اتوار 26جنوری، 2020 |

اتوار 26جنوری، 2020



مضمون۔ حق

SubjectTruth

سنہری متن:سنہری متن: زبور86:11 آیت

’’اے خداوند مجھ کو اپنی راہ کی تعلیم دے۔ مَیں تیری راستی میں چلوں گا۔‘‘



Golden Text: Psalm 86 : 11

Teach me thy way, O Lord; I will walk in thy truth.





سبق کی آڈیو کے لئے یہاں کلک کریں

یوٹیوب سے سننے کے لئے یہاں کلک کریں

████████████████████████████████████████████████████████████████████████


جوابی مطالعہ: زبور 100: 1تا5 آیات


1۔ اے اہلِ زمین! سب خداوند کے حضور خوشی کا نعرہ مارو۔

2۔ خوشی سے خداوند کی عبادت کرو۔ گاتے ہوئے اْس کے حضور حاضر ہو۔

3۔ جان رکھو کہ خداوند ہی خدا ہے۔ اْسی نے ہم کو بنایا اور ہم اْسی کے ہیں۔ ہم اْس کے لوگ اور اْس کی چراہ گاہ کی بھیڑیں ہیں۔

4۔ شکر گزاری کرتے ہوئے اْس کے پھاٹکوں میں اور حمد کرتے ہوئے اْس کی بارگاہوں میں داخل ہو۔ اْس کا شکر کرو اور اْس کے نام کو مبارک کہو۔

5۔ کیونکہ خداوند بھلا ہے۔ اْس کی شفقت ابدی ہے اور اْس کی وفاداری پشت در پشت رہتی ہے۔

Responsive Reading: Psalm 100 : 1-5

1.     Make a joyful noise unto the Lord, all ye lands.

2.     Serve the Lord with gladness: come before his presence with singing.

3.     Know ye that the Lord he is God: it is he that hath made us, and not we ourselves; we are his people, and the sheep of his pasture.

4.     Enter into his gates with thanksgiving, and into his courts with praise: be thankful unto him, and bless his name.

5.     For the Lord is good; his mercy is everlasting; and his truth endureth to all generations.



درسی وعظ



بائبل


درسی وعظ

بائبل

1۔ استثنا 32 باب1تا4 آیات

1۔ کان لگاؤ اے آسمانو! اور میں بولوں گا اور زمین میرے منہ کی باتیں سنے۔

2۔ میری تعلیم مینہ کی طرح برسے گی۔ میری تقریر شبنم کی مانند ٹپکے گی جیسے نرم گھاس پر پھوار پڑتی ہو اور سبزی پر جھڑیاں۔

3۔ کیونکہ میں خداوند کے نام کا اشتہار دوں گا۔ تم ہمارے خدا کی تعظیم کرو۔

4۔ وہ وہی چٹان ہے۔ اْس کی صنعت کامل ہے کیونکہ اْس کی سب راہیں انصاف کی ہیں وہ وفادار خدا اور بدی سے مبرا ہے۔ وہ منصف اور برحق ہے۔

1. Deuteronomy 32 : 1-4

1     Give ear, O ye heavens, and I will speak; and hear, O earth, the words of my mouth.

2     My doctrine shall drop as the rain, my speech shall distil as the dew, as the small rain upon the tender herb, and as the showers upon the grass:

3     Because I will publish the name of the Lord: ascribe ye greatness unto our God.

4     He is the Rock, his work is perfect: for all his ways are judgment: a God of truth and without iniquity, just and right is he.

2۔ دانی ایل 3باب 1، 8، 10 تا13 (تا پہلا)، 14 (تا پہلا)، 15 (گرکر) (تا؛) 15 (پر)، 16 (تا چوتھا)، 17، 18، 21، 24 تا 26، 28، 29 آیات

1۔ نبوکدنضر بادشاہ نے ایک سونے کی مورت بنوائی جس کی لمبائی ساٹھ ہاتھ اور چوڑائی چھ ہاتھ تھی اور اْسے دُرا کے میدان صوبہ بابل میں نصب کیا۔

8۔ پس اْس وقت چند کسدیوں نے آکر یہوداہ پر الزام لگایا۔

10۔ اے بادشاہ تو نے یہ فرمان جاری کیا ہے کہ جو کوئی قرنا اور نے اور ستار اور رباب اور بربط اور چغانہ اور ہر طرح کے ساز کی آواز سُنے گر کر سونے کی مورت کو سجدہ کرے۔

11۔ اور جو کوئی سجدہ نہ کرے آگ کی جلتی بھٹی میں ڈالا جائے گا۔

12۔ اب چند یہُودی ہیں جن کو تونے بابل کے صُوبہ کی کار پر دازی پر مُعین کیا ہے یعنی سدرک اور میسک اور عبد نجو۔ ان آدمیوں نے اے بادشاہ تیری تعظیم نہیں کی۔ وہ تیرے معبودوں کی عبادت نہیں کرتے اور اُس سونے کی مورت کو جسے تو نے نصب کیا سجدہ نہیں کرتے۔

13۔ تب نبو کد نضرنے قہر و غضب سے حُکم کیا کہ سدرک اور میسک اور عبد نجو کو حاضر کریں۔

14۔ نبُوکدنضر نے اُن سے کہا۔

15۔۔۔۔ اُس مورت کے سامنے جو میں نے بنوائی ہے گر کر سجدہ کرو۔۔۔پر اگر سجدہ نہ کرو گے تو اُسی وقت آگ کی جلتی بھٹی میں ڈالے جاؤ گے اور کون سا معبُود تم کو میرے ہاتھ سے چُھڑائے گا؟

16۔ سدرک اور میسک اور عبد نجو نے بادشاہ سے عرض کی۔

17۔ دیکھ ہمارا خدا جس کی ہم عبادت کرتے ہیں ہم کو آگ کی جلتی ہوئی بھٹی سے چھُڑانے کی قدرت رکھتا ہے اور اے بادشاہ وہی ہم کو تیرے ہاتھ سے چھڑائے گا۔

18۔ اور نہیں تو اے بادشاہ تجھے معلوم ہو کہ ہم تیرے معبودوں کی عبادت نہیں کریں گے اور اُس سونے کی مورت کو جو تونے نصب کی ہے سجدہ نہیں کریں گے۔

21۔ تب یہ مرد اپنے زیر جاموں قمیضوں اور عماموں سمیت باندھے گئے اور آگ کی جلتی بھٹی میں پھینک دے گئے۔

24۔ تب نبوکدنضر بادشاہ سراسیمہ ہو کر جلد اٹھا اور ارکان دولت سے مخاطب ہو کر کہنے لگا کیا ہم نے تین شخصوں کو بندھوا کر آگ میں نہیں ڈلوایا؟ انہوں نے جواب دیا کہ بادشاہ نے سچ فرمایا ہے۔

25۔اُس نے کہا دیکھو میں چار شخص آگ میں کھلے پھرتے دیکھتا ہوں اور اُن کو کچھ ضرر نہیں پہنچا اور چوتھے کی صورت الہٰ زادہ کی سی ہے۔

26۔ تب نبوکدنضر نے آگ کی جلتی بھٹی کے دروازہ پر آ کر کہا اے سدرک اور میسک اور عبد نجو خدا تعالیٰ کے بندو! باہر نکلو اور ادھر آؤ۔ پس سدرک اور میسک اور عبد نجو آگ سے نکل آئے۔

28۔ پس نبوکدنضر نے پکار کر کہا کہ سدرک اور میسک اور عبد نجو کا خدا مبارک ہو جس نے اپنا فرشتہ بھیج کر اپنے بندوں کو رہائی بخشی جنہوں نے اُس پر توکل کر کے بادشاہ کے حکم کو ٹال دیا اور اپنے بدنوں کو نثار کیا کہ اپنے خدا کے سوا کسی دوسرے معبود کی عبادت اور بندگی نہ کریں۔

29۔ اس لئے میں یہ فرمان جاری کرتا ہوں کہ جو قوم یا امت یا اہل لغت سدرک اور میسک اور عبد نجو کے خدا کے حق میں کوئی نامناسب بات کہیں اُن کے ٹکرے ٹکرے کئے جائیں گے اور اُن کے گھر مزبلہ ہو جائیں گے کیونکہ کوئی دوسرا معبود نہیں جو اس طرح رہائی دے سکے۔

2. Daniel 3 : 1, 8, 10-13 (to 1st .), 14 (to 1st ,), 15 (fall) (to ;), 15 (but), 16 (to 4th ,), 17, 18, 21, 24-26, 28, 29

1     Nebuchadnezzar the king made an image of gold, whose height was threescore cubits, and the breadth thereof six cubits: he set it up in the plain of Dura, in the province of Babylon.

8     Wherefore at that time certain Chaldeans came near, and accused the Jews.

10     Thou, O king, hast made a decree, that every man that shall hear the sound of the cornet, flute, harp, sackbut, psaltery, and dulcimer, and all kinds of musick, shall fall down and worship the golden image:

11     And whoso falleth not down and worshippeth, that he should be cast into the midst of a burning fiery furnace.

12     There are certain Jews whom thou hast set over the affairs of the province of Babylon, Shadrach, Meshach, and Abed-nego; these men, O king, have not regarded thee: they serve not thy gods, nor worship the golden image which thou hast set up.

13     Then Nebuchadnezzar in his rage and fury commanded to bring Shadrach, Meshach, and Abed-nego.

14     Nebuchadnezzar spake and said unto them,

15     …fall down and worship the image which I have made; but if ye worship not, ye shall be cast the same hour into the midst of a burning fiery furnace; and who is that God that shall deliver you out of my hands?

16     Shadrach, Meshach, and Abed-nego, answered and said to the king,

17     If it be so, our God whom we serve is able to deliver us from the burning fiery furnace, and he will deliver us out of thine hand, O king.

18     But if not, be it known unto thee, O king, that we will not serve thy gods, nor worship the golden image which thou hast set up.

21     Then these men were bound in their coats, their hosen, and their hats, and their other garments, and were cast into the midst of the burning fiery furnace.

24     Then Nebuchadnezzar the king was astonied, and rose up in haste, and spake, and said unto his counsellers, Did not we cast three men bound into the midst of the fire? They answered and said unto the king, True, O king.

25     He answered and said, Lo, I see four men loose, walking in the midst of the fire, and they have no hurt; and the form of the fourth is like the Son of God.

26     Then Nebuchadnezzar came near to the mouth of the burning fiery furnace, and spake, and said, Shadrach, Meshach, and Abed-nego, ye servants of the most high God, come forth, and come hither. Then Shadrach, Meshach, and Abed-nego, came forth of the midst of the fire.

28     Then Nebuchadnezzar spake, and said, Blessed be the God of Shadrach, Meshach, and Abed-nego, who hath sent his angel, and delivered his servants that trusted in him, and have changed the king’s word, and yielded their bodies, that they might not serve nor worship any god, except their own God.

29     Therefore I make a decree, That every people, nation, and language, which speak any thing amiss against the God of Shadrach, Meshach, and Abed-nego, shall be cut in pieces, and their houses shall be made a dunghill: because there is no other God that can deliver after this sort.

3۔ یوحنا 8باب1، 2، 26 تا32 آیات

1۔ مگر یسوع زیتون کے پہاڑ پر گیا۔

2۔ صبح سویرے ہی وہ پھر ہیکل میں آیا اور سب لوگ اْس کے پاس آئے اور وہ بیٹھ کر اْنہیں تعلیم دینے لگا۔

26۔ مجھے تمہاری نسبت بہت کچھ کہنا اور فیصلہ کرنا ہے لیکن جس نے مجھے بھیجا وہ سچا ہے اور جو مَیں نے اْس سے سنا وہی دنیا سے کہتا ہوں۔

27۔وہ نہ سمجھے کہ وہ ہم سے باپ کی نسبت کہتا ہے۔

28۔ پس یسوع نے کہا کہ جب تم ابنِ آدم کو اونچا چڑھاؤ گے تو جانو گے کہ مَیں وہی ہوں اور اپنی طرف سے کچھ نہیں کہتا بلکہ جو کچھ باپ نے مجھے سکھایا اْسی طرح یہ باتیں کہتا ہوں۔

29۔ اور جس نے مجھے بھیجا ہے وہ میرے ساتھ ہے۔ اْس نے مجھے اکیلا نہیں چھوڑا کیونکہ میں ہمیشہ وہی کام کرتا ہوں جو اْسے پسند آتے ہیں۔

30۔ جب وہ یہ باتیں کہہ رہا تھا تو بہتیرے اْس پر ایمان لائے۔

31۔ پس یسوع نے اْن یہودیوں سے کہا جنہوں نے اْس کا یقین کیا تھا کہ اگر تم میرے کلام پر قائم رہو گے تو حقیقت میں میرے شاگرد ٹھہرو گے۔

32۔ اور سچائی سے واقف ہو گے اور سچائی تم کو آزاد کرے گی۔

3. John 8 : 1, 2, 26-32

1     Jesus went unto the mount of Olives.

2     And early in the morning he came again into the temple, and all the people came unto him; and he sat down, and taught them.

26     I have many things to say and to judge of you: but he that sent me is true; and I speak to the world those things which I have heard of him.

27     They understood not that he spake to them of the Father.

28     Then said Jesus unto them, When ye have lifted up the Son of man, then shall ye know that I am he, and that I do nothing of myself; but as my Father hath taught me, I speak these things.

29     And he that sent me is with me: the Father hath not left me alone; for I do always those things that please him.

30     As he spake these words, many believed on him.

31     Then said Jesus to those Jews which believed on him, If ye continue in my word, then are ye my disciples indeed;

32     And ye shall know the truth, and the truth shall make you free.

4۔ یعقوب 1باب17، 18 آیات

17۔ ہر اچھی بخشش اور ہر کامل انعام اوپر سے ہے اور نوروں کے باپ کی طرف سے ملتا ہے جس میں نہ کوئی تبدیلی ہو سکتی ہے اور نہ گردش کے سبب سے اْس پر سایہ پڑتا ہے۔

18۔ اْس نے اپنی مرضی سے ہمیں کلام ِحق کے وسیلہ سے پیدا کیا تاکہ اْس کی مخلوقات میں سے ہم ایک طرح کے پہلے پھل ہوں۔

4. James 1 : 17, 18

17     Every good gift and every perfect gift is from above, and cometh down from the Father of lights, with whom is no variableness, neither shadow of turning.

18     Of his own will begat he us with the word of truth, that we should be a kind of firstfruits of his creatures.



سائنس اور صح


1۔ 7: 13۔21

سوچنے والوں کے لئے وقت آ پہنچا ہے۔ سچائی، آزادیِ عقائد اور نظامِ احترامیِ وقت، انسانیت کے آستانے پر دستک دیتے ہیں۔ ماضی کی قناعت اور مادہ پرستی کی سرد تقلید اختتام پذید ہو رہی ہے۔ خدا سے لا علمی مزید ایمان کے راستے کا پتھر نہیں رہا۔ وفاداری کی واحد ضمانت اْس ہستی سے متعلق درست فہم ہے جسے بہتر طور پر جاننا ہی ابدی زندگی ہے۔ اگرچہ سلنطنتیں نیست ہو جاتی ہیں، مگر ”خداوند ابد الا باد سلطنت کرے گا۔“

1. vii : 13-21

The time for thinkers has come. Truth, independent of doctrines and time-honored systems, knocks at the portal of humanity. Contentment with the past and the cold conventionality of materialism are crumbling away. Ignorance of God is no longer the stepping-stone to faith. The only guarantee of obedience is a right apprehension of Him whom to know aright is Life eternal. Though empires fall, "the Lord shall reign forever."

2۔ 224 :28۔4

سچائی آزادی کے عناصر پیدا کرتی ہے۔ اِس کے جھنڈے پر روح کا الہامی نعرہ ”غلامی موقوف ہوچکی ہے“ درج ہے۔ خدا کی قدرت قیدیوں کے لئے آزادی لاتی ہے۔ کوئی طاقت الٰہی محبت کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ وہ کون سی فرض کی گئی قوت ہے جو خود کو خدا کے خلاف کھڑا کرتی ہے؟ یہ کہا ں سے آتی ہے؟ وہ کیا چیز ہے جو انسان کو لوہے کی بیڑیوں کے ساتھ گناہ، موت اور بیماری سے باندھے رکھتی ہے؟ جو کچھ بھی انسان کو غلام بناتا ہے وہ الٰہی حکمرانی کا مخالف ہے۔سچائی انسان کو آزاد کرتی ہے۔

2. 224 : 28-4

Truth brings the elements of liberty. On its banner is the Soul-inspired motto, "Slavery is abolished." The power of God brings deliverance to the captive. No power can withstand divine Love. What is this supposed power, which opposes itself to God? Whence cometh it? What is it that binds man with iron shackles to sin, sickness, and death? Whatever enslaves man is opposed to the divine government. Truth makes man free.

3۔ 259 :6۔14

الٰہی سائنس میں، انسان خدا کی حقیقی شبیہ ہے۔ الٰہی فطرت میں یسوع مسیح کو بہترین طریقے سے بیان کیا گیا ہے، جس نے انسانوں پر خدا کی مناسب تر عکاسی ظاہر کی اورکمزور سوچ کے نمونے کی سوچ سے بڑی معیارِ زندگی فراہم کی، یعنی ایسی سوچ جو انسان کے گرنے، بیماری، گناہ کرنے اور مرنے کو ظاہر کرتی ہے۔ سائنسی ہستی اور الٰہی شفا کی مسیح جیسی سمجھ میں کامل اصول اور خیال، کامل خدا اور کامل انسان، بطور سوچ اور اظہار کی بنیاد شامل ہوتے ہیں۔

3. 259 : 6-14

In divine Science, man is the true image of God. The divine nature was best expressed in Christ Jesus, who threw upon mortals the truer reflection of God and lifted their lives higher than their poor thought-models would allow, — thoughts which presented man as fallen, sick, sinning, and dying. The Christlike understanding of scientific being and divine healing includes a perfect Principle and idea, — perfect God and perfect man, — as the basis of thought and demonstration.

4۔ 286 :1۔15

ایک انسانی عقیدے پر یقین کے وسیلہ سے سچائی کی تلاش کرنا لامتناہی کو سمجھنا نہیں ہے۔ ہمیں متناہی، زوال پذیر اور فانی کے وسیلہ لازوال اور لافانی کی تلاش نہیں کرنی چاہئے، اور یوں اظہار کی بجائے یقین پر انحصار کرنا چاہئے، کیونکہ یہ سائنسی علم کے لئے مہلک ہے۔سچائی کی سمجھ سچائی پر مکمل ایمان فراہم کرتی ہے اور روحانی فہم تمام تر سوختنی قربانیوں سے بہتر ہے۔

مالک نے کہا، ”کوئی میرے وسیلہ کے بغیر باپ(ہستی کے الٰہی اصول) کے پاس نہیں آتا،“ یعنی مسیح، زندگی، حق اور محبت کے بغیر؛ کیونکہ مسیح کہتا ہے، ”راہ مَیں ہوں۔“ اس اصلی انسان، یسوع، کی بدولت طبیب کے اسباب کو پہلے درجے سے آخری تک کر دیا گیاتھا۔ وہ جانتا تھا کہ الٰہی اصول یعنی محبت اْس سب کو خلق کرتا اور اْس پر حکمرانی کرتا ہے جو حقیقی ہے۔

4. 286 : 1-15

To seek Truth through belief in a human doctrine is not to understand the infinite. We must not seek the immutable and immortal through the finite, mutable, and mortal, and so depend upon belief instead of demonstration, for this is fatal to a knowledge of Science. The understanding of Truth gives full faith in Truth, and spiritual understanding is better than all burnt offerings.

The Master said, "No man cometh unto the Father [the divine Principle of being] but by me," Christ, Life, Truth, Love; for Christ says, "I am the way." Physical causation was put aside from first to last by this original man, Jesus. He knew that the divine Principle, Love, creates and governs all that is real.

5۔ 161 :5۔10

پاک الہام نے ایسی ذہنی حالتیں پیدا کیں ہیں جو شعلوں کے رد عمل کوکالعدم قرار دینے کے قابل ہیں، جیسا کہ بائبل میں تین یونانی عبرانی قیدیوں کا معاملہ تھا، انہیں بابلیوں کی بھٹی میں ڈالا گیا، جبکہ ایک مخالف ذہنی حالت اچانک سْلگن کو پیدا کر سکتی ہے۔

5. 161 : 5-10

Holy inspiration has created states of mind which have been able to nullify the action of the flames, as in the Bible case of the three young Hebrew captives, cast into the Babylonian furnace; while an opposite mental state might produce spontaneous combustion.

6۔ 243 :4۔9

الٰہی محبت، جس نے زہریلے سانپ کو بے ضرر بنایا، جس نے آدمیوں کو اْبلتے ہوئے تیل سے، بھڑکتے ہوئے تندور سے، شیر کے پنجوں سے بچایا، وہ ہر دور میں بیمار کو شفا دے سکتی اور گناہ اور موت پر فتح مند ہو سکتی ہے۔اس نے یسوع کے اظہاروں کو بلا سبقت طاقت اور محبت سے سرتاج کیا۔

6. 243 : 4-9

The divine Love, which made harmless the poisonous viper, which delivered men from the boiling oil, from the fiery furnace, from the jaws of the lion, can heal the sick in every age and triumph over sin and death. It crowned the demonstrations of Jesus with unsurpassed power and love.

7۔ 167 :22۔31

ساکن ہونا اور درمیانی راہ اپنانا یا روح اور مادے، سچائی اور غلطی سے اکٹھے کام کرنے کی توقع رکھنا عقلمندی نہیں۔ راہ ہے مگر صرف ایک، یعنی، خدا اور اْس کا خیال، جو روحانی ہستی کی جانب راہنمائی کرتا ہے۔ بدن پر سائنسی حکمرانی الٰہی عقل کے وسیلہ حاصل ہونی چاہئے۔ کسی دوسرے طریقے سے بدن پر قابو پانا ممکن ہے۔ اِس بنیادی نقطہ پر، کمزورقدامت پسندی بالکل ناقابل تسلیم ہے۔ سچائی پر صرف انتہائی بھروسے کے وسیلہ ہی سائنسی شفائیہ قوت کو محسوس کیا جا سکتا ہے۔

7. 167 : 22-31

It is not wise to take a halting and half-way position or to expect to work equally with Spirit and matter, Truth and error. There is but one way — namely, God and His idea — which leads to spiritual being. The scientific government of the body must be attained through the divine Mind. It is impossible to gain control over the body in any other way. On this fundamental point, timid conservatism is absolutely inadmissible. Only through radical reliance on Truth can scientific healing power be realized. 

8۔ 495 :6۔13

اگر بیماری سچ ہے یا سچائی کا خیال ہے تو آپ بیماری کو نیست نہیں کرسکتے اور اِس کی کوشش کرنا بھی مضحکہ خیز ہوگا۔ تو پھر بیماری اور غلطی کی درجہ بندی کریں، جیسے ہمارے مالک نے کیا، جب اْس نے ایک بیمار سے متعلق کہا، ”جس کو شیطان نے باندھ رکھا تھا،“ اور انسانی عقیدے پر عمل کرتے ہوئے سچائی کی اْس زندگی بخش قوت میں غلطی کے لئے ایک اعلیٰ زہر مار تلاش کریں جوقوت ایسے قیدیوں کے لئے قید کا دروازہ کھولتی اور جسمانی اور اخلاقی طور پر قید سے آزاد کرتی ہے۔

8. 495 : 6-13

If sickness is true or the idea of Truth, you cannot destroy sickness, and it would be absurd to try. Then classify sickness and error as our Master did, when he spoke of the sick, "whom Satan hath bound," and find a sovereign antidote for error in the life-giving power of Truth acting on human belief, a power which opens the prison doors to such as are bound, and sets the captive free physically and morally.

9۔ 227 :14۔29

انسان کے حقوق کو سمجھتے ہوئے ہم تمام مظالم کی تباہی سے متعلق پیش بینی کرنے میں ناکام نہیں ہو سکتے۔غلامی انسان کی جائزحالت نہیں ہے۔ خدا نے انسان کو آزاد پیدا کیا۔ پولوس نے کہا، ”میں آزاد پیدا ہوا۔“ سب انسانوں کو آزاد ہونا چاہئے۔ ”جہاں کہیں خداوند کا روح ہے، وہاں آزادی ہے۔“ محبت اور سچائی آزاد کرتے ہیں، لیکن بدی اور غلطی غلامی کی جانب لے جاتے ہیں۔

کرسچن سائنس آزادی کو اونچا کرتی اور چلاتی ہے کہ: ”میری پیروی کریں! بیماری، گناہ اور موت کے بندھنوں سے بچیں!“ یسوع نے راستہ متعین کیا ہے۔ دنیا کے باسیو، ”خدا کے فرزندوں کی جلالی آزادی“ کو قبول کریں، اور آزاد ہوں! یہ آپ کا الٰہی حق ہے۔ مادی حِس کے بھرم نے، نہ کہ الٰہی قانون نے، آپ کو باندھا ہوا ہے، آپ کے آزاد اعضاء کو جکڑا ہوا ہے، آپ کی صلاحتیوں کو معزول کر رکھا ہے، آپ کے بدن کو لاغر کیا ہوا ہے، اور آپ کی ہستی کی تختی کو خراب کر رکھا ہے۔

9. 227 : 14-29

Discerning the rights of man, we cannot fail to foresee the doom of all oppression. Slavery is not the legitimate state of man. God made man free. Paul said, "I was free born." All men should be free. "Where the Spirit of the Lord is, there is liberty." Love and Truth make free, but evil and error lead into captivity.

Christian Science raises the standard of liberty and cries: "Follow me! Escape from the bondage of sickness, sin, and death!" Jesus marked out the way. Citizens of the world, accept the "glorious liberty of the children of God," and be free! This is your divine right. The illusion of material sense, not divine law, has bound you, entangled your free limbs, crippled your capacities, enfeebled your body, and defaced the tablet of your being.

10۔ 368 :2۔9

سائنس سے متحرک اعتماد اس حقیقت میں پنہاں ہے کہ سچائی حقیقی ہے اور غلطی غیر حقیقی ہے۔ غلطی سچائی کے سامنے بزدل ہے۔ الٰہی سائنس اِس پر اصرار کرتی ہے کہ وقت یہ سب کچھ ثابت کرے گا۔ سچائی اور غلطی دونوں بشر کی سوچ سے کہیں زیادہ قریب تر ہوئے ہیں، اور سچائی پھر بھی واضح تر ہوتی جائے گی کیونکہ غلطی خودکو تباہ کرنے والی ہے۔

10. 368 : 2-9

The confidence inspired by Science lies in the fact that Truth is real and error is unreal. Error is a coward before Truth. Divine Science insists that time will prove all this. Both truth and error have come nearer than ever before to the apprehension of mortals, and truth will become still clearer as error is self-destroyed.

11۔ 130 :26۔5

اگر خدا یا سچائی کی بالادستی کے لئے سائنس کے مضبوط دعوے پر خیالات چونک جاتے ہیں اور اچھائی کی بالادستی پر شک کرتے ہیں، تو کیا ہمیں، اس کے برعکس، بدی کے زبردست دعوں پر حیران ہونا، اْن پر شک کرنااور گناہ سے نفرت کرنے کو فطری اور اِسے ترک کرنے کو غیر فطری تصور کرنا، بدی کو ہمیشہ موجود اور اچھائی کو غیر موجود تصور نہیں کرنا چاہئے؟ سچائی کو غلطی کی مانند تعجب انگیز اور غیر فطری دکھائی نہیں دینا چاہئے، اور غلطی کو سچائی کی مانند حقیقی نہیں لگنا چاہئے۔ بیماری کو صحتیابی جیسا دکھائی نہیں دینا چاہئے۔ سائنس میں کوئی غلطی نہیں ہے، اور خدا یعنی سب چیزوں کے الٰہی اصول، کے ساتھ ہم آہنگ ہونے کے لئے ہماری زندگیوں پر حقیقت کی حکمرانی ہونی چاہئے۔

11. 130 : 26-5

If thought is startled at the strong claim of Science for the supremacy of God, or Truth, and doubts the supremacy of good, ought we not, contrariwise, to be astounded at the vigorous claims of evil and doubt them, and no longer think it natural to love sin and unnatural to forsake it, — no longer imagine evil to be ever-present and good absent? Truth should not seem so surprising and unnatural as error, and error should not seem so real as truth. Sickness should not seem so real as health. There is no error in Science, and our lives must be governed by reality in order to be in harmony with God, the divine Principle of all being.

12۔ 228 :11۔15

انسان کی غلامی جائز نہیں ہے۔ یہ تب ختم ہوجائے گی جب انسان اپنی آزادی کی وراثت، مادی حواس پر اپنی خداداد حاکمیت میں داخل ہوتا ہے۔ فانی لوگ ایک دن قادرِ مطلق خدا کے نام پر اپنی آزادی کا دعویٰ کریں گے۔

12. 228 : 11-15

The enslavement of man is not legitimate. It will cease when man enters into his heritage of freedom, his God-given dominion over the material senses. Mortals will some day assert their freedom in the name of Almighty God.

13۔ 288 :31۔1

ابدی سچائی اِسے تباہ کرتی ہے جو بشر کو غلطی سے سیکھا ہوا دکھائی دیتا ہے، اور بطور خدا کے فرزند انسان کی حقیقت روشنی میں آتی ہے۔

13. 288 : 31-1

The eternal Truth destroys what mortals seem to have learned from error, and man's real existence as a child of God comes to light.

14۔ 380 :4 صرف

سچائی ہمیشہ فتح مند رہی ہے۔

14. 380 : 4 only

Truth is always the victor.


روز مرہ کے فرائ

منجاب میری بیکر ایڈ

روز مرہ کی دعا

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ ہر روز یہ دعا کرے: ’’تیری بادشاہی آئے؛‘‘ الٰہی حق، زندگی اور محبت کی سلطنت مجھ میں قائم ہو، اور سب گناہ مجھ سے خارج ہو جائیں؛ اور تیرا کلام سب انسانوں کی محبت کو وافر کرے، اور اْن پر حکومت کرے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 4۔

مقاصد اور اعمال کا ایک اصول

نہ کوئی مخالفت نہ ہی کوئی محض ذاتی وابستگی مادری چرچ کے کسی رکن کے مقاصد یا اعمال پر اثر انداز نہیں ہونی چاہئے۔ سائنس میں، صرف الٰہی محبت حکومت کرتی ہے، اور ایک مسیحی سائنسدان گناہ کو رد کرنے سے، حقیقی بھائی چارے ، خیرات پسندی اور معافی سے محبت کی شیریں آسائشوں کی عکاسی کرتا ہے۔ اس چرچ کے تمام اراکین کو سب گناہوں سے، غلط قسم کی پیشن گوئیوں،منصفیوں، مذمتوں، اصلاحوں، غلط تاثر ات کو لینے اور غلط متاثر ہونے سے آزاد رہنے کے لئے روزانہ خیال رکھنا چاہئے اور دعا کرنی چاہئے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 1۔

فرض کے لئے چوکس

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ وہ ہر روز جارحانہ ذہنی آراء کے خلاف خود کو تیار رکھے، اور خدا اور اپنے قائد اور انسانوں کے لئے اپنے فرائض کو نہ کبھی بھولے اور نہ کبھی نظر انداز کرے۔ اس کے کاموں کے باعث اس کا انصاف ہوگا، وہ بے قصور یا قصوارہوگا۔ 

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 6۔


████████████████████████████████████████████████████████████████████████