اتوار 29دسمبر، 2019 |

اتوار 29دسمبر، 2019 



مضمون۔ کرسچن سائنس

SubjectChristian Science

سنہری متن:سنہری متن: زبور 107: 20 آیت

’’وہ اپنا کلام نازل فرما کر اْن کو شفا دیتا ہے اور اْن کو اْنکی ہلاکت سے رہائی بخشتا ہے۔‘‘



Golden Text: Psalm 107 : 20

He sent his word, and healed them, and delivered them from their destructions.





سبق کی آڈیو کے لئے یہاں کلک کریں

یوٹیوب سے سننے کے لئے یہاں کلک کریں

████████████████████████████████████████████████████████████████████████


جوابی مطالعہ: متی 1باب18تا23 آیات • لوقا 2باب40 آیت


18۔ اب یسوع مسیح کی پیدائش اِس طرح ہوئی کہ جب اْس کی ماں مریم کی منگی یوسف سے ہوئی تو اْن کے اکٹھے ہونے سے پہلے وہ روح القدس کی قدرت سے حاملہ پائی گئی۔

19۔ پس اْس کے شوہر یوسف نے جو راستباز تھا اور اْسے بدنام کرنا نہیں چاہتا تھا اْسے چپکے سے چھوڑ دینے کا ارادہ کیا۔

20۔ وہ اِن باتوں کو سوچ ہی رہا تھا کہ خداوند کے فرشتہ نے خواب میں اْسے دکھائی دے کر کہا اے یوسف ابنِ داؤد اپنی بیوی مریم کو اپنے ہاں لے آنے سے نہ ڈر کیونکہ جو کچھ اْس کے پیٹ میں ہے وہ روح القد س کی قدرت سے ہے۔

21۔ اْس کے بیٹا ہوگا اور تْو اْس کا نام یسوع رکھنا کیونکہ وہی اپنے لوگوں کو اْن کے گناہوں سے نجات دے گا۔

22۔ یہ سب کچھ اِس لئے ہوا کہ جو کچھ خداوند نے نبی کی معرفت کہا تھا وہ پورا ہو کہ

23۔ دیکھو ایک کنواری حاملہ ہو گی اور بیٹا جنے گی اور اْس کا نام اعمانوئیل رکھیں گے جس کا ترجمہ ہے خدا ہمارے ساتھ۔

40۔ اور وہ لڑکا بڑھتا اور قوت پاتا گیا اور حکمت سے معمور ہوتا گیا اور خدا کا فضل اْس پر تھا۔

Responsive Reading: Matthew 1 : 18-23; Luke 2 : 40

18.     Now the birth of Jesus Christ was on this wise: When as his mother Mary was espoused to Joseph, before they came together, she was found with child of the Holy Ghost.

19.     Then Joseph her husband, being a just man, and not willing to make her a publick example, was minded to put her away privily.

20.     But while he thought on these things, behold, the angel of the Lord appeared unto him in a dream, saying, Joseph, thou son of David, fear not to take unto thee Mary thy wife: for that which is conceived in her is of the Holy Ghost.

21.     And she shall bring forth a son, and thou shalt call his name JESUS: for he shall save his people from their sins.

22.     Now all this was done, that it might be fulfilled which was spoken of the Lord by the prophet, saying,

23.     Behold, a virgin shall be with child, and shall bring forth a son, and they shall call his name Emmanuel, which being interpreted is, God with us.

40.     And the child grew, and waxed strong in spirit, filled with wisdom: and the grace of God was upon him.



درسی وعظ



بائبل


درسی وعظ

بائبل

1۔ یسعیاہ 42باب1تا8 آیات

1۔ دیکھو میرا خادم جس کو میں سنبھالتا ہوں۔ میرا برگزیدہ جس سے میرا دل خوش ہے میں نے اپنی روح اْس پر ڈالی۔ وہ قوموں میں عدالت جاری کرے گا۔

2۔ وہ نہ چلائے گا نہ شور کرے گا اور نہ بازاروں میں اْس کی آواز سنائی دے گی۔

3۔ وہ مسلے ہوئے سر کنڈے کو نہ توڑے گا اور ٹمٹماتی بتی کو نہ بجھائے گا۔ وہ راستی سے عدالت کرے گا۔

4۔ وہ ماند نہ ہو گا اور ہمت نہ ہارے گا جب تک کہ عدالت کو زمین پر قائم نہ کرلے۔ جزیرے اْس کی شریعت کا انتظار کریں گے۔

5۔ جس نے آسمان کو پیدا کیا اور تان دیا جس نے زمین کو اور جو کچھ اْس میں سے نکلتا ہے پھیلایا اور جو اْس کے باشندوں کو سانس اور اْس پر چلنے والوں کو روح عنایت کرتا ہے یعنی خداوند خدا یوں فرماتا ہے۔

6۔ میں خداوند نے صداقت سے تجھے بلایا میں ہی تیرا ہاتھ پکڑوں گا اور تیری حفاظت کروں گا اور لوگوں کے عہد اور قوموں کے نور کے لئے تجھے دوں گا۔

7۔ کہ تْو اندھوں کی آنکھیں کھولے اور اسیروں کو قید سے نکالے اور اْن کو جو اندھیرے میں بیٹھے ہیں قید خانے سے چھڑائے۔

8۔ یہواہ میں ہی ہوں۔ یہی میرا نام ہے میں اپنا جلال کسی دوسرے کے لئے اور اپنی حمد کھودی مورتوں کے لئے روا نہ رکھوں گا۔

1. Isaiah 42 : 1-8

1     Behold my servant, whom I uphold; mine elect, in whom my soul delighteth; I have put my spirit upon him: he shall bring forth judgment to the Gentiles.

2     He shall not cry, nor lift up, nor cause his voice to be heard in the street.

3     A bruised reed shall he not break, and the smoking flax shall he not quench: he shall bring forth judgment unto truth.

4     He shall not fail nor be discouraged, till he have set judgment in the earth: and the isles shall wait for his law.

5     Thus saith God the Lord, he that created the heavens, and stretched them out; he that spread forth the earth, and that which cometh out of it; he that giveth breath unto the people upon it, and spirit to them that walk therein:

6     I the Lord have called thee in righteousness, and will hold thine hand, and will keep thee, and give thee for a covenant of the people, for a light of the Gentiles;

7     To open the blind eyes, to bring out the prisoners from the prison, and them that sit in darkness out of the prison house.

8     I am the Lord: that is my name: and my glory will I not give to another, neither my praise to graven images.

2۔ متی 4باب23، 24 آیات

23۔ اور یسوع تمام گلیل میں پھرتا رہا اور اْن کے عبادتخانوں میں تعلیم دیتا اور بادشاہی کی خوشخبری کی منادی کرتا اور لوگوں کی ہر طرح کی بیماری اور ہر طرح کی کمزوری کو دور کرتا رہا۔

24۔ اور اْس کی شہرت تمام سوریہ میں پھیل گئی اور لوگ سب بیماروں کو جو طرح طرح کی بیماریوں اور تکلیفوں میں گرفتار تھے اور اْن کو جن میں بدروحیں تھیں اور مرگی والوں اور مفلوجوں کو اْس کے پاس لائے اور اْس نے اْن کو اچھا کیا۔

2. Matthew 4 : 23, 24

23     And Jesus went about all Galilee, teaching in their synagogues, and preaching the gospel of the kingdom, and healing all manner of sickness and all manner of disease among the people.

24     And his fame went throughout all Syria: and they brought unto him all sick people that were taken with divers diseases and torments, and those which were possessed with devils, and those which were lunatick, and those that had the palsy; and he healed them.

3۔ لوقا 13باب10تا13، 17 (اْس کے سب) آیات

10۔ پھر وہ سبت کے دن کسی عباتخانہ میں تعلیم دیتا تھا۔

11۔ اور دیکھو ایک عورت تھی جس کو اٹھارہ برس سے کسی بدروح کے باعث کمزوری تھی۔ وہ کْبڑی ہو گئی تھی اور کسی طرح سیدھی نہ ہو سکتی تھی۔

12۔ یسوع نے اْسے دیکھ کر بلایا اور کہا اے عورت تْو اپنی کمزوری سے چھوٹ گئی۔

13۔ اور اْس نے اْس پر ہاتھ رکھے۔ اْسی دم وہ سیدھی ہوگئی اور خدا کی تمجید کرنے لگی۔

17۔ ۔۔۔اْس کے سب مخالف شرمندہ ہوئے اور ساری بھیڑ اْن عالیشان کاموں سے جو اْس سے ہوتے تھے، خوش ہوئی۔

3. Luke 13 : 10-13, 17 (all his)

10     And he was teaching in one of the synagogues on the sabbath.

11     And, behold, there was a woman which had a spirit of infirmity eighteen years, and was bowed together, and could in no wise lift up herself.

12     And when Jesus saw her, he called her to him, and said unto her, Woman, thou art loosed from thine infirmity.

13     And he laid his hands on her: and immediately she was made straight, and glorified God.

17     …all his adversaries were ashamed: and all the people rejoiced for all the glorious things that were done by him.

4۔ لوقا 7باب36تا49 آیات

36۔ پھر کسی فریسی نے اْس سے درخواست کی کہ میرے ساتھ کھانا کھا۔ پس وہ اْس فریسی کے گھر جا کر کھانا کھانے بیٹھا۔

37۔ تو دیکھو ایک بد چلن عورت جو اْس شہر کی تھی یہ جان کر کہ وہ اْس فریسی کے گھر میں کھانا کھانے بیٹھا ہے سنگِ مرمر کے عطر دان میں عطر لائی۔

38۔ اور اْس کے پاؤں کے پاس روتی ہوئی پیچھے کھڑی ہو کر آنسوؤں سے اْس کے پاؤں بھگونے لگی اور اپنے سر کے بالوں سے انہیں پونچھا اور اْس کے پاؤں بہت چومے اور اْن پر عطر ڈالا۔

39۔ اْس کی دعوت کرنے والا فریسی یہ دیکھ کر اپنے جی میں کہنے لگا کہ اگر یہ شخص نبی ہوتا تو جانتا کہ جو اْسے چھوتی ہے وہ کون اور کیسی عورت ہے کیونکہ بدچلن ہے۔

40۔ یسوع نے جواب میں اْس سے کہا اے شمعون مجھے تجھ سے کچھ کہنا ہے۔ اْس نے کہا اے استاد کہہ۔

41۔ کسی ساہوکار کے دو قرضدار تھے۔ ایک پانچ سو دینارکا دوسرا پچاس کا۔

42۔ جب اْن کے پاس ادا کرنے کو کچھ نہ رہا تو اْس نے دونوں کو بخش دیا۔ پس اْن میں سے کون اْس سے زیادہ محبت رکھے گا؟

43۔ شمعون نے جواب دیا میری دانست میں وہ جسے اْس نے زیادہ بخشا۔ اْس نے اْس سے کہا تْو نے ٹھیک فیصلہ کیا۔

44۔ اور اْس عورت کی طرف پھر کر اْس نے شمعون سے کہا کیا تْو اس عورت کو دیکھتا ہے؟ مَیں تیرے گھر میں آیا تْو نے میرے پاؤں دھونے کو پانی نہ دیا مگر اِس نے میرے پاؤں آنسوؤں سے بھگو دیئے اور اپنے بالوں سے پونچھا۔

45۔ تْو نے مجھے بوسہ نہ دیا مگر اِس نے جب سے آیا ہوں میرے پاؤں چومنا نہ چھوڑے۔

46۔ تْو نے میرے سر پر تیل نہ ڈالا مگر اِس نے میرے پاؤں پر عطر ڈالا۔

47۔ اسی لئے میں تجھ سے کہتا ہوں کہ اِس کے گناہ جو بہت تھے معاف ہوئے کیونکہ اِس نے بہت محبت کی مگر جس کے تھوڑے گناہ معاف ہوئے وہ تھوڑی محبت کرتا ہے۔

48۔ اور اْس عورت سے کہا تیرے گناہ معاف ہوئے۔

49۔ اِس پر وہ جو اْس کے ساتھ کھانا کھانے بیٹھے تھے اپنے جی میں کہنے لگے کہ یہ کون ہے جو گناہ بھی معاف کرتا ہے؟

4. Luke 7 : 36-49

36     And one of the Pharisees desired him that he would eat with him. And he went into the Pharisee’s house, and sat down to meat.

37     And, behold, a woman in the city, which was a sinner, when she knew that Jesus sat at meat in the Pharisee’s house, brought an alabaster box of ointment,

38     And stood at his feet behind him weeping, and began to wash his feet with tears, and did wipe them with the hairs of her head, and kissed his feet, and anointed them with the ointment.

39     Now when the Pharisee which had bidden him saw it, he spake within himself, saying, This man, if he were a prophet, would have known who and what manner of woman this is that toucheth him: for she is a sinner.

40     And Jesus answering said unto him, Simon, I have somewhat to say unto thee. And he saith, Master, say on.

41     There was a certain creditor which had two debtors: the one owed five hundred pence, and the other fifty.

42     And when they had nothing to pay, he frankly forgave them both. Tell me therefore, which of them will love him most?

43     Simon answered and said, I suppose that he, to whom he forgave most. And he said unto him, Thou hast rightly judged.

44     And he turned to the woman, and said unto Simon, Seest thou this woman? I entered into thine house, thou gavest me no water for my feet: but she hath washed my feet with tears, and wiped them with the hairs of her head.

45     Thou gavest me no kiss: but this woman since the time I came in hath not ceased to kiss my feet.

46     My head with oil thou didst not anoint: but this woman hath anointed my feet with ointment.

47     Wherefore I say unto thee, Her sins, which are many, are forgiven; for she loved much: but to whom little is forgiven, the same loveth little.

48     And he said unto her, Thy sins are forgiven.

49     And they that sat at meat with him began to say within themselves, Who is this that forgiveth sins also?

5۔ لوقا 19باب10 (بیٹا) آیت

10۔ ۔۔۔ابنِ آدم کھوئے ہوؤں کو ڈھونڈنے اور نجات دینے آیا ہے۔

5. Luke 19 : 10 (the Son)

10     …the Son of man is come to seek and to save that which was lost.

6۔ یعقوب 5باب14، 15 آیات

14۔ اگر تم میں کوئی بیمار ہو تو کلیسیا کے بزرگوں کو بلائے اور خداوند کے نام سے اْس کو تیل مل کراْس کے لئے دعا کریں۔

15۔ جو دعا ایمان کے ساتھ ہوگی اْس کے باعث بیمار بچ جائے گا اور خداوند اْسے اٹھا کھڑا کرے گا اور اگر اْس نے گناہ کئے ہوں تو اْن کی بھی معافی ہو جائے گی۔

6. James 5 : 14, 15

14     Is any sick among you? let him call for the elders of the church; and let them pray over him, anointing him with oil in the name of the Lord:

15     And the prayer of faith shall save the sick, and the Lord shall raise him up; and if he have committed sins, they shall be forgiven him.

7۔ طیطس 2باب11 (یہ)، 12 آیات

11۔ ۔۔۔خدا کا وہ فضل ظاہر ہوا ہے جو سب آدمیوں کی نجات کا باعث ہے۔

12۔ اور ہمیں تربیت دیتا ہے کہ بے دینی اور دنیاوی خواہشوں کا انکار کر کے اِس موجودہ جہان میں پرہیزگاری اور راستبازی اور دینداری کے ساتھ زندگی گزاریں۔

7. Titus 2 : 11 (the), 12

11     …the grace of God that bringeth salvation hath appeared to all men,

12     Teaching us that, denying ungodliness and worldly lusts, we should live soberly, righteously, and godly, in this present world;

8۔ یوحنا 3باب16 (خدا)، 17 آیات

16۔ خدا نے دنیا سے ایسی محبت رکھی کہ اْس نے اپنا اکلوتا بیٹا بخش دیا تاکہ جو کوئی اْس پر ایمان لائے ہلاک نہ ہو بلکہ ہمیشہ کی زندگی پائے۔

17۔ کیونکہ خدا نے بیٹے کو دنیا میں اِس لئے نہیں بھیجا کہ دنیا پر سزا کا حکم کرے بلکہ اس لئے کہ دنیا اْس کے وسیلہ سے نجات پائے۔

8. John 3 : 16 (God), 17

16     God so loved the world, that he gave his only begotten Son, that whosoever believeth in him should not perish, but have everlasting life.

17     For God sent not his Son into the world to condemn the world; but that the world through him might be saved.



سائنس اور صح


1۔ 412 :13۔15

کرسچن سائنس اور الٰہی محبت کی طاقت قادر مطلق ہے۔ در حقیقت گرفت کو ڈھیلا کرنا اور بیماری، موت اور گناہ کو نیست کرنا جائزہے۔

1. 412 : 13-15

The power of Christian Science and divine Love is omnipotent. It is indeed adequate to unclasp the hold and to destroy disease, sin, and death.

2۔ 412 :1۔4

یہ بڑی حقیقت کہ خدا محبت کے ساتھ سب پر حکومت کرتا ہے، گناہ کے سوا کسی بھی چیز کے لئے سزا نہیں دیتا، یہی آپ کا وہ نقطہ نظر ہے جہاں سے آپ نے آگے بڑھنا اور بیماری کے انسانی خوف کو تباہ کرنا ہے۔

2. 412 : 1-4

The great fact that God lovingly governs all, never punishing aught but sin, is your standpoint, from which to advance and destroy the human fear of sickness.

3۔ 412 :16۔18

بیماری کے تدارک یا اِس کے علاج کے لئے سچائی، الٰہی روح کی قدرت کو مادی حواس کے خواب کو توڑنا چاہئے۔

3. 412 : 16-18

To prevent disease or to cure it, the power of Truth, of divine Spirit, must break the dream of the material senses.

4۔ 411 :20۔26

ساری بیماری کی میسر وجہ اور بنیاد خوف، لاعلمی یا گناہ ہے۔ بیماری ہمیشہ غلط فہم کی بدولت ترغیب پاتی ہے جو شعوری طور پر منظور کی جاتی ہے نہ کہ تباہ کی جاتی ہے۔بیماری خارجی خیال کی ایک شبیہ ہے۔ ذہنی حالت کو مادی حالت کہا جاتا ہے۔ مادی عقل میں جو کچھ بھی جسمانی حالت کے طور پر عزیز سمجھا جاتا ہے اْس کی شبیہ جسم کے سامنے لائی جاتی ہے۔

4. 411 : 20-26

The procuring cause and foundation of all sickness is fear, ignorance, or sin. Disease is always induced by a false sense mentally entertained, not destroyed. Disease is an image of thought externalized. The mental state is called a material state. Whatever is cherished in mortal mind as the physical condition is imaged forth on the body.

5۔ 248 :25۔32

اِس کا اعلاج کرنے کے لئے، ہمیں سب سے پہلے درست سمت میں دیکھنا چاہئے اور پھر اِس جانب چلنا چاہئے۔ ہمیں خیالات میں کامل نمونے بنانے چاہئیں اور اْن پر لگاتار غور کرنا چاہئے، وگرنہ ہم انہیں کبھی عظیم اور شریفانہ زندگیوں میں نقش نہیں کر سکتے۔ ہمارے اندر بے غرضی، اچھائی، رحم، عدل، صحت، پاکیزگی، محبت، آسمان کی بادشاہی کو سلطنت کرنے دیں اور گناہ، بیماری اور موت تلف ہونے تک کم ہوتے جائیں گے۔

5. 248 : 25-32

To remedy this, we must first turn our gaze in the right direction, and then walk that way. We must form perfect models in thought and look at them continually, or we shall never carve them out in grand and noble lives. Let unselfishness, goodness, mercy, justice, health, holiness, love — the kingdom of heaven — reign within us, and sin, disease, and death will diminish until they finally disappear.

6۔ 456 :5۔15، 19۔24

الٰہی اصول اور سائنسی طریقہ کار کے اصولوں پر سخی سے عمل کرنے سے کرسچن سائنس کے طالب علموں نے کامیابی کو یقینی بنایا ہے۔ صرف اسی اعزاز نے انہیں وہ مرتبہ فراہم کیا جو وہ کمیونٹی میں رکھتے ہیں، یعنی ایسی ساکھ جو اْن کی کوششوں سے تجرباتی طور پر جائز قرار پاتی ہے۔ جو کوئی بھی اس بات کا دعویٰ کرتا ہے کہ یہاں ایک اصول اور ظاہر ہونے والے کرسچن سائنس کے طریقہ کار سے بڑھ کر کچھ ہے وہ شعوری یا لاشعوری طور پر بہت بڑی غلطی کرتا ہے اور خود کو کرسچن سائنس کی شفا کے حقیقی فہم اور اس کے ممکنہ اظہار سے الگ کرلیتا ہے۔

ایک شخص کو سچائی کی حوصلہ افزائی سے جڑے رہنا چاہئے وگرنہ وہ الٰہی اصول کو ظاہر نہیں کر سکتا۔تو جب تک مادا عمل کی بنیاد ہے، بیماری کا علاج موثر طریقے سے مابعدالاطبیعاتی عمل کی بدولت نہیں کیا جاسکتا۔ سچائی کام کرتی ہے اور آپ کو اپنے اظہار کے الٰہی اصول کودونوں سمجھنا بھی اور قائم رکھنا بھی چاہئے۔

6. 456 : 5-15, 19-24

Strict adherence to the divine Principle and rules of the scientific method has secured the only success of the students of Christian Science. This alone entitles them to the high standing which most of them hold in the community, a reputation experimentally justified by their efforts. Whoever affirms that there is more than one Principle and method of demonstrating Christian Science greatly errs, ignorantly or intentionally, and separates himself from the true conception of Christian Science healing and from its possible demonstration.

One must abide in the morale of truth or he cannot demonstrate the divine Principle. So long as matter is the basis of practice, illness cannot be efficaciously treated by the metaphysical process. Truth does the work, and you must both understand and abide by the divine Principle of your demonstration.

7۔ 364 :8۔12، 16۔31

اس قسم کے ناقابل بیان احساس کے لئے کس کو بلند خراج تحسین جائے گا فریسی کی مہمان نوازی کو یا مگدلینی کی ندامت کو؟ یسوع نے اِس سوال کا جواب خود کار راستباز کی ملامت اور تائب کی رہائی کا اعلان کرنے سے دیا۔

یہاں ایک سنجیدہ سوال پیش کیا گیا ہے، ایسا سوال جو اِس دور کی ضروریات کی بدولت سامنے آیا ہے۔ جیسے شمعون نے مادی اعتدال پسندی اور ذاتی عقیدت کے وسیلہ نجات دہندہ کو پایا کیا مسیحی سائنسدانوں کو بھی سچائی کی ویسے ہی تلاش کرنی چاہئے؟ یسوع نے شمعون کو ان متلاشیوں سے متعلق تب بتایا جب واْس نے روحانی صاف دلی کے بدلے میں اْسے ایک چھوٹا سا انعام دیا جو مسیحا کی طرف سے تھا۔ اگر مسیحی سائنسدان شمعون کی مانند ہیں، تو یہ اْن سے متعلق بھی کہا گیا ہو سکتا ہے کہ وہ تھوڑا پیار کرتے ہیں۔

دوسری جانب، کیا وہ اپنی اصل معافی، اپنے خستہ دلوں کی بدولت جن سے فروتنی اور انسانی ہمدردی کا اظہار ہوتا ہے، سچائی یا مسیح سے اپنی واقفیت کو ایاں کرتے ہیں، جیسے اس عورت نے کیا؟ اگر ایسا ہے، تو یہ شاید اْن کے لئے کہا گیا ہو، جیسے یسوع نے بِن بلائے مہمان سے متعلق کہا، کہ یقیناً وہ زیادہ پیار کرتے ہیں کیونکہ انہیں زیادہ معاف کیا گیا ہے۔

7. 364 : 8-12, 16-31

Which was the higher tribute to such ineffable affection, the hospitality of the Pharisee or the contrition of the Magdalen? This query Jesus answered by rebuking self-righteousness and declaring the absolution of the penitent.

Here is suggested a solemn question, a question indicated by one of the needs of this age. Do Christian Scientists seek Truth as Simon sought the Saviour, through material conservatism and for personal homage? Jesus told Simon that such seekers as he gave small reward in return for the spiritual purgation which came through the Messiah. If Christian Scientists are like Simon, then it must be said of them also that they love little.

On the other hand, do they show their regard for Truth, or Christ, by their genuine repentance, by their broken hearts, expressed by meekness and human affection, as did this woman? If so, then it may be said of them, as Jesus said of the unwelcome visitor, that they indeed love much, because much is forgiven them.

8۔ 365 :15۔24

اگر سائنسدان الٰہی محبت کے وسیلہ اپنے مریض تک پہنچتا ہے، تو شفائیہ کام ایک ہی آمد میں مکمل ہو جائے گا، اور بیماری اپنے آبائی عدم میں غائب ہو جائے گی جیسے کہ صبح کے وقت سورج کی روشنی سے پہلے اوس ہوتی ہے۔ اگر سائنسدان میں اپنی خود کی معافی جیتنے کے لئے کافی مسیحی محبت اور ایسی تعریف پائی جاتی ہے جیسی مگدلینی نے یسوع سے پائی، تو سائنسی طور پر عمل کرنے کے لئے اور ہمدردی سے مریضوں کے ساتھ برتاؤ کرنے کے لئے وہ اچھا مسیحی ہے، اور نتیجہ روحانی ارادے کے ساتھ مطابقت رکھے گا۔

8. 365 : 15-24

If the Scientist reaches his patient through divine Love, the healing work will be accomplished at one visit, and the disease will vanish into its native nothingness like dew before the morning sunshine. If the Scientist has enough Christly affection to win his own pardon, and such commendation as the Magdalen gained from Jesus, then he is Christian enough to practise scientifically and deal with his patients compassionately; and the result will correspond with the spiritual intent.

9۔ 445 :19۔24

کرسچن سائنس انسانی رضا کو چپ کرواتی، محبت اور سچائی کے ساتھ خوف کو خاموش کرتی اور بیمار کی شفا میں الٰہی توانائی کی غیر محفوظ حرکت کو بیان کرتی ہے۔ خود تلاش، حسد، جذبہ، تکبر، نفرت اور بدلہ اْس الٰہی عقل کی بدولت نکال دئیے جاتے ہیں جو بیمار کو شفا دیتا ہے۔

9. 445 : 19-24

Christian Science silences human will, quiets fear with Truth and Love, and illustrates the unlabored motion of the divine energy in healing the sick. Self-seeking, envy, passion, pride, hatred, and revenge are cast out by the divine Mind which heals disease.

10۔ 390 :7۔9

یہ خدا، الٰہی اصول، سے ہماری نا واقفیت ہے جو ظاہری اختلاف کو جنم دیتی ہے، اور اس سے متعلق بہتر سوچ ہم آہنگی کو بحال کرتی ہے۔

10. 390 : 7-9

It is our ignorance of God, the divine Principle, which produces apparent discord, and the right understanding of Him restores harmony.

11۔ 495 :6۔24

اگر بیماری سچ ہے یا سچائی کا خیال ہے تو آپ بیماری کو نیست نہیں کرسکتے اور اِس کی کوشش کرنا بھی مضحکہ خیز ہوگا۔ تو پھر بیماری اور غلطی کی درجہ بندی کریں، جیسے ہمارے مالک نے کیا، جب اْس نے ایک بیمار سے متعلق کہا، ”جس کو شیطان نے باندھ رکھا تھا،“ اور انسانی عقیدے پر عمل کرتے ہوئے سچائی کی اْس زندگی بخش قوت میں غلطی کے لئے ایک اعلیٰ زہر مار تلاش کریں جوقوت ایسے قیدیوں کے لئے قید کا دروازہ کھولتی اور جسمانی اور اخلاقی طور پر قید سے آزاد کرتی ہے۔

جب بیماری یا گناہ کا بھرم آپ کو آزماتا ہے تو خدا اور اْس کے خیال کے ساتھ مضبوطی کے ساتھ منسلک رہیں۔ اْس کے مزاج کے علاوہ کسی چیز کو آپ کے خیال میں قائم ہونے کی اجازت نہ دیں۔ کسی خوف یا شک کو آپ کے اس واضح اورمطمین بھروسے پر حاوی نہ ہونے دیں کہ پہچانِ زندگی کی ہم آہنگی، جیسے کہ زندگی ازل سے ہے، اس چیز کے کسی بھی درد ناک احساس یا یقین کو تبا ہ کر سکتی ہے جو زندگی میں ہے ہی نہیں۔جسمانی حس کی بجائے کرسچن سائنس کو ہستی سے متعلق آپ کی سمجھ کی حمایت کرنے دیں، اور یہ سمجھ غلطی کو سچائی کے ساتھ اکھاڑ پھینکے گی، فانیت کوغیر فانیت کے ساتھ تبدیل کرے گی، اور خاموشی کی ہم آہنگی کے ساتھ مخالفت کرے گی۔

11. 495 : 6-24

If sickness is true or the idea of Truth, you cannot destroy sickness, and it would be absurd to try. Then classify sickness and error as our Master did, when he spoke of the sick, “whom Satan hath bound,” and find a sovereign antidote for error in the life-giving power of Truth acting on human belief, a power which opens the prison doors to such as are bound, and sets the captive free physically and morally.

When the illusion of sickness or sin tempts you, cling steadfastly to God and His idea. Allow nothing but His likeness to abide in your thought. Let neither fear nor doubt overshadow your clear sense and calm trust, that the recognition of life harmonious — as Life eternally is — can destroy any painful sense of, or belief in, that which Life is not. Let Christian Science, instead of corporeal sense, support your understanding of being, and this understanding will supplant error with Truth, replace mortality with immortality, and silence discord with harmony.

12۔ 291 :13۔18

آسمان کوئی جگہ نہیں، عقل کی الٰہی حالت ہے جس میں عقل کے تمام تر ظہور ہم آہنگ اور فانی ہوتے ہیں کیونکہ وہاں گناہ نہیں ہے اور انسان وہاں خود کی راستبازی کے ساتھ نہیں ”خداوند کی سوچ“ کی ملکیت میں پایا جاتا ہے جیسا کہ کلام یہ کہتا ہے۔

12. 291 : 13-18

Heaven is not a locality, but a divine state of Mind in which all the manifestations of Mind are harmonious and immortal, because sin is not there and man is found having no righteousness of his own, but in possession of “the mind of the Lord,” as the Scripture says.

13۔ 98 :15۔21

انسانی عقائد کے کمزور احاطوں سے آگے، عقائد کی ڈھیلی گرفت سے اوپر، کرسچن عقل کی شفا ایک ظاہر شدہ اور عملی سائنس پیدا کرتی ہے۔ ہر دور میں یہ آمرانہ رہتی ہے بطور مسیح کی سچائی، زندگی اور محبت کا مکاشفہ، جو ہر انسان کے سمجھنے اور عمل کرنے کے لئے مستحکم رہتا ہے۔

13. 98 : 15-21

Beyond the frail premises of human beliefs, above the loosening grasp of creeds, the demonstration of Christian Mind-healing stands a revealed and practical Science. It is imperious throughout all ages as Christ’s revelation of Truth, of Life, and of Love, which remains inviolate for every man to understand and to practise.

14۔ 249 :1۔4

آئیے سائنس کو قبول کریں، عقلی گواہی پر مشتمل تمام نظریات کو ترک کریں، ناقص نمونوں اور پْر فریب قیاس آرائیوں سے دست بردار ہوں؛ اور آئیے ہم ایک خدا، ایک عقل، اور اْس واحد کامل کو رکھیں جو فضیلت کے اپنے نمونوں کو پیدا کررہا ہے۔

14. 249 : 1-4

Let us accept Science, relinquish all theories based on sense-testimony, give up imperfect models and illusive ideals; and so let us have one God, one Mind, and that one perfect, producing His own models of excellence.


روز مرہ کے فرائ

منجاب میری بیکر ایڈ

روز مرہ کی دعا

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ ہر روز یہ دعا کرے: ’’تیری بادشاہی آئے؛‘‘ الٰہی حق، زندگی اور محبت کی سلطنت مجھ میں قائم ہو، اور سب گناہ مجھ سے خارج ہو جائیں؛ اور تیرا کلام سب انسانوں کی محبت کو وافر کرے، اور اْن پر حکومت کرے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 4۔

مقاصد اور اعمال کا ایک اصول

نہ کوئی مخالفت نہ ہی کوئی محض ذاتی وابستگی مادری چرچ کے کسی رکن کے مقاصد یا اعمال پر اثر انداز نہیں ہونی چاہئے۔ سائنس میں، صرف الٰہی محبت حکومت کرتی ہے، اور ایک مسیحی سائنسدان گناہ کو رد کرنے سے، حقیقی بھائی چارے ، خیرات پسندی اور معافی سے محبت کی شیریں آسائشوں کی عکاسی کرتا ہے۔ اس چرچ کے تمام اراکین کو سب گناہوں سے، غلط قسم کی پیشن گوئیوں،منصفیوں، مذمتوں، اصلاحوں، غلط تاثر ات کو لینے اور غلط متاثر ہونے سے آزاد رہنے کے لئے روزانہ خیال رکھنا چاہئے اور دعا کرنی چاہئے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 1۔

فرض کے لئے چوکس

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ وہ ہر روز جارحانہ ذہنی آراء کے خلاف خود کو تیار رکھے، اور خدا اور اپنے قائد اور انسانوں کے لئے اپنے فرائض کو نہ کبھی بھولے اور نہ کبھی نظر انداز کرے۔ اس کے کاموں کے باعث اس کا انصاف ہوگا، وہ بے قصور یا قصوارہوگا۔ 

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 6۔


████████████████████████████████████████████████████████████████████████