اتوار 26 جولائی، 2020  |

اتوار 26 جولائی، 2020 



مضمون۔ حق

SubjectTruth

سنہری متن:سنہری متن: زبور 119: 151 آیت

’’”اے خداوند! تْو نزدیک ہے اور تیرے سب فرمان بر حق ہیں۔“‘‘



Golden Text: Psalm 119 : 151

Thou art near, O Lord; and all thy commandments are truth.





سبق کی آڈیو کے لئے یہاں کلک کریں

یوٹیوب سے سننے کے لئے یہاں کلک کریں

████████████████████████████████████████████████████████████████████████


جوابی مطالعہ: زبور 119: 18، 44تا47، 160 آیات


18۔ میری آنکھیں کھول دے تاکہ میں تیری شریعت کے عجائب دیکھوں۔

44۔ پس میں ابد لاآباد تیری شریعت کو مانتا رہوں گا۔

45۔ اور مَیں آزادی سے چلوں گا کیونکہ میں تیرے قوانین کا طالب رہاہوں۔

46۔ مَیں بادشاہوں کے سامنے تیری شہادتوں کا بیان کروں گا۔

47۔ تیرے فرمان مجھے عزیز ہیں۔اور میں اْن میں مسرور رہوں گا۔

160۔ تیرے کلام کا خلاصہ سچائی ہے تیری صداقت کے کل احکام ابدی ہیں۔

Responsive Reading: Psalm 119 : 18, 44-47, 160

18.     Open thou mine eyes, that I may behold wondrous things out of thy law.

44.     So shall I keep thy law continually for ever and ever.

45.     And I will walk at liberty: for I seek thy precepts.

46.     I will speak of thy testimonies also before kings, and will not be ashamed.

47.     And I will delight myself in thy commandments, which I have loved.

160.     Thy word is true from the beginning: and every one of thy righteous judgments endureth for ever.



درسی وعظ



بائبل


درسی وعظ

بائبل

1۔ یسعیاہ 45باب 18 (پس)، 19 آیات

18۔۔۔۔خداوند جس نے آسمان پیدا کئے وہی خدا ہے۔ اْسی نے زمین بنائی اور تیار کی اْس نے اْسے قائم کیا اْس نے اْسے عبث پیدا نہیں کیا بلکہ اْس کو آبادی کے لئے آراستہ کیا۔ وہ فرماتا ہے کہ مَیں خدا ہوں اور میرے سوا کوئی نہیں۔

19۔ میں نے زمین کی کسی تاریک جگہ میں پوشیدگی میں تو کلام نہیں کیا۔ مَیں نے یعقوب کی نسل کو نہیں فرمایا عبث میرے طالب ہو۔ مَیں خداوند سچ کہتا ہوں اور راست باتیں بیان کرتا ہوں۔

1. Isaiah 45 : 18 (thus), 19

18     …thus saith the Lord that created the heavens; God himself that formed the earth and made it; he hath established it, he created it not in vain, he formed it to be inhabited: I am the Lord; and there is none else.

19     I have not spoken in secret, in a dark place of the earth: I said not unto the seed of Jacob, Seek ye me in vain: I the Lord speak righteousness, I declare things that are right.

2۔ امثال 30 باب5 آیت

5۔ خدا کا ہر ایک سخن پاک ہے۔ وہ اْن کی سپر ہے جن کا توکل اْس پر ہے۔

2. Proverbs 30 : 5

5     Every word of God is pure: he is a shield unto them that put their trust in him.

3۔ 2 سلاطین 6 باب8 (دی) تا 17 آیات

8۔۔۔۔ شاہِ ارام شاہ ِ اسرائیل سے لڑ رہا تھا اور اْس نے اپنے خادموں سے مشورت لی اور کہا کہ مَیں فلاں فلاں جگہ ڈیرہ ڈالوں گا۔

9۔ سو مردِ خدا نے شاہ اسرائیل کو کہلا بھیجا خبردار تْو فلاں جگہ سے مت گزرنا کیونکہ وہاں ارامی آنے کو ہیں۔

10۔ اور شاہ اسرائیل نے اْس جگہ جس کی خبر مردِ خدا نے دی تھی اور اْس کو آگاہ کر دیا تھا آدمی بھیجے اور وہاں سے اپنے آپ کو بچایا اور فقط یہ ایک یا دو بار ہی نہیں۔

11۔ اِس بات سے شاہ ارام کا دل نہایت بے چین ہوا اور اْس نے اپنے خادموں کو بلا کر اْن سے کہا کیا تم مجھے نہیں بتاؤ گے کہ ہم میں سے کون شاہ اسرائیل کی طرف ہے۔

12۔ تب اُس کے خادموں میں سے ایک نے کہا نہیں اے میرے مالک! اے بادشاہ! بلکہ الیشع جو اسرائیل میں نبی ہے تیری اُن باتوں کو جو تُو اپنی خلوت گاہ میں کہتا ہے شاہِ اسرائیل کو بتا دیتا ہے۔

13۔ اُس نے کہا جا کر دیکھو وہ کہاں ہے تاکہ میں اُسے پکڑوا منگواؤں اور اُسے یہ بتایا گیا کہ وہ دو تن میں ہے۔

14۔ تب اُس نے وہاں گھوڑوں اور رتھوں اور ایک بڑے لشکر کو روانہ کیا سو اُنہوں نے راتوں رات آ کر اُس شہر کو گھیر لیا۔

15۔اور جب اُس مردِ خُدا کا خادم صبح کو اُٹھ کر باہر نکلا تو دیکھا کہ ایک لشکر معہ گھوڑوں اور رتھوں کے شہر کے چوگرد ہے سو اُس خادم نے جا کر اُس سے کہا ہائے اے میرے مالک! ہم کیا دعا کریں؟

16۔ اُس نے جواب دیا خو ف نہ کر کیونکہ ہمارے ساتھ والے اُن کے ساتھ والوں سے زیادہ ہیں۔

17۔ اور الیشع نے دعا کی اور کہا اے خُداوند اُس کی آنکھیں کھول دے تاکہ وہ دیکھ سکے تب خُداوند نے اُس جوان کی آنکھیں کھول دیں اور اُس نے جو نگاہ کی تو دیکھا کہ الیشع کے گردا گرد کا پہاڑ آتشی گھوڑوں اور رتھوں سے بھرا ہے۔

3. II Kings 6 : 8 (the)-17

8     …the king of Syria warred against Israel, and took counsel with his servants, saying, In such and such a place shall be my camp.

9     And the man of God sent unto the king of Israel, saying, Beware that thou pass not such a place; for thither the Syrians are come down.

10     And the king of Israel sent to the place which the man of God told him and warned him of, and saved himself there, not once nor twice.

11     Therefore the heart of the king of Syria was sore troubled for this thing; and he called his servants, and said unto them, Will ye not shew me which of us is for the king of Israel?

12     And one of his servants said, None, my lord, O king: but Elisha, the prophet that is in Israel, telleth the king of Israel the words that thou speakest in thy bedchamber.

13     And he said, Go and spy where he is, that I may send and fetch him. And it was told him, saying, Behold, he is in Dothan.

14     Therefore sent he thither horses, and chariots, and a great host: and they came by night, and compassed the city about.

15     And when the servant of the man of God was risen early, and gone forth, behold, an host compassed the city both with horses and chariots. And his servant said unto him, Alas, my master! how shall we do?

16     And he answered, Fear not: for they that be with us are more than they that be with them.

17     And Elisha prayed, and said, Lord, I pray thee, open his eyes, that he may see. And the Lord opened the eyes of the young man; and he saw: and, behold, the mountain was full of horses and chariots of fire round about Elisha.

4۔ زبور 25: 2، 4، 5، 14، 15 آیات

2۔ اے میرے خدا! مَیں نے تجھ پر توکل کیا۔ مجھے شرمندہ نہ ہونے دے۔ میرے دشمن مجھ پر شادیانہ نہ بجائیں۔

4۔ اے خداوند!اپنی راہیں مجھے دکھااپنے راستے مجھے بتا۔

5۔ مجھے اپنی سچائی پر چلا اور تعلیم دے۔ کیونکہ تْو میرا نجات دینے والا خدا ہے۔ مَیں دن بھر تیرا ہی منتظر رہتا ہوں۔

14۔ خداوند کے راز کو وہی جانتے ہیں جو اْس سے ڈرتے ہیں اور وہ اپنا عہد اْن کو بتائے گا۔

15۔ میری آنکھیں ہمیشہ خداوند کی طرف لگی رہتی ہیں کیونکہ وہی میرا پاؤں دام سے چھڑائے گا۔

4. Psalm 25 : 2, 4, 5, 14, 15

2     O my God, I trust in thee: let me not be ashamed, let not mine enemies triumph over me.

4     Shew me thy ways, O Lord; teach me thy paths.

5     Lead me in thy truth, and teach me: for thou art the God of my salvation; on thee do I wait all the day.

14     The secret of the Lord is with them that fear him; and he will shew them his covenant.

15     Mine eyes are ever toward the Lord; for he shall pluck my feet out of the net.

5۔ یوحنا 4 باب 21 (یسوع نے کہا) صرف، 23 (دی) 24 آیات

21۔ یسوع نے کہا۔۔۔

23۔۔۔۔وہ وقت آتا ہے بلکہ اب ہی ہے کہ سچے پرستار باپ کی پرستش روح اور سچائی سے کریں گے کیونکہ باپ اپنے لئے ایسے ہی پرستار ڈھونڈتا ہے۔

24۔ خدا روح ہے اور ضرور ہے کہ اْس کے پرستار روح اور سچائی سے اْس کی پرستش کریں۔

5. John 4 : 21 (Jesus saith) only, 23 (the), 24

21     Jesus saith…

23     …the hour cometh, and now is, when the true worshippers shall worship the Father in spirit and in truth: for the Father seeketh such to worship him.

24     God is a Spirit: and they that worship him must worship him in spirit and in truth.

6۔ یوحنا 8 باب31، 32 آیات

31۔ پس یسوع نے اْن یہودیوں سے کہا جنہوں نے اْس کا یقین کیا تھا کہ اگر تم میرے کلام پر قائم رہو گے تو حقیقت میں میرے شاگرد ٹھہرو گے۔

32۔ اور سچائی سے واقف رہو گے اور سچائی تمہیں آزاد کرے گی۔

6. John 8 : 31, 32

31     Then said Jesus to those Jews which believed on him, If ye continue in my word, then are ye my disciples indeed;

32     And ye shall know the truth, and the truth shall make you free.

7۔ 1یوحنا 2 باب 1 (تا پہلا)، 3 (یہاں) تا5 (تا:)، 6، 21، 22، 26، 27آیات

1۔ اے میرے بچو!

3۔ اگر ہم اْس کے حکموں پر عمل کریں گے تو۔۔۔ ہمیں معلوم ہوگا کہ ہم اْسے جان گئے ہیں۔

4۔ جو کوئی یہ کہتا ہے کہ مَیں اْسے جان گیا ہوں اور اْس کے حکموں پر عمل نہیں کرتا وہ جھوٹا ہے اور اْس میں سچائی نہیں۔

5۔ ہاں جو کوئی اْس کے کلام پر عمل کرے اْس میں یقیناً خدا کی محبت کامل ہوگئی ہے۔

6۔ جو کوئی کہتا ہے کہ مَیں اْس میں قائم ہوں تو چاہئے کہ یہ بھی اْسی طرح چلے جس طرح وہ چلتا تھا۔

21۔ مَیں نے تمہیں اِس لئے نہیں لکھا کہ تم سچائی کو نہیں جانتے بلکہ اِس لئے کہ تم اْسے جانتے ہو اور اِس لئے کہ کوئی جھوٹ سچائی کی طرف سے نہیں۔

22۔ کون جھوٹا ہے سوا اْس کے جو یسوع کے مسیح ہونے کا انکار کرتا ہے؟ مخالفِ مسیح وہی ہے جو باپ اور بیٹے کا انکار کرتا ہے۔

26۔ مَیں نے یہ باتیں تمہیں اْن کے لئے لکھی ہیں جو تمہیں فریب دیتے ہیں۔

27۔ اور تمہارا وہ مسح جو اْس کی طرف سے کیا گیا تم میں قائم رہتا ہے اور تم اِس کے محتاج نہیں کہ کوئی تمہیں سکھائے بلکہ جس طرح وہ مسح جو اْس کی طرف سے کیا گیا تمہیں سب باتیں سکھاتا ہے اور سچا ہے اور جھوٹا نہیں اور جس طرح اْس نے تمہیں سکھایا اْسی طرح تم اْس میں قائم رہتے ہو۔

7. I John 2 : 1 (to 1st ,), 3 (hereby)-5 (to :), 6, 21, 22, 26, 27

1     My little children,

3     …hereby we do know that we know him, if we keep his commandments.

4     He that saith, I know him, and keepeth not his commandments, is a liar, and the truth is not in him.

5     But whoso keepeth his word, in him verily is the love of God perfected:

6     He that saith he abideth in him ought himself also so to walk, even as he walked.

21     I have not written unto you because ye know not the truth, but because ye know it, and that no lie is of the truth.

22     Who is a liar but he that denieth that Jesus is the Christ? He is antichrist, that denieth the Father and the Son.

26     These things have I written unto you concerning them that seduce you.

27     But the anointing which ye have received of him abideth in you, and ye need not that any man teach you: but as the same anointing teacheth you of all things, and is truth, and is no lie, and even as it hath taught you, ye shall abide in him.

8۔ 2 کرنتھیوں 6 باب1، 4 تا7 آیات

1۔ اور ہم جو اْس کے ساتھ کام میں شریک ہیں یہ بھی تم سے التماس کرتے ہیں کہ خدا کا فضل جو تم پر ہوا ہے بے فائدہ نہ رہنے دو۔

4۔ بلکہ خدا کے خادموں کی طرح ہر بات سے اپنی خوبی ظاہر کرتے ہیں۔ بڑے صبر سے۔ مصیبت سے۔ احتیاج سے۔ تنگی سے۔

5۔ کوڑے کھانے سے۔ قید ہونے سے۔ ہنگاموں سے۔ محنتوں سے۔ بیداری سے۔ فاقوں سے۔

6۔ پاکیزگی سے۔ علم سے۔ تحمل سے۔ مہربانی سے۔ روح القدس سے۔ بے ریا محبت سے۔

7۔ کلام سے۔ خدا کی قدرت سے۔راستبازی کے ہتھیاروں کے وسیلہ سے جو داہنے بائیں ہیں۔

8. II Corinthians 6 : 1, 4-7

1     We then, as workers together with him, beseech you also that ye receive not the grace of God in vain.

4     But in all things approving ourselves as the ministers of God, in much patience, in afflictions, in necessities, in distresses,

5     In stripes, in imprisonments, in tumults, in labours, in watchings, in fastings;

6     By pureness, by knowledge, by longsuffering, by kindness, by the Holy Ghost, by love unfeigned,

7     By the word of truth, by the power of God, by the armour of righteousness on the right hand and on the left.

9۔ زبور 33: 4 آیت

4۔ کیونکہ خدا کا کلام راست ہے اور اْس کے سب کام با وفا ہیں۔

9. Psalm 33 : 4

4     For the word of the Lord is right; and all his works are done in truth.



سائنس اور صح


1۔ 180 :25۔30

جب خدا، ازلی فہم جو سب باتیں سمجھتا ہے، انسان پر حکومت کرتا ہے تو انسان جانتا ہے کہ خدا کے لئے سب کچھ ممکن ہے۔ اِس زندہ سچائی کو جاننے کا واحد راستہ، جو بیمار کو شفا دیتی ہے، الٰہی فہم کی سائنس میں پایا جاتا ہے کیونکہ یہ مسیح یسوع کے وسیلہ سے سکھائی گئی اور ظاہر ہوئی۔

1. 180 : 25-30

When man is governed by God, the ever-present Mind who understands all things, man knows that with God all things are possible. The only way to this living Truth, which heals the sick, is found in the Science of divine Mind as taught and demonstrated by Christ Jesus.

2۔ 224 :28۔4

سچائی آزادی کے عناصر پیدا کرتی ہے۔ اِس کے جھنڈے پر روح کا الہامی نعرہ ”غلامی موقوف ہوچکی ہے“ درج ہے۔ خدا کی قدرت قیدیوں کے لئے آزادی لاتی ہے۔ کوئی طاقت الٰہی محبت کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔وہ کون سی فرض کی گئی قوت ہے جو خود کو خدا کے خلاف کھڑا کرتی ہے؟ یہ کہا ں سے آتی ہے؟ وہ کیا چیز ہے جو انسان کو لوہے کی بیڑیوں کے ساتھ گناہ، موت اور بیماری سے باندھے رکھتی ہے؟ جو کچھ بھی انسان کو غلام بناتا ہے وہ الٰہی حکمرانی کا مخالف ہے۔سچائی انسان کو آزاد کرتی ہے۔

2. 224 : 28-4

Truth brings the elements of liberty. On its banner is the Soul-inspired motto, "Slavery is abolished." The power of God brings deliverance to the captive. No power can withstand divine Love. What is this supposed power, which opposes itself to God? Whence cometh it? What is it that binds man with iron shackles to sin, sickness, and death? Whatever enslaves man is opposed to the divine government. Truth makes man free.

3۔ 454 :4۔13

اپنے طالب علموں کو سچ کے قادر مطلق کی تعلیم دیں، جو غلطی کی کمزوری بیان کرتا ہے۔الٰہی قادر مطلق کی سمجھ، حتیٰ کہ ایک درجے پر، خوف کو تباہ کردیتی ہے، اور پاؤں کو سچائی کی راہ پر چلاتی ہے، اْس راہ پر جو ہاتھوں کے بغیر بنے ہوئے گھر کی جانب لے جاتی ہے یعنی”آسمانوں پر ابدی“ گھر کی جانب۔انسانی نفرت پر کوئی قانونی حکم نہیں اور کوئی بادشاہت نہیں۔ محبت تخت نشین ہے۔بدی یا مادے میں نہ ذہانت ہے نہ قوت ہے، یہ کرسچن سائنس کا مطلق عقیدہ ہے، اور یہ ایک بڑی سچائی ہے جو غلطی کے سارے بہروپ بے نقاب کرتی ہے۔

3. 454 : 4-13

Teach your students the omnipotence of Truth, which illustrates the impotence of error. The understanding, even in a degree, of the divine All-power destroys fear, and plants the feet in the true path, — the path which leads to the house built without hands "eternal in the heavens." Human hate has no legitimate mandate and no kingdom. Love is enthroned. That evil or matter has neither intelligence nor power, is the doctrine of absolute Christian Science, and this is the great truth which strips all disguise from error.

4۔ 24 :4۔10

اصل متن سے شناسائی اور انسانی عقائد کو ترک کرنے کا عزم (پیشواؤں کی جانب سے قائم کردہ اور بعض اوقات بدترین انسانی جذبات سے بھڑکائے گئے عقائد)، کرسچن سائنس کو سمجھنے کی راہ کھولتے ہیں، اور بائبل کو زندگی کا نقشہ بناتے ہیں، جہاں سچائی کے نشانات اور شفائیہ دھاروں کی نشاندہی ہوتی ہے۔

4. 24 : 4-10

Acquaintance with the original texts, and willingness to give up human beliefs (established by hierarchies, and instigated sometimes by the worst passions of men), open the way for Christian Science to be understood, and make the Bible the chart of life, where the buoys and healing currents of Truth are pointed out.

5۔ 480 :26۔5

بائبل بیان کرتی ہے: ”سب چیزیں اْس (الٰہی کلام) کے وسیلہ پیدا ہوئیں اور جو کچھ پیدا ہوا اْس میں سے کوئی چیز بھی اْس کے بغیر پیدا نہ ہوئی۔“یہ الٰہی سائنس کی ابدی حقیقت ہے۔ اگر گناہ، بیماری اور موت کو عدم کے طور پر سمجھا جائے تو وہ غائب ہو جائیں گے۔ جیسا کہ بخارات سورج کے سامنے پگھل جاتے ہیں، اسی طرح بدی اچھائی کی حقیقت کے سامنے غائب ہوجائے گی۔ ایک نے دوسری کو لازمی چھپا دینا ہے۔ تو پھر اچھائی کو بطور حقیقت منتخب کرنا کس قدر اہم ہے! انسان خدا، روح کا معاون ہے اور کسی کا نہیں۔ خدا کا ہونا لامتناہی، آزادی، ہم آہنگی اور بے پناہ فرحت کا ہونا ہے۔ ”جہاں کہیں خداوند کا روح ہے وہاں آزادی ہے۔“

5. 480 : 26-5

The Bible declares: "All things were made by Him [the divine Word]; and without Him was not anything made that was made." This is the eternal verity of divine Science. If sin, sickness, and death were understood as nothingness, they would disappear. As vapor melts before the sun, so evil would vanish before the reality of good. One must hide the other. How important, then, to choose good as the reality! Man is tributary to God, Spirit, and to nothing else. God's being is infinity, freedom, harmony, and boundless bliss. "Where the Spirit of the Lord is, there is liberty."

6۔ 481 :9۔12

عقل کی سائنس سے متعلق مادی حواس کے بیشمارتضادات اْس اندیکھی سچائی کو تبدیل نہیں کرتے جو ہمیشہ کے لئے برقرار رہتی ہے۔

6. 481 : 9-12

The various contradictions of the Science of Mind by the material senses do not change the unseen Truth, which remains forever intact.

7۔ 128 :27۔6

سائنس عقل سے تعلق رکھتی ہے نہ کہ مادے سے۔ یہ طے شدہ اصول پر بنیاد رکھتی ہے نہ کہ جھوٹے احساسات کے فیصلوں پر۔ ریاضی میں دو رقوم کی جمع ہمیشہ ایک ہی نتیجہ لاتی ہے۔ لہٰذہ اس میں منطق ہے۔اگر قیاس منطقی کی اکبری اور اصغری تجویزات دونوں درست ہیں تو مناسب طور پر حل کئے جانے پرجواب غلط نہیں ہو سکتا۔اسی طرح کرسچن سائنس میں کوئی مخالفت نہیں نہ کوئی تضادات ہیں، کیونکہ اِس کی منطق اس قدر ہم آہنگ ہے جیسے قیاسِ منطقی ٹھیک ٹھیک حل کیا گیا ہو یا ریاضی میں ٹھیک حساب کیا گیا ہو۔سچائی ہمیشہ حق گو ہے، اور یہ بنیاد میں یا نتیجے میں کسی غلطی کو برداشت نہیں کرتی۔

7. 128 : 27-6

Science relates to Mind, not matter. It rests on fixed Principle and not upon the judgment of false sensation. The addition of two sums in mathematics must always bring the same result. So is it with logic. If both the major and the minor propositions of a syllogism are correct, the conclusion, if properly drawn, cannot be false. So in Christian Science there are no discords nor contradictions, because its logic is as harmonious as the reasoning of an accurately stated syl-logism or of a properly computed sum in arithmetic. Truth is ever truthful, and can tolerate no error in premise or conclusion.

8۔ 367 :30۔32

کیونکہ سچائی لامتناہی ہے، غلطی کو عدم سمجھا جانا چاہئے۔ کیونکہ سچائی اچھائی میں قادر مطلق ہے، غلطی سچائی کے مخالف، کوئی طاقت نہیں رکھتی۔

8. 367 : 30-32

Because Truth is infinite, error should be known as nothing. Because Truth is omnipotent in goodness, error, Truth's opposite, has no might.

9۔ 183 :14۔15

سچائی نے غلطی کو کبھی لازمی نہیں بنایا نہ غلطی کو ہمیشہ قائم رکھنے کے لئے کوئی قانون وضع کیا۔

9. 183 : 14-15

Truth never made error necessary, nor devised a law to perpetuate error.

10۔ 368 :4۔5، 6۔9

غلطی سچائی کے سامنے بزدل ہے۔۔۔ سچائی اور غلطی دونوں بشر کی سوچ سے کہیں زیادہ قریب تر ہوئے ہیں، اور سچائی پھر بھی واضح تر ہوتی جائے گی کیونکہ غلطی خودکو تباہ کرنے والی ہے۔

10. 368 : 4-5, 6-9

Error is a coward before Truth. … Both truth and error have come nearer than ever before to the apprehension of mortals, and truth will become still clearer as error is self-destroyed.

11۔ 83 :6۔11

سائنس محض ناقابل یقین اچھائی اور بدی کے عناصر کو واضح کر سکتی ہے جو سامنے آرہے ہیں۔ ان بعد کے ایام سے بچنے کے لئے انسانوں کو سچائی میں پناہ لینی چاہئے۔ ادراک کے بنا ایک اندھا یقین رکھنے سے کرسچن سائنس کے مخالف کچھ نہیں، یعنی ایسا اندھا یقین جو سچائی کو پوشیدہ کرتا اور غلطی کو تعمیر کرتا ہے۔

11. 83 : 6-11

Science only can explain the incredible good and evil elements now coming to the surface. Mortals must find refuge in Truth in order to escape the error of these latter days. Nothing is more antagonistic to Christian Science than a blind belief without understanding, for such a belief hides Truth and builds on error.

12۔ 563 :1۔9

انسانی حس مخالفت پر حیران ہوتی ہے جبکہ الٰہی حس کے لئے ہم آہنگی حقیقی اور مخالف غیر واقعی ہے۔ ہم گناہ، بیماری اور موت پر نہایت تعجب کر سکتے ہیں۔ ہم انسانی خوف سے متحبر ہو سکتے ہیں؛ اور پھر بھی نفرت سے مزید مسحور ہو سکتے ہیں، جس سے اس کا بْرج نما سر اونچا ہو جاتا ہے، جو بدی کی بہت سی ایجادات میں اپنے سینگ دکھاتا ہے۔ لیکن ہمیں عدم کے سامنے خوفذدہ کیوں کھڑا ہونا چاہئے؟ بڑا سْرخ اژدھا جھوٹ کی علامت ہے، وہ عقیدہ جس کا لبِ لباب، زندگی اور ذہانت مادی ہو سکتا ہے۔

12. 563 : 1-9

Human sense may well marvel at discord, while, to a diviner sense, harmony is the real and discord the unreal. We may well be astonished at sin, sickness, and death. We may well be perplexed at human fear; and still more astounded at hatred, which lifts its hydra head, showing its horns in the many inventions of evil. But why should we stand aghast at nothingness? The great red dragon symbolizes a lie, — the belief that substance, life, and intelligence can be material.

13۔ 178 :18۔22

فانی عقل، مادے میں احساس کی بنیادوں پر عمل کرتے ہوئے، حیوانی مقناطیسیت ہے؛ مگر یہ نام نہاد عقل، جس میں سے ساری بدی نکلتی ہے، خود کی مخالفت کرتی ہے، اور اسے بالاآخر ابدی سچائی، یا کرسچن سائنس میں بیان کردہ الٰہی عقل کو تسلیم کرنا پڑتا ہے۔

13. 178 : 18-22

Mortal mind, acting from the basis of sensation in matter, is animal magnetism; but this so-called mind, from which comes all evil, contradicts itself, and must finally yield to the eternal Truth, or the divine Mind, expressed in Science.

14۔ 288 :31۔7

ابدی سچائی اِسے تباہ کرتی ہے جو بشر کو غلطی سے سیکھا ہوا دکھائی دیتا ہے، اور بطور خدا کے فرزند انسان کی حقیقت روشنی میں آتی ہے۔ ظاہر کی گئی سچائی ابدی زندگی ہے۔ بشر جب تک یہ نہیں سیکھتا کہ خدا ہی واحد زندگی ہے، وہ غلطی کے عارضی ملبے، گناہ، بیماری اور موت کے عقیدے سے کبھی نہیں باہر آ سکتا۔بدن میں زندگی اور احساس اِس فہم کے تحت فتح کئے جانے چاہئیں جو انسان کو خدا کی شبیہ بناتا ہے۔پھر روح بدن پر فتح مند ہوگی۔

14. 288 : 31-7

The eternal Truth destroys what mortals seem to have learned from error, and man's real existence as a child of God comes to light. Truth demonstrated is eternal life. Mortal man can never rise from the temporal débris of error, belief in sin, sickness, and death, until he learns that God is the only Life. The belief that life and sensation are in the body should be overcome by the understanding of what constitutes man as the image of God. Then Spirit will have overcome the flesh.

15۔ 99 :23۔29

سچی روحانیت کے پْر سکون، مضبوط دھارے، جن کے اظہار صحت، پاکیزگی اور خود کار قربانی ہیں، اِنہیں اْس وقت تک انسانی تجربے کو گہرا نہیں کرنا چاہئے جب تک مادی وجودیت کے عقائد واضح مسلط ہوتے ہوئے دکھائی نہیں دیتے اور گناہ، بیماری اور موت روحانی الوہیت کے سائنسی اظہاراور خدا کے روحانی، کامل انسان کو جگہ فراہم نہیں کرتے۔

15. 99 : 23-29

The calm, strong currents of true spirituality, the manifestations of which are health, purity, and self-immolation, must deepen human experience, until the beliefs of material existence are seen to be a bald imposition, and sin, disease, and death give everlasting place to the scientific demonstration of divine Spirit and to God's spiritual, perfect man.

16۔ 323 :6۔12

محبت کی صحت بخش تادیب کے وسیلہ راستبازی، امن اور پاکیزگی کی جانب ہماری پیش قدمی میں مدد کی جاتی ہے، جو کہ سائنس کے امتیازی نشانات ہیں۔ سچائی کے لامتناہی کاموں کو دیکھتے ہوئے، ہم رْکتے ہیں، خدا کا انتظار کرتے ہیں۔ پھر ہم اْس وقت تک آگے نہیں بڑھتے ہیں جب تک لامحدود خیال وجد میں نہیں آتا، اور غیر مصدقہ نظریے کو الٰہی جلال تک اونچا نہیں اڑایا جاتا۔

16. 323 : 6-12

Through the wholesome chastisements of Love, we are helped onward in the march towards righteousness, peace, and purity, which are the landmarks of Science. Beholding the infinite tasks of truth, we pause, — wait on God. Then we push onward, until boundless thought walks enraptured, and conception unconfined is winged to reach the divine glory.


روز مرہ کے فرائ

منجاب میری بیکر ایڈ

روز مرہ کی دعا

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ ہر روز یہ دعا کرے: ’’تیری بادشاہی آئے؛‘‘ الٰہی حق، زندگی اور محبت کی سلطنت مجھ میں قائم ہو، اور سب گناہ مجھ سے خارج ہو جائیں؛ اور تیرا کلام سب انسانوں کی محبت کو وافر کرے، اور اْن پر حکومت کرے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 4۔

مقاصد اور اعمال کا ایک اصول

نہ کوئی مخالفت نہ ہی کوئی محض ذاتی وابستگی مادری چرچ کے کسی رکن کے مقاصد یا اعمال پر اثر انداز نہیں ہونی چاہئے۔ سائنس میں، صرف الٰہی محبت حکومت کرتی ہے، اور ایک مسیحی سائنسدان گناہ کو رد کرنے سے، حقیقی بھائی چارے ، خیرات پسندی اور معافی سے محبت کی شیریں آسائشوں کی عکاسی کرتا ہے۔ اس چرچ کے تمام اراکین کو سب گناہوں سے، غلط قسم کی پیشن گوئیوں،منصفیوں، مذمتوں، اصلاحوں، غلط تاثر ات کو لینے اور غلط متاثر ہونے سے آزاد رہنے کے لئے روزانہ خیال رکھنا چاہئے اور دعا کرنی چاہئے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 1۔

فرض کے لئے چوکس

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ وہ ہر روز جارحانہ ذہنی آراء کے خلاف خود کو تیار رکھے، اور خدا اور اپنے قائد اور انسانوں کے لئے اپنے فرائض کو نہ کبھی بھولے اور نہ کبھی نظر انداز کرے۔ اس کے کاموں کے باعث اس کا انصاف ہوگا، وہ بے قصور یا قصوارہوگا۔ 

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 6۔


████████████████████████████████████████████████████████████████████████