اتوار 23 فروری، 2020 |

اتوار 23 فروری، 2020 



مضمون۔ عقل

SubjectMind

سنہری متن:سنہری متن: زبور 94:10 آیت

’’وہ جو قوموں کو تنبیہ کرتا اور انسان کو دانش سکھاتا ہے۔‘‘



Golden Text: Psalm 94 : 10

“He that teacheth man knowledge, shall not he know.”





سبق کی آڈیو کے لئے یہاں کلک کریں

یوٹیوب سے سننے کے لئے یہاں کلک کریں

████████████████████████████████████████████████████████████████████████


جوابی مطالعہ: خروج 20باب2تا4 آیات • امثال 2باب6تا8 آیات


2۔ خداوند تیرا خدا جو تجھے ملک مصر سے اور غلامی کے گھر سے نکال لایا مَیں ہوں۔

3۔ میرے حضور تْو غیر معبودوں کو نہ ماننا۔

4۔ تْو اپنے لئے کوئی تراشی ہوئی مورت نہ بنایا۔ نہ کسی چیز کی صورت بنانا جو اوپر آسمان میں یا نیچے زمین پر یا زمین کے نیچے پانی میں ہے۔

6۔ کیونکہ خداوند حکمت بخشتا ہے۔ علم و فہم اْسی کے منہ سے نکلتے ہیں۔

7۔ وہ راستبازوں کے لئے مدد تیار رکھتا ہے اور راست رو کے لئے سِپر ہے۔

8۔ تاکہ وہ عدل کی راہوں کی نگہبانی کرے اور اپنے مقدسوں کی راہ کو محفوظ رکھے۔

Responsive Reading: Exodus 20 : 2-4 • Proverbs 2 : 6-8

2.     I am the Lord thy God, which have brought thee out of the land of Egypt, out of the house of bondage.

3.     Thou shalt have no other gods before me.

4.     Thou shalt not make unto thee any graven image, or any likeness of any thing that is in heaven above, or that is in the earth beneath, or that is in the water under the earth.

6.     For the Lord giveth wisdom: out of his mouth cometh knowledge and understanding.

7.     He layeth up sound wisdom for the righteous: he is a buckler to them that walk uprightly.

8.     He keepeth the paths of judgment, and preserveth the way of his saints.



درسی وعظ



بائبل


درسی وعظ

بائبل

1۔ ملاکی 4باب2 (پر)تا4 آیات

2۔۔۔۔ تم پر جو میرے نام کی تعظیم کرتے ہو آفتاب صداقت طالع ہوگا اور اْس کی کرنوں میں شفا ہوگی اور تم گاؤ خانہ کے بچھڑوں کی طرح کودو پھاندو گے۔

3۔ اور تم شریروں کو پامال کرو گے کیونکہ اْس روز وہ تمہارے پاؤں تلے کی راکھ ہوں گے رب الافواج فرماتاہے۔

4۔تم میرے بندہ موسیٰ کی شریعت یعنی اْن فرائض و احکام کو جو میں نے حوریب میں تمام بنی اسرائیل کے لئے فرمائے یاد رکھو۔

1. Malachi 4 : 2 (unto)-4

2     unto you that fear my name shall the Sun of righteousness arise with healing in his wings; and ye shall go forth, and grow up as calves of the stall.

3     And ye shall tread down the wicked; for they shall be ashes under the soles of your feet in the day that I shall do this, saith the Lord of hosts.

4     Remember ye the law of Moses my servant, which I commanded unto him in Horeb for all Israel, with the statutes and judgments.

2۔ 1سیموئیل 30باب1تا6، 8تا10 (تا:)، 11، 15 (تا؟)، 16 (تا پانچواں)، 17 (تا:)، 18، 19 آیات

1۔ اور ایسا ہوا کہ جب داؤد اور اُسکے لوگ تیسرے دن صقلاج میں پہنچے تو دیکھا کہ عمالیقیوں نے جنوبی حصہ اور صِقلاج پر چڑھائی کرکے صِقلاج کو مارا اور آگ سے پھونک دیا۔

2۔ اور عورتوں کو اور جتنے چھوٹے بڑے وہاں تھے سب کو اسیر کر لیا ہے۔ اُنہوں نے کسی کو قتل نہیں کیا بلکہ اُن کو لیکر چل دئے تھے۔

3۔ سو جب داؤد اور اُسکے لوگ شہر میں پہنچے تو دیکھا کہ شہر آگ سے جلا پڑا ہے اور اُن کی بیویاں اور بیٹے اور بیٹیاں اسیر ہوگئی ہیں۔

4۔ تب داؤد اور اُس کے ساتھ کے لوگ چلا چلا کر رونے لگے یہاں تک کہ اُن میں رونے کی طاقت نہ رہی۔

5۔ اور داؤد کی دونوں بیویاں یزرعیلی اجینوعم اور کرملی نابال کی بیوی ابیجیل اسیر ہوگئی تھیں۔

6۔ اور داؤد بڑے شکنجہ میں تھا کیونکہ لوگ اُسے سنگسار کرنے کو کہتے تھے اِس لئے کہ لوگوں کے دل اپنے بیٹوں اور بیٹیوں کے لئے نہایت ٹمگین تھے پر داؤد نے خداوند اپنے خدا میں اپنے آپ کو مضبوط کیا۔

8۔ اور داؤد نے خداوند سے پوچھا کہ اگر میں اُس فوج کا پیچھا کروں تو کیا میں ان کو جالونگا؟ اُس نے اُس سے کہا کہ پیچھا کر کیونکہ تو یقیناً اُنکو جالے گا اور ضرور سب کچھ چھڑالائے گا۔

9۔ سو داؤد اور وہ چھ سو آدمی جو اُس کے ساتھ تھے چلے اور بسور کی ندی پر پہنچے جہاں وہ لوگ جو پیچھے چھوٹ گئے ٹھہرے رہے۔

10۔ پر داؤد اور چار سو آدمی پیچھا کئے چلے گئے۔

11۔ اور اُن کو میدان میں ایک مصری مل گیا۔ اُسے وہ داؤد کے پاس لے آئے اور اُسے روٹی دی۔ سو اُس نے کھائی اور اُسے پینے کو پانی دیا۔

15۔ داؤد نے اُس سے کہا کیا تو مجھے اُس فوج تک پہنچادیگا؟

16۔ جب اُس نے اُسے وہاں پہنچا دیا تو دیکھا کہ وہ لوگ اُس ساری زمین پر پھیلے ہوئے تھے اورکھاتے پیتے اور ضیافتیں اُڑا رہے تھے۔

17۔ سو داؤد رات کے پہلے پہر سے لیکر دوسرے دن کی شام تک اُن کو مارتا رہا۔

18۔ اور داؤد نے سب کچھ عمالیقی لے گئے تھے چھڑالیا اور اپنی دونوں بیویوں کو بھی داؤد نے چھڑا یا۔

19۔ اور اُن کی کو ئی چیز گم نہ ہوئی نہ چھوٹی نہ بڑی نہ لڑکے نہ لڑکیاں نہ لوٹ کا مال نہ اور کوئی چیز جو اُنہوں نے لی تھی۔ داؤد سب کا سب لوٹا لایا۔

2. I Samuel 30 : 1-6, 8-10 (to :), 11, 15 (to ?), 16 (to 5th ,), 17 (to :), 18, 19

1     And it came to pass, when David and his men were come to Ziklag on the third day, that the Amalekites had invaded the south, and Ziklag, and smitten Ziklag, and burned it with fire;

2     And had taken the women captives, that were therein: they slew not any, either great or small, but carried them away, and went on their way.

3     So David and his men came to the city, and, behold, it was burned with fire; and their wives, and their sons, and their daughters, were taken captives.

4     Then David and the people that were with him lifted up their voice and wept, until they had no more power to weep.

5     And David’s two wives were taken captives, Ahinoam the Jezreelitess, and Abigail the wife of Nabal the Carmelite.

6     And David was greatly distressed; for the people spake of stoning him, because the soul of all the people was grieved, every man for his sons and for his daughters: but David encouraged himself in the Lord his God.

8     And David inquired at the Lord, saying, Shall I pursue after this troop? shall I overtake them? And he answered him, Pursue: for thou shalt surely overtake them, and without fail recover all.

9     So David went, he and the six hundred men that were with him, and came to the brook Besor, where those that were left behind stayed.

10     But David pursued, he and four hundred men:

11     And they found an Egyptian in the field, and brought him to David, and gave him bread, and he did eat; and they made him drink water;

15     And David said to him, Canst thou bring me down to this company?

16     And when he had brought him down, behold, they were spread abroad upon all the earth, eating and drinking, and dancing,

17     And David smote them from the twilight even unto the evening of the next day:

18     And David recovered all that the Amalekites had carried away: and David rescued his two wives.

19     And there was nothing lacking to them, neither small nor great, neither sons nor daughters, neither spoil, nor any thing that they had taken to them: David recovered all.

3۔ لوقا 4باب14 (تا:)، 40 آیات

14۔ پھر یسوع روح کی قوت سے بھرا ہوا گلیل کو لوٹا۔

40۔ اور سورج کے ڈوبتے وقت وہ سب لوگ جن کے ہاں طرح طرح کی بیماریوں کے مریض تھے اْنہیں اْس کے پاس لائے اور اْس نے اْن میں سے ہر ایک پر ہاتھ رکھ کر اْنہیں اچھا کیا۔

3. Luke 4 : 14 (to :), 40

14     And Jesus returned in the power of the Spirit into Galilee:

40     Now when the sun was setting, all they that had any sick with divers diseases brought them unto him; and he laid his hands on every one of them, and healed them.

4۔ لوقا 12باب22تا24، 27 تا31 آیات

22۔ پھر اْس نے اپنے شاگردوں سے کہا اِس لئے میں تم سے کہتا ہوں کہ اپنی جان کی فکر نہ کرو کہ ہم کیا کھائیں گے اور نہ اپنے بدن کی کہ کیا پہنیں گے۔

23۔ کیونکہ جان خوراک سے بڑھ کر ہے اور بدن پوشاک سے۔

24۔ کووّں پر غور کرو کہ نہ بوتے ہیں نہ کاٹتے ہیں نہ اْن کا کھَتا ہوتا ہے نہ کوٹھی تو بھی خدا اْنہیں کھلاتا ہے۔ تمہاری قدر تو پرندوں سے کہیں زیادہ ہے۔

27۔ سوسن کے درختوں پر غور کرو کہ کس طرح بڑھتے ہیں۔ وہ نہ محنت کرتے ہیں نہ کاتتے ہیں تو بھی مَیں تم سے کہتا ہوں کہ سلیمان بھی باوجود اپنی ساری شان و شوکت کے اْن میں سے کسی کی مانند ملبس نہ تھا۔

28۔ پس جب خدا میدان کی گھاس کو جو آج ہے اور کل تنور میں جھونکی جائے گی ایسی پوشاک پہناتا ہے تو اے کم اعتقادو! تم کو کیوں نہ پہنائے گا؟

29۔ اور تم اِس کی تلاش میں نہ رہو کہ کیا کھائیں گے کیا پہنیں گے اور نہ شکی بنو۔

30۔ کیونکہ اِن سب چیزوں کی تلاش میں دنیا کی قومیں رہتی ہیں لیکن تمہارا باپ جانتا ہے کہ تم اِن چیزوں کے محتاج ہو۔

31۔ ہاں اْس کی بادشاہی کی تلاش میں رہو تو یہ چیزیں بھی تمہیں مل جائیں گی۔

4. Luke 12 : 22-24, 27-31

22     And he said unto his disciples, Therefore I say unto you, Take no thought for your life, what ye shall eat; neither for the body, what ye shall put on.

23     The life is more than meat, and the body is more than raiment.

24     Consider the ravens: for they neither sow nor reap; which neither have storehouse nor barn; and God feedeth them: how much more are ye better than the fowls?

27     Consider the lilies how they grow: they toil not, they spin not; and yet I say unto you, that Solomon in all his glory was not arrayed like one of these.

28     If then God so clothe the grass, which is to day in the field, and to morrow is cast into the oven; how much more will he clothe you, O ye of little faith?

29     And seek not ye what ye shall eat, or what ye shall drink, neither be ye of doubtful mind.

30     For all these things do the nations of the world seek after: and your Father knoweth that ye have need of these things.

31     But rather seek ye the kingdom of God; and all these things shall be added unto you.

5۔ یوحنا 5باب19، 20، 30 آیات

19۔ پس یسوع نے اْن سے کہا مَیں تم سے سچ کہتا ہوں کہ بیٹا آپ سے کچھ نہیں کر سکتا سوائے اْس کے جو باپ کو کرتے دیکھتا ہے کیونکہ جِن کاموں کو وہ کرتا ہے انہیں بیٹا بھی اْسی طرح کرتا ہے۔

20۔ اِس لئے کہ باپ بیٹے کو عزیز رکھتا ہے اور جتنے کام خود کرتا ہے اْسے دکھاتا ہے بلکہ اِن سے بھی بڑے کام اْسے دکھائے گا تاکہ تم تعجب کرو۔

30۔ مَیں اپنے آپ سے کچھ نہیں کر سکتا۔ جیسا سنتا ہوں عدالت کرتا ہوں اور میری عدالت راست ہے کیونکہ مَیں اپنی مرضی نہیں اپنے بھیجنے والے کی مرضی چاہتا ہوں۔

5. John 5 : 19, 20, 30

19     Then answered Jesus and said unto them, Verily, verily, I say unto you, The Son can do nothing of himself, but what he seeth the Father do: for what things soever he doeth, these also doeth the Son likewise.

20     For the Father loveth the Son, and sheweth him all things that himself doeth: and he will shew him greater works than these, that ye may marvel.

30     I can of mine own self do nothing: as I hear, I judge: and my judgment is just; because I seek not mine own will, but the will of the Father which hath sent me.

6۔ یوحنا 7باب14تا16 آیات

14۔ اور جب عید کے آدھے دن گزر گئے تو یسوع ہیکل میں جا کر تعلیم دینے لگا۔

15۔ پس یہودیوں نے تعجب کر کے کہا کہ اِس کو بغیر پڑھے کیونکر علم آگیا۔

16۔ یسوع نے جواب میں اْن سے کہا میری تعلیم میری نہیں بلکہ میرے بھیجنے والے کی ہے۔

6. John 7 : 14-16

14     Now about the midst of the feast Jesus went up into the temple, and taught.

15     And the Jews marvelled, saying, How knoweth this man letters, having never learned?

16     Jesus answered them, and said, My doctrine is not mine, but his that sent me.

7۔ یعقوب 3باب17 (حکمت) آیت

17۔۔۔۔جو حکمت اوپر سے آتی ہے اول تو وہ پاک ہوتی ہے۔ پھر مِلنسار، حلیم اور تربیت پذیر۔ رحم اور اچھے پھلوں سے لدی ہوئی۔ بے طرفدار اور بے ریا ہوتی ہے۔

7. James 3 : 17 (the wisdom)

17     …the wisdom that is from above is first pure, then peaceable, gentle, and easy to be intreated, full of mercy and good fruits, without partiality, and without hypocrisy.

8۔ امثال 3باب1، 5، 6 آیات

1۔ اے میرے بیٹے! میری تعلیم کو فراموش نہ کر۔ بلکہ تیرا دل میرے حکموں کو مانے۔

5۔ سارے دل سے خداوند پر توکل کر اور اپنے فہم پر تکیہ نہ کر۔

6۔ اپنی سب راہوں میں اْس کو پہچان اور وہ تیری راہنمائی کرے گا۔

8. Proverbs 3 : 1, 5, 6

1     My son, forget not my law; but let thine heart keep my commandments:

5     Trust in the Lord with all thine heart; and lean not unto thine own understanding.

6     In all thy ways acknowledge him, and he shall direct thy paths.



سائنس اور صح


1۔ 587 :5۔8

خدا۔ عظیم مَیں ہوں؛ سب جاننے والا، سب دیکھنے والا، سب عمل کرنے والا، عقل کْل، کْلی محبت، اور ابدی؛ اصول؛ جان، روح، زندگی، سچائی، محبت، سارا مواد؛ ذہانت۔

1. 587 : 5-8

God. The great I am; the all-knowing, all-seeing, all-acting, all-wise, all-loving, and eternal; Principle; Mind; Soul; Spirit; Life; Truth; Love; all substance; intelligence.

2۔ 591 :16۔20

عقل۔ واحد مَیں، یا ہم؛ واحد روح، ہستی، الٰہی اصول، اصل، زندگی، حق، محبت؛ خدائے واحد، وہ نہیں جو انسان میں ہے، بلکہ الٰہی اصول یا خدا، انسان جس کا مکمل اور کامل اظہار ہے، الوہیت، جو واضح کرتی ہے مگر واضح ہوتی نہیں۔

2. 591 : 16-20

Mind. The only I, or Us ; the only Spirit, Soul, divine Principle, substance, Life, Truth, Love; the one God; not that which is in man, but the divine Principle, or God, of whom man is the full and perfect expression; Deity, which outlines but is not outlined.

3۔ 379 :6۔8

الٰہی عقل میں مقرر کردہ ہر اثر کو قابو میں کرتے ہوئے اور ساری وجہ کو پہچانتے ہوئے،دنیا کا حقیقی اختیار عقل میں ہے۔

3. 379 : 6-8

The real jurisdiction of the world is in Mind, controlling every effect and recognizing all causation as vested in divine Mind.

4۔ 488 :23۔27

عقل اکیلی تمام لیاقتوں، شعوراور فہم کی ملکیت رکھتی ہے۔اسی لئے ذہنی صلاحتیں تنظیم سازی اور بوسیدگی کے رحم و کرم پر نہیں ہوتیں، وگرنہ اْس کے کیڑے ہی انسان کو بے روپ بنا دیں۔

4. 488 : 23-27

Mind alone possesses all faculties, perception, and comprehension. Therefore mental endowments are not at the mercy of organization and decomposition, — otherwise the very worms could unfashion man.

5۔ 453 :29۔31

ایک کرسچن سائنسدان کی دوا عقل ہے، یعنی وہ الٰہی سچائی جو انسان کو آزاد کرتی ہے۔ ایک کرسچن سائنسدان مادی حفظانِ صحت کی تجویز کبھی نہیں دیتا، کبھی اِس کے ساتھ ساز باز نہیں کرتا۔

5. 453 : 29-31

A Christian Scientist’s medicine is Mind, the divine Truth that makes man free. A Christian Scientist never recommends material hygiene, never manipulates.

6۔ 483 :6 (عقل کر سکتی)۔12

عقل شفا دے سکتی ہے، بشرطیکہ یہ عقل الٰہی ہو نہ کہ انسانی۔ عقل تمام تر دیگر قوتوں سے ماوراء ہے، اور بالاآخر شفا میں دوسرے تمام تر وسائل پر فوقیت حاصل کرے گی۔ سائنس کے وسیلہ شفا دینے کے لئے آپ کو سائنس کے روحانی اور اخلاقی مطالبات سے لاعلم نہیں ہونا چاہئے اور اْن کی نافرمانی نہیں کرنی چاہئے۔ اخلاقی جہالت یا گناہ آپ کے اظہار کو متاثر کرتے ہیں اور کرسچن سائنس کے معیارات کی رسائی میں رکاوٹ کا باعث بنتے ہیں۔

6. 483 : 6 (Mind can)-12

Mind can heal, and this Mind must be divine, not human. Mind transcends all other power, and will ultimately supersede all other means in healing. In order to heal by Science, you must not be ignorant of the moral and spiritual demands of Science nor disobey them. Moral ignorance or sin affects your demonstration, and hinders its approach to the standard in Christian Science.

7۔ 13 :15 (خدا)۔19

خدا ہماری ضرورت کو جانتا ہے اِس سے پہلے کہ ہم اْسے یا ہمارے ساتھیوں کو اِس سے متعلق بتائیں۔ اگر ہم ایمانداری اور خاموشی اور حلیمی کے ساتھ یہ خواہش رکھتے ہیں، تو خدا ہمیں یہ نعمت عطا کرے گا، اور ہم ہماری حقیقی خواہشات کو الفاظ کے طوفان کے ساتھ بھاری خطرے سے نکال پائیں گے۔

7. 13 : 15 (God)-19

God knows our need before we tell Him or our fellow-beings about it. If we cherish the desire honestly and silently and humbly, God will bless it, and we shall incur less risk of over-whelming our real wishes with a torrent of words.

8۔ 7 :23۔26

خدا انسان سے متاثر نہیں ہوتا۔ ”الٰہی کان“ ایک سمعی اعصاب نہیں ہے۔ یہ سب کچھ سننے والی اور سب کچھ جاننے والی عقل ہے، جو انسا ن کی ہر ضرورت کو ہمیشہ جانتی ہے اور جس کے وسیلہ سے یہ ضروریات پوری ہوتی ہیں۔

8. 7 : 23-26

God is not influenced by man. The “divine ear” is not an auditory nerve. It is the all-hearing and all-knowing Mind, to whom each need of man is always known and by whom it will be supplied.

9۔ 15 :7۔13

باپ جو پوشیدگی میں ہے جسمانی حواس کیلئے نادیدہ ہے، لیکن وہ سب کچھ جانتا ہے اوروہ الفاظ کے مطابق نہیں بلکہ مقاصد کے مطابق اجر دیتا ہے۔ دعا کے دل میں داخل ہونے کے لئے غلطی والے حواس کے دروازے کا بند ہونا ضروری ہے۔ ہونٹ خاموش اور مادیت پسندی ساکت ہونی چاہئے، تاکہ انسان کے سامعین روح، الٰہی اصول اور اْس محبت سے بھرپور ہونے چاہئیں جو غلطی کو تباہ کرتی ہے۔

9. 15 : 7-13

The Father in secret is unseen to the physical senses, but He knows all things and rewards according to motives, not according to speech. To enter into the heart of prayer, the door of the erring senses must be closed. Lips must be mute and materialism silent, that man may have audience with Spirit, the divine Principle, Love, which destroys all error.

10۔ 84 :11۔23

ماضی، حال اور مستقبل کو جاننا ازلی، الٰہی عقل اور اس عقل سے تعلق رکھنے والے خیال کا خاص حق ہے۔

ہستی کی سائنس سے آگاہی ہمیں مزید وسیع پیمانے پر الٰہی عقل کے ساتھ مکالمہ کرنے کے قابل بناتی ہے، تاکہ اْن واقعات کی پیش گوئی اور پیش بینی کی جائے جو کائنات کی فلاح سے تعلق رکھتے ہیں، تاکہ الٰہی لحاط سے متاثر ہوا جا سکے اور البتہ آزاد عقل کی وسعت کو چھوْا جا سکے۔

یہ سمجھنا کہ عقل لامحدود ہے، مادیت میں جکڑی نہیں، بصیرت اور سماعت کے لئے آنکھ اور کان کی محتاج نہیں نہ ہی قوت حرکت کے لئے پٹھوں اور ہڈیوں پر انحصار کرتی ہے، عقل کی اْس سائنس کی جانب ایک قدم ہے جس کی بدولت ہم انسان کی فطرت اور وجود سے متعلق آگاہی پاتے ہیں۔

10. 84 : 11-23

It is the prerogative of the ever-present, divine Mind, and of thought which is in rapport with this Mind, to know the past, the present, and the future.

Acquaintance with the Science of being enables us to commune more largely with the divine Mind, to foresee and foretell events which concern the universal welfare, to be divinely inspired, — yea, to reach the range of fetterless Mind.

To understand that Mind is infinite, not bounded by corporeality, not dependent upon the ear and eye for sound or sight nor upon muscles and bones for locomotion, is a step towards the Mind-science by which we discern man’s nature and existence.

11۔ 254 :10۔12

جب ہم صبر کے ساتھ خدا کا انتظار کرتے اور راستبازی کے ساتھ سچائی کی تلاش کرتے ہیں تو وہ ہماری راہ میں راہنمائی کرتا ہے۔

11. 254 : 10-12

When we wait patiently on God and seek Truth righteously, He directs our path.

12۔ 170 :14۔21

سچائی کے مطالبات روحانی ہیں اور وہ بدن تک عقل کے وسیلہ پہنچتے ہیں۔ انسانی ضروریات کے بہترین ترجمان نے کہا: ”اپنی جان کی فکر نہ کرنا کہ ہم کیا کھائیں گے یا کیا پہنیں گے۔“

اگر بیماری کو روکنے کے لئے مادی قوانین ہیں تو پھر بیماری کا سبب کیا بنتا ہے؟الٰہی قانون نہیں،کیونکہ جسمانیت کی مخالفت میں نہ کہ تابعداری میں یسوع نے بیمار کو شفا دی اور غلطی کو باہر نکالا۔

12. 170 : 14-21

The demands of Truth are spiritual, and reach the body through Mind. The best interpreter of man’s needs said: “Take no thought for your life, what ye shall eat, or what ye shall drink.”

If there are material laws which prevent disease, what then causes it? Not divine law, for Jesus healed the sick and cast out error, always in opposition, never in obedience, to physics.

13۔ 171 :12۔16

کائنات، بشمول انسان پر عقل کی حکمرانی ایک کھلا سوال نہیں رہا بلکہ یہ قابل اثبات سائنس ہے۔ یسوع نے بیماری اور گناہ سے شفا دیتے ہوئے اور موت کی بنیاد کو تباہ کرتے ہوئے الٰہی اصول اور لافانی عقل کی طاقت کو بیان کیا۔

13. 171 : 12-16

Mind’s control over the universe, including man, is no longer an open question, but is demonstrable Science. Jesus illustrated the divine Principle and the power of immortal Mind by healing sickness and sin and destroying the foundations of death.

14۔ 371 :26۔32

انسانیت سائنس اور مسیحت کے وسیلہ فروغ پائے گی۔دوڑ کو تیز کرنے کی ضرورت اس حقیقت کا باپ ہے کہ عقل یہ کر سکتی ہے؛ کیونکہ عقل آلودگی کی بجائے پاکیزگی، کمزوری کی بجائے طاقت، اور بیماری کی بجائے صحتمندی بخش سکتی ہے۔ یہ پورے نظام میں قابل تبدیل ہے، اور اسے ”ہر ذرے تک“ بنا سکتی ہے۔

14. 371 : 26-32

Mankind will improve through Science and Christianity. The necessity for uplifting the race is father to the fact that Mind can do it; for Mind can impart purity instead of impurity, strength instead of weakness, and health instead of disease. Truth is an alterative in the entire system, and can make it “every whit whole.”

15۔ 383 :5۔11

کوئی کہتا ہے: ”مَیں اپنے بدن کا بہت خیال رکھتا ہوں۔“ یہ کرنے کے لئے بدن پر الٰہی عقل کا پاکیزہ اور بلند تاثر ہونا لازمی ہے، اور کرسچن سائنسدان اپنے بدن کی خوب حفاظت کرتا ہے جب وہ اسے زیادہ تر اپنے سوچ سے باہر رکھتا ہے، اور پولوس رسول کی مانند، ”بدن کے وطن سے جدا ہو کر خداوند کے وطن میں رہنا منظور کرتا ہے۔“

15. 383 : 5-11

One says: “I take good care of my body.” To do this, the pure and exalting influence of the divine Mind on the body is requisite, and the Christian Scientist takes the best care of his body when he leaves it most out of his thought, and, like the Apostle Paul, is “willing rather to be absent from the body, and to be present with the Lord.”

16۔ 283 :4۔12

عقل تمام تر حرکات کا منبع ہے، اور اِس کے متواتر اور ہم آہنگ عمل کو پرکھنے یا اس پر مزاحمت کرنے والی کسی قسم کی سستی نہیں پائی جاتی۔ عقل ”کل، آج اور ابد تک“ زندگی، محبت اور حکمت کے ساتھ یکساں ہے۔ مادہ اور اِس کے اثرات، گناہ، بیماری اور موت، فانی عقل کی حالتیں ہیں جو عمل کرتی، رد عمل کرتی اور پھر اختتام کو پہنچتی ہیں۔ وہ عقل کی حقیقتیں نہیں ہیں۔ وہ خیالات نہیں بلکہ بھرم ہیں۔ اصول ہی مطلق ہے۔ یہ غلطی سے تسلیم نہیں ہوتا، بلکہ فہم پر تکیہ کرتا ہے۔

16. 283 : 4-12

Mind is the source of all movement, and there is no inertia to retard or check its perpetual and harmonious action. Mind is the same Life, Love, and wisdom “yesterday, and to-day, and forever.” Matter and its effects — sin, sickness, and death — are states of mortal mind which act, react, and then come to a stop. They are not facts of Mind. They are not ideas, but illusions. Principle is absolute. It admits of no error, but rests upon understanding.

17۔ 205 :32۔3

جب ہم الٰہی کے ساتھ اپنے رشتے کو مکمل طور پر سمجھتے ہیں، تو ہم کوئی اور عقل نہیں رکھتے ماسوائے اْس کی عقل کے، کوئی اور محبت، حکمت یا سچائی نہیں رکھتے، زندگی کا کوئی اور فہم نہیں رکھتے، اور مادے یا غلطی کی وجودیت کا کوئی اور شعور نہیں رکھتے۔

17. 205 : 32-3

When we fully understand our relation to the Divine, we can have no other Mind but His, — no other Love, wisdom, or Truth, no other sense of Life, and no consciousness of the existence of matter or error.

18۔ 467 :9۔16

اس بات کی پوری طرح سے سمجھ آجانی چاہئے کہ تمام انسانوں کی عقل ایک ہے، ایک خدا اور باپ، ایک زندگی، حق اور محبت ہے۔ جب یہ حقیقت ایک تناسب میں ایاں ہوگی تو انسان کامل ہوجائے گا، جنگ ختم ہو جائے گی اور انسان کا حقیقی بھائی چارہ قائم ہو جائے گا۔دوسرے دیوتا نہ ہونا، دوسری کی طرف جانے کی بجائے راہنمائی کے لئے ایک کامل عقل کے پاس جاتے ہوئے، انسان خدا کی مانند پاک اور ابدی ہوجاتا ہے، جس کے پاس وہی عقل ہے جو مسیح میں بھی تھی۔

18. 467 : 9-16

It should be thoroughly understood that all men have one Mind, one God and Father, one Life, Truth, and Love. Mankind will become perfect in proportion as this fact becomes apparent, war will cease and the true brotherhood of man will be established. Having no other gods, turning to no other but the one perfect Mind to guide him, man is the likeness of God, pure and eternal, having that Mind which was also in Christ.


روز مرہ کے فرائ

منجاب میری بیکر ایڈ

روز مرہ کی دعا

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ ہر روز یہ دعا کرے: ’’تیری بادشاہی آئے؛‘‘ الٰہی حق، زندگی اور محبت کی سلطنت مجھ میں قائم ہو، اور سب گناہ مجھ سے خارج ہو جائیں؛ اور تیرا کلام سب انسانوں کی محبت کو وافر کرے، اور اْن پر حکومت کرے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 4۔

مقاصد اور اعمال کا ایک اصول

نہ کوئی مخالفت نہ ہی کوئی محض ذاتی وابستگی مادری چرچ کے کسی رکن کے مقاصد یا اعمال پر اثر انداز نہیں ہونی چاہئے۔ سائنس میں، صرف الٰہی محبت حکومت کرتی ہے، اور ایک مسیحی سائنسدان گناہ کو رد کرنے سے، حقیقی بھائی چارے ، خیرات پسندی اور معافی سے محبت کی شیریں آسائشوں کی عکاسی کرتا ہے۔ اس چرچ کے تمام اراکین کو سب گناہوں سے، غلط قسم کی پیشن گوئیوں،منصفیوں، مذمتوں، اصلاحوں، غلط تاثر ات کو لینے اور غلط متاثر ہونے سے آزاد رہنے کے لئے روزانہ خیال رکھنا چاہئے اور دعا کرنی چاہئے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 1۔

فرض کے لئے چوکس

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ وہ ہر روز جارحانہ ذہنی آراء کے خلاف خود کو تیار رکھے، اور خدا اور اپنے قائد اور انسانوں کے لئے اپنے فرائض کو نہ کبھی بھولے اور نہ کبھی نظر انداز کرے۔ اس کے کاموں کے باعث اس کا انصاف ہوگا، وہ بے قصور یا قصوارہوگا۔ 

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 6۔


████████████████████████████████████████████████████████████████████████