اتوار 26 اپریل ، 2020 |

اتوار 26 اپریل ، 2020



مضمون۔ موت کے بعد امتحان

SubjectProbation After Death

سنہری متن:سنہری متن: 2 17 زبور: 15 آیت

’’پر مَیں تو صداقت میں تیرا دیدار حاصل کروں گا۔مَیں جب جاگوں گا تو تیری شباہت سے سیر ہوں گا۔‘‘



Golden Text: Psalm 17 : 15

As for me, I will behold thy face in righteousness: I shall be satisfied, when I awake, with thy likeness.





سبق کی آڈیو کے لئے یہاں کلک کریں

یوٹیوب سے سننے کے لئے یہاں کلک کریں

████████████████████████████████████████████████████████████████████████


جوابی مطالعہ: افسیوں 4باب1تا 3، 13، 22تا24 آیات • افسیوں 5 باب14 آیت


1۔ پس مَیں جو خداوند میں قیدی ہوں تم سے التماس کرتا ہوں کہ جس بلاوے سے تم بلائے گئے تھے اْس کے لائق چال چلو۔

2۔ یعنی کمال فروتنی ور حلم کے ساتھ تحمل کر کے محبت سے ایک دوسرے کی برداشت کرو۔

3۔ اور اِسی کوشش میں رہو کہ روح کی یگانگی صلح کے بند سے بندھی رہے۔

13۔ جب تک ہم سب کے سب خدا کے بیٹے کے ایمان اور اْس کی پہچان میں ایک نہ ہو جائیں اور کامل انسان نہ بنیں یعنی مسیح کے پورے قد کے اندازہ تک نہ پہنچ جائیں۔

22۔ کہ تم اپنے اگلے چال چلن کی اْس پرانی انسانیت کو اْتار ڈالو جو فریب کی شہوتوں کے سبب سے خراب ہوتی جاتی ہے۔

23۔ اور اپنی عقل کی روحانی حالت میں نئے بنتے جاؤ۔

24۔ اور نئی انسانیت کو پہنو جو خدا کے مطابق سچائی کی راستبازی اور پاکیزگی میں پیدا کی گئی ہے۔

14۔ اس لئے وہ فرماتا ہے اے سونے والے! جاگ اور مردوں میں سے جی اٹھ تو مسیح کا نور تجھ پر چمکے گا۔

Responsive Reading: Ephesians 4 : 1-3, 13, 22-24 • Ephesians 5 : 14

1.     I therefore, the prisoner of the Lord, beseech you that ye walk worthy of the vocation wherewith ye are called,

2.     With all lowliness and meekness, with longsuffering, forbearing one another in love;

3.     Endeavoring to keep the unity of the Spirit in the bond of peace.

13.     Till we all come in the unity of the faith, and of the knowledge of the Son of God, unto a perfect man, unto the measure of the stature of the fulness of Christ:

22.     That ye put off concerning the former conversation the old man, which is corrupt according to the deceitful lusts;

23.     And be renewed in the spirit of your mind;

24.     And that ye put on the new man, which after God is created in righteousness and true holiness.

14.     Wherefore he saith, Awake thou that sleepest, and arise from the dead, and Christ shall give thee light.



درسی وعظ



بائبل


درسی وعظ

بائبل

1۔ 23 زبور 1، 4، 6 آیات

1۔ خداوند میرا چوپان ہے مجھے کمی نہ ہوگی۔

4۔ بلکہ خواہ موت کے سایہ کی وادی میں سے میرا گزر ہو میں کسی بلا سے نہیں ڈروں گا کیونکہ تْو میرے ساتھ ہے تیرے عصا اور تیری لاٹھی سے مجھ کو تسلی ہے۔

6۔ یقیناً بھلائی اور رحمت عمر بھر میرے ساتھ ساتھ رہیں گی اور میں ہمیشہ خداوند کے گھر میں سکونت کروں گا۔

1. Psalm 23 : 1, 4, 6

1     The Lord is my shepherd; I shall not want.

4     Yea, though I walk through the valley of the shadow of death, I will fear no evil: for thou art with me; thy rod and thy staff they comfort me.

6     Surely goodness and mercy shall follow me all the days of my life: and I will dwell in the house of the Lord for ever.

2۔ یوحنا 6 باب 1 (یسوع) آیت

1۔ اِن باتوں کے بعد یسوع گلیل کی جھیل یعنی تبریاس کی جھیل کے پر گیا۔

2. John 6 : 1 (Jesus)

1     Jesus went over the sea of Galilee, which is the sea of Tiberias.

3۔ یوحنا 11 باب 1، 3، 4، 7، 11 (ہمارا)تا 14، 17، 21 تا 26 (تا۔)، 32تا34، 38 تا 44 آیات

1۔ مریم اور اْس کی بہن مارتھا کے گاؤں بیت عنیاہ کا لعزرنام ایک آدمی بیمار تھا۔

3۔ پس اْس کی بہنوں نے اْسے یہ کہلا بھیجا کہ اے خداوند دیکھ جسے تْو عزیز رکھتا ہے وہ بیمار ہے۔

4۔ یسوع نے سْن کر کہا کہ یہ بیماری موت کی نہیں بلکہ خدا کے جلال کے لئے ہے تاکہ اْس کے وسیلہ خدا کے بیٹے کا جلال ظاہر ہو۔

7۔ پھر اْس کے بعد شاگردوں سے کہا آؤ پھر یہودیہ کو چلیں۔

11۔ ہمارا دوست لعزر سو گیا ہے لیکن میں اْسے جگانے جاتا ہوں۔

12۔ پس شاگردوں نے اْس سے کہا اے خداوند! اگر سو گیا ہے تو بچ جائے گا۔

13۔ یسوع نے تو اْس کی موت کی بابت کہا تھا مگر وہ سمجھے کہ آرام کی نیند کی بابت کہا۔

14۔ تب یسوع نے اْن سے صاف کہہ دیا کہ لعزر مر گیا۔

17۔ پس یسوع کو آکر معلوم ہوا کہ اْسے قبر میں رکھے چار دن ہوئے۔

21۔ مارتھا نے یسوع سے کہا اے خداوند! اگر تْو یہاں ہوتا تو میرا بھائی نہ مرتا۔

22۔ اور اب بھی مَیں جانتی ہوں جو کچھ تْو خدا سے مانگے گا وہ تجھے دے گا۔

23۔ یسوع نے اْس سے کہا تیرا بھائی جی اٹھے گا۔

24۔ مارتھا نے اْس سے کہا مَیں جانتی ہوں کہ قیامت میں آخری دن جی اْٹھے گا۔

25۔ یسوع نے اْس سے کہا قیامت اور زندگی تو میں ہوں جو مجھ پر ایمان لاتا ہے گو وہ مر بھی جائے تو بھی زندہ رہے گا۔

26۔ اور جو کوئی زندہ ہے اور مجھ پر ایمان لاتا ہے وہ ابدتک کبھی نہ مرے گا۔

32۔ جب مریم اْس جگہ پہنچی جہاں یسوع تھا اور اْسے دیکھا تو اْس کے قدموں پر گر کر اْس سے کہا اے خداوند!اگر تْو یہاں ہوتا تو میرا بھائی نہ مرتا۔

33۔ جب یسوع نے اْسے اور اْن یہودیوں کو جو اْس کے ساتھ آئے تھے روتے دیکھا تو دل میں نہایت رنجیدہ ہوا اور گھبرا کر کہا۔

34۔ تم نے اْسے کہاں رکھا ہے؟ اْنہوں نے کہا اے خداوند! چل کر دیکھ لے۔

38۔ یسوع پھر اپنے دل میں رنجیدہ ہو کر قبر پر آیا۔ وہ ایک غار تھا اور اْس پر پتھر دھرا تھا۔

39۔ یسوع نے کہا پتھر کو ہٹاؤ۔ اْس مرے ہوئے شخص کی بہن مارتھا نے اْس سے کہا اے خداوند! اْس میں سے تو اب بدبو آتی ہے کیونکہ اْسے چار دن ہوگئے۔

40۔ یسوع نے اْس سے کہا کیا مَیں نے تجھ سے کہا نہ تھا کہ اگر تْو ایمان لائے گی تو خدا کا جلال دیکھے گی۔

41۔ پس اْنہوں نے اْس پتھر کو ہٹا دیا پھر یسوع نے آنکھیں اْٹھا کر کہا اے باپ مَیں تیرا شکر کرتا ہوں کہ تْو نے میری سْن لی۔

42۔ اور مجھے تو معلوم تھا کہ تْو ہمیشہ میری سنتا ہے مگر اِن لوگوں کے باعث جو آس پاس کھڑے ہیں میں نے یہ کہا تھا تاکہ وہ ایمان لائیں کہ تْو ہی نے مجھے بھیجا ہے۔

43۔ اور یہ کہہ کر اْس نے بلند آواش سے پکارا کہ اے لعزر نکل آ۔

44۔ جو مر گیا تھا وہ کفن سے ہاتھ پاؤں بندھے ہوئے نکل آیا اور اْس کا چہرہ رومال سے لپٹا ہوا تھا۔ یسوع نے اْن سے کہا اْسے کھول کر جانے دو۔

3. John 11 : 1, 3, 4, 7, 11 (Our)-14, 17, 21-26 (to .), 32-34, 38-44

1     Now a certain man was sick, named Lazarus, of Bethany, the town of Mary and her sister Martha.

3     Therefore his sisters sent unto him, saying, Lord, behold, he whom thou lovest is sick.

4     When Jesus heard that, he said, This sickness is not unto death, but for the glory of God, that the Son of God might be glorified thereby.

7     Then after that saith he to his disciples, Let us go into Judæa again.

11     Our friend Lazarus sleepeth; but I go, that I may awake him out of sleep.

12     Then said his disciples, Lord, if he sleep, he shall do well.

13     Howbeit Jesus spake of his death: but they thought that he had spoken of taking of rest in sleep.

14     Then said Jesus unto them plainly, Lazarus is dead.

17     Then when Jesus came, he found that he had lain in the grave four days already.

21     Then said Martha unto Jesus, Lord, if thou hadst been here, my brother had not died.

22     But I know, that even now, whatsoever thou wilt ask of God, God will give it thee.

23     Jesus saith unto her, Thy brother shall rise again.

24     Martha saith unto him, I know that he shall rise again in the resurrection at the last day.

25     Jesus said unto her, I am the resurrection, and the life: he that believeth in me, though he were dead, yet shall he live:

26     And whosoever liveth and believeth in me shall never die.

32     Then when Mary was come where Jesus was, and saw him, she fell down at his feet, saying unto him, Lord, if thou hadst been here, my brother had not died.

33     When Jesus therefore saw her weeping, and the Jews also weeping which came with her, he groaned in the spirit, and was troubled,

34     And said, Where have ye laid him? They said unto him, Lord, come and see.

38     Jesus therefore again groaning in himself cometh to the grave. It was a cave, and a stone lay upon it.

39     Jesus said, Take ye away the stone. Martha, the sister of him that was dead, saith unto him, Lord, by this time he stinketh: for he hath been dead four days.

40     Jesus saith unto her, Said I not unto thee, that, if thou wouldest believe, thou shouldest see the glory of God?

41     Then they took away the stone from the place where the dead was laid. And Jesus lifted up his eyes, and said, Father, I thank thee that thou hast heard me.

42     And I knew that thou hearest me always: but because of the people which stand by I said it, that they may believe that thou hast sent me.

43     And when he thus had spoken, he cried with a loud voice, Lazarus, come forth.

44     And he that was dead came forth, bound hand and foot with graveclothes: and his face was bound about with a napkin. Jesus saith unto them, Loose him, and let him go.

4۔ یوحنا 5باب 24 آیت

24۔ مَیں تم سے سچ کہتا ہوں کہ جو میرا کلام سْنتا ہے اور میرے بھیجنے والے کا یقین کرتا ہے ہمیشہ کی زندگی اْس کی ہے اور اْس پر سزا کا حکم نہیں ہوتا بلکہ وہ موت سے نکل کر زندگی میں داخل ہو گیا ہے۔

4. John 5 : 24

24     Verily, verily, I say unto you, He that heareth my word, and believeth on him that sent me, hath everlasting life, and shall not come into condemnation; but is passed from death unto life.

5۔ 1 کرنتھیوں 15 باب51 تا54 آیات

51۔ دیکھو مَیں تم سے بھید کی بات کہتا ہوں۔ ہم سب تو نہیں سوئیں گے مگر سب بدل جائیں گے۔

52۔ اور یہ ایک دم میں۔ ایک پل میں۔ پچھلا نرسنگا پھونکتے ہی ہوگا کیونکہ نرسنگا پھونکا جائے گا اور مردے غیر فانی حالت میں اٹھیں گے اور ہم بدل جائیں گے۔

53۔ کیونکہ ضرور ہے کہ یہ جسم بقا کا جامہ پہنے اور یہ مرنے والا جسم حیات ابدی کا جامہ پہنے۔

54۔ اور جب یہ فانی جسم بقا کا جامہ پہن چکے گا اور یہ مرنے والا جسم حیات ابدی کا جامہ پہن چکے گا تو وہ قول پورا ہوگا جو لکھا ہے کہ موت فتح کا لقمہ ہوگئی۔

5. I Corinthians 15 : 51-54

51     Behold, I shew you a mystery; We shall not all sleep, but we shall all be changed,

52     In a moment, in the twinkling of an eye, at the last trump: for the trumpet shall sound, and the dead shall be raised incorruptible, and we shall be changed.

53     For this corruptible must put on incorruption, and this mortal must put on immortality.

54     So when this corruptible shall have put on incorruption, and this mortal shall have put on immortality, then shall be brought to pass the saying that is written, Death is swallowed up in victory.

6۔ رومیوں 13 باب11 (اب یہ) آیت

11۔۔۔۔اب وہ گھڑی آ پہنچی کہ تم نیند سے جاگو کیونکہ جس وقت ہم ایمان لائے تھے اْس وقت کی نسبت اب ہماری نجات نزدیک ہے۔

6. Romans 13 : 11 (now it)

11     …now it is high time to awake out of sleep: for now is our salvation nearer than when we believed.

7۔ کلسیوں 3 باب1تا4 آیات

1۔ پس جب تم مسیح کے ساتھ جِلائے گئے تو عالم بالا کی چیزوں کی تلاش میں رہو جہاں مسیح موجود ہے اور خدا کی دہنی طرف بیٹھا ہے۔

2۔ عالم بالا کی چیزوں کے خیال میں رہو نہ کہ زمین کی چیزوں کے۔

3۔ کیونکہ تم مر گئے اور تمہاری زندگی مسیح کے ساتھ خدا میں پوشیدہ ہے۔

4۔ جب مسیح جو ہماری زندگی ہے ظاہر کیا جائے گا تو تم بھی اْس کے ساتھ جلال میں ظاہر کئے جاؤ گے۔

7. Colossians 3 : 1-4

1     If ye then be risen with Christ, seek those things which are above, where Christ sitteth on the right hand of God.

2     Set your affection on things above, not on things on the earth.

3     For ye are dead, and your life is hid with Christ in God.

4     When Christ, who is our life, shall appear, then shall ye also appear with him in glory.

8۔ 1پطرس 1باب3تا5، 23 آیات

3۔ ہمارے خداوند یسوع مسیح کے خدا اور باپ کی حمد ہو جس نے یسوع مسیح کے مردوں میں سے جی اٹھنے کے باعث بڑی رحمت سے ہمیں زندہ امید کے لئے نئے سرے سے پیدا کیا۔

4۔ تاکہ ایک غیر فانی اور بے داغ اور لازوال میراث کو حاصل کریں۔وہ تمہارے واسطے آسمان میں محفوظ ہے۔

5۔ جو خدا کی قدرت سے ایمان کے وسیلہ سے اْس نجات کے لئے جو آخری وقت میں ظاہر ہونے کو تیار ہے حفاظت کئے جاتے ہو۔

23۔ کیونکہ تم فانی تخم سے نہیں بلکہ غیر فانی سے خدا کے کلام کے وسیلہ سے جو زندہ اور قائم ہے نئے سرے سے پیدا ہوئے ہو۔

8. I Peter 1 : 3-5, 23

3     Blessed be the God and Father of our Lord Jesus Christ, which according to his abundant mercy hath begotten us again unto a lively hope by the resurrection of Jesus Christ from the dead,

4     To an inheritance incorruptible, and undefiled, and that fadeth not away, reserved in heaven for you,

5     Who are kept by the power of God through faith unto salvation ready to be revealed in the last time.

23     Being born again, not of corruptible seed, but of incorruptible, by the word of God, which liveth and abideth for ever.



سائنس اور صح


1۔ 410: 4۔7

یسوع کہتا ہے کہ ”یہ ہمیشہ کی زندگی ہے“، نہ کہ ہوگی، اور پھر وہ باپ اور خود کے موجودہ علم کے طور پر ابدی زندگی کی وضاحت کرتا ہے، یعنی محبت، سچائی اور زندگی کا علم۔

1. 410 : 4-7

"This is life eternal," says Jesus, — is, not shall be; and then he defines everlasting life as a present knowledge of his Father and of himself, — the knowledge of Love, Truth, and Life.

2۔ 242 :9۔14

آسمان پر جانے کا واحد راستہ ہم آہنگی ہے اور مسیح الٰہی سائنس میں ہمیں یہ راستہ دکھاتا ہے۔ اس کا مطلب خدا، اچھائی اور اْس کے عکس کے علاوہ کسی اور حقیقت کو نہ جاننا، زندگی کے کسی اور ضمیر کو نا جاننا ہے، اور نام نہاد درد اور خوشی کے احساسات سے برتر ہونا ہے۔

2. 242 : 9-14

There is but one way to heaven, harmony, and Christ in divine Science shows us this way. It is to know no other reality — to have no other consciousness of life — than good, God and His reflection, and to rise superior to the so-called pain and pleasure of the senses.

3۔ 587 :25۔27

آسمان۔ ہم ااہنگی؛ روح کی سلطنت؛ الٰہی اصول کی حکومت؛ روحانیت؛ راحت؛ روح کا ماحول۔

3. 587 : 25-27

Heaven. Harmony; the reign of Spirit; government by divine Principle; spirituality; bliss; the atmosphere of Soul.

4۔ 266 :20۔21

گناہگار بدی کرنے سے خود کے لئے دوزخ بناتا ہے؛ اور مقدس نیک کام کرنے سے اپنا فردوس بناتا ہے۔

4. 266 : 20-21

The sinner makes his own hell by doing evil, and the saint his own heaven by doing right.

5۔ 6: 14۔16

آسمان یعنی ہستی کی ہم آہنگی پر پہنچنے کے لئے ہمیں الٰہی اصول کی ہستی کو سمجھنا ہوگا۔

5. 6 : 14-16

To reach heaven, the harmony of being, we must understand the divine Principle of being.

6۔ 568 :30۔5

خود کی منسوخی، جس کے وسیلہ ہم غلطی کے ساتھ اپنی جنگ میں اپنا سب کچھ سچائی یا مسیح کے حوالے کر دیتے ہیں، کرسچن سائنس کا دستورہے۔ یہ دستور وضاحت کرتا ہے خدا کی بطور الٰہی اصول یعنی زندگی باپ کی پیش کردہ، بطور سچائی، بیٹے کی پیش کردہ،اور بطور محبت ماں کی پیش کردہ۔ ہر بشر کو کسی نہ کسی وقت، یہاں یا آخرت میں، خدا کے مخالف طاقت پر فانی عقیدے کے ساتھ نمٹنا اور اْسے فتح کرنا چاہئے۔

6. 568 : 30-5

Self-abnegation, by which we lay down all for Truth, or Christ, in our warfare against error, is a rule in Christian Science. This rule clearly interprets God as divine Principle, — as Life, represented by the Father; as Truth, represented by the Son; as Love, represented by the Mother. Every mortal at some period, here or hereafter, must grapple with and overcome the mortal belief in a power opposed to God.

7۔ 290 :3۔10، 16۔25

اگر اصول، دستور اور انسانی ہستی کا اظہار بشر پر موت کی فتح سے قبل کم سے کم سمجھے جائیں تو وہ واحد تجربہ کے باعث وجودیت کے معیار پر روحانی طور پر بلند نہیں ہوں گے، بلکہ اتنے ہی مادی رہیں گے جتنے تبدیلی سے پہلے تھے، یعنی ابھی بھی زندگی کے روحانی فہم کی بجائے مادی فہم کے وسیلہ اور خود غرض اور کمتر مقاصد کے ساتھ خوشی تلاش کرتے ہوئے۔

اگر تبدیلی جسے موت کہا جاتا ہے گناہ، بیماری اور موت کے یقین کو تباہ کردیتی ہے تو اس شکست کے موقعہ پر خوشی فتح مند ہوتی ہے اور ہمیشہ کے لئے مستقل ہو جاتی ہے، لیکن ایسا ہوتا نہیں۔ کاملیت صرف کاملیت سے ہی حاصل ہوتی ہے۔ وہ جو ناراست ہیں تب تک ناراست ہی رہیں گے جب تک الٰہی سائنس میں مسیح یعنی سچانی تمام تر گناہ اور جہالت کو تلف نہیں کرتا۔

گناہ اور غلطی جو ہمیں موت کے دہانے پر لا کھڑا کرتے ہیں اْس لمحے رْکتے نہیں، بلکہ اِن غلطیوں کی موت تک مستقل رہتے ہیں۔

7. 290 : 3-10, 16-25

If the Principle, rule, and demonstration of man's being are not in the least understood before what is termed death overtakes mortals, they will rise no higher spiritually in the scale of existence on account of that single experience, but will remain as material as before the transition, still seeking happiness through a material, instead of through a spiritual sense of life, and from selfish and inferior motives.

If the change called death destroyed the belief in sin, sickness, and death, happiness would be won at the moment of dissolution, and be forever permanent; but this is not so. Perfection is gained only by perfection. They who are unrighteous shall be unrighteous still, until in divine Science Christ, Truth, removes all ignorance and sin.

The sin and error which possess us at the instant of death do not cease at that moment, but endure until the death of these errors.

8۔ 291 :5۔18، 28۔31

ہم جانتے ہیں کہ جب آخری نرسنگا پھونکا جائے گا سب”ایک پل میں“ بدل جائے گا؛ مگر حکمت کایہ آخری بْلاوہ تب تک نہیں آسکتاجب تک بشر مسیحی کردار کی ترقی میں ہر ایک چھوٹے بلاوے کو پہلے سے ہی تسلیم نہ کرتے ہوں۔ انسان کو یہ گمان رکھنا چاہئے کہ موت کے تجربہ کا یقین انہیں جلالی ہستی میں بیدار کرے گا۔

عالمگیر نجات ترقی اور امتحان پر مرکوز ہے، اور ان کے بغیر غیر ممکن الحصول ہے۔آسمان کوئی جگہ نہیں، عقل کی الٰہی حالت ہے جس میں عقل کے تمام تر ظہور ہم آہنگ اور فانی ہوتے ہیں کیونکہ وہاں گناہ نہیں ہے اور انسان وہاں خود کی راستبازی کے ساتھ نہیں ”خداوند کی سوچ“ کی ملکیت میں پایا جاتا ہے جیسا کہ کلام یہ کہتا ہے۔

آخری عدالت انسانوں کا انتظار نہیں کرتی کیونکہ حکمت کا روزِ محشر ہمہ وقت اور متواتر طور پر جاری و ساری ہے، حتی کہ وہ عدالت بھی جس کے وسیلہ فانی انسان ساری مادی غلطی سے بے نقاب کیا جاتا ہے۔

8. 291 : 5-18, 28-31

We know that all will be changed "in the twinkling of an eye," when the last trump shall sound; but this last call of wisdom cannot come till mortals have already yielded to each lesser call in the growth of Christian character. Mortals need not fancy that belief in the experience of death will awaken them to glorified being.

Universal salvation rests on progression and probation, and is unattainable without them. Heaven is not a locality, but a divine state of Mind in which all the manifestations of Mind are harmonious and immortal, because sin is not there and man is found having no righteousness of his own, but in possession of "the mind of the Lord," as the Scripture says.

No final judgment awaits mortals, for the judgment-day of wisdom comes hourly and continually, even the judgment by which mortal man is divested of all material error.

9۔ 36 :21۔29

قبر کے اِس پار گناہگاروں کا اپنی مکمل سزا پانا اْتنا ہی مشکل ہے جتنا اِس دنیا میں راستبازوں کا اپنی مکمل جزا پانا ہے۔ یہ فرض کرنا بے فائدہ ہے کہ بدکار آخری لمحے تک اپنے جرائم پر خوش ہوسکتے اور پھر اچانک اْنہیں معافی مل جائے اور آسمان میں بھیج دیا جائے، یا محبت کا ہاتھ ہماری نیکی کرنے کی کوششوں کے عوض محض مشقت، قربانی، صلیب اٹھانے، بے شمار مصائب اور تضحیک کے ساتھ ہمارے مقاصد پورے کرنے سے مطمین ہو۔

9. 36 : 21-29

It is quite as impossible for sinners to receive their full punishment this side of the grave as for this world to bestow on the righteous their full reward. It is useless to suppose that the wicked can gloat over their offences to the last moment and then be suddenly pardoned and pushed into heaven, or that the hand of Love is satisfied with giving us only toil, sacrifice, cross-bearing, multiplied trials, and mockery of our motives in return for our efforts at well doing.

10۔ 75 :12۔20

یسوع نے لعزر کے بارے میں کہا: ”ہمارا دوسر لعزر سو گیا ہے اور میں اْسے جگانے جاتا ہوں۔“یسوع نے لعزر کو اس فہم کے ساتھ بحال کیا کہ لعز کبھی مرا نہیں تھا، نہ کہ اس بات کو تسلیم کرتے ہوئے کہ اْس کا بدن مر گیا تھا اور وہ پھر زندہ ہوگیا۔ اگر یسوع یہ مانتا کہ لعزر اپنے بدن میں جیتا تھا یا مرگیا، تو ہمارا مالک ایمان کے بالکل اْسی مقام پر کھڑا ہوتا جہاں وہ لوگ تھے جنہوں نے لعزر کو دفنایا تھا، اور وہ اْسے بازیافت نہ کر پاتا۔

10. 75 : 12-20

Jesus said of Lazarus: "Our friend Lazarus sleepeth; but I go, that I may awake him out of sleep." Jesus restored Lazarus by the understanding that Lazarus had never died, not by an admission that his body had died and then lived again. Had Jesus believed that Lazarus had lived or died in his body, the Master would have stood on the same plane of belief as those who buried the body, and he could not have resuscitated it.

11۔ 46 :20۔29

یسوع کی موت کے بعداْسکی نہ بدلنے والی جسمانی حالت نے تمام تر مادی حالتوں پرسر بلندی پائی اور اِس سر بلندی نے اْس کے آسمان پر اٹھائے جانے کو واضح کیا، اور بغیر غلطی کے قبر سے آگے ایک امتحانی اور ترقی یافتہ حالت کو ظاہر کیا۔ یسوع ”راہ“ تھا، یعنی اْس نے سب انسانوں کے لئے راہ استوار کی۔ اْس کے آخری اظہار میں، جسے آسمان پر اٹھایا جانا کہا جاتا ہے، جس نے یسوع کی زمینی زندگی کو ختم کیا، وہ اپنے شاگردوں کے جسمانی علم سے اونچا ہو گیا اور مادی حواس نے مزید اْسے نہ دیکھا۔

11. 46 : 20-29

Jesus' unchanged physical condition after what seemed to be death was followed by his exaltation above all material conditions; and this exaltation explained his ascension, and revealed unmistakably a probationary and progressive state beyond the grave. Jesus was "the way;" that is, he marked the way for all men. In his final demonstration, called the ascension, which closed the earthly record of Jesus, he rose above the physical knowledge of his disciples, and the material senses saw him no more.

12۔ 76 :6۔21

جب ہستی کو سمجھ لیا جاتا ہے، تو زندگی کو نہ مادی نہ محدود سمجھا جائے گا، بلکہ اِسے بطور لامحدود، بطور خدا، عالمگیر اچھائی سمجھا جائے گا؛ اور یہ عقیدہ نیست ہو جائے گا کہ زندگی یا عقل، ہمیشہ متناہی شکل میں اور بدی میں اچھی رہی ہے۔ پھر یہ سمجھ لیا جائے گا کہ روح کبھی مادے میں داخل نہیں ہوئی اور اِسی لئے مادے سے کبھی پروان نہیں چڑھی۔جیسے ایک درخت واپس اپنے بیج میں نہیں آسکتا انسان بھی جب روحانی ہستی میں اور خدا سے متعلق فہم میں بڑھتا ہے تو وہ مادے میں مزید شراکت نہیں رکھ سکتا اور نہ اِس میں لوٹ کر جا سکتا ہے۔ نہ ہی انسان جسمانی دکھائی دے گا، بلکہ وہ ایک انفرادی شعور ہوگا جس کی خاصیت الٰہی روح بطور خیال ہوگی نہ کہ بطور مادا ہوگی۔

دْکھوں کے، گناہ کرنے کے، مرنے کے عقائد غیر حقیقی ہیں۔جب الٰہی سائنس کو عالمگیر طور پر سمجھا جاتا ہے تو اْن کا انسان پر کوئی اختیار نہیں ہوتا، کیونکہ انسان لافانی ہے اور الٰہی اختیار کے وسیلہ جیتا ہے۔

12. 76 : 6-21

When being is understood, Life will be recognized as neither material nor finite, but as infinite, — as God, universal good; and the belief that life, or mind, was ever in a finite form, or good in evil, will be destroyed. Then it will be understood that Spirit never entered matter and was therefore never raised from matter. When advanced to spiritual being and the understanding of God, man can no longer commune with matter; neither can he return to it, any more than a tree can return to its seed. Neither will man seem to be corporeal, but he will be an individual consciousness, characterized by the divine Spirit as idea, not matter.

Suffering, sinning, dying beliefs are unreal. When divine Science is universally understood, they will have no power over man, for man is immortal and lives by divine authority.

13۔ 254 :16۔23

نفسی دور کے دوران، قطعی کرسچن سائنس کو اْس تبدیلی سے پہلے حاصل نہیں کیا جا سکتا جسے موت کا نام دیا گیا ہے، کیونکہ جسے ہم سمجھ نہیں پاتے اْسے ظاہر کرنے کی طاقت ہم میں نہیں ہے۔مگر انسانی خودی کو انجیلی تبلیغ ملنی چاہئے۔آج خدا ہم سے اِس کام کو قبول کرنے کا اور جلدی سے عملی طور پر مادی کو ترک کرنے اور روحانی پر عمل کرنے کا مطالبہ کرتا ہے جس سے بیرونی اور اصلی کا تعین ہوتا ہے۔

13. 254 : 16-23

During the sensual ages, absolute Christian Science may not be achieved prior to the change called death, for we have not the power to demonstrate what we do not understand. But the human self must be evangelized. This task God demands us to accept lovingly to-day, and to abandon so fast as practical the material, and to work out the spiritual which determines the outward and actual.

14۔ 264 :28۔31

جب ہم کرسچن سائنس میں راستہ جانتے ہیں اور انسان کی روحانی ہستی کو پہچانتے ہیں، ہم خدا کی تخلیق کو سمجھیں اور دیکھیں گے،سارا جلال زمین اور آسمان اور انسان کے لئے۔

14. 264 : 28-31

When we learn the way in Christian Science and recognize man's spiritual being, we shall behold and understand God's creation, — all the glories of earth and heaven and man.

15۔ 548 :15۔17

یہ نئی پیدائش ہر لمحہ جاری رہتی ہے، جس میں انسان فرشتوں، خدا کے حقیقی خیالات، ہستی کے روحانی فہم کو بہلاتے ہیں۔

15. 548 : 15-17

This is the new birth going on hourly, by which men may entertain angels, the true ideas of God, the spiritual sense of being.


روز مرہ کے فرائ

منجاب میری بیکر ایڈ

روز مرہ کی دعا

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ ہر روز یہ دعا کرے: ’’تیری بادشاہی آئے؛‘‘ الٰہی حق، زندگی اور محبت کی سلطنت مجھ میں قائم ہو، اور سب گناہ مجھ سے خارج ہو جائیں؛ اور تیرا کلام سب انسانوں کی محبت کو وافر کرے، اور اْن پر حکومت کرے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 4۔

مقاصد اور اعمال کا ایک اصول

نہ کوئی مخالفت نہ ہی کوئی محض ذاتی وابستگی مادری چرچ کے کسی رکن کے مقاصد یا اعمال پر اثر انداز نہیں ہونی چاہئے۔ سائنس میں، صرف الٰہی محبت حکومت کرتی ہے، اور ایک مسیحی سائنسدان گناہ کو رد کرنے سے، حقیقی بھائی چارے ، خیرات پسندی اور معافی سے محبت کی شیریں آسائشوں کی عکاسی کرتا ہے۔ اس چرچ کے تمام اراکین کو سب گناہوں سے، غلط قسم کی پیشن گوئیوں،منصفیوں، مذمتوں، اصلاحوں، غلط تاثر ات کو لینے اور غلط متاثر ہونے سے آزاد رہنے کے لئے روزانہ خیال رکھنا چاہئے اور دعا کرنی چاہئے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 1۔

فرض کے لئے چوکس

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ وہ ہر روز جارحانہ ذہنی آراء کے خلاف خود کو تیار رکھے، اور خدا اور اپنے قائد اور انسانوں کے لئے اپنے فرائض کو نہ کبھی بھولے اور نہ کبھی نظر انداز کرے۔ اس کے کاموں کے باعث اس کا انصاف ہوگا، وہ بے قصور یا قصوارہوگا۔ 

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 6۔


████████████████████████████████████████████████████████████████████████