اتوار 28جولائی، 2019 |

اتوار 28جولائی، 2019



مضمون۔ حق

SubjectTruth

سنہری متن:سنہری متن: 3یوحنا 4آیت

’’میرے لئے اس سے بڑھ کر اور کوئی خوشی نہیں کہ مَیں اپنے فرزندوں کو حق پر چلتے ہوئے سْنوں۔‘‘



Golden Text: III John : 4

I have no greater joy than to hear that my children walk in truth.





سبق کی آڈیو کے لئے یہاں کلک کریں

یوٹیوب سے سننے کے لئے یہاں کلک کریں

████████████████████████████████████████████████████████████████████████


جوابی مطالعہ: زبور 100: 1تا5آیات


1۔اے اہلِ زمین!سب خداوند کے حضور خوشی کا نعرہ مارو۔

2۔خوشی سے خداوند کی عبادت کرو۔ گاتے ہوئے اْس کے حضور ہو۔

3۔ جان رکھو کہ خداوند ہی خدا ہے۔ اْسی نے ہم کو بنایا اور ہم اْسی کے ہیں۔ ہم اْس کے لوگ اور اْس کی چراہگاہ کی بھیڑیں ہیں۔

4۔ شکرگزاری کرتے ہوئے اْس کے پھاٹکوں میں اور حمد کرتے ہوئے اْس کی بارگاہوں میں داخل ہو۔اْس کا شکر کرو اور اْس کے نام کو مبارک کہو۔

5۔ کیونکہ خداوند بھلا ہے اْس کی شفقت ابدی ہے اور اْس کی وفاداری پشت در پشت رہتی ہے۔

Responsive Reading: Psalm 100 : 1-5

1.     Make a joyful noise unto the Lord, all ye lands.

2.     Serve the Lord with gladness: come before his presence with singing.

3.     Know ye that the Lord he is God: it is he that hath made us, and not we ourselves; we are his people, and the sheep of his pasture.

4.     Enter into his gates with thanksgiving, and into his courts with praise: be thankful unto him, and bless his name.

5.     For the Lord is good; his mercy is everlasting; and his truth endureth to all generations.



درسی وعظ



بائبل


درسی وعظ

بائبل

1۔ یوحنا 8باب32آیت

32۔ اور تم سچائی سے واقف ہو گے اور سچائی تم کو آزاد کرے گی۔

1. John 8 : 32

32     And ye shall know the truth, and the truth shall make you free.

2۔ 1سلاطین 18باب20تا39آیات

20۔ سو اخی اب نے سب بنی اسرائیل کو بلا بھیجا اور نبیوں کو کوہِ کرمل پر اکٹھا کیا۔

21۔ اور ایلیاہ سب لوگوں کے نزدیک آکر کہنے لگا تم کب تک دو خیالوں میں ڈانواڈول رہو گے؟ اگر خداوند ہی خدا ہے تو اُس کے پیرو ہو جاو اور اگر بعل ہے تو اُس کی پیروی کرو۔ پر اُن لوگوں نے اُسے ایک حرف جواب نہ دیا۔

22۔ تب ایلیاہ نے اُن لوگوں سے کہا ایک میں ہی اکیلا خداوند کا نبی بچ رہا ہوں پر بعل کے نبی چار سو پچاس آدمی ہیں۔

23۔ سو ہم کو دو بیل دیے جائیں اور وہ اپنے لیے ایک بیل چن لیں اور اُسے ٹکڑے ٹکڑے کاٹ کر لکڑیوں پر دھریں اور نیچے آگ نہ دیں اور میں دوسرا بیل تیار کر کے اُسے لکڑیوں پر دھروں گا اور نیچے آگ نہیں دوں گا۔

24۔ تب تم اپنے دیوتا سے دعا کرنا اور میں خداوند سے دعا کروں گا اور وہ خدا جو آگ سے جواب دےوہی خدا ٹھہرے اور سب لوگ بول اٹھے خوب کہا!۔

25۔ سو ایلیاہ نے بعل کے نبیوں سے کہا کہ تم اپنے لیے ایک بیل چن لو اور پہلے اُسے تیار کرو کیونکہ تم بہت سے ہو اور اپنے دیوتا سے دعا کرو لیکن نیچے آگ نہ دینا۔

26۔ سو انہوں نے اُس بیل کو لیکر جو اُن کو دیا گیا اُسے تیار کیا اور صبح سے دوپہر تک بعل سے دعا کرتے اور کہتے رہے اے بعل ہماری سن پر نہ کچھ آواز ہوئی اور نہ کوئی جواب دینے والا تھا اور وہ اُس مذبح کے گرد جو بنایا گیا تھا کودتے رہے۔

27۔اور دوپہر کو ایسا ہوا کہ ایلیاہ نے اُنکو چڑا کر کہا بلند آواز سے پکارو کیونکہ وہ تو دیوتا ہے۔ وہ کسی سوچ میں ہو گا یا وہ خلوت میں ہے یا کہیں سفر میں ہو گا یا شاید وہ سوتا ہے۔ سو ضرور ہے کہ وہ جگایا جائے۔

28۔ تب وہ بلند آواز سے پکارنے لگے اور اپنے دستور کے مطابق اپنے آپ کو چھریوں اور نشتروں سے گھائل کر لیا یہاں تک کہ لہو لہان ہو گئے۔

29۔وہ دوپہر ڈھلے پر بھی شام کی قربانی چڑھا کر نبوت کرتے رہے پر نہ کچھ آواز ہوئی نہ کوئی جواب دینے والا نہ توجہ کرنے والا تھا۔

30۔ تب ایلیاہ نے سب لوگوں سے کہا کہ میرے نزدک آجاؤ چنانچہ سب لوگ اُس کے نزدیک آ گئے۔ تب اُس نے خداوند کے اُس مذبح کو جو ڈھا دیا گیا تھا مرمت کیا۔

31۔اور ایلیاہ نے یعقوب کے بیٹوں کے قبیلوں کے شمار کے مطابق جس پر خداوند کا یہ کلام نازل ہوا تھا کہ تیرا نام اسرائیل ہو گا بارہ پتھر لیے۔

32۔ اور اُس نے اُن پتھروں سے خداوند کے نام کا ایک مذبح بنایا اور مذبح کے اردگرد اُس نے ایسی بڑی کھائی کھودی جس میں دو پیمانے بیج کی سمائی تھی۔

33۔اور لکڑیوں کو قرینہ سے چنا اور بیل کے ٹکڑے ٹکڑے کاٹ کر لکڑیوں پر دھر دیا اور کہا چار مٹکے پانی سے بھر کر اُس سوختنی قربانی پر اور لکڑیوں پر انڈیل دو۔

34۔ پھر اُس نے کہا دوبارہ کرو۔ انہوں نے دوبارہ کیا۔ پھر اُس نے کا سہ بار کرو۔ سو انہوں نے سہ بار بھی کیا۔

35۔اور پانی مذبح کے گردا گرد بہنے لگا اور اُس نے کھائی بھی پانی سے بھروا دی۔

36۔اور شام کی قربانی چڑھانے کے وقت ایلیاہ نبی نزدیک آیا اور اُس نے کہا اے خداوند ابراہام اور اضحاق اور اسرائیل کے خدا! آج معلوم ہو جائے کہ اسرائیل میں تو ہی خدا ہے اور میں تیرا بندہ ہوں اور میں نے اِن سب باتوں کو تیرے ہی حکم سے کیا ہے۔

37۔ میری سن اے خداوند میری سن تاکہ یہ لوگ جان جائیں کہ اے خداوند تو ہی خدا ہے اورتو نے پھر اُن کے دلوں کو پھیر دیا ہے۔

38۔ تب خداوند کی آگ نازل ہوئی اور اُس نے اُس سوختنی قربانی کو لکڑیوں اور پتھروں اور مٹی سمیت بھسم کر دیا اور اُس پانی کو جو کھائی میں تھا چاٹ لیا۔

39۔ جب سب لوگوں نے یہ دیکھا تو منہ کے بل گرے اور کہنے لگے خداوند وہی خدا ہے! خداوند وہی خدا ہے!۔

2. I Kings 18 : 20-39

20     So Ahab sent unto all the children of Israel, and gathered the prophets together unto mount Carmel.

21     And Elijah came unto all the people, and said, How long halt ye between two opinions? if the Lord be     God, follow him: but if Baal, then follow him. And the people answered him not a word.

22     Then said Elijah unto the people, I, even I only, remain a prophet of the Lord; but Baal’s prophets are four hundred and fifty men.

23     Let them therefore give us two bullocks; and let them choose one bullock for themselves, and cut it in pieces, and lay it on wood, and put no fire under: and I will dress the other bullock, and lay it on wood, and put no fire under:

24     And call ye on the name of your gods, and I will call on the name of the Lord: and the God that answereth by fire, let him be God. And all the people answered and said, It is well spoken.

25     And Elijah said unto the prophets of Baal, Choose you one bullock for yourselves, and dress it first; for ye are many; and call on the name of your gods, but put no fire under.

26     And they took the bullock which was given them, and they dressed it, and called on the name of Baal from morning even until noon, saying, O Baal, hear us. But there was no voice, nor any that answered. And they leaped upon the altar which was made.

27     And it came to pass at noon, that Elijah mocked them, and said, Cry aloud: for he is a god; either he is talking, or he is pursuing, or he is in a journey, or peradventure he sleepeth, and must be awaked.

28     And they cried aloud, and cut themselves after their manner with knives and lancets, till the blood gushed out upon them.

29     And it came to pass, when midday was past, and they prophesied until the time of the offering of the evening sacrifice, that there was neither voice, nor any to answer, nor any that regarded.

30     And Elijah said unto all the people, Come near unto me. And all the people came near unto him. And he repaired the altar of the Lord that was broken down.

31 And Elijah took twelve stones, according to the number of the tribes of the sons of Jacob, unto whom the word of the Lord came, saying, Israel shall be thy name:

32     And with the stones he built an altar in the name of the Lord: and he made a trench about the altar, as great as would contain two measures of seed.

33     And he put the wood in order, and cut the bullock in pieces, and laid him on the wood, and said, Fill four barrels with water, and pour it on the burnt sacrifice, and on the wood.

34     And he said, Do it the second time. And they did it the second time. And he said, Do it the third time. And they did it the third time.

35     And the water ran round about the altar; and he filled the trench also with water.

36     And it came to pass at the time of the offering of the evening sacrifice, that Elijah the prophet came near, and said, Lord God of Abraham, Isaac, and of Israel, let it be known this day that thou art God in Israel, and that I am thy servant, and that I have done all these things at thy word.

37     Hear me, O Lord, hear me, that this people may know that thou art the Lord God, and that thou hast turned their heart back again.

38     Then the fire of the Lord fell, and consumed the burnt sacrifice, and the wood, and the stones, and the dust, and licked up the water that was in the trench.

39     And when all the people saw it, they fell on their faces: and they said, The Lord, he is the God; the Lord, he is the God.

3۔ متی 4باب23آیت

23۔ اور یسوع تمام گلیل میں پھرتا رہا اور اْن کے عبادت خانوں میں تعلیم دیتا اور بادشاہی کی خوشخبری کی منادی کرتا اور لوگوں کی ہر طرح کی بیماری اور ہر طرح کی کمزوری کو دور کرتا رہا۔

3. Matthew 4 : 23

23 And Jesus went about all Galilee, teaching in their synagogues, and preaching the gospel of the kingdom, and healing all manner of sickness and all manner of disease among the people.

4۔ متی 9باب18تا25آیات

18۔وہ اْن سے یہ باتیں کہہ ہی رہا تھا کہ دیکھو ایک سردار نے آکر اْسے سجدہ کیا اور کہا کہ میری بیٹی ابھی مری اے لیکن تو چل کر اپنا ہاتھ اْس پر رکھ تو وہ زندہ ہو جائے گی۔

19۔ یسوع اٹھ کر اپنے شاگردوں سمیت اُس کے پِیچھے ہولیا۔

20۔ اور دیکھو ایک عورت نے جِس کے بارہ برس سے خون جاری تھا اُس کے پِیچھے آ کر اُس کی پوشاک کا کنارہ چھوا۔

21۔ کیونکہ وہ اپنے جی میں کہتی تھی کہ اگر صرف اُس کی پوشاک ہی چھو لوں گی تو اچھی ہو جاؤں گی۔

22۔ یسوع نے پھر کر اُسے دیکھا اور کہا بیٹی خاطر جمع رکھ۔ تیرے ایمان نے تجھے اچھا کر دیا۔ پس وہ عورت اُسی گھڑی اچھی ہو گئی۔

23۔ اور جب یسوع سردار کے گھر میں آیا اور بانسلی بجانے والوں کو اور بھیڑ کوغل مچاتے دیکھا۔

24۔ تو کہا ہٹ جاؤ کیونکہ لڑکی مری نہیں بلکہ سوتی ہے۔ وہ اُس پر ہنسنے لگے۔

25۔ مگر جب بھیڑ نکال دی گئی تو اُس نے اندر جا کر اُس کا ہاتھ پکڑا اور لڑکی اُٹھی۔

4. Matthew 9 : 18-25

18     While he spake these things unto them, behold, there came a certain ruler, and worshipped him, saying, My daughter is even now dead: but come and lay thy hand upon her, and she shall live.

19     And Jesus arose, and followed him, and so did his disciples.

20     And, behold, a woman, which was diseased with an issue of blood twelve years, came behind him, and touched the hem of his garment:

21     For she said within herself, If I may but touch his garment, I shall be whole.

22 But Jesus turned him about, and when he saw her, he said, Daughter, be of good comfort; thy faith hath made thee whole. And the woman was made whole from that hour.

23 And when Jesus came into the ruler’s house, and saw the minstrels and the people making a noise,

24     He said unto them, Give place: for the maid is not dead, but sleepeth. And they laughed him to scorn.

25     But when the people were put forth, he went in, and took her by the hand, and the maid arose.

5۔ یسعیاہ 25باب1، 9 آیات

1۔ اے خداوند تْو میرا خدا ہے۔ مَیں تیری تمجید کروں گا۔ تیرے نام کی ستائش کروں گا کیونکہ تْو نے عجیب کام کئے ہیں تیری مصلحتیں قدیم سے سچائی اور وفاداری ہیں۔

9۔ اور اْس وقت یوں کہا جائے گا کہ لو یہ ہمارا خدا ہے۔ ہم اْس کی راہ تکتے تھے اور وہی ہمیں بچائے گا۔ یہ خداوند ہے اور ہم اْس کے انتظار میں تھے اور ہم اْس کی نجات سے خوش و خرم ہوں گے۔

5. Isaiah 25 : 1, 9

1     O Lord, thou art my God; I will exalt thee, I will praise thy name; for thou hast done wonderful things; thy counsels of old are faithfulness and truth.

9     And it shall be said in that day, Lo, this is our God; we have waited for him, and he will save us: this is the Lord; we have waited for him, we will be glad and rejoice in his salvation.

6۔ زبور117: 1، 2 آیات

1۔ اے قوموں سب خداوند کی حمد کرو۔ اے امتوْ سب اْس کی ستائش کرو۔

2۔ کیونکہ ہم پر اْس کی بڑی شفقت ہے۔ اور خداوند کی سچائی ابدی ہے۔ خداوند کی حمد کرو۔

6. Psalm 117 : 1, 2

1     O praise the Lord, all ye nations: praise him, all ye people.

2 For his merciful kindness is great toward us: and the truth of the Lord endureth for ever. Praise ye the Lord



سائنس اور صح


1۔ 493 :1 (کرسچن سائنس) 2، 6۔8

کرسچن سائنس برق رفتاری سے سچائی کی فتح مندی دکھاتی ہے۔ ۔۔۔جسمانی فہم اور جسمانی فہم سے حاصل ہونے والے سارے،علم غیر فانی سچائی کی تمام تر چیزوں کے لئے سائنس قابل قبول ہونی چاہئے۔

1. 493 : 1 (Christian Science)-2, 6-8

Christian Science speedily shows Truth to be triumphant. … All the evidence of physical sense and all the knowledge obtained from physical sense must yield to Science, to the immortal truth of all things.

2۔ 494 :25۔29

انسان سے متعلق ان دونظریات میں سے آپ کسے قبول کرنے کے لئے تیار ہیں؟ ایک فانی گواہی ہے جو تبدیل ہوتی، مرتی اور غیر حقیقی ہے۔ دوسری ابدی اور حقیقی شہادت ہے، جس پر سچائی کی مہر ثبت ہے، اِس کی گود لافانی پھلوں سے لدی ہوئی ہے۔

2. 494 : 25-29

Which of these two theories concerning man are you ready to accept? One is the mortal testimony, changing, dying, unreal. The other is the eternal and real evidence, bearing Truth’s signet, its lap piled high with immortal fruits.

3۔ 367 :30۔32

کیونکہ سچائی لامتناہی، غلطی کو عدم سمجھا جانا چاہئے۔ کیونکہ سچائی اچھائی میں قادر مطلق ہے، غلطی سچائی کے مخالف، کوئی طاقت نہیں رکھتی۔

3. 367 : 30-32

Because Truth is infinite, error should be known as nothing. Because Truth is omnipotent in goodness, error, Truth’s opposite, has no might.

4۔ 368 :2۔5

سائنس سے متحرک اعتماد اس حقیقت میں پنہاں ہے کہ سچائی حقیقی ہے اور غلطی غیر حقیقی ہے۔ غلطی سچائی کے سامنے بزدل ہے۔

4. 368 : 2-5

The confidence inspired by Science lies in the fact that Truth is real and error is unreal. Error is a coward before Truth.

5۔ 82 :31۔11

طاقت کی عظیم تر ترقی کی جانب تیزی سے بڑھتے ہوئے گناہ اور عیاشی کی دنیا میں اس بات پرتوجہ سے غور کرنا عقلمندی ہے کہ آیامتاثر کرنے والی عقل انسانی ہے یا الٰہی۔ جو کام یہواہ کے انبیاء نے کیا وہ بعل کے پرستار کرنے میں ناکام رہے، تاہم چالاکی اور فریب نظری نے یہ دعویٰ کیا کہ وہ حکمت کے کاموں کے مساوی کر سکتے تھے۔

سائنس محض ناقابل یقین اچھائی اور بدی کے عناصر کو واضح کر سکتی ہے جو سامنے آرہے ہیں۔ ان بعد کے ایام سے بچنے کے لئے انسانوں کو سچائی میں پناہ لینی چاہئے۔ ادراک کے بنا ایک اندھا یقین رکھنے سے کرسچن سائنس کے مخالف کچھ نہیں، یعنی ایسا اندھا یقین جو سچائی کو پوشیدہ کرتا اور غلطی کو تعمیر کرتا ہے۔

5. 82 : 31-11

In a world of sin and sensuality hastening to a greater development of power, it is wise earnestly to consider whether it is the human mind or the divine Mind which is influencing one. What the prophets of Jehovah did, the worshippers of Baal failed to do; yet artifice and delusion claimed that they could equal the work of wisdom.

Science only can explain the incredible good and evil elements now coming to the surface. Mortals must find refuge in Truth in order to escape the error of these latter days. Nothing is more antagonistic to Christian Science than a blind belief without understanding, for such a belief hides Truth and builds on error.

6۔ 380 :5۔7، 28۔31

سچائی زمانوں کا پتھر، کونے کے سرے کا پتھر ہے، ”لیکن جس پر وہ گِرے گا اْسے پیس ڈالے گا۔“

یہ یقین کرنے سے بڑھ کر کچھ بھی مایوس کْن نہیں کہ خدا، اچھائی کے مخالف ایک طاقت ہے، اور یہ کہ خدا اس مخالفت کو طاقت بخشتا ہے کہ خود کے خلاف، زندگی، صحت اور ہم آہنگی کے خلاف اس قوت کو استعمال کیا جا سکے۔

6. 380 : 5-7, 28-31

Truth is the rock of ages, the headstone of the corner, “but on whomsoever it shall fall, it will grind him to powder.”

Nothing is more disheartening than to believe that there is a power opposite to God, or good, and that God endows this opposing power with strength to be used against Himself, against Life, health, harmony.

7۔ 372 :26۔32

کرسچن سائنس میں، سچائی سے انکار جان لیوا ہے، جبکہ سچائی کا ایک عادل اعتراف اور جو کچھ اس سچائی نے ہمارے لئے کیا ہے ایک موثر مدد ہے۔ اگر تکبر،توہم پرستی یا کوئی بھی غلطی حاصل ہونے والے فوائد کی ایماندار پہچان کو روکتے ہیں تو یہ بیمار کی شفا یابی اور طالب علم کی کامیابی میں ایک رکاوٹ ہوگی۔

7. 372 : 26-32

In Christian Science, a denial of Truth is fatal, while a just acknowledgment of Truth and of what it has done for us is an effectual help. If pride, superstition, or any error prevents the honest recognition of benefits received, this will be a hindrance to the recovery of the sick and the success of the student.

8۔ 191 :30۔32

عقل کا مادے کے ساتھ کوئی واسطہ نہیں ہے، اور اسی لئے سچائی بدن کی بیماریوں کو دور کرنے کے قابل ہے۔

8. 191 : 30-32

Mind has no affinity with matter, and therefore Truth is able to cast out the ills of the flesh.

9۔ 458 :14۔19

الوہیت ہمیشہ تیار رہتی ہے۔ سپریم پیراٹس سچائی کا اصولِ عمل ہے۔ عطائی علاج کی بدولت بہت سی تکالیف اٹھانے کے بعدمصنف اسے کرسچن سائنس سے الگ رکھنے کا خواہاں ہے۔ ”زندگی کے درخت“ کی حفاظت کرنے کے لئے سچائی کی دو دھاری تلوار کو ہر سمت پھرنا چاہئے۔

9. 458 : 14-19

Divinity is always ready. Semper paratus is Truth’s motto. Having seen so much suffering from quackery, the author desires to keep it out of Christian Science. The two-edged sword of Truth must turn in every direction to guard “the tree of life.”

10۔ 25 :13۔16

یسوع نے اظہار کی بدولت زندگی کا طریقہ کار سکھایا، تاکہ ہم یہ سمجھ سکیں کہ کیسے الٰہی اصول بیمار کو شفادیتا، غلطی کو باہر نکالتا اور موت پر فتح مند ہوتا ہے۔

10. 25 : 13-16

Jesus taught the way of Life by demonstration, that we may understand how this divine Principle heals the sick, casts out error, and triumphs over death.

11۔ 229 :23۔10

اگر خدا بیماری کا موجب بنتا تو بیماری اچھی ہوتی اور اس کی مخالف صحت، بْری ہوتی، کیونکہ وہ سب کچھ جو وہ خلق کرتا ہے اچھا ہے اور وہ ہمیشہ قائم رہتا ہے۔ اگر خدا کی شریعت سے بغاوت بیماری پیدا کرتی ہے، تو بیمار ہونا ٹھیک ہے، اور ہم چاہ کر بھی حکمت کے احکامات کو رد نہیں کر سکتے اور کر سکنے کے باوجود ہمیں یہ نہیں کرنا چاہئے۔ یہ فانی عقل کے یقین کی بغاوت ہی ہے جو بیماری کے یقین کی وجہ بنتی ہے،نہ کہ مادے کے قانون اور نہ ہی الٰہی عقل کے خلاف بغاوت ہے۔ علاج سچائی ہے نہ کہ مادا، یعنی یہ سچائی کہ بیماری غیر حقیقی ہے۔

اگر بیماری حقیقی ہے،تو یہ لافانیت سے تعلق رکھتی ہے؛ اگر سچی ہے تو یہ سچائی سے تعلق رکھتی ہے۔ کیا آپ منشیات کے ساتھ یا بِنا سچائی کے معیار یا حالت کو نیست کرنے کی کوشش کر یں گے؟لیکن اگر بیماری یا گناہ فریب نظری ہیں، تو اس فانی خواب یا دھوکے سے بیدار ہونا ہمارے لئے صحت، پاکیزگی اور لافانیت پیدا کرے گا۔یہ بیداری مسیح کی ہمیشہ کے لئے آمد ہے، یعنی سچائی کا ترقی یافتہ ظہور، جو غلطی کو دور کرتا اور بیمار کو شفا دیتا ہے۔یہ وہ نجات ہے جو خدا، الٰہی اصول، محبت کی جانب سے آتی ہے، جس کا اظہار یسوع نے کیا۔

11. 229 : 23-10

If God causes man to be sick, sickness must be good, and its opposite, health, must be evil, for all that He makes is good and will stand forever. If the transgression of God’s law produces sickness, it is right to be sick; and we cannot if we would, and should not if we could, annul the decrees of wisdom. It is the transgression of a belief of mortal mind, not of a law of matter nor of divine Mind, which causes the belief of sickness. The remedy is Truth, not matter, — the truth that disease is unreal.

If sickness is real, it belongs to immortality; if true, it is a part of Truth. Would you attempt with drugs, or without, to destroy a quality or condition of Truth? But if sickness and sin are illusions, the awakening from this mortal dream, or illusion, will bring us into health, holiness, and immortality. This awakening is the forever coming of Christ, the advanced appearing of Truth, which casts out error and heals the sick. This is the salvation which comes through God, the divine Principle, Love, as demonstrated by Jesus.

12۔ 271 :7۔10

یسوع نے اپنے شاگردوں کو ہدایت دی جس کے مطابق بیمار کو مادے کی بجائے عقل کے وسیلہ شفا دینا ہوگی۔ وہ جانتا تھا کہ پوری غیر ہم آہنگی کو دور کرتے ہوئے مسیحت کا فلسفہ، سائنس اور ثبوت سچائی میں ہے۔

12. 271 : 7-10

Jesus instructed his disciples whereby to heal the sick through Mind instead of matter. He knew that the philosophy, Science, and proof of Christianity were in Truth, casting out all inharmony.

13۔ 231 :3۔11

جب تک ایک بیماری کے ساتھ سچائی کے وسیلہ درست طور پر نپٹا اور مناسب طورپراسے فتح نہ کیا جائے، بیماری پر کبھی قابو نہیں پایا جا سکتا۔ اگر خدا گناہ، بیماری اور موت کو تباہ نہیں کرتا تو وہ بشری عقل میں تباہ نہیں ہوتے، بلکہ اس نام نہاد عقل کو لافانی دکھائی دینے لگتے ہیں۔ جو خدا نہیں کرسکتا انسان کو وہ کام کرنے کی کوشش کرنے کی بھی ضرورت نہیں۔ اگر خدا ہی بیمار کو شفا نہیں دیتا، تو وہ شفا یاب نہیں ہوسکتے، کیونکہ کوئی کمتر قوت لامتناہی قادر مطلق کی قوت کے برابرنہیں؛ بلکہ خدا، حق، زندگی، محبت، بیمار کو راستبازوں کی دعاؤں کے وسیلہ شفا دیتا ہے۔

13. 231 : 3-11

Unless an ill is rightly met and fairly overcome by Truth, the ill is never conquered. If God destroys not sin, sickness, and death, they are not destroyed in the mind of mortals, but seem to this so-called mind to be immortal. What God cannot do, man need not attempt. If God heals not the sick, they are not healed, for no lesser power equals the infinite All-power; but God, Truth, Life, Love, does heal the sick through the prayer of the righteous.

14۔ 412 :13۔18

کرسچن سائنس اور الٰہی محبت کی طاقت قادر مطلق ہے۔ در حقیقت گرفت کو ڈھیلا کرنا اور بیماری، موت اور گناہ کو نیست کرنا جائزہے۔

بیماری کے تدارک یا اِس کے علاج کے لئے سچائی، الٰہی روح کی قدرت کو مادی حواس کے خواب کو توڑنا چاہئے۔

14. 412 : 13-18

The power of Christian Science and divine Love is omnipotent. It is indeed adequate to unclasp the hold and to destroy disease, sin, and death.

To prevent disease or to cure it, the power of Truth, of divine Spirit, must break the dream of the material senses.

15۔ 406 :20 (ہم)۔25

ہم سچائی پر غلطی، زندگی پر موت اور اچھائی پر بدی کی فوقیت کی ہر سمت میں خود کو دستیاب رکھنے کے لئے بہت اونچا کرسکتے، اور بالاآخر کریں گے، اور یہ ترقی تب تک جاری رہے گی جب تک ہم خدا کے خیال کی کاملیت تک نہیں پہنچتے اور اس بات کا مزید کوئی خوف نہیں رکھتے کہ ہم بیمار ہوں گے یا مر جائیں گے۔

15. 406 : 20 (We)-25

We can, and ultimately shall, so rise as to avail ourselves in every direction of the supremacy of Truth over error, Life over death, and good over evil, and this growth will go on until we arrive at the fulness of God’s idea, and no more fear that we shall be sick and die.

16۔ 545 :27۔30

سچائی کا غلطی، گناہ، بیماری اور موت کو صرف ایک ہی جواب ہے:”تو خاک (عدم) ہے اور خاک(عدم) ہی میں لوٹ جائے گا۔“

16. 545 : 27-30

Truth has but one reply to all error, — to sin, sickness, and death: “Dust [nothingness] thou art, and unto dust [nothingness] shalt thou return.”

17۔ 538 :3۔10

سچائی خودی میں سے غلطی کوباہر نکالتی اور نکالنی چاہئے۔سچائی حفاظت کرتی اور راہنمائی کرتی ہوئی دودھاری تلوارہے۔سچائی فہم کے دروازے پر فرشتوں کی حکمت کھڑی کرتی ہے تاکہ درست مہمانوں کا اندراج کرے۔

رحم اور عدل سے منورسچائی کی تلوار دور دراز تک چمکتی اور سچائی اور غلطی کے مابین، مادی اور روحانی کے مابین، حقیقی اور غیر حقیقی کے مابین لامحدود فاصلے کی جانب اشارہ کرتی ہے۔

17. 538 : 3-10

Truth should, and does, drive error out of all selfhood. Truth is a two-edged sword, guarding and guiding. Truth places the cherub wisdom at the gate of understanding to note the proper guests. Radiant with mercy and justice, the sword of Truth gleams afar and indicates the infinite distance between Truth and error, between the material and spiritual— the unreal and the real.

18۔ 293 :28۔31

کرسچن سائنس سچائی اور اِس کی عظمت، عالمگیر ہم آہنگی، خدا کی کاملیت، اچھائی اور بدی کے عدم کو روشنی میں لاتی ہے۔

18. 293 : 28-31

Christian Science brings to light Truth and its supremacy, universal harmony, the entireness of God, good, and the nothingness of evil.

19۔ 380 :4 صرف

سچائی ہمیشہ فتح مند رہی ہے۔

19. 380 : 4 only

Truth is always the victor.


روز مرہ کے فرائ

منجاب میری بیکر ایڈ

روز مرہ کی دعا

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ ہر روز یہ دعا کرے: ’’تیری بادشاہی آئے؛‘‘ الٰہی حق، زندگی اور محبت کی سلطنت مجھ میں قائم ہو، اور سب گناہ مجھ سے خارج ہو جائیں؛ اور تیرا کلام سب انسانوں کی محبت کو وافر کرے، اور اْن پر حکومت کرے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 4۔

مقاصد اور اعمال کا ایک اصول

نہ کوئی مخالفت نہ ہی کوئی محض ذاتی وابستگی مادری چرچ کے کسی رکن کے مقاصد یا اعمال پر اثر انداز نہیں ہونی چاہئے۔ سائنس میں، صرف الٰہی محبت حکومت کرتی ہے، اور ایک مسیحی سائنسدان گناہ کو رد کرنے سے، حقیقی بھائی چارے ، خیرات پسندی اور معافی سے محبت کی شیریں آسائشوں کی عکاسی کرتا ہے۔ اس چرچ کے تمام اراکین کو سب گناہوں سے، غلط قسم کی پیشن گوئیوں،منصفیوں، مذمتوں، اصلاحوں، غلط تاثر ات کو لینے اور غلط متاثر ہونے سے آزاد رہنے کے لئے روزانہ خیال رکھنا چاہئے اور دعا کرنی چاہئے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 1۔

فرض کے لئے چوکس

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ وہ ہر روز جارحانہ ذہنی آراء کے خلاف خود کو تیار رکھے، اور خدا اور اپنے قائد اور انسانوں کے لئے اپنے فرائض کو نہ کبھی بھولے اور نہ کبھی نظر انداز کرے۔ اس کے کاموں کے باعث اس کا انصاف ہوگا، وہ بے قصور یا قصوارہوگا۔ 

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 6۔


████████████████████████████████████████████████████████████████████████