اتوار 25اکتوبر، 2020 |

اتوار 25اکتوبر، 2020 



مضمون۔ موت کے بعد امتحان

SubjectProbation After Death

سنہری متن: 2 پطرس 2 باب9 آیات

”خداوند دینداروں کو آزمائش سے نکالنا جانتا ہے۔“



Golden Text: II Peter 2 : 9

The Lord knoweth how to deliver the godly out of temptations.





سبق کی آڈیو کے لئے یہاں کلک کریں

یوٹیوب سے سننے کے لئے یہاں کلک کریں

████████████████████████████████████████████████████████████████████████


جوابی مطالعہ: یعقوب 1باب 2تا4، 12، 16، 17، 21 آیات


2۔اے میرے بھائیو! جب تم طرح طرح کی آزمائشوں میں پڑو۔

3۔ تو اِس کو یہ جان کر کمال خوشی کی بات سمجھنا کہ تمہارے ایمان کی آزمائش صبر پیدا کرتی ہے۔

4۔ اور صبر کو اپنا پورا کام کرنے دو تاکہ تم پورے اور کامل ہو جاؤ اور تم میں کسی بات کی کمی نہ رہے۔

12۔ مبارک ہے وہ شخص جو آزمائش کی برداشت کرتا ہے کیونکہ جب مقبول ٹھہرا تو زندگی کا وہ حاصل کرے گا جس کا خداوند نے اپنے محبت کرنے والوں سے وعدہ کیا ہے۔

16۔ اے میرے پیارے بھائیو! فریب نہ کھانا۔

17۔ ہر اچھی بخشش اور ہر کامل انعام اوپر سے ہے اور نوروں کے باپ کی طرف سے ملتا ہے جس میں نہ کوئی تبدیلی ہو سکتی ہے اور نہ گردش کے سبب سے اْس پر سایہ پڑتا ہے۔

21۔اِس لئے ساری نجاست اور بدی کے فضلہ کو دور کر کے اْس کلام کو حلیمی سے قبول کر لو جو دل میں بویا گیا اور تمہاری روحوں کو نجات دے سکتا ہے۔

Responsive Reading: James 1 : 2-4, 12, 16, 17, 21

2.     My brethren, count it all joy when ye fall into divers temptations;

3.     Knowing this, that the trying of your faith worketh patience.

4.     But let patience have her perfect work, that ye may be perfect and entire, wanting nothing.

12.     Blessed is the man that endureth temptation: for when he is tried, he shall receive the crown of life, which the Lord hath promised to them that love him.

16.     Do not err, my beloved brethren.

17.     Every good gift and every perfect gift is from above, and cometh down from the Father of lights, with whom is no variableness, neither shadow of turning.

21.     Wherefore lay apart all filthiness and superfluity of naughtiness, and receive with meekness the engrafted word, which is able to save your souls.



درسی وعظ



بائبل


درسی وعظ

بائبل

1۔ متی 6 باب13 (تا:) آیت

13۔ اور ہمیں آزمائش میں نہ لا بلکہ برائی سے بچا!

1. Matthew 6 : 13 (to :)

13     And lead us not into temptation, but deliver us from evil:

2۔ متی 4 باب1تا11 آیات

1۔ اْس وقت روح یسوع کو جنگل میں لے گیا تاکہ ابلیس سے آزمایا جائے۔

2۔ اور چالیس دن اور چالیس رات فاقہ کر کے آخر کو اْسے بھوک لگی۔

3۔ اور آزمانے والے نے پاس آکر اْس سے کہا اگر تْو خدا کا بیٹا ہے تو فرما کہ یہ پتھر روٹیاں بن جائیں۔

4۔ اْس نے جواب میں کہا کہ آدمی صرف روٹی ہی سے جیتا نہ رہے گا بلکہ ہر بات سے جو خدا کے منہ سے نکلتی ہے۔

5۔ تب ابلیس اْسے مقدس شہر میں لے گیا اور ہیکل کے کنگرے پر کھڑا کر کے اْس سے کہا

6۔ اگر تْو خدا کا بیٹا ہے تو اپنے تائیں نیچے گرادے کیونکہ لکھا ہے کہ وہ تیری بابت اپنے فرشتوں کو حکم دے گا اور وہ تجھے ہاتھوں پر اٹھا لیں گے ایسا نہ ہو کہ تیرے پاؤں کو پتھر سے ٹھیس لگے۔

7۔ یسوع نے اْس سے کہا یہ بھی لکھا ہے کہ تْو خداوند اپنے خدا کی آزمائش نہ کر۔

8۔ پھر ابلیس اْسے ایک بہت اونچے پہاڑ پر لے گیا اور دنیا کی سب سلطنتیں اور سب شان و شوکت اْسے دکھائیں۔

9۔ اور اْسے کہا اگر تْو جھْک کر مجھے سجدہ کرے تو یہ سب کچھ تجھے دے دوں گا۔

10۔ یسوع نے اْس سے کہا اے شیطان دور ہو کیونکہ لکھا ہے کہ تْو خداوند اپنے خدا کو سجدہ کر اور صرف اْسی کی عبادت کر۔

11۔ تب ابلیس اْس کے پاس سے چلا گیا اور دیکھو فرشتے آکر اْس کی خدمت کرنے لگے۔

2. Matthew 4 : 1-11

1     Then was Jesus led up of the Spirit into the wilderness to be tempted of the devil.

2     And when he had fasted forty days and forty nights, he was afterward an hungred.

3     And when the tempter came to him, he said, If thou be the Son of God, command that these stones be made bread.

4     But he answered and said, It is written, Man shall not live by bread alone, but by every word that proceedeth out of the mouth of God.

5     Then the devil taketh him up into the holy city, and setteth him on a pinnacle of the temple,

6     And saith unto him, If thou be the Son of God, cast thyself down: for it is written, He shall give his angels charge concerning thee: and in their hands they shall bear thee up, lest at any time thou dash thy foot against a stone.

7     Jesus said unto him, It is written again, Thou shalt not tempt the Lord thy God.

8     Again, the devil taketh him up into an exceeding high mountain, and sheweth him all the kingdoms of the world, and the glory of them;

9     And saith unto him, All these things will I give thee, if thou wilt fall down and worship me.

10     Then saith Jesus unto him, Get thee hence, Satan: for it is written, Thou shalt worship the Lord thy God, and him only shalt thou serve.

11     Then the devil leaveth him, and, behold, angels came and ministered unto him.

3۔ متی 26 باب1تا4، 7تا20، 30تا35، 56، 69تا75 آیات

1۔ اور جب یسوع یہ سب باتیں ختم کر چکا تو ایسا ہوا کہ اْس نے اپنے شاگردوں سے کہا۔

2۔ تم جانتے ہو کہ دو دن کے بعد عیدِ فسح ہوگی اور ابن آدم مصلوب ہونے کو پکڑوایا جائے گا۔

3۔ اْس وقت سردار کاہن اور قوم کے بزرگ کائفا نام سردار کاہن کے دیوان خانہ میں جمع ہوئے۔

4۔ اور مشورہ کیا کہ یسوع کو فریب سے پکڑ کر قتل کریں۔

17۔ اور عیدِ فطیر کے پہلے دن شاگردوں نے یسوع کے پاس آ کر کہا تْو کہاں چاہتا ہے کہ ہم تیرے لئے فسح کھانے کی تیاری کریں۔

18۔ اْس نے کہا شہر میں فلاں شخص کے پاس جا کر اْس سے کہنا اْستاد فرماتا ہے کہ میرا وقت نزدیک ہے۔مَیں اپنے شاگردوں کے ساتھ تیرے ہاں عیدِ فسح کروں گا۔

19۔ اور جیسا یسوع نے شاگردوں کو حکم دیا تھا اْنہوں نے ویسا ہی کیا اور فسح تیار کیا۔

20۔ جب شام ہوئی تو وہ بارہ شاگردوں کے ساتھ کھانا کھانے بیٹھا۔

30۔ پھر وہ گیت گا کر باہر زیتون کے پہاڑ پر گئے۔

31۔ اْس وقت یسوع نے اْن سے کہا تم سب اسی رات میری بابت ٹھوکر کھاؤ گے کیونکہ لکھا ہے کہ مَیں چرواہے کو ماروں گا اور گلہ کی بھیڑیں پراگندہ ہوجائیں گی۔

32۔ لیکن مَیں اپنے جی اٹھنے کے بعد تم سے پہلے گلیل کو جاؤں گا۔

33۔ پطرس نے جواب میں اْس سے کہا گو سب تیری بابت ٹھوکر کھائیں لیکن مَیں کبھی ٹھوکرنہ کھاؤں گا۔

34۔ یسوع نے اْس سے کہا مَیں تجھ سے سچ کہتا ہوں کہ اسی رات مرغ کے بانگ دینے سے پہلے تْو تین بار میرا انکار کرے گا۔

35۔ پطرس نے اْس سے کہا اگر تیرے ساتھ مجھے مرنا بھی پڑے تو بھی انکار ہرگز نہ کروں گا اور سب شاگردوں نے بھی اسی طرح کہا۔

56۔ مگر یہ سب اِس لئے ہوا کہ نبیوں کے نوشتے پورے ہوں اِس پر سب شاگرد اْسے چھوڑ کر بھاگ گئے۔

69۔ اور پطرس باہر صحن میں بیٹھا تھا کہ ایک لونڈی نے اْس کے پاس آ کر کہا تْو بھی یسوع گلیلی کے ساتھ تھا۔

70۔ اْس نے سب کے سامنے یہ کہہ کر انکار کیا کہ مَیں نہیں جانتا تْو کیا کہتی ہے۔

71۔ اور جب وہ ڈیوڑی میں چلا گیا تو دوسری نے اْسے دیکھا اور جو وہاں تھے اْن سے کہا یہ بھی یسوع ناصری کے ساتھ تھا۔

72۔ اْس نے قسم کھا کر پھر انکار کیا کہ مَیں اِس آدمی کو نہیں جانتا۔

73۔ تھوڑی دیر کے بعد جو وہاں کھڑے تھے اْنہوں نے پطرس کے پاس آکر کہا بے شک تْو بھی اْن میں سے ہے کیونکہ تیری بولی سے بھی ظاہر ہوتا ہے۔

74۔ اِس پر وہ لعنت کرنے اور قسم کھانے لگا کہ مَیں اِس آدمی کو نہیں جانتا اور فی الفور مرغ نے بانگ دی۔

75۔ پطرس کو یسوع کی وہ بات یاد آئی جو اْس نے کہی تھی کہ مرغ کے بانگ دینے سے پہلے تْو تین بار میرا انکار کرے گا اور وہ باہر جاکر زار زار رویا۔

3. Matthew 26 : 1-4, 17-20, 30-35, 56, 69-75

1     And it came to pass, when Jesus had finished all these sayings, he said unto his disciples,

2     Ye know that after two days is the feast of the passover, and the Son of man is betrayed to be crucified.

3     Then assembled together the chief priests, and the scribes, and the elders of the people, unto the palace of the high priest, who was called Caiaphas,

4     And consulted that they might take Jesus by subtilty, and kill him.

17     Now the first day of the feast of unleavened bread the disciples came to Jesus, saying unto him, Where wilt thou that we prepare for thee to eat the passover?

18     And he said, Go into the city to such a man, and say unto him, The Master saith, My time is at hand; I will keep the passover at thy house with my disciples.

19     And the disciples did as Jesus had appointed them; and they made ready the passover.

20     Now when the even was come, he sat down with the twelve.

30     And when they had sung an hymn, they went out into the mount of Olives.

31     Then saith Jesus unto them, All ye shall be offended because of me this night: for it is written, I will smite the shepherd, and the sheep of the flock shall be scattered abroad.

32     But after I am risen again, I will go before you into Galilee.

33     Peter answered and said unto him, Though all men shall be offended because of thee, yet will I never be offended.

34     Jesus said unto him, Verily I say unto thee, That this night, before the cock crow, thou shalt deny me thrice.

35     Peter said unto him, Though I should die with thee, yet will I not deny thee. Likewise also said all the disciples.

56     But all this was done, that the scriptures of the prophets might be fulfilled. Then all the disciples forsook him, and fled.

69     Now Peter sat without in the palace: and a damsel came unto him, saying, Thou also wast with Jesus of Galilee.

70     But he denied before them all, saying, I know not what thou sayest.

71     And when he was gone out into the porch, another maid saw him, and said unto them that were there, This fellow was also with Jesus of Nazareth.

72     And again he denied with an oath, I do not know the man.

73     And after a while came unto him they that stood by, and said to Peter, Surely thou also art one of them; for thy speech bewrayeth thee.

74     Then began he to curse and to swear, saying, I know not the man. And immediately the cock crew.

75     And Peter remembered the word of Jesus, which said unto him, Before the cock crow, thou shalt deny me thrice. And he went out, and wept bitterly.

4۔ زبور 51: 1تا4 (تا:)، 6، 7، 9 تا12، 17 آیات

1۔اے خدا! اپنی شفقت کے مطابق مجھ پر رحم کر۔ اپنی رحمت کی کثرت کے باعث میری خطائیں مٹا دے۔

2۔ میری بدی کو مجھ سے دھو ڈال اور میرے گناہ سے مجھے پاک کر۔

3۔ کیونکہ مَیں اپنی خطاؤں کو مانتا ہوں اور میرا گناہ ہمیشہ میرے سامنے ہے۔

4۔ مَیں نے فقط تیرا ہی گناہ کیا ہے۔ اور وہ کام کیا ہے جو تیری نظر میں برا ہے۔

6۔ دیکھ تْو باطن کی سچائی پسند کرتا ہے۔ اور باطن میں مجھے ہی دانائی سکھائے گا۔

7۔ زْوفے سے مجھے صاف کر تو مَیں ہوں گا۔مجھے دھو اور برف سے زیادہ سفید ہوں گا۔

9۔ میرے گناہوں کی طرف سے اپنا منہ پھیر لے۔ اور میری سب بدکاریاں مٹا ڈال۔

10۔ اے خدا! میرے اندر پاکدل پیدا کر اور میرے باطن میں از سرِ نو مستقیم روح ڈال۔

11۔ مجھے اپنے حضور سے خارج نہ کر۔ اور اپنی روح کو مجھ سے جدا نہ کر۔

12۔ اپنی نجات کی شادمانی مجھے پھر عنایت کر اور مستعد روح سے مجھے سنبھال۔

17۔ شکستہ روح خدا کی قربانی ہے۔ اے خدا تو شکستہ اورخستہ دل حقیر نہ جانے گا۔

4. Psalm 51 : 1-4 (to :), 6, 7, 9-12, 17

1     Have mercy upon me, O God, according to thy lovingkindness: according unto the multitude of thy tender mercies blot out my transgressions.

2     Wash me throughly from mine iniquity, and cleanse me from my sin.

3     For I acknowledge my transgressions: and my sin is ever before me.

4     Against thee, thee only, have I sinned, and done this evil in thy sight:

6     Behold, thou desirest truth in the inward parts: and in the hidden part thou shalt make me to know wisdom.

7     Purge me with hyssop, and I shall be clean: wash me, and I shall be whiter than snow.

9     Hide thy face from my sins, and blot out all mine iniquities.

10     Create in me a clean heart, O God; and renew a right spirit within me.

11     Cast me not away from thy presence; and take not thy holy spirit from me.

12     Restore unto me the joy of thy salvation; and uphold me with thy free spirit.

17     The sacrifices of God are a broken spirit: a broken and a contrite heart, O God, thou wilt not despise.

5۔ یعقوب 4 باب7، 8، 10 آیات

7۔ پس خدا کے تابع ہو جاؤ اور ابلیس کا مقابلہ کرو تو وہ تم سے بھاگ جائے گا۔

8۔ خدا کے نزدیک جاؤ تو وہ تمہارے نزدیک آئے گا۔ اے گناہگارو! اپنے ہاتھوں کو صاف کرو اور اے دو دلو! اپنے دلوں کو پاک کرو۔

10۔ خداوند کے سامنے فروتنی کرو۔ وہ تمہیں سر بلند کرے گا۔

5. James 4 : 7, 8, 10

7     Submit yourselves therefore to God. Resist the devil, and he will flee from you.

8     Draw nigh to God, and he will draw nigh to you. Cleanse your hands, ye sinners; and purify your hearts, ye double minded.

10     Humble yourselves in the sight of the Lord, and he shall lift you up.



سائنس اور صح


1۔ 17 :8۔11

اور ہمیں آزمائش میں نہ پڑنے دے بلکہ برائی سے بچا؛

اور خدا ہمیں آزمائش میں نہیں ڈالتا، بلکہ ہمیں گناہ، بیماری اور موت سے بچاتا ہے۔

1. 17 : 8-11

And lead us not into temptation, but deliver us from evil;

And God leadeth us not into temptation, but delivereth us from sin, disease, and death.

2۔ 6: 3۔5، 23۔24

الٰہی محبت انسان کی اصلاح کرتی اور اْس پر حکمرانی کرتی ہے۔ انسان معافی مانگ سکتے ہیں لیکن صرف الٰہی اصول ہی گناہگار کی اصلاح کرتا ہے۔

یسوع نے گناہ کو باہر نکالنے سے پہلے اسے ایاں کیا اور ملامت کیا۔

2. 6 : 3-5, 23-24

Divine Love corrects and governs man. Men may pardon, but this divine Principle alone reforms the sinner.

Jesus uncovered and rebuked sin before he cast it out.

3۔ 7 :1۔7

غلطی کے لئے جو واحد سزائے موت اْس نے دی وہ تھی، ”اے شیطان، میرے سامنے سے دور ہو۔“اس بات کی مزید تصدیق کہ یسوع کی سرزنش بہت نوکیلی اور چْبھنے والی تھی اْس کے اپنے الفاظ میں پائی جاتی ہے، اس قدر شدید بیان کو ضروری ثابت کرتے ہوئے، جب اْس نے بدروحوں کو نکالا اور بیمار اور گناہگار کو شفا دی۔غلطی کی دستبرداری مادی فہم کو اِس کے جھوٹے دعووں سے محروم کرتی ہے۔

3. 7 : 1-7

The only civil sentence which he had for error was, "Get thee behind me, Satan." Still stronger evidence that Jesus' reproof was pointed and pungent is found in his own words, — showing the necessity for such forcible utterance, when he cast out devils and healed the sick and sinning. The relinquishment of error deprives material sense of its false claims.

4۔ 22 :3۔10

پینڈولم کی طرح گناہ اور معافی کی امید میں جھْولتے ہوئے، خود غرضی اور نفس پرستی کو متواتر تنزلی کا موجب بنتے ہوئے ہماری اخلاقی ترقی دھیمی ہو جائے گی۔مسیح کے مطالبے پر بیدار ہونے سے بشر مصائب کا تجربہ کرتے ہیں۔ یہ انہیں، ایک ڈوبتے ہوئے شخص کی مانند خود کو بچانے کی بھرپور کوششیں کرنے کی ترغیب دیتا ہے؛ اور مسیح کے بیش قیمت خون کے وسیلہ یہ کوششیں کامیابی کا سہرا پاتی ہیں۔

4. 22 : 3-10

Vibrating like a pendulum between sin and the hope of forgiveness, — selfishness and sensuality causing constant retrogression, — our moral progress will be slow. Waking to Christ's demand, mortals experience suffering. This causes them, even as drowning men, to make vigorous efforts to save themselves; and through Christ's precious love these efforts are crowned with success.

5۔ 290 :16۔22

اگر تبدیلی جسے موت کہا جاتا ہے گناہ، بیماری اور موت کے یقین کو تباہ کردیتی ہے تو اس شکست کے موقعہ پر خوشی فتح مند ہوتی ہے اور ہمیشہ کے لئے مستقل ہو جاتی ہے، لیکن ایسا ہوتا نہیں۔ کاملیت صرف کاملیت سے ہی حاصل ہوتی ہے۔ وہ جو ناراست ہیں تب تک ناراست ہی رہیں گے جب تک الٰہی سائنس میں مسیح یعنی سچائی تمام تر گناہ اور جہالت کو تلف نہیں کرتا۔

5. 290 : 16-22

If the change called death destroyed the belief in sin, sickness, and death, happiness would be won at the moment of dissolution, and be forever permanent; but this is not so. Perfection is gained only by perfection. They who are unrighteous shall be unrighteous still, until in divine Science Christ, Truth, removes all ignorance and sin.

6۔ 291 :1۔18، 28۔32

یہ قیاس آرائیاں کہ گناہ معاف کیا جاتا ہے لیکن بھولا نہیں جاتا، کہ گناہ کے دوران خوشی اصل ہو جاتی ہے، کہ جسم کی نام نہاد موت گناہ سے آزاد کر دیتی ہے اور یہ کہ خدا کی معافی گناہ کی تباہی کے علاوہ کچھ نہیں ہے، یہ سب گھمبیر غلطیاں ہیں۔ہم جانتے ہیں کہ جب آخری نرسنگا پھونکا جائے گا سب ”ایک پل میں“ بدل جائے گا؛ مگر حکمت کایہ آخری بْلاوہ تب تک نہیں آسکتاجب تک بشر مسیحی کردار کی ترقی میں ہر ایک چھوٹے بلاوے کو پہلے سے ہی تسلیم نہ کرتے ہوں۔ انسان کو یہ گمان رکھنا چاہئے کہ موت کے تجربہ کا یقین انہیں جلالی ہستی میں بیدار کرے گا۔

عالمگیر نجات ترقی اور امتحان پر مرکوز ہے، اور ان کے بغیر غیر ممکن الحصول ہے۔آسمان کوئی جگہ نہیں، عقل کی الٰہی حالت ہے جس میں عقل کے تمام تر ظہور ہم آہنگ اور فانی ہوتے ہیں کیونکہ وہاں گناہ نہیں ہے اور انسان وہاں خود کی راستبازی کے ساتھ نہیں ”خداوند کی سوچ“ کی ملکیت میں پایا جاتا ہے جیسا کہ کلام یہ کہتا ہے۔

آخری عدالت انسانوں کا انتظار نہیں کرتی کیونکہ حکمت کا روزِ محشر ہمہ وقت اور متواتر طور پر جاری و ساری ہے، حتی کہ وہ عدالت بھی جس کے وسیلہ فانی انسان ساری مادی غلطی سے بے نقاب کیا جاتا ہے۔ جہاں تک روحانی غلطی کا تعلق ہے تو ایسا کچھ نہیں ہے۔

6. 291 : 1-18, 28-32

The suppositions that sin is pardoned while unforsaken, that happiness can be genuine in the midst of sin, that the so-called death of the body frees from sin, and that God's pardon is aught but the destruction of sin, — these are grave mistakes. We know that all will be changed "in the twinkling of an eye," when the last trump shall sound; but this last call of wisdom cannot come till mortals have already yielded to each lesser call in the growth of Christian character. Mortals need not fancy that belief in the experience of death will awaken them to glorified being.

Universal salvation rests on progression and probation, and is unattainable without them. Heaven is not a locality, but a divine state of Mind in which all the manifestations of Mind are harmonious and immortal, because sin is not there and man is found having no righteousness of his own, but in possession of "the mind of the Lord," as the Scripture says.

No final judgment awaits mortals, for the judgment-day of wisdom comes hourly and continually, even the judgment by which mortal man is divested of all material error. As for spiritual error there is none.

7۔ 289 :2۔4

ظاہر کی گئی سچائی ابدی زندگی ہے۔ بشر جب تک یہ نہیں سیکھتا کہ خدا ہی واحد زندگی ہے، وہ غلطی کے عارضی ملبے، گناہ، بیماری اور موت کے عقیدے سے کبھی نہیں باہر آ سکتا۔

7. 289 : 2-4

Mortal man can never rise from the temporal débris of error, belief in sin, sickness, and death, until he learns that God is the only Life.

8۔ 542 :1۔13

مادے پر زندگی کا بھروسہ ہر قدم پر گناہ کرواتا ہے۔ یہ الٰہی ناراضگی کو پالتا ہے، اور یہ یسوع کو قتل کرے گا کہ شاید وہ تکلیف دہ سچائی کے لئے ایک رکاوٹ تھا۔ مادی عقائد روحانی خیال کو ذبح کریں گے جب کبھی اور جہاں کہیں وہ ظاہر ہوتے ہیں۔ اگرچہ غلطی کے پیچھے ایک جھوٹ یا حیلوں کا احساسِ جرم چھپا ہوتا ہے مگر غلطی پر ہمیشہ کے لئے مہرثبت نہیں کی جاسکتی۔سچائی، اپنے ابدی قوانین کے وسیلہ، غلطی کو بے نقاب کرتی ہے۔سچائی غلطی کو اپنے آپ سے فریب دلوانے کا موجب بنتی ہے، اور غلطی پر حیوان کا نشان لگاتی ہے۔حتیٰ کہ احساسِ جرم کے بہانے کی یا اِس پر مہر ثبت کرنے کی رغبت کو سزا دی جاتی ہے۔انصاف سے اجتناب اور سچائی سے انکارگناہ کو مسلسل ہونے، جرم کو بڑھاوا دینے،قوت ارادی کو خطرے میں ڈالنے اور الٰہی رحم کا مذاق اْڑانے کا رجحان پیدا کرتے ہیں۔

8. 542 : 1-13

The belief of life in matter sins at every step. It incurs divine displeasure, and it would kill Jesus that it might be rid of troublesome Truth. Material beliefs would slay the spiritual idea whenever and wherever it appears. Though error hides behind a lie and excuses guilt, error cannot forever be concealed. Truth, through her eternal laws, unveils error. Truth causes sin to betray itself, and sets upon error the mark of the beast. Even the disposition to excuse guilt or to conceal it is punished. The avoidance of justice and the denial of truth tend to perpetuate sin, invoke crime, jeopardize self-control, and mock divine mercy.

9۔ 405 :5۔11، 22۔32

کرسچن سائنس انسان کو خواہشات کا مالک بننے، شفقت کے ساتھ نفرت کو ایک تعطل میں روکنے، پاکیزگی کے ساتھ شہوت پر، خیرات کے ساتھ بدلے پرفتح پانے اور ایمانداری کے ساتھ فریب پر قابو پانے کا حکم دیتی ہے۔اگر آپ صحت، خوشی اور کامیابی کے خلاف سازشیوں کی ایک فوج نہیں لانا چاہتے تو اِن غلطیوں کو ابتدائی مراحل میں ہی تلف کر دیں۔

ایک قصور وار ضمیر کے مجموعی اثرات کو برداشت کرنے کی نسبت یہ بہتر تھا کہ زمین پر ہر وبا کو ظاہر کیا جائے۔غلط کام کرنے کا مستحکم شعور درست کام کرنے کی خصوصیت کو تباہ کرنے کا رجحان رکھتا ہے۔اگر گناہ سے پشیمانی نہیں ہوتی اور اِسے کم نہیں کیا جاتا تو پھر یہ جسمانی اور اخلاقی تباہی کی طرف تیزی سے بڑھ رہا ہے۔وہ اخلاقی سزائیں جن کو آپ نے اوڑھ رکھا ہے اور جو بیماری اِن سے پیدا ہوتی ہے اْن کے وسیلہ آپ کو فتح کیا جاتا ہے۔گناہ آلود سوچ کے درد اس کی تسکین سے زیادہ نقصان دہ ہیں۔ مادی تکلیف پر یقین انسان کے لئے اپنی غلطیوں سے پیچھے ہٹنے، بدن سے روح کی جانب پرواز کرنے اور خود سے الگ الٰہی وسائل سے التماس کرنے کا موجب بنتا ہے۔

9. 405 : 5-11, 22-32

Christian Science commands man to master the propensities, — to hold hatred in abeyance with kindness, to conquer lust with chastity, revenge with charity, and to overcome deceit with honesty. Choke these errors in their early stages, if you would not cherish an army of conspirators against health, happiness, and success.

It were better to be exposed to every plague on earth than to endure the cumulative effects of a guilty conscience. The abiding consciousness of wrong-doing tends to destroy the ability to do right. If sin is not regretted and is not lessening, then it is hastening on to physical and moral doom. You are conquered by the moral penalties you incur and the ills they bring. The pains of sinful sense are less harmful than its pleasures. Belief in material suffering causes mortals to retreat from their error, to flee from body to Spirit, and to appeal to divine sources outside of themselves.

10۔ 201 :9۔2

جذبات، خود غرضی، نفرت، خوف، ہر سنسنی خیزی، روحانیت کو تسلیم کرتے ہیں اور ہستی کی افراط خدا، یعنی اچھائی کی طرف ہے۔

ہم بھرے ہوئے برتنوں کو پھر سے نہیں بھر سکتے۔ انہیں پہلے خالی ہونا ہوگا۔آئیے ہم غلطی سے منحرف ہوں۔ پھر، جب خدا کی آندھی چلتی ہے، تو ہم اپنے قریبی خستہ حالوں کو گلے نہیں لگائیں گے۔

مادی عقل میں سے غلطی کو باہر نکالنے کا راستہ یہ ہے کہ اْس میں محبت کی سیلابی لہروں کے وسیلہ سچائی کو بھر دیا جائے۔مسیحی کاملیت کو کسی اور بنیاد پر فتح نہیں کیا جاتا۔

پاکیزگی پر پاکیزگی کی پیوند کاری کرنا، یہ فرض کرنا کہ گناہ بِنا ترک کئے معاف کیا جاسکتا ہے، ایسی ہی بیوقوفی ہے جیسے مچھروں کو نکیل ڈالنا اور اونٹوں کو نگلنا ہوتا ہے۔

10. 201 : 9-2

Passions, selfishness, false appetites, hatred, fear, all sensuality, yield to spirituality, and the superabundance of being is on the side of God, good.

We cannot fill vessels already full. They must first be emptied. Let us disrobe error. Then, when the winds of God blow, we shall not hug our tatters close about us.

The way to extract error from mortal mind is to pour in truth through flood-tides of Love. Christian perfection is won on no other basis.

Grafting holiness upon unholiness, supposing that sin can be forgiven when it is not forsaken, is as foolish as straining out gnats and swallowing camels.

11۔ 202 :6۔23

اگر انسان مادی فہم کے نام نہاد دْکھوں اور خوشیوں پررکھنے والے ایمان کی نسبت آدھا ایمان ہی عقل کی سائنس کے مطالعہ پر رکھیں تو وہ بد سے بدترین کی طرف نہیں جائیں گے، جب تک کہ قید و بند سے اْن کی تربیت نہ ہوجائے؛ بلکہ پوری انسانی نسل مسیح کے معیاروں کے وسیلہ، سچائی کے طرزِ فکر اور قبولیت کے وسیلہ رہائی پائے گی۔اِس جلالی نتیجے کے لئے کرسچن سائنس روحانی ادراک کی مشعل روشن کرتی ہے۔

اِس سائنس کے بغیر سب کچھ قابلِ تبدیل ہے؛ مگر لافانی انسان، اپنی ہستی کے الٰہی اصول، یعنی خدا کے ساتھ ہم آہنگی میں، نہ گناہ کرتا، دْکھ اْٹھاتا ہے اور نہ مرتا ہے۔تب ہماری زیارت کے ایام ختم ہونے کی بجائے بڑھ جائیں گے جب خدا کی بادشاہی زمین پر آتی ہے؛ کیونکہ حقیقی راہ موت کی بجائے زندگی کی جانب لے جاتی ہے؛ اور زمینی تجربہ غلطی کی محدودیت اور سچائی کی اْن محدود خصوصیات کو ظاہر کرتا ہے جن میں خدا انسان کو ساری زمین پر اختیار عطا کرتا ہے۔

11. 202 : 6-23

If men would bring to bear upon the study of the Science of Mind half the faith they bestow upon the so-called pains and pleasures of material sense, they would not go on from bad to worse, until disciplined by the prison and the scaffold; but the whole human family would be redeemed through the merits of Christ, — through the perception and acceptance of Truth. For this glorious result Christian Science lights the torch of spiritual understanding.

Outside of this Science all is mutable; but immortal man, in accord with the divine Principle of his being, God, neither sins, suffers, nor dies. The days of our pilgrimage will multiply instead of diminish, when God's kingdom comes on earth; for the true way leads to Life instead of to death, and earthly experience discloses the finity of error and the infinite capacities of Truth, in which God gives man dominion over all the earth.

12۔ 267 :25۔32

مسیح کے لباس کی مانند روح کا جامہ ”سفید براق“ ہوتا ہے۔اِس لئے اِس دنیا میں بھی، ”تیرا لباس ہمیشہ سفید ہو۔“ ”مبارک ہے وہ شخص جو آزمائش کی برداشت (فتح) کرتا ہے؛ کیونکہ جب مقبول ٹھہرا، (ایماندار ثابت ہوا)، تو زندگی کا وہ تاج حاصل کرے گا جس کا خداوند نے اپنے محبت کرنے والوں سے وعدہ کیا ہے۔“ (یعقوب 1باب12 آیت۔)

12. 267 : 25-32

The robes of Spirit are "white and glistering," like the raiment of Christ. Even in this world, therefore, "let thy garments be always white." "Blessed is the man that endureth [overcometh] temptation: for when he is tried, [proved faithful], he shall receive the crown of life, which the Lord hath promised to them that love him." (James i. 12.)


روز مرہ کے فرائ

منجاب میری بیکر ایڈ

روز مرہ کی دعا

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ ہر روز یہ دعا کرے: ’’تیری بادشاہی آئے؛‘‘ الٰہی حق، زندگی اور محبت کی سلطنت مجھ میں قائم ہو، اور سب گناہ مجھ سے خارج ہو جائیں؛ اور تیرا کلام سب انسانوں کی محبت کو وافر کرے، اور اْن پر حکومت کرے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 4۔

مقاصد اور اعمال کا ایک اصول

نہ کوئی مخالفت نہ ہی کوئی محض ذاتی وابستگی مادری چرچ کے کسی رکن کے مقاصد یا اعمال پر اثر انداز نہیں ہونی چاہئے۔ سائنس میں، صرف الٰہی محبت حکومت کرتی ہے، اور ایک مسیحی سائنسدان گناہ کو رد کرنے سے، حقیقی بھائی چارے ، خیرات پسندی اور معافی سے محبت کی شیریں آسائشوں کی عکاسی کرتا ہے۔ اس چرچ کے تمام اراکین کو سب گناہوں سے، غلط قسم کی پیشن گوئیوں،منصفیوں، مذمتوں، اصلاحوں، غلط تاثر ات کو لینے اور غلط متاثر ہونے سے آزاد رہنے کے لئے روزانہ خیال رکھنا چاہئے اور دعا کرنی چاہئے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 1۔

فرض کے لئے چوکس

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ وہ ہر روز جارحانہ ذہنی آراء کے خلاف خود کو تیار رکھے، اور خدا اور اپنے قائد اور انسانوں کے لئے اپنے فرائض کو نہ کبھی بھولے اور نہ کبھی نظر انداز کرے۔ اس کے کاموں کے باعث اس کا انصاف ہوگا، وہ بے قصور یا قصوارہوگا۔ 

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 6۔


████████████████████████████████████████████████████████████████████████