اتوار 28 اپریل، 2019 |

اتوار 28 اپریل، 2019

مضمون۔ موت کے بعد امتحان

SubjectProbation After Death

سنہری متن:سنہری متن: زبور 31: 14، 15آیا

’’اے خداوند! میرا توکل تْجھ پر ہے۔ میں نے کہا تْو میرا خدا ہے۔ میرے ایام تیرے ہاتھ میں ہیں۔‘‘

Golden Text: Psalm 31 : 14, 15

I trusted in thee, O Lord: I said, Thou art my God. My times are in thy hand.

سبق کی آڈیو کے لئے یہاں کلک کریں

یوٹیوب سے سننے کے لئے یہاں کلک کریں


زبور 23: 1تا6آیا

1۔خداوند میرا چوپان ہے۔ مجھے کمی نہ ہوگی۔ 

2۔ وہ مجھے ہری ہری چراگاہوں میں بٹھاتاہے۔ وہ مجھے راحت کے چشموں کے پاس لے جاتا ہے۔ 

3۔ وہ میری جان کو بحال کرتا ہے۔وہ مجھے اپنے نام کی خاطر صداقت کی راہوں پر لے چلتا ہے۔ 

4۔ بلکہ خواہ موت کے سایہ کی وادی میں سے میرا گزر ہو میں کسی بلا سے نہیں ڈرونگا کیونکہ تُو میرے ساتھ ہے تیرے عصا اور تیری لاٹھی سے مجھے تسلی ہے۔ 

5۔ تُو میرے دُشمنوں کے رُوبُرو میرے آگے دستر خوان بچھاتا ہے۔ تُو نے میرے سر پر تیل ملا ہے۔ میرا پیالہ لبریز ہوتا ہے۔ 

6۔ یقیناً بھلائی اور رحمت عُمر بھر میرے ساتھ ساتھ رہیں گی اور میں ہمیشہ خُداوند کے گھر میں سکونت کرونگا۔

Responsive Reading: Psalm 23 : 1-6

1.     The Lord is my shepherd; I shall not want.

2.     He maketh me to lie down in green pastures: he leadeth me beside the still waters.

3.     He restoreth my soul: he leadeth me in the paths of righteousness for his name’s sake.

4.     Yea, though I walk through the valley of the shadow of death, I will fear no evil: for thou art with me; thy rod and thy staff they comfort me.

5.     Thou preparest a table before me in the presence of mine enemies: thou anointest my head with oil; my cup runneth over.

6.     Surely goodness and mercy shall follow me all the days of my life: and I will dwell in the house of the Lord for ever.

درسی وعظ


درسی وعظ


1۔ زبور 116: 1تا 9آیات

1۔ میں خداوند سے محبت رکھتا ہوں۔کیونکہ اُس نے میری فریاد سنی اور میری منت سنی ہے۔ 

2۔ چونکہ اُس نے میری طرف کان لگایا۔ اس لئے میں عمر بھر اُس سے دعا کروں گا۔ 

3۔ موت کی رسیوں نے مجھے جکڑ لیا اور پاتال کے درد مجھ پر آ پڑے۔ میں دُکھ اور غم میں گرفتار ہوا۔ 

4۔ تب میں نے خداوند سے دعا کی۔ کہ اے خُداوند! میں تیری منت کرتا ہوں میری جان کو رہائی بخش۔ 

5۔ خداوند صادق اور کریم ہے۔ ہمارا خدا رحیم ہے۔ 

6۔ خداوند سادہ لوگوں کی حفاظت کرتا ہے۔ میں پست ہو گیا تھا اسی نے بچا لیا۔ 

7۔ اے میری جان! پھر مطمین ہو کیونکہ خُداوند نے تجھ پر احسان کیا ہے۔ 

8۔ اس لئے کہ تُو نے میری جان کو موت سے میری آنکھوں کو آنسو بہانے سے اور میری پاؤں کو پھسلنے سے بچایا ہے۔ 

9۔ میں زندوں کی زمین میں خداوند کے حضور چلتا رہونگا۔

1. Psalm 116 : 1-9

1     I love the Lord, because he hath heard my voice and my supplications.

2     Because he hath inclined his ear unto me, therefore will I call upon him as long as I live.

3     The sorrows of death compassed me, and the pains of hell gat hold upon me: I found trouble and sorrow.

4     Then called I upon the name of the Lord; O Lord, I beseech thee, deliver my soul.

5     Gracious is the Lord, and righteous; yea, our God is merciful.

6     The Lord preserveth the simple: I was brought low, and he helped me.

7     Return unto thy rest, O my soul; for the Lord hath dealt bountifully with thee.

8     For thou hast delivered my soul from death, mine eyes from tears, and my feet from falling.

9     I will walk before the Lord in the land of the living.

2۔ پیدائش 19باب 1، 2 (تاپہلا) ، 12تا17، 26، 30آیات (تا؛) 

1۔ اور وہ دونوں فرشتے شام کو سدوم میں آئے اور لوط سدوم کے پھاٹک پر بَیٹھا تھا اورلوط اْن کودیکھ کر اُن کے استقبال کے لئے اٹھا اور زمین تک جھکا۔

2۔ اور کہا اے میرے خُداوند اپنے خادم کے گھر تشریف لے چلئے اور رات بھر آرام کیجئے اور اپنے پاؤں دھوئیے اور صبح اُٹھکر اپنی راہ لیجئے اور اُنہوں نے کہا نہیں ہم چوک ہی میں رات کاٹ لینگے۔

12۔ تب ان مردوں نے لوط سے کہا کیا یہاں تیرا اور کوئی ہے؟ داماد اور اپنے بیٹوں اور بیٹیوں اور جو کئی تیر اِس شہر میں ہو سب کو اِس مقام سے باہر نکال لے جا۔ 

13۔ کیونکہ ہم اِس مقام کو نیست کرینگے اس لئے کہ اُنکا شور خداوند کے حضوربہت بلند ہوا ہے اور خداوند نے اسے نیست کرنے کو ہمیں بھیجا ہے۔ 

14۔ تب لوط نے باہر جاکر اپنے دامادوں سے جنہوں نے اُسکی بیٹیاں بیاہی تھیں باتیں کیں اور کہا کہ اُٹھواور اِس مقام سے نکلو کیونکہ خُداوند اِس شہر کو نیست کریگا۔ لیکن وہ اپنے دامادوں کی نظر میں مضحک سا معلوم ہوا۔ 

15۔ جب صبح ہوئی تو فرشتوں نے لوط سے جلدی کرائی اور کہا کہ اُٹھ اپنی بیوی اور اپنی دونوں بیٹیوں کو جو یہاں ہیں لے جا۔ ایسا نہ ہو کہ تو بھی اِس شہر کی بدی میں گرفتار ہو کر ہلاک ہو جائے۔ 

16۔ مگر اُس نے دیر لگائی تو اُن مردوں نے اُسکا اور اُسکی بیوی اور اُسکی دونوں بیٹیوں کا ہاتھ پکڑا کیونکہ خُداوند کی مہربانی اُس پر ہوئی اور اُسے نکال کی شہر سے باہر کر دیا۔ 

17۔ اور یوں ہوا کہ جب وہ انکو باہر نکال لائے تو اُس نے کہا اپنی جان بچانے کو بھاگ۔ نہ تو پیچھے مڑ کر دیکھنا نہ کہیں میدان میں ٹھہرنا۔ اُس پہاڑ کو چلا جا۔ تانہ ہو کہ تو ہلاک ہو جائے۔ 

26۔ مگر اْس کی بیوی نے اُسکے پیچھے سے مڑ کر دیکھا اور وہ نمک کا ستون بن گئی۔

30۔ اور لوط ضْغر سے نِکل کر پہاڑ پر جا بسا اور اُس کی دونوں بیٹیاں اُسکے ساتھ تھیں کیونکہ اُسے ضْغرمیں بستے ڈرلگا اور وہ اور اُسکی دونوں بیٹیاں ایک غار میں رہنے لگے۔

2. Genesis 19 : 1, 2 (to 1st .), 12-17, 26, 30 (to ;)

1     And there came two angels to Sodom at even; and Lot sat in the gate of Sodom: and Lot seeing them rose up to meet them; and he bowed himself with his face toward the ground;

2     And he said, Behold now, my lords, turn in, I pray you, into your servant’s house, and tarry all night, and wash your feet, and ye shall rise up early, and go on your ways.

12     And the men said unto Lot, Hast thou here any besides? son in law, and thy sons, and thy daughters, and whatsoever thou hast in the city, bring them out of this place:

13     For we will destroy this place, because the cry of them is waxen great before the face of the Lord; and the Lord hath sent us to destroy it.

14     And Lot went out, and spake unto his sons in law, which married his daughters, and said, Up, get you out of this place; for the Lord will destroy this city. But he seemed as one that mocked unto his sons in law.

15     And when the morning arose, then the angels hastened Lot, saying, Arise, take thy wife, and thy two daughters, which are here; lest thou be consumed in the iniquity of the city.

16     And while he lingered, the men laid hold upon his hand, and upon the hand of his wife, and upon the hand of his two daughters; the Lord being merciful unto him: and they brought him forth, and set him without the city.

17     And it came to pass, when they had brought them forth abroad, that he said, Escape for thy life; look not behind thee, neither stay thou in all the plain; escape to the mountain, lest thou be consumed.

26     But his wife looked back from behind him, and she became a pillar of salt.

30     And Lot went up out of Zoar, and dwelt in the mountain, and his two daughters with him;

3۔ امثال 3باب5تا8، 21، (رکھیں) 26آیات

5۔ سارے دل سے خداوند پر توکل کراور اپنے فہم پر تکیہ نہ کر۔ 

6۔ اپنی سب راہوں میں اُسکو پہچان اور وہ تیری راہنمائی کرے گا۔

7۔ تو اپنی ہی نگاہ میں دانشمندنہ بن۔خداوند سے ڈر اور بدی سے کنارہ کر۔ 

8۔ یہ تیری ناف کی صحت اور تیری ہڈیوں کی تازگی ہو گی۔

21۔ اے میرے بیٹے! دانائی اور تمیز کی حفاظت کر۔ اْن کواپنی آنکھوں سے اوجھل نہ ہونے دے۔ 

22۔ یوں وہ تیری جان کی حیات اور تیرے گلے کی زینت ہوں گی۔ 

23۔ تب تو بے کھٹکے اپنے راستہ پر چلے گااور تیرے پاؤں کو ٹھیس نہ لگے گی۔ 

24۔ جب تو لیٹے گا تو خوف نہ کھا ئے گا۔بلکہ تو لیٹ جائے گا اور تیری نیند میٹھی ہو گی۔ 

25۔ نا گہانی دہشت سے خوف نہ کھانااور نہ شریروں کی ہلاکت سے جب وہ آئے۔ 

26۔ کیونکہ خداوند تیرا سہارا ہوگا اور تیرے پاؤں کو پھنس جانے سے محفوظ رکھے گا۔

3. Proverbs 3 : 5-8, 21 (keep)-26

5     Trust in the Lord with all thine heart; and lean not unto thine own understanding.

6     In all thy ways acknowledge him, and he shall direct thy paths.

7     Be not wise in thine own eyes: fear the Lord, and depart from evil.

8     It shall be health to thy navel, and marrow to thy bones.

21     …keep sound wisdom and discretion:

22     So shall they be life unto thy soul, and grace to thy neck.

23     Then shalt thou walk in thy way safely, and thy foot shall not stumble.

24     When thou liest down, thou shalt not be afraid: yea, thou shalt lie down, and thy sleep shall be sweet.

25     Be not afraid of sudden fear, neither of the desolation of the wicked, when it cometh.

26     For the Lord shall be thy confidence, and shall keep thy foot from being taken.

4۔ متی 4باب23آیت

23۔اور یسوع تمام گلیل میں پھرتا رہا اور اْن کے عبادتخانوں میں تعلیم دیتا اور بادشاہی کی خوشخبری کی منادی کرتا اور لوگوں کی ہر طرح کی بیماری اور ہر طرح کی کمزوری کو دور کرتا رہا۔ 

4. Matthew 4 : 23

23     And Jesus went about all Galilee, teaching in their synagogues, and preaching the gospel of the kingdom, and healing all manner of sickness and all manner of disease among the people.

5۔ لوقا 7باب12تا15آیات

12۔ جب وہ شہر کے پھاٹک کے نزدِیک پہنچاتو دیکھو ایک مردہ کو باہر لئے جاتے تھے۔ وہ اپنی ماں کا اکلوتا بیٹا تھا اور وہ بیوہ تھی اور شہر کے بہتیرے لوگ اُس کے ساتھ تھے۔ 

13۔ اُسے دیکھ کر خداوند کو ترس آیا اور اُس سے کہا مت رو۔ 

14۔ پھر اُس نے پاس آ کر جنازہ کو چھوا اور اٹھانے والے کھڑے ہوگئے اور اُس نے کہا اے جوان میں تجھ سے کہتا ہوں اٹھ۔ 

15۔ وہ مردہ اٹھ بیٹھا اور بولنے لگا اور اُس نے اُسے اُس کی ماں کو سونپ دیا ۔

5. Luke 7 : 12-15

12     Now when he came nigh to the gate of the city, behold, there was a dead man carried out, the only son of his mother, and she was a widow: and much people of the city was with her.

13     And when the Lord saw her, he had compassion on her, and said unto her, Weep not.

14     And he came and touched the bier: and they that bare him stood still. And he said, Young man, I say unto thee, Arise.

15     And he that was dead sat up, and began to speak. And he delivered him to his mother.

6۔ یوحنا 5باب24آیت

24۔ میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ جو کوئی میرا کلام سنتا ہے اور میرے بھیجنے والے کا یقین کرتا ہے ہمیشہ کی زندگی اْس کی ہے اور اْس پرسزا کا حکم نہیں ہوتا بلکہ وہ موت سے نکل کر زندگی میں داخل ہو گیا ہے۔ 

6. John 5 : 24

24     Verily, verily, I say unto you, He that heareth my word, and believeth on him that sent me, hath everlasting life, and shall not come into condemnation; but is passed from death unto life.

7۔ عبرانیوں 2باب1تا3، 9، 10 (تا14واں) ،14، 15آیات

1۔ اِس لئے جوباتیں ہم نے سنیں ان پر اور بھی دل لگا کر غور کرنا چاہئے تاکہ بہ کر اْن سے دور نہ ہوجائیں۔ 

2۔ کیونکہ جو کلام فرشتوں کی معرفت فرمایا گیا تھا جب وہ قائم رہا اور ہر قصور اور نافرمانی کا ٹھیک ٹھیک بدلہ ملا۔

3۔ تو اتنی بڑی نجات سے غافل رہ کر ہم کیونکر بچ سکتے ہیں جس کا بیان پہلے خداوند کے وسیلہ سے ہوا اور سننے والوں سے ہمیں پایہء ثبوت کو پہنچا۔

9۔ البتہ اس کو دیکھتے ہیں جو فرشتوں سے کچھ ہی کم کیا گیا یعنی یسوع کو کہ موت کا دکھ سہنے کے سبب سے جلال اور عزت کا تاج اسے پہنایا گیا ہے تاکہ خدا کے فضل سے وہ ہر ایک آدمی کے لئے موت کا مزہ چکھے۔ 

10۔ کیونکہ جس کے لئے سب چیزیں ہیں اور جس کے وسیلہ سے سب چیزیں ہیں اس کو یہی مناسب تھا کہ جب بہت سے بیٹوں کو جلال میں داخل کرے تو ان کی نجات کے بانی کو دکھوں کے ذریعہ سے کامل کرلے۔ 

14۔ پس جس صورت میں کہ لڑکے خون اور گوشت میں شریک ہیں تو وہ خود بھی ان کی طرح ان میں شریک ہوا تاکہ موت کے وسیلہ سے اس کو جسے موت پر قدرت حاصل تھی یعنی ابلیس کو تباہ کر دے۔ 

15۔ اور جوعمر بھر موت کے ڈر سے غلامی میں گرفتار رہے انہیں چھڑا لے۔

7. Hebrews 2 : 1-3, 9, 10 (to 4th ,), 14, 15

1     Therefore we ought to give the more earnest heed to the things which we have heard, lest at any time we should let them slip.

2     For if the word spoken by angels was stedfast, and every transgression and disobedience received a just recompence of reward;

3     How shall we escape, if we neglect so great salvation; which at the first began to be spoken by the Lord, and was confirmed unto us by them that heard him;

9     But we see Jesus, who was made a little lower than the angels for the suffering of death, crowned with glory and honour; that he by the grace of God should taste death for every man.

10     For it became him, for whom are all things, and by whom are all things, in bringing many sons unto glory,

14     Forasmuch then as the children are partakers of flesh and blood, he also himself likewise took part of the same; that through death he might destroy him that had the power of death, that is, the devil;

15     And deliver them who through fear of death were all their lifetime subject to bondage.

8۔ 1کرنتھیوں 15باب55، 57، 58آیات

55۔ اے موت تیری فتح کہاں رہی؟ اے موت تیرا ڈنک کہاں رہا؟ 

56۔ موت کا ڈنک گناہ ہے اور گناہ کا زورشریعت ہے۔ 

57۔مگر خدا کا شکر ہے جو ہمارے خداوند یسوع مسیح کے وسیلہ سے ہم کو فتح بخشتا ہے۔ 

58۔پس اے میرے عزیز بھائیو! ثابت قدم اور قائم رہو اور خداوند کے کام میں ہمیشہ افزائش کرتے رہو کیونکہ یہ جانتے ہو کہ تمہاری محنت خداوند میں بے فائدہ نہیں ہے۔

8. I Corinthians 15 : 55, 57, 58

55     O death, where is thy sting? O grave, where is thy victory?

57     But thanks be to God, which giveth us the victory through our Lord Jesus Christ.

58     Therefore, my beloved brethren, be ye stedfast, unmoveable, always abounding in the work of the Lord, forasmuch as ye know that your labour is not in vain in the Lord.

سائنس اور صح

1۔ 242: 9۔ 14

آسمان پر جانے کا واحد راستہ ہم آہنگی ہے اور مسیح الٰہی سائنس میں ہمیں یہ راستہ دکھاتا ہے۔ اس کا مطلب خدا، اچھائی اور اْس کے عکس کے علاوہ کسی اور حقیقت کو نہ جاننا، زندگی کے کسی اور ضمیر کو نا جاننا ہے، اور نام نہاد درد اور خوشی کے احساسات سے برتر ہونا ہے۔ 

1. 242 : 9-14

There is but one way to heaven, harmony, and Christ in divine Science shows us this way. It is to know no other reality — to have no other consciousness of life — than good, God and His reflection, and to rise superior to the so-called pain and pleasure of the senses.

2۔ 428: 3 صرف 

زندگی حقیقی ہے اور موت فریب نظری ہے۔

2. 428 : 3 only

Life is real, and death is the illusion.

3۔ 430: 2۔ 3، 7۔ 9

یسوع نے اس شفا، مرنے اورجی اْٹھنے کو ظاہر کیا۔

جب انسان موت پر اپنے یقین کو ترک کر دیتا ہے ، تو وہ مزید تیزی کے ساتھ خدا، زندگی اور محبت کی طرف بڑھے گا۔

3. 430 : 2-3, 7-9

Jesus demonstrated this, healing the dying and raising the dead.

When man gives up his belief in death, he will advance more rapidly towards God, Life, and Love.

4۔ 79: 5۔ 6

موت سے متعلق مریض کے خیالات کو تبدیل کرتے ہوئے صحت کی بحالی کے ہزار ہا واقعات کو بیان کیا جس سکتا ہے۔ 

4. 79 : 5-6

Thousands of instances could be cited of health restored by changing the patient's thoughts regarding death.

5۔ 428: 30۔ 6

مصنف نے نا اْمید عضوی بیماری کو شفا بخشی، اور صرف خدا کو ہی زندگی تصو کرنے کے باعث مرنے والے کو زندہ کیا۔ یہ یقین رکھنا گناہ ہے کہ کوئی چیز قادر مطلق اور ابدی زندگی کو زیر کرسکتی ہے ،اور یہ سمجھتے ہوئے کہ موت نہیں ہے اور اس کے ساتھ ساتھ روح کے دیگر فضائل کو سمجھنا زندگی میں روشنی لا سکتا ہے۔ تاہم ہمیں مزید اختیار کے سادہ اظہار کے ساتھ آغاز کرنا چاہئے، اور جتنا جلدی ہم یہ شروع کریں اْتنا ہی اچھا ہے۔ 

5. 428 : 30-6

The author has healed hopeless organic disease, and raised the dying to life and health through the understanding of God as the only Life. It is a sin to believe that aught can overpower omnipotent and eternal Life, and this Life must be brought to light by the understanding that there is no death, as well as by other graces of Spirit. We must begin, however, with the more simple demonstrations of control, and the sooner we begin the better.

6۔ 426: 8۔ 29

جب منزل ضروری ہوتو تو قعات ہماری ترقی کی رفتار بڑھاتی ہیں۔ سچائی کے لئے جدوجہد کسی شخص کو مضبوط بناتی ہے نہ کہ کمزور، آرام فراہم کرتی ہے نہ کہ تھکاوٹ۔ اگر موت پر یقین ختم ہو جائے اور یہ فہم اجاگر ہو جائے کہ موت بالکل نہیں ہے ، تو یہ ایک ’’حیات کا درخت ‘‘ ہوگا جو اپنے پھلوں سے پہچانا جاتا ہے۔ انسان کو اپنی توانائیوں اور کوششوں کی تجدید کرنی چاہئے اور جب وہ اپنی نجات کے لئے جدو جہد کرنے کی ضرورت سے متعلق سیکھتا ہے تو اْسے ریاکاری کی حماقت کو دیکھنا چاہئے۔ جب یہ سیکھ لیا جاتا ہے کہ بیماری زندگی کو نیست نہیں کر سکتی، اور یہ کہ بشر موت کے وسیلہ گناہ یا بیماری سے نہیں بچائے جا سکتے تو یہ ادراک زندگی کی جدت میں تیزی لائے گا۔ اس سے یہ موت کی خواہش یا قبر کے خوف میں مہارت لائے گا اور یوں یہ اْس بڑے ڈر کوتباہ کرے گا جو فانی وجود کا گھیراؤ کرتا ہے ۔

موت کے یقین اور اِ س کے ڈنک کے خوف کاضیاع صحت اور اخلاقیات کے معیار کو اس کی موجودہ بلندی سے کہیں اونچا کرے گا اور خدا ، ابدی زندگی، پر غیر متزلزل ایمان کے ساتھ ہمیں مسیحیت کے الم کو اونچا رکھنے کے قابل بنائے گا۔ گناہ موت کو لایا اور موت گناہ کے غائب ہونے پر خود بھی غائب ہوجائے گی۔ 

6. 426 : 8-29

When the destination is desirable, expectation speeds our progress. The struggle for Truth makes one strong instead of weak, resting instead of wearying one. If the belief in death were obliterated, and the understanding obtained that there is no death, this would be a "tree of life," known by its fruits. Man should renew his energies and endeavors, and see the folly of hypocrisy, while also learning the necessity of working out his own salvation. When it is learned that disease cannot destroy life, and that mortals are not saved from sin or sickness by death, this understanding will quicken into newness of life. It will master either a desire to die or a dread of the grave, and thus destroy the great fear that besets mortal existence.

The relinquishment of all faith in death and also of the fear of its sting would raise the standard of health and morals far beyond its present elevation, and would enable us to hold the banner of Christianity aloft with unflinching faith in God, in Life eternal. Sin brought death, and death will disappear with the disappearance of sin.

7۔ 203: 17۔ 25 (تا پہلا) ، 31۔ 2

ہم ایک اعلیٰ حاکم سے زیادہ یا خدا سے کم طاقت والے حاکم پر یقین کرنے کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ہم تصور کرتے ہیں کہ فہم حِسی بدن کا قیدی ہوسکتا ہے۔ جب مادی جسم فنا ہوچکا ہوتا ہے، جب بدی مادے میں زندگی کے یقین کو ناقابل برداشت بنا دیتی ہے اور اسے تباہ کر دیتی ہے تب بشر یہ مانتے ہیں کہ لازوال اصول، یا جان مادے سے فرار ہوتی اور زندہ رہتی ہے، لیکن یہ سچ نہیں ہے۔ موت ، زندگی، لافانیت اور فرحت کے لئے سہارا نہیں بنتی۔ 

خدا، الٰہی اچھائی، انسان کو ابدی زندگی دینے کے لئے اْسے ہلاک نہیں کرتا، کیونکہ خدا اکیلا ہی انسان کی زندگی ہے۔خدا بیک وقت وجود کا مرکز اور قطر بھی ہے۔ بدی مرتی ہے، اچھائی نہیں مرتی۔

7. 203 : 17-25 (to 1st .), 31-2

We are prone to believe either in more than one Supreme Ruler or in some power less than God. We imagine that Mind can be imprisoned in a sensuous body. When the material body has gone to ruin, when evil has overtaxed the belief of life in matter and destroyed it, then mortals believe that the deathless Principle, or Soul, escapes from matter and lives on; but this is not true. Death is not a stepping-stone to Life, immortality, and bliss.

God, divine good, does not kill a man in order to give him eternal Life, for God alone is man's life. God is at once the centre and circumference of being. It is evil that dies; good dies not.

8۔224: 8۔ 10

مخالفت اور موت کی بجائے زندگی اور امن کی شراکت کے ساتھ یہاں بے آزار ترقی ہونی چاہئے۔ 

8. 224 : 8-10

There should be painless progress, attended by life and peace instead of discord and death.

9۔ 290: 16۔ 22

اگر تبدیلی جسے موت کہا جاتا ہے گناہ، بیماری اور موت کے یقین کو تباہ کردیتی ہے تو اس شکست کے موقعہ پر خوشی فتح مند ہوتی ہے اور ہمیشہ کے لئے مستقل ہو جاتی ہے، لیکن ایسا ہوتا نہیں۔ کاملیت صرف کاملیت سے ہی حاصل ہوتی ہے۔ وہ جو ناراست ہیں تب تک ناراست ہی رہیں گے جب تک الٰہی سائنس میں مسیح یعنی سچائی تمام تر گناہ اور جہالت کو تلف نہیں کرتا۔ 

9. 290 : 16-22

If the change called death destroyed the belief in sin, sickness, and death, happiness would be won at the moment of dissolution, and be forever permanent; but this is not so. Perfection is gained only by perfection. They who are unrighteous shall be unrighteous still, until in divine Science Christ, Truth, removes all ignorance and sin.

10۔ 291: 1۔ 5، 9۔ 18، 28۔ 32

یہ قیاس آرائیاں کہ گناہ معاف کیا جاتا ہے لیکن بھولا نہیں جاتا، کہ گناہ کے دوران خوشی اصل ہو جاتی ہے، کہ جسم کی نام نہاد موت گناہ سے آزاد کر دیتی ہے اور یہ کہ خدا کی معافی گناہ کی تباہی کے علاوہ کچھ نہیں ہے، یہ سب گھمبیر غلطیاں ہیں۔ ۔۔ انسان کو یہ گمان رکھنا چاہئے کہ موت کے تجربہ کا یقین انہیں جلالی ہستی میں بیدار کرے گا۔

عالمگیر نجات ترقی اور امتحان پر مرکوز ہے، اور ان کے بغیر غیر ممکن الحصول ہے۔آسمان کوئی جگہ نہیں ، عقل کی الٰہی حالت ہے جس میں عقل کے تمام تر ظہور ہم آہنگ اور فانی ہوتے ہیں کیونکہ وہاں گناہ نہیں ہے اور انسان وہاں خود کی راستبازی کے ساتھ نہیں ’’خداوند کی سوچ‘‘ کی ملکیت میں پایا جاتا ہے جیسا کہ کلام یہ کہتا ہے۔ 

آخری عدالت انسانوں کا انتظار نہیں کرتی کیونکہ حکمت کا روزِ محشر ہمہ وقت اور متواتر طور پر جاری و ساری ہے، حتی کہ وہ عدالت بھی جس کے وسیلہ فانی انسان ساری مادی غلطی سے بے نقاب کیا جاتا ہے۔ جہاں تک روحانی غلطی کا تعلق ہے تو ایسا کچھ نہیں ہے۔ 

10. 291 : 1-5, 9-18, 28-32

The suppositions that sin is pardoned while unforsaken, that happiness can be genuine in the midst of sin, that the so-called death of the body frees from sin, and that God's pardon is aught but the destruction of sin, — these are grave mistakes. … Mortals need not fancy that belief in the experience of death will awaken them to glorified being.

Universal salvation rests on progression and probation, and is unattainable without them. Heaven is not a locality, but a divine state of Mind in which all the manifestations of Mind are harmonious and immortal, because sin is not there and man is found having no righteousness of his own, but in possession of "the mind of the Lord," as the Scripture says.

No final judgment awaits mortals, for the judgment-day of wisdom comes hourly and continually, even the judgment by which mortal man is divested of all material error. As for spiritual error there is none.

11۔ 76: 18 (دْکھ) ۔ 31

دْکھوں کے، گناہ کرنے کے، مرنے کے عقائد غیر حقیقی ہیں۔جب الٰہی سائنس کو عالمگیر طور پر سمجھا جاتا ہے تو اْن کا انسان پر کوئی اختیار نہیں ہوتا، کیونکہ انسان لافانی ہے اور الٰہی اختیار کے وسیلہ جیتا ہے۔

بے گناہ خوشی، زندگی کی کامل ہم آہنگی اور لافانیت، ایک بھی جسمانی تسکین یا درد کے بِنا لامحدود الٰہی خوبصورتی اور اچھائی کی ملکیت رکھتے ہوئے، اصلی اور لازوال انسان تشکیل دیتی ہے، جس کا وجود روحانی ہوتا ہے۔ وجودیت کی یہ حالت سائنسی ہے اور برقرار رہتی ہے، یعنی ایسی کاملیت جو محض اْن لوگوں کے لئے قابل فہم ہے جنہیں الٰہی سائنس میں مسیح کی حتمی سمجھ ہے۔ موت وجودیت کی اس حالت کو کبھی تیز نہیں کر سکتی کیونکہ لافانیت کے ظاہر ہونے سے قبل موت پر فتح مند ہونا چاہئے نہ کہ اْس کے سپرد ہونا چاہئے۔

11. 76 : 18 (Suffering)-31

Suffering, sinning, dying beliefs are unreal. When divine Science is universally understood, they will have no power over man, for man is immortal and lives by divine authority.

The sinless joy, — the perfect harmony and immortality of Life, possessing unlimited divine beauty and goodness without a single bodily pleasure or pain, — constitutes the only veritable, indestructible man, whose being is spiritual. This state of existence is scientific and intact, — a perfection discernible only by those who have the final understanding of Christ in divine Science. Death can never hasten this state of existence, for death must be overcome, not submitted to, before immortality appears.

12۔ 425: 24۔ 28

روحانی فہم کے ساتھ مادی یقین کو درست کریں تو روح آپ کو نیا بنا دے گی۔ آپ کو دوبارہ کسی چیز کا خوف نہیں رہے گا ماسوائے خدا کی مخالفت کے، اور آپ کبھی اس بات پر یقین نہیں کریں گے کہ آپ کا دل یا آپ کے بدن کا کوئی بھی حصہ آپ کو تباہ کرسکتا ہے۔ 

12. 425 : 24-28

Correct material belief by spiritual understanding, and Spirit will form you anew. You will never fear again except to offend God, and you will never believe that heart or any portion of the body can destroy you.

13۔ 427: 29۔ 2

یہاں اور آخرت میں موت کے خواب کی قیادت عقل کرتی ہے۔اپنے خود کے مادی ظہور سے سوچ ’’میں مردہ ہوں‘‘ جنم لے گی تاکہ سچائی کے اس گونج دار لفظ کو پکڑ سکے، ’’کوئی موت، بے عملی، بیماری والا عمل، رد عمل اور نہ ہی شدید رد عمل ہے۔‘‘

13. 427 : 29-2

The dream of death must be mastered by Mind here or hereafter. Thought will waken from its own material declaration, "I am dead," to catch this trumpet-word of Truth, "There is no death, no inaction, diseased action, overaction, nor reaction."

14۔ 406: 20(ہم) ۔ 25

ہم بالاآخر غلطی پر سچائی، موت پر زندگی اور بدی پر اچھائی کی برتری کی ہر سمت میں خود کو فائدہ پہنچانے کےلئے اٹھ کھڑے ہوسکتے ہیں اور ہوں گے، اور یہ ترقی تب تک جاری رہے گی جب تک ہم مسیح کے خیال کی کلیت تک نہیں پہنچتے اور مزید یہ خوف نہیں رہتا کہ ہم بیمار ہو جائیں گے اور مر جائیں گے۔ 

14. 406 : 20 (We)-25

We can, and ultimately shall, so rise as to avail ourselves in every direction of the supremacy of Truth over error, Life over death, and good over evil, and this growth will go on until we arrive at the fulness of God's idea, and no more fear that we shall be sick and die.

15۔ 596: 21۔ 27

’’بلکہ خواہ موت کے سایہ کی وادی میں سے میرا گزر ہو میں کسی بلا سے نہیں ڈرونگا۔‘‘(زبور 23: 4آیت)

اگرچہ بشری سوچ کے مطابق رستہ تاریک ہے تاہم الٰہی حیاتی اور محبت اسے روشن کرتی ہے اور بشری تصورکی بد امنی، موت کے خوف، اور غلطی کی فرضی حقیقت کو نیست کرتی ہے۔ کرسچن سائنس، حواس کی مخالفت کرتے ہوئے، وادی کو گلاب کی مانند پھوٹنے اور کھِلنے کے لئے تیار کرتی ہے۔  

15. 596 : 21-27

"Though I walk through the valley of the shadow of death, I will fear no evil." (Psalm xxiii. 4.)

Though the way is dark in mortal sense, divine Life and Love illumine it, destroy the unrest of mortal thought, the fear of death, and the supposed reality of error. Christian Science, contradicting sense, maketh the valley to bud and blossom as the rose.

روز مرہ کے فرائ

منجاب میری بیکر ایڈ

روز مرہ کی دعا

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ ہر روز یہ دعا کرے: ’’تیری بادشاہی آئے؛‘‘ الٰہی حق، زندگی اور محبت کی سلطنت مجھ میں قائم ہو، اور سب گناہ مجھ سے خارج ہو جائیں؛ اور تیرا کلام سب انسانوں کی محبت کو وافر کرے، اور اْن پر حکومت کرے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 4۔

مقاصد اور اعمال کا ایک اصول

نہ کوئی مخالفت نہ ہی کوئی محض ذاتی وابستگی مادری چرچ کے کسی رکن کے مقاصد یا اعمال پر اثر انداز نہیں ہونی چاہئے۔ سائنس میں، صرف الٰہی محبت حکومت کرتی ہے، اور ایک مسیحی سائنسدان گناہ کو رد کرنے سے، حقیقی بھائی چارے ، خیرات پسندی اور معافی سے محبت کی شیریں آسائشوں کی عکاسی کرتا ہے۔ اس چرچ کے تمام اراکین کو سب گناہوں سے، غلط قسم کی پیشن گوئیوں،منصفیوں، مذمتوں، اصلاحوں، غلط تاثر ات کو لینے اور غلط متاثر ہونے سے آزاد رہنے کے لئے روزانہ خیال رکھنا چاہئے اور دعا کرنی چاہئے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 1۔

فرض کے لئے چوکس

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ وہ ہر روز جارحانہ ذہنی آراء کے خلاف خود کو تیار رکھے، اور خدا اور اپنے قائد اور انسانوں کے لئے اپنے فرائض کو نہ کبھی بھولے اور نہ کبھی نظر انداز کرے۔ اس کے کاموں کے باعث اس کا انصاف ہوگا، وہ بے قصور یا قصوارہوگا۔ 

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 6۔