اتوار 29 ستمبر، 2019 |

اتوار 29 ستمبر، 2019



مضمون۔ حقیقت

SubjectReality

سنہری متن:سنہری متن: یسعیاہ 40باب8آیت

’’گھاس مرجھاتی ہے، پھول کملاتا ہے پر ہمارے خدا کا کلام ابد تک قائم ہے۔‘‘



Golden Text: Isaiah 40 : 8

The grass withereth, the flower fadeth: but the word of our God shall stand for ever.





سبق کی آڈیو کے لئے یہاں کلک کریں

یوٹیوب سے سننے کے لئے یہاں کلک کریں

████████████████████████████████████████████████████████████████████████


جوابی مطالعہ: امثال 30باب5آیت • یسعیاہ 55باب 6تا11آیات


5۔ خدا کا ہر ایک سْخن پاک ہے۔ وہ اْن کی سِپر ہے جن کا توکل اْس پر ہے۔

6۔جب تک خداوند مل سکتا ہے اْس کے طالب ہو۔ جب تک وہ نزدیک ہے اْسے پکارو۔

7۔ شریر اپنی راہ کو ترک کرے اور بدکار اپنے خیالوں کو اور وہ خداوند کی طرف پھرے اور وہ اْس پر رحم کرے گا اور ہمارے خدا کی طرف کیونکہ وہ کثرت سے معاف کرے گا۔

8۔ خداوند فرماتا ہے کہ میرے خیال تمہارے خیال نہیں اور نہ تمہاری راہیں میری راہیں ہیں۔

9۔ کیونکہ جس قدر آسمان سے زمین بلند ہے اْسی قدر میری راہیں تمہاری راہوں سے اور میرے خیال تمہارے خیالوں سے بلند ہیں۔

10۔ کیونکہ جس طرح سے آسمان سے بارش ہوتی ہے اور برف پڑتی ہے اور پھر وہاں واپس نہیں جاتی بلکہ زمین کو سیراب کرتی ہے۔ اور اْس کی شادابی اور روئیدگی کا باعث ہوتی ہے تاکہ بونے والے کو بیج اور کھانے والے کو روٹی دے۔

11۔ اسی طرح میرا کلام جو میرے منہ سے نکلتا ہے ہوگا۔ وہ انجام میرے پاس واپس نہیں آئے گا بلکہ جو کچھ میری خواہش ہوگی وہ اْسے پورا کرے گا اور اس کام میں جس کسی کے لئے میں نے اْسے بھیجا موثر ہوگا۔

Responsive Reading: Proverbs 30 : 5; Isaiah 55 : 6-11

5.     Every word of God is pure: he is a shield unto them that put their trust in him.

6.     Seek ye the Lord while he may be found, call ye upon him while he is near:

7.     Let the wicked forsake his way, and the unrighteous man his thoughts: and let him return unto the Lord, and he will have mercy upon him; and to our God, for he will abundantly pardon.

8.     For my thoughts are not your thoughts, neither are your ways my ways, saith the Lord.

9.     For as the heavens are higher than the earth, so are my ways higher than your ways, and my thoughts than your thoughts.

10.     For as the rain cometh down, and the snow from heaven, and returneth not thither, but watereth the earth, and maketh it bring forth and bud, that it may give seed to the sower, and bread to the eater:

11.     So shall my word be that goeth forth out of my mouth: it shall not return unto me void, but it shall accomplish that which I please, and it shall prosper in the thing whereto I sent it.



درسی وعظ



بائبل


درسی وعظ

بائبل

1۔ یوحنا1باب 1، 3 تا 14 آیات

1۔ ابتدا میں کلام تھا اور کلام خدا کے ساتھ تھا اور کلام خدا تھا۔

3۔ سب چیزیں اُس کے وسیلہ سے پیدا ہوئیں اور جو کچھ پیدا ہوا ہے اُس میں سے کوئی چیز بھی اُس کے بغیر پیدا نہیں ہوئی۔

4۔اُس میں زندگی تھی اور وہ زندگی آدمیوں کا نور تھی۔

5۔اور نور تاریکی میں چمکتا ہے اور تاریکی نے اُسے قبول نہ کیا۔

6۔ایک آدمی یوحنا نام آموجود ہوا جو خدا کی طرف سے بھیجا گیا تھا۔

7۔ یہ گواہی کے لئے آیا کہ نور کی گواہی دے تاکہ سب اُس کے وسیلہ سے ایمان لائیں۔

8۔وہ خود تو نور نہ تھا مگرنور کی گواہی دینے آیا تھا۔

9۔حقیقی نور جو ہر ایک آدمی کو روشن کرتا ہے دنیا میں آنے کو تھا۔

10۔وہ دنیا میں تھا اور دنیا اُس کے وسیلہ سے پیدا ہوئی اور دنیا نے اُسے نہ پہچانا۔

11۔وہ اپنے گھر آیا اور اُس کے اپنوں نے اُسے قبول نہ کیا۔

12۔لیکن جتنوں نے اُسے قبول کیا اُس نے اُنہیں خدا کے فرزند بننے کا حق بخشا یعنی اُنہیں جو اُس کے نام پر اِیمان لاتے ہیں۔

13۔ وہ نہ خون سے جسم کی خواہش سے نہ انسان کے ارادہ سے بلکہ خدا سے پیدا ہوئے۔

14۔اور کلام مجسم ہوا اور فضل اور سچائی سے معمور ہوکر ہمارے درمیان رہا اور ہم نے اُس کا ایسا جلال دیکھا جیسا باپ کے اکلوتے کا جلال۔

1. John 1 : 1, 3-14

1     In the beginning was the Word, and the Word was with God, and the Word was God.

3     All things were made by him; and without him was not any thing made that was made.

4     In him was life; and the life was the light of men.

5     And the light shineth in darkness; and the darkness comprehended it not.

6     There was a man sent from God, whose name was John.

7     The same came for a witness, to bear witness of the Light, that all men through him might believe.

8     He was not that Light, but was sent to bear witness of that Light.

9     That was the true Light, which lighteth every man that cometh into the world.

10     He was in the world, and the world was made by him, and the world knew him not.

11     He came unto his own, and his own received him not.

12     But as many as received him, to them gave he power to become the sons of God, even to them that believe on his name:

13     Which were born, not of blood, nor of the will of the flesh, nor of the will of man, but of God.

14     And the Word was made flesh, and dwelt among us, (and we beheld his glory, the glory as of the only begotten of the Father,) full of grace and truth.

2۔ زبور 119: 89تا93، 99تا103، 127تا130 آیات

89۔ اے خداوند! تیرا کلام ابد تک قائم ہے۔

90۔ تیری وفاداری پشت در پشت ہے۔ تْو نے زمین کو قیام بخشا اور وہ قائم ہے۔

91۔ وہ آج تیرے احکام کے مطابق قائم ہیں۔ کیونکہ سب چیزیں تیری خدمت گزار ہیں۔

92۔ اگر تیری شریعت میری خوشنودی نہ ہوتی تو میں اپنی مصیبت میں ہلاک ہوجاتا۔

93۔ میں تیرے قوانین کو کبھی نہیں بھولوں گا کیونکہ تْو نے ان ہی کے وسیلہ مجھے زندہ کیا۔

99۔ مَیں اپنے سب استادوں سے عقلمند ہوں کیونکہ تیری شہادتوں پر میرا دھیان رہتا ہے۔

100۔ مَیں عمر رسیدہ لوگوں سے زیادہ سمجھ رکھتا ہوں کیونکہ میں نے تیرے قوانین کو مانا ہے۔

101۔ مَیں نے ہر بری راہ سے اپنے قدم روک رکھے ہیں تاکہ تیری شریعت پر عمل کروں۔

102۔ مَیں نے تیرے احکام سے کنارہ نہیں کیا۔ کیونکہ تْو نے مجھے تعلیم دی ہے۔

103۔ تیری باتیں میرے لئے کیسی شرین ہیں! وہ میرے منہ کو شہد سے بھی میٹھی معلوم ہوتی ہیں۔

127۔ اس لئے میں تیرے فرمان کو سونے سے بلکہ کندن سے بھی عزیز رکھتا ہوں۔

128۔ اس لئے میں تیرے سب قوانین کو برحق جانتا ہوں اور ہر جھوٹی راہ سے مجھے نفرت ہے۔

129۔ تیری شہادتیں عجیب ہیں اس لئے میرا دل اْن کو مانتا ہے۔

130۔ تیری باتوں کی تشریح نور بخشتی ہے۔ وہ سادہ دلوں کو عقلمند بناتی ہے۔

2. Psalm 119 : 89-93, 99-103, 127-130

89     For ever, O Lord, thy word is settled in heaven.

90     Thy faithfulness is unto all generations: thou hast established the earth, and it abideth.

91     They continue this day according to thine ordinances: for all are thy servants.

92     Unless thy law had been my delights, I should then have perished in mine affliction.

93     I will never forget thy precepts: for with them thou hast quickened me.

99     I have more understanding than all my teachers: for thy testimonies are my meditation.

100     I understand more than the ancients, because I keep thy precepts.

101     I have refrained my feet from every evil way, that I might keep thy word.

102     I have not departed from thy judgments: for thou hast taught me.

103     How sweet are thy words unto my taste! yea, sweeter than honey to my mouth!

127     Therefore I love thy commandments above gold; yea, above fine gold.

128     Therefore I esteem all thy precepts concerning all things to be right; and I hate every false way.

129     Thy testimonies are wonderful: therefore doth my soul keep them.

130     The entrance of thy words giveth light; it giveth understanding unto the simple.

3۔ لوقا 4باب14، 15 آیات

14۔ پھر یسوع روح کی قوت سے بھرا ہوا گلیل کو لوٹا اور سارے گردو نواح میں اْس کی شہرت پھیل گئی۔

15۔ اور وہ اْن کے عبادت خانوں میں تعلیم دیتا رہا۔

3. Luke 4 : 14, 15

14     And Jesus returned in the power of the Spirit into Galilee: and there went out a fame of him through all the region round about.

15     And he taught in their synagogues, being glorified of all.

4۔ لوقا 5باب 1آیت

1۔ جب بھیڑ اْس پر گری پڑتی تھی اور خدا کا کلام سنتی تھی اور وہ گنیسرت کی جھیل کے کنارے کھڑا تھا تو ایسا ہوا۔

4. Luke 5 : 1

1     And it came to pass, that, as the people pressed upon him to hear the word of God, he stood by the lake of Gennesaret,

5۔ لوقا 8باب4تا9، 11تا15 آیات

4۔ پھر جب بڑی بھیڑ جمع ہوئی اور ہر شہر کے لوگ اُس کے پاس چلے آتے تھے اُس نے تمثیل میں کہا کہ۔

5۔ایک بونے والا اپنا بیج بونے نکلا اور بوتے وقت کچھ راہ کے کنارے گرا اور روندا گیا اور ہوا کے پرندوں نے اُسے چگ لیا۔

6۔اور کچھ چٹان پر گرا اور اگ کر سوکھ گیا اس لئے کے اُس کو تری نہ پہنچی۔

7۔اور کچھ جھاڑیوں میں گرا اور جھاڑیوں نے ساتھ ساتھ بڑھ کر اُسے دبا لیا۔

8۔اور کچھ اچھی زمین میں گرا اور اگ کر سو گُنا پھل لایا۔ یہ کہہ کر اُس نے پکارا۔ جس کے سننے کے کان ہوں وہ سن لے!

9۔ اُس کے شاگردوں نے اُس سے پوچھا کہ یہ تمثیل کیا ہے؟

11۔ وہ تمثیل یہ ہے کہ بیج خدا کا کلام ہے۔

12۔راہ کے کنارے کے وہ ہیں جنہوں نے سنا۔ پھر ابلیس آ کر کلام کو اُن کے دل سے چھین لے جاتا ہے۔ ایسا نہ ہوکہ ایمان لاکر نجات پائیں۔

13۔اور چٹان پر کے وہ ہیں جو سن کر کلام کوخوشی سے قبول کرلیتے ہیں لیکن جڑ نہِیں رکھتے مگر کچھ عرصہ تک ایمان رکھ کر آزمائش کے وقت پھر جاتے ہیں۔

14۔ اور جو جھاڑیوں میں پڑا اُس سے وہ لوگ مراد ہیں جنہوں نے سنا لیکن ہوتے ہوتے اس زندگی کی فکروں اور دولت اورعیش و عشرت میں پھنس جاتے ہیں اور اُن کا پھل پکتا نہیں۔

15۔ مگر اچھی زمین کے وہ ہیں جو کلام کو سن کر عمدہ اور نیکدل میں سنبھالے رہتے اور صبر سے پھل لاتے ہیں۔

5. Luke 8 : 4-9, 11-15

4     And when much people were gathered together, and were come to him out of every city, he spake by a parable:

5     A sower went out to sow his seed: and as he sowed, some fell by the way side; and it was trodden down, and the fowls of the air devoured it.

6     And some fell upon a rock; and as soon as it was sprung up, it withered away, because it lacked moisture.

7     And some fell among thorns; and the thorns sprang up with it, and choked it.

8     And other fell on good ground, and sprang up, and bare fruit an hundredfold. And when he had said these things, he cried, He that hath ears to hear, let him hear.

9     And his disciples asked him, saying, What might this parable be?

11     Now the parable is this: The seed is the word of God.

12     Those by the way side are they that hear; then cometh the devil, and taketh away the word out of their hearts, lest they should believe and be saved.

13     They on the rock are they, which, when they hear, receive the word with joy; and these have no root, which for a while believe, and in time of temptation fall away.

14     And that which fell among thorns are they, which, when they have heard, go forth, and are choked with cares and riches and pleasures of this life, and bring no fruit to perfection.

15     But that on the good ground are they, which in an honest and good heart, having heard the word, keep it, and bring forth fruit with patience.

6۔ عبرانیوں 4باب12 آیت

12۔ کیونکہ خدا کا کلام زندہ اور موثر اور ہر ایک دو دھاری تلوار سے زیادہ تیز ہے اور جان اور روح اور بند بند اور گودے گودے کو جدا کر کے گزر جاتا ہے اور دل کے خیالوں اور ارادوں کو جانتا ہے۔

6. Hebrews 4 : 12

12     For the word of God is quick, and powerful, and sharper than any twoedged sword, piercing even to the dividing asunder of soul and spirit, and of the joints and marrow, and is a discerner of the thoughts and intents of the heart.

7۔ 2 تمیتھیس 3 باب 1، 2، 4، 5، 14تا17 آیات

1۔ لیکن یہ جان رکھ کہ اخیر زمانہ میں برے دن آئیں گے۔

2۔کیونکہ آدمی خودغرض۔ زردوست۔ شیخی باز۔ مغرور۔ بدگو۔ ماں باپ کے نافرمان۔ ناشکر۔ ناپاک۔

4۔دغاباز۔ ڈھیٹھ۔ گھمنڈ کرنے والے۔ خدا کی نسبت عش و عشرت کو زیادہ دوست رکھنے والے ہوں گے۔

5۔وہ دینداری کی وضع تو رکھیں گے مگر اُس کے اثر کو قبول نہ کریں گے۔ ایسوں سے بھی کنارہ کرنا۔

14۔ مگر تو اُن باتوں پر جو تو نے سیکھی تھیں اور جن کا یقین تجھے دلایا گیا تھا یہ جان کر قائم رہ کہ تو نے اُنہیں کن لوگوں سے سیکھا تھا۔

15۔اور تو بچپن سے اُن پاک نوشتوں سے واقف ہے جو تجھے مسیح یسوع پر ایمان لانے سے نجات حاصل کرنے کے لئے دانائی بخش سکتے ہیں۔

16۔ ہر ایک صحیفہ جو خدا کے الہام سے ہے تعلیم اور الزام اور اصلاح اور راستبازی میں تربیت کرنے کے لئے فائدہ مند بھی ہے۔

17۔ تاکہ مرد خدا کامل بنے اور ہر ایک نیک کام کے لئے بالکل تیار ہو جائے۔

7. II Timothy 3 : 1, 2, 4, 5, 14-17

1     This know also, that in the last days perilous times shall come.

2     For men shall be lovers of their own selves, covetous, boasters, proud, blasphemers, disobedient to parents, unthankful, unholy,

4     Traitors, heady, highminded, lovers of pleasures more than lovers of God;

5     Having a form of godliness, but denying the power thereof: from such turn away.

14     But continue thou in the things which thou hast learned and hast been assured of, knowing of whom thou hast learned them;

15     And that from a child thou hast known the holy scriptures, which are able to make thee wise unto salvation through faith which is in Christ Jesus.

16     All scripture is given by inspiration of God, and is profitable for doctrine, for reproof, for correction, for instruction in righteousness:

17     That the man of God may be perfect, throughly furnished unto all good works.



سائنس اور صح


1۔ 513 :26۔27

خدا حقیقت کی ساری اشکال خلق کرتا ہے۔اْس کے خیالات روحانی حقائق ہیں۔

1. 513 : 26-27

God creates all forms of reality. His thoughts are spiritual realities.

2۔ 525 :17۔24

یوحنا کی انجیل میں، یہ واضح کیا گیا ہے کہ سبھی چیزیں خدا کے کلمہ سے وجود میں آئیں، ”اور جو کچھ پیدا ہوا اْس میں سے کوئی چیز بھی اْس (لوگوس، کلمہ)کے بغیر پیدا نہیں ہوئی۔“ہر اچھی اور قابل قدر چیز خدا نے بنائی۔ جو کچھ بھی فالتو اور نقصان دہ چیز ہے، وہ اْس نے نہیں بنائی، لہٰذہ وہ غیر حقیقی ہے۔ پیدائش کی سائنس میں ہم پڑھتے ہیں کہ جو کچھ اْس نے بنایا تھا اْس پر نظر کی ”اور دیکھا کہ اچھا ہے۔“

2. 525 : 17-24

In the Gospel of John, it is declared that all things were made through the Word of God, “and without Him [the logos, or word] was not anything made that was made.” Everything good or worthy, God made. Whatever is valueless or baneful, He did not make, — hence its unreality. In the Science of Genesis we read that He saw everything which He had made, “and, behold, it was very good.”

3۔ 275 :10۔24

ہستی کی حقیقت اور ترتیب کو اْس کی سائنس میں تھامنے کے لئے، وہ سب کچھ جوحقیقی ہے اْس کے الٰہی اصول کے طور پر آپ کو خدا کا تصور کرنے کی ابتدا کرنی چاہئے۔ روح، زندگی، سچائی، محبت یکسانیت میں جْڑ جاتے ہیں، اور یہ سب خدا کے روحانی نام ہیں۔سب مواد، ذہانت، حکمت، ہستی، لافانیت، وجہ اور اثر خْدا سے تعلق رکھتے ہیں۔یہ اْس کی خصوصیات ہیں، یعنی لامتناہی الٰہی اصول، محبت کے ابدی اظہار۔ کوئی حکمت عقلمند نہیں سوائے اْس کی؛ کوئی سچائی سچ نہیں، کوئی محبت پیاری نہیں، کوئی زندگی زندگی نہیں ماسوائے الٰہی کے، کوئی اچھائی نہیں ماسوائے اْس کے جو خدا بخشتا ہے۔

جیسا کہ روحانی سمجھ پر ظاہر ہوا ہے، الٰہی مابعدلاطبیعیات واضح طور پر دکھاتا ہے کہ سب کچھ عقل ہی ہے اور یہ عقل خدا، قادر مطلق، ہمہ جائی، علام الغیوب ہے یعنی کہ سبھی طاقت والا، ہر جگہ موجود اور سبھی سائنس پر قادر ہے۔ لہٰذہ حقیقت میں سبھی کچھ عقل کا اظہار ہے۔

3. 275 : 10-24

To grasp the reality and order of being in its Science, you must begin by reckoning God as the divine Principle of all that really is. Spirit, Life, Truth, Love, combine as one, — and are the Scriptural names for God. All substance, intelligence, wisdom, being, immortality, cause, and effect belong to God. These are His attributes, the eternal manifestations of the infinite divine Principle, Love. No wisdom is wise but His wisdom; no truth is true, no love is lovely, no life is Life but the divine; no good is, but the good God bestows.

Divine metaphysics, as revealed to spiritual understanding, shows clearly that all is Mind, and that Mind is God, omnipotence, omnipresence, omniscience, — that is, all power, all presence, all Science. Hence all is in reality the manifestation of Mind.

4۔ 497 :3 (جیسا کہ)۔4

سچائی کے پیروکار ہوتے ہوئے، ہم بائبل کے الہامی کلام کو بطور ہمارے معقول ہدایت نامہ ابدی زندگی کی جانب لے جاتے ہیں۔

4. 497 : 3 (As)-4

As adherents of Truth, we take the inspired Word of the Bible as our sufficient guide to eternal Life.

5۔ 406 :1۔6

بائبل میں ہر قسم کی شفا کی ترکیب پائی جاتی ہے۔ ”درخت کے پتوں سے قوموں کو شفا ہوتی تھی۔“ گناہ اور بیماری ایک ہی اصول کے وسیلہ شفا یاب کئے جاتے ہیں۔ درخت انسان کے الٰہی اصول کی مثال ہے، جو گناہ، بیماری اور موت سے مکمل نجات پیش کرتے ہوئے، ہر ناگہانی ضرورت کے مساوی ہے۔

5. 406 : 1-6

The Bible contains the recipe for all healing. “The leaves of the tree were for the healing of the nations.” Sin and sickness are both healed by the same Principle. The tree is typical of man’s divine Principle, which is equal to every emergency, offering full salvation from sin, sickness, and death.

6۔ 480 :29۔6

اگر گناہ، بیماری اور موت کو عدم کے طور پر سمجھا جائے تو وہ غائب ہو جائیں گے۔ جیسا کہ بخارات سورج کے سامنے پگھل جاتے ہیں، اسی طرح بدی اچھائی کی حقیقت کے سامنے غائب ہوجائے گی۔ ایک نے دوسری کو لازمی چھپا دینا ہے۔ تو پھر اچھائی کو بطور حقیقت منتخب کرنا کس قدر اہم ہے! انسان خدا، روح کا معاون ہے اور کسی کا نہیں۔ خدا کا ہونا لامتناہی، آزادی، ہم آہنگی اور بے پناہ فرحت کا ہونا ہے۔ ”جہاں کہیں خداوند کا روح ہے وہاں آزادی ہے۔“ یور کے آرچ کاہن کی مانند، انسان ”پاک ترین مقام میں داخل ہونے“ کے لئے آزاد ہے، یعنی خدا کی سلطنت میں۔

6. 480 : 29-6

If sin, sickness, and death were understood as nothingness, they would disappear. As vapor melts before the sun, so evil would vanish before the reality of good. One must hide the other. How important, then, to choose good as the reality! Man is tributary to God, Spirit, and to nothing else. God’s being is infinity, freedom, harmony, and boundless bliss. “Where the Spirit of the Lord is, there is liberty.” Like the archpriests of yore, man is free “to enter into the holiest,” — the realm of God.

7۔ 207 :20۔29

یہاں صرف ایک بنیادی وجہ ہے۔ اس لئے کسی اور وجہ کا کوئی اثر نہیں ہو سکتا، اور یہاں صفر میں کوئی حقیقت نہیں ہو سکتی جو اس اعلیٰ اور واحد وجہ سے ماخوذ نہیں ہو سکتی۔گناہ، بیماری اور موت ہستی کی سائنس سے تعلق نہیں رکھتے۔ یہ غلطیاں ہیں، جو سچائی، زندگی یا محبت کا قیاس کرتی ہیں۔

روحانی حقیقت سب چیزوں میں سائنسی سچائی ہے۔ روحانی سچائی، انسان اور پوری کائنات کے عمل میں دوہرائی جانے سے ہم آہنگ اور سچائی کے لئے مثالی ہے۔

7. 207 : 20-29

There is but one primal cause. Therefore there can be no effect from any other cause, and there can be no reality in aught which does not proceed from this great and only cause. Sin, sickness, disease, and death belong not to the Science of being. They are the errors, which presuppose the absence of Truth, Life, or Love.

The spiritual reality is the scientific fact in all things. The spiritual fact, repeated in the action of man and the whole universe, is harmonious and is the ideal of Truth.

8۔ 335 :7 (روح)۔15

روح، یعنی خدا نے سب کو خود سے اور خود میں بنایا۔ روح نے مادے کو کبھی نہیں بنایا۔ روح میں ایسا کچھ نہیں ہے جس سے ماد ے کو بنایا جا سکے، کیونکہ جیسا کہ بائبل واضح کرتی ہے کہ”جو کچھ پیدا ہوا اْس میں سے کوئی چیز بھی“ لوگوس، ایؤن یا خدا کے کلمے کے بغیرپیدا نہیں ہوئی۔روح ہی واحد مواد ہے، یعنی دیدہ اور نادیدہ لامحدود خدا۔ روحانی اور ابدی سب چیزیں حقیقی ہیں۔ مادی اور عارضی چیزیں غیر مادی ہیں۔

8. 335 : 7 (Spirit)-15

Spirit, God, has created all in and of Himself. Spirit never created matter. There is nothing in Spirit out of which matter could be made, for, as the Bible declares, without the Logos, the Ӕon or Word of God, “was not anything made that was made.” Spirit is the only substance, the invisible and indivisible infinite God. Things spiritual and eternal are substantial. Things material and temporal are insubstantial.

9۔ 73 :26۔32

یہ فرض کرنا نہایت بڑی غلطی ہے کہ مادہ ذہین وجودیت کی حقیقت کا کوئی حصہ ہے، یا یہ کہ روح اورمادہ، ذہانت اور غیر ذہانت ایک ساتھ مل سکتے ہیں۔ سائنس اس غلطی کو نیست کر دے گی۔ جنسی کو روحانی کا منہ نہیں بنایا جاسکتا، نہ ہی متناہی لامتناہی کا راستہ بن سکتا ہے۔

9. 73 : 26-32

It is a grave mistake to suppose that matter is any part of the reality of intelligent existence, or that Spirit and matter, intelligence and non-intelligence, can commune together. This error Science will destroy. The sensual cannot be made the mouthpiece of the spiritual, nor can the finite become the channel of the infinite.

10۔ 505 :16۔17، 20۔28

روح اْس فہم سے آگاہ کرتی ہے جو شعور کو بلند کرتا اور سچائی کی جانب راہنمائی دیتا ہے۔۔۔۔روحانی حس روحانی نیکی کا شعور ہے۔ فہم حقیقی اورغیر حقیقی کے مابین حد بندی کی لکیر ہے۔ روحانی فہم عقل -یعنی زندگی، سچائی اور محبت، کو کھولتا ہے اور الٰہی حس کو، کرسچن سائنس میں کائنات کا روحانی ثبوت فراہم کرتے ہوئے، ظاہر کرتا ہے۔

یہ فہم شعوری نہیں ہے،محققانہ حاصلات کا نتیجہ نہیں ہے؛ یہ نور میں لائی گئی سب چیزوں کی حقیقت ہے۔

10. 505 : 16-17, 20-28

Spirit imparts the understanding which uplifts consciousness and leads into all truth. … Spiritual sense is the discernment of spiritual good. Understanding is the line of demarcation between the real and unreal. Spiritual understanding unfolds Mind, — Life, Truth, and Love, — and demonstrates the divine sense, giving the spiritual proof of the universe in Christian Science.

This understanding is not intellectual, is not the result of scholarly attainments; it is the reality of all things brought to light.

11۔ 319 :21۔3

بائبل کی اصل زبان میں سکھائی گئی الٰہی سائنس الہام کے وسیلہ آئی، اور اسے سمجھنے کے لئے الہام کی ہی ضرورت ہے۔ جب کہ بائبل کے روحانی مطلب کا غلط ادراک اور چند غیر الہامی مصنفین کی جانب سے کچھ واقعات سے متعلق کلام کی غلط تشریح، جنہوں نے صرف وہی لکھا جو ایک الہامی معلم نے کہا تھا۔ ایک غلط استعمال کیا گیا لفظ کلام کی سائنس کے فہم کو تبدیل کرسکتا اور غلط بیان کر سکتا ہے، جیسا کہ مثال کے طور پر، محبت کو محض خدا کی خصوصیت کے طور پر استعمال کرنا، لیکن ہم خاص اور اہم بڑے ہجوں کے ساتھ محبت کو لکھ سکتے ہیں، اس سے بالکل وہی معنی پیش کرتے ہوئے جو ایک عزیز شاگرد نے اپنے خطوط میں سے کسی ایک میں بیان کئے، جب اْس نے کہا، ”خدا محبت ہے۔“ اسی طرح ہم سچائی اور زندگی سے متعلق کہہ سکتے ہیں، کیونکہ مسیح نے واضح طور پر کہا، ”راہ، حق اور زندگی میں ہوں۔“

11. 319 : 21-3

The divine Science taught in the original language of the Bible came through inspiration, and needs inspiration to be understood. Hence the misapprehension of the spiritual meaning of the Bible, and the misinterpretation of the Word in some instances by uninspired writers, who only wrote down what an inspired teacher had said. A misplaced word changes the sense and misstates the Science of the Scriptures, as, for instance, to name Love as merely an attribute of God; but we can by special and proper capitalization speak of the love of Love, meaning by that what the beloved disciple meant in one of his epistles, when he said, “God is love.” Likewise we can speak of the truth of Truth and of the life of Life, for Christ plainly declared, “I am the way, the truth, and the life.”

12۔ 272 :3۔16

سچائی کو سمجھنے سے قبل سچائی کا روحانی فہم حاصل ہونا ضروری ہے۔ یہ فہم اْسی وقت ہمارے اندر سما سکتا ہے جب ہم ایماندار، بے غرض، پیار کرنے والے اور حلیم ہوتے ہیں۔ ایک ”ایماندار اور نیک دل“ کی مٹی میں بیج بویا جانا چاہئے؛ وگرنہ یہ زیادہ پھل نہیں دے گا، کیونکہ انسانی فطرت میں گندہ عنصر اسے جڑ سے اکھاڑ پھینکتا ہے۔ یسوع نے کہا: ”تم گمراہ ہو اس لئے کتاب مقدس کو نہیں جانتے۔“ کلام کا روحانی فہم سائنسی فہم کو جنم دیتا ہے، اور یہ نئی زبان ہے جس کا حوالہ مرقس کی انجیل کے آخری باب میں ملتا ہے۔

یسوع کی ”بیج بونے والے کی تمثیل“ اس فکر کو ظاہر کرتی ہے جو ہمارے مالک نے اٹھائی بھاری کانوں اور سخت دلوں پر اْن روحانی باتوں کو ظاہر کرنے کے لئے جنہیں بہرہ پن اور سخت دلی قبول نہیں کرسکتی۔

12. 272 : 3-16

The spiritual sense of truth must be gained before Truth can be understood. This sense is assimilated only as we are honest, unselfish, loving, and meek. In the soil of an “honest and good heart” the seed must be sown; else it beareth not much fruit, for the swinish element in human nature uproots it. Jesus said: “Ye do err, not knowing the Scriptures.” The spiritual sense of the Scriptures brings out the scientific sense, and is the new tongue referred to in the last chapter of Mark’s Gospel.

Jesus’ parable of “the sower” shows the care our Master took not to impart to dull ears and gross hearts the spiritual teachings which dulness and grossness could not accept.

13۔ 322 :3۔7

جب مادی سے روحانی بنیادوں پر زندگی اور ذہانت کا فہم اپنا نقطہ نظر تبدیل کرتا ہے،تو ہمیں زندگی کی حقیقت میسر آئے گی، یعنی فہم پر روح کا قابو، تو ہم مسیحت یا سچائی کو اس کے الٰہی اصول میں پائیں گے۔

13. 322 : 3-7

When understanding changes the standpoints of life and intelligence from a material to a spiritual basis, we shall gain the reality of Life, the control of Soul over sense, and we shall perceive Christianity, or Truth, in its divine Principle.

14۔ 503 :12۔15

غلطی کی تاریکی سے الٰہی سائنس، یعنی خدا کا کلام کہتا ہے کہ، ”خدا حاکم کْل“ ہے، اور ازل سے موجود محبت کی روشنی کائنات کو روشن کرتی ہے۔

14. 503 : 12-15

Divine Science, the Word of God, saith to the darkness upon the face of error, “God is All-in-all,” and the light of ever-present Love illumines the universe.


روز مرہ کے فرائ

منجاب میری بیکر ایڈ

روز مرہ کی دعا

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ ہر روز یہ دعا کرے: ’’تیری بادشاہی آئے؛‘‘ الٰہی حق، زندگی اور محبت کی سلطنت مجھ میں قائم ہو، اور سب گناہ مجھ سے خارج ہو جائیں؛ اور تیرا کلام سب انسانوں کی محبت کو وافر کرے، اور اْن پر حکومت کرے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 4۔

مقاصد اور اعمال کا ایک اصول

نہ کوئی مخالفت نہ ہی کوئی محض ذاتی وابستگی مادری چرچ کے کسی رکن کے مقاصد یا اعمال پر اثر انداز نہیں ہونی چاہئے۔ سائنس میں، صرف الٰہی محبت حکومت کرتی ہے، اور ایک مسیحی سائنسدان گناہ کو رد کرنے سے، حقیقی بھائی چارے ، خیرات پسندی اور معافی سے محبت کی شیریں آسائشوں کی عکاسی کرتا ہے۔ اس چرچ کے تمام اراکین کو سب گناہوں سے، غلط قسم کی پیشن گوئیوں،منصفیوں، مذمتوں، اصلاحوں، غلط تاثر ات کو لینے اور غلط متاثر ہونے سے آزاد رہنے کے لئے روزانہ خیال رکھنا چاہئے اور دعا کرنی چاہئے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 1۔

فرض کے لئے چوکس

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ وہ ہر روز جارحانہ ذہنی آراء کے خلاف خود کو تیار رکھے، اور خدا اور اپنے قائد اور انسانوں کے لئے اپنے فرائض کو نہ کبھی بھولے اور نہ کبھی نظر انداز کرے۔ اس کے کاموں کے باعث اس کا انصاف ہوگا، وہ بے قصور یا قصوارہوگا۔ 

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 6۔


████████████████████████████████████████████████████████████████████████