اتوار 25جولائی ،2021



مضمون۔ حق

SubjectTruth

سنہری متن: 25زبور: 10 آیت

”جو خداوند کے عہد اور اْس کی شہادتوں کو مانتے ہیں اْن کے لئے اْس کی سب راہیں شفقت اور سچائی ہیں۔“



Golden Text: Psalm 25 : 10

All the paths of the Lord are mercy and truth unto such as keep his covenant and his testimonies.





سبق کی آڈیو کے لئے یہاں کلک کریں

یوٹیوب سے سننے کے لئے یہاں کلک کریں

████████████████████████████████████████████████████████████████████████


جوابی مطالعہ: 1یوحنا 5باب 3تا6، 20 آیات


3۔اور خدا کی محبت یہ ہے کہ ہم اْس کے حکموں پرعمل کریں اور اْس کے حکم سخت نہیں۔

4۔ جو کوئی خدا سے پیدا ہوا ہے وہ دنیا پر غالب آتا ہے اور وہ غلبہ جس سے دنیا مغلوب ہوئی ہے ہمارا ایمان ہے۔

5۔ دنیا کا مغلوب کرنے والا کون ہے سوا اْس شخص کے جس کا ایمان یہ ہے کہ یسوع خدا کا بیٹا ہے؟

6۔ یہی ہے وہ جو پانی اور خون کے وسیلہ سے آیا تھا یعنی یسوع مسیح۔ وہ نہ فقط پانی کے وسیلہ سے بلکہ پانی اور خون دونوں کے وسیلہ سے آیا تھا۔اور جو گواہی دیتا ہے وہ روح ہے کیونکہ روح سچائی ہے۔

20۔ اور ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ خدا کا بیٹا آگیا ہے اور اْس نے ہمیں سمجھ بخشی ہے تاکہ اْس کو جو حقیقی ہے جانیں اور ہم اْس میں جو حقیقی ہے یعنی اْس کے بیٹے یسوع مسیح میں ہیں۔ حقیقی خدا اور ہمیشہ کی زندگی یہی ہے۔

Responsive Reading: I John 5 : 3-6, 20

3.     For this is the love of God, that we keep his commandments: and his commandments are not grievous.

4.     For whatsoever is born of God overcometh the world: and this is the victory that overcometh the world, even our faith.

5.     Who is he that overcometh the world, but he that believeth that Jesus is the Son of God?

6.     This is he that came by water and blood, even Jesus Christ; not by water only, but by water and blood. And it is the Spirit that beareth witness, because the Spirit is truth.

20.     And we know that the Son of God is come, and hath given us an understanding, that we may know him that is true, and we are in him that is true, even in his Son Jesus Christ. This is the true God, and eternal life.



درسی وعظ



بائبل


درسی وعظ

بائبل

1۔ استثناء 32 باب1تا4 آیات

1۔ کان لگاؤ اے آسمانو! اور مَیں بولوں گا اور زمین میرے منہ کی باتیں سنے۔

2۔ میری تعلیم مینہ کی طرح برسے گی۔ میری تقریر شبنم کی مانند ٹپکے گی جیسے نرم گھاس پر پھوار پڑتی ہو اور سبزی پر جھڑیاں۔

3۔ کیونکہ مَیں خداوند کے نام کا اشتہار دوں گا۔ تم میرے خدا کی تعظیم کرو۔

4۔ وہ وہی چٹان ہے۔ اْس کی صنعت کامل ہے کیونکہ اْس کی سب راہیں انصاف کی ہیں وہ وفادار خدا اور بدی سے مبرا ہے۔ وہ منصف اور برحق ہے۔

1. Deuteronomy 32 : 1-4

1 Give ear, O ye heavens, and I will speak; and hear, O earth, the words of my mouth.

2     My doctrine shall drop as the rain, my speech shall distil as the dew, as the small rain upon the tender herb, and as the showers upon the grass:

3     Because I will publish the name of the Lord: ascribe ye greatness unto our God.

4     He is the Rock, his work is perfect: for all his ways are judgment: a God of truth and without iniquity, just and right is he.

2۔ یسعیاہ 28 باب16، 17 آیات

16۔اس لئے خداوند خدا یوں فرماتا ہے۔ دیکھو مَیں صیون میں بنیاد کے لئے ایک پتھر رکھوں گا۔ آزمودہ پتھر۔ محکم بنیاد کے لئے کونے کے سرے کا قیمتی پتھر جو کوئی ایمان لاتا ہے قائم رہتا ہے۔

17۔ اور مَیں عدالت کو سْوت اور صداقت کو ساہول بناؤں گا اور اولے جھوٹ کی پناہ گاہ کو صاف کر دیں گے اور پانی چھِپنے کے مکان میں پھیل جائے گا۔

2. Isaiah 28 : 16, 17

16     Therefore thus saith the Lord God, Behold, I lay in Zion for a foundation a stone, a tried stone, a precious corner stone, a sure foundation: he that believeth shall not make haste.

17     Judgment also will I lay to the line, and righteousness to the plummet: and the hail shall sweep away the refuge of lies, and the waters shall overflow the hiding place.

3۔ امثال 12 باب19 آیت

19۔ سچے ہونٹ ہمیشہ قائم رہیں گے لیکن جھوٹی زبان صرف دم بھر کی ہے۔

3. Proverbs 12 : 19

19     The lip of truth shall be established for ever: but a lying tongue is but for a moment.

4۔ یوحنا 1باب6تا8، 14، 16، 17 آیات

6۔ ایک آدمی یوحنا نام آ موجود ہوا جو خدا کی طرف سے بھجا گیا تھا۔

7۔ یہ گواہی کے لئے آیا کہ نور کی گواہی دے تاکہ سب اْس کے وسیلہ سے ایمان لائیں۔

8۔ وہ خود تو نور نہ تھا مگر نور کی گواہی دینے آیا تھا۔

14۔ اور کلام مجسم ہوا اور فضل اور سچائی سے معمور ہو کر ہمارے درمیان رہا (اور ہم نے اْس کا ایسا جلال دیکھا جیسا باپ کے اکلوتے کا جلال)۔

16۔ کیونکہ اْس کی معموری میں سے ہم سب نے پایا یعنی فضل پر فضل۔

17۔ اس لئے کہ شریعت تو موسیٰ کی معرفت دی گئی مگر فضل اور سچائی یسوع مسیح کی معرفت پہنچی۔

4. John 1 : 6-8, 14, 16, 17

6     There was a man sent from God, whose name was John.

7     The same came for a witness, to bear witness of the Light, that all men through him might believe.

8     He was not that Light, but was sent to bear witness of that Light.

14     And the Word was made flesh, and dwelt among us, (and we beheld his glory, the glory as of the only begotten of the Father,) full of grace and truth.

16     And of his fulness have all we received, and grace for grace.

17     For the law was given by Moses, but grace and truth came by Jesus Christ.

5۔ مرقس 5 باب25تا30، 32تا34 آیات

25۔ پھر ایک عورت جس کے بارہ برس سے خون جاری تھا۔

26۔ اورکئی طبیبوں سے تکلیف اٹھا چکی تھی اور اپنا سب مال خرچ کر کے بھی اْسے کچھ فائدہ نہ ہواتھا بلکہ زیادہ بیمار ہو گئی تھی۔

27۔ یسوع کا حال سْن کر بھیڑ میں اْس کے پیچھے سے آئی اور اْس کی پوشاک کو چھوا۔

28۔ کیونکہ وہ کہتی تھی کہ اگر مَیں اْس کی پوشاک ہی چھو لوں گی تو اچھی ہو جاؤں گی۔

29۔ اور فی الفور اْس کا خون بہنا بند ہوگیا اور اْس نے اپنے بدن میں محسوس کیا کہ مَیں نے اس بیماری سے شفا پائی۔

30۔ یسوع نے فی الفور اپنے میں معلوم کر کے کہ مجھ میں سے قوت نکلی اْس بھیڑ میں پیچھے مڑ کر کہا کس نے میری پوشاک چھوئی؟

32۔ اْس نے چاروں طرف نگاہ کی تاکہ جس نے یہ کام کیا اْسے دیکھے۔

33۔ وہ عورت جو کچھ اْس سے ہوا تھا محسوس کر کے ڈرتی اور کانپتی ہوئی اور اْس کے آگے گر پڑی اور سارا حال سچ سچ اْس سے کہہ دیا۔

34۔ اْس نے اْس سے کہا بیٹی تیرے ایمان سے تجھے شفا ملی۔ سلامت چلی جا اور اپنی بیماری سے بچی رہ۔

5. Mark 5 : 25-30, 32-34

25     And a certain woman, which had an issue of blood twelve years,

26     And had suffered many things of many physicians, and had spent all that she had, and was nothing bettered, but rather grew worse,

27     When she had heard of Jesus, came in the press behind, and touched his garment.

28     For she said, If I may touch but his clothes, I shall be whole.

29     And straightway the fountain of her blood was dried up; and she felt in her body that she was healed of that plague.

30     And Jesus, immediately knowing in himself that virtue had gone out of him, turned him about in the press, and said, Who touched my clothes?

32     And he looked round about to see her that had done this thing.

33     But the woman fearing and trembling, knowing what was done in her, came and fell down before him, and told him all the truth.

34     And he said unto her, Daughter, thy faith hath made thee whole; go in peace, and be whole of thy plague.

6۔ متی 5 باب1، 2، 6، 17 آیات

1۔وہ اْس بھیڑ کو دیکھ کر پہاڑ پر چڑھ گیا اور جب بیٹھ گیا تو اْس کے شاگرد اْس کے پاس آئے۔

2۔ اور وہ اپنی زبان ہوکر اْن کو یوں تعلیم دینے گا۔

6۔ مبارک ہیں وہ جو راستبازی کے بھوکے اور پیاسے ہیں کیونکہ وہ آسودہ ہوں گے۔

17۔ یہ نہ سمجھو کہ مَیں توریت یا نبیوں کی کتابوں کو منسوخ کرنے آیا ہوں۔ منسوخ کرنے نہیں بلکہ پورا کرنے آیا ہوں۔

6. Matthew 5 : 1, 2, 6, 17

1     And seeing the multitudes, he went up into a mountain: and when he was set, his disciples came unto him:

2     And he opened his mouth, and taught them, saying,

6     Blessed are they which do hunger and thirst after righteousness: for they shall be filled.

17     Think not that I am come to destroy the law, or the prophets: I am not come to destroy, but to fulfil.

7۔ متی 7 باب24تا27 آیات

24۔پس جو کوئی میری یہ باتیں سنتا ہے اور اْن پر عمل کرتا ہے وہ اْس عقلمند آدمی کی مانند ٹھہرے گاجس نے چٹان پر اپنا گھر بنایا۔

25۔ اور مینہ برسا اور پانی چڑھا اور آندھیاں چلیں اور اْس گھر پر ٹکرائیں لیکن وہ نہ گرا کیونکہ اْس کی بنیاد چٹان پر ڈالی گئی تھی۔

26۔ اور جو کوئی میری یہ باتیں سنتا ہے اور اْن پر عمل نہیں کرتا وہ اْس بے وقوف آدمی کی مانند ٹھہرے گا جس نے اپنا گھر ریت پر بنایا۔

27۔ اور مینہ برسا اور پانی چڑھا اور آندھیاں چلیں اور اْس گھر کو صدمہ پہنچایا اور وہ گر گیا اور بالکل برباد ہوگیا۔

7. Matthew 7 : 24-27

24     Therefore whosoever heareth these sayings of mine, and doeth them, I will liken him unto a wise man, which built his house upon a rock:

25     And the rain descended, and the floods came, and the winds blew, and beat upon that house; and it fell not: for it was founded upon a rock.

26     And every one that heareth these sayings of mine, and doeth them not, shall be likened unto a foolish man, which built his house upon the sand:

27     And the rain descended, and the floods came, and the winds blew, and beat upon that house; and it fell: and great was the fall of it.

8۔ عبرانیوں 4باب12 آیت

12۔کیونکہ خدا کا کلام زندہ اور موثر اور ہر ایک دو دھاری تلوار سے زیادہ تیز ہے اور جان اور روح اور بند بند اور گودے کو جدا کر کے گزر جاتا ہے اور دل کے خیالوں اور ارادوں کو جانچتا ہے۔

8. Hebrews 4 : 12

12     For the word of God is quick, and powerful, and sharper than any twoedged sword, piercing even to the dividing asunder of soul and spirit, and of the joints and marrow, and is a discerner of the thoughts and intents of the heart.

9۔ متی 16 باب13تا18 آیات

13۔ جب یسوع قیصریہ فلپی کے علاقے میں آیا تو اْس نے اپنے شاگردوں سے یہ پوچھا کہ لوگ ابن آدم کو کیا کہتے ہیں؟

14۔ اْنہوں نے کہا بعض یوحنا بپتسمہ دینے والا کہتے ہیں بعض ایلیاہ بعض یرمیاہ بعض نبیوں میں سے کوئی۔

15۔ اْس نے اْن سے کہا مگر تم مجھے کیا کہتے ہو؟

16۔ شمعون پطرس نے جواب میں کہا تْو زندہ خدا کا بیٹا مسیح ہے۔

17۔ یسوع نے جواب میں اْس سے کہا مبارک ہے تْو شمعون بر یوناہ کیونکہ یہ بات گوشت اور خون نے نہیں بلکہ میرے باپ نے جو آسمان پر ہے تجھ پر ظاہر کی ہے۔

18۔ اور مَیں تجھ سے کہتا ہوں کہ تْو پتھر ہے اور مَیں اِس پتھر پر اپنی کلیسیا بناؤں گا اور عالمِ ارواح کے دروازے اْس پر غالب نہ آئیں گے۔

9. Matthew 16 : 13-18

13     When Jesus came into the coasts of Caesarea Philippi, he asked his disciples, saying, Whom do men say that I the Son of man am?

14     And they said, Some say that thou art John the Baptist: some, Elias; and others, Jeremias, or one of the prophets.

15     He saith unto them, But whom say ye that I am?

16     And Simon Peter answered and said, Thou art the Christ, the Son of the living God.

17     And Jesus answered and said unto him, Blessed art thou, Simon Bar-jona: for flesh and blood hath not revealed it unto thee, but my Father which is in heaven.

18     And I say also unto thee, That thou art Peter, and upon this rock I will build my church; and the gates of hell shall not prevail against it.

10۔ یوحنا 8 باب12تا16، 31، 32 آیات

12۔ یسوع نے پھر اْن سے مخاطب ہو کر کہا کہ دنیا کا نور مَیں ہوں۔جو میری پیروی کرے گا وہ اندھیرے میں نہ چلے گا بلکہ زندگی کا نور پائے گا۔

13۔ فریسیوں نے اْس سے کہا تْو اپنی گواہی آپ دیتا ہے۔ تیری گواہی سچی نہیں۔

14۔ یسوع نے جواب میں اْن سے کہا اگرچہ مَیں اپنی گواہی آپ دیتا ہوں تو بھی میری گواہی سچی ہے کیونکہ مجھے معلوم ہے کہ مَیں کہاں سے آیا ہوں اور کہاں کو جاتا ہوں لیکن تم کو معلوم نہیں کہ مَیں کہاں سے آتا ہوں اور کہاں کو جاتا ہوں۔

15۔ تم جسم کے مطابق فیصلہ کرتے ہو۔ مَیں کسی کا فیصلہ نہیں کرتا۔

16۔ اور اگر مَیں فیصلہ کروں بھی تو میرا فیصلہ سچا ہے کیونکہ مَیں اکیلا نہیں ہوں مَیں ہوں اور باپ ہے جس نے مجھے بھیجا ہے۔

31۔ پس یسوع نے اْن یہودیوں سے کہا جنہوں نے اْس کا یقین کیا تھا کہ اگر تم میرے کلام پر عمل کرو گے تو حقیقت میں میرے شاگرد ٹھہرو گے۔

32۔ اور سچائی سے واقف ہو گے اور سچائی تم کو آزاد کرے گی۔

10. John 8 : 12-16, 31, 32

12     Then spake Jesus again unto them, saying, I am the light of the world: he that followeth me shall not walk in darkness, but shall have the light of life.

13     The Pharisees therefore said unto him, Thou bearest record of thyself; thy record is not true.

14     Jesus answered and said unto them, Though I bear record of myself, yet my record is true: for I know whence I came, and whither I go; but ye cannot tell whence I come, and whither I go.

15     Ye judge after the flesh; I judge no man.

16     And yet if I judge, my judgment is true: for I am not alone, but I and the Father that sent me.

31     Then said Jesus to those Jews which believed on him, If ye continue in my word, then are ye my disciples indeed;

32     And ye shall know the truth, and the truth shall make you free.



سائنس اور صح


1۔ 7: 13۔21

سوچنے والوں کے لئے وقت آ پہنچا ہے۔ سچائی، آزادیِ عقائد اور نظامِ احترامیِ وقت، انسانیت کے آستانے پر دستک دیتے ہیں۔ ماضی کی قناعت اور مادہ پرستی کی سرد تقلید اختتام پذید ہو رہی ہے۔ خدا سے لا علمی مزید ایمان کے راستے کا پتھر نہیں رہا۔ وفاداری کی واحد ضمانت اْس ہستی سے متعلق درست فہم ہے جسے بہتر طور پر جاننا ہی ابدی زندگی ہے۔ اگرچہ سلنطنتیں نیست ہو جاتی ہیں، مگر ”خداوند ابد الا باد سلطنت کرے گا۔“

1. vii : 13-21

The time for thinkers has come. Truth, independent of doctrines and time-honored systems, knocks at the portal of humanity. Contentment with the past and the cold conventionality of materialism are crumbling away. Ignorance of God is no longer the steppingstone to faith. The only guarantee of obedience is a right apprehension of Him whom to know aright is Life eternal. Though empires fall, "the Lord shall reign forever."

2۔ 254 :10۔12

جب ہم صبر کے ساتھ خدا کا انتظار کرتے اور راستبازی کے ساتھ سچائی کی تلاش کرتے ہیں تو وہ ہماری راہ میں راہنمائی کرتا ہے۔

2. 254 : 10-12

When we wait patiently on God and seek Truth righteously, He directs our path.

3۔ 224 :28۔31

سچائی آزادی کے عناصر پیدا کرتی ہے۔ اِس کے جھنڈے پر روح کا الہامی نعرہ ”غلامی موقوف ہوچکی ہے“ درج ہے۔ خدا کی قدرت قیدیوں کے لئے آزادی لاتی ہے۔ کوئی طاقت الٰہی محبت کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔

3. 224 : 28-31

Truth brings the elements of liberty. On its banner is the Soul-inspired motto, "Slavery is abolished." The power of God brings deliverance to the captive. No power can withstand divine Love.

4۔ 136 :1۔2، 29۔11

یسوع نے مسیح کی شفا کی روحانی بنیاد پر اپنا چرچ قائم کیا اور اپنے مشن کو برقرار رکھا۔

شاگرد اپنے مالک کو دوسروں کی نسبت زیادہ جانتے تھے مگر جو کچھ اْس نے کہا اور کیا وہ اْس کو مکمل طور پر نہیں سمجھتے تھے وگرنہ وہ اکثر اْس پر سوال نہ اْٹھاتے۔یسوع صبر کے ساتھ اور سچائی کی ہستی کو ظاہر کرتے ہوئے اپنی تعلیم پر قائم رہا۔اْس کے طالب علموں نے سچائی کی اِس طاقت کو بیمار کو شفا دیتے، بد روح کو نکالتے اور مردہ کو زندہ کرتے ہوئے دیکھا، مگر اِس عجیب کام کی کاملیت روحانی طور پر قبول نہیں کی گئی، حتیٰ کہ اْن کی جانب سے بھی، صلیب پر چڑھائے جانے کے بعد تک، جب اْن کا بیداغ استاد اْن کے سامنے کھڑا تھا، جو بیماری، گناہ اور عارضے، موت اور قبر پر فتح مند ہوئے۔

سمجھے جانے کی خواہش کرتے ہوئے مالک نے یہ بات دوہرائی کہ ”مگر تم مجھے کیا کہتے ہیں؟“ اِس تجدید شْدہ سوال کا مطلب یہ ہے: کون اور کیا ہے جو یہ کام کرنے کے قابل ہے، جومعروف عقل کے لئے نہایت پراسرار ہے؟

4. 136 : 1-2, 29-11

Jesus established his church and maintained his mission on a spiritual foundation of Christ-healing.

The disciples apprehended their Master better than did others; but they did not comprehend all that he said and did, or they would not have questioned him so often. Jesus patiently persisted in teaching and demonstrating the truth of being. His students saw this power of Truth heal the sick, cast out evil, raise the dead; but the ultimate of this wonderful work was not spiritually discerned, even by them, until after the crucifixion, when their immaculate Teacher stood before them, the victor over sickness, sin, disease, death, and the grave.

Yearning to be understood, the Master repeated, "But whom say ye that I am?" This renewed inquiry meant: Who or what is it that is able to do the work, so mysterious to the popular mind?

5۔ 137 :16۔11

اپنی عمومی سختی کے ساتھ، شمعون نے اپنے بھائیوں کے لئے جواب دیا، اور اْس کے جواب نے ایک بڑی حقیقت کو قائم کیا: ”تْو زندہ خدا کا بیٹا مسیح ہے!“ یعنی: مسیحا وہ ہے جسے تْو نے ظاہر کیا، مسیح، خدا کا، سچائی کا، زندگی اور محبت کا روح، جو ذہنی طور پر شفا دیتا ہے۔ اس دعوے نے یسوع کی طرف سے دعائے خیر کو ظاہر کیا، ”مبارک ہے تْو شمعون بر یوناہ کیونکہ یہ بات گوشت اور خون نے نہیں بلکہ میرے باپ نے جو آسمان پر ہے تْجھ پر ظاہر کی ہے“؛ یعنی، محبت نے تمہارے لئے زندگی کا راستہ کھول دیا ہے!

اِس سے پہلے یہ تْند مزاج شاگرد اپنے عام نام، شمعون بر یونا یا ابنِ یونا کے نام سے ہی جانا جاتا تھا؛ مگر اب مالک نے اْسے اِن الفاظ میں ایک روحانی نام دیا تھا: ”اور مَیں تجھ سے کہتا ہوں کہ تْو پطرس ہے (یونانی لفظ پیڑوس یا پتھر کے معنی) اور مَیں اِس پتھر پر اپنی کلیسیا بناؤں گا اور عالم ارواح(برزخ، پاتال یا قبر) کے دروازے اْس پر غالب نہ آئیں گے۔“دوسرے الفاظ میں، یسوع کا ارادہ اپنے معاشرے کی بنیاد بطور انسان شخصی پطرس پر نہیں بلکہ خدا کی اْس طاقت پر رکھنا تھا جو سچے مسیحا سے متعلق پطرس کے اقرار کے پیچھے کار فرما تھی۔

اب پطرس پر یہ واضح ہوچکا تھا کہ الٰہی زندگی، سچائی اور محبت، اور انسانی ذاتیات نہیں، بیمار کا مشفی تھا اور وہ ہم آہنگی کی سلطنت میں ایک چٹان، ایک مضبوط بنیاد تھا۔اس روحانی طور پر سائنسی بنیاد پر یسوع نے علاج کی وضاحت کی جو غیروں کے لئے معجزاتی ظاہر ہوا۔

5. 137 : 16-11

With his usual impetuosity, Simon replied for his brethren, and his reply set forth a great fact: "Thou art the Christ, the Son of the living God!" That is: The Messiah is what thou hast declared, — Christ, the spirit of God, of Truth, Life, and Love, which heals mentally. This assertion elicited from Jesus the benediction, "Blessed art thou, Simon Bar-jona: for flesh and blood hath not revealed it unto thee, but my Father which is in heaven;" that is, Love hath shown thee the way of Life!

Before this the impetuous disciple had been called only by his common names, Simon Bar-jona, or son of Jona; but now the Master gave him a spiritual name in these words: "And I say also unto thee, That thou art Peter; and upon this rock [the meaning of the Greek word petros, or stone] I will build my church; and the gates of hell [hades, the underworld, or the grave] shall not prevail against it." In other words, Jesus purposed founding his society, not on the personal Peter as a mortal, but on the God-power which lay behind Peter's confession of the true Messiah.

It was now evident to Peter that divine Life, Truth, and Love, and not a human personality, was the healer of the sick and a rock, a firm foundation in the realm of harmony. On this spiritually scientific basis Jesus explained his cures, which appeared miraculous to outsiders.

6۔ 380 :5۔7، 19۔21

سچائی زمانوں کا پتھر، کونے کے سرے کا پتھر ہے، ”لیکن جس پر وہ گِرے گا اْسے پیس ڈالے گا۔“

سچائی کی طاقت کے سوا کچھ بھی غلطی کے خوف کو نہیں روک سکتا اور غلطی پر انسان کی حکمرانی کو ثابت نہیں کرسکتا۔

6. 380 : 5-7, 19-21

Truth is the rock of ages, the headstone of the corner, "but on whomsoever it shall fall, it will grind him to powder."

Nothing but the power of Truth can prevent the fear of error, and prove man's dominion over error.

7۔ 269 :21۔28

مادی حواس کی گواہی نہ تو مطلق ہے اور نہ الٰہی ہے۔ اِسی لئے میں خود کو غیر محفوظ طریقے سے یسوع کی، اْس کے شاگردوں کی، انبیاء کی تعلیمات اور عقل کی سائنس کی گواہی پر قائم کرتا ہوں۔یہاں دیگر بنیادیں بالکل نہیں ہیں۔باقی تمام تر نظام، وہ نظام جو مکمل طور پر یا جزوی طور پر مادی حواس سے حاصل شدہ علم پر بنیاد رکھتے ہیں، ایسے سرکنڈے ہیں جو ہوا سے لڑکھڑاتے ہیں، نہ کہ چٹان پر تعمیر کئے گئے گھر ہیں۔

7. 269 : 21-28

The testimony of the material senses is neither absolute nor divine. I therefore plant myself unreservedly on the teachings of Jesus, of his apostles, of the prophets, and on the testimony of the Science of Mind. Other foundations there are none. All other systems — systems based wholly or partly on knowledge gained through the material senses — are reeds shaken by the wind, not houses built on the rock.

8۔ 542 :7۔13

سچائی، اپنے ابدی قوانین کے وسیلہ، غلطی کو بے نقاب کرتی ہے۔سچائی غلطی کو اپنے آپ سے فریب دلوانے کا موجب بنتی ہے، اور غلطی پر حیوان کا نشان لگاتی ہے۔حتیٰ کہ احساسِ جرم کے بہانے کی یا اِس پر مہر ثبت کرنے کی رغبت کو سزا دی جاتی ہے۔انصاف سے اجتناب اور سچائی سے انکارگناہ کو مسلسل ہونے، جرم کو بڑھاوا دینے،قوت ارادی کو خطرے میں ڈالنے اور الٰہی رحم کا مذاق اْڑانے کا رجحان پیدا کرتے ہیں۔

8. 542 : 7-13

Truth, through her eternal laws, unveils error. Truth causes sin to betray itself, and sets upon error the mark of the beast. Even the disposition to excuse guilt or to conceal it is punished. The avoidance of justice and the denial of truth tend to perpetuate sin, invoke crime, jeopardize self-control, and mock divine mercy.

9۔ 368 :2۔19

سائنس سے متحرک اعتماد اس حقیقت میں پنہاں ہے کہ سچائی حقیقی ہے اور غلطی غیر حقیقی ہے۔ غلطی سچائی کے سامنے بزدل ہے۔ الٰہی سائنس اِس پر اصرار کرتی ہے کہ وقت یہ سب کچھ ثابت کرے گا۔ سچائی اور غلطی دونوں بشر کی سوچ سے کہیں زیادہ قریب تر ہوئے ہیں، اور سچائی پھر بھی واضح تر ہوتی جائے گی کیونکہ غلطی خودکو تباہ کرنے والی ہے۔

اِن جھوٹے عقائد کے خلاف کہ غلطی اْتنی ہی حقیقی ہے جتنی سچائی ہے، کہ بدی اگر برتر نہیں تو اچھائی کی طاقت کے برابر ہے، اور کہ مخالفت اْتنی ہی عمومی ہے جتنی ہم آہنگی ہے، حتیٰ کہ بیماری اور گناہ کی قید سے آزادی کی امید بھی اعصابی کوششوں پر بہت کم اثر رکھتی ہے۔جب ہم غلطی سے زیادہ زندگی کی سچائی پرایمان رکھتے ہیں، مادے سے زیادہ روح پر بھروسہ رکھتے ہیں، مرنے سے زیادہ جینے پر بھروسہ رکھتے ہیں، انسان سے زیادہ خدا پر بھروسہ رکھتے ہیں، تو کوئی مادی مفرضے ہمیں بیماروں کو شفا دینے اور غلطی کو نیست کرنے سے نہیں روک سکتے۔

9. 368 : 2-19

The confidence inspired by Science lies in the fact that Truth is real and error is unreal. Error is a coward before Truth. Divine Science insists that time will prove all this. Both truth and error have come nearer than ever before to the apprehension of mortals, and truth will become still clearer as error is self-destroyed.

Against the fatal beliefs that error is as real as Truth, that evil is equal in power to good if not superior, and that discord is as normal as harmony, even the hope of freedom from the bondage of sickness and sin has little inspiration to nerve endeavor. When we come to have more faith in the truth of being than we have in error, more faith in Spirit than in matter, more faith in living than in dying, more faith in God than in man, then no material suppositions can prevent us from healing the sick and destroying error.

10۔ 191 :8۔15

بطور مادا، نظریاتی زندگی کی بنیاد وجودیت کی غلط فہمی سمجھی گئی ہے، یعنی انسان کا وہ روحانی اور الٰہی اصول جو انسانی سوچ پر نازل ہوتا ہے اور اِسے وہاں لے جاتا ہے ”جہاں چھوٹا بچہ تھا،“ حتیٰ کہ جدید پرانے خیال کی پیدائش پر ہستی کے روحانی فہم اوروہاں تک جسے زندگی میں شامل کیا گیا ہو۔ لہٰذہ غلطی کی تاریکی کا تعاقب کرتے ہوئے،پوری زمین روشنی سے متعلق اِس کی آراء پر سچائی کی طرف سے تبدیل ہوں گے۔

10. 191 : 8-15

As a material, theoretical life-basis is found to be a misapprehension of existence, the spiritual and divine Principle of man dawns upon human thought, and leads it to "where the young child was," — even to the birth of a new-old idea, to the spiritual sense of being and of what Life includes. Thus the whole earth will be transformed by Truth on its pinions of light, chasing away the darkness of error.

11۔ 225 :5۔13

آپ جانتے ہیں کب پہلی سچائی اِس کے پیروکاروں کی وفاداری اور قلت کے باعث فتح مند ہوتی ہے۔پس یہ تب ہے جب وقت کا احتجاج آزادی کاجھنڈا اْٹھائے آگے بڑھتا ہے۔دنیاوی قوتیں لڑیں گی، اور اپنے پاسبانوں کو حکم دیں گی کہ اِس سچائی کو دروازے میں سے نہ گزرنے دیا جائے جب تک کہ یہ اْن کے نظاموں کی تائید نہ کرے؛ مگر سائنس، چھْرے کی نوک کی پرواہ کئے بغیر، آگے بڑھتی ہے۔یہاں ہمیشہ کوئی نہ کوئی ہنگامہ ہوتا ہے، لیکن سچائی کے معیار کایہ ایک جلسہ ہوتا ہے۔

11. 225 : 5-13

You may know when first Truth leads by the fewness and faithfulness of its followers. Thus it is that the march of time bears onward freedom's banner. The powers of this world will fight, and will command their sentinels not to let truth pass the guard until it subscribes to their systems; but Science, heeding not the pointed bayonet, marches on. There is always some tumult, but there is a rallying to truth's standard.

12۔ 450 :15۔26

بعض لوگ سچائی کی چھوون کو دھیرے دھیرے تسلیم کرتے ہیں۔ بعض لوگ بغیر جدوجہد کے تسلیم کرتے ہیں اور بعض یہ ماننے میں ہچکچاہٹ محسوس کرتے ہیں کہ اْنہوں نے تسلیم کر لیا ہے؛ لیکن اگر یہ قبول نہ کیا جائے تو بدی خود اچھائی کے خلاف گھمنڈ کرے گی۔ کرسچن سائنسدان بدی، بیماری اور موت کو ختم کرنے کی فہرست میں شامل ہے، اور وہ خود کے عدم اور خدا یااچھائی کے قادر ہونے کو سمجھنے سے ان پر قابو پا سکتا ہے۔ اْس کے لئے بیماری گناہ سے کم آزمائش نہیں ہے، وہ اِ ن دونوں پر خدا کی قدرت کو سمجھتے ہوئے دونوں سے شفا پاتا ہے۔ کرسچن سائنسدان یہ جانتا ہے کہ وہ غلطی کے عقائد ہیں، جنہیں سچائی نیست کرسکتی اور کرے گی۔

12. 450 : 15-26

Some people yield slowly to the touch of Truth. Few yield without a struggle, and many are reluctant to acknowledge that they have yielded; but unless this admission is made, evil will boast itself above good. The Christian Scientist has enlisted to lessen evil, disease, and death; and he will overcome them by understanding their nothingness and the allness of God, or good. Sickness to him is no less a temptation than is sin, and he heals them both by understanding God's power over them. The Christian Scientist knows that they are errors of belief, which Truth can and will destroy.

13۔ 380 :4 صرف

سچائی ہمیشہ فتح مند رہی ہے۔

13. 380 : 4 only

Truth is always the victor.


روز مرہ کے فرائ

منجاب میری بیکر ایڈ

روز مرہ کی دعا

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ ہر روز یہ دعا کرے: ’’تیری بادشاہی آئے؛‘‘ الٰہی حق، زندگی اور محبت کی سلطنت مجھ میں قائم ہو، اور سب گناہ مجھ سے خارج ہو جائیں؛ اور تیرا کلام سب انسانوں کی محبت کو وافر کرے، اور اْن پر حکومت کرے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 4۔

مقاصد اور اعمال کا ایک اصول

نہ کوئی مخالفت نہ ہی کوئی محض ذاتی وابستگی مادری چرچ کے کسی رکن کے مقاصد یا اعمال پر اثر انداز نہیں ہونی چاہئے۔ سائنس میں، صرف الٰہی محبت حکومت کرتی ہے، اور ایک مسیحی سائنسدان گناہ کو رد کرنے سے، حقیقی بھائی چارے ، خیرات پسندی اور معافی سے محبت کی شیریں آسائشوں کی عکاسی کرتا ہے۔ اس چرچ کے تمام اراکین کو سب گناہوں سے، غلط قسم کی پیشن گوئیوں،منصفیوں، مذمتوں، اصلاحوں، غلط تاثر ات کو لینے اور غلط متاثر ہونے سے آزاد رہنے کے لئے روزانہ خیال رکھنا چاہئے اور دعا کرنی چاہئے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 1۔

فرض کے لئے چوکس

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ وہ ہر روز جارحانہ ذہنی آراء کے خلاف خود کو تیار رکھے، اور خدا اور اپنے قائد اور انسانوں کے لئے اپنے فرائض کو نہ کبھی بھولے اور نہ کبھی نظر انداز کرے۔ اس کے کاموں کے باعث اس کا انصاف ہوگا، وہ بے قصور یا قصوارہوگا۔ 

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 6۔


████████████████████████████████████████████████████████████████████████