اتوار 26 مئی ، 2019 مضمون۔جان اور جسم |

اتوار 26 مئی ، 2019



مضمون۔جان اور جسم

SubjectSoul and Body

سنہری متن:سنہری متن: زبور 103: 1 آیت

’’’ اے میری جان! خدوند کو مبارک کہہ اور جو کچھ مجھ میں ہے اْس کے قدوس نام کو مبارک کہے ۔‘‘



Golden Text: Psalm 103 : 1

Bless the Lord, O my soul: and all that is within me, bless his holy name.





سبق کی آڈیو کے لئے یہاں کلک کریں

یوٹیوب سے سننے کے لئے یہاں کلک کریں

████████████████████████████████████████████████████████████████████████


جوابی مطالعہ: زبور 103: 2تا5، 8، 11آیات


2۔اے میری جان خداوند کو مبارک کہہ! اور اس کی کسی نعمت کو فراموش نہ کر۔

3۔وہ تیری ساری بدکاری بخشتا ہے۔ وہ تجھے تمام بیماریو ں سے شفا دیتا ہے۔

4۔ وہ تیری جان ہلاکت سے بچاتا ہے۔ وہ تیرے سر پر شفقت و رحمت کا تاج رکھتا ہے۔

5۔ وہ تجھے عمر بھر اچھی اچھی چیزوں سے آسودہ کرتا ہے۔ تْو عقاب کی مانند از سرِ نو جوان ہوتا ہے۔

8۔ خدوند رحیم اور کریم ہے۔ قہر کرنے میں دھیما اور شفقت میں غنی۔

11۔ کیونکہ جس قدر آسمان زمین سے بلند ہے اْسی قدر اْس کی شفقت اْن پر ہے جو اْس سے ڈرتے ہیں۔

Responsive Reading: Psalm 103 : 2-5, 8, 11

2.     Bless the Lord, O my soul, and forget not all his benefits:

3.     Who forgiveth all thine iniquities; who healeth all thy diseases;

4.     Who redeemeth thy life from destruction; who crowneth thee with lovingkindness and tender mercies;

5.     Who satisfieth thy mouth with good things; so that thy youth is renewed like the eagle’s.

8.     The Lord is merciful and gracious, slow to anger, and plenteous in mercy.

11.     For as the heaven is high above the earth, so great is his mercy toward them that fear him.



درسی وعظ



بائبل


درسی وعظ

بائبل

1۔ زبور 25: 1، 2 آیت (تا:)

1۔ اے خداوند میں اپنی جان تیری طرف اٹھاتا ہوں۔

2۔ اے میرے خدا میں نے تجھ پرتوکل کیا۔

1. Psalm 25 : 1, 2 (to :)

1     Unto thee, O Lord, do I lift up my soul.

2     O my God, I trust in thee:

2۔ وعظ 2باب24، 26آیات (پہلے تک)

24۔ پس انسان کے لئے اس سے بہتر کچھ نہیں کہ وہ کھائے اور اپنے اور اپنی ساری محنت کے درمیان خوش ہو کر اپنا جی بہلائے۔ میں نے دیکھا کہ یہ بھی خدا کے ہاتھ سے ہے۔

26۔ کیونکہ وہ اْس آدمی کو جو اْس کے حضور اچھا ہے حکمت اور دانائی اور خوشی بخشتا ہے لیکن گناہگار کو زحمت دیتا ہے کہ وہ جمع کرے اور انبار لگائے تاکہ اْسے دے جو خدا کا پسندیدہ ہے۔

2. Ecclesiastes 2 : 24, 26 (to 1st .)

24     There is nothing better for a man, than that he should eat and drink, and that he should make his soul enjoy good in his labour. This also I saw, that it was from the hand of God.

26     For God giveth to a man that is good in his sight wisdom, and knowledge, and joy: but to the sinner he giveth travail, to gather and to heap up, that he may give to him that is good before God.

3۔ اعمال 3باب1تا13، 19، 25، 26 آیات

1۔ پطرس اور یوحنا دعا کے وقت یعنی تیسرے پہر ہیکل کو جارہے تھے۔

2۔اور لوگ ایک جنم کے لنگڑے کو لارہے تھے جس کو ہر روز ہیکل کے اُس دروازہ پر بٹھا دیتے تھے جو خوبصورت کہلاتا ہے تاکہ ہیکل میں جانے والوں سے بھیک مانگے۔

3۔ جب اُس نے پطرس اور یوحنا کو ہیکل میں جاتے دیکھا تو اُن سے بھیک مانگی۔

4۔ پطرس ا اور یوحنا نے اُس پر غور سے نظر کی اور پطرس نے کہا ہماری طرف دیکھ۔

5۔ وہ اُن سے کچھ ملنے کی امید پر اُن کی طرف متوجہ ہوا۔

6۔ پطرس نے کہا چاندی سونا تو میرے پاس ہے نہیں مگر جو میرے پاس ہے وہ تجھے دئے دیتا ہوں۔ یسوع مسیح ناصری کے نام سے چل پھر۔

7۔ اور اُس کا دہنا ہاتھ پکڑکر اُس کو اٹھایا اور اسی دم اس کے پاؤں اور ٹخنے مضبوط ہوگئے۔

8۔اور وہ کود کر کھڑا ہوگیا اور چلنے پھرنے لگا اور چلتا اور کودتا اور خدا کی حمد کرتا ہوا ان کے ساتھ ہیکل میں گیا۔

9۔اور سب لوگوں نے اُسے چلتے پھرتے اور خدا کی حمد کرتے دیکھ کر۔

10۔ اُس کو پہچانا کہ یہ وہی ہے جوہیکل کے خوبصورت دروازہ پربیٹھا بھیک مانگا کرتا تھا اور اُس ماجرے سے جو اُس پر واقع ہوا تھا بہت دنگ اور حیران ہوئے۔

11۔ جب وہ پطرس اور یوحنا کو پکڑے ہوئے تھا تو سب لوگ بہت حیران ہوکر اُس برآمدہ کی طرف جو سلیمان کا کہلاتا ہے اُن کے پاس دوڑے آئے۔

12۔ پطرس نے یہ دیکھ کر لوگوں سے کہا اے اسرائیلیو۔ اس پر تم کیوں تعجب کرتے ہو اور ہمیں کیوں اس طرح دیکھ رہے ہوکہ گویا ہم نے اپنی قدرت یا دینداری سے اس شخص کو چلتا پھرتا کردیا؟

13۔ ابرہام اوراضحاق اور یعقوب کے خدا یعنی ہمارے باپ دادا کے خدا نے اپنے خادم یسوع کو جلال دیا جسے تم نے پکڑوا دیا اور جب پیلاطس نے اُسے چھوڑ دینے کا قصد کیا تو تم نے اُس کے سامنے اُس کا انکار کیا۔

19۔ پس توبہ کرو اور رجوع لاؤ تاکہ تمہارے گُناہ مٹائے جائیں اور اس طرح خداوند کے حضور سے تازگی کے دن آئیں۔

25۔ تم نبیوں کی اولاد اور اُس عہد کے شریک ہوجو خدا نے تمہارے باپ دادا سے باندھا جب ابرہام سے کہا کہ تیری اولاد سے دنیا کے سب گھرانے برکت پائیں گے۔

26۔ خدا نے اپنے خادم کواٹھا کر پہلے تمہارے پاس بھیجا تاکہ تم میں سے ہر ایک کو اس کی بدیوں سے ہٹا کر برکت دے۔

3. Acts 3 : 1-13, 19, 25, 26

1     Now Peter and John went up together into the temple at the hour of prayer, being the ninth hour.

2     And a certain man lame from his mother’s womb was carried, whom they laid daily at the gate of the temple which is called Beautiful, to ask alms of them that entered into the temple;

3     Who seeing Peter and John about to go into the temple asked an alms.

4     And Peter, fastening his eyes upon him with John, said, Look on us.

5     And he gave heed unto them, expecting to receive something of them.

6     Then Peter said, Silver and gold have I none; but such as I have give I thee: In the name of Jesus Christ of Nazareth rise up and walk.

7     And he took him by the right hand, and lifted him up: and immediately his feet and ancle bones received strength.

8     And he leaping up stood, and walked, and entered with them into the temple, walking, and leaping, and praising God.

9     And all the people saw him walking and praising God:

10     And they knew that it was he which sat for alms at the Beautiful gate of the temple: and they were filled with wonder and amazement at that which had happened unto him.

11     And as the lame man which was healed held Peter and John, all the people ran together unto them in the porch that is called Solomon’s, greatly wondering.

12     And when Peter saw it, he answered unto the people, Ye men of Israel, why marvel ye at this? or why look ye so earnestly on us, as though by our own power or holiness we had made this man to walk?

13     The God of Abraham, and of Isaac, and of Jacob, the God of our fathers, hath glorified his Son Jesus; whom ye delivered up, and denied him in the presence of Pilate, when he was determined to let him go.

19     Repent ye therefore, and be converted, that your sins may be blotted out, when the times of refreshing shall come from the presence of the Lord;

25     Ye are the children of the prophets, and of the covenant which God made with our fathers, saying unto Abraham, And in thy seed shall all the kindreds of the earth be blessed.

26     Unto you first God, having raised up his Son Jesus, sent him to bless you, in turning away every one of you from his iniquities.

4۔ اعمال 14باب8تا18آیات

8۔ اور لْسترہ میں ایک شخص بیٹھا تھا جو پاؤں سے لاچار تھا۔ وہ جنم کا لنگڑا تھا اور کبھی نہ چلا تھا۔

9۔ وہ پولوس کو باتیں کرتے سْن رہا تھا اور جب اْس نے اْس کی طرف غور کر کے دیکھا کہ اْس میں شِفا پانے کے لائق ایمان ہے۔

10۔ تو بڑی آواز سے کہا اپنے پاؤں کے بل سیدھا کھڑا ہو جا۔ پس وہ اچھل کر چلنے پھرنے لگا۔

11۔ لوگوں نے پولوس کا یہ کام دیکھ کر لْکانیہ کی بولی میں بلند آواز سے کہا کہ آدمیوں کی صورت میں دیوتا ہمارے پاس اْتر کر آئے ہیں۔

12۔ اور اْنہوں نے برنباس کو زیوس کہا اور پولوس کو ہرمیس۔ اس لئے کہ یہ کلام کرنے میں سبقت رکھتا تھا۔

13۔ اور زیوس کے اْس مندر کا پجاری جو اْن کے شہر کے سامنے تھا بَیل اور پھولوں کاہار پھاٹک پر لاکر لوگوں کے ساتھ قربانی کرنا چاہتا تھا۔

14۔ جب برنباس اور پولوس رسولوں نے سنا تو اپنے کپڑے پھاڑ کر لوگوں میں جا کودے اور پکار پکار کر۔

15۔ کہنے لگے کہ لوگو! تم یہ کیا کرتے ہو؟ ہم بھی تمہارے ہم طبیعت انسان ہیں اور تمہیں خوشخبری سناتے ہیں تاکہ ان باطل چیزوں سے کنارہ کر کے اْس زندہ خدا کی طرف پھرو جس نے آسمان اور زمین اور سمندر اور جو کچھ اْن میں ہے پیدا کیا۔

16۔ اْس نے اگلے زمانہ میں سب قوموں کو اپنی راہ چلنے دیا۔

17۔ تو بھی اْس نے اپنے آپ کو بے گناہ نہ چھوڑا۔ چنانچہ اْس نے مہربانیاں کیں اور آسمان سے تمہارے لئے پانی برسایا اور بڑی بڑی پیداوار کے موسم عطا کئے اور تمہارے دلوں کو خوراک اور خوشی سے بھر دیا۔

18۔یہ باتیں کہہ کر بھی لوگوں کو مشکل سے روکا کہ اْن کے لئے قربانی نہ کریں۔

4. Acts 14 : 8-18

8     And there sat a certain man at Lystra, impotent in his feet, being a cripple from his mother’s womb, who never had walked:

9     The same heard Paul speak: who stedfastly beholding him, and perceiving that he had faith to be healed,

10     Said with a loud voice, Stand upright on thy feet. And he leaped and walked.

11     And when the people saw what Paul had done, they lifted up their voices, saying in the speech of Lycaonia, The gods are come down to us in the likeness of men.

12     And they called Barnabas, Jupiter; and Paul, Mercurius, because he was the chief speaker.

13     Then the priest of Jupiter, which was before their city, brought oxen and garlands unto the gates, and would have done sacrifice with the people.

14     Which when the apostles, Barnabas and Paul, heard of, they rent their clothes, and ran in among the people, crying out,

15     And saying, Sirs, why do ye these things? We also are men of like passions with you, and preach unto you that ye should turn from these vanities unto the living God, which made heaven, and earth, and the sea, and all things that are therein:

16     Who in times past suffered all nations to walk in their own ways.

17     Nevertheless he left not himself without witness, in that he did good, and gave us rain from heaven, and fruitful seasons, filling our hearts with food and gladness.

18     And with these sayings scarce restrained they the people, that they had not done sacrifice unto them.

5۔ 1 کرنتھیوں 1باب1 (یا دوسرا)

1۔ پولوس جو خدا کی مرضی سے یسوع مسیح کا رسول ہونے کے لئے بلایا گیا

5. I Corinthians 1 : 1 (to 2nd ,)

1     Paul, called to be an apostle of Jesus Christ through the will of God,

6۔ 1کرنتھیوں 6باب19، 20آیات

19۔ کیا تم نہیں جانتے کہ تمہارا بدن روح القدس کا مقدس ہے جو تم میں بسا ہوا ہے اور تم کو خدا کی مرضی سے ملاہے؟ اور تم اپنے نہیں۔

20۔ کیونکہ قیمت سے خریدے گئے ہو۔ پس اپنے بدن سے خدا کا جلال ظاہر کرو۔

6. I Corinthians 6 : 19, 20

19     What? know ye not that your body is the temple of the Holy Ghost which is in you, which ye have of God, and ye are not your own?

20     For ye are bought with a price: therefore glorify God in your body, and in your spirit, which are God’s.

7۔ رومیوں 12باب1، 2آیات

1۔ پس اے بھائیو! میں خدا کی رحمتیں یاد دلا کر تم سے التماس کرتا ہوں کہ اپنے بدن ایسی قربانی ہونے کے لئے نذر کرو جو زندہ اور پاک خدا کو پسندیدہ ہو۔ یہی تمہاری معقول عبادت ہے۔

2۔ اور اس جہان کے ہمشکل نہ بنو بلکہ عقل نئی ہو جانے سے اپنی صورت بدلتے جاؤ تاکہ خدا کی نیک اور پسندیدہ اور کامل مرضی تجربے سے معلوم کرتے رہو۔

7. Romans 12 : 1, 2

1     I beseech you therefore, brethren, by the mercies of God, that ye present your bodies a living sacrifice, holy, acceptable unto God, which is your reasonable service.

2     And be not conformed to this world: but be ye transformed by the renewing of your mind, that ye may prove what is that good, and acceptable, and perfect, will of God.

8۔ 1تھسلینکیوں 5باب23آیت

23۔ خدا ہی جو اطمینان کا چشمہ ہے آپ ہی تم کو بالکل پاک کرے اور تمہاری روح اور جان اور بدن ہمارے خداوند یسوع مسیح کے آنے تک پورے پورے اور بے عیب محفوظ رہیں۔

8. I Thessalonians 5 : 23

23     And the very God of peace sanctify you wholly; and I pray God your whole spirit and soul and body be preserved blameless unto the coming of our Lord Jesus Christ.



سائنس اور صح


1۔ 307: 25 (الٰہی)۔ 30

الٰہی فہم بشر کی جان ہے، اور انسان کو سب چیزوں پر حاکمیت عطا کرتا ہے۔ انسان کو مادیت کی بنیاد پر خلق نہیں کیا گیا اور نہ اسے مادی قوانین کی پاسداری کا حکم دیا گیا جو روح نے کبھی نہیں بنائے؛ اس کا صوبہ روحانی قوانین، فہم کے بلند آئین میں ہے۔

1. 307 : 25 (The divine)-30

The divine Mind is the Soul of man, and gives man dominion over all things. Man was not created from a material basis, nor bidden to obey material laws which Spirit never made; his province is in spiritual statutes, in the higher law of Mind.

2۔ 477: 19۔25

سوال: بدن اور جان کیا ہیں؟

جواب: شناخت روح کا عکس ہے، وہ عکس جو الٰہی اصول، یعنی محبت کی متعدد صورتوں میں پایا جاتا ہے۔ جان مادا، زندگی، انسان کی ذہانت ہے، جس کی انفرادیت ہوتی ہے لیکن مادے میں نہیں۔ جان روح سے کمتر کسی چیز کی عکاسی کبھی نہیں کر سکتی۔

2. 477 : 19-25

Question. — What are body and Soul?

Answer. — Identity is the reflection of Spirit, the reflection in multifarious forms of the living Principle, Love. Soul is the substance, Life, and intelligence of man, which is individualized, but not in matter. Soul can never reflect anything inferior to Spirit.

3۔ 13: 25۔32

الٰہی اصول، محبت سب کے باپ،جو بطور جسمانی خالق سامنے آتا ہے، سے متعلق انسان کی لاعلمی کی وجہ سے انسان خود کو محض جسمانی تصور کرتے ہیں، اور بطور خدا کی صورت یا شبیہ اور انسان کی ابدی غیر معمولی وجودیت سے بے خبر رہتے ہیں۔ غلطی کی دنیا سچائی کی دنیا سے لا علم ہے، انسانی وجودیت کی حقیقت سے اندھی ہے، کیونکہ احساس کی دنیا بدن کی بجائے جان میں زندگی سے متعلق آگاہی نہیں رکھتی۔

3. 13 : 25-32

Because of human ignorance of the divine Principle, Love, the Father of all is represented as a corporeal creator; hence men recognize themselves as merely physical, and are ignorant of man as God’s image or reflection and of man’s eternal incorporeal existence. The world of error is ignorant of the world of Truth, — blind to the reality of man’s existence, — for the world of sensation is not cognizant of life in Soul, not in body.

4۔ 62: 20۔ 1

اگر ہم دانشمند اور صحتمند ہیں تو ہمیں یہ ذہانت مادے کے ساتھ زیادہ سے زیادہ نہیں بلکہ کم سے کم منسوب کرنی چاہئے۔الٰہی عقل، جو شگوفے بناتا اور کھلاتا ہے، انسانی جسم کی حفاظت کرے گا، جیسے وہ سوسن کو ملبوس کرتا ہے؛ لیکن کسی بشر کو غلطی کے قوانین، انسانی نظریات کو زبردستی گھْساتے ہوئے خدا کی حکومت میں مداخلت نہ کرنے دیں۔

انسان کی بلند فطرت کسی کمتر کی حکمرانی میں نہیں ہے، اگر ایسا ہوتا تو دانش کی ترتیب اْلٹ ہوجاتی۔ زندگی سے متعلق ہمارے جھوٹے خیالات ابدی ہم آہنگی کو پوشیدہ رکھتے ہیں، اور وہ بیماریاں پیدا کرتے ہیں جن کی ہم شکایت کرتے ہیں۔ کیونکہ بشر مادی قوانین کو مانتے اور عقل کی سائنس کو رد کرتے ہیں، اس سے مادیت اول اور روح کا بلند قانون آخر نہیں ہوجاتا۔

4. 62 : 20-1

We must not attribute more and more intelligence to matter, but less and less, if we would be wise and healthy. The divine Mind, which forms the bud and blossom, will care for the human body, even as it clothes the lily; but let no mortal interfere with God’s government by thrusting in the laws of erring, human concepts.

The higher nature of man is not governed by the lower; if it were, the order of wisdom would be reversed. Our false views of life hide eternal harmony, and produce the ills of which we complain. Because mortals believe in material laws and reject the Science of Mind, this does not make materiality first and the superior law of Soul last.

5۔ 280: 25۔ 4

صحیح سمجھا جائے تو ایک حساس مادی صورت اپنانے کی بجائے، انسان ایک بے حس بدن لئے ہوئے ہے، اور خدا، جو انسان اور ساری مخلوق کی جان ہے،اپنی انفرادیت، ہم آہنگی اور لافانیت میں دائمی ہوتے ہوئے، منفرد رہتا اور انسان میں ان خوبیوں کو، عقل کے وسیلہ، نہ کہ مادے کے وسیلہ، متواتر رکھتا ہے۔انسانی خیالات پر غور کرنے اور ہستی کی سائنس کو رد کرنے کا صرف ایک عْذر روح سے متعلق ہماری لا علمی ہے، وہ لاعلمی جو صرف الٰہی سائنس کے ادراک کو تسلیم کرتی ہے، ایسا ادراک جس کے وسیلہ ہم زمین پر سچائی کی بادشاہت میں داخل ہوتے ہیں اور یہ سیکھتے ہیں کہ روح لامحدود اور نہایت اعلیٰ ہے۔

5. 280 : 25-4

Rightly understood, instead of possessing a sentient material form, man has a sensationless body; and God, the Soul of man and of all existence, being perpetual in His own individuality, harmony, and immortality, imparts and perpetuates these qualities in man, — through Mind, not matter. The only excuse for entertaining human opinions and rejecting the Science of being is our mortal ignorance of Spirit, — ignorance which yields only to the understanding of divine Science, the understanding by which we enter into the kingdom of Truth on earth and learn that Spirit is infinite and supreme.

6۔ 146: 6۔ 14، 20۔ 30

سکولوں نے خدائی پر ایمان کی بجائے، منشیات کے فیشن پر ایمان کو فروغ دیا ہے۔ مادے کے اپنے ہی مخالف کو تباہ کرنے کا یقین رکھتے ہوئے، صحت اور ہم آہنگی کو قربان کر دیا گیا ہے۔ اس قسم کے نظام روحانی قوت کی وحدت سے بنجر ہوتے ہیں، جس کے باعث مادی فہم سائنس کا غلام بنایا جاتا ہے اور مذہب مسیح کی مانند بن جاتا ہے۔

مادی دواخدا کی قوت کو منشیات سے تبدیل کرتی ہے، حتیٰ کہ انسانی طاقت سے بھی، تاکہ جسم کو شفا دے سکے۔۔۔۔ سائنس ”تیری بستیوں کا مسافر“ ہے، جسے یاد نہیں کیا جاتا حتیٰ کہ اس کے بلند و بالا اثرات اس کی الٰہی اصلیت اور افادیت کو عملی طور پر ثابت کرتے ہیں۔

الٰہی سائنس اس کی منظوری بائبل سے پاتی ہے، اور سائنس کی الٰہی اصلیت بیماری اور گناہ سے شفا کے دوران سچائی کے پاک اثر کے وسیلہ ظاہر کی جاتی ہے۔سچائی کی یہ شفائیہ قوت اْس دور سے بھی کہیں پیشتر سے ہے جب یسوع رہا کرتا تھا۔ یہ ”قدیم زمانوں“ جتنی پرانی ہے۔ یہ ازل سے رہتی ہے اور مکمل وسعت رکھتی ہے۔

6. 146 : 6-14, 20-30

The schools have rendered faith in drugs the fashion, rather than faith in Deity. By trusting matter to destroy its own discord, health and harmony have been sacrificed. Such systems are barren of the vitality of spiritual power, by which material sense is made the servant of Science and religion becomes Christlike.

Material medicine substitutes drugs for the power of God — even the might of Mind — to heal the body. … Science is the “stranger that is within thy gates,” remembered not, even when its elevating effects practically prove its divine origin and efficacy.

Divine Science derives its sanction from the Bible, and the divine origin of Science is demonstrated through the holy influence of Truth in healing sickness and sin. This healing power of Truth must have been far anterior to the period in which Jesus lived. It is as ancient as “the Ancient of days.” It lives through all Life, and extends throughout all space.

7۔ 309: 24۔ 32

ہستی کی سائنس اسے لامحدود روح یا جان کے لئے ناممکن پیش کرتی ہے کہ یہ ایک محدود جسم یا انسان کے لئے اْس کے خالق سے الگ کوئی ذہانت رکھے۔ یہ اسے فرض کرنے کے لئے خود کار گواہی ہے کہ نامیاتی حیوان یا سبزہ زار زندگی جیسی حقیقت موجود ہو سکتی ہے، جب یہ نام نہاد زندگی موت پر ختم ہو جاتی ہے۔زندگی کبھی ایک ہی لمحے میں نابود نہیں ہو تی۔ اس لئے یہ کبھی بناوٹی یا نامیاتی نہیں ہوتی، اور نہ کبھی اپنی ہی بناوٹ کے باعث محدود یا غرق ہوتی ہے۔

7. 309 : 24-32

The Science of being shows it to be impossible for infinite Spirit or Soul to be in a finite body or for man to have an intelligence separate from his Maker. It is a self-evident error to suppose that there can be such a reality as organic animal or vegetable life, when such so-called life always ends in death. Life is never for a moment extinct. Therefore it is never structural nor organic, and is never absorbed nor limited by its own formations.

8۔ 318: 28۔ 2

حکمران محکوم کے ماتحت کبھی نہیں ہوتا۔ سائنس میں انسان پر خدا، الٰہی اصول حکومت کرتا ہے، جیسے اعداد اْس کے قوانین سے قابو کئے جاتے اور ثابت کئے جاتے ہیں۔ ذہانت اعداد سے پیدا نہیں ہوتی، بلکہ ان کے وسیلہ ظاہر کی جاتی ہے۔ جسم میں جان شامل نہیں ہوتی، بلکہ یہ مادیت، جان کی جھوٹی حس کو ظاہر کرتی ہے۔ مادے میں زندگی ہے اس فریب نظری کا آسمانی زندگی کے ساتھ کوئی رشتہ نہیں ہے۔

8. 318 : 28-2

The governor is not subjected to the governed. In Science man is governed by God, divine Principle, as numbers are controlled and proved by His laws. Intelligence does not originate in numbers, but is manifested through them. The body does not include soul, but manifests mortality, a false sense of soul. The delusion that there is life in matter has no kinship with the Life supernal.

9۔ 350: 24۔ 27

”کلام مجسم ہوا۔“ اس سے قبل کی ہستی کی سائنس کو ظاہر کیا جاسکے الٰہی سچائی کو جسم پر اور اس کے ساتھ ساتھ ذہن پر اِس کے اثرات کے وسیلہ سے پہنچانے جاناچاہئے۔

9. 350 : 24-27

“The Word was made flesh.” Divine Truth must be known by its effects on the body as well as on the mind, before the Science of being can be demonstrated.

10۔ 251: 15۔ 27

ہمیں یہ سیکھنا چاہئے کہ انسان کیسے جسم پر حکمرانی کرتا ہے،آیا کہ حفظان صحت یا ادویات پر بھروسہ کرنے سے یا اپنی قوت ارادی کے باعث۔ ہمیں یہ سیکھنا چاہئے کہ آیا وہ بیماری اور موت، گناہ اور معافی کی ضرورت پر بھرو سہ کرنے سے حکمرانی کرتے ہیں یا اس بلند سمجھ سے حکمرانی کرتے ہیں کہ الٰہی عقل کامل بناتی ہے، سچائی کے وسیلہ نام نہاد انسانی سوچ ہر عمل کرتی ہے، انسانی سوچ کو تمام تر غلطی کو ترک کرنے کی ہدایت دیتی ہے، تاکہ وہ الٰہی عقل کو ہی واحد عقل اور گناہ، بیماری اور موت سے شفا دینے والا تسلیم کرے۔ بلند روحانی فہم کا یہ مرحلہ انسان کو سدھارے گا جب تک کہ غلطی غائب نہ ہو جائے، اور ایسا کچھ باقی نہیں بچتا جسے ہلاک کیا جا سکے یا سزا دی جا سکے۔

10. 251 : 15-27

We must learn how mankind govern the body, — whether through faith in hygiene, in drugs, or in willpower. We should learn whether they govern the body through a belief in the necessity of sickness and death, sin and pardon, or govern it from the higher understanding that the divine Mind makes perfect, acts upon the so-called human mind through truth, leads the human mind to relinquish all error, to find the divine Mind to be the only Mind, and the healer of sin, disease, death. This process of higher spiritual understanding improves mankind until error disappears, and nothing is left which deserves to perish or to be punished.

11۔ 326: 14۔ 15

جزوی نہیں بلکہ مکمل طور پر مادی سوچ کا عظیم شفا دینے والا جسم کو بھی شفا دینے والا ہے۔

11. 326 : 14-15

Not partially, but fully, the great is healer of mortal mind is the healer of the body.

12۔ 395: 6۔ 14

ایک بڑے نمونے کی مانند،روح کو جسمانی حواس کی جھوٹی گواہیوں پر حکومت کرنے اور بیماری اور فانیت پر دعووں کو جتانے کے لئے آزاد کرتے ہوئے، شفا دینے والے کو بیماری کے ساتھ بات کرنی چاہئے کیونکہ اْسے اْس پر اختیا رحاصل ہے۔ یہی اصول گناہ اور بیماری کو شفا دیتا ہے۔ جب الٰہی سائنس نفسانی سوچ کے ایمان پر اور اس ایمان پر قابو پا لیتی ہے کہ خدا پر یقین گناہ اور مادی شفائیہ طریقوں پر یقین کو نیست کردیتا ہے، تو گناہ، بیماری اور موت غائب ہو جائیں گے۔

12. 395 : 6-14

Like the great Exemplar, the healer should speak to disease as one having authority over it, leaving Soul to master the false evidences of the corporeal senses and to assert its claims over mortality and disease. The same Principle cures both sin and sickness. When divine Science overcomes faith in a carnal mind, and faith in God destroys all faith in sin and in material methods of healing, then sin, disease, and death will disappear.


روز مرہ کے فرائ

منجاب میری بیکر ایڈ

روز مرہ کی دعا

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ ہر روز یہ دعا کرے: ’’تیری بادشاہی آئے؛‘‘ الٰہی حق، زندگی اور محبت کی سلطنت مجھ میں قائم ہو، اور سب گناہ مجھ سے خارج ہو جائیں؛ اور تیرا کلام سب انسانوں کی محبت کو وافر کرے، اور اْن پر حکومت کرے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 4۔

مقاصد اور اعمال کا ایک اصول

نہ کوئی مخالفت نہ ہی کوئی محض ذاتی وابستگی مادری چرچ کے کسی رکن کے مقاصد یا اعمال پر اثر انداز نہیں ہونی چاہئے۔ سائنس میں، صرف الٰہی محبت حکومت کرتی ہے، اور ایک مسیحی سائنسدان گناہ کو رد کرنے سے، حقیقی بھائی چارے ، خیرات پسندی اور معافی سے محبت کی شیریں آسائشوں کی عکاسی کرتا ہے۔ اس چرچ کے تمام اراکین کو سب گناہوں سے، غلط قسم کی پیشن گوئیوں،منصفیوں، مذمتوں، اصلاحوں، غلط تاثر ات کو لینے اور غلط متاثر ہونے سے آزاد رہنے کے لئے روزانہ خیال رکھنا چاہئے اور دعا کرنی چاہئے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 1۔

فرض کے لئے چوکس

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ وہ ہر روز جارحانہ ذہنی آراء کے خلاف خود کو تیار رکھے، اور خدا اور اپنے قائد اور انسانوں کے لئے اپنے فرائض کو نہ کبھی بھولے اور نہ کبھی نظر انداز کرے۔ اس کے کاموں کے باعث اس کا انصاف ہوگا، وہ بے قصور یا قصوارہوگا۔ 

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 6۔


████████████████████████████████████████████████████████████████████████