اتوار 24مارچ ، 2019 مضمون۔ مادا |

اتوار 24مارچ ، 2019



مضمون۔ مادا

سنہری متن:یرمیاہ 2 باب 18آی



’’کیا کسی قوم نے اپنے معبودوں کو حالانکہ وہ خدا نہیں بدل ڈالا؟۔‘‘





سبق کی آڈیو کے لئے یہاں کلک کریں

یوٹیوب سے سننے کے لئے یہاں کلک کریں

████████████████████████████████████████████████████████████████████████


جوابی مطالعہ: یسعیاہ 51باب 4 تا 6آیاتیسعیاہ 32 باب 17اور 18آیات


4۔ میری طرف متوجہ ہواے میرے لوگو!میری طرف کان لگا اے میری اُمت! کیونکہ شریعت مجھ سے صادر ہو گی اور میں اپنے عدل کو لوگوں کی روشنی کے لئے قائم کروں گا۔

5۔ میری صداقت نزدیک ہے۔میری نجات ظاہر ہےاور میرےبازو لوگوں پر حکمرانی کریں گے۔جزیرے میرا انتظار کریں گےاور میرے بازو پر اُن کا توکل ہو گا۔

6۔ اپنی آ نکھیں آسمان کی طرف اُٹھاؤ اور نیچے زمین پر نگاہ کرو۔کیونکہ آ سمان دُھوئیں کی مانند غائب ہو جائیں گے اور زمین کپڑے کی طرح پرانی ہو جائے گی اور اُس کے باشندے مچھروں کی طرح مر جائیں گے لیکن میری نجات ابد تک رہے گی اور میری صداقت موقوف نہ ہو گی۔

17۔ اورصداقت کا انجام صلح ہو گا اورصداقت کا پھل ابدی آرام و اطمینان ہو گا ۔

18۔ اور میرے لوگ سلامتی کے مکانوں میں اور بے خطر گھروں میں اور آسودگی اور آسایش کے کاشانوں میں رہینگے۔



درسی وعظ



بائبل


درسی وعظ

بائبل

1۔ زبور90: 1،2 آیت

1 ۔یارب! پُشت در پُشت تُو ہماری پناہ گاہ رہا ہے۔

2 ۔اِس سے پیشتر کہ پہاڑ پیدا ہوئے یا زمین اور دُنیا کو تُو نے بنایا۔ ازل سے ابدتک تُو ہی خُدا ہے۔

2۔ زبور 115: 1تا 8،11 آیات

1 ۔ہمکو نہیں! اَے خُداوند! ہمکو نہیں بلکہ تُو اپنے ہی نام کو اپنی شفقت اور سچّائی کی خاطر جلال بخش۔

2 ۔قومیں کیوں کہیں اب اُنکا خُدا کہاں ہے؟

3۔ ہمارا خُدا تو آسمان پر ہے۔ اُس نے جو کچھ چاہا وہی کیا۔

4۔ اُنکے بُت چاندی اور سونا ہیں یعنی آدمی کی دستکاری۔

5۔ اُنکے مُنہ ہیں پر وہ بولتے نہیں۔ آنکھیں ہیں پر وہ دیکھتے نہیں۔

6۔ اُنکے کان ہیں پر وہ سنتے نہیں ناک ہے پر وہ سُونگھتے نہیں۔

7۔ اُنکے ہاتھ ہیں پر وہ چھُوتے نہیں پاؤں ہیں پر وہ چلتے نہیں اور اُن کے گلے سے آواز نہیں نکلتی۔

8۔ اُنکے بنانے والے اُن ہی کی مانند ہو جائینگے۔بلکہ وہ سب جو اُن پر بھروسہ رکھتے ہیں۔

11۔ اَے خُداوند سے ڈرنے والو! خُداوند پر توکل کرو۔وہی اُنکی کُمک اور اُنکی سِپر ہے۔

3۔ 2سلاطین 6باب 1،2،4 (اور) 7آیت

1۔ اور انبیا زادوں نے الیشع سے کہا دیکھ ! یہ جگہ جہاں ہم تیرے سامنے رہتے ہیں ہمار ے لیے تنگ ہے

2۔ سو ہم کو ذرا یردن کو جانے دے کہ ہم وہاں سے ایک کڑی لیں اور وہیں کوئی جگہ بنائیں جہاں ہم رہ سکیں اُس نے جواب دیا جاو ۔

4۔ اور جب وہ یردن پر پہنچے تو لکڑی کاٹنے لگے ۔

5۔ لیکن ایک کی کُلہاڑی کا لوہا جب وہ کڑی کاٹ رہا تھا پانی میں گِر گیا سو وہ چِلا اُٹھا اورکہنے لگا ہائے میرے مالک یہ تو مانگا ہوا تھا ۔

6۔ مردِ خُدا نے کہا وہ کس جگہ گِرا ؟ اُس نے اُ سے وہ جگہ دکھائی تب اُس نے ایک چھڑی کا ٹکڑا اُس جگہ ڈال دیا اور لوہا تیرنے لگا ۔

7۔ پھر اُس نے کہا اپنے لیے اُٹھا لے سو اُس نے ہاتھ بڑھا کر اُسے اُٹھا لیا ۔

4۔ یسعیاہ10 باب 15آیت

15۔ کیا کلہاڑا اس کے روبرو جو اُس سے کاٹتا ہے لاف زنی کریگا ؟ کیا ارّہ ارّہ کش کے سامنے شیخی مارے گا؟ گویا عصا اپنے اٹھانے والے کو حرکت دیتا ہے اور چھڑی آدمی کو اٹھاتی ہے۔

5۔ حبقوق 2باب 18 تا 20آیات

18۔ کھودی ہوئی مورت سے کیا حاصل کہ اس کے بنانے والے نے اسے کھود کر بنایا؟ ڈھالی ہوئی مورت اور جھوٹ سکھانے والے سے کیا فائدہ کہ اس کا بنانے والا اس پر بھروسا رکھتا اور گونگے بُتوں کو بناتا ہے؟ ۔

19۔ اس پر افسوس جو لکڑی سے کہتا ہے جاگ ! اور بے زبان پتھر سے کہ اُٹھ ! کیا وہ تعلیم دے سکتا ہے؟ دیکھ وہ تو سونے چاندی سے مڑھا ہے لیکن اس میں مطلق دم نہیں۔

20۔ مگر خُداوند اپنی مقدس ہیکل میں ہے۔ ساری زمین اس کے حضور خاموش رہے۔

6۔ متی14 باب 14آیت

14۔ اُس نے اُتر کر بڑی بھیڑ دیکھی اور اُسے اُن پر ترس آیا اور اُس نے اُن کے بِیماروں کو اچھّا کردِیا۔

7۔ یوحنا 6باب 1،2، 5، 8تا 12، 16تا 21، 24 تا 27آیات

1۔ اِن باتوں کے بعد یِسُوع گلِیل کی جِھیل یعنی تِبریاس کی جِھیل کے پار گیا۔

2۔ اور بڑی بِھیڑ اُس کے پِیچھے ہولی کِیُونکہ جو مُعجِزے وہ بِیماروں پر کرتا تھا اُن کو وہ دیکھتے تھے۔

5۔ پَس جب یِسُوع نے اپنی آنکھیں اُٹھا کر دیکھا کہ میرے پاس بڑی بِھیڑ آرہی ہے تو فِلِپُّس سے کہا کہ ہم اِن کے کھانے کے لِئے کہاں سے روٹِیاں مول لیں؟۔

8۔ اُس کے شاگِردوں میں سے ایک نے یعنی شمعُون پطرس کے بھائِی اِندریاس نے اُس سے کہا۔

9۔یہاں ایک لڑکا ہے جِس کے پاس جَوکی پانچ روٹِیاں اور دو مچھلِیاں ہیں مگر یہ اِتنے لوگوں میں کیا ہیں؟۔

10۔یِسُوع نے کہا کہ لوگوں کو بِٹھاؤ اور اُس جگہ بہُت گھاس تھی۔ پَس وہ مرد جو تخمِیناً پانچ ہزار تھے بَیٹھ گئے۔

11۔ یِسُوع نے دو روٹِیاں لِیں اور شُکر کر کے اُنہِیں جو بَیٹھے تھے بانٹ دِیں اور اسی طرح مَچھلِیوں میں سے جِس قدر چاہتے تھے بانٹ دِیا۔

12۔ جب وہ سیر ہو چُکے تو اُس نے اپنے شاگِردوں سے کہا کہ بچے ہُوئے ٹکُڑوں کو جمع کرو تاکہ کُچھ ضائع نہ ہو۔

16۔ پِھر جب شام ہُوئی تو اُس کے شاگِرد جِھیل کے کِنارے گئے۔

17۔ اور کَشتی میں بَیٹھ کر جِھیل کے پار کفر نحُوم کو چلے جاتے تھے۔ اُس وقت اَندھیرا ہو گیا تھا اور یِسُوع ابھی تک اُن کے پاس نہ آیا تھا۔

18۔ اور آندھی کے سبب سے جِھیل میں مَوجیں اُٹھنے لگیں۔

19۔ پَس جب وہ کھیتے کھیتے تِین چار مِیل کے قریب نِکل گئے تو اُنہوں نے یِسُوع کو جِھیل پر چلتے اور کَشتی کے نزدِیک آتے دیکھا اور ڈر گئے۔

20۔مگر اُس نے اُن سے کہا مَیں ہُوں۔ ڈرو مت۔

21۔پَس وہ اُسے کَشتی میں چڑھا لینے کو راضی ہُوئے اور فوراً وہ کَشتی اُس جگہ جا پہُنچی جہاں وہ جاتے تھے۔

24۔پَس جب بِھیڑ نے دیکھا کہ یہاں نہ یِسُوع ہے نہ اُس کے شاگِرد تو وہ خُود چھوٹی کشتیوں میں بَیٹھ کر یِسُوع کی تلاش میں کفر نحُوم کو آئے۔

25۔اور جِھیل کے پار اُس سے مِل کر کہا اَے ربّی!تُو یہاں کب آیا؟۔

26۔یِسُوع نے اُن کے جواب میں کہا مَیں تُم سے سَچ کہتا ہُوں کہ تُم مُجھے اِس لِئے نہِیں ڈھُونڈتے کہ مُعجِزے دیکھے بلکہ اِس لِئے کہ تُم روٹِیاں کھا کر سیر ہُوئے۔

27۔فانی خوراک کے لِئے محِنت نہ کرو اُس خوراک کے لِئے جو ہمیشہ کی زِندگی تک باقی رہتی ہے جِسے اِبنِ آدم تُمہیں دے گا کِیُونکہ باپ یعنی خُدا نے اُسی پر مُہر کی ہے۔

8۔ متی 6باب19، 20،24 (ہاں) ، 25 (تا۔) ، 32 (آپ کے لئے) ، 33 آیات

19۔ اپنے واسطے زمِین پر مال جمع نہ کرو جہاں کِیڑا اور زنگ خراب کرتا ہے اور جہاں چور نقب لگاتے اور چُراتے ہیں۔

20۔ بلکہ اپنے لِئے آسمان پر مال جمع کرو جہاں نہ کِیڑا خراب کرتا ہے نہ زنگ اور نہ وہاں چور نقب لگاتے اور چُراتے ہیں۔

24۔کوئی آدمِی دو مالِکوں کی خِدمت نہِیں کر سکتا کِیُونکہ یا تو ایک سے عَداوَت رکھّے گا اور دُوسرے سے مُحبّت۔ یا ایک سے مِلا رہے گا اور دُوسرے کو ناچِیز جانے گا۔ تُم خُدا اور دَولت دونوں کی خِدمت نہِیں کرسکتے۔

25۔اِس لِئے مَیں تُم سے کہتا ہُوں کہ اپنی جان کی فِکر نہ کرنا کہ ہم کیا کھائیں گے یا کیا پیئیں گے؟ اور نہ اپنے بَدَن کی کہ کیا پہنیں گے؟ کیا جان خوراک سے اور بَدَن پوشاک سے بڑھ کر نہِیں؟

32۔ ... اور تُمہارا آسمانی باپ جانتا ہے کہ تُم اِن سب چِیزوں کے مُحتاج ہو۔

33۔بلکہ تُم پہلے اُس کی بادشاہی اور اُسکی راستبازی کی تلاش کرو تو یہ سب چِیزیں بھی تُم کو مِل جائیں گی۔



سائنس اور صح


1۔ 468: 9(یہاں)۔ 11

مادے میں کوئی زندگی، سچائی ، ذہانت اورنہ ہی مواد پایا جاتا ہے۔کیونکہ خدا حاکم کْل ہے اس لئے سب کچھ لامتناہی عقل اور اْس کا لامتناہی اظہار ہے۔

2۔ 295: 5۔ 11

خدا کائنات، بشمول انسان، کو خلق کرتا اور اْس پر حکومت کرتا ہے۔ کائنات روحانی خیالات سے بھرپور ہے جنہیں وہ تیار کرتا ہے اور وہ اْس عقل کے فرمانبردار ہیں جو انہیں بناتی ہے۔ فانی عقل روحانی چیز کو مادے میں تبدیل کر دے گی اورپھر اس غلطی کی فانیت سے بچنے کے لئے انسان کی اصلی خودی کو ٹھیک کرے گی۔

3۔ 335: 7 (روح) ۔ 12

روح، یعنی خدا نے سب کو خود سے اور خود میں بنایا۔ روح نے مادے کو کبھی نہیں بنایا۔ روح میں ایسا کچھ نہیں ہے جس سے ماد ے کو بنایا جا سکے، کیونکہ جیسا کہ بائبل واضح کرتی ہے کہ’’جو کچھ پیدا ہوا اْس میں سے کوئی چیز بھی‘‘ لوگوس ، ایؤن یا خدا کے کلمے کے بغیرپیدا نہیں ہوئی۔

4۔ 134: 21۔8

حقیقی لوگوس قابل اثبات کرسچن سائنس ہے، ہم آہنگی کا فطری قانون جو اختلاف پر فتح مند ہوتا ہے، اس لئے نہیں کیونکہ یہ سائنس مافوق الفطری یا غیر طبعی ہے اور نہ ہی کیونکہ یہ الٰہی قانون کی خلاف ورزی ہے، بلکہ اسلئے کیونکہ یہ خدا یعنی نیکی کا ناقابل تبدیل قانون ہے۔ یسوع نے کہا ’’مجھے تو معلوم تھا تْو ہمیشہ میری سْنتا ہے‘‘؛ اور اْس نے لعذر کو زندہ کیا، طوفان کو تھاما، بیمار کو شفا دی، پانی پر چلا۔یہاں مادے کے مقابلے میں روحانی قدرت کی برتری پر یقین رکھنے کا الٰہی اختیار ہے۔

ایک معجزہ خدا کے قانون کو پورا کرتا ہے، لیکن اْس قانون کو توڑتا نہیں۔ یہ حقیقت خود معجزے کی نسبت زیادہ پْر اسرار لگتی ہے۔ زبور نویس نے یہ گایا: ’’اے سمندرتجھے کیا ہواکہ تُو بھاگتا ہے؟ اے یردن!تجھے کیا ہوا کہ تو پیچھے ہٹتا ہے؟ اَے پہاڑو! تمکو کیا ہوا کہ تُم مینڈھوں کی طرح اچھلتے ہو؟ اے پہاڑیو! تمکو کیا ہواکہ تُم بھیڑ کے بچوں کی طرح کودتی ہو؟اَے زمین تُو رب کے حضور۔ یعقوب کے خدا کے حضور تھرتھرا۔‘‘ یہ معجزہ کوئی اختلاف متعارف نہیں کراتا ، بلکہ خدا کے ناقابل تبدیل قانون کی سائنس کو قائم کرتے ہوئے بنیادی ترتیب کو واضح کرتا ہے۔

5۔ 127: 32۔2(پہلے تا)

چونکہ تمام تر سچائی الٰہی عقل سے جاری ہوتی ہے اس لئے اس میں جسمانی سائنس نہیں ہے۔ اس لئے سچائی انسان نہیں ہے، اور یہ مادے کا قانون نہیں ہے کیونکہ مادا قانون دینے والا نہیں ہے۔ سائنس الٰہی عقل کا ظہور ہے اور صرف یہی خدا کی صحیح تشریح کرنے کے قابل ہے۔ اس کا اصل روحانی ہے نہ کہ مادی۔ یہ الٰہی اظہارِ خیال ہے، یعنی تسلی دینے والا جو سچائی کی جانب گامزن کرتا ہے۔

کرسچن سائنس اِسے ترک کرتی ہے جسے فطری سائنس کہا جاتا ہے، اس حد تک کہ یہ غلط مفروضوں پر تعمیر کی گئی ہے کہ مادا خود قانون دینے والا ہے، کہ قانون مادی شرائط پر بنایا گیا ہے، اور یہ کہ یہ حتمی ہیں اور الٰہی عقل کی طاقت کو منسوخ کرتے ہیں۔ 

6۔ 162: 12۔22

تجربات نے اس حقیقت کی حمایت کی ہے کہ عقل جسم پر حکومت کرتی ہے، صرف ایک موقع پر نہیں بلکہ ہر موقع پر۔ روح کی لازوال استعداد مادے کی شرائط کے بغیر اور نام نہاد مادے کی موجودگی پر جھوٹے ایمان کے بغیر وجود رکھتی ہے۔ سائنس کے اصولوں کو عمل میں لاتے ہوئے، مصنف نے تیز اور دائمی بیماری کی شدید صورتوں میں صحت مندی بحال کی ہے۔ رطوبتیں تبدیل ہو گئیں ہیں، ڈھانچہ کو جدید کیا گیا ہے، چھوٹے اعضاء کو بڑا کیا گیا ہے، جوڑوں کی اکڑن کو ملائم کیا گیا ہے، بوسیدہ ہڈیوں کو صحتمند حالت میں بحال کیا گیا ہے۔

7۔ 273: 1۔4، 7۔18، 21۔28

مادا اور اِس کے گناہ، بیماری اور موت کے دعوے خدا کے خلاف ہیں اور اْس سے جاری نہیں ہو سکتے۔ مادی سچائی کوئی نہیں ہوتی۔ جسمانی حواس خدا اور روحانی سچائی کی آگاہی نہیں حاصل کر سکتے۔ ۔۔۔مادی قیاس کی تفرقات سائنسی نہیں ہیں۔وہ حقیقی سائنس سے مختلف ہوتے ہیں کیونکہ وہ الٰہی قانون پر بنیاد نہیں رکھتے۔ 

الٰہی سائنس مادی حواس کی جھوٹی گواہی کو تبدیل کر دیتی ہے، اور یوں غلطی کی بنیادوں کو توڑ دیتی ہے۔ لہٰذہ سائنس اور حواس کے مابین دْشمنی اور حسی غلطیوں کی بدولت کامل سمجھ حاصل کرنے کے ناممکنات ختم ہو جاتے ہیں۔ 

مادے کے نام نہاد قوانین اور طبی سائنس نے کبھی بشر کو مکمل، ہم آہنگ اور لافانی نہیں بنایا۔ انسان تب ہم آہنگ ہوتا ہے جب روح کی نگرانی میں ہوتا ہے۔

خدا نے روحانی قانون کو منسوخ کرنے کے لئے کبھی مادی قانون کو مقرر نہیں کیا ۔ اگر کوئی ایسا مادی قانون تھا تو وہ روح یعنی خدا کی بالادستی کے مخالف اور خالق کی حکمت پر معترض تھا۔ یسوع مادی قوانین کی براہ راست مخالفت میں پانی کی لہروں پر چلا، بھیڑ کو کھانا کھِلایا، بیمار کو شفا دی اور مردوں کو زندہ کیا ۔ اْس کے اعمال مادی حس یا قانون کے جھوٹے دعووں پر حاوی ہوتے ہوئے سائنس کا اظہار تھے۔ 

8۔ 485: 2۔7

مادی حس ایک مضحکہ خیز فقرہ ہے، کیونکہ مادے میں کوئی احساس نہیں ہے۔ سائنس یہ واضح کرتی ہے کہ عقل دیکھتی ہے، سْنتی ہے ، محسوس کرتی ہے اور بولتی ہے نہ کہ مادا۔ ا س بیان کی جو بھی مخالفت کرتا ہے وہ جھوٹی حِس ہے، جو بیماری، گناہ اور موت میں بشر کو دھوکہ دیتی ہے۔ 

9۔ 479: 8صرف، 10۔15

مادا نہ ہی خود کار وجود ہے اور نہ روح کی پیداوار ہے۔ ۔۔۔مادا دیکھ، سْن، محسوس چکھ اور سونگھ نہیں سکتا۔ یہ خود ادراک نہیں رکھتا، خود کو محسوس نہیں کر سکتا، خود کو دیکھ نہیں سکتا نہ ہی خود کو سمجھ سکتا ہے۔ نام نہاد فانی عقل کو نکال باہر کریں جو مادے کی فرضی خودی کو تشکیل دیتی ہے، اور مادا مادے سے ہی آگاہ نہیں ہوسکتا۔

10۔ 205: 7۔13

یہ ماننا کہ مادے میں زندگی ہے، اور یہ کہ گناہ، بیماری اور موت خدا کی تخلیق کردہ ہیں،یہ غلطی کب بے نقاب ہوگی؟ یہ کب سمجھا جائے گاکہ مادے میں نہ تو ذہانت، زندگی ہے اور نہ ہی احساس ہے اور یہ کہ اِس کا متضاد ایمان تمام دْکھوں کا ثمردار وسیلہ ہے؟ خدا نے سب کچھ عقل سے بنایا اور سب کچھ کامل اور ابدی بنایا۔ 

11۔ 492: 13۔21(دوسرے تا۔)، 25۔28

نئے خیالات متواتر طور پر بڑھ رہے ہیں۔ یہ دو مخالف نظریات، کہ مادا کچھ ہے، یا عقل ہی سب کچھ ہے، اْس وقت تک زمین پر متنازعہ رہیں گے جب تک کسی ایک کو فتح مند تسلیم نہیں کیا جاتا۔ جنرل گرانٹ نے اپنی مہم سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا: ’’اگر اس میں پورا موسم گرما بھی لگتا ہے تو مَیں اس زمین پر لڑنے کی تجویز دیتا ہوں۔‘‘ سائنس کہتی ہے: سب کچھ عقل اور عقل کا خیال ہے۔ آپ کو اس زمین پر لڑنا چاہئے۔ مادا آپ کے لئے کوئی مدد فراہم نہیں کر سکتا۔ 

خدا عقل ہے، اور خدا لامحدود ہے؛ لہٰذہ سبھی کچھ عقل ہے۔ اس بیان پر وجود کی ساری سائنس بنیاد رکھتی ہے اور سائنس کا اصول ہم آہنگی اور لافانیت کا اظہار کرتے ہوئے الٰہی ہے۔

12۔ 390: 32۔6

روح کی بالا دستی کے خلاف صف آراء فانی عقل عرف مادے کے عْذر کو زیر کرنے کے لئے سچائی کی روح کی بیدار طاقت میں جاگیں۔ فانی سوچ کے تصورات اور بیماری اور گناہ میں اْس کے یقین کو مٹا ڈالیں۔ پھر ، جب آپ کو سچائی یعنی مسیح کی عدالت کے لئے آزاد کیا جاتا ہے تو مْنصف کہے گا، ’’تْم کامل ہو!‘‘


روز مرہ کے فرائ

منجاب میری بیکر ایڈ

روز مرہ کی دعا

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ ہر روز یہ دعا کرے: ’’تیری بادشاہی آئے؛‘‘ الٰہی حق، زندگی اور محبت کی سلطنت مجھ میں قائم ہو، اور سب گناہ مجھ سے خارج ہو جائیں؛ اور تیرا کلام سب انسانوں کی محبت کو وافر کرے، اور اْن پر حکومت کرے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 4۔

مقاصد اور اعمال کا ایک اصول

نہ کوئی مخالفت نہ ہی کوئی محض ذاتی وابستگی مادری چرچ کے کسی رکن کے مقاصد یا اعمال پر اثر انداز نہیں ہونی چاہئے۔ سائنس میں، صرف الٰہی محبت حکومت کرتی ہے، اور ایک مسیحی سائنسدان گناہ کو رد کرنے سے، حقیقی بھائی چارے ، خیرات پسندی اور معافی سے محبت کی شیریں آسائشوں کی عکاسی کرتا ہے۔ اس چرچ کے تمام اراکین کو سب گناہوں سے، غلط قسم کی پیشن گوئیوں،منصفیوں، مذمتوں، اصلاحوں، غلط تاثر ات کو لینے اور غلط متاثر ہونے سے آزاد رہنے کے لئے روزانہ خیال رکھنا چاہئے اور دعا کرنی چاہئے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 1۔

فرض کے لئے چوکس

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ وہ ہر روز جارحانہ ذہنی آراء کے خلاف خود کو تیار رکھے، اور خدا اور اپنے قائد اور انسانوں کے لئے اپنے فرائض کو نہ کبھی بھولے اور نہ کبھی نظر انداز کرے۔ اس کے کاموں کے باعث اس کا انصاف ہوگا، وہ بے قصور یا قصوارہوگا۔ 

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 6۔


████████████████████████████████████████████████████████████████████████