اتوار 29مارچ، 2020 |

اتوار 29مارچ، 2020



مضمون۔ حقیقت

SubjectReality

سنہری متن:سنہری متن: یوحنا 19باب11 آیت

۔۔۔ یسوع مسیح ’’اگر تجھے اوپر سے نہ دیا جاتا تو تیرا مجھ پر کچھ اختیار نہ ہوتا۔‘‘



Golden Text: John 19 : 11

Thou couldest have no power at all against me, except it were given thee from above.”— Christ Jesus





سبق کی آڈیو کے لئے یہاں کلک کریں

یوٹیوب سے سننے کے لئے یہاں کلک کریں

████████████████████████████████████████████████████████████████████████


جوابی مطالعہ: رومیوں 13باب1 آیت • 1 تواریخ 29 باب11، 12 آیات • زبور 145: 10تا 13آیات


1۔ ہر شخص اعلیٰ حکومتوں کو تابعدار رہے کیونکہ کوئی حکومت ایسی نہیں جو خدا کی طرف سے نہ ہو۔

11۔ اے خداوند حکمت، عظمت اور قدرت اور جلال اور غلبہ اور حشمت تیرے ہی لئے ہیں کیونکہ سب کچھ جو آسمان اور زمین میں ہے تیرا ہی ہے۔ اے خداوند بادشاہی تیری ہے اور تْو ہی بحیثیت سردار سبھوں سے ممتاز ہے۔

12۔ اور دولت اور عزت تیری طرف سے آتی ہے اور تْو سبھوں پر حکومت کرتا ہے اور تیرے ہاتھ میں قدرت اور توانائی ہے اور سرفراز کرنا اور سبھوں کو زور بخشنا تیرے ہاتھ میں ہے۔

10۔ اے خداوند تیری ساری مخلوق تیرا شکر کرے گی۔ اور تیرے مقدس تجھے مبارک کہیں گے۔

11۔ اور تیری سلطنت کے جلال کا بیان اور تیری قدرت کا چرچا کریں گے۔

12۔ تاکہ بنی آدم پر اْس کی قدرت کے کاموں کو اور اْس کی سلطنت کے جلال کی شان کو ظاہر کریں۔

13۔ تیری سلطنت ابدی سلطنت ہے۔ اور تیری حکومت پشت در پشت ہے۔

Responsive Reading: Romans 13 : 1 • I Chronicles 29 : 11, 12 • Psalm 145 : 10–13

1.     Let every soul be subject unto the higher powers. For there is no power but of God.

11.     Thine, O Lord, is the greatness, and the power, and the glory, and the victory, and the majesty: for all that is in the heaven and in the earth is thine; thine is the kingdom, O Lord, and thou art exalted as head above all.

12.     Both riches and honour come of thee, and thou reignest over all; and in thine hand is power and might; and in thine hand it is to make great, and to give strength unto all.

10.     All thy works shall praise thee, O Lord; and thy saints shall bless thee.

11.     They shall speak of the glory of thy kingdom, and talk of thy power;

12.     To make known to the sons of men his mighty acts, and the glorious majesty of his kingdom.

13.     Thy kingdom is an everlasting kingdom, and thy dominion endureth throughout all generations.



درسی وعظ



بائبل


درسی وعظ

بائبل

1۔ پیدائش 1باب1، 3، 7 (تا،)، 21 (تا دوسرا،)، 26 (حکومت کرے)، 27 (تا)، 31 (تا پہلا) آیات

1۔ خدا نے ابتدا میں زمین و آسمان کو پیدا کیا۔

3۔ اور خدا نے کہا روشنی ہو جا اور روشنی ہو گئی۔

7۔ اور خدا نے فضا کو بنایا۔

21۔ اور خدا نے بڑے بڑے دریائی جانوروں کو اور ہر قسم کے جانداروں کو پیدا کیا۔

26۔ پھر خدا نے کہا ہم انسان کو اپنی صورت پر اپنی شبیہ کی مانند بنائیں اور وہ۔۔۔اختیار رکھیں۔

27۔ اور خدا نے انسان کو اپنی صورت پر پیدا کیا۔

31۔ اور خدا نے سب پر جو اْس نے بنایا تھا نظر کی اور دیکھا کہ بہت اچھا ہے۔

1. Genesis 1 : 1, 3, 7 (to ,), 21 (to 2nd ,), 26 (to dominion), 27 (to ,), 31 (to 1st .)

1     In the beginning God created the heaven and the earth.

3     And God said, Let there be light: and there was light.

7     And God made the firmament,

21     And God created great whales, and every living creature that moveth,

26     And God said, Let us make man in our image, after our likeness: and let them have dominion …

27     So God created man in his own image,

31     And God saw every thing that he had made, and, behold, it was very good.

2۔ یسعیاہ 43 باب10، 11، 13 آیات

10۔ خداوند فرماتا ہے کہ تم میرے گواہ ہو اور میرا خادم بھی جسے مَیں نے برگزیدہ کیا تاکہ تم جانو اور مجھ پر ایمان لاؤ اور سمجھو کہ مَیں وہی ہوں۔ مجھ سے پہلے کوئی خدا نہ ہو ااور میرے بعد بھی نہ ہوگا۔

11۔ مَیں ہی یہواہ ہوں اور میرے سوا کوئی بچانے والا نہیں۔

13۔ آج سے مَیں ہی ہوں اور کوئی نہیں جو میرے ہاتھ سے چھڑا سکے۔ مَیں کام کروں گا۔ کون ہے جو اسے رد کرے؟

2. Isaiah 43 : 10, 11, 13

10     Ye are my witnesses, saith the Lord, and my servant whom I have chosen: that ye may know and believe me, and understand that I am he: before me there was no God formed, neither shall there be after me.

11     I, even I, am the Lord; and beside me there is no saviour.

13     Yea, before the day was I am he; and there is none that can deliver out of my hand: I will work, and who shall let it?

3۔ متی 4 باب23 آیت

23۔ اور یسوع تمام گلیل میں پھرتا رہا اور اْن کے عبادتخانوں میں تعلیم دیتا اور بادشاہی کی خوشخبری کی منادی کرتا اور لوگوں کی ہر طرح کی بیماری اور ہر طرح کی کمزوری کو دور کرتا رہا۔

3. Matthew 4 : 23

23     And Jesus went about all Galilee, teaching in their synagogues, and preaching the gospel of the kingdom, and healing all manner of sickness and all manner of disease among the people.

4۔ متی 9باب1تا8 آیات

1۔ پھر وہ کشتی پر چڑھ کر پار گیا اور اپنے شہر میں آیا۔

2۔ اور دیکھو لوگ ایک مفلوج کو چار پائی پر پڑا ہوا اْس کے پاس لائے۔ یسوع نے اْن کا ایمان دیکھ کر مفلوج سے کہا بیٹا خاطر جمع رکھ تیرے گناہ معاف ہوئے۔

3۔ اور دیکھو بعض فقیہوں نے اپنے دل میں کہا یہ کفر بکتا ہے۔

4۔ یسوع نے اْن کے خیال معلوم کر کے کہا تم کیوں اپنے دلوں میں برے خیال لاتے ہو؟

5۔ آسان کیا ہے۔ یہ کہنا کہ تیرے گناہ معاف ہوئے یا یہ کہنا کہ اْٹھ اور چل پھر؟

6۔ لیکن اِس لئے کہ تم جان لو کہ ابنِ آدم کو زمین پر گناہ معاف کرنے کا اختیار ہے۔ (اْس نے مفلوج سے کہا) اْٹھ اپنی چار پائی اْٹھا اور اپنے گھر چلا جا۔

7۔ وہ اْٹھ کر اپنے گھر چلا گیا۔

8۔ لوگ یہ دیکھ کر ڈر گئے اور خدا کی تمجید کرنے لگے جس نے آدمیوں کو ایسا اختیار بخشا۔

4. Matthew 9 : 1-8

1     And he entered into a ship, and passed over, and came into his own city.

2     And, behold, they brought to him a man sick of the palsy, lying on a bed: and Jesus seeing their faith said unto the sick of the palsy; Son, be of good cheer; thy sins be forgiven thee.

3     And, behold, certain of the scribes said within themselves, This man blasphemeth.

4     And Jesus knowing their thoughts said, Wherefore think ye evil in your hearts?

5     For whether is easier, to say, Thy sins be forgiven thee; or to say, Arise, and walk?

6     But that ye may know that the Son of man hath power on earth to forgive sins, (then saith he to the sick of the palsy,) Arise, take up thy bed, and go unto thine house.

7     And he arose, and departed to his house.

8     But when the multitudes saw it, they marvelled, and glorified God, which had given such power unto men.

5۔ متی 21 باب23 آیت

23۔ اور جب وہ ہیکل میں آکر تعلیم دے رہا تھا تو سردار کاہنوں اور قوم کے بزرگوں نے اْس کے پاس آکر کہا تْو ان کاموں کو کس اختیار سے کرتا ہے؟ اور یہ اختیار تجھے کس نے دیا؟

5. Matthew 21 : 23

23     And when he was come into the temple, the chief priests and the elders of the people came unto him as he was teaching, and said, By what authority doest thou these things? and who gave thee this authority?

6۔ متی 22 باب 15، 29 آیات

15۔ اس وقت فریسیوں نے جا کر مشورہ کیا کہ اْسے کیونکر باتوں میں پھنسائیں۔

29۔ یسوع نے جواب میں اْن سے کہا کہ تم گمراہ ہواس لئے کہ نہ کتابِ مقدس کو جانتے ہو نہ خدا کی قدرت کو۔

6. Matthew 22 : 15, 29

15     Then went the Pharisees, and took counsel how they might entangle him in his talk.

29     Jesus answered and said unto them, Ye do err, not knowing the scriptures, nor the power of God.

7۔ یوحنا 14 باب10 (الفاظ)، 12 (تا پہلا) آیات

10۔۔۔۔یہ باتیں جو مَیں تم سے کہتا ہوں اپنی طرف سے نہیں کہتا لیکن باپ مجھ میں رہ کر اپنے کام کرتا ہے۔

12۔ مَیں تم سے سچ کہتا ہوں کہ جو مجھ پر ایمان رکھتا ہے یہ کام جو مَیں کرتا ہوں وہ بھی کرے گا۔

7. John 14 : 10 (the words), 12 (to 1st ;)

10     …the words that I speak unto you I speak not of myself: but the Father that dwelleth in me, he doeth the works.

12     Verily, verily, I say unto you, He that believeth on me, the works that I do shall he do also;

8۔ اعمال 3 باب1، 2،4، 6 تا8، 11، 12 آیات

1۔ پطرس اور یوحنا دعا کے وقت یعنی تیسرے پہر ہیکل کو جا رہے تھے۔

2۔ اور لوگ ایک جنم کے لنگڑے کو لارہے تھے جس کو ہر روز ہیکل کے دروازے پر بیٹھا دیتے تھے جو خوبصورت کہلاتا ہے۔ تاکہ ہیکل میں جانے والوں سے بھیک مانگے۔

4۔ پطرس اور یوحنا نے اْس پر غور سے نظر کی اور پطرس نے کہا ہماری طرف دیکھ۔

6۔ پطرس نے کہا چاندی سونا تو میرے پاس ہے نہیں مگر جو میرے پاس ہے وہ تجھے دئیے دیتا ہوں۔ یسوع مسیح ناصری کے نام سے چل پھر۔

7۔ اور اْس کا داہنا ہاتھ پکڑ کر اْس کو اٹھایا اور اْسی دم اْس کے پاؤں اور ٹخنے مضبوط ہوگئے۔

8۔ اور وہ کود کر کھڑا ہو گیا اور چلنے پھرنے لگا اور کودتا اور خدا کی حمد کرتا ہو اْن کے ساتھ ہیکل میں گیا۔

11۔ جب وہ پطرس اور یوحنا کو پکڑے ہوئے تھا تو سب لوگ بہت حیران ہو کر اْس برآمدہ کی طرف جو سلیمان کا کہلاتا ہے اْن کے پاس دوڑے آئے۔

12۔ پطرس نے یہ دیکھ کر لوگوں سے کہا اے اسرائیلیو! اِس پر تم کیوں تعجب کرتے ہو اور ہمیں اِس طرح کیوں دیکھ رہے ہو گویا ہم نے اپنی قدرت یادینداری سے اس آدمی کو چلتا پھرتاکر دیا؟

8. Acts 3 : 1, 2, 4, 6-8, 11, 12

1     Now Peter and John went up together into the temple at the hour of prayer, being the ninth hour.

2     And a certain man lame from his mother’s womb was carried, whom they laid daily at the gate of the temple which is called Beautiful, to ask alms of them that entered into the temple;

4     And Peter, fastening his eyes upon him with John, said, Look on us.

6     Then Peter said, Silver and gold have I none; but such as I have give I thee: In the name of Jesus Christ of Nazareth rise up and walk.

7     And he took him by the right hand, and lifted him up: and immediately his feet and ancle bones received strength.

8     And he leaping up stood, and walked, and entered with them into the temple, walking, and leaping, and praising God.

11     And as the lame man which was healed held Peter and John, all the people ran together unto them in the porch that is called Solomon’s, greatly wondering.

12     And when Peter saw it, he answered unto the people, Ye men of Israel, why marvel ye at this? or why look ye so earnestly on us, as though by our own power or holiness we had made this man to walk?

9۔ 2پطرس 1باب 2، 3، 16 آیات

2۔ خدا اور ہمارے خداوند یسوع کی پہچان کے سبب سے فضل اور اطمینان تمہیں زیادہ ہوتا رہے۔

3۔ کیونکہ اْس کی الٰہی قدرت نے وہ سب چیزیں جو زندگی اور دینداری سے متعلق ہیں ہمیں اْس کی پہچان کے وسیلہ سے عنایت کیں جس نے ہم کو اپنے خاص جلال اور نیکی کے ذریعہ سے بلایا۔

16۔ کیونکہ جب ہم نے تمہیں اپنے خداوند یسوع مسیح کی قدرت اور آمد سے واقف کیا تھا تو دغابازی کی گھڑی ہوئی کہانیوں کی پیروی نہیں کی تھی بلکہ خود اْس کی عظمت کو دیکھا تھا۔

9. II Peter 1 : 2, 3, 16

2     Grace and peace be multiplied unto you through the knowledge of God, and of Jesus our Lord,

3     According as his divine power hath given unto us all things that pertain unto life and godliness, through the knowledge of him that hath called us to glory and virtue:

16     For we have not followed cunningly devised fables, when we made known unto you the power and coming of our Lord Jesus Christ, but were eyewitnesses of his majesty.

10۔ افسیوں 1باب16 (شکرگزاری کے لئے)، 17، 18 (تا؛)، 19، 21 آیات

16۔۔۔۔شکر کرنے سے باز نہیں آتا۔

17۔ کہ ہمارے خداوند یسوع مسیح کا خدا جو جلال کا باپ ہے تمہیں اپنی پہچان میں حکمت اور مکاشفہ کی روح بخشے۔

18۔ اور تمہارے دل کی آنکھیں روشن ہو جائیں،

19۔ اور ہم ایمان لانے والوں کے لئے اْس کی بڑی قدرت کیا ہی بے حد ہے۔ اْس کی بڑی قدرت کی تاثیر کے موافق۔

21۔ اور ہر طرح کی حکومت اور اختیار اور قدرت اور ریاست اور ہر ایک نام سے بلند کیا جو نہ صرف اِس جہان میں بلکہ آنے والے جہان میں بھی لیا جائے گا۔

10. Ephesians 1 : 16 (to thanks), 17, 18 (to ;), 19, 21

16     Cease not to give thanks …

17     That the God of our Lord Jesus Christ, the Father of glory, may give unto you the spirit of wisdom and revelation in the knowledge of him:

18     The eyes of your understanding being enlightened;

19     And what is the exceeding greatness of his power to us-ward who believe, according to the working of his mighty power,

21     Far above all principality, and power, and might, and dominion, and every name that is named, not only in this world, but also in that which is to come:

11۔ افسیوں 3 باب 14، 15، 20 (جو)، 21 آیات

14۔ اِس سبب سے مَیں اْس خداوند یسوع مسیح کے باپ کے آگے گٹنے ٹیکتا ہوں۔

15۔ جس سے آسمان اور زمین کا ہر خاندان نامزد ہے۔

20۔۔۔۔ جو ایسا قادر ہے کہ اْس کی قدرت کے موافق جو ہم میں تاثیر کرتی ہے ہماری درخواست اور خیال سے بہت زیادہ کام کر سکتا ہے۔

21۔ کلیسیا میں اور مسیح یسوع میں پشت در پشت ابد الا آباد اْس کی تمجید ہوتی رہے۔ آمین۔

11. Ephesians 3 : 14, 15, 20 (unto), 21

14     For this cause I bow my knees unto the Father of our Lord Jesus Christ,

15     Of whom the whole family in heaven and earth is named,

20     …unto him that is able to do exceeding abundantly above all that we ask or think, according to the power that worketh in us,

21     Unto him be glory in the church by Christ Jesus throughout all ages, world without end. Amen.



سائنس اور صح


1۔ 478 :26۔27

صرف وہی حقیقی ہے جو خدا کی عکاسی کرتا ہے۔

1. 478 : 26-27

That only is real which reflects God.

2۔ 228 :25 صرف

خدا سے جدا کوئی طاقت نہیں ہے۔

2. 228 : 25 only

There is no power apart from God.

3۔ 207 :20۔23

یہاں صرف ایک بنیادی وجہ ہے۔ اس لئے کسی اور وجہ کا کوئی اثر نہیں ہو سکتا، اور یہاں صفر میں کوئی حقیقت نہیں ہو سکتی جو اس اعلیٰ اور واحد وجہ سے ماخوذ نہیں ہو سکتی۔

3. 207 : 20-23

There is but one primal cause. Therefore there can be no effect from any other cause, and there can be no reality in aught which does not proceed from this great and only cause.

4۔ 108 :19۔29

جب ظاہری طور پر مادی وجودیت کی حدود کے قریب، موت کی وادی کے سایہ میں پہلے سے کھڑے ہوتے ہوئے، میں نے الٰہی سائنس میں یہ حقائق سیکھے ہیں: کہ سبھی حقیقی اشخاص خدا، الٰہی عقل،میں ہیں، اور کہ زندگی، سچائی اور محبت قادر امطلق اور ازلی ہیں؛ کہ سچائی کا مخالف، جسے غلطی، گناہ، بیماری، مرض، موت کہا جاتا ہے، مادی سوچ کے جھوٹے مادی فہم کی جھوٹی گواہی ہے،کہ اس جھوٹے فہم میں، ایمان کے لحاظ سے، مادی سوچ کی نفسی حالت شامل ہوتی ہے جسے یہ نام نہاد عقل مادے کا نام دیتی ہے، اسطرح روح کا حقیقی فہم رْک جاتا ہے۔

4. 108 : 19-29

When apparently near the confines of mortal existence, standing already within the shadow of the death-valley, I learned these truths in divine Science: that all real being is in God, the divine Mind, and that Life, Truth, and Love are all-powerful and ever-present; that the opposite of Truth, — called error, sin, sickness, disease, death, — is the false testimony of false material sense, of mind in matter; that this false sense evolves, in belief, a subjective state of mortal mind which this same so-called mind names matter, thereby shutting out the true sense of Spirit.

5۔ 275 :10۔12

ہستی کی حقیقت اور ترتیب کو اْس کی سائنس میں تھامنے کے لئے، وہ سب کچھ حقیقی ہے اْس کے الٰہی اصول کے طور پر آپ کو خدا کا تصور کرنے کی ابتدا کرنی چاہئے۔

5. 275 : 10-12

To grasp the reality and order of being in its Science, you must begin by reckoning God as the divine Principle of all that really is.

6۔ 515 :28۔8

اب انسان کا اِس کے الٰہی اصول، یعنی خدا کے ساتھ آئینے کے سامنے موازنہ کریں۔ آئینے کو الٰہی سائنس کہیں اور انسان کو عکس کہیں۔ پھر غور کریں کہ کرسچن سائنس کے مطابق عکس اس کے اصل کے ساتھ کتنا حقیقی ہے۔ جیسے آئینے میں آپ کا عکس دکھائی دیتا ہے، ویسے ہی روحانی ہوتے ہوئے آپ خدا کا عکس ہیں۔ مواد، زندگی، ذہانت، سچائی اور محبت جو خدائے واحد کو متعین کرتے ہیں، اْس کی مخلوق سے منعکس ہوتے ہیں؛ اور جب ہم جسمانی حواس کی جھوٹی گواہی کو سائنسی حقائق کے ماتحت کر دیتے ہیں، تو ہم اس حقیقی مشابہت اور عکس کوہرطرف دیکھیں گے۔

6. 515 : 28-8

Now compare man before the mirror to his divine Principle, God. Call the mirror divine Science, and call man the reflection. Then note how true, according to Christian Science, is the reflection to its original. As the reflection of yourself appears in the mirror, so you, being spiritual, are the reflection of God. The substance, Life, intelligence, Truth, and Love, which constitute Deity, are reflected by His creation; and when we subordinate the false testimony of the corporeal senses to the facts of Science, we shall see this true likeness and reflection everywhere.

7۔ 52 :23۔28 (تا،)۔

خدا کے اعلیٰ ترین نمائندے نے، الٰہی اصول کی عکاسی کے لئے انسانی قابلیت سے متعلق بات کرتے ہوئے، اپنے شاگردوں سے پیشن گوئی کے طور پر، نہ صرف اپنے دور بلکہ ہر دور کے لئے کہا: ”جو مجھ پر ایمان رکھتا ہے یہ کام جو مَیں کرتا ہوں وہ بھی کرے گا؛“

7. 52 : 23-28 (to ;)

The highest earthly representative of God, speaking of human ability to reflect divine power, prophetically said to his disciples, speaking not for their day only but for all time: “He that believeth on me, the works that I do shall he do also;"

8۔ 11 :9۔14

کرسچن سائنس کی جسمانی شفا الٰہی اصول کے کام سے اب، یسوع کے زمانے کی طرح، سامنے آتی ہے، جس سے قبل گناہ اور بیماری انسانی ضمیر میں اپنی حقیقت کھو دیتے ہیں اور اور ایسے فطری اورایسے لازمی طور پر غائب ہو جاتے ہیں جیسے تاریکی روشنی کو اور گناہ درستگی کو جگہ دیتے ہیں۔

8. xi : 9-14

The physical healing of Christian Science results now, as in Jesus' time, from the operation of divine Principle, before which sin and disease lose their reality in human consciousness and disappear as naturally and as necessarily as darkness gives place to light and sin to reformation.

9۔ 418 :12۔15، 28۔32

آپ پر یہ واضح ہو جانا چاہئے کہ گناہ کی نسبت بیماری ہستی کی زیادہ حقیقت نہیں ہے۔گناہ، بیماری اور موت کا یہ فانی خواب کرسچن سائنس کے وسیلہ رْکنا چاہئے۔

غلطی کی ہر شکل کے ساتھ سچ بولیں۔ رسولیاں، ناسور، تب دق، سوجن، درد، جوڑوں کی سوزش چلتے پھرتے خوابوں کے سایے، فانی سوچ کے تاریک خیالات ہیں جو سچائی کے نور سے بھاگتے ہیں۔

9. 418 : 12-15, 28-32

It must be clear to you that sickness is no more the reality of being than is sin. This mortal dream of sickness, sin, and death should cease through Christian Science.

Speak the truth to every form of error. Tumors, ulcers, tubercles, inflammation, pain, deformed joints, are waking dream-shadows, dark images of mortal thought, which flee before the light of Truth.

10۔ 192 :32۔14

مجھے لِین میں مسٹر کلارک سے ملنے کی دعوت دی گئی، جو چھ ماہ سے کمر کی بیماری کے باعث بستر پر پڑا تھا، جب وہ جوان تھا تو ایک لکڑی کا بڑا کیل اْس پر گرنا اِس بیماری کی وجہ تھی۔ گھر میں داخل ہوتے ہوئے میں اْس کے ڈاکٹر سے ملا، جس نے کہا کہ مریض مر رہا تھا۔ ڈاکٹر نے اْس کی پیٹھ پر ایک ناسور کی تشخیص کی تھی، اور کہا کہ ہڈی کئی انچ تک سڑ چکی تھی۔ حتیٰ کہ اْس نے مجھے بھی وہ تحقیقی دکھائی، جس پر ہڈی کی اِس حالت کا ثبوت ملتا تھا۔ ڈاکٹر باہر چلا گیا۔ مسٹر کلارک اپنی جمی اور بے بصر آنکھوں کے ساتھ لیٹا تھا۔ موت کی شبنم اْس کے ماتھے پر تھی۔ چند لمحوں میں اْس کا چہرہ بدل گیا؛ اْس کی موت کے زردرنگ نے فطری رنگت کو جگہ دی۔ پلکیں آہستہ سے بند ہو گئیں اور سانس فطری سی چلنے لگی؛ وہ سو گیا تھا۔ قریباً دس منٹ بعد اْس نے اپنی آنکھیں کھولیں اور کہا: ”مجھے نیا انسان جیسا محسوس ہورہا ہے۔ میری ساری تکالیف دور ہو چکی ہیں۔“

10. 192 : 32-14

I was called to visit Mr. Clark in Lynn, who had been confined to his bed six months with hip-disease, caused by a fall upon a wooden spike when quite a boy. On entering the house I met his physician, who said that the patient was dying. The physician had just probed the ulcer on the hip, and said the bone was carious for several inches. He even showed me the probe, which had on it the evidence of this condition of the bone. The doctor went out. Mr. Clark lay with his eyes fixed and sightless. The dew of death was on his brow. I went to his bedside. In a few moments his face changed; its death-pallor gave place to a natural hue. The eyelids closed gently and the breathing became natural; he was asleep. In about ten minutes he opened his eyes and said: "I feel like a new man. My suffering is all gone."

11۔ 193 :17۔19، 20۔21

میں نے اْسے اٹھنے، کپڑے بدلنے اور اپنے گھرانے کے ساتھ شام کا کھانا کھانے کو کہا۔ اْس نے ایسا ہی کیا۔ اگلے دن میں نے اْسے صحن میں دیکھا۔۔۔۔زخم کا رسنا بند ہو چکا تھا، اور اْس کا زخم ٹھیک ہو گیا تھا۔

11. 193 : 17-19, 20-21

I told him to rise, dress himself, and take supper with his family. He did so. The next day I saw him in the yard. … The discharge from the sore stopped, and the sore was healed.

12۔ 243 :32۔6

چونکہ خدا نیک اور سب جانداروں کا سر چشمہ ہے، وہ اخلاقی یا جسمانی بدصورتی پیدا نہیں کرتا؛ اس لئے ایسا بگاڑ حقیقی نہیں بلکہ فریب نظری، غلطی کا سراب ہے۔ الٰہی سائنس اِن بڑے حقائق کو ظاہر کرتی ہے۔ اِنہی کی بنیاد پر کسی بھی شکل میں نہ غلطی سے خوف زدہ ہوتے ہوئے نہ ہی اِس کی تابعداری کرتے ہوئے یسوع نے زندگی کا اظہار کیا۔

12. 243 : 32-6

Inasmuch as God is good and the fount of all being, He does not produce moral or physical deformity; therefore such deformity is not real, but is illusion, the mirage of error. Divine Science reveals these grand facts. On their basis Jesus demonstrated Life, never fearing nor obeying error in any form.

13۔ 177 :19۔24

مگر ایک جھوٹ، سچائی کا مخالف، جسے مادہ کی اصطلاح دی جاتی ہے اْس کے اثرات اور خصوصیات کا نام نہیں لے سکتا، اور بدن کے نام نہاد قوانین کو پیدا نہیں کرسکتا، نہ ہی ایک جھوٹ خدا، روح اور سچائی کے خلاف کسی بھی سمت میں اہم ہونے کی طاقت رکھ سکتا ہے۔

13. 177 : 19-24

But a lie, the opposite of Truth, cannot name the qualities and effects of what is termed matter, and create the so-called laws of the flesh, nor can a lie hold the preponderance of power in any direction against God, Spirit and Truth.

14۔ 454 :11۔13

بدی یا مادے میں ذہانے ہے نہ طاقت ہے، یہ کرسچن سائنس کا مطلق عقیدہ ہے، اور یہ ایک بڑا سچ ہے جو غلطی کے تمام تر بہروپوں کی دھجیاں اڑا دیتاہے۔

14. 454 : 11-13

That evil or matter has neither intelligence nor power, is the doctrine of absolute Christian Science, and this is the great truth which strips all disguise from error.

15۔ 421 :15۔18 (تا دوسرا)۔

سختی کے ساتھ اِس بڑی حقیقت پر اصرار کریں جو اِس بنیاد کا احاطہ کرتا ہے کہ خدا، روح، سب کچھ ہے اور کوئی اْس کے جیسانہیں۔ کوئی بیماری نہیں ہے۔

15. 421 : 15-18 (to 2nd .)

Insist vehemently on the great fact which covers the whole ground, that God, Spirit, is all, and that there is none beside Him. There is no disease.

16۔ 130 :26۔7

اگر خدا یا سچائی کی بالادستی کے لئے سائنس کے مضبوط دعوے پر خیالات چونک جاتے ہیں اور اچھائی کی بالادستی پر شک کرتے ہیں، تو کیا ہمیں، اس کے برعکس، بدی کے زبردست دعوں پر حیران ہونا، اْن پر شک کرنااور گناہ سے نفرت کرنے کو فطری اور اِسے ترک کرنے کو غیر فطری تصور کرنا، بدی کو ہمیشہ موجود اور اچھائی کو غیر موجود تصور نہیں کرنا چاہئے؟ سچائی کو غلطی کی مانند تعجب انگیز اور غیر فطری دکھائی نہیں دینا چاہئے، اور غلطی کو سچائی کی مانند حقیقی نہیں لگنا چاہئے۔ بیماری کو صحتیابی جیسا دکھائی نہیں دینا چاہئے۔ سائنس میں کوئی غلطی نہیں ہے، اور خدا یعنی سب چیزوں کے الٰہی اصول، کے ساتھ ہم آہنگ ہونے کے لئے ہماری زندگیوں پر حقیقت کی حکمرانی ہونی چاہئے۔

کرسچن سائنس کے وسیلہ ایک بار جب جھوٹی گواہی نیست ہو جاتی ہے تو جسمانی حواس کے سامنے سے غائب ہو جاتی ہے۔

16. 130 : 26-7

If thought is startled at the strong claim of Science for the supremacy of God, or Truth, and doubts the supremacy of good, ought we not, contrariwise, to be astounded at the vigorous claims of evil and doubt them, and no longer think it natural to love sin and unnatural to forsake it, — no longer imagine evil to be ever-present and good absent? Truth should not seem so surprising and unnatural as error, and error should not seem so real as truth. Sickness should not seem so real as health. There is no error in Science, and our lives must be governed by reality in order to be in harmony with God, the divine Principle of all being.

When once destroyed by divine Science, the false evidence before the corporeal senses disappears.

17۔ 76 :18۔21

دْکھوں کے، گناہ کرنے کے، مرنے کے عقائد غیر حقیقی ہیں۔جب الٰہی سائنس کو عالمگیر طور پر سمجھا جاتا ہے تو اْن کا انسان پر کوئی اختیار نہیں ہوتا، کیونکہ انسان لافانی ہے اور الٰہی اختیار کے وسیلہ جیتا ہے۔

17. 76 : 18-21

Suffering, sinning, dying beliefs are unreal. When divine Science is universally understood, they will have no power over man, for man is immortal and lives by divine authority.

18۔ 472 :24 (سب)۔26

خدا اور اْس کی تخلیق میں پائی جانے والی ساری حقیقت ہم آہنگ اور ابدی ہے۔ جو کچھ وہ بناتا ہے اچھا بناتا ہے، اور جو کچھ بنا ہے اْسی نے بنایاہے۔

18. 472 : 24 (All)-26

All reality is in God and His creation, harmonious and eternal. That which He creates is good, and He makes all that is made.


روز مرہ کے فرائ

منجاب میری بیکر ایڈ

روز مرہ کی دعا

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ ہر روز یہ دعا کرے: ’’تیری بادشاہی آئے؛‘‘ الٰہی حق، زندگی اور محبت کی سلطنت مجھ میں قائم ہو، اور سب گناہ مجھ سے خارج ہو جائیں؛ اور تیرا کلام سب انسانوں کی محبت کو وافر کرے، اور اْن پر حکومت کرے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 4۔

مقاصد اور اعمال کا ایک اصول

نہ کوئی مخالفت نہ ہی کوئی محض ذاتی وابستگی مادری چرچ کے کسی رکن کے مقاصد یا اعمال پر اثر انداز نہیں ہونی چاہئے۔ سائنس میں، صرف الٰہی محبت حکومت کرتی ہے، اور ایک مسیحی سائنسدان گناہ کو رد کرنے سے، حقیقی بھائی چارے ، خیرات پسندی اور معافی سے محبت کی شیریں آسائشوں کی عکاسی کرتا ہے۔ اس چرچ کے تمام اراکین کو سب گناہوں سے، غلط قسم کی پیشن گوئیوں،منصفیوں، مذمتوں، اصلاحوں، غلط تاثر ات کو لینے اور غلط متاثر ہونے سے آزاد رہنے کے لئے روزانہ خیال رکھنا چاہئے اور دعا کرنی چاہئے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 1۔

فرض کے لئے چوکس

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ وہ ہر روز جارحانہ ذہنی آراء کے خلاف خود کو تیار رکھے، اور خدا اور اپنے قائد اور انسانوں کے لئے اپنے فرائض کو نہ کبھی بھولے اور نہ کبھی نظر انداز کرے۔ اس کے کاموں کے باعث اس کا انصاف ہوگا، وہ بے قصور یا قصوارہوگا۔ 

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 6۔


████████████████████████████████████████████████████████████████████████