اتوار 24فروری، 2019 مضمون۔ عقل |

اتوار 24فروری، 2019



مضمون۔ عقل 

سنہری متن: زبور32: 8 آیت



’’مَیں تجھے تعلیم دوں گا اور جِس راہ پر تجھے چلنا ہوگا تجھے بتاؤں گا۔ مَیں تجھے صلاح دوں گا۔ میری نظر تجھ پر ہوگی۔‘‘





سبق کی آڈیو کے لئے یہاں کلک کریں

یوٹیوب سے سننے کے لئے یہاں کلک کریں

████████████████████████████████████████████████████████████████████████


جوابی مطالعہ: یسعیاہ 35باب3تا8، 10آیاتیت


3۔ کمزور ہاتھوں کو زور آور اور ناتواں گھْٹنوں کو توانائی دو۔ 

4 ۔ اْن کو جو کچ دِلے ہیں کہو ہمت باندھو مت ڈرو۔ دیکھو تمہارا خدا سزا اور جزا کے لئے آتا ہے۔ ہاں خدا ہی آئے گا اور تم کو بچائے گا۔

5۔ اْس وقت اندھوں کی آنکھیں وا کی جائیں گی اور بہروں کے کان کھولے جائیں گے۔ 

6۔ تب لنگڑے ہرن کی مانند چوکڑیاں بھریں گے اور گونگے کی زبان گائے گی کیونکہ بیابان میں پانی اور دشت میں ندیاں پھْوٹ نکلیں گی۔ 

7۔ بلکہ سراب تالاب ہوجائے گا اور پیاسی زمین چشمہ بن جائے گی۔ گیدڑوں کی ماندوں میں جہاں وہ پڑے تھے نَے اور نل کا ٹھکانا ہوگا۔ 

8۔ اور وہاں ایک شاہراہ اور گزرگاہ ہوگی جو مقدس راہ کہلائے گی ۔

10۔ اور جِن کو خداوند نے مخلصی بخشی وہ لوٹیں گے اور صیؤن میں گاتے ہوئے آئیں گے اور ابدی سرْور اْن کے سروں پر ہوگا۔ وہ خوشی اور شادمانی حاصل کریں گے اور غم و اندو کافور ہو جائیں گے۔



درسی وعظ



بائبل


1۔ امثال 2باب1تا8آیات

1۔ اے میرے بیٹے! اگرتو میری باتوں کوقبول کرے اور میرے فرمان کو نگاہ میں رکھے۔ 

2 ۔ اَیساکہ توحکمت کی طرف کان لگائے اور فہم سے دل لگائے

3۔ بلکہ اگر تْو عقل کو پُکارے اور فہم کے لئے آوازبلندکرے۔ 

4 ۔ اور اُسکو اَیسا ڈھونڈے جیسے چاندی کواور اُسکی ایسی تلاش کرے جیسی پوشیدہ خزانوں کی

5 ۔ توتْوخداوندکے خوف کو سمجھے گا اور خدا کی معرفت کو حاصل کر ے گا 

6 ۔ کیونکہ خداوند حکمت بخشتا ہے۔علم وفہم اُسی کے منہ سے نکلتے ہیں۔

7 ۔ وہ راستبازوں کے لئے مدد تیار رکھتا ہے اور راست روکے لئے سِپر ہے۔

8۔ تاکہ وہ عدل کی راہوں کی نگہبانی کرے اور اپنے مقدسوں کی راہ کو محفوظ رکھے۔

2۔ 1سلاطین 3باب6تا12آیات

6۔ سلیمان نے کہا تُو نے اپنے خادم میرے باپ داؤدپر بڑا احسان کیا اِس لیے کہ وہ تیرے حضور راستی اور صداقت اور تیرے ساتھ سیدھے دل سے چلتا رہا اور تُو نے اُسکے واسطے یہ بڑا احسان رکھ چھوڑا تھا کہ تُو نے اُسے ایک بیٹا عنایت کِیا جو اُس کے تخت پر بیٹھے جیسا آج کے دن ہے۔ 

7 ۔ اور اب اے خُداوند میرے خُدا تُو نے اپنے خادم کو میرے باپ داؤدکی جگہ بادشاہ بنایا ہے اور مَیں چھوٹا لڑکا ہی ہوں اور مُجھے باہر جانے اور بِھیتر آنے کا شعور نہیں۔ 

8۔ اور تیرا خادم تیری قوم کے بیچ میں ہے جِسے تُو نے چُن لیا ہے۔ وہ ایسی قوم ہے جو کثرت کے باعث نہ گِنی جا سکتی ہے نہ شمار ہو سکتی ہے۔ 

9۔ سو تُو اپنے خادم کو اپنی قوم کا انِصاف کرنے کے لیے سمجھنے والا دل عنایت کر تاکہ مَیں بُرے اور بھلے میں اِمتیاز کر سکوں کیونکہ تیری اِس بڑی قوم کا اِنصاف کون کر سکتا ہے؟ 

10۔ اور یہ بات خُداوند کو پسند آئی کہ سلیمان نے یہ چیز مانگی۔ 

11 ۔ اور خُدا نے اُس سے کہا چونکہ تُو نے یہ چیز مانگی اوراپنے لیے عُمر کی درازی کی درخواست نہ کی اور نہ اپنے لیے دولت کا سوال کیا اور نہ اپنے دُشمنوں کی جان مانگی بلکہ انصاف پسندی کے لیے تُو نے اپنے واسطے عقلمندی کی درخواست کی ہے۔ 

12 ۔ سو دیکھ مَیں نے تیری درخواست کے مطابق کیا۔ میں نے ایک عاقل اور سمجھنے والا دل تُجھ کو بخشا ایسا کہ تیری مانند نہ تو کوئی تُجھ سے پہلے ہُوا اور نہ کوئی تیرے بعد تُجھ سا برپا ہو گا۔

3۔ 1سلاطین 4باب29تا31 (تا؛) ، 32، 34آیات

29۔ اور خُدا نے سلیمان کو حکمت اور سمجھ بہت ہی زیاد ہ اور دل کی وسعت بھی عنایت کی جیسی سُمندر کے کنارے کی ریت ہوتی ہے۔ 

30 ۔ اور سُلیمان کی حکمت سب اہلِ مشرق کی حکمت اور مصر کی ساری حکمت پر فوقیت رکھتی تھی۔ 

31 ۔ اِس لیے کہ وہ سب آدمیوں سے زیادہ دانشمند تھا:

32 ۔ اور اُس نے تین ہزار مثِلیں کہیں اور اُسکے ایک ہزار پانچ گیت تھے۔ 

34 ۔ اور سب قوموں میں سے زمین کے سب بادشاہوں کی طرف سے جنہوں نے اُسکی حکمت سُنی تھی لوگ سلیمان کی حکمت سُننے کو آتے تھے۔

4۔ ایوب 36باب3تا5، 7، 10، 11 آیات

3 ۔ میں اپنے علم کو دُور سے لاؤنگا اور راستی اپنے خالق سے منسوب کرونگا 

4 ۔ کیونکہ فی الحقیقت میری باتیں جھوٹی نہیں ہیں۔وہ جو تیرے ساتھ ہے علم میں کامل ہے۔ 

5 ۔ دیکھ! خدا قادِر ہے اور کسی کو حقیر نہیں جانتا۔ وہ فہم کی قوت میں غالب ہے۔ 

7 ۔ وہ صادقو ں کی طرف سے اپنی آنکھیں نہیں پھرتا بلکہ اُنہیں بادشاہوں کے ساتھ ہمیشہ کے لئے تخت پر بٹھاتا ہے اور وہ سرفراز ہوتے ہیں۔ 

10۔ وہ اُنکے کان کو تعلیم کے لئے کھولتا ہے اور حکم دیتا ہے کہ بدی سے باز آئیں۔ 

11۔ اگر وہ سُن لیں اور اُسکی عبادت کریں تو اپنے دِن اِقبالمند ی میں اور اپنے برس خوشحالی میں بسر کر ینگے۔

5۔ متی 13باب1، 2 (تا،) ، 3 (1تک) ،10، 11، 13، 15، 16آیات

1۔ اُسی روز یِسُوع گھر سے نِکل کر جھِیل کے کِنارے جا بَیٹھا۔ 

2 ۔ اور اُس کے پاس اَیسی بڑی بھِیڑ جمع ہوگئی کہ وہ کَشتی پر چڑھ بَیٹھا اور ساری بھِیڑ کِنارے پر کھڑی رہی۔ 

3 ۔ اور اُس نے اُن سے بہُت سی باتیں تِمثیلوں میں کہیں کہ دیکھو ایک بونے والا بیج بونے نِکلا۔ 

10۔ شاگِردوں نے پاس آ کر اُس سے کہا کہ تو اُن سے تِمثیلوں میں کِیُوں باتیں کرتا ہے؟

11۔ اُس نے جواب میں اُن سے کہا اِس لئے کہ تُم کو آسمان کی بادشاہی کے بھیدوں کی سَمَجھ دی گئی ہے مگر اُن کو نہِیں دی گئی۔ 

13۔ میں اُن سے تِمثیلوں میں اِس لئے باتیں کرتا ہُوں کہ وہ دیکھتے ہوئے نہیں دیکھتے اور سُنتے ہوئے نہیں سُنتے اور نہیں سمجھتے۔ 

15 ۔ کِیُونکہ اِس اُمّت کے دِل پر چربی چھاگئی ہے اور وہ کانوں سے اُونچا سُنتے ہیں اور اُنہوں نے اپنی آنکھیں بند کرلیں ہیں تا اَیسا نہ ہو کہ آنکھوں سے معلُوم کریں اور کانوں سے سُنیں اور دِل سے سَمَجھیں اور رجوْع لائیں اور مَیں اُن کو شِفا بخشُوں۔

16 ۔ لیکِن مُبارک ہیں تُمہاری آنکھیں اِس لئے کو وہ دیکھتی ہیں اور تُمہارے کان اِس لئے کو وہ سُنتے ہیں۔

6۔ مرقس 7باب32تا35آیات

32۔ اور لوگوں نے ایک بہرے کو جو ہکلا بھی تھا اُس کے پاس لاکر اُس کی مِنّت کی کہ اپنا ہاتھ اُس پر رکھ۔ 

33 ۔ وہ اُس کو بھِیڑ میں سے الگ لے گیا اور اپنی اُنگلِیاں اُس کے کانوں میں ڈالیں اور تُھوک کر اُس کی زبان چُھوئی۔ 

34 ۔ اور آسمان کی طرف نظر کر کے ایک آہ بھری اور اُس سے کہا اِفتّح یعنی کھُل جا۔ 

35 ۔ اور اُس کے کان کھُل گئے اور اُس کی زبان کی گِرہ کھُل گئی اور وہ صاف بولنے لگا۔ 

7۔ یسعیاہ 29باب17تا19، 24آیات

17۔ کیا تھوڑا ہی عرصہ باقی نہیں کہ لبنان شاداب میدان ہو جائیگا اور شاداب میدان جنگل گنا جائیگا۔ 

18۔ اور اس وقت بہرے کتاب کی باتیں سنیں گے اور اندھوں کی آنکھیں تاریکی اوراندھیرے میں سے دیکھیں گی۔ 

19۔ تب مسکین خداوند میں زیادہ خوش ہونگے اورغریب و محتاج اسرائیل کے قدوس میں شادمان ہونگے۔ 

24۔ اور وہ بھی جو روح میں گمراہ ہیں فہم حاصل کرینگے اوربڑبڑانے والے تعلیم پذیر ہونگے۔



سائنس اور صح


1۔ 275: 6۔9، 20۔24

الٰہی سائنس کا واضح نقطہ یہ ہے کہ خدا، روح ، حاکمِ کْل ہے، اور اْس کے علاوہ کوئی طاقت ہے نہ کوئی عقل ہے، کہ خدا محبت ہے، اور اسی لئے وہ الٰہی اصول ہے۔ 

الٰہی طبعیات، جیسے کہ روحانی فہم پر ظاہر ہوئی ہے، واضح طور پرایاں کرتی ہیں کہ سب کچھ عقل ہی ہے، اور یہ عقل خدا، قادرِ مطلق، قاد ر الظہور، علام الغیوب، یعنی سب قدرت والا، سب جگہ ظاہر، اور سب جاننے والا ہے۔ لہٰذہ سب کچھ جو حقیقی ہے وہ عقل کا اظہار ہے۔ 

2۔ 591: 16۔20

عقل۔ واحد مَیں، یا ہم؛ واحد روح، ہستی، الٰہی اصول، اصل، زندگی، حق، محبت؛ خدائے واحد، وہ نہیں جو انسان میں ہے، بلکہ الٰہی اصول یا خدا، انسان جس کا مکمل اور کامل اظہار ہے، الوہیت، جو واضح کرتی ہے مگر واضح ہوتی نہیں۔

3۔ 488: 23۔31

عقل تمام تر فہم، ادراک اور اِستعداد کی ملکیت رکھتی ہے۔ اس لئے ذہنی صلاحتیں تنظیم سازی اورتعفن پذیری کے رحم وکرم پر نہیں ہیں، وگرنہ اس کے کیڑے انسان کو نیست کر دیں۔ اگر انسان کے حقیقی حواس کے لئے زخمی ہونا ممکن ہوتا تو روح کو انہیں تمام تر کاملیت میں دوبارہ خلق کر دینا چاہئے؛ لیکن یہ خراب یا برباد نہیں کئے جا سکتے، کیونکہ یہ فانی عقل میں وجود رکھتے ہیں نہ کہ فانی مادے میں۔

4۔ 586: 3۔6

آنکھیں۔ روحانی شعور، مادی نہیں بلکہ ذہنی۔ 
یسوع نے کہا، بیرونی منظر کو دیکھتے ہوئے، ’’آنکھیں ہیں اور تْم دیکھتے نہیں؟‘‘ (مرقس 8: 18)۔ 

5۔ 585: 1۔4

کان۔ نام نہاد مادی حواس کے اعضاء نہیں،بلکہ روحانی تفہیم۔ یسوع نے کہا، روحانی ادراک کے حوالے سے، ’’کان ہیں اور سْنتے نہیں؟‘‘ (مرقس 8:18)۔

6۔ 486: 23۔2

بصیرت، سماعت تمام تر روحانی احساسات ابدی ہیں۔ یہ ختم نہیں ہو سکتے۔ اِن کی حقیقت اور لافانیت روح اور تفہیم میں ہیں نہ کہ مادے میں، اسی طرح اْن کا استحکام بھی۔ اگر ایسا نہیں ہوتا تو انسان جلد ہی نیست کر دیا جاتا۔ اگر مادی حواسِ خمسہ وہ آلہ ہوتے جن سے خدا کو سمجھا جا سکتا تو فالج، نابینائی اور بہراپن انسان کو ایک خوفناک صورت حال میں لے جاتے، جہاں وہ دوسروں کی مانند ہوتا ’’بنا کسی امید اور خدا کے بغیر دنیا میں‘‘؛ لیکن حقیقت میں، یہ آفات عموماً بشر کو خوشی اور وجود کے بڑے احساس کے طالب ہونے اور ڈھونڈنے کی جانب گامزن کرتی ہیں۔ 

7۔ 393: 25۔28

جب یسوع یہ واضح کرتا ہے کہ ’’بدن کا نور آنکھ ہے‘‘ تو یقیناًاْس کا مطلب یہ ہے کہ نور کا انحصار عقل پر ہے نہ کہ پچیدہ رطوبتوں، عدسوں، پٹھوں، آنکھ کی پْتلی یا جھِلی پر ہوتا ہے جو بصری عضو کو تعمیر کرتے ہیں۔

8۔ 284: 28۔6

کرسچن سائنس کے مطابق، صرف وہی انسانی حواس روحانی ہیں جو الٰہی عقل سے جاری ہوتے ہیں۔ خیالات خدا سے انسان میں منتقل ہوتے ہیں لیکن نہ احساس اور نہ ہی رپورٹ مادی جسم سے عقل میں جاتے ہیں۔باہمی رابطہ ہمیشہ خدا سے اْس کے خیال یعنی انسان میں منتقل ہوتا ہے۔ مادہ ذی شعور نہیں ہے اور یہ اچھائی یا برائی، خوشی یا درد سے آگاہ نہیں ہوسکتا۔ انسان کی انفرادیت مادی نہیں ہے۔ صرف آخرت جسے انسان جنت کہتا ہے میں ہی نہیں بلکہ ابھی اور یہیں حاصل کنندہ ہونے کی سائنس وقت اور ابدیت کے لئے بڑی حقیقت ہے۔ 

9۔ 285: 11۔14، 17۔22،27۔31

اس دعوے کا وہم کہ بشر خدا کی حقیقی شبیہ ہے روح اور مادے، عقل اور جسم کی متضاد فطرتوں سے واضح ہوتا ہے کیونکہ ایک فہیم ہے تو دوسرا نافہم ہے۔

وقت آگیا ہے کہ لامحدود اور مادی جسم کا فانی تصور عقل کی نشست فہم کے الٰہی احساس اور اْس کے اظہار کو دے، یہ سائنس نہایت اعلیٰ ہستی یا الٰہی اصول اور خیال کی بہتر سمجھ مہیا کرتی ہے۔ 

کرسچن سائنس کے وسیلہ سے جب انسان ایک بلند شعور پر پہنچتے ہیں، تو وہ مادے سے نہیں بلکہ الٰہی اصول یعنی خدا سے سیکھیں گے کہ کیسے مسیح یعنی سچائی کو بطور شفا اور سلامتی کی طاقت بیان کرنا ہے۔ 

10۔ 84: 11۔23

ماضی ، حال اور مستقبل کو جاننا ازلی، الٰہی عقل اور اس عقل سے تعلق رکھنے والے خیال کا خاص حق ہے۔

ہستی کی سائنس سے آگاہی ہمیں مزید وسیع پیمانے پر الٰہی عقل کے ساتھ مکالمہ کرنے کے قابل بناتی ہے، تاکہ اْن واقعات کی پیش گوئی اور پیش بینی کی جائے جو کائنات کی فلاح سے تعلق رکھتے ہیں، تاکہ الٰہی لحاظ سے متاثر ہوا جا سکے اور البتہ آزاد عقل کی وسعت کو چھوْا جا سکے۔

یہ سمجھنا کہ عقل لامحدود ہے، مادیت میں جکڑی نہیں، بصیرت اور سماعت کے لئے آنکھ اور کان کی محتاج نہیں نہ ہی قوت حرکت کے لئے پٹھوں اور ہڈیوں پر انحصار کرتی ہے، عقل کی اْس سائنس کی جانب ایک قدم ہے جس کی بدولت ہم انسان کی فطرت اور وجود سے متعلق آگاہی پاتے ہیں۔ 

11۔ 467: 9۔16

اس بات کی پوری طرح سے سمجھ آجانی چاہئے کہ تمام انسانوں کی عقل ایک ہے، ایک خدا اور باپ، ایک زندگی، حق اور محبت ہے۔ جب یہ حقیقت ایک تناسب میں ایاں ہوگی تو انسان کامل ہوجائے گا، جنگ ختم ہو جائے گی اور انسان کا حقیقی بھائی چارہ قائم ہو جائے گا۔دوسرے دیوتا نہ ہونا، دوسروں کی طرف جانے کی بجائے راہنمائی کے لئے ایک کامل عقل کے پاس جاتے ہوئے، انسان خدا کی مانند پاک اور ابدی ہوجاتا ہے، جس کے پاس وہی عقل ہے جو مسیح میں بھی تھی۔ 

12۔ 470: 21۔28، 32۔5

خدا انسان کا خالق ہے، اور انسان کا الٰہی اصول کامل ہونے سے الٰہی خیال یا عکس یعنی انسان کامل ہی رہتا ہے۔ انسان خدا کی ہستی کا ظہور ہے۔ اگر کوئی ایسا لمحہ تھا جب انسان نے الٰہی کاملیت کا اظہار نہیں کیا تو یہ وہ لمحہ تھا جب انسان نے خدا کو ظاہر نہیں کیا، اور نتیجتاً یہ ایک ایسا وقت تھا جب الوہیت یعنی وجود غیر متوقع تھا۔ 

سائنس میں خدا اور انسان، الٰہی اصول اور خیال ، کے تعلقات لازوال ہیں ؛ اور سائنس بھول چوک جانتی ہے نہ ہم آہنگی کی جانب واپسی، لیکن یہ الٰہی ترتیب یا روحانی قانون رکھتی ہے جس میں خدا اور جو کچھ وہ خلق کرتا ہے کامل اور ابدی ہیں، جو اس کی پوری تاریخ میں غیر متغیر رہے ہیں۔ 

13۔ 487: 6۔12

از روئے مادہ کی نسبت روحانی طور پر سننے اور دیکھنے میں زیادہ مسیحت ہے۔ ذہنی صلاحیتوں کے کھو جانے کی نسبت اْن کی مستقل مشق میں زیادہ سائنس ملتی ہے۔ وہ کھو تو سکتی نہیں، تاہم عقل ہمیشہ رہتی ہے۔ اس کے ادراک نے صدیوں پہلے اندھے کو بینائی اور بہرے کو سماعت دی، اور یہ ان معجزات کو دوہرائے گی۔


روز مرہ کے فرائ

منجاب میری بیکر ایڈ

روز مرہ کی دعا

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ ہر روز یہ دعا کرے: ’’تیری بادشاہی آئے؛‘‘ الٰہی حق، زندگی اور محبت کی سلطنت مجھ میں قائم ہو، اور سب گناہ مجھ سے خارج ہو جائیں؛ اور تیرا کلام سب انسانوں کی محبت کو وافر کرے، اور اْن پر حکومت کرے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 4۔

مقاصد اور اعمال کا ایک اصول

نہ کوئی مخالفت نہ ہی کوئی محض ذاتی وابستگی مادری چرچ کے کسی رکن کے مقاصد یا اعمال پر اثر انداز نہیں ہونی چاہئے۔ سائنس میں، صرف الٰہی محبت حکومت کرتی ہے، اور ایک مسیحی سائنسدان گناہ کو رد کرنے سے، حقیقی بھائی چارے ، خیرات پسندی اور معافی سے محبت کی شیریں آسائشوں کی عکاسی کرتا ہے۔ اس چرچ کے تمام اراکین کو سب گناہوں سے، غلط قسم کی پیشن گوئیوں،منصفیوں، مذمتوں، اصلاحوں، غلط تاثر ات کو لینے اور غلط متاثر ہونے سے آزاد رہنے کے لئے روزانہ خیال رکھنا چاہئے اور دعا کرنی چاہئے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 1۔

فرض کے لئے چوکس

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ وہ ہر روز جارحانہ ذہنی آراء کے خلاف خود کو تیار رکھے، اور خدا اور اپنے قائد اور انسانوں کے لئے اپنے فرائض کو نہ کبھی بھولے اور نہ کبھی نظر انداز کرے۔ اس کے کاموں کے باعث اس کا انصاف ہوگا، وہ بے قصور یا قصوارہوگا۔ 

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 6۔


████████████████████████████████████████████████████████████████████████