اتوار 24 مئی، 2020 |

اتوار 24 مئی، 2020 



مضمون۔ جان اور جسم

SubjectSoul and Body

سنہری متن:سنہری متن: زبور 62: 1آیت

’’میری جان کو خداوند کو ہی کی آس ہے۔ میری نجات اْسی سے ہے۔‘‘



Golden Text: Psalm 62 : 1

Truly my soul waiteth upon God: from him cometh my salvation.





سبق کی آڈیو کے لئے یہاں کلک کریں

یوٹیوب سے سننے کے لئے یہاں کلک کریں

████████████████████████████████████████████████████████████████████████


جوابی مطالعہ: زبور 121: 1 تا 8 آیات


1۔ میں اپنی آنکھیں پہاڑ کی طرف اٹھاؤں گا میری کمک کہاں سے آئے گی؟

2۔ میری کمک خداوند سے ہے جس نے آسمان اور زمین کو بنایا۔

3۔ وہ تیرے پاؤں کو پھسلنے نہ دے گا۔ تیرا محافظ اونگھنے کا نہیں۔

4۔ دیکھ! اسرائیل کا محافظ نہ اونگھے گا نہ سوئے گا۔

5۔ خداوند تیرا محافظ ہے۔ خداوند تیرے داہنے ہاتھ پر تیرا سائبان ہے۔

6۔ نہ آفتاب دن کو تجھے ضرر پہنچائے گا نہ مہتاب رات کو۔

7۔ خداوند ہر بلا سے تجھے محفوظ رکھے گا۔اور تیری جان کو محفوط رکھے گا۔

8۔ خداوند تیری آمد و رفت میں اب سے ہمیشہ تک تیری حفاظت کرے گا۔

Responsive Reading: Psalm 121 : 1-8

1.     I will lift up mine eyes unto the hills, from whence cometh my help.

2.     My help cometh from the Lord, which made heaven and earth.

3.     He will not suffer thy foot to be moved: he that keepeth thee will not slumber.

4.     Behold, he that keepeth Israel shall neither slumber nor sleep.

5.     The Lord is thy keeper: the Lord is thy shade upon thy right hand.

6.     The sun shall not smite thee by day, nor the moon by night.

7.     The Lord shall preserve thee from all evil: he shall preserve thy soul.

8.     The Lord shall preserve thy going out and thy coming in from this time forth, and even for evermore.



درسی وعظ



بائبل


درسی وعظ

بائبل

1۔ زبور 34: 22 آیت

22۔ خداوند اپنے بندوں کی جان کا فدیہ دیتا ہے اور جو اْس پر توکل کرتے ہیں اْن میں سے کوئی مجرم نہ ٹھرے گا۔

1. Psalm 34 : 22

22     The Lord redeemeth the soul of his servants: and none of them that trust in him shall be desolate.

2۔ زبور 35: 9 آیت(میری)

9۔۔۔۔میری جان خداوند میں خوش رہے گی اور اْس کی نجات سے شادمان ہوگی۔

2. Psalm 35 : 9 (my)

9      …my soul shall be joyful in the Lord: it shall rejoice in his salvation.

3۔ 1 سلاطین 17 باب1، 8، 9، 17تا24 آیات

1۔ اور ایلیاہ تشبی جو جلعاد کے پردیسیوں میں سے تھا اخی اب سے کہا کہ خُداوند اسرائیل کے خُدا کی حیات کی قسم جسکے سامنے میں کھڑا ہوں اِن برسوں میں نہ اوس پڑے گی نہ مینہ برسیگا جب تک میں نہ کہوں۔

8۔ تب خُداوند کا یہ کلام اُس پر نازل ہوا۔

9۔ کہ اٹھ اور صیدا کے صارپت کو جا اور وہیں رہ۔ دیکھ میں نے ایک بیوہ کو وہاں حکم دیا ہے کہ تیری پرورش کرے۔

17۔ اْن باتوں کے بعد اْس عورت کا بیٹا جو اْس گھر کی مالک تھی بیمار پڑا اور اْس کی بیماری ایسی سخت ہو گئی کہ اْس میں دم باقی نہ رہا۔

18۔ سو وہ ایلیاہ سے کہنے لگی، اے مردِ خدا مجھے تجھ سے کیا کام؟ تْو میرے بیٹے کو مار دے!

19۔ اْس نے اْس سے کہا اپنا بیٹا مجھ کو دے اور وہ اْس کو اْس کی گود سے لے کر اْس کو بالا خانہ پر جہاں وہ رہتا تھا لے گیا اور اْسے اپنے پلنگ پر لٹایا۔

20۔ اور اْس نے خداوند سے فریاد کی اور کہا اے خداوند میرے خدا کیا تْونے اِس بیوہ پر بھی جس کے ہاں میں ٹکا ہوا ہوں اْس کے بیٹے کو مار ڈالنے سے بلا نازل کی؟

21۔ اور اْس نے اپنے آپ کو تین بار اْس لڑکے پر پسار کر خداوند سے فریاد کی اور کہا اے خداوند میرے خدا میں تیری منت کرتا ہوں کہ اِس لڑکے کی جان اْس میں پھر آجائے۔

22۔ اور خداوند نے ایلیاہ کی فریاد سنی اور اْس لڑکے کی جان اْس میں پھر آگئی اور وہ جی اٹھا۔

23۔ تب ایلیاہ اْس لڑکے کو اٹھا کر بالا خانہ پر سے نیچے گھر کے اندر لے گیا اور اْسے اس کی ماں کے سپرد کیا اور ایلیاہ نے کہا دیکھ تیرا بیٹا جیتا ہے۔

24۔ تب اْس عورت نے ایلیاہ سے کہا اب میں جان گئی کہ تْو مردِ خداہے اور خداوند کا جو کلام تیرے منہ میں ہے وہ حق ہے۔

3. I Kings 17 : 1, 8, 9, 17-24

1     And Elijah the Tishbite, who was of the inhabitants of Gilead, said unto Ahab, As the Lord God of Israel liveth, before whom I stand, there shall not be dew nor rain these years, but according to my word.

8     And the word of the Lord came unto him, saying,

9     Arise, get thee to Zarephath, which belongeth to Zidon, and dwell there: behold, I have commanded a widow woman there to sustain thee.

17     And it came to pass after these things, that the son of the woman, the mistress of the house, fell sick; and his sickness was so sore, that there was no breath left in him.

18     And she said unto Elijah, What have I to do with thee, O thou man of God? art thou come unto me to call my sin to remembrance, and to slay my son?

19     And he said unto her, Give me thy son. And he took him out of her bosom, and carried him up into a loft, where he abode, and laid him upon his own bed.

20     And he cried unto the Lord, and said, O Lord my God, hast thou also brought evil upon the widow with whom I sojourn, by slaying her son?

21     And he stretched himself upon the child three times, and cried unto the Lord, and said, O Lord my God, I pray thee, let this child’s soul come into him again.

22     And the Lord heard the voice of Elijah; and the soul of the child came into him again, and he revived.

23     And Elijah took the child, and brought him down out of the chamber into the house, and delivered him unto his mother: and Elijah said, See, thy son liveth.

24     And the woman said to Elijah, Now by this I know that thou art a man of God, and that the word of the Lord in thy mouth is truth.

4۔ زبور 116: 1، 3، 4، 7، 8 آیات

1۔ میں خداوند سے محبت رکھتا ہوں کیونکہ اْس نے میر ی فریاد سنی اور میری منت سنی ہے۔

3۔ موت کی رسیوں نے مجھے جکڑ لیا اور پاتال کے درد مجھ پر آپڑے۔ میں دْکھ اور غم میں گرفتار ہوا۔

4۔ تب میں نے خداوند سے دعا کی۔ کہ اے خداوند! میں تیری منت کرتا ہوں کہ میری جان کو رہائی بخش۔

7۔ اے میری جان پھر مطمین ہو کیونکہ خداوند نے تجھ پر احسان کیا ہے۔

8۔ اس لئے کہ تْونے میری جان کو موت سے میری آنکھوں کو آنسو بہانے سے اور میرے پاؤں کو پھسلنے سے بچایا ہے۔

4. Psalm 116 : 1, 3, 4, 7, 8

1     I love the Lord, because he hath heard my voice and my supplications.

3     The sorrows of death compassed me, and the pains of hell gat hold upon me: I found trouble and sorrow.

4     Then called I upon the name of the Lord; O Lord, I beseech thee, deliver my soul.

7     Return unto thy rest, O my soul; for the Lord hath dealt bountifully with thee.

8     For thou hast delivered my soul from death, mine eyes from tears, and my feet from falling.

5۔ متی 16 باب13تا18، 20، 21، 24تا28 آیات

13۔ جب یسوع قیصریہ فلپی کے علاقہ میں آیا تو اُس نے اپنے شاگردوں سے یہ پوچھا کہ لوگ ابن آدم کو کیا کہتے ہیں؟

14۔ انہوں نے کہا بعض یوحنا بپتسمہ دینے والا کہتے ہیں بعض ایلیاہ بعض یرمیاہ یا نبیوں میں سے کوئی۔

15۔ اُس نے اُن سے کہا مگر تم مجھے کیا کہتے ہو؟

16۔ شمعون پطرس نے جواب میں کہا تو زندہ خدا کا بیٹا مسیح ہے۔

17۔ یسوع نے جواب میں اُس سے کہا مبارک ہے تو شمعون بریوناہ کیونکہ یہ بات گوشت اور خون نے نہیں بلکہ میرے باپ نے جو آسمان پر ہے تجھ پر ظاہر کی ہے۔

18۔ اور مَیں تجھ سے کہتا ہوں کہ تْو پطرس ہے اور میں اِس پتھر پر اپنی کلیسیا بناؤں گا اور عالم ارواح کے دروازے اْس پر غالب نہ آئیں گے۔

20۔ اْس وقت اْس نے شاگردوں کو حکم دیا کہ کسی کو نہ بتانا کہ میں مسیح ہوں۔

21۔ اْس وقت سے یسوع اپنے شاگردوں پر ظاہر کرنے لگا کہ اْسے ضرور ہے کہ یروشلیم کو جائے اور بزرگوں اور سردار کاہنوں اور فقیہوں کی طرف سے بہت دْکھ اٹھائے اور قتل کیا جائے اور تیسرے دن جی اٹھے۔

24۔ اْس وقت یسوع نے اپنے شاگردوں سے کہا کہ اگر کوئی میرے پیچھے آنا چاہے تو وہ اپنی خودی کا انکار کرے اور اپنی صلیب اٹھائے اور میرے پیچھے ہو لے۔

25۔ کیونکہ جو کوئی اپنی جان بچاتا ہے وہ اْسے کھوئے گا اور جو کوئی میری خاطر اپنی جان کھوئے گا وہ اْسے پائے گا۔

26۔ اور اگر آدمی ساری دنیا حاصل کرے اور اپنی جان کا نقصان اٹھائے تو اْسے کیا فائدہ؟ یا آدمی اپنی جان کے بدلے کیا دے گا؟

27۔ کیونکہ ابن آدم اپنے باپ کے جلال میں اپنے فرشتوں کے ساتھ آئے گا۔ اْس وقت ہر ایک کو اْس کے کاموں کے مطابق بدلہ دے گا۔

28۔ میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ جو یہاں کھڑے ہیں اْن میں سے بعض ایسے ہیں کہ جب تک ابن آدم کو اْس کی بادشاہی میں آتے ہوئے نہ دیکھ لیں موت کا مزہ ہر گز نہ چکھیں گے۔

5. Matthew 16 : 13-18, 20, 21, 24-28

13     When Jesus came into the coasts of Cæsarea Philippi, he asked his disciples, saying, Whom do men say that I the Son of man am?

14     And they said, Some say that thou art John the Baptist: some, Elias; and others, Jeremias, or one of the prophets.

15     He saith unto them, But whom say ye that I am?

16     And Simon Peter answered and said, Thou art the Christ, the Son of the living God.

17     And Jesus answered and said unto him, Blessed art thou, Simon Barjona: for flesh and blood hath not revealed it unto thee, but my Father which is in heaven.

18     And I say also unto thee, That thou art Peter, and upon this rock I will build my church; and the gates of hell shall not prevail against it.

20     Then charged he his disciples that they should tell no man that he was Jesus the Christ.

21     From that time forth began Jesus to shew unto his disciples, how that he must go unto Jerusalem, and suffer many things of the elders and chief priests and scribes, and be killed, and be raised again the third day.

24     Then said Jesus unto his disciples, If any man will come after me, let him deny himself, and take up his cross, and follow me.

25     For whosoever will save his life shall lose it: and whosoever will lose his life for my sake shall find it.

26     For what is a man profited, if he shall gain the whole world, and lose his own soul? or what shall a man give in exchange for his soul?

27     For the Son of man shall come in the glory of his Father with his angels; and then he shall reward every man according to his works.

28     Verily I say unto you, There be some standing here, which shall not taste of death, till they see the Son of man coming in his kingdom.

6۔ 1 کرنتھیوں 6باب19 (جانتے ہو)، 20 آیت

19۔۔۔۔ کیا تم نہیں جانتے کہ تمہارا بدن روح القدس کا مقدس ہے جو تم میں بسا ہوا ہے اور تم کو خدا کی طرف سے ملا ہے؟ اور تم اپنے نہیں۔

20۔ کیونکہ قیمت سے خریدے گئے ہو۔ پس اپنے بدن سے خدا کا جلال ظاہر کرو۔

6. I Corinthians 6 : 19 (know), 20

19     …know ye not that your body is the temple of the Holy Ghost which is in you, which ye have of God, and ye are not your own?

20     For ye are bought with a price: therefore glorify God in your body, and in your spirit, which are God’s.

7۔ زبور 103: 1تا4 آیات

1۔ اے میری جان! خداوند کو مبارک کہہ اور جو کچھ مجھ میں ہے اْس کے قدوس نام کو مبارک کہے۔

2۔ اے میری جان! خداوند کو مبارک کہہ اور اْس کی کسی نعمت کو فراموش نہ کر۔

3۔ وہ تیری ساری بدکاری بخشتا ہے۔ وہ تجھے تمام بیماریوں سے شفا دیتا ہے۔

4۔ وہ تیری جان کو ہلاکت سے بچاتا ہے۔ وہ تیرے سر پر شفقت و رحمت کا تاج رکھتا ہے۔

7. Psalm 103 : 1-4

1     Bless the Lord, O my soul: and all that is within me, bless his holy name.

2     Bless the Lord, O my soul, and forget not all his benefits:

3     Who forgiveth all thine iniquities; who healeth all thy diseases;

4     Who redeemeth thy life from destruction; who crowneth thee with lovingkindness and tender mercies;

8۔ 1 تھسلینکیوں 5باب23 آیات(دی)

23۔ خدا جو اطمینان کا چشمہ ہے آپ ہی تم کو بالکل پاک کرے اور تمہارے روح اور جان اور بدن ہمارے خداوند یسوع مسیح کے آنے تک پورے پورے اور بے عیب محفوظ رہیں۔

8. I Thessalonians 5 : 23 (the)

23     …the very God of peace sanctify you wholly; and I pray God your whole spirit and soul and body be preserved blameless unto the coming of our Lord Jesus Christ.



سائنس اور صح


1۔ 210 :11۔16

یہ جانتے ہوئے کہ جان اور اْس کی خصوصیات ہمیشہ کے لئے انسان کے وسیلہ ظاہر کی جاتی رہی ہیں، مالک نے بیمار کو شفا دی، اندھے کو آنکھیں دیں، بہرے کو کان دئیے، لنگڑے کو پاؤں دئیے، یوں وہ انسانی خیالوں اور بدنوں پر الٰہی عقل کے سائنسی عمل کو روشنی میں لایااور انہیں جان اور نجات کی بہتر سمجھ عطا کی۔

1. 210 : 11-16

Knowing that Soul and its attributes were forever manifested through man, the Master healed the sick, gave sight to the blind, hearing to the deaf, feet to the lame, thus bringing to light the scientific action of the divine Mind on human minds and bodies and giving a better understanding of Soul and salvation.

2۔ 114 :23۔29

کرسچن سائنس سارے اسباب کو جسمانی نہیں بلکہ ذہنی قرار دیتی ہے۔یہ جان اور بدن سے خفیہ پردہ ہٹاتی ہے۔ یہ انسان کا خدا کے ساتھ سائنسی تعلق بیان کرتی ہے، ہستی کے ملے جلے ابہام کو جْدا کرتی ہے، اور غلامانہ سوچ کو آزاد کرتی ہے۔الٰہی سائنس میں، کائنات بشمول انسان روحانی، ہم آہنگ اور ابدی ہے۔

2. 114 : 23-29

Christian Science explains all cause and effect as mental, not physical. It lifts the veil of mystery from Soul and body. It shows the scientific relation of man to God, disentangles the interlaced ambiguities of being, and sets free the imprisoned thought. In divine Science, the universe, including man, is spiritual, harmonious, and eternal.

3۔ 477 :19۔25

سوال: بدن اور جان کیا ہیں؟

جواب: شناخت روح کا عکس ہے، وہ عکس جو الٰہی اصول، یعنی محبت کی متعدد صورتوں میں پایا جاتا ہے۔ جان مادہ، زندگی، انسان کی ذہانت ہے، جس کی انفرادیت ہوتی ہے لیکن مادے میں نہیں۔ جان روح سے کمتر کسی چیز کی عکاسی کبھی نہیں کر سکتی۔

3. 477 : 19-25

Question. — What are body and Soul?

Answer. — Identity is the reflection of Spirit, the reflection in multifarious forms of the living Principle, Love. Soul is the substance, Life, and intelligence of man, which is individualized, but not in matter. Soul can never reflect anything inferior to Spirit.

4۔ 338 :1۔8

کرسچن سائنس، درست طور پر سمجھی جانے سے، ابدی ہم آہنگی کی جانب راہنمائی دیتی ہے۔یہ واحد زندہ اور سچے خدا اور انسان کو جو اْس کی شبیہ پر خلق کیا گیا ہے روشنی میں لاتی ہے؛ جبکہ اِس کے برعکس عقیدہ، کہ انسان مادے سے پیدا ہوا اور اْس کی ابتدا اور انتہا ہے، کہ وہ بدن اور جان دونوں، بدی اور اچھائی دونوں، روحانی اور مادی دونوں ہے، مخالفت میں اور لافانیت میں ختم ہو جاتا ہے، یعنی اِس غلطی میں جسے سچائی کے وسیلہ نیست ہوجانا چاہئے۔

4. 338 : 1-8

Christian Science, rightly understood, leads to eternal harmony. It brings to light the only living and true God and man as made in His likeness; whereas the opposite belief — that man originates in matter and has beginning and end, that he is both soul and body, both good and evil, both spiritual and material — terminates in discord and mortality, in the error which must be destroyed by Truth.

5۔ 119 :25۔6

طلوعِ آفتاب کو دیکھتے ہوئے کوئی شخص یہ مانتا ہے کہ یہ منظر ہماری حواس کے لئے اس یقین کی مخالفت کرتا ہے کہ زمین حرکت میں ہے اور سورج ساکت ہے۔جیسے علم فلکیات نظام شمسی کی حرکت سے متعلق انسانی نظریے کو تبدیل کرتا ہے، اسی طرح کرسچن سائنس جان اور بدن کے دیدنی تعلق کو تبدیل کرتی ہے اور بدن کو عقل کے لئے معاون بناتی ہے۔پس یہ انسان پر منحصر کرتا ہے جو آرام دہ عقل کا حلیم خادم ہونے کے علاوہ کچھ نہیں، اگر چہ دوسری صورت میں یہ فہم کو محدود کرنے کے مترادف ہے۔لیکن ہم اسے کبھی سمجھ نہیں پائیں گے جب تک کہ ہم یہ تسلیم نہیں کرتے کہ جان مادے کی بدولت بدن یا عقل میں ہے اور یہ کہ انسان کم عقلی میں شامل ہے۔جان یا روح خدا ہے،ناقابل تبدیل اور ابدی؛ اور انسان جان، خدا کے ساتھ وجودیت رکھتا اور اس کی عکاسی کرتا ہے، کیونکہ انسان خدا کی شبیہ ہے۔

5. 119 : 25-6

In viewing the sunrise, one finds that it contradicts the evidence before the senses to believe that the earth is in motion and the sun at rest. As astronomy reverses the human perception of the movement of the solar system, so Christian Science reverses the seeming relation of Soul and body and makes body tributary to Mind. Thus it is with man, who is but the humble servant of the restful Mind, though it seems otherwise to finite sense. But we shall never understand this while we admit that soul is in body or mind in matter, and that man is included in non-intelligence. Soul, or Spirit, is God, unchangeable and eternal; and man coexists with and reflects Soul, God, for man is God's image.

6۔ 223 :2۔6

پولوس نے کہا، ”روح کے موافق چلو تو جسم کی خواہش کو ہر گز پورا نہ کرو گے۔“جلد یا بدیر ہم یہ سیکھیں گے کہ انسان کی متناہی حیثیت کی بیڑیاں اس فریب نظری کے باعث پگھلنے لگتی ہیں کہ وہ جان کی بجائے بدن میں، روح کی بجائے مادے میں رہتا ہے۔

6. 223 : 2-6

Paul said, "Walk in the Spirit, and ye shall not fulfil the lust of the flesh." Sooner or later we shall learn that the fetters of man's finite capacity are forged by the illusion that he lives in body instead of in Soul, in matter instead of in Spirit.

7۔ 122 :29۔10

دیگر نظریات بھی بدن اور جان سے متعلق وہی غلطی کرتے ہیں جو پٹولمی نے نظام شمسی سے متعلق کی۔ وہ اِس بات پر اصرار کرتے ہیں کہ جان مادے کی معاونت کے لئے بدن اور عقل کے نظریے میں پائی جاتی ہے۔فلکیاتی سائنس نے آسمانی اجزاء سے متعلق جھوٹے نظریے کو تباہ کردیا ہے، اور کرسچن سائنس یقیناً ہمارے زمینی اجزاء سے متعلق بڑی غلطی کو نیست کر دے گی۔پھرحقیقی خیال اور انسان کا اصول ظاہر ہوگا۔ پٹولمی کی غلطی ہستی کی ہم آہنگی پر اثر انداز نہیں ہوسکے گی جیسے کہ جان اور بدن سے متعلق غلطی اثر انداز ہوتی ہے، جو سائنسی ترتیب کو الٹ دیتی ہے اور مادے کو روح پر اختیار اور طاقت فراہم کرتی ہے، تاکہ انسان کائنات کا سب سے زیادہ کمزور اور غیر ہم آہنگ مخلوق بن جائے۔

7. 122 : 29-10

Our theories make the same mistake regarding Soul and body that Ptolemy made regarding the solar system. They insist that soul is in body and mind therefore tributary to matter. Astronomical science has destroyed the false theory as to the relations of the celestial bodies, and Christian Science will surely destroy the greater error as to our terrestrial bodies. The true idea and Principle of man will then appear. The Ptolemaic blunder could not affect the harmony of being as does the error relating to soul and body, which reverses the order of Science and assigns to matter the power and prerogative of Spirit, so that man becomes the most absolutely weak and inharmonious creature in the universe.

8۔ 39 :10۔17

یہ تعلیم دیا گیا عقیدہ ہے کہ جان بدن میں انسانوں کو موت سے بطور دوست بننے کا سبب بنتی ہے، یعنی لافانیت اورنعمت میں سے فانیت سے اخذ کیا گیا راستے کا پتھر۔بائبل موت کو دشمن کہتی ہے، اور یسوع انہیں قبول کرنے کی بجائے موت اور قبر پر فتح مند ہوا۔ وہ ”راہ“ تھا۔ اس لئے موت اْس کے لئے ایک دہلیز نہیں تھی جس میں سے ہو کر اْسے زندہ جلال میں داخل ہونا تھا۔

8. 39 : 10-17

The educated belief that Soul is in the body causes mortals to regard death as a friend, as a stepping-stone out of mortality into immortality and bliss. The Bible calls death an enemy, and Jesus overcame death and the grave instead of yielding to them. He was "the way." To him, therefore, death was not the threshold over which he must pass into living glory.

9۔ 311 :14۔25

جان کے غلط اندازے کے وسیلہ کہ وہ فہم میں بستی ہے اور کہ عقل مادے میں بستی ہے، عقیدہ فہم کے عارضی نقصان یا جان کی غیر موجودگی میں گھومتا پھرتا ہے، یعنی روحانی سچائی میں۔ غلطی کی یہ حالت زندگی کا فانی خواب اور مادے میں موجود مواد ہے، ہستی کی لافانی حقیقت کے براہ راست مخالف ہے۔جب تک ہم یہ مانتے ہیں کہ جان گناہ کر سکتی یا لافانی جان فانی بدن میں ہے، تب تک ہم ہستی کی سائنس کو کبھی نہیں سمجھ سکتے۔جب انسانیت اِس سائنس کو سمجھتی ہے، تو یہ انسان کے لئے زندگی کا قانون بن جائے گی، حتیٰ کہ جان کا بلند قانون، جو ہم آہنگی اور لافانیت کے وسیلہ مادی فہم پر غالب آتا ہے۔

9. 311 : 14-25

Through false estimates of soul as dwelling in sense and of mind as dwelling in matter, belief strays into a sense of temporary loss or absence of soul, spiritual truth. This state of error is the mortal dream of life and substance as existent in matter, and is directly opposite to the immortal reality of being. So long as we believe that soul can sin or that immortal Soul is in mortal body, we can never understand the Science of being. When humanity does understand this Science, it will become the law of Life to man, — even the higher law of Soul, which prevails over material sense through harmony and immortality.

10۔ 280 :25۔6

صحیح سمجھا جائے تو ایک حساس مادی صورت اپنانے کی بجائے، انسان ایک بے حس بدن لئے ہوئے ہے، اور خدا، جو انسان اور ساری مخلوق کی جان ہے،اپنی انفرادیت، ہم آہنگی اور لافانیت میں دائمی ہوتے ہوئے، منفرد رہتا اور انسان میں ان خوبیوں کو، عقل کے وسیلہ، نہ کہ مادے کے وسیلہ، متواتر رکھتا ہے۔انسانی خیالات پر غور کرنے اور ہستی کی سائنس کو رد کرنے کا صرف ایک عْذر روح سے متعلق ہماری لا علمی ہے، وہ لاعلمی جو صرف الٰہی سائنس کے ادراک کو تسلیم کرتی ہے، ایسا ادراک جس کے وسیلہ ہم زمین پر سچائی کی بادشاہت میں داخل ہوتے ہیں اور یہ سیکھتے ہیں کہ روح لامحدود اور نہایت اعلیٰ ہے۔ روح اور مادا روشنی اور تاریکی سے زیادہ مزید نہیں گھلتے ملتے۔ جب ایک ظاہرہوتا ہے تو دوسرا غائب ہو جاتا ہے۔

10. 280 : 25-6

Rightly understood, instead of possessing a sentient material form, man has a sensationless body; and God, the Soul of man and of all existence, being perpetual in His own individuality, harmony, and immortality, imparts and perpetuates these qualities in man, — through Mind, not matter. The only excuse for entertaining human opinions and rejecting the Science of being is our mortal ignorance of Spirit, — ignorance which yields only to the understanding of divine Science, the understanding by which we enter into the kingdom of Truth on earth and learn that Spirit is infinite and supreme. Spirit and matter no more commingle than light and darkness. When one appears, the other disappears.

11۔ 467 :17۔23

سائنس جان، روح کو بدن میں غیر موجود ظاہر کرتی ہے، اور خدا کو انسان میں نہیں بلکہ انسان کے وسیلہ منعکس ظاہر کرتی ہے۔عظیم ترین کم ترین نہیں ہو سکتا۔یہ عقیدہ کہ عظیم ترین کم ترین میں ہو سکتا ہے ایک غلطی ہے جو ناکام ہو جاتی ہے۔ جان کی سائنس میں یہ ایک نمایاں نقطہ ہے کہ اصول اپنے خیال میں نہیں ہوتا۔روح، جان انسان میں محدود نہیں ہیں، اور مادے میں کبھی نہیں ہوتی۔

11. 467 : 17-23

Science reveals Spirit, Soul, as not in the body, and God as not in man but as reflected by man. The greater cannot be in the lesser. The belief that the greater can be in the lesser is an error that works ill. This is a leading point in the Science of Soul, that Principle is not in its idea. Spirit, Soul, is not confined in man, and is never in matter.

12۔ 335 :16 (جان)۔18 (تا دوسرا)، 22۔24

روح اور جان کے ایک ہونے سے، خدا اور جان ایک ہیں، اور یہ اتحاد کبھی بھی محدود عقل یا ایک محدود بدن میں شامل نہیں ہوتا۔ ۔۔۔کیونکہ روح لافانی ہے، اس لئے یہ لافانیت میں وجود نہیں رکھتی۔ ۔۔۔جان سے متعلق جھوٹے فہم کو کھونے سے ہم زندگی کے ابدی راز پا سکتے ہیں جیسے لافانیت کو روشنی میں لایا جاتا ہے۔

12. 335 : 16 (Soul)-18 (to 2nd .), 22-24

Soul and Spirit being one, God and Soul are one, and this one never included in a limited mind or a limited body. Spirit is eternal, divine. … Only by losing the false sense of Soul can we gain the eternal unfolding of Life as immortality brought to light.

13۔ 477 :26 صرف

انسان روح کا اظہارہے۔

13. 477 : 26 only

Man is the expression of Soul.


روز مرہ کے فرائ

منجاب میری بیکر ایڈ

روز مرہ کی دعا

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ ہر روز یہ دعا کرے: ’’تیری بادشاہی آئے؛‘‘ الٰہی حق، زندگی اور محبت کی سلطنت مجھ میں قائم ہو، اور سب گناہ مجھ سے خارج ہو جائیں؛ اور تیرا کلام سب انسانوں کی محبت کو وافر کرے، اور اْن پر حکومت کرے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 4۔

مقاصد اور اعمال کا ایک اصول

نہ کوئی مخالفت نہ ہی کوئی محض ذاتی وابستگی مادری چرچ کے کسی رکن کے مقاصد یا اعمال پر اثر انداز نہیں ہونی چاہئے۔ سائنس میں، صرف الٰہی محبت حکومت کرتی ہے، اور ایک مسیحی سائنسدان گناہ کو رد کرنے سے، حقیقی بھائی چارے ، خیرات پسندی اور معافی سے محبت کی شیریں آسائشوں کی عکاسی کرتا ہے۔ اس چرچ کے تمام اراکین کو سب گناہوں سے، غلط قسم کی پیشن گوئیوں،منصفیوں، مذمتوں، اصلاحوں، غلط تاثر ات کو لینے اور غلط متاثر ہونے سے آزاد رہنے کے لئے روزانہ خیال رکھنا چاہئے اور دعا کرنی چاہئے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 1۔

فرض کے لئے چوکس

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ وہ ہر روز جارحانہ ذہنی آراء کے خلاف خود کو تیار رکھے، اور خدا اور اپنے قائد اور انسانوں کے لئے اپنے فرائض کو نہ کبھی بھولے اور نہ کبھی نظر انداز کرے۔ اس کے کاموں کے باعث اس کا انصاف ہوگا، وہ بے قصور یا قصوارہوگا۔ 

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 6۔


████████████████████████████████████████████████████████████████████████