انسان کا آلہ ہے یا یہ کہ انسان اپنی جسمانی سوچ میں داخل ہو سکتا ہے، اْس کے خود کے عقائد کے ساتھ اْسے باندھتا ہے اور پھر اْس کے بندھنوں کو مادا کہتا اور انہیں الٰہی شریعت کا نام دیتا ہے۔

4. 372 : 1-13

Remember, brain is not mind. Matter cannot be sick, and Mind is immortal. The mortal body is only an erroneous mortal belief of mind in matter. What you call matter was originally error in solution, elementary mortal mind, — likened by Milton to "chaos and old night." One theory about this mortal mind is, that its sensations can reproduce man, can form blood, flesh, and bones. The Science of being, in which all is divine Mind, or God and His idea, would be clearer in this age, but for the belief that matter is the medium of man, or that man can enter his own embodied thought, bind himself with his own beliefs, and then call his bonds material and name them divine law.

5۔ 166 :3۔7

جیسا انسان سوچتا ہے، وہ ویسا ہی ہوجاتا ہے۔عقل وہ سب کچھ ہے جو وہ محسوس کرتا، عمل کرتا یا عمل کو روکتا ہے۔ اِس سے انکار یا اِس کی منطقی ذمہ داری سے انحراف کرنا، شفائیہ کوشش کو غلط سمت میں لے جاتا ہے، اور یوں بدن پر شعوری اختیار ختم ہو جاتا ہے۔

5. 166 : 3-7

As a man thinketh, so is he. Mind is all that feels, acts, or impedes action. Ignorant of this, or shrinking from its implied responsibility, the healing effort is made on the wrong side, and thus the conscious control over the body is lost.

6۔ 423 :18۔26

ماہر علم الٰہیات نے مادے سے قطع نظر عقل کو اپنے کام کی بنیاد بناتے ہوئے اور ہستی کی سچائی اور ہم آہنگی کو غلطی اور مخالفت سے برتر قرار دیتے ہوئے، کیس کے ساتھ مقابلہ کرنے کے لئے خود کمزور کی بجائے مضبوط پیش کیا ہے، اور وہ متناسب طور پر اپنے مریض کو ہمت اور ہوش رْبا قوت کی تحریک کے ساتھ مضبوط کرتا ہے۔اْس عقل کے قانون کے مطابق سائنس اور شعور دونوں ہستی کی معیشت میں کام کر رہے ہیں، جو بالا آخر اپنی مطلق بالادستی کا دعویٰ کرتا ہے۔

6. 423 : 18-26

The metaphysician, making Mind his basis of operation irrespective of matter and regarding the truth and harmony of being as superior to error and discord, has rendered himself strong, instead of weak, to cope with the case; and he proportionately strengthens his patient with the stimulus of courage and conscious power. Both Science and consciousness are now at work in the economy of being according to the law of Mind, which ultimately asserts its absolute supremacy.

7۔ 392 :11۔12، 24 (کھڑا کریں)۔30

بیماری کی جسمانی تصدیق ہمیشہ ذہنی نفی کے ساتھ ملنی چاہئے۔

قلی کو اپنی سوچ کے دروازے پر کھڑا کریں۔ ایسے نتائج کو تسلیم کرنے سے جنہیں آپ جسمانی نتائج کی صورت میں دیکھنا چاہتے ہیں، آپ ہم آہنگی کے ساتھ خود کو کنٹرول کریں گے۔ جب وہ حالت موجود ہو جسے آپ بیماری کی حوصلہ افزائی کہتے ہیں، خواہ یہ ہوا، ورزش، موروثیت، چھوت کی بیماری یا حادثہ ہو، تو بطور قلی اپنا فرض نبھائیں اور ایسے غیر صحت افزا خیالات اور خدشات کو ختم کردیں۔

7. 392 : 11-12, 24 (Stand)-30

The physical affirmation of disease should always be met with the mental negation.

Stand porter at the door of thought. Admitting only such conclusions as you wish realized in bodily results, you will control yourself harmoniously. When the condition is present which you say induces disease, whether it be air, exercise, heredity, contagion, or accident, then perform your office as porter and shut out these unhealthy thoughts and fears.

8۔ 234 :9۔12، 17۔21، 25۔30

ہمیں بدی کی نسبت اچھائی کے ساتھ زیادہ واقف ہونا چاہئے، اور اِتنی توجہ کے ساتھ ہی جھوٹے عقائد کے خلاف حفاظت کرنی چاہئے جتنی احتیاط کے ساتھ ہم چوروں اور قاتلوں کی پہنچ کے خلاف اپنے گھر کے دروازوں کی حفاظت کرتے ہیں۔

اگر بشر فانی عقل کی مناسب حفاظت کرتے ہیں، تو بدکاریوں کے وہ بچے جو اِسے تکلیف پہنچاتے ہیں ختم ہو جائیں گے۔ہمیں اِس نام نہاد عقل کے ساتھ شروعات کرنی چاہئے اور اِسے گناہ اور بیماری سے خالی کرنا چاہئے ورنہ گناہ اور بیماری کبھی ختم نہیں ہوں گے۔

گناہ اور بیماری پر اِن کے اظہار سے قبل توجہ دی جانی چاہئے۔آپ کو چاہئے کہ برے خیالات کو پہلی فرصت میں قابو کر لیں، ورنہ دوسری مرتبہ یہ آپ کو قابو کر لیں گے۔ یسوع نے واضح کیا تھا کہ ممنوع چیزوں کا لالچ کرنا ایک اخلاقی حکم کو توڑنا تھا۔ اْس نے انسانی عقل کے اْس عمل پر بہت زور دیاجو حواس کے لئے غیبی ہو۔

8. 234 : 9-12, 17-21, 25-30

We should become more familiar with good than with evil, and guard against false beliefs as watchfully as we bar our doors against the approach of thieves and murderers.

If mortals would keep proper ward over mortal mind, the brood of evils which infest it would be cleared out. We must begin with this so-called mind and empty it of sin and sickness, or sin and sickness will never cease.

Sin and disease must be thought before they can be manifested. You must control evil thoughts in the first instance, or they will control you in the second. Jesus declared that to look with desire on forbidden objects was to break a moral precept. He laid great stress on the action of the human mind, unseen to the senses.

9۔ 7: 1۔2

غلطی کے لئے جو واحد سزائے موت اْس نے دی وہ تھی، ”اے شیطان، میرے سامنے سے دور ہو۔“

9. 7 : 1-2

The only civil sentence which he had for error was, "Get thee behind me, Satan."

10۔ 234 :31۔3

برے خیالات اور ارادے کسی شخص کے ایمان کی اجازت سے زیادہ آگے نہیں جاتے اور نہ زیادہ نقصان پہنچاتے ہیں۔ اگر فضیلت اور سچائی مضبوط دفاع قائم کریں تو برے خیالات، شہوت اور بدخواہی پر مبنی مقاصد آگے نہیں بڑھ سکتے، اور منتشر ہونے والے زدانوں کی مانند ایک انسانی ذہن سے دوسرے میں غیر متوقع مسکن کی تلاش میں نہیں رہتے۔

10. 234 : 31-3

Evil thoughts and aims reach no farther and do no more harm than one's belief permits. Evil thoughts, lusts, and malicious purposes cannot go forth, like wandering pollen, from one human mind to another, finding unsuspected lodgment, if virtue and truth build a strong defence.

11۔ 445 :1 (دی)۔8

۔۔۔سائنسدان کو خدا کی شرائط کو لازماً پورا کرنا چاہئے۔ اس کے ساتھ ساتھ استاد کوچاہئے کہ اچھی طرح سے اپنے طالب علموں کو گناہ کے خلاف خود کا دفاع کرنے اور ہونے والے ذہنی قاتل کے حملوں سے محفوظ رہنے کے قابل بنائے،جو اخلاقی اور جسمانی طور پر قتل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔کرسچن سائنس کے اظہار میں رکاوٹ بننے کے لئے شک یا خدشہ داخل کرنے والی کسی دوسری قوت کے وجود سے متعلق کوئی مفروضے نہیں ہونے چاہئیں۔

11. 445 : 1 (the)-8

…the Scientist must conform to God's requirements. Also the teacher must thoroughly fit his students to defend themselves against sin, and to guard against the attacks of the would-be mental assassin, who attempts to kill morally and physically. No hypothesis as to the existence of another power should interpose a doubt or fear to hinder the demonstration of Christian Science.

12۔ 469 :13 (دی)۔17، 23 (بدی)۔24

غلطی کو نیست کرنے والی اعلیٰ سچائی خدا یعنی اچھائی واحد عقل ہے اور یہ کہ لامحدود عقل کی جعلی مخالف، جسے شیطان یا بدی کہا جاتا ہے، عقل نہیں، سچائی نہیں بلکہ غلطی ہے، جو حقیقت اور ذہانت سے عاری ہے۔۔۔۔جہاں ساری خالی جگہ خدا کے ساتھ پْر ہوجاتی ہے وہاں بدی کوئی جگہ نہیں پا سکتی۔

12. 469 : 13 (The)-17, 23 (evil)-24

The exterminator of error is the great truth that God, good, is the only Mind, and that the supposititious opposite of infinite Mind — called devil or evil — is not Mind, is not Truth, but error, without intelligence or reality. … evil can have no place, where all space is filled with God.

13۔ 406 :19۔20 (تا پہلا)

بدی، ہر قسم کی غلطی، کا مقابلہ کریں، تو وہ آپ کے پاس سے بھاگ جائے گی۔

13. 406 : 19-20 (to 1st .)

Resist evil — error of every sort — and it will flee from you.

14۔ 272 :19۔27

یہ مادی وجودیت کے بھیانک نقلی نتائج کے مقابلے میں خیالات کی روحانیت اور روز مرہ کی مسیحت پسندی ہے؛ یہ نچلے رجحانات اور ناپاکی اور شہوت پرستی کی زمینی کشش کے مقابلے میں پاکیزگی اور صداقت ہے، جو حقیقتاً کرسچن سائنس کی الٰہی ابتدا اور کام کی تصدیق کرتی ہے۔ کرسچن سائنس کی کامیابیاں غلطی اور بدی کی تباہی سے ریکارڈ کی جاتی ہیں، جس سے گناہ، بیماری اور موت کے ناپاک عقائد کی ترویج ہوتی ہے۔

14. 272 : 19-27

It is the spiritualization of thought and Christianization of daily life, in contrast with the results of the ghastly farce of material existence; it is chastity and purity, in contrast with the downward tendencies and earthward gravitation of sensualism and impurity, which really attest the divine origin and operation of Christian Science. The triumphs of Christian Science are recorded in the destruction of error and evil, from which are propagated the dismal beliefs of sin, sickness, and death.

15۔ 276 :4۔11

جب الٰہی احکامات کو سمجھ لیا جاتا ہے تو وہ شراکت کی اْس بنیاد کو ایاں کرتے ہیں جس میں ایک عقل دوسری کے ساتھ جنگ نہیں کرتی، بلکہ سب میں ایک روح، خدا، ایک ذہین وسیلہ ہوتا ہے، جو کلام کے اِس حکم سے مطابقت رکھتا ہے کہ: ”ویسا ہی مزاج رکھو جیسا مسیح کا تھا۔“انسان اور اْس کا خالق الٰہی سائنس میں باہمی شراکت رکھتے ہیں، اور حقیقی شعور صرف خدا کی باتوں سے ہی پہچانا جاتا ہے۔

15. 276 : 4-11

When the divine precepts are understood, they unfold the foundation of fellowship, in which one mind is not at war with another, but all have one Spirit, God, one intelligent source, in accordance with the Scriptural command: "Let this Mind be in you, which was also in Christ Jesus." Man and his Maker are correlated in divine Science, and real consciousness is cognizant only of the things of God.


روز مرہ کے فرائ

منجاب میری بیکر ایڈ

روز مرہ کی دعا

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ ہر روز یہ دعا کرے: ’’تیری بادشاہی آئے؛‘‘ الٰہی حق، زندگی اور محبت کی سلطنت مجھ میں قائم ہو، اور سب گناہ مجھ سے خارج ہو جائیں؛ اور تیرا کلام سب انسانوں کی محبت کو وافر کرے، اور اْن پر حکومت کرے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 4۔

مقاصد اور اعمال کا ایک اصول

نہ کوئی مخالفت نہ ہی کوئی محض ذاتی وابستگی مادری چرچ کے کسی رکن کے مقاصد یا اعمال پر اثر انداز نہیں ہونی چاہئے۔ سائنس میں، صرف الٰہی محبت حکومت کرتی ہے، اور ایک مسیحی سائنسدان گناہ کو رد کرنے سے، حقیقی بھائی چارے ، خیرات پسندی اور معافی سے محبت کی شیریں آسائشوں کی عکاسی کرتا ہے۔ اس چرچ کے تمام اراکین کو سب گناہوں سے، غلط قسم کی پیشن گوئیوں،منصفیوں، مذمتوں، اصلاحوں، غلط تاثر ات کو لینے اور غلط متاثر ہونے سے آزاد رہنے کے لئے روزانہ خیال رکھنا چاہئے اور دعا کرنی چاہئے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 1۔

فرض کے لئے چوکس

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ وہ ہر روز جارحانہ ذہنی آراء کے خلاف خود کو تیار رکھے، اور خدا اور اپنے قائد اور انسانوں کے لئے اپنے فرائض کو نہ کبھی بھولے اور نہ کبھی نظر انداز کرے۔ اس کے کاموں کے باعث اس کا انصاف ہوگا، وہ بے قصور یا قصوارہوگا۔ 

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 6۔


████████████████████████████████████████████████████████████████████████