اتوار 28مارچ،2021



مضمون۔ حقیقت

SubjectReality

سنہری متن: یسعیاہ 64 باب4 آیت

”کیونکہ ابتدا ہی سے نہ کسی نے سنا نہ کسی کے کان تک پہنچا اور نہ آنکھوں نے تیرے سوا ایسے خدا کو دیکھا جو اپنے انتظار کرنے والوں کے لئے کچھ کر دکھائے۔“



Golden Text: Isaiah 64 : 4

Since the beginning of the world men have not heard, nor perceived by the ear, neither hath the eye seen, O God, beside thee, what he hath prepared for him that waiteth for him.





سبق کی آڈیو کے لئے یہاں کلک کریں

یوٹیوب سے سننے کے لئے یہاں کلک کریں

████████████████████████████████████████████████████████████████████████


جوابی مطالعہ: یسعیاہ 43 باب 1، 2، 4تا7 آیات


1۔ اور اب اے یعقوب! خداوند جس نے تجھ کو پیدا کیا اور جس نے اے اسرائیل تجھ کو بنایا یوں فرماتا ہے کہ خوف نہ کر کیونکہ مَیں نے تیرا فدیہ دیا ہے۔ مَیں نے تیرا نام لے کر تجھے بلایا ہے تْو میرا ہے۔

2۔ جب تْو سیلاب میں سے گزرے تو مَیں تیرے ساتھ ہوں گا اور جب تْو ندیوں میں سے گزرے تو وہ تجھے نہ ڈبائیں گی۔ جب تْو آگ پر چلے گا تو تجھے آنچ نہ لگے گی اور شعلہ تجھے نہ جلائے گا۔

4۔ چونکہ تْو میری نگاہ میں بیش قیمت اور مکرم ٹھہرا اور مَیں نے تجھ سے محبت رکھی اِس لئے مَیں تیرے بدلے لوگ اور تیری جان کے بدلے میں امتیں دے دوں گا۔

5۔تْو خوف نہ کر کیونکہ مَیں تیرے ساتھ ہوں۔ مَیں تیری قوم کو مشرق سے لے آؤں گا اور مغرب سے تجھے فراہم کروں گا۔

6۔ مَیں شمال سے کہوں گا کہ دے ڈال اور جنوب سے کہ رکھ نہ چھوڑ۔ میرے بیٹوں کو دور سے اور میرے بیٹیوں کو زمین کی انتہا سے لاؤ۔

7۔ ہر ایک کو جو میرے نام سے کہلاتا ہے اور جس کو مَیں نے اپنے جلال کے لئے خلق کیا جسے مَیں نے پیدا کیا ہاں جسے مَیں ہی نے بنایا۔

Responsive Reading: Isaiah 43 : 1, 2, 4-7

1.     But now thus saith the Lord that created thee, O Jacob, and he that formed thee, O Israel, Fear not: for I have redeemed thee, I have called thee by thy name; thou art mine.

2.     When thou passest through the waters, I will be with thee; and through the rivers, they shall not overflow thee: when thou walkest through the fire, thou shalt not be burned; neither shall the flame kindle upon thee.

4.     Since thou wast precious in my sight, thou hast been honourable, and I have loved thee: therefore will I give men for thee, and people for thy life.

5.     Fear not: for I am with thee: I will bring thy seed from the east, and gather thee from the west;

6.     I will say to the north, Give up; and to the south, Keep not back: bring my sons from far, and my daughters from the ends of the earth;

7.     Even every one that is called by my name: for I have created him for my glory, I have formed him; yea, I have made him.



درسی وعظ



بائبل


درسی وعظ

بائبل

1۔ خروج 3 باب1، 7 (تا پہلا)، 10 آیات

1۔ اور موسیٰ اپنے سسر یترو کی جو مدیان کا کاہن تھا بھیڑ بکریاں چراتا تھا اور وہ بھیڑ بکریوں کو ہنکاتا ہوا اْن کو بیابان کی پرلی طرف سے خدا کے پہاڑ کے نزدیک لے آیا۔

7۔ اور خداوند نے کہا،

10۔ سو اب آ مَیں تجھے فرعون کے پاس بھیجتا ہوں کہ تْو میری قوم بنی اسرائیل کو مصر سے نکال لے۔

1. Exodus 3 : 1, 7 (to 1st ,), 10

1     Now Moses kept the flock of Jethro his father in law, the priest of Midian: and he led the flock to the backside of the desert, and came to the mountain of God, even to Horeb.

7     And the Lord said,

10     Come now therefore, and I will send thee unto Pharaoh, that thou mayest bring forth my people the children of Israel out of Egypt.

2۔ خروج 4 باب1تا7 آیات

1۔ تب موسیٰ نے جواب دیا لیکن وہ تو میرا یقین ہی نہیں کریں گے نہ میری بات سنیں گے۔ وہ کہیں گے خداوند تجھے دکھائی نہیں دیا۔

2۔ اور خداوندنے موسیٰ سے کہا کہ یہ تیرے ہاتھ میں کیا ہے؟ اْس نے کہا لاٹھی۔

3۔ پھر اْس نے کہا اْسے زمین پر ڈال دے اْس نے اْسے زمین پر ڈالا اور وہ سانپ بن گئی اور موسیٰ اْس کے سامنے سے بھاگا۔

4۔ تب خداوند نے موسیٰ سے کہا ہاتھ بڑھا کر اْس کی دْم پکڑ لے۔ اْس نے ہاتھ بڑھایا اور اْسے پکڑ لیا۔ وہ اْس کے ہاتھ میں لاٹھی بن گیا۔

5۔ تاکہ وہ یقین کریں کہ خداوند اْن کے باپ دادا کا خدا ابراہیم کا خدا اور یعقوب کا خدا تجھ کو دکھائی دیا۔

6۔ پھر خداوند نے اْسے یہ بھی کہا کہ تْو اپنا ہاتھ اپنے سینے پر رکھ کر ڈھانک لے۔ اْس نے اپنا ہاتھ اپنے سینے پر رکھ کر ڈھانک لیا اور جب اْس نے اْسے نکال کے دیکھا تو اْس کا ہاتھ کوڑھ سے برف کی مانند سفید تھا۔

7۔ اْس نے کہا کہ تْو اپنا ہاتھ پھر اپنے سینے پر رکھ کر ڈھانک لے۔ اْس نے پھر اْسے سینے پر رکھ کر ڈھانک لیا۔ جب اْس نے اْسے باہر نکال کر دیکھا تو وہ پھر اْس کے باقی جسم کی مانند ہوگیا۔

2. Exodus 4 : 1-7

1     And Moses answered and said, But, behold, they will not believe me, nor hearken unto my voice: for they will say, The Lord hath not appeared unto thee.

2     And the Lord said unto him, What is that in thine hand? And he said, A rod.

3     And he said, Cast it on the ground. And he cast it on the ground, and it became a serpent; and Moses fled from before it.

4     And the Lord said unto Moses, Put forth thine hand, and take it by the tail. And he put forth his hand, and caught it, and it became a rod in his hand:

5     That they may believe that the Lord God of their fathers, the God of Abraham, the God of Isaac, and the God of Jacob, hath appeared unto thee.

6     And the Lord said furthermore unto him, Put now thine hand into thy bosom. And he put his hand into his bosom: and when he took it out, behold, his hand was leprous as snow.

7     And he said, Put thine hand into thy bosom again. And he put his hand into his bosom again; and plucked it out of his bosom, and, behold, it was turned again as his other flesh.

3۔ 2 سلاطین 6 باب8تا17 آیات

8۔تب شاہِ ارام شاہ ِ اسرائیل سے لڑ رہا تھا اور اْس نے اپنے خادموں سے مشورت لی اور کہا کہ مَیں فلاں فلاں جگہ ڈیرہ ڈالوں گا۔

9۔ سو مردِ خدا نے شاہ اسرائیل کو کہلا بھیجا خبردار تْو فلاں جگہ سے مت گزرنا کیونکہ وہاں ارامی آنے کو ہیں۔

10۔ اور شاہ اسرائیل نے اْس جگہ جس کی خبر مردِ خدا نے دی تھی اور اْس کو آگاہ کر دیا تھا آدمی بھیجے اور وہاں سے اپنے آپ کو بچایا اور فقط یہ ایک یا دو بار ہی نہیں۔

11۔ اِس بات سے شاہ ارام کا دل نہایت بے چین ہوا اور اْس نے اپنے خادموں کو بلا کر اْن سے کہا کیا تم مجھے نہیں بتاؤ گے کہ ہم میں سے کون شاہ اسرائیل کی طرف ہے۔

12۔ تب اُس کے خادموں میں سے ایک نے کہا نہیں اے میرے مالک! اے بادشاہ! بلکہ الیشع جو اسرائیل میں نبی ہے تیری اُن باتوں کو جو تُو اپنی خلوت گاہ میں کہتا ہے شاہِ اسرائیل کو بتا دیتا ہے۔

13۔ اُس نے کہا جا کر دیکھو وہ کہاں ہے تاکہ میں اُسے پکڑوا منگواؤں اور اُسے یہ بتایا گیا کہ وہ دو تن میں ہے۔

14۔ تب اُس نے وہاں گھوڑوں اور رتھوں اور ایک بڑے لشکر کو روانہ کیا سو اُنہوں نے راتوں رات آ کر اُس شہر کو گھیر لیا۔

15۔اور جب اُس مردِ خُدا کا خادم صبح کو اُٹھ کر باہر نکلا تو دیکھا کہ ایک لشکر معہ گھوڑوں اور رتھوں کے شہر کے چوگرد ہے سو اُس خادم نے جا کر اُس سے کہا ہائے اے میرے مالک! ہم کیا دعا کریں؟

16۔ اُس نے جواب دیا خو ف نہ کر کیونکہ ہمارے ساتھ والے اُن کے ساتھ والوں سے زیادہ ہیں۔

17۔ اور الیشع نے دعا کی اور کہا اے خُداوند اُس کی آنکھیں کھول دے تاکہ وہ دیکھ سکے تب خُداوند نے اُس جوان کی آنکھیں کھول دیں اور اُس نے جو نگاہ کی تو دیکھا کہ الیشع کے گردا گرد کا پہاڑ آتشی گھوڑوں اور رتھوں سے بھرا ہے۔

3. II Kings 6 : 8-17

8     Then the king of Syria warred against Israel, and took counsel with his servants, saying, In such and such a place shall be my camp.

9     And the man of God sent unto the king of Israel, saying, Beware that thou pass not such a place; for thither the Syrians are come down.

10     And the king of Israel sent to the place which the man of God told him and warned him of, and saved himself there, not once nor twice.

11     Therefore the heart of the king of Syria was sore troubled for this thing; and he called his servants, and said unto them, Will ye not shew me which of us is for the king of Israel?

12     And one of his servants said, None, my lord, O king: but Elisha, the prophet that is in Israel, telleth the king of Israel the words that thou speakest in thy bedchamber.

13     And he said, Go and spy where he is, that I may send and fetch him. And it was told him, saying, Behold, he is in Dothan.

14     Therefore sent he thither horses, and chariots, and a great host: and they came by night, and compassed the city about.

15     And when the servant of the man of God was risen early, and gone forth, behold, an host compassed the city both with horses and chariots. And his servant said unto him, Alas, my master! how shall we do?

16     And he answered, Fear not: for they that be with us are more than they that be with them.

17     And Elisha prayed, and said, Lord, I pray thee, open his eyes, that he may see. And the Lord opened the eyes of the young man; and he saw: and, behold, the mountain was full of horses and chariots of fire round about Elisha.

4۔ مرقس 8 باب1 (یسوع) (تا پہلا) آیت

1۔ یسوع نے اپنے شاگردوں کو پاس بلایا۔

4. Mark 8 : 1 (Jesus) (to 1st ,)

1     Jesus called his disciples unto him,

5۔ مرقس 10 باب46تا52 آیات

46۔اور جب وہ اور اْس کے شاگرد اور ایک بڑی بھیڑ یریحو سے نکلے تو تمائی کا بیٹا برتمائی اندھا فقیر راہ کے کنارے بیٹھا ہوا تھا۔

47۔ اور یہ سْن کر کہ یسوع ناصری ہے چلا چلا کر کہنے لگا اے ابنِ داؤد! اے یسوع! مجھ پر رحم کر۔

48۔ اور بہتوں نے اْسے ڈانٹا کہ چپ رہے مگر وہ اور بھی زیادہ چلایا کہ اے ابنِ داؤ دمجھ پر رحم کر۔

49۔ یسوع نے کھڑے ہو کر کہا اْسے بلاؤ۔پس اْنہوں نے اْس اندھے کو یہ کہہ کر بلایا کہ خاطر جمع رکھ۔ اْٹھ وہ تجھے بلاتا ہے۔

50۔ وہ اپنا کپڑا پھینک کر اْچھل پڑا اور یسوع کے پاس آیا۔

51۔ یسوع نے اْس سے کہا تْو کیا چاہتا ہے کہ مَیں تیرے لئے کروں؟ اندھے نے اْس سے کہا اے ربونی! یہ کہ مَیں بینا ہو جاؤں۔

52۔ یسوع نے اْس سے کہا جا تیرے ایمان نے تجھے اچھا کر دیا۔وہ فی الفور بینا ہو گیا اور راہ میں اْس کے پیچھے ہو لیا۔

5. Mark 10 : 46-52

46     And they came to Jericho: and as he went out of Jericho with his disciples and a great number of people, blind Bartimæus, the son of Timæus, sat by the highway side begging.

47     And when he heard that it was Jesus of Nazareth, he began to cry out, and say, Jesus, thou Son of David, have mercy on me.

48     And many charged him that he should hold his peace: but he cried the more a great deal, Thou Son of David, have mercy on me.

49     And Jesus stood still, and commanded him to be called. And they call the blind man, saying unto him, Be of good comfort, rise; he calleth thee.

50     And he, casting away his garment, rose, and came to Jesus.

51     And Jesus answered and said unto him, What wilt thou that I should do unto thee? The blind man said unto him, Lord, that I might receive my sight.

52     And Jesus said unto him, Go thy way; thy faith hath made thee whole. And immediately he received his sight, and followed Jesus in the way.

6۔ متی 5 باب48 آیت

48۔ پس چاہئے کہ تم کامل ہو جیسا تمہارا آسمانی باپ کامل ہے۔

6. Matthew 5 : 48

48     Be ye therefore perfect, even as your Father which is in heaven is perfect.

7۔ 2 کرنتھیوں 4باب1، 3، 4،6،8، 9، 16تا18 آیات

1۔ پس جب ہم پر ایسا رحم ہوا کہ ہمیں یہ خدمت ملی تو ہم ہمت نہیں ہارتے۔

3۔ اور اگر ہماری خوشخبری پر پردہ پڑا ہے تو ہلاک ہونے والوں ہی کے واسطے پڑا ہے۔

4۔ یعنی اْن بے ایمانوں کے واسطے جن کی عقلوں کواِس جہان کے خدانے اندھا کر دیا ہے تاکہ مسیح جو خدا کی صورت ہے اْس کے جلال کی خوشخبری کی روشنی اْن پر نہ پڑے۔

6۔اِس لئے کہ خدا ہی ہے جس نے فرمایا کہ تاریکی میں سے نور چمکے اور وہی ہمارے دلوں میں چمکا تاکہ خداکے جلال کی پہچان کا نور یسوع مسیح کے چہرے سے جلوہ گر ہو۔

8۔ ہم ہر طرف سے مصیبت تو اٹھاتے ہیں لیکن لاچار نہیں ہوتے۔ حیران تو ہوتے ہیں مگر نہ اْمید نہیں ہوتے۔

9۔ ستائے تو جاتے ہیں مگر اکیلے نہیں چھوڑے جاتے۔ گرائے تو جاتے ہیں لیکن ہلاک نہیں ہوتے۔

16۔ اِس لئے ہم ہمت نہیں ہارتے بلکہ گو ہماری ظاہری انسانیت زائل ہوتی جاتی ہے پھر بھی ہماری باطنی انسانیت روز بروز نئی ہوتی جاتی ہے۔

17۔ کیونکہ ہماری دم بھر کی ہلکی سی مصیبت ہمارے لئے از حد بھاری اور ابدی جلال پیدا کرتی جاتی ہے۔

18۔ جس حال میں کہ ہم دیکھی ہوئی چیزوں پر نہیں بلکہ اندیکھی چیزوں پر نظر کرتے ہیں کیونکہ دیکھی ہوئی چیزیں چند روزہ ہیں مگر اندیکھی چیزیں ابدی ہیں۔

7. II Corinthians 4 : 1, 3, 4, 6, 8, 9, 16-18

1     Therefore seeing we have this ministry, as we have received mercy, we faint not;

3     But if our gospel be hid, it is hid to them that are lost:

4     In whom the god of this world hath blinded the minds of them which believe not, lest the light of the glorious gospel of Christ, who is the image of God, should shine unto them.

6     For God, who commanded the light to shine out of darkness, hath shined in our hearts, to give the light of the knowledge of the glory of God in the face of Jesus Christ.

8     We are troubled on every side, yet not distressed; we are perplexed, but not in despair;

9     Persecuted, but not forsaken; cast down, but not destroyed;

16     For which cause we faint not; but though our outward man perish, yet the inward man is renewed day by day.

17     For our light affliction, which is but for a moment, worketh for us a far more exceeding and eternal weight of glory;

18     While we look not at the things which are seen, but at the things which are not seen: for the things which are seen are temporal; but the things which are not seen are eternal.

8۔ افسیوں 2 باب10 (ہم) آیت

10۔۔۔۔ہم اْسی کی کاریگری ہیں اور مسیح یسوع میں اْن نیک اعمال کے واسطے مخلوق ہوئے جن کو خدا نے پہلے سے ہمارے کرنے کے لئے تیار کیا تھا۔

8. Ephesians 2 : 10 (we are)

10     …we are his workmanship, created in Christ Jesus unto good works, which God hath before ordained that we should walk in them.



سائنس اور صح


1۔ 472 :24 (ساری)۔25

خدا اور اْس کی تخلیق میں پائی جانے والی ساری حقیقت ہم آہنگ اور ابدی ہے۔

1. 472 : 24 (All)-25

All reality is in God and His creation, harmonious and eternal.

2۔ 478 :24۔27

شروع سے آخر تک جو کچھ بھی فانی ہے وہ مادی انسان کے یقین سے بنا ہے اور کسی چیز سے نہیں۔ صرف وہی حقیقی ہے جو خدا کی عکاسی کرتا ہے۔

2. 478 : 24-27

From beginning to end, whatever is mortal is composed of material human beliefs and of nothing else. That only is real which reflects God.

3۔ 14 :25۔30

مادی زندگی کے عقیدے اور خواب سے مکمل طور پر منفرد، الٰہی زندگی ہے، جو روحانی فہم اور ساری زمین پر انسان کی حکمرانی کے شعور کو ظاہرکرتی ہے۔یہ فہم غلطی کو باہر نکالتا اور بیمار کو شفا دیتا ہے، اوراِس کے ساتھ آپ ”صاحب اختیار کی مانند“ بات کر سکتے ہیں۔

3. 14 : 25-30

Entirely separate from the belief and dream of material living, is the Life divine, revealing spiritual understanding and the consciousness of man's dominion over the whole earth. This understanding casts out error and heals the sick, and with it you can speak "as one having authority."

4۔ 321 :6۔13 اگلا صفحہ

عبرانیوں کوشریعت دینے والا، بولنے میں دھیما،جو کچھ اْس پر ظاہر ہو اتھاوہ لوگوں کو سمجھانے سے مایوس تھا۔ حکمت سے ہدایت پا کر جب اْس نے اپنا عصا زمین پر پھینکا، تو اْس نے اسے سانپ بنتے دیکھا، موسیٰ اِس کے سامنے بھاگ نکلا، مگر عقل نے اْسے واپس لوٹنے اور اس سانپ سے نپٹنے کا حکم دیا، تو پھر موسیٰ کا خوف دور ہوا۔ اس واقعہ میں سائنس کی حقیقت دیکھی گئی۔مادا محض مختصراً سامنے لایا گیا۔ دانائی کے حکم تلے سانپ، بدی، الٰہی سائنس کے فہم کی بدولت تباہ ہوئی، اور اس کا ثبوت وہ عصا تھا جس کے آگے جھکنا تھا۔اْسے خبردا رکرنے کے لئے موسیٰ کا بھرم اپنی طاقت تب کھو چْکاتھا جب اْس نے یہ دریافت کیا کہ جو کچھ اْس نے بظاہر دیکھا ہے وہ حقیقتاً تھا نہ کہ مادی عقیدے کا ایک حصہ تھا۔

جب موسیٰ نے پہلے اپنا ہاتھ اپنے سینے پر رکھ کر ڈھانکا اور پھر برف کی مانند سفید ایک مہلک بیماری کے ساتھ باہر نکالااور پھر اْسی وقت اسی سادہ مرحلے کے ساتھ اپنے ہاتھ کو اِس کی فطری حالت میں بحال کرلیا توسائنسی طور پر یہ بات ظاہر ہوئی کہ کوڑھ فانی عقل کی ایک تخلیق ہے نہ کہ مادے کی کوئی حالت ہے۔الٰہی سائنس میں اِس ثبوت کی بدولت خدا نے موسیٰ کے خوف کو کم کردیا، اور اِس کی اندرونی آواز اْس کے لئے خدا کی آواز بن گئی، جس نے کہا، ”اور یوں ہوگا کہ اگر وہ تیرا یقین نہ کریں اور پہلے معجزے کو بھی نہ مانیں تو وہ دوسرے معجزے کے سبب سے یقین کریں گے۔“اور پھر آنے والی صدیوں میں یہ ہوا، کہ یسوع کی بدولت ہستی کی سائنس کو ظاہر کیا گیا، جس نے پانی کو مے میں تبدیل کر کے اپنے طالب علموں کو عقل کی طاقت دکھائی، اور عقل کی بالا دستی کو ثابت کرنے کے لئے اْنہیں سکھایا کہ کیسے بغیر نقصان پہنچائے سانپوں سے نپٹنا ہے،کیسے بیمار کو شفا دینی اور بدروحوں کو نکالنا ہے۔

جب مادی سے روحانی بنیادوں پر زندگی اور ذہانت کا فہم اپنا نقطہ نظر تبدیل کرتا ہے،تو ہمیں زندگی کی حقیقت میسر آئے گی، یعنی فہم پر روح کا قابو، تو ہم مسیحت یا سچائی کو اس کے الٰہی اصول میں پائیں گے۔کسی ہم آہنگ اور فانی انسان کے حاصل ہونے اور اْس کی قابلیتوں کے اظہار سے قبل یہ ایک نقطۂ عروج ہونا چاہئے۔ الٰہی سائنس کی شناخت ہونے سے قبل اس عظیم کام کی تکمیل کو دیکھتے ہوئے، الٰہی اصول سے اپنے خیالات کو ہٹانا بہت اہم ہے، تاکہ محدود عقیدے کو اس کی غلطی سے دستبردار ہونے کے لئے تیار کیا جا سکے۔

4. 321 : 6-13 next page

The Hebrew Lawgiver, slow of speech, despaired of making the people understand what should be revealed to him. When, led by wisdom to cast down his rod, he saw it become a serpent, Moses fled before it; but wisdom bade him come back and handle the serpent, and then Moses' fear departed. In this incident was seen the actuality of Science. Matter was shown to be a belief only. The serpent, evil, under wisdom's bidding, was destroyed through understanding divine Science, and this proof was a staff upon which to lean. The illusion of Moses lost its power to alarm him, when he discovered that what he apparently saw was really but a phase of mortal belief.

It was scientifically demonstrated that leprosy was a creation of mortal mind and not a condition of matter, when Moses first put his hand into his bosom and drew it forth white as snow with the dread disease, and presently restored his hand to its natural condition by the same simple process. God had lessened Moses' fear by this proof in divine Science, and the inward voice became to him the voice of God, which said: "It shall come to pass, if they will not believe thee, neither hearken to the voice of the first sign, that they will believe the voice of the latter sign." And so it was in the coming centuries, when the Science of being was demonstrated by Jesus, who showed his students the power of Mind by changing water into wine, and taught them how to handle serpents unharmed, to heal the sick and cast out evils in proof of the supremacy of Mind.

When understanding changes the standpoints of life and intelligence from a material to a spiritual basis, we shall gain the reality of Life, the control of Soul over sense, and we shall perceive Christianity, or Truth, in its divine Principle. This must be the climax before harmonious and immortal man is obtained and his capabilities revealed. It is highly important — in view of the immense work to be accomplished before this recognition of divine Science can come — to turn our thoughts towards divine Principle, that finite belief may be prepared to relinquish its error.

5۔ 347 :12۔22

نقادوں کو اِس بات پر غور کرنا چاہئے کہ نام نہاد فانی انسان انسان کی حقیقت نہیں ہے۔پھر وہ مسیح کی آمد کی نشانیوں کو سمجھیں گے۔مسیح،بطور خدا کے روحانی اور حقیقی خیال، ماضی کی طرح اب بھی، غریبوں کو خوشخبری کی تعلیم دیتے ہوئے، بیماروں کو شفا دیتے ہوئے اور بدروحوں کو نکالتے ہوئے،آتا ہے۔ کیا یہ غلطی ہے جو مسیحت کے لازمی عنصر کو بحال کر رہی ہے، یعنی رسولی، الٰہی شفاکو؟ جی نہیں؛ یہ مسیحت کی سائنس ہے جو یہ بحال کر رہی ہے، اور یہ تاریکی میں چمکنے والا نور ہے، جسے تاریکی نہیں پہچانتی۔

5. 347 : 12-22

Critics should consider that the so-called mortal man is not the reality of man. Then they would behold the signs of Christ's coming. Christ, as the spiritual or true idea of God, comes now as of old, preaching the gospel to the poor, healing the sick, and casting out evils. Is it error which is restoring an essential element of Christianity, — namely, apostolic, divine healing? No; it is the Science of Christianity which is restoring it, and is the light shining in darkness, which the darkness comprehends not.

6۔ 302 :3۔19

مادی بدن اور عقل عارضی ہیں، مگر حقیقی انسان روحانی اور ابدی ہے۔حقیقی انسان کی شناخت کھو نہیں جاتی، بلکہ اِس وضاحت کے وسیلہ پائی جاتی ہے؛ کیونکہ ہستی اور پوری شناخت کی شعوری لامحدودیت غیر ترمیم شْدہ سمجھی جاتی اورقائم رہتی ہے۔جب خدا مکمل اور ابدی طور پر اْس کا ہے، تو یہ ناممکن ہے کہ انسان ایسا کچھ گوا بیٹھے جو حقیقی ہے۔یہ خیال کہ عقل مادے میں ہے، اور یہ کہ نام نہاد خوشیاں اور درد، مادے کی پیدائش، گناہ، بیماری اور موت حقیقی ہیں، ایک فانی یقین ہے؛ اور یہی وہ عقیدہ ہے جو گم ہو جائے گا۔

بشر کے حوالے سے ہماری تشریح کو جاری رکھتے ہوئے آئیے یاد کریں کہ ہم ساز اورغیر فانی انسان ہمیشہ سے موجود ہے اور بطور مادہ وجود رکھتے ہوئے کسی فانی زندگی، جوہر یا ذہانت سے ہمیشہ بلند اور پار رہتا ہے۔ یہ بیان حقیقت پر مبنی ہے نہ کہ افسانوی ہے۔

6. 302 : 3-19

The material body and mind are temporal, but the real man is spiritual and eternal. The identity of the real man is not lost, but found through this explanation; for the conscious infinitude of existence and of all identity is thereby discerned and remains unchanged. It is impossible that man should lose aught that is real, when God is all and eternally his. The notion that mind is in matter, and that the so-called pleasures and pains, the birth, sin, sickness, and death of matter, are real, is a mortal belief; and this belief is all that will ever be lost.

Continuing our definition of man, let us remember that harmonious and immortal man has existed forever, and is always beyond and above the mortal illusion of any life, substance, and intelligence as existent in matter. This statement is based on fact, not fable.

7۔ 248 :15۔32

فانی عقل کے سامنے نمونہ کیا ہے؟ کیا یہ غیر کاملیت، خوشی، دْکھ، گناہ، تکلیف ہے؟ کیا آپ نے فانی نمونے کو قبول کر لیا ہے؟ کیا آپ اِسے دوبارہ جنم دے رہے ہیں؟ توآپ شیطانی بت پرستی اور نفرت انگیز صورتوں کے وسیلہ آسیب زدہ کئے جارہے ہیں۔ کیا آپ غیر کامل نمونے کی ساری مخلوق سے نہیں سنتے؟ دنیا اِسے پکڑے ہوئے ہے اِس سے قبل کہ آپ مسلسل اِس کو دیکھیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ آپ اِن نچلے طریقہ ہائے کار کی پیروی کرنے، اپنی زندگی کے کامو ں کو محدود کرنے اور اپنے تجربے میں مادے کے نمونوں کے گوشہ دار خاکے اور بد نمائی کو قبول کر نے کے قابل ہیں۔

اِس کا اعلاج کرنے کے لئے، ہمیں سب سے پہلے درست سمت میں دیکھنا چاہئے اور پھر اِس جانب چلنا چاہئے۔ ہمیں خیالات میں کامل نمونے بنانے چاہئیں اور اْن پر لگاتار غور کرنا چاہئے، وگرنہ ہم انہیں کبھی عظیم اور شریفانہ زندگیوں میں نقش نہیں کر سکتے۔ ہمارے اندر بے غرضی، اچھائی، رحم، عدل، صحت، پاکیزگی، محبت، آسمان کی بادشاہی کو سلطنت کرنے دیں اور گناہ، بیماری اور موت تلف ہونے تک کم ہوتے جائیں گے۔

7. 248 : 15-32

What is the model before mortal mind? Is it imperfection, joy, sorrow, sin, suffering? Have you accepted the mortal model? Are you reproducing it? Then you are haunted in your work by vicious sculptors and hideous forms. Do you not hear from all mankind of the imperfect model? The world is holding it before your gaze continually. The result is that you are liable to follow those lower patterns, limit your lifework, and adopt into your experience the angular outline and deformity of matter models.

To remedy this, we must first turn our gaze in the right direction, and then walk that way. We must form perfect models in thought and look at them continually, or we shall never carve them out in grand and noble lives. Let unselfishness, goodness, mercy, justice, health, holiness, love — the kingdom of heaven — reign within us, and sin, disease, and death will diminish until they finally disappear.

8۔ 353 :16۔22

سبھی حقیقت ابدی ہے۔ کاملیت حقیقت کو عیاں کرتی ہے۔ کاملیت کے بِنا کچھ بھی مکمل طور پر حقیقی نہیں ہے۔ جب تک کاملیت ظاہر نہیں ہوتی اور حقیقت تک نہیں پہنچتی سبھی چیزیں غائب ہونا جاری رہیں گی۔ ہمیں ہر مقام پر بھوت پریت سے متعلق باتوں کو ترک کرنا چاہئے۔ ہمیں توہم پرستی کے کچھ ہونے کو تسلیم کرنا جاری نہیں رکھنا چاہئے، بلکہ ہمیں اِس کے تمام عقائد پر غور کرنا چاہئے اور عقلمند بننا چاہئے۔

8. 353 : 16-22

All the real is eternal. Perfection underlies reality. Without perfection, nothing is wholly real. All things will continue to disappear, until perfection appears and reality is reached. We must give up the spectral at all points. We must not continue to admit the somethingness of superstition, but we must yield up all belief in it and be wise.

9۔ 259 :11۔21

سائنسی ہستی اور الٰہی شفا کی مسیح جیسی سمجھ میں کامل اصول اور خیال، کامل خدا اور کامل انسان، بطور سوچ اور اظہار کی بنیاد شامل ہوتے ہیں۔

اگر انسان کبھی کامل تھا لیکن اب اپنی کاملیت کھو بیٹھا ہے تو پھر بشر خدا کی شبیہ کا عکس اپنے اندر کبھی نہ رکھتے۔ کھوئی ہوئی شبیہ کوئی شبیہ نہیں ہے۔ الٰہی عکس میں حقیقی مشابہت کھو نہیں سکتی۔ اسے سمجھتے ہوئے، یسوع نے کہا، ”پس چاہئے کہ تم کامل ہو جیسا تمہارا آسمانی باپ کامل ہے۔“

9. 259 : 11-21

The Christlike understanding of scientific being and divine healing includes a perfect Principle and idea, — perfect God and perfect man, — as the basis of thought and demonstration.

If man was once perfect but has now lost his perfection, then mortals have never beheld in man the reflex image of God. The lost image is no image. The true likeness cannot be lost in divine reflection. Understanding this, Jesus said: "Be ye therefore perfect, even as your Father which is in heaven is perfect."

10۔ 407 :24۔25 (خیالات تک)

ایک کامل نمونے کو آپ کے خیالات میں پیش ہونے دیں۔

10. 407 : 24-25 (to thoughts)

Let the perfect model be present in your thoughts.


روز مرہ کے فرائ

منجاب میری بیکر ایڈ

روز مرہ کی دعا

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ ہر روز یہ دعا کرے: ’’تیری بادشاہی آئے؛‘‘ الٰہی حق، زندگی اور محبت کی سلطنت مجھ میں قائم ہو، اور سب گناہ مجھ سے خارج ہو جائیں؛ اور تیرا کلام سب انسانوں کی محبت کو وافر کرے، اور اْن پر حکومت کرے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 4۔

مقاصد اور اعمال کا ایک اصول

نہ کوئی مخالفت نہ ہی کوئی محض ذاتی وابستگی مادری چرچ کے کسی رکن کے مقاصد یا اعمال پر اثر انداز نہیں ہونی چاہئے۔ سائنس میں، صرف الٰہی محبت حکومت کرتی ہے، اور ایک مسیحی سائنسدان گناہ کو رد کرنے سے، حقیقی بھائی چارے ، خیرات پسندی اور معافی سے محبت کی شیریں آسائشوں کی عکاسی کرتا ہے۔ اس چرچ کے تمام اراکین کو سب گناہوں سے، غلط قسم کی پیشن گوئیوں،منصفیوں، مذمتوں، اصلاحوں، غلط تاثر ات کو لینے اور غلط متاثر ہونے سے آزاد رہنے کے لئے روزانہ خیال رکھنا چاہئے اور دعا کرنی چاہئے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 1۔

فرض کے لئے چوکس

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ وہ ہر روز جارحانہ ذہنی آراء کے خلاف خود کو تیار رکھے، اور خدا اور اپنے قائد اور انسانوں کے لئے اپنے فرائض کو نہ کبھی بھولے اور نہ کبھی نظر انداز کرے۔ اس کے کاموں کے باعث اس کا انصاف ہوگا، وہ بے قصور یا قصوارہوگا۔ 

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 6۔


████████████████████████████████████████████████████████████████████████