اتوار 24جنوری،2021



مضمون۔ حق

SubjectTruth

سنہری متن: زبور 86: 11 آیت

”اے خداوند! مجھ کو اپنی راہ کی تعلیم دے۔ مَیں تیری راستی میں چلوں گا۔“



Golden Text: Psalm 86 : 11

Teach me thy way, O Lord; I will walk in thy truth.





سبق کی آڈیو کے لئے یہاں کلک کریں

یوٹیوب سے سننے کے لئے یہاں کلک کریں

████████████████████████████████████████████████████████████████████████


جوابی مطالعہ: زبور 100: 1تا5 آیات


1۔ اے اہلِ زمین! سب خداوند کے حضور خوشی کا نعرہ مارو۔

2۔ خوشی سے خداوند کی عبادت کرو۔ گاتے ہوئے اْس کے حضور حاضر ہو۔

3۔ جان رکھو کہ خداوند ہی خدا ہے۔ اْسی نے ہم کو بنایا اور ہم اْسی کے ہیں۔ ہم اْس کے لوگ اور اْس کی چراہ گاہ کی بھیڑیں ہیں۔

4۔ شکر گزاری کرتے ہوئے اْس کے پھاٹکوں میں اور حمد کرتے ہوئے اْس کی بارگاہوں میں داخل ہو۔ اْس کا شکر کرو اور اْس کے نام کو مبارک کہو۔

5۔ کیونکہ خداوند بھلا ہے۔ اْس کی شفقت ابدی ہے اور اْس کی وفاداری پشت در پشت رہتی ہے۔

Responsive Reading: Psalm 100 : 1-5

1.     Make a joyful noise unto the Lord, all ye lands.

2.     Serve the Lord with gladness: come before his presence with singing.

3.     Know ye that the Lord he is God: it is he that hath made us, and not we ourselves; we are his people, and the sheep of his pasture.

4.     Enter into his gates with thanksgiving, and into his courts with praise: be thankful unto him, and bless his name.

5.     For the Lord is good; his mercy is everlasting; and his truth endureth to all generations.



درسی وعظ



بائبل


درسی وعظ

بائبل

1۔ زبور 117: 1، 2 آیات

1۔ اے قومو! سب خداوند کی حمد کرو۔ اے امتو! سب اْس کی ستائش کرو۔

2۔ کیونکہ ہم پر اْس کی بڑی شفقت ہے اور خداوند کی سچائی ابدی ہے۔ خداوند کی حمد کرو۔

1. Psalm 117 : 1, 2

1     O praise the Lord, all ye nations: praise him, all ye people.

2     For his merciful kindness is great toward us: and the truth of the Lord endureth for ever. Praise ye the Lord.

2۔ 2سلاطین 20 باب 1تا11 آیات

1۔ اْنہی دنوں میں حزقیاہ ایسا بیمار پڑا کہ مرنے کے قریب ہو گیا تب یسعیاہ نبی آموس کے بیٹے نے اْس کے پاس آکر اْس سے کہا خداوند یوں فرماتا ہے کہ تو اپنے گھر کا انتظام کر دے کیونکہ تْو مر جائے گا اور بچنے کا نہیں۔

2۔ تب اْس نے اپنا منہ دیوار کی طرف کر کے یہ دعا کی کہ۔

3۔ اے خداوند مَیں تیری منت کرتا ہوں یاد فرما کہ مَیں تیرے حضور سچائی اور پورے دل سے چلتا رہا ہوں اور جو تیری نظر میں بھلا ہے وہی کیا ہے اور حزقیاہ زار زار رویا۔

4۔ اور ایسا ہوا کہ یسعیاہ نکل کر شہر کے بیچ کے حصے تک پہنچا بھی نہ تھا کہ خداوند کا کلام اْس پر نازل ہواکہ۔

5۔ لوٹ اور میری قوم کے پیشوا حزقیاہ سے کہہ کہ خداوند تیرے باپ دادا کا خدا یوں فرماتا ہے کہ مَیں نے تیری دعا سنی اور مَیں نے تیرے آنسو دیکھے، دیکھ مَیں تجھے شفا دوں گا اور تیسرے دن تْو خداوند کے گھر میں جائے گا۔

6۔ اور مَیں تیری عمر پندرہ برس اور بڑھا دوں گا اور مَیں تجھ کو اور اِس شہر کو شاہ اسور کے ہاتھ سے بچا لوں گا اور مَیں اپنی خاطر اور اپنے بندے داؤد کی خاطر اِس شہر کی حمایت کروں گا۔

7۔ اور یسعیاہ نے کہا انجیروں کی ٹکیا لو سو انہوں نے اْسے لے کر پھوڑے پر باندھا تب وہ اچھا ہو گیا۔

8۔ اور یسعیاہ نے حزقیاہ سے پوچھا اِس کا کیا نشان ہوگا کہ خداوند مجھے صحت بخشے گا اور مَیں تیسرے دن خداوند کے گھر میں جاؤں گا؟

9۔ یسعیاہ نے جواب دیا کہ اِس بات کا خداوند نے جس کام کو کہا ہے اْسے وہ کرے گا خداوند کی طرف سے یہ تیرے لئے نشان ہوگا کہ سایہ یا دس درجے آگے کو جائے یا دس درجے پیچھے کو لوٹے؟

10۔ اور حزقیاہ نے جواب دیا یہ تو چھوٹی بات ہے کہ سایہ دس درجے آگے کو جائے سو یوں نہیں بلکہ سایہ دس درجے پیچھے کو لوٹے۔

11۔ تب یسعیاہ نبی نے خداوند سے دعا کی۔ سو اْس نے سایہ کو آخز کی دھوپ گھڑی میں دس درجے یعنی جتنا وہ ڈھل چکا تھا اْتنا ہی پیچھے کو لوٹا دیا۔

2. II Kings 20 : 1-11

1     In those days was Hezekiah sick unto death. And the prophet Isaiah the son of Amoz came to him, and said unto him, Thus saith the Lord, Set thine house in order; for thou shalt die, and not live.

2     Then he turned his face to the wall, and prayed unto the Lord, saying,

3     I beseech thee, O Lord, remember now how I have walked before thee in truth and with a perfect heart, and have done that which is good in thy sight. And Hezekiah wept sore.

4     And it came to pass, afore Isaiah was gone out into the middle court, that the word of the Lord came to him, saying,

5     Turn again, and tell Hezekiah the captain of my people, Thus saith the Lord, the God of David thy father, I have heard thy prayer, I have seen thy tears: behold, I will heal thee: on the third day thou shalt go up unto the house of the Lord.

6     And I will add unto thy days fifteen years; and I will deliver thee and this city out of the hand of the king of Assyria; and I will defend this city for mine own sake, and for my servant David’s sake.

7     And Isaiah said, Take a lump of figs. And they took and laid it on the boil, and he recovered.

8     And Hezekiah said unto Isaiah, What shall be the sign that the Lord will heal me, and that I shall go up into the house of the Lord the third day?

9     And Isaiah said, This sign shalt thou have of the Lord, that the Lord will do the thing that he hath spoken: shall the shadow go forward ten degrees, or go back ten degrees?

10     And Hezekiah answered, It is a light thing for the shadow to go down ten degrees: nay, but let the shadow return backward ten degrees.

11     And Isaiah the prophet cried unto the Lord: and he brought the shadow ten degrees backward, by which it had gone down in the dial of Ahaz.

3۔ یسعیاہ 25باب1، 8 آیات

1۔ اے خداوند تْو میرا خدا ہے۔ مَیں تیری تمجید کروں گا۔ تیرے نام کی ستائش کروں گا کیونکہ تْو نے عجیب کام کئے ہیں تیری مصلحتیں قدیم سے وفاداری اور سچائی ہیں۔

8۔ وہ موت کو ہمیشہ کے لئے نابود کرے گا اور خداوند خدا سب کے چہروں سے آنسو پونچھ ڈالے گا اور اپنے لوگوں کی رسوائی تمام زمین پر سے مٹا ڈالے گا کیونکہ خداوند نے یہ فرمایا ہے۔

3. Isaiah 25 : 1, 8

1     O Lord, thou art my God; I will exalt thee, I will praise thy name; for thou hast done wonderful things; thy counsels of old are faithfulness and truth.

8     He will swallow up death in victory; and the Lord God will wipe away tears from off all faces; and the rebuke of his people shall he take away from off all the earth: for the Lord hath spoken it.

4۔ یوحنا 4 باب1، 3تا7، 9 تا11، 13 تا26 آیات

1۔ پھر جب خداوند کو معلوم ہوا کہ فریسیوں نے سنا ہے کہ یسوع یوحنا سے زیادہ شاگرد کرتا اور بپتسمہ دیتا ہے۔

3۔تو وہ یہودیہ کو چھوڑ کر پھر گلیل کو چلا گیا۔

4۔اور اُس کو سامریہ سے ہو کر جاناضرور تھا۔

5۔ پس وہ سامریہ کے ایک شہر تک آیا جو سوخار کہلاتا ہے۔ وہ اُس قطہ کے نزدیک ہے جو یعقوب نے اپنے بیٹے یوسف کو دیا تھا۔

6۔اور یعقوب کا کنواں وہیں تھا۔ چنانچہ یسوع سفر سے تھکاماندہ ہو کر اُس کنویں پر یونہی بیٹھ گیا۔ یہ چھٹے گھنٹے کے قریب تھا۔

7۔ سامریہ کی ایک عورت پانی بھرنے آئی۔ یسوع نے اُس سے کہا مجھے پانی پلا۔

9۔ اُس سامری عورت نے اُس سے کہا کہ تو یہودی ہو کر مجھ سامری عورت سے پانی کیوں مانگتا ہے؟کیونکہ یہودی سامریوں سے کسی طرح کا برتاؤ نہیں رکھتے۔

10۔ یسوع نے جواب میں اُس سے کہا اگر تو خدا کی بخشش کو جانتی اور یہ بھی جانتی کہ وہ کون ہے جو تجھ سے کہتا ہے مجھے پانی پلا تو تو اُس سے مانگتی اور وہ تجھے زندگی کا پانی دیتا۔

11۔ عورت نے اُس سے کہا اے خداوند تیرے پاس پانی بھرنے کو تو کچھ ہے نہیں اور کنواں گہرا ہے۔ پھر وہ زندگی کا پانی تیرے پاس کہاں سے آیا؟

13۔ یسوع نے جواب میں اُس سے کہا جو کوئی اِس پانی میں سے پیتا ہے وہ پھر پیاسا ہو گا۔

14۔ مگر جو کوئی اُس پانی میں سے پیئے گا جو میں اُسے دوں گا وہ ابد تک پیاسا نہ ہوگا بلکہ جو پانی میں اُسے دوں گا وہ اُس میں ایک چشمہ بن جائیگا جو ہمیشہ کی زندگی کے لئے جاری ر ہے گا۔

15۔ عورت نے اُس سے کہا اے خداوند وہ پانی مجھ کو دے تاکہ میں نہ پیاسی ہوں نہ پانی بھرنے کو یہاں تک آؤں۔

16۔ یسوع نے اُس سے کہا جا اپنے شوہر کو یہاں بُلا لا۔

17۔عورت نے جواب میں اُس سے کہا میں بے شوہر ہوں۔ یسوع نے اُس سے کہا تُونے خوب کہا کہ میں بے شوہر ہوں۔

18۔ کیونکہ تُو پانچ شوہر کر چکی ہے اور جس کے پاس تُواب ہے وہ تیرا شوہر نہیں یہ تُو نے سچ کہا۔

19۔ عورت نے اُس سے کہا اے خداوند مجھے معلوم ہوتا ہے کہ تُو نبی ہے۔

20۔ ہمارے باپ دادا نے اِس پہاڑ پر پرستش کی اور تم کہتے ہو کہ وہ جگہ جہاں پرستش کرنا چاہیے یروشلم میں ہے۔

21۔ یسوع نے اُس سے کہا اے عورت! میری بات کا یقین کر کہ وہ وقت آتا ہے کہ تم نہ تو اِس پہاڑ پر باپ کی پرستش کروگے اور نہ یروشلم میں۔

22۔ہم جسے جانتے ہیں اُس کی پرستش کرتے ہیں کیونکہ نجات یہودیوں میں سے ہے۔

23۔ مگر وہ وقت آتا ہے بلکہ اب ہی ہے کہ سچے پرستار باپ کی پرستش روح اور سچائی سے کریں گے کیونکہ باپ اپنے لئے ایسے ہی پرستار ڈھونڈتا ہے۔

24۔ خدا روح ہے اور ضرور ہے کہ اُس کے پرستارروح اور سچائی سے پرستش کریں۔

25۔عورت نے اُس سے کہا میں جانتی ہوں کہ مسیح جو خرستُس کہلاتا ہے آنے والا ہے۔ جب وہ آئے گا تو ہمیں سب باتیں بتادے گا۔

26۔ یسوع نے اُس سے کہا میں جو تجھ سے بول رہا ہوں وہی ہوں۔

4. John 4 : 1, 3-7, 9-11, 13-26

1     When therefore the Lord knew how the Pharisees had heard that Jesus made and baptized more disciples than John,

3     He left Judæa, and departed again into Galilee.

4     And he must needs go through Samaria.

5     Then cometh he to a city of Samaria, which is called Sychar, near to the parcel of ground that Jacob gave to his son Joseph.

6     Now Jacob’s well was there. Jesus therefore, being wearied with his journey, sat thus on the well: and it was about the sixth hour.

7     There cometh a woman of Samaria to draw water: Jesus saith unto her, Give me to drink.

9     Then saith the woman of Samaria unto him, How is it that thou, being a Jew, askest drink of me, which am a woman of Samaria? for the Jews have no dealings with the Samaritans.

10     Jesus answered and said unto her, If thou knewest the gift of God, and who it is that saith to thee, Give me to drink; thou wouldest have asked of him, and he would have given thee living water.

11     The woman saith unto him, Sir, thou hast nothing to draw with, and the well is deep: from whence then hast thou that living water?

13     Jesus answered and said unto her, Whosoever drinketh of this water shall thirst again:

14     But whosoever drinketh of the water that I shall give him shall never thirst; but the water that I shall give him shall be in him a well of water springing up into everlasting life.

15     The woman saith unto him, Sir, give me this water, that I thirst not, neither come hither to draw.

16     Jesus saith unto her, Go, call thy husband, and come hither.

17     The woman answered and said, I have no husband. Jesus said unto her, Thou hast well said, I have no husband:

18     For thou hast had five husbands; and he whom thou now hast is not thy husband: in that saidst thou truly.

19     The woman saith unto him, Sir, I perceive that thou art a prophet.

20     Our fathers worshipped in this mountain; and ye say, that in Jerusalem is the place where men ought to worship.

21     Jesus saith unto her, Woman, believe me, the hour cometh, when ye shall neither in this mountain, nor yet at Jerusalem, worship the Father.

22     Ye worship ye know not what: we know what we worship: for salvation is of the Jews.

23     But the hour cometh, and now is, when the true worshippers shall worship the Father in spirit and in truth: for the Father seeketh such to worship him.

24     God is a Spirit: and they that worship him must worship him in spirit and in truth.

25     The woman saith unto him, I know that Messias cometh, which is called Christ: when he is come, he will tell us all things.

26     Jesus saith unto her, I that speak unto thee am he.

5۔ یوحنا 17 باب1، 6، 17 آیات

1۔یسوع نے یہ باتیں سنیں اور اپنی آنکھیں آسمان کی طرف اٹھا کر کہا اے باپ! وہ گھڑی آپہنچی۔ اپنے بیٹے کا جلال ظاہر تا کہ بیٹا تیرا جلال ظاہر کرے۔

6۔ مَیں نے تیرے نام کو اْن آدمیوں پر ظا ہر کیا جنہیں تْو نے دنیا میں سے مجھے دیا۔ وہ تیرے تھے اور تْو نے اْنہیں مجھے دیا اور انہوں نے تیرے کلام پر عمل کیا۔

17۔ اْنہیں سچائی کے وسیلہ سے مقدس کر۔ تیرا کلام سچائی ہے۔

5. John 17 : 1, 6, 17

1     These words spake Jesus, and lifted up his eyes to heaven, and said, Father, the hour is come; glorify thy Son, that thy Son also may glorify thee:

6     I have manifested thy name unto the men which thou gavest me out of the world: thine they were, and thou gavest them me; and they have kept thy word.

17     Sanctify them through thy truth: thy word is truth.



سائنس اور صح


1۔ 7: 13۔21

سوچنے والوں کے لئے وقت آ پہنچا ہے۔ سچائی، آزادیِ عقائد اور نظامِ احترامیِ وقت، انسانیت کے آستانے پر دستک دیتے ہیں۔ ماضی کی قناعت اور مادہ پرستی کی سرد تقلید اختتام پذید ہو رہی ہے۔ خدا سے لا علمی مزید ایمان کے راستے کا پتھر نہیں رہا۔ وفاداری کی واحد ضمانت اْس ہستی سے متعلق درست فہم ہے جسے بہتر طور پر جاننا ہی ابدی زندگی ہے۔ اگرچہ سلنطنتیں نیست ہو جاتی ہیں، مگر ”خداوند ابد الا باد سلطنت کرے گا۔“

1. vii : 13-21

The time for thinkers has come. Truth, independent of doctrines and time-honored systems, knocks at the portal of humanity. Contentment with the past and the cold conventionality of materialism are crumbling away. Ignorance of God is no longer the steppingstone to faith. The only guarantee of obedience is a right apprehension of Him whom to know aright is Life eternal. Though empires fall, "the Lord shall reign forever."

2۔ 259 :6۔14

الٰہی سائنس میں، انسان خدا کی حقیقی شبیہ ہے۔ الٰہی فطرت میں یسوع مسیح کو بہترین طریقے سے بیان کیا گیا ہے، جس نے انسانوں پر خدا کی مناسب تر عکاسی ظاہر کی اورکمزور سوچ کے نمونے کی سوچ سے بڑی معیارِ زندگی فراہم کی، یعنی ایسی سوچ جو انسان کے گرنے، بیماری، گناہ کرنے اور مرنے کو ظاہر کرتی ہے۔ سائنسی ہستی اور الٰہی شفا کی مسیح جیسی سمجھ میں کامل اصول اور خیال، کامل خدا اور کامل انسان، بطور سوچ اور اظہار کی بنیاد شامل ہوتے ہیں۔

2. 259 : 6-14

In divine Science, man is the true image of God. The divine nature was best expressed in Christ Jesus, who threw upon mortals the truer reflection of God and lifted their lives higher than their poor thought-models would allow, — thoughts which presented man as fallen, sick, sinning, and dying. The Christlike understanding of scientific being and divine healing includes a perfect Principle and idea, — perfect God and perfect man, — as the basis of thought and demonstration.

3۔ 286 :1۔15

ایک انسانی عقیدے پر یقین کے وسیلہ سے سچائی کی تلاش کرنا لامتناہی کو سمجھنا نہیں ہے۔ ہمیں متناہی، زوال پذیر اور فانی کے وسیلہ لازوال اور لافانی کی تلاش نہیں کرنی چاہئے، اور یوں اظہار کی بجائے یقین پر انحصار کرنا چاہئے، کیونکہ یہ سائنسی علم کے لئے مہلک ہے۔سچائی کی سمجھ سچائی پر مکمل ایمان فراہم کرتی ہے اور روحانی فہم تمام تر سوختنی قربانیوں سے بہتر ہے۔

مالک نے کہا، ”کوئی میرے وسیلہ کے بغیر باپ(ہستی کے الٰہی اصول) کے پاس نہیں آتا،“ یعنی مسیح، زندگی، حق اور محبت کے بغیر؛ کیونکہ مسیح کہتا ہے، ”راہ مَیں ہوں۔“ اس اصلی انسان، یسوع، کی بدولت طبیب کے اسباب کو پہلے درجے سے آخری تک کر دیا گیاتھا۔ وہ جانتا تھا کہ الٰہی اصول یعنی محبت اْس سب کو خلق کرتا اور اْس پر حکمرانی کرتا ہے جو حقیقی ہے۔

3. 286 : 1-15

To seek Truth through belief in a human doctrine is not to understand the infinite. We must not seek the immutable and immortal through the finite, mutable, and mortal, and so depend upon belief instead of demonstration, for this is fatal to a knowledge of Science. The understanding of Truth gives full faith in Truth, and spiritual understanding is better than all burnt offerings.

The Master said, "No man cometh unto the Father [the divine Principle of being] but by me," Christ, Life, Truth, Love; for Christ says, "I am the way." Physical causation was put aside from first to last by this original man, Jesus. He knew that the divine Principle, Love, creates and governs all that is real.

4۔ 231 :3۔11

جب تک ایک بیماری کے ساتھ سچائی کے وسیلہ درست طور پر نپٹا اور مناسب طورپراسے فتح نہ کیا جائے، بیماری پر کبھی قابو نہیں پایا جا سکتا۔ اگر خدا گناہ، بیماری اور موت کو تباہ نہیں کرتا تو وہ بشری عقل میں تباہ نہیں ہوتے، بلکہ اس نام نہاد عقل کو لافانی دکھائی دینے لگتے ہیں۔ جو خدا نہیں کرسکتا انسان کو وہ کام کرنے کی کوشش کرنے کی بھی ضرورت نہیں۔ اگر خدا ہی بیمار کو شفا نہیں دیتا، تو وہ شفا یاب نہیں ہوسکتے، کیونکہ کوئی کمتر قوت لامتناہی قادر مطلق کی قوت کے برابرنہیں؛ بلکہ خدا، حق، زندگی، محبت، بیمار کو راستبازوں کی دعاؤں کے وسیلہ شفا دیتا ہے۔

4. 231 : 3-11

Unless an ill is rightly met and fairly overcome by Truth, the ill is never conquered. If God destroys not sin, sickness, and death, they are not destroyed in the mind of mortals, but seem to this so-called mind to be immortal. What God cannot do, man need not attempt. If God heals not the sick, they are not healed, for no lesser power equals the infinite All-power; but God, Truth, Life, Love, does heal the sick through the prayer of the righteous.

5۔ 167 :22۔31

ساکن ہونا اور درمیانی راہ اپنانا یا روح اور مادے، سچائی اور غلطی سے اکٹھے کام کرنے کی توقع رکھنا عقلمندی نہیں۔ راہ ہے مگر صرف ایک، یعنی، خدا اور اْس کا خیال، جو روحانی ہستی کی جانب راہنمائی کرتا ہے۔ بدن پر سائنسی حکمرانی الٰہی عقل کے وسیلہ حاصل ہونی چاہئے۔ کسی دوسرے طریقے سے بدن پر قابو پانا ممکن ہے۔ اِس بنیادی نقطہ پر، کمزورقدامت پسندی بالکل ناقابل تسلیم ہے۔ سچائی پر صرف انتہائی بھروسے کے وسیلہ ہی سائنسی شفائیہ قوت کو محسوس کیا جا سکتا ہے۔

5. 167 : 22-31

It is not wise to take a halting and half-way position or to expect to work equally with Spirit and matter, Truth and error. There is but one way — namely, God and His idea — which leads to spiritual being. The scientific government of the body must be attained through the divine Mind. It is impossible to gain control over the body in any other way. On this fundamental point, timid conservatism is absolutely inadmissible. Only through radical reliance on Truth can scientific healing power be realized.

6۔ 230 :1۔10

اگر بیماری حقیقی ہے تو یہ لافانیت سے تعلق رکھتی ہے؛ اگر سچی ہے تو یہ سچائی کا حصہ ہے۔ منشیات کے ساتھ یا بغیر کیاآپ سچائی کی حالت یا خصوصیت کو تباہ کریں گے؟ لیکن اگر گناہ اور بیماری بھرم ہیں، اس فانی خواب یا بھرم سے بیدار ہونا ہمیں صحتمندی، پاکیزگی اور لافانیت مہیا کرتا ہے۔یہ بیداری مسیح کی ہمیشہ آمد ہے، سچائی کا پیشگی ظہور، جو غلطی کو باہر نکالتا اور بیمار کو شفا دیتا ہے۔ یہ وہ نجات ہے جو خدا، الٰہی اصول،اْس محبت کے وسیلہ ملتی ہے جسے یسوع نے ظاہر کیا۔

6. 230 : 1-10

If sickness is real, it belongs to immortality; if true, it is a part of Truth. Would you attempt with drugs, or without, to destroy a quality or condition of Truth? But if sickness and sin are illusions, the awakening from this mortal dream, or illusion, will bring us into health, holiness, and immortality. This awakening is the forever coming of Christ, the advanced appearing of Truth, which casts out error and heals the sick. This is the salvation which comes through God, the divine Principle, Love, as demonstrated by Jesus.

7۔ 130: 26۔5

اگر خدا یا سچائی کی بالادستی کے لئے سائنس کے مضبوط دعوے پر خیالات چونک جاتے ہیں اور اچھائی کی بالادستی پر شک کرتے ہیں، تو کیا ہمیں، اس کے برعکس، بدی کے زبردست دعوں پر حیران ہونا، اْن پر شک کرنااور گناہ سے نفرت کرنے کو فطری اور اِسے ترک کرنے کو غیر فطری تصور کرنا، بدی کو ہمیشہ موجود اور اچھائی کو غیر موجود تصور نہیں کرنا چاہئے؟ سچائی کو غلطی کی مانند تعجب انگیز اور غیر فطری دکھائی نہیں دینا چاہئے، اور غلطی کو سچائی کی مانند حقیقی نہیں لگنا چاہئے۔ بیماری کو صحتیابی جیسا دکھائی نہیں دینا چاہئے۔ سائنس میں کوئی غلطی نہیں ہے، اور خدا یعنی سب چیزوں کے الٰہی اصول، کے ساتھ ہم آہنگ ہونے کے لئے ہماری زندگیوں پر حقیقت کی حکمرانی ہونی چاہئے۔

7. 130 : 26-5

If thought is startled at the strong claim of Science for the supremacy of God, or Truth, and doubts the supremacy of good, ought we not, contrariwise, to be astounded at the vigorous claims of evil and doubt them, and no longer think it natural to love sin and unnatural to forsake it, — no longer imagine evil to be ever-present and good absent? Truth should not seem so surprising and unnatural as error, and error should not seem so real as truth. Sickness should not seem so real as health. There is no error in Science, and our lives must be governed by reality in order to be in harmony with God, the divine Principle of all being.

8۔ 120 :17۔24

شفائیہ عقل کی سائنس کسی کمزور کے لئے یہ ہونا ناممکن بیان کرتی ہے جبکہ عقل کے لئے اِس کی حقیقتاً تصدیق کرنا یا انسان کی اصلی حالت کو ظاہر کرنا ممکن پیش کرتی ہے۔اس لئے سائنس کا الٰہی اصول جسمانی حواس کی گواہی کو تبدیل کرتے ہوئے انسان کو بطور سچائی میں ہم آہنگی کے ساتھ موجود ہوتا ظاہر کرتا ہے، جو صحت کی واحد بنیاد ہے؛ اور یوں سائنس تمام بیماری سے انکار کرتی، بیمار کو شفا دیتی، جھوٹی گواہی کو برباد کرتی اور مادی منطق کی تردید کرتی ہے۔

8. 120 : 17-24

The Science of Mind-healing shows it to be impossible for aught but Mind to testify truly or to exhibit the real status of man. Therefore the divine Principle of Science, reversing the testimony of the physical senses, reveals man as harmoniously existent in Truth, which is the only basis of health; and thus Science denies all disease, heals the sick, overthrows false evidence, and refutes materialistic logic.

9۔ 288 :31۔7

ابدی سچائی اِسے تباہ کرتی ہے جو بشر کو غلطی سے سیکھا ہوا دکھائی دیتا ہے، اور بطور خدا کے فرزند انسان کی حقیقت روشنی میں آتی ہے۔ ظاہر کی گئی سچائی ابدی زندگی ہے۔ بشر جب تک یہ نہیں سیکھتا کہ خدا ہی واحد زندگی ہے، وہ غلطی کے عارضی ملبے، گناہ، بیماری اور موت کے عقیدے سے کبھی نہیں باہر آ سکتا۔بدن میں زندگی اور احساس اِس فہم کے تحت فتح کئے جانے چاہئیں جو انسان کو خدا کی شبیہ بناتا ہے۔پھر روح بدن پر فتح مند ہوگی۔

9. 288 : 31-7

The eternal Truth destroys what mortals seem to have learned from error, and man's real existence as a child of God comes to light. Truth demonstrated is eternal life. Mortal man can never rise from the temporal débris of error, belief in sin, sickness, and death, until he learns that God is the only Life. The belief that life and sensation are in the body should be overcome by the understanding of what constitutes man as the image of God. Then Spirit will have overcome the flesh.

10۔ 367 :30۔32

کیونکہ سچائی لامتناہی، غلطی کو عدم سمجھا جانا چاہئے۔ کیونکہ سچائی اچھائی میں قادر مطلق ہے، غلطی سچائی کے مخالف، کوئی طاقت نہیں رکھتی۔

10. 367 : 30-32

Because Truth is infinite, error should be known as nothing. Because Truth is omnipotent in goodness, error, Truth's opposite, has no might.

11۔ 368 :2۔9

سائنس سے متحرک اعتماد اس حقیقت میں پنہاں ہے کہ سچائی حقیقی ہے اور غلطی غیر حقیقی ہے۔ غلطی سچائی کے سامنے بزدل ہے۔ الٰہی سائنس اِس پر اصرار کرتی ہے کہ وقت یہ سب کچھ ثابت کرے گا۔ سچائی اور غلطی دونوں بشر کی سوچ سے کہیں زیادہ قریب تر ہوئے ہیں، اور سچائی پھر بھی واضح تر ہوتی جائے گی کیونکہ غلطی خودکو تباہ کرنے والی ہے۔

11. 368 : 2-9

The confidence inspired by Science lies in the fact that Truth is real and error is unreal. Error is a coward before Truth. Divine Science insists that time will prove all this. Both truth and error have come nearer than ever before to the apprehension of mortals, and truth will become still clearer as error is self-destroyed.

12۔ 174 :17۔21

کوہ سیناہ کی گرج اور پہاڑی وعظ، اپنی راہ میں ساری غلطی کو ملامت کرتے ہوئے اور زمین پر آسمان کی بادشاہی کی منادی کرتے ہوئے، زمانوں کو دبا رہے ہیں یا دبا لیں گے۔یہ ظاہر ہو چکا ہے۔ بس اِس پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔

12. 174 : 17-21

The thunder of Sinai and the Sermon on the Mount are pursuing and will overtake the ages, rebuking in their course all error and proclaiming the kingdom of heaven on earth. Truth is revealed. It needs only to be practised.


روز مرہ کے فرائ

منجاب میری بیکر ایڈ

روز مرہ کی دعا

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ ہر روز یہ دعا کرے: ’’تیری بادشاہی آئے؛‘‘ الٰہی حق، زندگی اور محبت کی سلطنت مجھ میں قائم ہو، اور سب گناہ مجھ سے خارج ہو جائیں؛ اور تیرا کلام سب انسانوں کی محبت کو وافر کرے، اور اْن پر حکومت کرے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 4۔

مقاصد اور اعمال کا ایک اصول

نہ کوئی مخالفت نہ ہی کوئی محض ذاتی وابستگی مادری چرچ کے کسی رکن کے مقاصد یا اعمال پر اثر انداز نہیں ہونی چاہئے۔ سائنس میں، صرف الٰہی محبت حکومت کرتی ہے، اور ایک مسیحی سائنسدان گناہ کو رد کرنے سے، حقیقی بھائی چارے ، خیرات پسندی اور معافی سے محبت کی شیریں آسائشوں کی عکاسی کرتا ہے۔ اس چرچ کے تمام اراکین کو سب گناہوں سے، غلط قسم کی پیشن گوئیوں،منصفیوں، مذمتوں، اصلاحوں، غلط تاثر ات کو لینے اور غلط متاثر ہونے سے آزاد رہنے کے لئے روزانہ خیال رکھنا چاہئے اور دعا کرنی چاہئے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 1۔

فرض کے لئے چوکس

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ وہ ہر روز جارحانہ ذہنی آراء کے خلاف خود کو تیار رکھے، اور خدا اور اپنے قائد اور انسانوں کے لئے اپنے فرائض کو نہ کبھی بھولے اور نہ کبھی نظر انداز کرے۔ اس کے کاموں کے باعث اس کا انصاف ہوگا، وہ بے قصور یا قصوارہوگا۔ 

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 6۔


████████████████████████████████████████████████████████████████████████