اتوار 28 جون، 2020  |

اتوار 28 جون، 2020 



مضمون۔ کرسچن سائنس

SubjectChristian Science

سنہری متن:سنہری متن: خروج 15 باب26 آیت

’’مَیں خداوند تیرا شافی ہوں۔‘‘



Golden Text: Exodus 15 : 26

I am the Lord that healeth thee.





سبق کی آڈیو کے لئے یہاں کلک کریں

یوٹیوب سے سننے کے لئے یہاں کلک کریں

████████████████████████████████████████████████████████████████████████


جوابی مطالعہ: مکاشفہ 21 باب 1 تا 4، 6، 7 آیات


1۔ پھر مَیں نے ایک نیا آسمان اور نئی زمین کو دیکھا کیونکہ پہلا آسمان اور پہلی زمین جاتی رہی تھی اور سمندر بھی نہ رہا۔

2۔ پھر مَیں نے شہرِ مقدس نئے یروشلیم کو آسمان پر سے خدا کے پاس سے اْترتے دیکھا اور وہ اْس دلہن کی مانند آراستہ تھا جس نے اپنے شوہر کے لئے شنگھار کیا ہو۔

3۔ پھر مَیں نے تخت میں سے کسی کو بلند آواز سے یہ کہتے سنا کہ دیکھ خدا کا خیمہ آدمیوں کے درمیان ہے اور وہ اْن کے ساتھ سکونت کرے گا اور وہ اْس کے لوگ ہوں گے اور خدا آپ اْن کے ساتھ رہے گا اور اْن کا خدا ہوگا۔

4۔ اور وہ اْن کی آنکھوں کے سب آنسو پونچھ دے گا۔ اِس کے بعد نہ موت رہے گی نہ ماتم رہے گا۔ نہ آہ و نالہ نہ درد۔ پہلی چیزیں جاتی رہیں۔

6۔ پھر اْس نے مجھ سے کہا یہ باتیں پوری ہو گئیں۔ مَیں الفا اور اومیگا یعنی ابتدا اور انتہا ہوں۔ مِیں پیاسے کو آبِ حیات کے چشمہ سے مفت پلاؤں گا۔

7۔ جو غالب آئے وہی اِن چیزوں کا وارث ہوگا اور مَیں اْس کا خدا ہوں گا اور وہ میرا بیٹا ہوگا۔

Responsive Reading: Revelation 21 : 1–4, 6, 7

1.     And I saw a new heaven and a new earth: for the first heaven and the first earth were passed away; and there was no more sea.

2.     And I John saw the holy city, new Jerusalem, coming down from God out of heaven, prepared as a bride adorned for her husband.

3.     And I heard a great voice out of heaven saying, Behold, the tabernacle of God is with men, and he will dwell with them, and they shall be his people, and God himself shall be with them, and be their God.

4.     And God shall wipe away all tears from their eyes; and there shall be no more death, neither sorrow, nor crying, neither shall there be any more pain: for the former things are passed away.

6.     And he said unto me, It is done. I am Alpha and Omega, the beginning and the end. I will give unto him that is athirst of the fountain of the water of life freely.

7.     He that overcometh shall inherit all things; and I will be his God, and he shall be my son.



درسی وعظ



بائبل


درسی وعظ

بائبل

1۔ زبور 103: 1تا5 آیات

1۔ اے میری جان!خداوند کو مبارک کہہ اور جو کچھ مجھ میں ہے اْس کے قدوس نام کو مبارک کہے۔

2۔ اے میری جان! خداوند کو مبارک کہہ اور اْس کی کسی نعمت کو فراموش نہ کر۔

3۔ وہ تیری ساری بدکاری بخشتا ہے۔ وہ تجھے تمام بیماریوں سے شفا دیتا ہے۔

4۔ وہ تیری جان ہلاکت سے بچاتا ہے۔ وہ تیرے سر پر شفقت و رحمت کا تاج رکھتا ہے۔

5۔ وہ تجھے عمر بھر اچھی اچھی چیزوں سے آسودہ کرتا ہے۔ تْو عقاب کی مانند از سرِ نو جوان ہوتا ہے۔

1. Psalm 103 : 1–5

1     Bless the Lord, O my soul: and all that is within me, bless his holy name.

2     Bless the Lord, O my soul, and forget not all his benefits:

3     Who forgiveth all thine iniquities; who healeth all thy diseases;

4     Who redeemeth thy life from destruction; who crowneth thee with lovingkindness and tender mercies;

5     Who satisfieth thy mouth with good things; so that thy youth is renewed like the eagle’s.

2۔ 2 سلاطین 5 باب 1 تا3، 9 تا 15 آیات

1۔ اور شاہ ارام کے لشکر کا سردار نعمان اپنے آقا کے نزدیک معزز و مکرم تھا کیونکہ خداوند نے اْس کے وسیلہ سے ارام کو فتح بخشی تھی وہ زبردست سورما بھی تھا لیکن کوڑھی تھا۔

2۔ اور ارامی دَل باندھ کر نکلے تھے اور اسرائیل کے ملک میں سے ایک چھوٹی لڑکی کو اسیر کر کے لے آئے تھے۔ وہ نعمان کی بیوی کی خدمت کرتی تھی۔

3۔ اْس نے اپنی بی بی سے کہا کاش میرا آقا اْس نبی کے ہاں ہوتا جو سامریہ میں ہے تو وہ اْسے اْس کے کوڑھ سے شفا دے دیتا۔

9۔ سو نعمان اپنے گھوڑوں اور رتھوں سمیت آیا اور الیشع کے دروازے پر کھڑا ہوا۔

10۔ اور الیشع نے ایک قاصد کی معرفت کہلا بھیجا کہ جا اور یردن میں سات بار غوطہ مار تو تیرا جسم پھر بحال ہو جائے گا اور تْو پاک صاف ہوگا۔

11۔ پر نعمان ناراض ہو کر چلا گیا اور کہنے لگا مجھے گْمان تھا کہ وہ نکل کر ضرور میرے پاس آئے گا اور کھڑا ہو کر خداوند اپنے خدا سے دعا کرے گا اور اْس جگہ کے اوپر اپنا ہاتھ ادھر اْدھر ہلا کر کوڑھ کو شفا دے گا۔

12۔کیا دمشق کے دریا ابانہ اور فر فر اسرائیل کی سب ندیوں سے بڑھ کر نہیں ہے۔ کیا مَیں اْن میں نہا کر پاک صاف نہیں ہو سکتا؟سو وہ مْڑا اور بڑے قہر میں چلا گیا۔

13۔ تب اْ س کے ملازم اْس کے پاس آکر یوں کہنے لگے اے ہمارے باپ اگر وہ نبی کوئی بڑا کام کرنے کا تجھے حکم دیتا تو کیا تْو اْسے نہ کرتا؟ پس جب وہ کہتا ہے کہ نہا لے اور پاک صاف ہو جا تو کتنا زیادہ اْسے ماننا چاہئے؟

14۔ تب اْس نے اتر کر مردِ خدا کے کہنے کے مطابق یردن میں سات غوطے مارے اور اْس کا جسم چھوٹے بچے کے جسم کی مانند ہوگیا اور وہ پاک صاف ہوگیا۔

15۔ پھر وہ اپنی جلو کے سب لوگوں کے ساتھ مردِ خدا کے پاس لوٹا اور اْس کے سامنے کھڑا ہوا اور کہنے لگا دیکھ اب مَیں نے جان لیا کہ اسرائیل کو چھوڑ اور کہیں روئے زمین پر کوئی خدا نہیں اِس لئے اب کرم فرما کر اپنے خادم کا ہدیہ قبول کر۔

2. II Kings 5 : 1–3, 9–15

1     Now Naaman, captain of the host of the king of Syria, was a great man with his master, and honourable, because by him the Lord had given deliverance unto Syria: he was also a mighty man in valour, but he was a leper.

2     And the Syrians had gone out by companies, and had brought away captive out of the land of Israel a little maid; and she waited on Naaman’s wife.

3     And she said unto her mistress, Would God my lord were with the prophet that is in Samaria! for he would recover him of his leprosy.

9     So Naaman came with his horses and with his chariot, and stood at the door of the house of Elisha.

10     And Elisha sent a messenger unto him, saying, Go and wash in Jordan seven times, and thy flesh shall come again to thee, and thou shalt be clean.

11     But Naaman was wroth, and went away, and said, Behold, I thought, He will surely come out to me, and stand, and call on the name of the Lord his God, and strike his hand over the place, and recover the leper.

12     Are not Abana and Pharpar, rivers of Damascus, better than all the waters of Israel? may I not wash in them, and be clean? So he turned and went away in a rage.

13     And his servants came near, and spake unto him, and said, My father, if the prophet had bid thee do some great thing, wouldest thou not have done it? how much rather then, when he saith to thee, Wash, and be clean?

14     Then went he down, and dipped himself seven times in Jordan, according to the saying of the man of God: and his flesh came again like unto the flesh of a little child, and he was clean.

15     And he returned to the man of God, he and all his company, and came, and stood before him: and he said, Behold, now I know that there is no God in all the earth, but in Israel: now therefore, I pray thee, take a blessing of thy servant.

3۔ متی 4 باب 23 (یسوع)، 24 آیات

23۔اور یسوع تمام گلیل میں پھرتا رہا اور اْن کے عبادتخانوں میں تعلیم دیتا اور بادشاہی کی خوش خبری کی منادی کرتا اور لوگوں کی ہر طرح کی بیماری اور ہرطرح کی کمزوری کو دور کرتا رہا۔

24۔ اور اْس کی شہرت تمام سوریہ میں پھیل گئی اور لوگ سب بیماروں کو جو طرح طرح کی بیماریوں اور تکلیفوں میں گرفتار تھے اور اْن کو جن میں بدروحیں تھیں اور مرگی والوں اور مفلوجوں کو اْس کے پاس لائے اور اْس نے اْن کو اچھا کیا۔

3. Matthew 4 : 23 (Jesus), 24

23     Jesus went about all Galilee, teaching in their synagogues, and preaching the gospel of the kingdom, and healing all manner of sickness and all manner of disease among the people.

24     And his fame went throughout all Syria: and they brought unto him all sick people that were taken with divers diseases and torments, and those which were possessed with devils, and those which were lunatick, and those that had the palsy; and he healed them.

4۔ متی 8 باب2تا4 آیات

2۔ اور دیکھو ایک کوڑھی نے پاس آکر اْسے سجدہ کیا اور کہا اے خداوند! اگر تْو چاہے تو مجھے پاک صاف کر سکتا ہے۔

3۔ اْس نے ہاتھ بڑھا کر اْسے چھوا اور کہا مَیں چاہتا ہوں کہ تْو پاک صاف ہو جا۔ وہ فوراً پاک صاف ہوگیا۔

4۔ یسوع نے اْس سے کہا خبردار کسی نہ کہنا بلکہ جا کر اپنے تائیں کاہن کو دکھا اور جو نذر موسیٰ نے مقرر کی ہے اْسے گزران تاکہ اْن کے لئے گواہی ہو۔

4. Matthew 8 : 2–4

2     And, behold, there came a leper and worshipped him, saying, Lord, if thou wilt, thou canst make me clean.

3     And Jesus put forth his hand, and touched him, saying, I will; be thou clean. And immediately his leprosy was cleansed.

4     And Jesus saith unto him, See thou tell no man; but go thy way, shew thyself to the priest, and offer the gift that Moses commanded, for a testimony unto them.

5۔ یوحنا 14 باب5تا7، 15 تا17 آیات

5۔ توما نے اْس سے کہا اے خداوند ہم نہیں جانتے کہ تْو کہاں جاتا ہے۔ پھر راہ کس طرح جانیں؟

6۔ یسوع نے اْس سے کہا راہ اور حق اور زندگی مَیں ہوں کوئی میرے وسیلہ کے بغیر باپ کے پاس نہیں آتا۔

7۔ اگر تم نے مجھے جانا ہوتا تو میرے باپ کو بھی جانتے۔ اب اْسے جانتے ہو اور دیکھ لیا ہے۔

15۔ اگر تم مجھ سے محبت سے رکھتے ہو تو میرے حکموں پر عمل کرو گے۔

16۔ اور مَیں باپ سے درخواست کروں گا تو وہ تمہیں دوسرا مددگار بخشے گا کہ ابد تک تمہارے ساتھ رہے۔

17۔ یعنی روحِ حق جسے دنیا حاصل نہیں کر سکتی کیونکہ نہ اْسے دیکھتی نہ جانتی ہے۔ تم اْسے جانتے ہو کیونکہ وہ تمہارے ساتھ رہتا ہے اور تمہارے اندر ہوگا۔

5. John 14 : 5–7, 15–17

5     Thomas saith unto him, Lord, we know not whither thou goest; and how can we know the way?

6     Jesus saith unto him, I am the way, the truth, and the life: no man cometh unto the Father, but by me.

7     If ye had known me, ye should have known my Father also: and from henceforth ye know him, and have seen him.

15     If ye love me, keep my commandments.

16     And I will pray the Father, and he shall give you another Comforter, that he may abide with you for ever;

17     Even the Spirit of truth; whom the world cannot receive, because it seeth him not, neither knoweth him: but ye know him; for he dwelleth with you, and shall be in you.

6۔ مکاشفہ 10 باب1تا3 (تا:)، 8 تا11 آیات

1۔ پھر مَیں نے ایک اور زور آور فرشتہ کو بادل اوڑھے ہوئے آسمان سے اترتے دیکھا۔ اْس کے سر پر دھنک تھی اور اْس کا چہرہ آفتاب کی مانند تھا اور اْس کے پاؤں آگ کے ستونوں کی مانند۔

2۔ اور اْس کے ہاتھ میں ایک چھوٹی سی کھلی ہوئی کتاب تھی۔ اْس نے اپنا داہنا پاؤں تو سمندرمیں رکھا اور بایاں خشکی پر۔

3۔ اور ایسی بڑی آواز سے چلایا جیسے ببر دھاڑتا ہے۔

8۔ اور جس آواز دینے والے کو مَیں نے آسمان پر بولتے سنا تھا اْس نے پھر مجھ سے مخاطب ہوکر کہا جا۔ اْس فرشتہ کے ہاتھ میں سے جو سمندر اور خشکی پر کھڑا ہے وہ کھلی ہوئی کتاب لے لے۔

9۔ تب مَیں نے اْس فرشتہ کے پاس جا کر کہا کہ یہ چھوٹی کتاب مجھے دے دے۔ اْس نے مجھ سے کہا اِسے کھا لے۔ یہ تیرا پیٹ تو کڑوا کر دے گی مگر تیرے منہ میں شہد کی طرح میٹھی لگے گی۔

10۔پس مَیں چھوٹی کتاب فرشتہ کے ہاتھ سے لے کر کھا گیا۔ وہ میرے منہ میں تو شہد کی طرح میٹھی لگی مگر جب مَیں اْسے کھا گیا تو میرا پیٹ کڑوا ہوگیا۔

11۔ اور مجھ سے کہا گیا کہ تجھے بہت سی امتوں اور قوموں اور اہلِ زبان اور بادشاہوں پر پھر نبوت کرنا ضرور ہے۔

6. Revelation 10 : 1–3 (to :), 8–11

1     And I saw another mighty angel come down from heaven, clothed with a cloud: and a rainbow was upon his head, and his face was as it were the sun, and his feet as pillars of fire:

2     And he had in his hand a little book open: and he set his right foot upon the sea, and his left foot on the earth,

3     And cried with a loud voice, as when a lion roareth:

8     And the voice which I heard from heaven spake unto me again, and said, Go and take the little book which is open in the hand of the angel which standeth upon the sea and upon the earth.

9     And I went unto the angel, and said unto him, Give me the little book. And he said unto me, Take it, and eat it up; and it shall make thy belly bitter, but it shall be in thy mouth sweet as honey.

10     And I took the little book out of the angel’s hand, and ate it up; and it was in my mouth sweet as honey: and as soon as I had eaten it, my belly was bitter.

11     And he said unto me, Thou must prophesy again before many peoples, and nations, and tongues, and kings.



سائنس اور صح


1۔ 11 :9۔21

کرسچن سائنس کی جسمانی شفا الٰہی اصول کے کام سے اب، یسوع کے زمانے کی طرح، سامنے آتی ہے، جس سے قبل گناہ اور بیماری انسانی ضمیر میں اپنی حقیقت کھو دیتے ہیں اور ایسے فطری اورایسے لازمی طور پر غائب ہو جاتے ہیں جیسے تاریکی روشنی کو اور گناہ درستگی کو جگہ دیتے ہیں۔ اْس وقت کی طرح، اب بھی یہ قادر کام مافوق الفطرتی نہیں بلکہ انتہائی فطرتی ہیں۔ یہ اعمانوئیل، یا ”خدا ہمارے ساتھ ہے“ کا نشان ہیں، ایک الٰہی اثر جو انسانی شعور میں ہمیشہ سے موجود ہے اور خود کو دوہراتے ہوئے، ابھی آرہا ہے جیسے کہ ماضی میں اس کا وعدہ کیا گیا تھاکہ،

(شعور کے)قیدیوں کو رہائی

اور اندھوں کو بینائی پانے کی خبر پانے کے لئے

اور کچلے ہوؤں کو آزاد کرنے کے لئے

1. xi : 9-21

The physical healing of Christian Science results now, as in Jesus' time, from the operation of divine Principle, before which sin and disease lose their reality in human consciousness and disappear as naturally and as necessarily as darkness gives place to light and sin to reformation. Now, as then, these mighty works are not supernatural, but supremely natural. They are the sign of Immanuel, or "God with us," — a divine influence ever present in human consciousness and repeating itself, coming now as was promised aforetime,

To preach deliverance to the captives [of sense],

And recovering of sight to the blind,

To set at liberty them that are bruised.

2۔ 139 :4۔8۔ 15۔27

ابتدا سے آخر تک، پورا کلام پاک مادے پر روح، عقل کی فتح کے واقعات سے بھرپور ہے۔ موسیٰ نے عقل کی طاقت کو اس کے ذریعے ثابت کیا جسے انسان معجزات کہتا ہے؛ اسی طرح یشوع، ایلیاہ اور الیشع نے بھی کیا۔

چرچ کونسل کے ووٹ سے لئے جانے والے فیصلے کہ کسے مقدس حکم تسلیم کرنا اور کسے نہیں کرنا چاہئے، قدیم شماروں میں حکم ناموں کی غلطیاں؛ پرانے عہد نامہ میں تیس ہزار مختلف مطالعہ جات، اور تین سو ہزار نئے عہد نامہ کے مطالعہ جات، یہ اعدادو شمار دکھاتے ہیں کہ کیسے ایک فانی اور مادی فہم نے الہامی صفحات کے لئے کسی حد تک اپنی خود کی تاریکی کے ساتھ الٰہی ریکارڈ میں چوری کی۔مگر غلطیاں نہ ہی مکمل طور پر کلام کی الٰہی سائنس کوجیسا کہ پیدائش سے مکاشفہ تک دیکھا گیا ہے غیر واضح کر سکی، یسوع کے اظہار کو تباہ کرسکی، نہ ہی اْن انبیاء کے وسیلہ شفا کو کالعدم قرار دے سکی جنہوں نے پیش بینی کی کہ ”وہ پتھر جسے معماروں نے رد کیا“ ”کونے کے سرے کا پتھر“ بنے گا۔

2. 139 : 4–8, 15-27

From beginning to end, the Scriptures are full of accounts of the triumph of Spirit, Mind, over matter. Moses proved the power of Mind by what men called miracles; so did Joshua, Elijah, and Elisha.

The decisions by vote of Church Councils as to what should and should not be considered Holy Writ; the manifest mistakes in the ancient versions; the thirty thousand different readings in the Old Testament, and the three hundred thousand in the New, — these facts show how a mortal and material sense stole into the divine record, with its own hue darkening to some extent the inspired pages. But mistakes could neither wholly obscure the divine Science of the Scriptures seen from Genesis to Revelation, mar the demonstration of Jesus, nor annul the healing by the prophets, who foresaw that "the stone which the builders rejected" would become "the head of the corner."

3۔ 107 :1۔6

سن1866میں، میں نے کرسچن سائنس یا زندگی، سچائی اور محبت کے الٰہی قوانین کو دریافت کیا اور اپنی اس دریافت کو کرسچن سائنس کا نام دیا۔ خدا نہایت شاندار انداز سے مجھے سائنسی ذہنی شفا کے مطلق الٰہی اصول کے اس آخری مکاشفہ کے استقبالیہ کے لئے تیار کررہا تھا۔

3. 107 : 1-6

In the year 1866, I discovered the Christ Science or divine laws of Life, Truth, and Love, and named my discovery Christian Science. God had been graciously preparing me during many years for the reception of this final revelation of the absolute divine Principle of scientific mental healing.

4۔ 109 :11۔15، 16۔22

میری تین سالہ دریافت کے بعد، میں نے عقلی شفا سے متعلق مسئلے کا حل تلاش کیا، آیات کو تلاش کیا اور تھوڑا بوہت کچھ اور مطالعہ کیا، معاشرے سے دوری اختیار کی، اور ایک مثبت اصول کی دریافت کے لئے اپنا وقت اور توانائی وقف کی۔۔۔۔میں خدا کو بطورعقل کے ہم آہنگ عمل کے اصول جانتا تھا، اور یہ کہ ابتدائی مسیحی شفا میں علاج پاک، بلند ایمان کے وسیلہ پیدا ہورہے تھے؛ مگر مجھے اِس شفا کی سائنس لازمی جاننا تھی، اور مَیں الٰہی مکاشفہ، وجہ اور اظہار کی بدولت اپنی راہ کی قطعی منازل پر پہنچا۔

4. 109 : 11–15, 16–22

For three years after my discovery, I sought the solution of this problem of Mind-healing, searched the Scriptures and read little else, kept aloof from society, and devoted time and energies to discovering a positive rule. … I knew the Principle of all harmonious Mind-action to be God, and that cures were produced in primitive Christian healing by holy, uplifting faith; but I must know the Science of this healing, and I won my way to absolute conclusions through divine revelation, reason, and demonstration.

5۔ 558 :1۔8

مقدس یوحنا اپنی کتاب مکاشفہ کے دسویں باب میں لکھتے ہیں:

پھر مَیں نے ایک اور زور آور فرشتہ کو بادل اوڑھے ہوئے آسمان سے اترتے دیکھا۔ اْس کے سر پر دھنک تھی اور اْس کا چہرہ آفتاب کی مانند تھا اور اْس کے پاؤں آگ کے ستونوں کی مانند۔ اور اْس کے ہاتھ میں ایک چھوٹی سی کھلی ہوئی کتاب تھی۔ اْس نے اپنا داہنا پاؤں تو سمندر پر رکھا اور بایاں خشکی پر۔

5. 558 : 1–8

St. John writes, in the tenth chapter of his book of Revelation: — And I saw another mighty angel come down from heaven, clothed with a cloud: and a rainbow was upon his head, and his face was as it were the sun, and his feet as pillars of fire: and he had in his hand a little book open: and he set his right foot upon the sea, and his left foot on the earth.

6۔ 559 :1۔23

اِس فرشتہ کے ہاتھ میں سب کے پڑھنے اور سمجھنے کے لئے ”ایک چھوٹی سی“ کھلی کتاب تھی۔ کیا یہی کتاب الٰہی سائنس کا مکاشفہ رکھتی تھی، جس کا ”داہنا پاؤں“ یا غالب قوت سمندر پر، ابتدائی، پوشیدہ غلطی پر، سب غلطیوں کی دیدنی اشکال کے منبع پر تھی؟فرشتے کا بایاں پاؤں خشکی پر تھا؛ یعنی، دوسری قوت کی مشق دیدنی غلطی اور قابل سماعت گناہ پر کی گئی تھی۔ سائنسی خیال کی ”دبی ہوئی ہلکی آواز“ دنیا کے دور دراز سمندر اور بر اعظم تک پہنچتی ہے۔ سچائی کی ناقابل سماعت آواز انسانی عقل کے لئے ایسے ہے ”جیسے ببر دھاڑتا ہے۔“ یہ صحرا اور خوف کی تاریک جگہوں میں سنائی دیتی ہے۔ یہ بدی کی ”سات آوازوں“ کو ابھارتی ہے، اور پوشیدہ سروں کے مکمل احاطہ کو پکارنے کے لئے اْن کی قابلیت کو جنجھلاتی ہے۔تب سچائی کی طاقت کا اظہار ہوتا ہے، یعنی اسے غلطی کی تباہی کے لئے ظاہر کیا جاتا ہے۔پھر ہم آہنگی سے ایک آوازچلائے گی: ”جا اور وہ چھوٹی کتاب لے لے۔۔۔لے اِسے کھا لے۔ یہ تیرا پیٹ تو کڑوا کر دے گی مگر تیرے منہ میں شہد کی طرح میٹھی لگے گی۔“لوگو، آسمانی انجیل کی فرمانبرداری کریں۔ الٰہی سائنس کو لیں۔ شروع سے آخر تک اس کتاب کو پڑھیں۔اس کا مطالعہ کریں، اِس پر عمل کریں۔ شروع میں یقیناً آپ کو میٹھی لگے گی، جب یہ آپ کو شفا دیتی ہے؛ لیکن اگر آپ کو اِس کا ذائقہ کڑوا لگے تو سچائی پر بڑبڑانا مت۔

6. 559 : 1–23

This angel had in his hand "a little book," open for all to read and understand. Did this same book contain the revelation of divine Science, the "right foot" or dominant power of which was upon the sea, — upon elementary, latent error, the source of all error's visible forms? The angel's left foot was upon the earth; that is, a secondary power was exercised upon visible error and audible sin. The "still, small voice" of scientific thought reaches over continent and ocean to the globe's remotest bound. The inaudible voice of Truth is, to the human mind, "as when a lion roareth." It is heard in the desert and in dark places of fear. It arouses the "seven thunders" of evil, and stirs their latent forces to utter the full diapason of secret tones. Then is the power of Truth demonstrated, — made manifest in the destruction of error. Then will a voice from harmony cry: "Go and take the little book. … Take it, and eat it up; and it shall make thy belly bitter, but it shall be in thy mouth sweet as honey." Mortals, obey the heavenly evangel. Take divine Science. Read this book from beginning to end. Study it, ponder it. It will be indeed sweet at its first taste, when it heals you; but murmur not over Truth, if you find its digestion bitter.

7۔ 150 :4۔17

آج سچائی کی شفائیہ قوت کو غیر معمولی نمائش کی بجائے بطور ایک طبعی ابدی سائنس وسیع پیمانے پر ظاہر کیا جا رہاہے۔اِس کا نمودار ہونا ”زمین پر آدمیوں کے لئے صلح“ کی نئی خوشخبری کا آنا ہے۔جیسا کہ مالک نے وعدہ کیا تھا، اِس کی آمد اِس کے استحکام کے لئے آدمیوں کے مابین ایک مستقل تقدیر ہے؛ مگر کرسچن سائنس کا مشن اب، جیسا کہ اِس کے ابتدائی اظہار میں تھا، بنیادی طور پر جسمانی شفا نہیں ہے۔اب، جیسا تب تھا، علامات اور عجائبات جسمانی بیماری کی استعاراتی شفا میں کشیدہ کئے جاتے ہیں؛ مگر یہ علامات صرف اِس کے الٰہی اصل کو ظاہر کرنے، دنیا کے گناہوں کو اٹھالے جانے کے لئے مسیح کی طاقت کے بلند مشن کی حقیقت کی تصدیق کرنے کیلئے ہیں۔

7. 150 : 4-17

To-day the healing power of Truth is widely demonstrated as an immanent, eternal Science, instead of a phenomenal exhibition. Its appearing is the coming anew of the gospel of "on earth peace, good-will toward men." This coming, as was promised by the Master, is for its establishment as a permanent dispensation among men; but the mission of Christian Science now, as in the time of its earlier demonstration, is not primarily one of physical healing. Now, as then, signs and wonders are wrought in the metaphysical healing of physical disease; but these signs are only to demonstrate its divine origin, — to attest the reality of the higher mission of the Christ-power to take away the sins of the world.

8۔ 55 :15۔29

سچائی کا لافانی نظریہ،اپنے پروں تلے بیماروں اور گناہگاروں کو یکجا کرتے ہوئے،صدیوں کا احاطہ کررہا ہے۔میری خستہ حال امید اْس خوشی کے دن کا احساس دلانے کی کوشش کرتی ہے، جب انسان مسیح کی سائنس کو سمجھے گا اور اپنے پڑوسی سے اپنی مانند محبت رکھے گا، جب وہ یہ جانے گا کہ خدا قادر مطلق ہے اور جو کچھ اْس نے انسان کے لئے کیا ہے اور کر رہا ہے اْس میں الٰہی محبت کی شفائیہ طاقت کو جانے گا۔ وعدے پورے کئے جائیں گے۔ الٰہی شفا کے دوبارہ ظاہر ہونے کا وقت ہمہ وقت ہوتا ہے؛ اور جو کوئی بھی اپنازمینی سب کچھ الٰہی سائنس کی الطار پر رکھتا ہے، وہ اب مسیح کے پیالے میں سے پیتا ہے، اور وہ روح اور مسیحی شفا کی طاقت سے ملبوس ہوتا ہے۔

مقدس یوحنا کے الفاظ میں: ”وہ تمہیں دوسرا مددگار بخشے گا کہ ابد تک تمہارے ساتھ رہے۔“ میں الٰہی سائنس کو یہ مددگار سمجھتا ہوں۔

8. 55 : 15–29

Truth's immortal idea is sweeping down the centuries, gathering beneath its wings the sick and sinning. My weary hope tries to realize that happy day, when man shall recognize the Science of Christ and love his neighbor as himself, — when he shall realize God's omnipotence and the healing power of the divine Love in what it has done and is doing for mankind. The promises will be fulfilled. The time for the reappearing of the divine healing is throughout all time; and whosoever layeth his earthly all on the altar of divine Science, drinketh of Christ's cup now, and is endued with the spirit and power of Christian healing.

In the words of St. John: "He shall give you another Comforter, that he may abide with you forever." This Comforter I understand to be Divine Science.


روز مرہ کے فرائ

منجاب میری بیکر ایڈ

روز مرہ کی دعا

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ ہر روز یہ دعا کرے: ’’تیری بادشاہی آئے؛‘‘ الٰہی حق، زندگی اور محبت کی سلطنت مجھ میں قائم ہو، اور سب گناہ مجھ سے خارج ہو جائیں؛ اور تیرا کلام سب انسانوں کی محبت کو وافر کرے، اور اْن پر حکومت کرے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 4۔

مقاصد اور اعمال کا ایک اصول

نہ کوئی مخالفت نہ ہی کوئی محض ذاتی وابستگی مادری چرچ کے کسی رکن کے مقاصد یا اعمال پر اثر انداز نہیں ہونی چاہئے۔ سائنس میں، صرف الٰہی محبت حکومت کرتی ہے، اور ایک مسیحی سائنسدان گناہ کو رد کرنے سے، حقیقی بھائی چارے ، خیرات پسندی اور معافی سے محبت کی شیریں آسائشوں کی عکاسی کرتا ہے۔ اس چرچ کے تمام اراکین کو سب گناہوں سے، غلط قسم کی پیشن گوئیوں،منصفیوں، مذمتوں، اصلاحوں، غلط تاثر ات کو لینے اور غلط متاثر ہونے سے آزاد رہنے کے لئے روزانہ خیال رکھنا چاہئے اور دعا کرنی چاہئے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 1۔

فرض کے لئے چوکس

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ وہ ہر روز جارحانہ ذہنی آراء کے خلاف خود کو تیار رکھے، اور خدا اور اپنے قائد اور انسانوں کے لئے اپنے فرائض کو نہ کبھی بھولے اور نہ کبھی نظر انداز کرے۔ اس کے کاموں کے باعث اس کا انصاف ہوگا، وہ بے قصور یا قصوارہوگا۔ 

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 6۔


████████████████████████████████████████████████████████████████████████