اتوار 23 جون ، 2019 |

اتوار 23 جون ، 2019



مضمون۔ کیا کائنات ، بشمول انسان، ایٹمی توانائی سے مرتب ہوئی ہے؟

SubjectIs the Universe, Including Man, Evolved by Atomic Force?

سنہری متن:سنہری متن: 2 سلاطین 3باب17، 18آیات

’’خداوند یوں فرماتا ہے کہ تم نہ ہوا آتی دیکھو گے اور نہ مینہ دیکھو گے تو بھی یہ وادی پانی سے بھر جائے گی۔ اور تم بھی پیو گے اور تمہارے مویشی اور تمہارے چوپائے بھی۔ اور یہ خداوند کے لئے ایک ہلکی سی بات ہے ۔‘‘



Golden Text: II Kings 3 : 17, 18

Thus saith the Lord, Ye shall not see wind, neither shall ye see rain; yet that valley shall be filled with water, that ye may drink, both ye, and your cattle, and your beasts. And this is but a light thing in the sight of the Lord.





سبق کی آڈیو کے لئے یہاں کلک کریں

یوٹیوب سے سننے کے لئے یہاں کلک کریں

████████████████████████████████████████████████████████████████████████


جوابی مطالعہ: ایوب 37باب 5، 6، 8، 9،16، 17، 23 آیات


5۔خدا عجیب طور پر اپنی آواز سے گرجتا ہے۔ وہ بڑے بڑے کام کرتا ہے جن کو ہم سمجھ نہیں سکتے۔

6۔کیونکہ وہ برف کو فرماتا ہے کہ تو زمین پر گر۔ اِسی طرح وہ بارش سے اور موسلادھار مینہ سے کہتا ہے۔

8۔ تب درِندے غاروں میں گھس جاتے اور اپنی اپنی ماند میں پڑے رہتے ہیں۔

9۔ آندھی جنوب کی کوٹھری سے اور سردی شمال سے آتی ہے۔

16۔ کیا تو بادلوں کے مُوازنہ سے واقف ہے؟ یہ اُسی کے حیرت انگیز کام ہیں جو علم میں کامل ہے۔

17۔ جب زمین پر جنوبی ہوا کی وجہ سے سناٹا ہوتا ہے تو تیرے کپڑے کیوں گرم ہوجاتے ہیں؟

23۔ ہم قادِرمطلق کو پا نہیں سکتے۔ وہ قُدرت اور عدل میں شاندار ہے اور اِنصاف کی فراوانی میں ظلم نہ کریگا۔

Responsive Reading: Job 37 : 5, 6, 8, 9, 16, 17, 23

5.     God thundereth marvellously with his voice; great things doeth he, which we cannot comprehend.

6.     For he saith to the snow, Be thou on the earth; likewise to the small rain, and to the great rain of his strength.

8.     Then the beasts go into dens, and remain in their places.

9     Out of the south cometh the whirlwind: and cold out of the north.

16.     Dost thou know the balancings of the clouds, the wondrous works of him which is perfect in knowledge?

17.     How thy garments are warm, when he quieteth the earth by the south wind?

23.     Touching the Almighty, we cannot find him out: he is excellent in power, and in judgment, and in plenty of justice: he will not afflict.



درسی وعظ



بائبل


درسی وعظ

بائبل

1۔ زبور 19: 1تا6آیات

1۔ آسمان خدا کا جلال ظاہر کرتا ہے اور فضا اس کی دستکاری دکھاتی ہے۔

2۔ دن سے دِن بات کرتا ہے اور رات کو رات حکمت سکھاتی ہے۔

3۔ نہ بولنا ہے نہ کلام۔ نہ اُن کی آواز سنائی دیتی ہے۔

4۔ ان کا سر ساری زمین پر اور اُن کا کلام دنیا کی انتہا تک پہنچا ہے۔ اس نے آفتاب کے لئے ان میں خیمہ لگایا ہے

5۔ جو دلہے کی مانند اپنے خلوت خانہ سے نکلتا ہے اور پہلوان کی طرح اپنی دوڑ میں دوڑنے کو خوش ہے۔

6۔ وہ آسمان کی انتہا سے نکلتا ہے اور اس کی گشت اس کے کناروں تک ہوتی ہے اور اس کی حرارت سے کوئی چیز بے بہر نہیں۔

1. Psalm 19 : 1-6

1     The heavens declare the glory of God; and the firmament sheweth his handywork.

2     Day unto day uttereth speech, and night unto night sheweth knowledge.

3     There is no speech nor language, where their voice is not heard.

4     Their line is gone out through all the earth, and their words to the end of the world. In them hath he set a tabernacle for the sun,

5     Which is as a bridegroom coming out of his chamber, and rejoiceth as a strong man to run a race.

6     His going forth is from the end of the heaven, and his circuit unto the ends of it: and there is nothing hid from the heat thereof.

2۔ 1سلاطین 18 باب 1تا3، (تا۔)، 5، 41تا45 (تا پہلا۔)، 46 (تا؛) آیات

1۔ اور بہت دنوں کے بعد ایسا ہوا کہ خداوند کا یہ کلام تیسرے سال ایلیاہ پر نازل ہوا کہ جا کر اخی اب سے مل اور مَیں زمین پر مینہ برساونگا۔

2۔ سو ایلیاہ اخی اب سے ملنے کو چلا اور سامریہ میں سخت کال تھا۔

3۔ اور اخی اب نے عبدیاہ کو جو اُس کے گھر کا دیوان تھا طلب کیا اور عبدیاہ خداوند سے بہت ڈرتا تھا۔

5۔ سو اخی اب نے عبدیاہ سے کہا ملک میں گشت کرتا ہوا پانی کے سب چشموں اور سب نالوں پر جا شاید ہم کو کہیں گھاس مل جائے جس سے ہم گھوڑوں اور خچروں کو جیتا بچا لیں تاکہ ہمارے سب چوپائے ضائع نہ ہوں۔

41۔ پھر ایلیاہ نے اخی اب سے کہا اوپر چڑھ جا۔ کھا اور پی کیونکہ کثرت کی بارش کی آواز ہے۔

42۔ سو اخی اب کھانے پینے کو اوپر چلا گیا اور ایلیاہ کرمل کی چوٹی پر چڑھ گیا اور زمین پر سرنگون ہو کر اپنا منہ اپنے گھٹنوں کے بیچ کر لیا۔

43۔ اور اپنے خادم سے کہا ذرا اوپر جا کر سمندر کی طرف تو نظر کر۔ سو اُس نے اوپر جا کر نظر کی اور کہا وہاں کچھ بھی نہیں ہے۔ اُس نے کہا پھر سات بار جا۔

44۔ اور ساتویں مرتبہ اُس نے کہا دیکھ ایک چھوٹا سا بادل آدمی کے ہاتھ کے برابر سمندر میں سے اٹھا ہے۔ تب اُس نے کہا جا اور اخی اب سے کہہ کہ اپنا رتھ تیار کرا کے نیچے اتر جا تاکہ بارش تجھے روک نہ لے۔

45۔ اور تھوڑی ہی دیر میں آسمان گھٹا اور آندھی سے سیاہ ہو گیا اور بڑی بارش ہوئی اور اخی اب سوار ہو کر یزرعیل کو چلا۔

46۔ اور خداوند کا ہاتھ ایلیاہ پر تھا اور اُس نے اپنی کمر کس لی اور اخی اب کے آگے آگے یزرعیل کے مدخل تک دوڑا چلا گیا۔

2. I Kings 18 : 1-3 (to .), 5, 41-45 (to 1st .), 46 (to ;)

1     And it came to pass after many days, that the word of the Lord came to Elijah in the third year, saying, Go, shew thyself unto Ahab; and I will send rain upon the earth.

2     And Elijah went to shew himself unto Ahab. And there was a sore famine in Samaria.

3     And Ahab called Obadiah, which was the governor of his house.

5     And Ahab said unto Obadiah, Go into the land, unto all fountains of water, and unto all brooks: peradventure we may find grass to save the horses and mules alive, that we lose not all the beasts.

41     And Elijah said unto Ahab, Get thee up, eat and drink; for there is a sound of abundance of rain.

42     So Ahab went up to eat and to drink. And Elijah went up to the top of Carmel; and he cast himself down upon the earth, and put his face between his knees,

43     And said to his servant, Go up now, look toward the sea. And he went up, and looked, and said, There is nothing. And he said, Go again seven times.

44     And it came to pass at the seventh time, that he said, Behold, there ariseth a little cloud out of the sea, like a man’s hand. And he said, Go up, say unto Ahab, Prepare thy chariot, and get thee down, that the rain stop thee not.

45     And it came to pass in the mean while, that the heaven was black with clouds and wind, and there was a great rain.

46     And the hand of the Lord was on Elijah;

3۔ ایوب 36باب22، 24، 25، 27تا31آیات

22۔ دیکھ! خدا اپنی قدرت سے بڑے بڑے کام کرتا ہے۔کونسا استاد اُسکی مانند ہے؟

24۔ اُسکے کام کی بڑائی کرنا یاد رکھ جس کی تعریف لوگ گاتے رہے ہیں۔

25۔ سب لوگوں نے اِسکو دیکھا ہے۔ انسان اُسے دور سے دیکھتا ہے۔

27۔ کیونکہ وہ پانی کے قطروں کو اوپر کھینچتا ہے جو اُسی کے بخارات سے مینہ کی صورت میں ٹپکتے ہیں

28۔ جن کو افلاک انڈیلتے اور انسان پر کثرت سے برساتے ہیں۔

29۔ بلکہ کیا بادلوں کے پھیلاؤ اور اُسکے شامیانہ کی گرجوں کو سمجھ سکتا ہے؟

30۔ دیکھو!وہ اپنے نور کو اپنے چوگرد پھیلا تا ہے اور سمندر کی تہ کو ڈھانکتا ہے۔

31۔ کیونکہ اِن ہی سے وہ قوموں کا انصاف کرتا ہے اور خوراک افراط سے عطا فرماتا ہے۔

3. Job 36 : 22, 24, 25, 27-31

22     Behold, God exalteth by his power: who teacheth like him?

24     Remember that thou magnify his work, which men behold.

25     Every man may see it; man may behold it afar off.

27     For he maketh small the drops of water: they pour down rain according to the vapour thereof:

28     Which the clouds do drop and distil upon man abundantly.

29     Also can any understand the spreadings of the clouds, or the noise of his tabernacle?

30     Behold, he spreadeth his light upon it, and covereth the bottom of the sea.

31     For by them judgeth he the people; he giveth meat in abundance.

4۔ ایوب 37باب14 (کھڑا) آیت

14۔ ۔۔۔چپ چاپ کھڑا رہ۔ اور خداوند کے حیرت انگیز کاموں پر غور کر۔

4. Job 37 : 14 (stand)

14     …stand still, and consider the wondrous works of God.

5۔ عاموس 4باب13آیت

13۔کیونکہ دیکھ اْسی نے پہاڑوں کو بنایا اور ہوا کو پیدا کیا وہ انسان پر اْس کے خیالات کو ظاہر کرتا ہے اور صبح کو تاریک بنا دیتا ہے اور زمین کے اونچے مقامات پر چلتا ہے۔ اْس کا نام خداوند رب الافواج ہے۔

5. Amos 4 : 13

13     For, lo, he that formeth the mountains, and createth the wind, and declareth unto man what is his thought, that maketh the morning darkness, and treadeth upon the high places of the earth, The Lord, The God of hosts, is his name.

6۔ مرقس 1باب1، 9، 32تا34 (تا؛) آیات

1۔ یسوع مسیح ابن خدا کی خوشخبری کا شروع۔

9۔ اور اُن دنوں ایسا ہؤا کہ یسوع نے گلیل کے ناصرۃ سے آ کر یردن میں یوحنا سے بپتسمہ لیا۔

32۔شام کو جب سورج ڈوب گیا تو لوگ سب بیماروں کو اور اْن کو جن میں بدروحیں تھیں اْس کے پاس لائے۔

33۔ اور سارا شہر دروازہ پر جمع ہوگیا۔

34۔ اور اُس نے بہتوں کو جو طرح طرح کی بیماریوں میں گرفتار تھے اچھا کیا اور بہت سی بدروحوں کو نکالا۔

6. Mark 1 : 1, 9, 32-34 (to ;)

1     The beginning of the gospel of Jesus Christ, the Son of God;

9     And it came to pass in those days, that Jesus came from Nazareth of Galilee, and was baptized of John in Jordan.

32     And at even, when the sun did set, they brought unto him all that were diseased, and them that were possessed with devils.

33     And all the city was gathered together at the door.

34     And he healed many that were sick of divers diseases, and cast out many devils;

7۔ مرقس 4باب1، 35تا41آیات

1۔ وہ پھر جھیل کے کنار ے تعلیم دینے لگا اور اْس کے پاس ایسی بڑی بھیڑ جمع ہوگئی کہ وہ جھیل میں ایک کشتی میں جا بیٹھا اور ساری بھیڑ خشکی پر جھیل کے کنارے رہی۔

35۔اْسی دن جب شام ہوئی تو اْس نے اْس سے کہا آؤ پار چلیں۔

36۔اور وہ بھیڑ کو چھوڑ کر اْسے جس حال میں وہ تھا کشتی پر ساتھ لے چلے اور اْس کے ساتھ اور کشتیاں بھی تھیں۔

37۔تب بڑی آندھی چلی اور لہریں کشتی پر یہاں تک آئیں کہ کشتی پانی سے بھری جاتی تھی۔

38۔اور وہ خود پیچھے کی طرف گدی پر سو رہا تھا۔ پس اْنہوں نے اْسے جگا کر کہا اے استاد کیا تجھے فکر نہیں کہ ہم ہلاک ہوئے جاتے ہیں؟

39۔ اُس نے اٹھ کر ہوا کوڈانٹا اورپانی سے کہا ساکت ہو۔ تھم جا! پس ہوا بند ہوگئی اوربڑا امن ہوگیا۔

40۔ پھر اُن سے کہا تم کیوں ڈرتے ہو؟ اب تک ایمان نہیں رکھتے؟

41۔ اور وہ نہایت ڈرگئے اورآپس میں کہنے لگے یہ کون ہے کہ ہوا اورپانی بھی اِس کا حکم مانتے ہیں؟

7. Mark 4 : 1, 35-41

1     And he began again to teach by the sea side: and there was gathered unto him a great multitude, so that he entered into a ship, and sat in the sea; and the whole multitude was by the sea on the land.

35     And the same day, when the even was come, he saith unto them, Let us pass over unto the other side.

36     And when they had sent away the multitude, they took him even as he was in the ship. And there were also with him other little ships.

37     And there arose a great storm of wind, and the waves beat into the ship, so that it was now full.

38     And he was in the hinder part of the ship, asleep on a pillow: and they awake him, and say unto him, Master, carest thou not that we perish?

39     And he arose, and rebuked the wind, and said unto the sea, Peace, be still. And the wind ceased, and there was a great calm.

40     And he said unto them, Why are ye so fearful? how is it that ye have no faith?

41     And they feared exceedingly, and said one to another, What manner of man is this, that even the wind and the sea obey him?

8۔ زبور 46: 1تا3(تا پہلا)، 4تا7 (تا پہلا)، 10 آیات

1۔ خدا ہماری پناہ اور قوت ہے۔ مصیبت میں مستعد مدد گار۔

2۔ اس لئے ہم کو کچھ خوف نہیں خواہ زمین اُلٹ جائے۔اور پہاڑسمندر کی تہ میں ڈال دئے جائیں۔

3۔ خواہ اُس کا پانی شور مچائے اورموجزن ہو اورپہاڑ اُسکی طغیانی سے ہل جائیں۔

4۔ ایک ایسا دریا ہے جس کی شاخو ں سے خد ا کے شہر کو یعنی حق تعا لی کے مقد س مسکن کو فرحت ہو تی ہے۔

5۔ خدا اُس میں ہے۔ اُسے کبھی جبنش نہ ہو گی۔ خدا صبح سویرے اُس کی کمک کر ے گا۔

6۔ قو میں جھنجلا ئیں۔سلطنتوں نے جنبش کھائی۔وہ بو ل اٹھا۔ زمین پگھل گئی۔

7۔ لشکروں کا خداوند ہمارے ساتھ ہے۔ یعقوب کا خدا ہماری پناہ ہے۔

10۔ خاموش ہو جاؤ اور جان لو کہ میں خدا ہوں۔ میں قوموں کے درمیان سر بلند ہوں گا۔

8. Psalm 46 : 1-3 (to 1st .), 4-7 (to 1st .), 10

1     God is our refuge and strength, a very present help in trouble.

2     Therefore will not we fear, though the earth be removed, and though the mountains be carried into the midst of the sea;

3     Though the waters thereof roar and be troubled, though the mountains shake with the swelling thereof.

4     There is a river, the streams whereof shall make glad the city of God, the holy place of the tabernacles of the most High.

5     God is in the midst of her; she shall not be moved: God shall help her, and that right early.

6     The heathen raged, the kingdoms were moved: he uttered his voice, the earth melted.

7     The Lord of hosts is with us; the God of Jacob is our refuge.

10     Be still, and know that I am God: I will be exalted among the heathen, I will be exalted in the earth.



سائنس اور صح


1۔ 171: 12۔16

کائنات، بشمول انسان پر عقل کی حکمرانی ایک کھلا سوال نہیں رہا بلکہ یہ قابل اثبات سائنس ہے۔ یسوع نے بیماری اور گناہ سے شفا دیتے ہوئے اور موت کی بنیاد کو تباہ کرتے ہوئے الٰہی اصول اور لافانی عقل کی طاقت کو بیان کیا۔

1. 171 : 12-16

Mind's control over the universe, including man, is no longer an open question, but is demonstrable Science. Jesus illustrated the divine Principle and the power of immortal Mind by healing sickness and sin and destroying the foundations of death. 

2۔ 511: 5۔6، 23۔3

الٰہی عقل روحانی مخلوق کی بلندی، عظمت اور لامحدودیت کی حمایت کرتی ہے۔

فانی عقل کے لئے کائنات مائع، ٹھوس اور علم رکھنے والی ہے۔ روحانی تشریح کرتے ہوئے،پتھر اور پہاڑ ٹھوس اور بڑے خیالات کے طور پر پیش کئے جاتے ہیں۔ ذہانت کے پیمانے میں اْبھرتے ہوئے، مذکر، مونث یا بے لاگ جنس کی شکل لیتے ہوئے، جانور اور بشر استعاراً فانی خیال کے معیار کو پیش کرتے ہیں۔ وہ پرندے جو زمین سے اوپر فلک میں اڑتے ہیں،الٰہی اصول، محبت اور غیر مادی کے فہم کے لئے مادیت سے آگے اور بلند پرواز کرتے ہوئے کھلی ہوا سے تعلق رکھتے ہیں۔

2. 511 : 5-6, 23-3

The divine Mind supports the sublimity, magnitude, and infinitude of spiritual creation.

To mortal mind, the universe is liquid, solid, and aëriform. Spiritually interpreted, rocks and mountains stand for solid and grand ideas. Animals and mortals metaphorically present the gradation of mortal thought, rising in the scale of intelligence, taking form in masculine, feminine, or neuter gender. The fowls, which fly above the earth in the open firmament of heaven, correspond to aspirations soaring beyond and above corporeality to the understanding of the incorporeal and divine Principle, Love.

3۔ 585: 16۔19

افراتؔ (دریا)۔ الٰہی سائنس کائنات اور انسان، جو خدا کا حقیقی خیال ہے؛کا احاطہ کرنے والا، آنے والے جلال کی ایک قسم، طبیعات کی جگہ لینے والی مابعد الطبیعات؛ راستباز ی کی سلطنت۔

3. 585 : 16-19

Euphrates (river). Divine Science encompassing the universe and man; the true idea of God; a type of the glory which is to come; metaphysics taking the place of physics; the reign of righteousness.

4۔ 597: 27۔29

ہوا۔ وہ جو سب چیزوں کا احاطہ کرتے ہوئے، قادر مطلق کی قدرت اور خدا کی روحانی حکمرانی کی تحریکو ں کی طرف اشارہ کرتی ہے۔

4. 597 : 27-29

Wind. That which indicates the might of omnipotence and the movements of God's spiritual government, encompassing all things.

5۔ 512۔ 20۔25

روح اس کے اپنے پاک اور کامل خیالات کے بڑھنے کو برکت دیتی ہے۔ ایک عقل کے لامحدود عناصر سے رنگ، معیار اور تعداد کی تمام تر اشکال ظاہر ہوتی ہیں اور یہ بنیادی اور ثانوی دونوں لحاظ سے ذہنی ہیں۔ اْن کی روحانی فطرت محض روحانی حواس سے ہی سمجھی جاتی ہے۔

5. 512 : 20-25

Spirit blesses the multiplication of its own pure and perfect ideas. From the infinite elements of the one Mind emanate all form, color, quality, and quantity, and these are mental, both primarily and secondarily. Their spiritual nature is discerned only through the spiritual senses.

6۔ 240: 1۔11

فطرت فطری، روحانی قانون اور الٰہی محبت سنائی دیتی ہے، لیکن انسانی عقیدہ فطرت کی غلط تشریح کرتا ہے۔ سرد علاقے، سورج والے گرم ترین علاقے، بلند پہاڑیاں، اونچی ہوائیں، مضبوط بہاؤ، سر سبز گھاٹیاں، موسمی پھول، جلالی آسمان، سب عقل کی جانب اشارہ کرتے ہیں یعنی اْس روحانی ذہانت کی طرف جسے وہ منعکس کرتے ہیں۔ پھولوں جیسے رسول الوہیت کی تصویری تحریر ہیں۔شمس اور سیارے بڑے اسباق کی تعلیم دیتے ہیں۔ ستارے رات کو خوبصورت بناتے ہیں اور چھوٹی پتی قدرتی طور پر روشنی کی طرف مڑ جاتی ہے۔

سائنس کی ترتیب میں، جس میں اصول اس سے بڑا ہے جو یہ منعکس کرتا ہے، سب کچھ ایک عظیم مخالفت ہے۔

6. 240 : 1-11

Nature voices natural, spiritual law and divine Love, but human belief misinterprets nature. Arctic regions, sunny tropics, giant hills, winged winds, mighty billows, verdant vales, festive flowers, and glorious heavens, — all point to Mind, the spiritual intelligence they reflect. The floral apostles are hieroglyphs of Deity. Suns and planets teach grand lessons. The stars make night beautiful, and the leaflet turns naturally towards the light.

In the order of Science, in which the Principle is above what it reflects, all is one grand concord.

7۔ 484: 13۔15

جسمانی کائنات بشر کے شعوری اور لاشعوری خیالات کو ظاہر کرتی ہے۔ جسمانی طاقت اور فانی عقل ایک ہیں۔

7. 484 : 13-15

The physical universe expresses the conscious and unconscious thoughts of mortals. Physical force and mortal mind are one.

8۔ 192: 11۔21

سر گرداں طاقت مادی یقین ہے، اندھی قوت کا دیا ہوا غلط نام، حکمت کی بجائے مرضی، لافانی کی بجائے فانی عقل کی پیداوارہے۔ یہ سر ِ اول موتیا ہے، بھسم کرنے والی آگ کا شعلہ ہے، طوفان کی سانس ہے۔ یہ گرج چمک اور طوفان ہے، یہ وہ سب ہے جو خودغرضی، بدکاری، بے ایمانی اور ناپاکی ہے۔

اخلاقی اور روحانی طاقت روح سے تعلق رکھتے ہیں، جو ”اپنے جھٹکوں میں ہوا“ دبا کے رکھتا ہے، اور یہ تعلیم سائنس اور ہم آہنگی سے مطابقت رکھتی ہے۔ سائنس میں، آپ خدا کے خلاف کوئی قوت نہیں رکھ سکتے، اور جسمانی حواس کو اپنی جھوٹی گواہی کو ترک کرنا ہوتا ہے۔

8. 192 : 11-21

Erring power is a material belief, a blind miscalled force, the offspring of will and not of wisdom, of the mortal mind and not of the immortal. It is the headlong cataract, the devouring flame, the tempest's breath. It is lightning and hurricane, all that is selfish, wicked, dishonest, and impure.

Moral and spiritual might belong to Spirit, who holds the "wind in His fists;" and this teaching accords with Science and harmony. In Science, you can have no power opposed to God, and the physical senses must give up their false testimony.

9۔ 293: 13۔31

نام نہاد گیسیں اور قوتیں الٰہی عقل کی روحانی قوتوں کے مخالف ہیں، جس کی توانائی سچائی ہے، جس کی دلکشی محبت ہے، ہستی کے ابدی حقائق کو مسلسل جاری رکھتے ہوئے جس کی پیروی اور ملاپ زندگی ہے۔ بجلی مادیت کی اضافی مقدار ہے جو روحانیت یا سچائی کے حقیقی جوہر کی مخالفت کرتی ہے، جو اس کا بڑا امتیاز ہے کہ بجلی ذہانت نہیں ہے، جبکہ روحانی سچائی عقل ہے۔

یہاں فانی عقل کا خشک غضب نہیں ہے جس کا اظہار زلزلے، آندھی، لہروں، گرج چمک، آگ، بیہمانہ درندگی میں ہوتا ہے، اور یہ نام نہاد عقل خود شکستہ ہوتی ہے۔بدی کے اظہار، جو الٰہی عدل کے مخالف ہیں، کو کلام میں ”خداوند کا غضب“ کہا گیا ہے۔ حقیقت میں، یہ مادے یا غلطی کی خود شکستگی دکھاتے یا مادے کے مخالف کی طرف اشارہ کرتے ہیں، جو روح کی طاقت اور استقلال ہے۔ کرسچن سائنس سچائی اور اِس کی عظمت، عالمگیر ہم آہنگی، خدا، یعنی اچھائی، کی کْلیت اور بدی کے عدم کو روشنی میں لاتی ہے۔

9. 293 : 13-31

The material so-called gases and forces are counterfeits of the spiritual forces of divine Mind, whose potency is Truth, whose attraction is Love, whose adhesion and cohesion are Life, perpetuating the eternal facts of being. Electricity is the sharp surplus of materiality which counterfeits the true essence of spirituality or truth, — the great difference being that electricity is not intelligent, while spiritual truth is Mind.

There is no vapid fury of mortal mind — expressed in earthquake, wind, wave, lightning, fire, bestial ferocity — and this so-called mind is self-destroyed. The manifestations of evil, which counterfeit divine justice, are called in the Scriptures, "The anger of the Lord." In reality, they show the self-destruction of error or matter and point to matter's opposite, the strength and permanency of Spirit. Christian Science brings to light Truth and its supremacy, universal harmony, the entireness of God, good, and the nothingness of evil.

10۔ 124:3۔6، 14۔31

جسمانی سائنس (نام نہاد) انسانی علم ہے، فانی عقل کا قانون، ایک اندھا یقین، اپنی طاقت کے بغیر ایک سیمسون ہے۔ جب اس انسانی یقین کو اس کی حمایت کے لئے تنظیموں کی کمی ہوتی ہے، تو اس کی بنیادیں بڑھ جاتیں ہیں۔

کائنات کو، انسان کی مانند، اس کے الٰہی اصول، خدا، کی طرف سے سائنس کے ذریعے واضح کیا جانا چاہئے، تو پھر اسے سمجھا جا سکتا ہے، لیکن جب اسے جسمانی حواس کی بنیاد پر واضح کیا جاتا ہے اور نشوونما، بلوغت اور زوال کے ماتحت ہوتے ہوئے پیش کیا جاتا ہے،تو کائنات، انسان کی مانند، ایک معمہ بن جاتا ہے اوریہ جاری رکھنا چاہئے۔

پیروی، ملاپ اور دلکشی عقل کی ملکیتیں ہیں۔یہ الٰہی اصول سے تعلق رکھتے ہیں، اور یہ خیالی قوت کی تعدیل کی حمایت کرتے ہیں، جس نے زمین کو اس کے مدار میں چھوڑا اور متکبر لہروں سے کہا، ”یہاں تک پر آگے نہیں۔“

روح تمام چیزوں کی زندگی، مواد اور تواتر ہے۔ ہم قوتوں کے نقش قدم پر چلتے ہیں۔ انہیں چھوڑ دیں تو مخلوق نیست ہو جائے گی۔ انسانی علم انہیں مادے کی قوتیں کہتا ہے،لیکن الٰہی سائنس یہ واضح کرتی ہے کہ وہ مکمل طور پر الٰہی عقل کے ساتھ تعلق رکھتی ہیں اور اس عقل میں میراث رکھتی ہیں، اور یوں انہیں اْن کے جائز گھر اور درجہ بندی میں بحال کرتی ہے۔

10. 124 : 3-6, 14-31

Physical science (so-called) is human knowledge, — a law of mortal mind, a blind belief, a Samson shorn of his strength. When this human belief lacks organizations to support it, its foundations are gone.

The universe, like man, is to be interpreted by Science from its divine Principle, God, and then it can be understood; but when explained on the basis of physical sense and represented as subject to growth, maturity, and decay, the universe, like man, is, and must continue to be, an enigma.

Adhesion, cohesion, and attraction are properties of Mind. They belong to divine Principle, and support the equipoise of that thought-force, which launched the earth in its orbit and said to the proud wave, "Thus far and no farther."

Spirit is the life, substance, and continuity of all things. We tread on forces. Withdraw them, and creation must collapse. Human knowledge calls them forces of matter; but divine Science declares that they belong wholly to divine Mind, are inherent in this Mind, and so restores them to their rightful home and classification.

11۔ 125: 21۔30

وقت اور لہر، سردی اور گرمی، طول بلد اور ارض بلد کے بدلنے سے موسم آتے جاتے رہیں گے۔ زرعی ماہر یہ جان جائے گاکہ یہ تبدیلیاں اْس کی فصل پر اثر انداز نہیں ہو سکتیں۔ ”تْو اْن کو لباس کی مانند بدل لے گا اور وہ بدل جائیں گے۔“سمندری مسافر ماحول پر، بڑے گہرے سمندر پر، سمندر کی مچھلیوں اور ہوا کے پرندوں پر اختیار رکھے گا۔ ماہر فلکیات مزید ستاروں کو نہیں دیکھے گا، وہ کائنات میں ان سے ہوشیار رہے گا، اور گْل فروش اسکے بیج نکلنے سے پہلے پھول کو پا لے گا۔

11. 125 : 21-30

The seasons will come and go with changes of time and tide, cold and heat, latitude and longitude. The agriculturist will find that these changes cannot affect his crops. "As a vesture shalt Thou change them and they shall be changed." The mariner will have dominion over the atmosphere and the great deep, over the fish of the sea and the fowls of the air. The astronomer will no longer look up to the stars, — he will look out from them upon the universe; and the florist will find his flower before its seed.

12۔ 503: 10۔15

سچائی کی کائنات میں مادا گمنام ہے۔ غلطی کا کوئی مفروضہ وہاں داخل نہیں ہوتا۔ غلطی کی تاریکی سے الٰہی سائنس، یعنی خدا کا کلام کہتا ہے کہ، ”خدا حاکم کْل“ ہے، اور ازل سے موجود محبت کی روشنی کائنات کو روشن کرتی ہے۔

12. 503 : 10-15

In the universe of Truth, matter is unknown. No supposition of error enters there. Divine Science, the Word of God, saith to the darkness upon the face of error, "God is All-in-all," and the light of ever-present Love illumines the universe.


روز مرہ کے فرائ

منجاب میری بیکر ایڈ

روز مرہ کی دعا

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ ہر روز یہ دعا کرے: ’’تیری بادشاہی آئے؛‘‘ الٰہی حق، زندگی اور محبت کی سلطنت مجھ میں قائم ہو، اور سب گناہ مجھ سے خارج ہو جائیں؛ اور تیرا کلام سب انسانوں کی محبت کو وافر کرے، اور اْن پر حکومت کرے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 4۔

مقاصد اور اعمال کا ایک اصول

نہ کوئی مخالفت نہ ہی کوئی محض ذاتی وابستگی مادری چرچ کے کسی رکن کے مقاصد یا اعمال پر اثر انداز نہیں ہونی چاہئے۔ سائنس میں، صرف الٰہی محبت حکومت کرتی ہے، اور ایک مسیحی سائنسدان گناہ کو رد کرنے سے، حقیقی بھائی چارے ، خیرات پسندی اور معافی سے محبت کی شیریں آسائشوں کی عکاسی کرتا ہے۔ اس چرچ کے تمام اراکین کو سب گناہوں سے، غلط قسم کی پیشن گوئیوں،منصفیوں، مذمتوں، اصلاحوں، غلط تاثر ات کو لینے اور غلط متاثر ہونے سے آزاد رہنے کے لئے روزانہ خیال رکھنا چاہئے اور دعا کرنی چاہئے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 1۔

فرض کے لئے چوکس

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ وہ ہر روز جارحانہ ذہنی آراء کے خلاف خود کو تیار رکھے، اور خدا اور اپنے قائد اور انسانوں کے لئے اپنے فرائض کو نہ کبھی بھولے اور نہ کبھی نظر انداز کرے۔ اس کے کاموں کے باعث اس کا انصاف ہوگا، وہ بے قصور یا قصوارہوگا۔ 

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 6۔


████████████████████████████████████████████████████████████████████████