اتوار 23 مئی،2021



مضمون۔ جان اور جسم

SubjectSoul and Body

سنہری متن: زبور 19 :7 آیت

”خداوند کی شریعت کامل ہے۔ وہ جان کو بحال کرتی ہے۔“



Golden Text: Psalm 19 : 7

The law of the Lord is perfect, converting the soul.





سبق کی آڈیو کے لئے یہاں کلک کریں

یوٹیوب سے سننے کے لئے یہاں کلک کریں

████████████████████████████████████████████████████████████████████████


جوابی مطالعہ: زبور34: 1تا4 آیات ∙ امثال 16 باب17 آیت


1۔ مَیں ہر وقت خداوند کو مبارک کہوں گا۔ اْس کی ستائش ہمیشہ میری زبان پر رہے گی۔

2۔ میری روح خداوند پر فخر کرے گی۔ حلیم یہ سْن کر خوش ہوں گے۔

3۔ میرے ساتھ خداوند کی بڑائی کرو۔ ہم مل کر اْس کے نام کی تمجید کریں۔

4۔ مَیں خداوند کا طالب ہوا۔ اْس نے مجھے جواب دیا اور میری ساری دہشت سے مجھے رہائی بخشی۔

17۔ راستکار آدمی کی شاہراہ یہ ہے کہ بدی سے بھاگے اور اپنی راہ کا نگہبان اپنی جان کی حفاظت کرتا ہے۔

Responsive Reading: Psalm 34 : 1-4; Proverbs 16 : 17

1.     I will bless the Lord at all times: his praise shall continually be in my mouth.

2.     My soul shall make her boast in the Lord: the humble shall hear thereof, and be glad.

3.     O magnify the Lord with me, and let us exalt his name together.

4.     I sought the Lord, and he heard me, and delivered me from all my fears.

17.     The highway of the upright is to depart from evil: he that keepeth his way preserveth his soul.



درسی وعظ



بائبل


درسی وعظ

بائبل

1۔ استثنا 6 باب4، 5 آیات

4۔ سْن اے اسرائیل! خداوند ہمارا خداایک ہی خداوند ہے۔

5۔ تو اپنے سارے دل اور اپنی ساری جان اور اپنی ساری طاقت سے خداوند اپنے خدا سے محبت رکھ۔

1. Deuteronomy 6 : 4, 5

4     Hear, O Israel: The Lord our God is one Lord:

5     And thou shalt love the Lord thy God with all thine heart, and with all thy soul, and with all thy might.

2۔ امثال 15باب32 آیت

32۔ تربیت کو رد کرنے والا اپنی ہی جان کا دْشمن ہے پر تنقید پر کان لگانے والا فہم حاصل کرتا ہے۔

2. Proverbs 15 : 32

32     He that refuseth instruction despiseth his own soul: but he that heareth reproof getteth understanding.

3۔ استثنا 4 باب1 (تا چھٹا)، 2، 9 (تا:)، 29 تا31، 35آیات

1۔اور اب اے اسرائیلیو! جو آئین اور احکام مَیں تم کو سکھاتا ہوں تم اْن پر عمل کرنے کے لئے اْن کو سن لو تاکہ تم زندہ رہو۔

2۔ جس بات کا مَیں تم کو حکم دیتا ہوں اْس میں نہ تو کچھ بڑھانا اور نہ کچھ گھٹانا تاکہ تم خداوند اپنے خدا کے احکام کو جو مَیں تم کو بتاتا ہوں مان سکو۔

9۔ سو تْو ضرور ہی اپنی احتیاط رکھنا اور بڑی حفاظت کرنا تا نہ ہو کہ تْو وہ باتیں جو تْو نے اپنی آنکھوں سے دیکھی ہیں بھول جائے اور وہ زندگی بھر کے لئے تیرے دل سے جاتی رہیں۔

29۔ لیکن وہاں ہی اگر تم خداوند اپنے خدا کے طالب ہو تو وہ تجھ کو مل جائے گا بشرطیکہ تواپنے پورے دل سے اور اپنی ساری جان سے اْسے ڈھونڈے۔

30۔جب تْو مصیبت میں پڑے گا اور یہ سب باتیں تجھ پر گزریں گی تو آخری دنوں میں تْو خداوند اپنے خدا کی طرف پھرے گا اور اْس کی مانے گا۔

31۔ کیونکہ خداوند تیرا خدا رحیم ہے۔ وہ تجھ کو نہ چھوڑے گا نہ ہلاک کرے گا اور نہ اْس عہد کو بھولے گا جس کی قسم اْس نے تیرے باپ دادا سے کھائی۔

35۔ یہ سب کچھ تجھ کو دکھایا گیا تاکہ تْو جانے کہ خداوند ہی خدا ہے اور اْس کے سوا اور کوئی ہے ہی نہیں۔

3. Deuteronomy 4 : 1 (to 6th ,), 2, 9 (to :), 29-31, 35

1     Now therefore hearken, O Israel, unto the statutes and unto the judgments, which I teach you, for to do them, that ye may live,

2     Ye shall not add unto the word which I command you, neither shall ye diminish ought from it, that ye may keep the commandments of the Lord your God which I command you.

9     Only take heed to thyself, and keep thy soul diligently, lest thou forget the things which thine eyes have seen, and lest they depart from thy heart all the days of thy life:

29     But if from thence thou shalt seek the Lord thy God, thou shalt find him, if thou seek him with all thy heart and with all thy soul.

30     When thou art in tribulation, and all these things are come upon thee, even in the latter days, if thou turn to the Lord thy God, and shalt be obedient unto his voice;

31     (For the Lord thy God is a merciful God;) he will not forsake thee, neither destroy thee, nor forget the covenant of thy fathers which he sware unto them.

35     Unto thee it was shewed, that thou mightest know that the Lord he is God; there is none else beside him.

4۔ حزقی ایل 1باب1 (ہوا)، 3 (تا پہلا) آیات

1۔اب یوں ہوا۔۔۔

2۔ خداوند کا کلام حزقی ایل کاہن پر نازل ہوا۔

4. Ezekiel 1 : 1 (to pass), 3 (to 1st ,)

1     Now it came to pass …

3     The word of the Lord came expressly unto Ezekiel the priest,

5۔ حزقی ایل 2باب3 (تا:)، 4تا6 (تا چوتھا) آیات

3۔ اْس نے مجھ سے کہا اے آدمزاد! مَیں تجھے بنی اسرائیل کے پاس یعنی اْس باغی قوم کے پاس جس نے مجھ سے بغاوت کی بھیجتا ہوں۔

4۔ کیونکہ جن کے پاس مَیں تجھ کو بھیجتا ہوں وہ سخت دل اور بے جا فرزند ہیں۔ تْو اْن سے کہنا کہ خداوند خدا یوں فرماتا ہے۔

5۔ پس خواہ وہ سنیں یا نہ سنیں (کیونکہ وہ تو سرکش خاندان ہیں) تو بھی وہ اتنا تو جانیں گے کہ اْن میں ایک نبی برپا ہوا۔

6۔ اور تْو اے آدمزاد اْن سے ہراساں نہ ہو اور اْن کی باتوں سے نہ ڈر۔

5. Ezekiel 2 : 3 (to :), 4-6 (to 4th ,)

3     And he said unto me, Son of man, I send thee to the children of Israel, to a rebellious nation that hath rebelled against me:

4     For they are impudent children and stiffhearted. I do send thee unto them; and thou shalt say unto them, Thus saith the Lord God.

5     And they, whether they will hear, or whether they will forbear, (for they are a rebellious house,) yet shall know that there hath been a prophet among them.

6     And thou, son of man, be not afraid of them, neither be afraid of their words,

6۔ حزقی ایل 18 باب4 (تا:)، 27 (اگر)، 30،31 (تا:)، 32 (اس لئے) آیات

4۔دیکھ سب جانیں میری ہیں جیسی باپ کی جان ویسی ہی بیٹے کی جان بھی میری ہے۔

27۔۔۔۔اگر شریر اپنی شرارت سے جو وہ کرتا ہے باز آئے اور وہ کام کرے جو جائز اور روا ہے تو وہ اپنی جان زندہ رکھے گا۔

30۔ پس خداوند فرماتا ہے اے بنی اسرائیل! مَیں ہر ایک روش کے مطابق تمہاری عدالت کروں گا توبہ کرو اور اپنے تمام گناہوں سے باز آؤ تاکہ بدکاری تمہاری ہلاکت کا باعث نہ ہو۔

31۔ اْن تمام گناہوں کو جن سے تم گناہگار ہوئے دو ر کرو اور اپنے لئے نیا دل اور نئی روح پیدا کرو۔

32۔۔۔۔اِس لئے باز آؤ اور زندہ رہو۔

6. Ezekiel 18 : 4 (to :), 27 (when), 30, 31 (to :), 32 (wherefore)

4     Behold, all souls are mine; as the soul of the father, so also the soul of the son is mine:

27     …when the wicked man turneth away from his wickedness that he hath committed, and doeth that which is lawful and right, he shall save his soul alive.

30     Therefore I will judge you, O house of Israel, every one according to his ways, saith the Lord God. Repent, and turn yourselves from all your transgressions; so iniquity shall not be your ruin.

31     Cast away from you all your transgressions, whereby ye have transgressed; and make you a new heart and a new spirit:

32     …wherefore turn yourselves, and live ye.

7۔ میکاہ 6 باب8 آیت

8۔ اے انسان اْس نے تجھ پر نیکی ظاہر کردی ہے۔ خداوند تجھ سے اِس کے سوا کیا چاہتا ہے کہ تْو انصاف کرے اور رحم دلی کو عزیز رکھے اور اپنے خدا کے حضور فروتنی سے چلے؟

7. Micah 6 : 8

8     He hath shewed thee, O man, what is good; and what doth the Lord require of thee, but to do justly, and to love mercy, and to walk humbly with thy God?

8۔ متی 4باب23 آیت

23۔اور یسوع تمام گلیل میں پھرتا رہا اور اْن کے عبادتخانوں میں تعلیم دیتا اور بادشاہی کی خوشخبری کی منادی کرتا اور لوگوں کی ہر طرح کی بیماری اور ہر طرح کی کمزوری کو دور کرتا رہا۔

8. Matthew 4 : 23

23     And Jesus went about all Galilee, teaching in their synagogues, and preaching the gospel of the kingdom, and healing all manner of sickness and all manner of disease among the people.

9۔ متی 5 باب2، 17تا20 آیات

2۔اور وہ اپنی زبان کھول کر اْن کو یوں تعلیم دینے لگا۔

17۔ یہ نہ سمجھو کہ مَیں توریت یا نبیوں کی کتابوں کو منسوخ کرنے آیا ہوں۔ منسوخ کرنے نہیں بلکہ پورا کرنے آیا ہوں۔

18۔ کیونکہ مَیں تم سے سچ کہتا ہوں کہ جب تک آسمان اور زمین ٹل نہ جائیں ایک نقطہ یا ایک شوشہ توریت سے ہر گز نہ ٹلے گا جب تک سب کچھ پورا نہ ہوجائے۔

19۔ پس جو کوئی اِن چھوٹے سے چھوٹے حکموں میں سے بھی کسی کو توڑے گا اور یہی آدمیوں کو سکھائے گا وہ آسمان کی بادشاہی میں سب سے چھوٹا کہلائے گا لیکن جو اْن پر عمل کرے گا اور اْن کی تعلیم دے گا وہ آسمان کی بادشاہی میں بڑا کہلائے گا۔

20۔ کیونکہ مَیں تم سے کہتا ہوں کہ اگر تمہاری راستبازی فقیہوں اور فریسیوں سے زیادہ نہ ہوگی تو تم آسمان کی بادشاہی میں ہر گز داخل نہ ہوگے۔

9. Matthew 5 : 2, 17-20

2     And he opened his mouth, and taught them, saying,

17     Think not that I am come to destroy the law, or the prophets: I am not come to destroy, but to fulfil.

18     For verily I say unto you, Till heaven and earth pass, one jot or one tittle shall in no wise pass from the law, till all be fulfilled.

19     Whosoever therefore shall break one of these least commandments, and shall teach men so, he shall be called the least in the kingdom of heaven: but whosoever shall do and teach them, the same shall be called great in the kingdom of heaven.

20     For I say unto you, That except your righteousness shall exceed the righteousness of the scribes and Pharisees, ye shall in no case enter into the kingdom of heaven.

10۔ لوقا 12 باب 1 (ہوشیار رہنا)، 2، 4، 5 آیات

1۔اْس خمیر سے ہوشیار رہنا جو فریسیوں کی ریاکاری ہے۔

2۔ کیونکہ کوئی چیز ڈھکی نہیں جو کھولی نہ جائے گی اور نہ کوئی چیز چھپی ہے جو جانی نہ جائے گی۔

4۔مگر تم دوستوں سے مَیں کہتا ہوں کہ اْن سے نہ ڈرو جو بدن کو قتل کرتے ہیں اور اْس کے بعد اور کچھ نہیں کر سکتے۔

5۔ لیکن مَیں تمہیں جتاتا ہوں کہ کس سے ڈرنا چاہئے۔ اْس سے ڈرو جس کو اختیار ہے کہ قتل کرنے کے بعد جہنم میں ڈالے۔ہاں مَیں تم سے کہتا ہوں کہ اْسی سے ڈرو۔

10. Luke 12 : 1 (Beware), 2, 4, 5

1     Beware ye of the leaven of the Pharisees, which is hypocrisy.

2     For there is nothing covered, that shall not be revealed; neither hid, that shall not be known.

4     And I say unto you my friends, Be not afraid of them that kill the body, and after that have no more that they can do.

5     But I will forewarn you whom ye shall fear: Fear him, which after he hath killed hath power to cast into hell; yea, I say unto you, Fear him.

11۔ لوقا 13باب10تا14 (تا دوسرا)، 15 (تا دوسرا)، 16 (واجب)، 17، 20، 21 آیات

10۔ پھر وہ سبت کے دن کسی عبادتخانے میں تعلیم دیتا تھا۔

11۔ اوردیکھو ایک عورت تھی جس کو اٹھارہ برس سے کسی بد روح کے باعث کمزوری تھی۔ وہ کْبڑی ہو گئی تھی اور کسی طرح سیدھی نہیں ہو سکتی تھی۔

12۔ یسوع نے اْسے دیکھ کر بلایا اور اْس سے کہا اے عورت تْو اپنی کمزوری سے چھوٹ گئی۔

13۔ اور اْس نے اْس پر ہاتھ رکھے۔ وہ اْسی دم سیدھی ہوگئی اور خدا کی تمجید کرنے لگی۔

14۔ عبادتخانے کا سردار اِس لئے کہ یسوع نے سبت کے دن شفا بخشی خفا ہو ا۔

15۔ خداوند نے اْس کے جواب میں کہا۔

16۔۔۔۔واجب نہ تھا کہ یہ جو ابراہام کی بیٹی ہے جس کو شیطان نے اٹھارہ برس سے باندھ رکھا تھا سبت کے دن اِس بند سے چھڑائی جاتی؟

17۔ جب اْس نے یہ باتیں کہیں تو اْس کے سب مخالف شرمندہ ہوئے اور ساری بھیڑ اْن عالیشان کاموں سے جو اْس سے ہوتے تھے خوش ہوئی۔

20۔ اْس نے پھر کہا مَیں خدا کی بادشاہی کو کس سے تشبیہ دوں؟

21۔ وہ خمیر کی مانند ہے جسے ایک عورت نے لے کر تین پیمانہ آٹے میں ملایا اور ہوتے ہوتے سب خمیر ہوگیا۔

11. Luke 13 : 10-14 (to 2nd ,), 15 (to 2nd ,), 16 (ought), 17, 20, 21

10     And he was teaching in one of the synagogues on the sabbath.

11     And, behold, there was a woman which had a spirit of infirmity eighteen years, and was bowed together, and could in no wise lift up herself.

12     And when Jesus saw her, he called her to him, and said unto her, Woman, thou art loosed from thine infirmity.

13     And he laid his hands on her: and immediately she was made straight, and glorified God.

14     And the ruler of the synagogue answered with indignation, because that Jesus had healed on the sabbath day,

15     The Lord then answered him, and said,

16     …ought not this woman, being a daughter of Abraham, whom Satan hath bound, lo, these eighteen years, be loosed from this bond on the sabbath day?

17     And when he had said these things, all his adversaries were ashamed: and all the people rejoiced for all the glorious things that were done by him.

20     And again he said, Whereunto shall I liken the kingdom of God?

21     It is like leaven, which a woman took and hid in three measures of meal, till the whole was leavened.

12۔ 1کرنتھیوں 5 باب6 (جانتے)، 7 (تا دوسرا)، 8 آیات

6۔کیا تم نہیں جانتے کہ تھوڑا سا خمیر سارے گْندھے ہوئے آٹے کو خمیر کر دیتا ہے؟

7۔ پرانا خمیر نکال کر اپنے آپ کو پاک کر لو تاکہ تازہ گْندھا ہوا آٹا بن جاؤ۔

8۔ پس آؤ ہم امید کریں۔ نہ پرانے خمیر سے اور نہ بدی اور شرارت کے خمیر سے بلکہ صاف دلی اور سچائی کی بے خمیر روٹی سے۔

12. I Corinthians 5 : 6 (Know), 7 (to 2nd ,), 8

6     Know ye not that a little leaven leaveneth the whole lump?

7     Purge out therefore the old leaven, that ye may be a new lump,

8     Therefore let us keep the feast, not with old leaven, neither with the leaven of malice and wickedness; but with the unleavened bread of sincerity and truth.

13۔ 1کرنتھیوں 3 باب16، 18، 19 (تا پہلا) آیات

16۔ کیا تم نہیں جانتے کہ تم خدا کا مقدِس ہو اور خدا کا روح تم میں بسا ہوا ہے؟

18۔ کوئی اپنے آپ کو فریب نہ دے۔ اگر کوئی تم میں اپنے آپ کو اِس جہان میں حکیم سمجھے تو بیوقوف بنے تاکہ حکیم ہوجائے۔

19۔ کیونکہ دنیا کی حکمت خدا کے نزدیک بے وقوفی ہے۔

13. I Corinthians 3 : 16, 18, 19 (to 1st .)

16     Know ye not that ye are the temple of God, and that the Spirit of God dwelleth in you?

18     Let no man deceive himself. If any man among you seemeth to be wise in this world, let him become a fool, that he may be wise.

19     For the wisdom of this world is foolishness with God.

14۔ 1 تھسلینکیوں 5باب5، 6، 16تا18 (تا:)، 19تا21،23، 24، 28 آیات

5۔ تم سب نور کے فرزند اور دن کے فرزند ہو۔ ہم نہ رات کے ہیں نہ تاریکی کے۔

6۔ پس اوروں کی طرح سو نہ رہیں بلکہ جاگتے اور ہوشیار رہیں۔

16۔ ہر وقت خوش رہو۔

17۔ بلا ناغہ دعا کرو۔

18۔ ہر ایک بات میں شکرگزاری کرو۔

19۔ روح کو نہ بجھاؤ۔

21۔ سب باتوں کو آزماؤ جو اچھی ہو اْسے پکڑے رہو۔

23۔خدا جو اطمینا ن کا چشمہ ہے آپ ہی تم کو بالکل پاک کرے اور تمہاری روح اور جان اوربدن ہمارے خداوند یسوع مسیح کے آنے تک پورے پورے اور بے عیب محفوظ رہیں۔

24۔ تمہارے بلانے والا سچا ہے۔ وہ ایسا ہی کرے گا۔

28۔ہمارے خداوند یسوع مسیح کا فضل تم پر ہوتا رہے۔ آمین۔

14. I Thessalonians 5 : 5, 6, 16-18 (to :), 19-21, 23, 24, 28

5     Ye are all the children of light, and the children of the day: we are not of the night, nor of darkness.

6     Therefore let us not sleep, as do others; but let us watch and be sober.

16     Rejoice evermore.

17     Pray without ceasing.

18     In every thing give thanks:

19     Quench not the Spirit.

20     Despise not prophesyings.

21     Prove all things; hold fast that which is good.

23     And the very God of peace sanctify you wholly; and I pray God your whole spirit and soul and body be preserved blameless unto the coming of our Lord Jesus Christ.

24     Faithful is he that calleth you, who also will do it.

28     The grace of our Lord Jesus Christ be with you. Amen.



سائنس اور صح


1۔ 477 :22۔25

جان مادہ، زندگی، انسان کی ذہانت ہے، جس کی انفرادیت ہوتی ہے لیکن مادے میں نہیں۔ جان روح سے کمتر کسی چیز کی عکاسی کبھی نہیں کر سکتی۔

1. 477 : 22-25

Soul is the substance, Life, and intelligence of man, which is individualized, but not in matter. Soul can never reflect anything inferior to Spirit.

2۔ 120 :4۔6

جان یا روح خدا ہے،ناقابل تبدیل اور ابدی؛ اور انسان جان، خدا کے ساتھ وجودیت رکھتا اور اس کی عکاسی کرتا ہے، کیونکہ انسان خدا کی شبیہ ہے۔

2. 120 : 4-6

Soul, or Spirit, is God, unchangeable and eternal; and man coexists with and reflects Soul, God, for man is God's image.

3۔ 9: 17۔24

”تو اپنے سارے دل، اپنی ساری جان اوراپنی ساری طاقت سے خداوند اپنے خدا سے محبت رکھ۔“ اس حکم میں بہت کچھ شامل ہے، حتیٰ کہ محض مادی احساس، افسوس اور عبادت۔ یہ مسیحت کا ایلڈوراڈو ہے۔ اس میں زندگی کی سائنس شامل ہے اور یہ روح پر الٰہی قابو کی شناخت کرتی ہے، جس میں ہماری روح ہماری مالک بن جاتی ہے اور مادی حس اور انسانی رضا کی کوئی جگہ نہیں رہتی۔

3. 9 : 17-24

Dost thou "love the Lord thy God with all thy heart, and with all thy soul, and with all thy mind"? This command includes much, even the surrender of all merely material sensation, affection, and worship. This is the El Dorado of Christianity. It involves the Science of Life, and recognizes only the divine control of Spirit, in which Soul is our master, and material sense and human will have no place.

4۔ 117 :29۔5

یسوع نے اپنے شاگردوں کو حکم دیا کہ فریسیوں اور فقیہوں کے خمیر سے ہوشیار رہنا جس کی وضاحت وہ انسانی عقائد کے طور پر کرتا ہے۔ اْس”خمیر سے متعلق جو ایک خاتون نے لیا اور تین پیمانہ آٹے میں ملایا اور وہ ہوتے ہوتے سارا خمیر ہوگیا“، یہ تمثیل خلاصہ بیان کرتی ہے کہ روحانی خمیر مسیح کی سائنس اور اِس کی روحانی تفسیر کو بیان کرتا ہے، یعنی ایسا خلاصہ جو اِس کہانی کے محض کلیسیائی اور رسمی اطلاق سے کہیں بڑھ کر ہے۔

4. 117 : 29-5

Jesus bade his disciples beware of the leaven of the Pharisees and of the Sadducees, which he defined as human doctrines. His parable of the "leaven, which a woman took, and hid in three measures of meal, till the whole was leavened," impels the inference that the spiritual leaven signifies the Science of Christ and its spiritual interpretation, — an inference far above the merely ecclesiastical and formal applications of the illustration.

5۔ 329 :5۔7

تھوڑا سا خمیر پورے گْندھے ہوئے آٹے کو خمیر بنا دیتا ہے۔ کرسچن سائنس کا ذرا سا فہم جو کچھ مَیں اِس سے متعلق کہتا ہوں اْس کی سچائی کو ثابت کرتا ہے۔

5. 329 : 5-7

A little leaven leavens the whole lump. A little understanding of Christian Science proves the truth of all that I say of it.

6۔ 302 :19۔24

ہستی کی سائنس انسان کو کامل ظاہر کرتی ہے، حتیٰ کہ جیسا کہ باپ کامل ہے، کیونکہ روحانی انسان کی جان یا عقل خدا ہے، جو تمام تر مخلوقات کا الٰہی اصول ہے، اور یہ اس لئے کہ اس حقیقی انسان پر فہم کی بجائے روح کی حکمرانی ہوتی ہے، یعنی شریعت کی روح کی، نہ کہ نام نہاد مادے کے قوانین کی۔

6. 302 : 19-24

The Science of being reveals man as perfect, even as the Father is perfect, because the Soul, or Mind, of the spiritual man is God, the divine Principle of all being, and because this real man is governed by Soul instead of sense, by the law of Spirit, not by the so-called laws of matter.

7۔ 28 :1۔8

فریسی الٰہی رضا کو جاننے اور اْس کی تعلیم دینے کا دعویٰ کرتے تھے، مگر وہ صرف یسوع کے مقصد کی کامیابی میں رکاوٹ ڈالتے تھے۔حتیٰ کہ اْس کے بہت سے طالب علم بھی اْس کی راہ میں کھڑے ہوگئے۔ اگر استاد نے ایک طالب علم کو لے کر اْسے خدا سے متعلق پوشیدہ حقائق کی تعلیم نہ دی ہوتی تو وہ ہر گز مصلوب نہ ہوتا۔مادے کی گرفت میں روح کو جکڑ کے رکھنے کا عزم سچائی اور محبت کو اذیت دینے والا ہے۔

7. 28 : 1-8

The Pharisees claimed to know and to teach the divine will, but they only hindered the success of Jesus' mission. Even many of his students stood in his way. If the Master had not taken a student and taught the unseen verities of God, he would not have been crucified. The determination to hold Spirit in the grasp of matter is the persecutor of Truth and Love.

8۔ 196 :11۔18

یسوع نے کہا، ”اْسی سے ڈروجو روح اور بدن دونوں کو جہنم میں ڈال سکتا ہے“۔ اِس متن کا بغور مطالعہ ظاہر کرتا ہے کہ یہاں لفظ روح کا مطلب جھوٹا فہم یا مادی شعور ہے۔یہ نہ روم سے، نہ شیطان سے نہ ہی خدا سے ہوشیار رہنے کا بلکہ گناہ سے ہوشیار رہنے کا حکم تھا۔ بیماری، گناہ اور موت زندگی یا سچائی کے ساتھی نہیں ہیں۔ کوئی شریعت اِن کی حمایت نہیں کرتی۔ اِن کا خدا کے ساتھ کوئی تعلق نہیں جس سے کہ اِن کی طاقت قائم ہو۔

8. 196 : 11-18

"Fear him which is able to destroy both soul and body in hell," said Jesus. A careful study of this text shows that here the word soul means a false sense or material consciousness. The command was a warning to beware, not of Rome, Satan, nor of God, but of sin. Sickness, sin, and death are not concomitants of Life or Truth. No law supports them. They have no relation to God wherewith to establish their power.

9۔ 451 :2۔4، 8۔11

مسیحی سائنسدانوں کو مادی دنیا سے باہر نکلنے اور اِس سے دور رہنے کے رسولی حْکم کے متواتر دباؤ میں رہنا چاہئے۔

کرسچن سائنس کے وہ طالب علم جو اِس کے خط سے آغاز کرتے ہیں اور روح کے بغیر فتح مند ہونے کا سوچتے ہیں، یا تو اْن کے ایمان کی کشتی غرق ہو جائے گی یا وہ افسوس کے ساتھ گھبراہٹ کا شکار ہوں گے۔

9. 451 : 2-4, 8-11

Christian Scientists must live under the constant pressure of the apostolic command to come out from the material world and be separate. 

Students of Christian Science, who start with its letter and think to succeed without the spirit, will either make shipwreck of their faith or be turned sadly awry. 

10۔ 140 :8۔13، 16۔18

ہم الٰہی فطرت کو سمجھنے اور،جسمانیت پر مزید جنگ نہ کرتے ہوئے بلکہ ہمارے خدا کی بہتات سے شادمانی کرتے ہوئے، سمجھ کے ساتھ اْس سے پیار کرنے کے تناسب میں اْس کی فرمانبرداری اور عبادت کریں گے۔تو مذہب پھر دل کا ہوگا دماغ کا نہیں۔

ہم روحانی پرستش صرف تب کرتے ہیں جب ہم مادی پرستش کرنا ترک کرتے ہیں۔ روحانی عقیدت مسیحت کی جان ہے۔

10. 140 : 8-13, 16-18

We shall obey and adore in proportion as we apprehend the divine nature and love Him understandingly, warring no more over the corporeality, but rejoicing in the affluence of our God. Religion will then be of the heart and not of the head.

We worship spiritually, only as we cease to worship materially. Spiritual devoutness is the soul of Christianity.

11۔ 118 :10۔12

زمانے گزر جاتے ہیں، مگر سچائی کا یہ خمیر ہمیشہ کام کرتا ہے۔ اِسے غلطی کے تمام تر پیمانوں کو نیست کرنا ہوتا ہے، تاکہ انسان کی روحانی آزادی میں ابدی طور پر جلال پائے۔

11. 118 : 10-12

Ages pass, but this leaven of Truth is ever at work. It must destroy the entire mass of error, and so be eternally glorified in man's spiritual freedom.

12۔ 253 :19۔28

مادا بیماری یا گناہ کے خلاف درست کوششوں کی مخالفت نہیں کر سکتا کیونکہ مادا غیر متحرک، بے عقل ہے۔اِس کے علاوہ اگرآپ خود کو بیمار مانتے ہیں، تو آپ اپنے اِس غلط عقیدے اور عمل کو بدن کی جانب سے کسی بھی رکاوٹ کے بغیر تبدیل کرسکتے ہیں۔

یہ جانتے ہوئے (جیسا کہ آپ کو جاننا چاہئے) کہ خدا کو نام نہاد مادی قانون کی فرمانبرداری کی کبھی ضرورت نہیں ہوتی، کیونکہ ایسا قانون وجود ہی نہیں رکھتا، گناہ، بیماری اور موت کے لئے کسی بھی فرضی ضرورت پر یقین نہ کریں۔

12. 253 : 19-28

Matter can make no opposition to right endeavors against sin or sickness, for matter is inert, mindless. Also, if you believe yourself diseased, you can alter this wrong belief and action without hindrance from the body.

Do not believe in any supposed necessity for sin, disease, or death, knowing (as you ought to know) that God never requires obedience to a so-called material law, for no such law exists.

13۔ 119 :29 (مسیحی)۔6

کرسچن سائنس جان اور بدن کے دیدنی تعلق کو تبدیل کرتی ہے اور بدن کو عقل کے لئے معاون بناتی ہے۔پس یہ انسان پر منحصر کرتا ہے جو آرام دہ عقل کا حلیم خادم ہونے کے علاوہ کچھ نہیں، اگر چہ دوسری صورت میں یہ فہم کو محدود کرنے کے مترادف ہے۔لیکن ہم اسے کبھی سمجھ نہیں پائیں گے جب تک کہ ہم یہ تسلیم نہیں کرتے کہ جان مادے کی بدولت بدن یا عقل میں ہے اور یہ کہ انسان کم عقلی میں شامل ہے۔جان یا روح خدا ہے،ناقابل تبدیل اور ابدی؛ اور انسان جان، خدا کے ساتھ وجودیت رکھتا اور اس کی عکاسی کرتا ہے، کیونکہ انسان خدا کی شبیہ ہے۔

13. 119 : 29 (Christian)-6

Christian Science reverses the seeming relation of Soul and body and makes body tributary to Mind. Thus it is with man, who is but the humble servant of the restful Mind, though it seems otherwise to finite sense. But we shall never understand this while we admit that soul is in body or mind in matter, and that man is included in non-intelligence. Soul, or Spirit, is God, unchangeable and eternal; and man coexists with and reflects Soul, God, for man is God's image.

14۔ 223 :3۔12

جلد یا بدیر ہم یہ سیکھیں گے کہ انسان کی متناہی حیثیت کی بیڑیاں اس فریب نظری کے باعث پگھلنے لگتی ہیں کہ وہ جان کی بجائے بدن میں، روح کی بجائے مادے میں رہتا ہے۔

مادا روح کو بیان نہیں کرتا۔خدا لامحدود ہر جا موجود روح ہے۔ اگر روح سب کچھ ہے اور ہرجا موجود ہے، تو مادا کیا اور کہاں ہے؟ یاد رکھیئے سچائی غلطی سے بڑی ہے، اور ہم بڑی چیز کو چھوٹی میں نہیں ڈال سکتے۔ جان روح ہے، اور روح بدن سے بڑی ہے۔

14. 223 : 3-12

Sooner or later we shall learn that the fetters of man's finite capacity are forged by the illusion that he lives in body instead of in Soul, in matter instead of in Spirit.

Matter does not express Spirit. God is infinite omnipresent Spirit. If Spirit is all and is everywhere, what and where is matter? Remember that truth is greater than error, and we cannot put the greater into the less. Soul is Spirit, and Spirit is greater than body.

15۔ 60 :29۔6

جان میں لامتناہی وسائل ہیں جن سے انسان کو برکت دینا ہوتی ہے اور خوشی مزید آسانی سے حاصل کی جاتی ہے اور ہمارے قبضہ میں مزید محفوظ رہے گی، اگر جان میں تلاش کی جائے گی۔ صرف بلند لطف ہی لافانی انسان کے نقوش کو تسلی بخش بنا سکتے ہیں۔ ہم ذاتی فہم کی حدود میں خوشی کو محدود نہیں کر سکتے۔حواس کوئی حقیقی لطف عطا نہیں کرتے۔

انسانی ہمدردیوں میں اچھائی کو بدی پر اور جانور پر روحانی کو غلبہ پانا چاہئے وگرنہ خوشی کبھی فتح مند نہیں ہوگی۔

15. 60 : 29-6

Soul has infinite resources with which to bless mankind, and happiness would be more readily attained and would be more secure in our keeping, if sought in Soul. Higher enjoyments alone can satisfy the cravings of immortal man. We cannot circumscribe happiness within the limits of personal sense. The senses confer no real enjoyment.

The good in human affections must have ascendency over the evil and the spiritual over the animal, or happiness will never be won.

16۔ 125 :12۔16

چونکہ انسانی سوچ شعوری درد اور بے آرامی،خوشی اور غمی، خوف سے امید اور ایمان سے فہم کے ایک مرحلے سے دوسرے میں تبدیل ہوتی رہتی ہے، اس لئے ظاہری اظہاربالاآخر انسان پر جان کی حکمرانی ہوگا نہ کہ مادی فہم کی حکمرانی ہوگا۔

16. 125 : 12-16

As human thought changes from one stage to another of conscious pain and painlessness, sorrow and joy, — from fear to hope and from faith to understanding, — the visible manifestation will at last be man governed by Soul, not by material sense.


روز مرہ کے فرائ

منجاب میری بیکر ایڈ

روز مرہ کی دعا

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ ہر روز یہ دعا کرے: ’’تیری بادشاہی آئے؛‘‘ الٰہی حق، زندگی اور محبت کی سلطنت مجھ میں قائم ہو، اور سب گناہ مجھ سے خارج ہو جائیں؛ اور تیرا کلام سب انسانوں کی محبت کو وافر کرے، اور اْن پر حکومت کرے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 4۔

مقاصد اور اعمال کا ایک اصول

نہ کوئی مخالفت نہ ہی کوئی محض ذاتی وابستگی مادری چرچ کے کسی رکن کے مقاصد یا اعمال پر اثر انداز نہیں ہونی چاہئے۔ سائنس میں، صرف الٰہی محبت حکومت کرتی ہے، اور ایک مسیحی سائنسدان گناہ کو رد کرنے سے، حقیقی بھائی چارے ، خیرات پسندی اور معافی سے محبت کی شیریں آسائشوں کی عکاسی کرتا ہے۔ اس چرچ کے تمام اراکین کو سب گناہوں سے، غلط قسم کی پیشن گوئیوں،منصفیوں، مذمتوں، اصلاحوں، غلط تاثر ات کو لینے اور غلط متاثر ہونے سے آزاد رہنے کے لئے روزانہ خیال رکھنا چاہئے اور دعا کرنی چاہئے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 1۔

فرض کے لئے چوکس

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ وہ ہر روز جارحانہ ذہنی آراء کے خلاف خود کو تیار رکھے، اور خدا اور اپنے قائد اور انسانوں کے لئے اپنے فرائض کو نہ کبھی بھولے اور نہ کبھی نظر انداز کرے۔ اس کے کاموں کے باعث اس کا انصاف ہوگا، وہ بے قصور یا قصوارہوگا۔ 

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 6۔


████████████████████████████████████████████████████████████████████████