اتوار 28 اگست، 2022



مضمون۔ مسیح یسوع

SubjectChrist Jesus

سنہری متن: مکاشفہ 22باب16 آیت

”مَیں یسوع داؤد کی اصل و نسل اور صبح کا چمکتا ہوا ستارہ ہوں۔“



Golden Text: Revelation 22 : 16

I Jesus am the root and the offspring of David, and the bright and morning star.





سبق کی آڈیو کے لئے یہاں کلک کریں

یوٹیوب سے سننے کے لئے یہاں کلک کریں

████████████████████████████████████████████████████████████████████████


جوابی مطالعہ: مکاشفہ 19 باب11تا16 آیات


11۔ پھر میں نے آسمان کو کھْلا ہوا دیکھا اور کیا دیکھتا ہوں کہ ایک سفید گھوڑا ہے اور اْس پر ایک سوار ہے جو سچا اور برحق کہلاتا ہے اور وہ راستی کے ساتھ انصاف اور لڑائی کرتا ہے۔

12۔ اور اْس کی آنکھیں آگ کے شعلے ہیں اور اْس کے سر پر بہت سے تاج ہیں اور اْس کا ایک نام لکھا ہوا ہے جسے اْس کے سوا اور کوئی نہیں جانتا۔

13۔ اور وہ خون کی چھِڑکی ہوئی پوشاک پہنے ہوئے ہے اور اْس کا نام کلامِ خدا کہلاتا ہے۔

14۔ اور آسمان کی فوجیں سفید گھوڑوں پر سوار اور سفید صاف مہین کتانی کپڑے پہنے ہوئے اْس کے پیچھے پیچھے ہیں۔

15۔اور قوموں کے مارنے کے لئے اْس کے منہ سے ایک تیز تلوار نکلتی ہے اور وہ لوہے کے عصا سے اْس پر حکومت کرے گا اور قادر مطلق خدا کی سخت غضب کی مے کے حوض میں انگور روندے گا۔

16۔اور اْس کی پوشاک اور ان پر یہ نام لکھا ہوا ہے کہ بادشاہوں کا بادشاہ اور خداوندوں کا خداوند۔

Responsive Reading: Revelation 19 : 11-16

11.     And I saw heaven opened, and behold a white horse; and he that sat upon him was called Faithful and True, and in righteousness he doth judge and make war.

12.     His eyes were as a flame of fire, and on his head were many crowns; and he had a name written, that no man knew, but he himself.

13.     And he was clothed with a vesture dipped in blood: and his name is called The Word of God.

14.     And the armies which were in heaven followed him upon white horses, clothed in fine linen, white and clean.

15.     And out of his mouth goeth a sharp sword, that with it he should smite the nations: and he shall rule them with a rod of iron: and he treadeth the winepress of the fierceness and wrath of Almighty God.

16.     And he hath on his vesture and on his thigh a name written, KING OF KINGS, AND LORD of LORDS.



درسی وعظ



بائبل


درسی وعظ

بائبل

1 . ۔ یسعیاہ 11 باب1تا6، 9 آیات

1۔ اور یسی کے تنے سے ایک کونپل نکلے گی اور اْس کی جڑوں سے ایک بار آور شاخ پیدا ہوگی۔

2۔ اور خداوند کی روح اْس پر ٹھہرے گی۔ حکمت اور خرد کی روح، مصلحت اور قدرت کی روح، معرفت اور خداوند کے خوف کی روح۔

3۔ اور اْس کی شادمانی خداوند کے خوف میں ہوگی اور وہ نہ اپنی آنکھوں کے دیکھنے کے مطابق انصاف کرے گا اور نہ اپنے کانوں کے سننے کے مطابق فیصلہ کرے گا۔

4۔ بلکہ وہ راستی سے مسکینوں کا انصاف کرے گا اور عدل سے زمین کے خاکساروں کا فیصلہ کرے گا اور اپنی زبان کے عصا سے زمین کو مارے گا اور اپنے لبوں کے دم سے شریروں کو فنا کر ڈالے گا۔

5۔ اور اْس کی کمرکا پٹکا راستبازی ہوگی اور اْس کے پہلو پر راستبازی کا پٹکا ہوگا۔

6۔ پس بھیڑیا برے کے ساتھ رہے گا اور چیتا بکری کے بچے کے ساتھ بیٹھے گا اور بچھڑا اور شیر بچہ اور پلا ہوا بیل مل جل کر رہیں گے اور ننھا بچہ اْن کی پیش روی کرے گا۔

9۔ وہ میرے تمام کوہ مقدس پر نہ ضرر پہنچائیں گے نہ ہلاک کریں گے کیونکہ جس طرح سمندر پانی سے بھرا ہے اْسی طرح زمین خداوند کے عرفان سے معمور ہوگی۔

1. Isaiah 11 : 1-6, 9

1     And there shall come forth a rod out of the stem of Jesse, and a Branch shall grow out of his roots:

2     And the spirit of the Lord shall rest upon him, the spirit of wisdom and understanding, the spirit of counsel and might, the spirit of knowledge and of the fear of the Lord;

3     And shall make him of quick understanding in the fear of the Lord: and he shall not judge after the sight of his eyes, neither reprove after the hearing of his ears:

4     But with righteousness shall he judge the poor, and reprove with equity for the meek of the earth: and he shall smite the earth with the rod of his mouth, and with the breath of his lips shall he slay the wicked.

5     And righteousness shall be the girdle of his loins, and faithfulness the girdle of his reins.

6     The wolf also shall dwell with the lamb, and the leopard shall lie down with the kid; and the calf and the young lion and the fatling together; and a little child shall lead them.

9     They shall not hurt nor destroy in all my holy mountain: for the earth shall be full of the knowledge of the Lord, as the waters cover the sea.

2 . ۔ مرقس 1 باب1، 9تا11 آیات

1۔ یسوع مسیح ابن خدا کی خوشخبری کا شروع۔

9۔ اور اْن دنوں ایسا ہوا کہ یسوع نے گلیل کے ناصرت سے آکر یردن میں یوحنا سے بپتسمہ لیا۔

10۔ اور جب وہ پانی سے نکل کر اوپر آیا تو فی الفور اْس نے آسمان کو پھٹتے اور روح کو کبوتر کی مانند اپنے اوپر اْترتے دیکھا۔

11۔ اور آسمان سے آواز آئی کہ تْو میرا پیارا بیٹا ہے۔ تجھ سے مَیں خوش ہوں۔

2. Mark 1 : 1, 9-11

1     The beginning of the gospel of Jesus Christ, the Son of God;

9     And it came to pass in those days, that Jesus came from Nazareth of Galilee, and was baptized of John in Jordan.

10     And straightway coming up out of the water, he saw the heavens opened, and the Spirit like a dove descending upon him:

11     And there came a voice from heaven, saying, Thou art my beloved Son, in whom I am well pleased.

3 . ۔ یوحنا 1 باب43تا49 آیات

43۔ دوسرے دن یسوع نے گلیل میں جانا چاہا اور فِلپس سے مل کر کہا میرے پیچھے ہو لے۔

44۔ فلپس اندریاس اور پطرس کے شہر بیت صیدا کا باشندہ تھا۔

45۔ فِلپس نے نِتن ایل سے مل کر اْس سے کہا کہ جس کا ذکر موسیٰ نے توریت میں اور نبیوں نے کیا ہے وہ ہم کو مل گیا۔ وہ یوسف کا بیٹا یسوع ناصری ہے۔

46۔ نتن ایل نے اْس سے کہا کیا ناصرت سے کوئی اچھی چیز نکل سکتی ہے؟ فِلپس نے کہا چل کر دیکھ لے۔

47۔ یسوع نے نتن ایل کو اپنی طرف آتے دیکھ کر اْس کے حق میں کہا دیکھو! یہ فی الحقیقت اسرائیلی ہے۔ اِس میں مکر نہیں۔

48۔ نتن ایل نے اْس سے کہا تْو مجھے کہاں سے جانتا ہے؟ یسوع نے اْس کے جواب میں کہا اِس سے پہلے کہ فِلپس نے تجھے بلایا جب تْو انجیر کے درخت کے نیچے تھا مَیں نے تجھے دیکھا۔

49۔ نتن ایل نے اْس کو جواب دیا اے ربی! تْو اسرائیل کا بادشاہ ہے۔

3. John 1 : 43-49

43     The day following Jesus would go forth into Galilee, and findeth Philip, and saith unto him, Follow me.

44     Now Philip was of Bethsaida, the city of Andrew and Peter.

45     Philip findeth Nathanael, and saith unto him, We have found him, of whom Moses in the law, and the prophets, did write, Jesus of Nazareth, the son of Joseph.

46     And Nathanael said unto him, Can there any good thing come out of Nazareth? Philip saith unto him, Come and see.

47     Jesus saw Nathanael coming to him, and saith of him, Behold an Israelite indeed, in whom is no guile!

48     Nathanael saith unto him, Whence knowest thou me? Jesus answered and said unto him, Before that Philip called thee, when thou wast under the fig tree, I saw thee.

49     Nathanael answered and saith unto him, Rabbi, thou art the Son of God; thou art the King of Israel.

4 . ۔ یوحنا 2 باب1تا11، 13تا16 آیات

1۔ پھر تیسرے دن قانائے گلیل میں شادی ہوئی اور یسوع کی ماں وہاں تھی۔

2۔ اور یسوع اور اْس کے شاگردوں کی بھی اْس شادی میں دعوت تھی۔

3۔ اور جب مَے ختم ہو چکی تو یسوع کی ماں نے اْس سے کہا کہ اْن کے پاس مَے نہیں رہی۔

4۔ یسوع نے اْس سے کہااے عورت مجھے تجھ سے کیا کام ہے؟ ابھی میرا وقت نہیں آیا۔

5۔ اْس کی ماں نے خادموں سے کہا جو کچھ یہ تم سے کہے وہ کرو۔

6۔ وہاں یہودیوں کی طہارت کے دستور کے موافق پتھر کے چھے مٹکے رکھے تھے اور اْن میں دو دو تین تین من کی گنجائش تھی۔

7۔ یسوع نے اْن سے کہا مٹکوں میں پانی بھر دو۔ پس اْنہوں نے اْن کو لبالب بھر دیا۔

8۔ پھر اْس نے اْن سے کہا اب نکال کر میرِمجلس کے پاس لے جاؤ۔ پس وہ لے گئے۔

9۔ جب میرِمجلس نے وہ پانی چکھا جو مَے بن گیا تھا اور جانتانہ تھا کہ یہ کہاں سے آئی ہے (مگر خادم جنہوں نے پانی بھرا تھا جانتے تھے)تو میرِ مجلس نے دلہا کو بلا کراْس سے کہا۔

10۔ ہر شخص پہلے اچھی مَے پیش کرتا ہے اور ناقص اْس وقت جب پی کر چھک گئے مگر تْو نے اچھی مَے اب تک رکھ چھوڑی ہے۔

11۔ یہ پہلا معجزہ یسوع نے قانائے گلیل میں دکھا کر اپنا جلال ظاہر کیا اور اْس کے شاگرد اْس پر ایمان لائے۔

13۔ یہودیوں کی عیدِ فسح نزدیک تھی اور یسوع یروشلیم کو گیا۔

14۔ اور اْس نے ہیکل میں بیل اور بھیڑ اور کبوتر بیچنے والوں کو اور صرافوں کو بیٹھے دیکھا۔

15۔ اور رسیوں کا کوڑا بنا کر سب کو یعنی بھیڑوں اور بیلوں کو ہیکل سے نکال دیا اور صرافوں کی نقدی بکھیر دی اور اْن کے تختے اْلٹ دئے۔

16۔ اور کبوتر فروشوں سے کہا اِن کو یہاں سے لے جاؤ۔ میرے باپ کے گھر کو تجارت کا گھر نہ بناؤ۔

4. John 2 : 1-11, 13-16

1     And the third day there was a marriage in Cana of Galilee; and the mother of Jesus was there:

2     And both Jesus was called, and his disciples, to the marriage.

3     And when they wanted wine, the mother of Jesus saith unto him, They have no wine.

4     Jesus saith unto her, Woman, what have I to do with thee? mine hour is not yet come.

5     His mother saith unto the servants, Whatsoever he saith unto you, do it.

6     And there were set there six waterpots of stone, after the manner of the purifying of the Jews, containing two or three firkins apiece.

7     Jesus saith unto them, Fill the waterpots with water. And they filled them up to the brim.

8     And he saith unto them, Draw out now, and bear unto the governor of the feast. And they bare it.

9     When the ruler of the feast had tasted the water that was made wine, and knew not whence it was: (but the servants which drew the water knew;) the governor of the feast called the bridegroom,

10     And saith unto him, Every man at the beginning doth set forth good wine; and when men have well drunk, then that which is worse: but thou hast kept the good wine until now.

11     This beginning of miracles did Jesus in Cana of Galilee, and manifested forth his glory; and his disciples believed on him.

13     And the Jews’ passover was at hand, and Jesus went up to Jerusalem,

14     And found in the temple those that sold oxen and sheep and doves, and the changers of money sitting:

15     And when he had made a scourge of small cords, he drove them all out of the temple, and the sheep, and the oxen; and poured out the changers’ money, and overthrew the tables;

16     And said unto them that sold doves, Take these things hence; make not my Father’s house an house of merchandise.

5 . ۔ مرقس 1 باب32تا39 آیات

32۔ شام کو جب سورج ڈوب گیا تو لوگ سب بیماروں کو اور اْن کو جن میں بدروحیں تھیں اْس کے پاس لائے۔

33۔ اور سارا شہر دروازے پر جمع ہو گیا۔

34۔ اور اْس نے بہتوں کو جو طرح طرح کی بیماریوں میں گرفتار تھے اچھا کیا اور بہت سی بدروحوں کو نکالا اور بد روحوں کو بولنے نہ دیا کیونکہ وہ اْس کو پہچانتی تھیں۔

35۔ اور صبح ہی دن نکلنے سے بہت پہلے وہ اْٹھ کر نکلا اور ایک ویران جگہ میں گیا اور وہاں دعا کی۔

36۔ اور شمعون اور اْس کے ساتھی پیچھے گئے۔

37۔ اور جب وہ ملا تو اْس سے کہا کہ سب لوگ تجھے ڈھونڈ رہے ہیں۔

38۔ اْس نے اْن سے کہا آؤ ہم اور کہیں آس پاس کے شہروں میں چلیں تاکہ مَیں وہاں بھی منادی کروں کیونکہ مَیں اِسی لئے نکلا ہوں۔

39۔ اور وہ تمام گلیل میں اْن کے عبادت خانوں میں جا جا کر منادی کرتا اور بدروحوں کو نکالتا رہا۔

5. Mark 1 : 32-39

32     And at even, when the sun did set, they brought unto him all that were diseased, and them that were possessed with devils.

33     And all the city was gathered together at the door.

34     And he healed many that were sick of divers diseases, and cast out many devils; and suffered not the devils to speak, because they knew him.

35     And in the morning, rising up a great while before day, he went out, and departed into a solitary place, and there prayed.

36     And Simon and they that were with him followed after him.

37     And when they had found him, they said unto him, All men seek for thee.

38     And he said unto them, Let us go into the next towns, that I may preach there also: for therefore came I forth.

39     And he preached in their synagogues throughout all Galilee, and cast out devils.

6 . ۔ متی 11 باب2تا6 آیات

2۔ اور یوحنا نے قید خانہ میں مسیح کے کاموں کا حال سن کر اپنے دو شاگردوں کی معرفت اْس سے پْچھوا بھیجا۔

3۔ کہ آنے والا تْو ہی ہے یا ہم دوسرے کی راہ دیکھیں؟

4۔ یسوع نے جواب میں اْن سے کہا کہ جو کچھ تم سنتے اور دیکھتے ہو جا کر یوحنا سے بیان کرو۔

5۔ کہ اندھے دیکھتے اور لنگڑے چلتے پھرتے ہیں۔ کوڑھی پاک صاف کئے جاتے اور بہرے سنتے اور مردے زندہ کئے جاتے ہیں اور غریبوں کو خوشخبری سنائی جاتی ہے۔

6۔ اور مبارک ہے وہ جو میرے سبب سے ٹھوکر نہ کھائے۔

6. Matthew 11 : 2-6

2     Now when John had heard in the prison the works of Christ, he sent two of his disciples,

3     And said unto him, Art thou he that should come, or do we look for another?

4     Jesus answered and said unto them, Go and shew John again those things which ye do hear and see:

5     The blind receive their sight, and the lame walk, the lepers are cleansed, and the deaf hear, the dead are raised up, and the poor have the gospel preached to them.

6     And blessed is he, whosoever shall not be offended in me.

7 . ۔ یوحنا 21 باب25 آیت

25۔ اَور بھی بہت سے کام ہیں جو یسوع نے کئے۔ اگر وہ جدا جدا لکھے جاتے تو مَیں سمجھتا ہوں جو کتابیں لکھی جاتیں اْن کے لئے دنیا میں گنجائش نہ ہوتی۔آمین۔

7. John 21 : 25

25     And there are also many other things which Jesus did, the which, if they should be written every one, I suppose that even the world itself could not contain the books that should be written. Amen.



سائنس اور صح


1 . ۔ 583 :10۔11

مسیح۔ خدا کا الٰہی اظہار، جو مجسم غلطی کو نیست کرنے کے لئے بدن کی صورت میں آتا ہے۔

1. 583 : 10-11

Christ. The divine manifestation of God, which comes to the flesh to destroy incarnate error.

2 . ۔ 589 :16۔18

یسوع۔ الٰہی خیال کا بلند ترین انسانی جسمانی تصور، غلطی کو ملامت کرتے اور نیست کرتے ہوئے اور انسانی لافانیت کو روشنی میں لاتے ہوئے۔

2. 589 : 16-18

Jesus. The highest human corporeal concept of the divine idea, rebuking and destroying error and bringing to light man's immortality.

3 . ۔ 26 :10۔18، 28۔9

مسیح روح تھا جسے یسوع نے اپنے خود کے بیانات میں تقویت دی: ”راہ، حق اور زندگی مَیں ہوں“؛ ”مَیں اور میرا باپ ایک ہیں۔“ یہ مسیح، یا انسان یسوع کی الوہیت اْس کی فطرت، خدائی تھی جس نے اْسے متحرک رکھا۔الٰہی حق، زندگی اور محبت نے یسوع کو گناہ، بیماری اور موت پر اختیار دیا۔ اْس کا مقصد آسمانی ہستی کی سائنس کو ظاہر کرنا تھا تاکہ اِسے ثابت کرے جو خدا ہے اور جو وہ انسان کے لئے کرتا ہے۔

ہمارے مالک نے محض نظریے، عقیدے یا ایمان کی تعلیم نہیں دی۔یہ الٰہی اصول کی مکمل ہستی تھی جس کی اْس نے تعلیم دی اور مشق کی۔ مسیحیت کے لئے اْس کا ثبوت مذہب اور عبادت کا کوئی نظام یا شکل نہیں تھی، بلکہ یہ کرسچن سائنس تھی جو زندگی اور محبت کی ہم آہنگی پر عمل کرتی ہے۔ یسوع نے یوحنا بپتسمہ دینے والے کے لئے ایک پیغام بھیجا جس کا مقصد ایک سوال سے کہیں بڑھ کر یہ ثابت کرنا تھا کہ مسیح آچکا تھا: ”جو کچھ تم دیکھتے اور سْنتے ہو جا کر یوحنا سے بیان کردو۔ کہ اندھے دیکھتے اور لنگڑے چلتے پھرتے ہیں۔ کوڑھی پاک صاف کئے جاتے اور بہرے سْنتے ہیں اور مردے زندہ کئے جاتے ہیں اور غریبوں کو خوشخبری سنائی جاتی ہے۔“دوسرے الفاظ میں: یوحنا کو بتا دو کہ الٰہی قوت کا اظہار کیا ہے؛ تو وہ فوراً سمجھ جائے گا کہ مسیحائی کام میں خدا ایک طاقت ہے۔

3. 26 : 10-18, 28-9

The Christ was the Spirit which Jesus implied in his own statements: "I am the way, the truth, and the life;" "I and my Father are one." This Christ, or divinity of the man Jesus, was his divine nature, the godliness which animated him. Divine Truth, Life, and Love gave Jesus authority over sin, sickness, and death. His mission was to reveal the Science of celestial being, to prove what God is and what He does for man.

Our Master taught no mere theory, doctrine, or belief. It was the divine Principle of all real being which he taught and practised. His proof of Christianity was no form or system of religion and worship, but Christian Science, working out the harmony of Life and Love. Jesus sent a message to John the Baptist, which was intended to prove beyond a question that the Christ had come: "Go your way, and tell John what things ye have seen and heard; how that the blind see, the lame walk, the lepers are cleansed, the deaf hear, the dead are raised, to the poor the gospel is preached." In other words: Tell John what the demonstration of divine power is, and he will at once perceive that God is the power in the Messianic work.

4 . ۔ 31 :12۔17

مسیحی فرائض کی فہرست میں سب سے پہلا فرض جواْس نے اپنے پیروکاروں کوسکھایا وہ سچائی اور محبت کی شفائیہ قوت ہے۔ اْس نے بے جان رسموں کو کوئی اہمیت نہیں دی۔ یہ زندہ مسیح، عملی سچائی ہی ہے جو مسیح کو اْن سب کے لئے ”قیامت اور زندگی“ بناتا ہے جو کاموں میں اْس کی پیروی کرتے ہیں۔

4. 31 : 12-17

First in the list of Christian duties, he taught his followers the healing power of Truth and Love. He attached no importance to dead ceremonies. It is the living Christ, the practical Truth, which makes Jesus "the resurrection and the life" to all who follow him in deed.

5 . ۔ 473 :7۔25

الٰہی اصول ہر جا موجود اور قادرِمطلق ہے۔خدا ہر جگہ موجود ہے اور اْس سے جْدا کوئی موجود نہیں ہے یا کوئی طاقت نہیں ہے۔ مسیح ایک مثالی سچائی ہے، جو کرسچن سائنس کے وسیلہ بیماری اور گناہ سے شفا دینے کو آتی ہے، اور ساری طاقت خدا کو منسوب کرتی ہے۔یسوع مسیح اْس شخص کا نام ہے جس نے بیماراور گناہگار کو شفا دینے سے اور موت کی طاقت کو تباہ کرنے سے مسیح کو دوسرے آدمیوں کی نسبت زیادہ پیش کیا۔ یسوع انسانی آدمی ہے اور مسیح الٰہی خیال؛ اِس لئے یہ یسوع مسیح کی دْکڑی ہے۔

کلیسیائی جبر کے دور میں، یسوع نے، مسیحت کی سچائی اور محبت کے ثبوت کی استطاعت رکھتے ہوئے، مسیحت کی تعلیم اور مشق متعارف کروائی؛ مگر اْس کے نمونے تک پہنچنے کے لئے اور اْس کے اصول کے مطابق غلطی سے مبرا سائنس کو آزمانے کے لئے، بیماری، گناہ اور موت سے شفا دیتے ہوئے، انسانی یسوع یا اْس کی شخصیت کی بجائے خدا کو بطور الٰہی اصول اور محبت بہتر سمجھنے کی ضرورت ہے۔

5. 473 : 7-25

The God-principle is omnipresent and omnipotent. God is everywhere, and nothing apart from Him is present or has power. Christ is the ideal Truth, that comes to heal sickness and sin through Christian Science, and attributes all power to God. Jesus is the name of the man who, more than all other men, has presented Christ, the true idea of God, healing the sick and the sinning and destroying the power of death. Jesus is the human man, and Christ is the divine idea; hence the duality of Jesus the Christ.

In an age of ecclesiastical despotism, Jesus introduced the teaching and practice of Christianity, affording the proof of Christianity's truth and love; but to reach his example and to test its unerring Science according to his rule, healing sickness, sin, and death, a better understanding of God as divine Principle, Love, rather than personality or the man Jesus, is required.

6 . ۔ 53 :4 (یہاں)۔7

۔۔۔یہاں ناصری کی مانند بھوک اور جذبات سے عاری انسان کبھی نہیں رہتا رہا۔ اْس نے واضح طور پر اور بغیر ہچکچاہٹ کے گناہگاروں کو ملامت کیا، کیونکہ وہ اْن کا دوست تھا، اِس لئے اْس نے وہ پیالہ پیا۔

6. 53 : 4 (there)-7

… there never lived a man so far removed from appetites and passions as the Nazarene. He rebuked sinners pointedly and unflinchingly, because he was their friend; hence the cup he drank.

7 . ۔ 7: 1۔7

غلطی کے لئے جو واحد سزائے موت اْس نے دی وہ تھی، ”اے شیطان، میرے سامنے سے دور ہو۔“اس بات کی مزید تصدیق کہ یسوع کی سرزنش بہت نوکیلی اور چْبھنے والی تھی اْس کے اپنے الفاظ میں پائی جاتی ہے، اس قدر شدید بیان کو ضروری ثابت کرتے ہوئے، جب اْس نے بدروحوں کو نکالا اور بیمار اور گناہگار کو شفا دی۔غلطی کی دستبرداری مادی فہم کو اِس کے جھوٹے دعووں سے محروم کرتی ہے۔

7. 7 : 1-7

The only civil sentence which he had for error was, "Get thee behind me, Satan." Still stronger evidence that Jesus' reproof was pointed and pungent is found in his own words, — showing the necessity for such forcible utterance, when he cast out devils and healed the sick and sinning. The relinquishment of error deprives material sense of its false claims.

8 . ۔ 51 :19۔24، 28۔8

اْس کا کامل نمونہ ہم سب کی نجات کے لئے تھا، مگر صرف وہ کام کرنے کے وسیلہ سے جو اْس نے کئے اور دوسروں کو اْن کی تعلیم دی۔شفا میں اْس کا مقصد محض صحت کو بحال کرنا ہی نہیں بلکہ اپنے الٰہی اصول کو ظاہر کرنا بھی تھا۔ جو کچھ اْس نے کہا اور کیا اْس میں وہ خدا سے، سچائی اور محبت سے متاثر تھا۔

یسوع بے غرض تھا۔ اْس کی روحانیت نے اْسے حسی لوگوں سے منفرد رکھا، اور خود غرض مادی لوگوں کی اْس کے لئے نفرت کا سبب بھی یہی بنی؛ مگر یہ اْس کی روحانیت ہی تھی جس نے یسوع کو بیمار کو شفا دینے، بدروح کو نکالنے اور مردوں کو زندہ کرنے کے قابل بنایا۔

وہ اپنے لڑکپن کی ابتدا ہی سے ”باپ کے کام“ میں لگ گیا تھا۔ اْس کے مشاغل دوسروں سے بہت منفرد تھے۔ اْس کا مالک روح تھا؛ جب کہ دوسروں کا مالک مادا تھا۔ وہ خدا کی خدمت کرتا؛ وہ حرص کی خدمت کرتے۔ اْس کے جذبات پاکیزہ تھے؛ اْن کے جسمانی تھے۔ اْس کے حواس صحت، پاکیزگی اور زندگی کی روحانی گواہی میں گْم ہو چکے تھے؛ اْن کے حواس متضاد تصدیق کرتے ہیں، اور وہ گناہ، بیماری اور موت کی مادی گواہی میں محوہوتے ہیں۔

8. 51 : 19-24, 28-8

His consummate example was for the salvation of us all, but only through doing the works which he did and taught others to do. His purpose in healing was not alone to restore health, but to demonstrate his divine Principle. He was inspired by God, by Truth and Love, in all that he said and did.

Jesus was unselfish. His spirituality separated him from sensuousness, and caused the selfish materialist to hate him; but it was this spirituality which enabled Jesus to heal the sick, cast out evil, and raise the dead.

From early boyhood he was about his "Father's business." His pursuits lay far apart from theirs. His master was Spirit; their master was matter. He served God; they served mammon. His affections were pure; theirs were carnal. His senses drank in the spiritual evidence of health, holiness, and life; their senses testified oppositely, and absorbed the material evidence of sin, sickness, and death.

9 . ۔ 52 :19۔28

”غمزدہ شخص“ مادی زندگی اور ذہانت کے عدم کواور قادر جامع خدا، اچھائی کی قادر حقیقت کو بہتر طور پر سمجھا۔ شفائیہ عقل یا کرسچن سائنس کے یہ دوافضل نکات ہیں جنہوں نے اْسے محبت سے مسلح کیا۔خدا کے اعلیٰ ترین نمائندے نے، الٰہی اصول کی عکاسی کے لئے انسانی قابلیت سے متعلق بات کرتے ہوئے، اپنے شاگردوں سے پیشن گوئی کے طور پر، نہ صرف اپنے دور بلکہ ہر دور کے لئے کہا: ”جو مجھ پر ایمان رکھتا ہے یہ کام جو مَیں کرتا ہوں وہ بھی کرے گا؛“ اور ”ایمان لانے والوں کے درمیان یہ معجزے ہوں گے۔“

9. 52 : 19-28

The "man of sorrows" best understood the nothingness of material life and intelligence and the mighty actuality of all-inclusive God, good. These were the two cardinal points of Mind-healing, or Christian Science, which armed him with Love. The highest earthly representative of God, speaking of human ability to reflect divine power, prophetically said to his disciples, speaking not for their day only but for all time: "He that believeth on me, the works that I do shall he do also;" and "These signs shall follow them that believe."

10 . ۔ 40 :25۔30

ہمارا آسمانی باپ، الٰہی محبت، یہ مطالبہ کرتا ہے کہ ہمیں ہمارے مالک اور اْس کے شاگردوں کے نمونے کی پیروی کرنی چاہئے اور صرف اْس کی شخصیت کی عبادت نہیں کرنی چاہئے۔ یہ بات افسوس ناک ہے کہ الٰہی خدمت کا جملہ عام طور پر روز مرہ کے اعمال کی بجائے عوامی عبادت کے معنوں کے ساتھ آیا ہے۔

10. 40 : 25-30

Our heavenly Father, divine Love, demands that all men should follow the example of our Master and his apostles and not merely worship his personality. It is sad that the phrase divine service has come so generally to mean public worship instead of daily deeds.

11 . ۔ 41 :6۔7

ہمارے مالک کی طرح، ہمیں بھی مادی فہم سے ہستی کے روحانی فہم کی جانب رْخصت ہونا چاہئے۔

11. 41 : 6-7

Like our Master, we must depart from material sense into the spiritual sense of being.

12 . ۔ 28 :15۔24

یسوع کی نہ تو پیدائش، کردار اور نہ ہی کام عمومی طور پر سمجھا گیا۔ اْس کی فطرت کے ایک بھی جزو کومادی دنیا نے صحیح نہ مانا۔ حتیٰ کہ اْس کی راستی اور پاکیزگی نے بھی آدمیوں کو یہ کہنے سے باز نہ رکھا کہ: یہ پیٹو اور ناپاک لوگوں کا دوست ہے اور بعلزبول اِس کا سر پرست ہے۔

یاد رکھ اے مسیحی شہید کہ اتنا ہی کافی ہے اگر تم خود کو اپنے مالک کی جوتی کا تسمہ کھولنے کے لائق بھی پاؤ۔

12. 28 : 15-24

Neither the origin, the character, nor the work of Jesus was generally understood. Not a single component part of his nature did the material world measure aright. Even his righteousness and purity did not hinder men from saying: He is a glutton and a friend of the impure, and Beelzebub is his patron.

Remember, thou Christian martyr, it is enough if thou art found worthy to unloose the sandals of thy Master's feet!

13 . ۔ 55 :15۔26

سچائی کا لافانی نظریہ،اپنے پروں تلے بیماروں اور گناہگاروں کو یکجا کرتے ہوئے،صدیوں کا احاطہ کررہا ہے۔میری خستہ حال امید اْس خوشی کے دن کا احساس دلانے کی کوشش کرتی ہے، جب انسان مسیح کی سائنس کو سمجھے گا اور اپنے پڑوسی سے اپنی مانند محبت رکھے گا، جب وہ یہ جانے گا کہ خدا قادر مطلق ہے اور جو کچھ اْس نے انسان کے لئے کیا ہے اور کر رہا ہے اْس میں الٰہی محبت کی شفائیہ طاقت کو جانے گا۔ وعدے پورے کئے جائیں گے۔ الٰہی شفا کے دوبارہ ظاہر ہونے کا وقت ہمہ وقت ہوتا ہے؛ اور جو کوئی بھی اپنازمینی سب کچھ الٰہی سائنس کی الطار پر رکھتا ہے، وہ اب مسیح کے پیالے میں سے پیتا ہے، اور وہ روح اور مسیحی شفا کی طاقت سے ملبوس ہوتا ہے۔

13. 55 : 15-26

Truth's immortal idea is sweeping down the centuries, gathering beneath its wings the sick and sinning. My weary hope tries to realize that happy day, when man shall recognize the Science of Christ and love his neighbor as himself, — when he shall realize God's omnipotence and the healing power of the divine Love in what it has done and is doing for mankind. The promises will be fulfilled. The time for the reappearing of the divine healing is throughout all time; and whosoever layeth his earthly all on the altar of divine Science, drinketh of Christ's cup now, and is endued with the spirit and power of Christian healing.


روز مرہ کے فرائ

منجاب میری بیکر ایڈ

روز مرہ کی دعا

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ ہر روز یہ دعا کرے: ’’تیری بادشاہی آئے؛‘‘ الٰہی حق، زندگی اور محبت کی سلطنت مجھ میں قائم ہو، اور سب گناہ مجھ سے خارج ہو جائیں؛ اور تیرا کلام سب انسانوں کی محبت کو وافر کرے، اور اْن پر حکومت کرے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 4۔

مقاصد اور اعمال کا ایک اصول

نہ کوئی مخالفت نہ ہی کوئی محض ذاتی وابستگی مادری چرچ کے کسی رکن کے مقاصد یا اعمال پر اثر انداز نہیں ہونی چاہئے۔ سائنس میں، صرف الٰہی محبت حکومت کرتی ہے، اور ایک مسیحی سائنسدان گناہ کو رد کرنے سے، حقیقی بھائی چارے ، خیرات پسندی اور معافی سے محبت کی شیریں آسائشوں کی عکاسی کرتا ہے۔ اس چرچ کے تمام اراکین کو سب گناہوں سے، غلط قسم کی پیشن گوئیوں،منصفیوں، مذمتوں، اصلاحوں، غلط تاثر ات کو لینے اور غلط متاثر ہونے سے آزاد رہنے کے لئے روزانہ خیال رکھنا چاہئے اور دعا کرنی چاہئے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 1۔

فرض کے لئے چوکس

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ وہ ہر روز جارحانہ ذہنی آراء کے خلاف خود کو تیار رکھے، اور خدا اور اپنے قائد اور انسانوں کے لئے اپنے فرائض کو نہ کبھی بھولے اور نہ کبھی نظر انداز کرے۔ اس کے کاموں کے باعث اس کا انصاف ہوگا، وہ بے قصور یا قصوارہوگا۔ 

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 6۔


████████████████████████████████████████████████████████████████████████