اتوار 3مارچ ، 2019 مضمون۔ مسیح یسوع |

اتوار 3مارچ ، 2019



مضمون۔ مسیح یسوع

سنہری متن: یوحنا 14: 6 آیت



’’راہ اور حق اور زندگی مَیں ہوں کوئی میرے وسیلہ کے بغیر باپ کے پاس نہیں آتا۔‘‘





سبق کی آڈیو کے لئے یہاں کلک کریں

یوٹیوب سے سننے کے لئے یہاں کلک کریں

████████████████████████████████████████████████████████████████████████


2کرنتھیوں 4باب1تا6 آیات


1۔ پس جب ہم پر ایسا رحم ہوا کہ ہمیں یہ خِدمت ملی تو ہم ہمت نہیں ہارتے۔ 

2۔ بلکہ ہم نے شرم کی پوشِیدہ باتوں کو ترک کر دِیا اور مکّاری کی چال نہیں چلتے۔ نہ خُدا کے کلام میں آمیزش کرتے ہیں بلکہ حق ظاہِر کر کے خُدا کے رُوبرُو ہر ایک آدمی کے دِل میں اپنی نیکی بٹھاتے ہیں۔ 

3 ۔ اور اگر ہماری خوشخبری پر پردہ پڑا ہے تو ہلاک ہونے والوں ہی کے واسطے پڑا ہے۔ 

4۔ یعنی اُن بے اِیمانوں کے واسطے جِن کی عقلوں کو اِس جہان کے خُدا نے اندھا کر دیاہے تاکہ مسیح جو خداکی صورت ہے اْس کے جلال کی خوشخبری کی روشنی اُن پر نہ پڑے۔ 

5 ۔ کیونکہ ہم اپنی نہیں بلکہ مسِیح یسوع کی منادی کرتے ہیں کہ وہ خُداوند ہے اور اپنے حق میں یہ کہتے ہیں کہ یسوع کی خاطر تمہارے غلام ہیں۔ 

6 ۔ اِس لئے کہ خُدا ہی ہے جِس نے فرمایا کہ تارِیکی میں سے نور چمکے اور وہی ہمارے دِلوں میں چمکا تاکہ خُدا کے جلال کی پہچان کا نور یسوع مسیح کے چہرہ سے جلوہ گر ہو۔



درسی وعظ



بائبل


1۔ متی 1باب23آیت

23۔ دیکھو ایک کنواری حاملہ ہوگی اور بیٹا جنے گی اور اْس کا نام اعمانوئیل رکھیں گے جس کا ترجمہ ہے خدا ہمارے ساتھ ہے۔

لوقا 4باب14، 16 تا18، 21آیات

14۔ پھر یسوع روح کی قوت سے بھرا ہوا گلیل کو لوٹا اور سارے گِردو نوا میں اْس کی شہرت پھیل گئی۔ 

16۔ اوروہ ناصرت میں آیا جہاں اْس نے پرورش پائی تھی اور اپنے دستور کے موافق سبت کے دن عبادت خانہ میں گیا اور پڑھنے کو کھڑا ہوا۔ 

17۔ اور یسعیاہ نبی کی کتاب اْس کو دی گئی اور کتاب کھول کر اْس نے وہ مقام نکالا جہاں پہ لکھا تھا کہ 

18۔ خداوند کا روح مجھ پر ہے۔ اِس لئے کہ اْس نے مجھے غریبوں کو خوشخبری دینے کے لئے مسح کیا ۔ اْس نے مجھے بھیجا ہے کہ قیدیوں کو رہائی اور اندھوں کو بینائی پانے کی خبر سناؤں۔ کچلے ہوؤں کو آزاد کروں۔

21۔ اور وہ اْن سے کہنے لگا آج یہ نوشتہ تمہارے سامنے پورا ہوا۔

مرقس 8باب11تا13 (تا،) ، 14، (تا،) ، 15تا17 (تا دوسرا،) ، 18تا21آیات

11۔ پھر فرِیسی نکل کر اُس سے بحث کرنے لگے اور اُسے آزمانے کے لئے اُس سے کوئی آسمانی نِشان طلب کِیا۔ 

12۔ اُس نے اپنی رُوح میں آہ کھینچ کر کہا اِس زمانہ کے لوگ کیوں نشان طلب کرتے ہیں؟ مَیں تُم سے سَچ کہتا ہُوں کہ اِس زمانہ کے لوگوں کو کوئی نشان دِیا نہ جائے گا۔ 

13 ۔ اور وہ اُن کو چھوڑ کر پھر کشتی میں بیٹھااور پار چلا گیا۔ 

14 ۔ اور وہ روٹی لینا بھول گئے تھے ۔ 

15 ۔ اور اُس نے اُن کو یہ حکم دِیا کہ خبردار فریسیوں کے خمیر اور ہیرودِیس کے خمیرسے ہوشیار رہنا۔ 

16 ۔ وہ آپس میں چرچا کرنے اور کہنے لگے کہ ہمارے پاس روٹی نہیں ۔ 

17۔ مگر یسوع نے یہ معلُوم کر کے کہا،

18۔ آنکھیں ہیں اور تُم دیکھتے نہِیں؟ کان ہیں اور سُنتے نہیں؟ اور کیا تُم کو یاد نہیں؟

19۔ جِس وقت مَیں نے وہ پانچ روٹیاں پانچ ہزار کے لئے توڑِیں تو تم نے کتِنی ٹوکرِیاں ٹکڑوں سے بھری ہُوئی اٹھائیں؟ اُنہوں نے اُس سے کہا بارہ۔ 

20 ۔ اور جِس وقت سات روٹیاں چار ہزار کے لئے توڑیں تو تم نے کتنے ٹوکرے ٹکڑوں سے بھرے ہوئے اُٹھائے؟ اُنہوں نے اُس سے کہا سات۔ 

21۔ اُس نے اُن سے کہا کیا تم اَب تک نہیں سمجھتے؟ 

4۔ لوقا 18باب1تا8آیات

1 ۔ پھِر اُس نے اِس غرض سے کہ ہر وقت دُعا کرتے رہنا اور ہمت نہ ہارنا چاہئے اُن سے یہ تَمثِیل کہی کہ۔ 

2 ۔ کِسی شہر میں ایک قاضی تھا۔ نہ وہ خُدا سے ڈرتا تھا نہ آدمِی کی کچھ پروا کرتا تھا 

3 ۔ اور اُسی شہر میں ایک بیوہ تھی جو اُس کے پاس آ کر یہ کہا کرتی تھی کہ میرا اِنصاف کر کے مُجھے مُدّعی سے بَچا۔ 

4۔ اُس نے کچھ عرصہ تک تو نہ چاہا لیکن آخراُس نے اپنے جی میں کہا کہ گو مَیں نہ خُدا سے ڈرتا اور نہ آدمِیوں کی کچھ پروا کرتا ہُوں۔ 

5 ۔ تَو بھی اِس لئے کہ یہ بیوہ مجھے ستاتی ہے مَیں اِس کا اِنصاف کروں گا۔ اَیسا نہ ہو کہ یہ بار بار آ کر آخر کو میرا ناک میں دم کرے۔ 

6 ۔ خُداوند نے کہا سُنو یہ بے اِنصاف قاضی کیا کہتا ہے۔ 

7۔ پس کیا خُدا اپنے برگزیدوں کا اِنصاف نہ کرے گا جو رات دِن اُس سے فریاد کرتے ہیں؟ اور کیا وہ اُن کے بارے میں دیر کرے گا؟ 

8 ۔ مَیں تُم سے کہتا ہُوں کہ وہ جلد اُن کا اِنصاف کرے گا۔ تو بھی جب اِبنِ آدم آئے گا تو کیا زمین پر اِیمان پائے گا؟ 

5۔ لوقا7باب1تا10آیات

1 ۔ جب وہ لوگوں کو اپنی سب باتیں سُنا چُکا تو کفر نحُوم میں آیا۔ 

2 ۔ اور کِسی صُوبہ دار کا نوکر جو اُس کو عزِیز تھا بِیماری سے مرنے کو تھا۔ 

3۔ اُس نے یسوع کی خَبر سُن کر یہودیوں کے کئی بزرگوں کو اُس کے پاس بھیجا اور اُس سے دَرخواست کی کہ آ کر میرے نوکر کو اچھاکر۔ 

4 ۔ وہ یِسُوع کے پاس آئے اور اُس کی بڑی منت کر کے کہنے لگے کہ وہ اِس لائق ہے کہ تُو اُس کی خاطِر یہ کرے۔ 

5 ۔ کیونکہ وہ ہماری قَوم سے محبّت رکھتا ہے اور ہمارے عِبادت خانہ کو اُسی نے بنوایا۔ 

6 ۔ یِسُوع اُن کے ساتھ چلا مگر جب وہ گھر کے قرِیب پہُنچا تو صُوبہ دار نے بعض دوستوں کی معرفت اُسے یہ کہلا بھیجا کہ اَے خُداوند تکلیف نہ کر کیونکہ مَیں اِس لائق نہیں کہ تُو میری چھت کے نیچے آئے۔ 

7۔ اِسی سبب سے مَیں نے اپنے آپ کو بھی تیرے پاس آنے کے لائق نہ سمجھابلکہ زبان سے کہہ دے تو میرا خام شِفا پائے گا۔ 

8 ۔ کیونکہ مَیں بھی دُوسرے کے اِختیّار میں ہُوں اور سِپاہی میرے ماتحت ہیں اور جب ایک سے کہتا ہُوں جا تو وہ جاتا ہے اور دُوسرے سے آ تو وہ آتا ہے اور اپنے نوکر سے کہ یہ کر تو وہ کرتا ہے۔ 

9 ۔ یِسُوع نے یہ سُن کر اُس پر تعجب کیا اور پھِر کر اُس بھیڑ سے جو اُس کے پِیچھے آتی تھی کہا مَیں تُم سے کہتا ہُوں کہ مَیں نے اَیسا اِیمان اِسرائیل میں بھی نہیں پایا۔ 

10۔ اور بھیجے ہُوئے لوگوں نے واپَس آ کر اُس نوکر کو تندرست پایا۔ 

6۔ متی 16باب13تا17، 19، 24، 27آیات

13۔ جب یسوع قیصرِیہ فلپی کے علاقہ میں آیا تو اُس نے اپنے شاگِردوں سے یہ پوچھا کہ لوگ اِبنِ آدم کو کیا کہتے ہیں؟ 

14۔ اُنہوں نے کہا بعض یوحنا بپتسمہ دینے والا کہتے ہیں بعض ایلیاہ بعض یرمیاہ یا نبیوں میں سے کوئی۔ 

15۔ اُس نے اُن سے کہا مگر تُم مجھے کیا کہتے ہو؟ 

16 ۔ شمعون پطرس نے جواب میں کہا تُو زندہ خدا کا بیٹا مسیح ہے۔ 

17 ۔ یسوع نے جواب میں اُس سے کہا مُبارک ہے تُو شمعون بریوناہ کیونکہ یہ بات گوشت اور خون نے نہیں بلکہ میرے باپ نے جو آسمان پر ہے تجھ پر ظاہِر کی ہے۔ 

19۔ میں آسمان کی بادشاہی کی کنجیاں تجھے دوں گا اور جو کچھ تُو زمِین پر باندھے گا وہ آسمان پر بند ھے گا اور جو کچھ تُو زمین پر کھولے گا وہ آسمان پر کھلے گا۔ 

24۔ اُس وقت یِسُوع نے اپنے شاگِردوں سے کہا کہ اگر کوئی میرے پِیچھے آنا چاہے تو اپنی خودی کا انکار کرے اور اپنی صلیب اُٹھائے اور میرے پیچھے ہولے۔ 

27۔ کیونکہ اِبنِ آدم اپنے باپ کے جلال میں اپنے فرشتوں کے ساتھ آئے گا۔ اُس وقت ہر ایک کو اُس کے کاموں کے مطابق بدلہ دے گا۔ 

7۔ متی 5باب16آیت

16۔ اِسی طرح تمہاری روشنی آدمِیوں کے سامنے چمکے تاکہ وہ تُمہارے نیک کاموں کو دیکھ کر تُمہارے باپ کی جو آسمان پر ہے تمجید کریں۔



سائنس اور صح


1۔ 180: 25۔30

جب خدا ، ازلی فہم جو سب باتیں سمجھتا ہے، انسان پر حکومت کرتا ہے تو انسان جانتا ہے کہ خدا کے لئے سب کچھ ممکن ہے۔ اِس زندہ سچائی کو جاننے کا واحد راستہ، جو بیمار کو شفا دیتی ہے، الٰہی فہم کی سائنس میں پایا جاتا ہے کیونکہ یہ مسیح یسوع کے وسیلہ سے سکھائی گئی اور ظاہر ہوئی۔

2۔ 11: 9۔16 (تا دوسرا،)

کرسچن سائنس کی جسمانی شفا الٰہی اصول کے کام سے اب، یسوع کے زمانے کی طرح، سامنے آتی ہے، جس سے قبل گناہ اور بیماری انسانی ضمیر میں اپنی حقیقت کھو دیتے ہیں اور ایسے فطری اورایسے لازمی طور پر غائب ہو جاتے ہیں جیسے تاریکی روشنی کو اور گناہ درستگی کو جگہ دیتے ہیں۔ اْس وقت کی طرح، اب بھی یہ قادر کام مافوق الفطرتی نہیں بلکہ انتہائی فطرتی ہیں۔ یہ اعمانوئیل، یا ’’خدا ہمارے ساتھ ہے‘‘ کا نشان ہیں۔

3۔ 332: 9 (مسیح) ۔ 15

مسیح اچھا ظاہر ہونے والا حقیقی خیال ، انسانی ضمیر کے ساتھ بات کرنے والا،بشر کے لئے خدا کا پیغام ہے۔مسیح غیر مادی، روحانی، ہاں، الٰہی شبیہ اور صورت، حواس کے فریب کی تردید کرنے والا؛ راہ، حق اور زندگی، بیماروں کو شفا دینے اور بدروحوں کو نکالنے والا، گناہ ، بیماری اور موت کو نیست کرنے والا ہے۔

4۔ 473: 12۔13 (تا دوسرا،)

یسوع اْس شخص کا نام ہے جس نے ، دیگر سبھی آدمیوں سے زیادہ، مسیح کو پیش کیا ۔

5۔ 51: 19۔21

اْس کا کامل نمونہ ہم سب کی نجات کے لئے تھا، مگر صرف وہ کام کرنے کے وسیلہ سے جو اْس نے کئے اور دوسروں کو اْن کی تعلیم دی۔

6۔ 38: 26۔32

جو لوگ صرف اپنی خوشی اور حواس کی تسکین میں جیتے ہوئے گناہ پر یقین کرنے اور خودی میں دفن ہیں اْن کے لئے اْس نے مادیت میں کہا: آنکھیں ہیں پر تم دیکھتے نہیں، کان ہیں پر تم سنتے نہیں؛ کہ کہیں تم دل سے سمجھ نہ لو اور باز آؤ اور میں تمہیں شفا دوں۔ اْس نے تعلیم دی کہ مادی حواس سچائی کواور اْس کی شفائیہ قوت کو خاموش کرتے ہیں۔ 

7۔ 33: 18۔26

جب اْس کے اندر انسانی عنصر الٰہی عنصر کے ساتھ کشمکش کر رہا تھا تو ہمارے عظیم استاد نے کہا: ’’میری نہیں بلکہ تیری مرضی پوری ہو!‘‘ ، یعنی، مجھ میں بدن نہیں بلکہ روح ظاہر ہو۔ یہ روحانی محبت کی نئی سمجھ ہے۔ یہ سبھی کچھ مسیح یا سچائی کے لئے مہیا کرتا ہے۔ یہ دشمنوں کو برکت دیتا، بیماروں کو شفا دیتا، غلطیوں کو خارج کرتا، خطاؤں اور گناہوں میں مردہ لوگوں کو زندہ کرتا اور جو دل کے غریب اور فروتن ہیں اْن کو انجیل کی خوشخبری سناتا ہے۔

8۔ 135: 26۔14

مسیحت جیسے کہ یسوع نے اس کی تعلیم دی کوئی بھید یا تقریبات کا ایک نظام نہیں اور نہ ہی ایک رسمی یہواہ کی طرف سے ایک خاص تحفہ ہے؛ بلکہ یہ غلطی کو رفع کرنے اور بیمار کو شفا دینے کے لئے الٰہی محبت کا اظہار تھا، محض مسیح یا سچائی کے نام سے نہیں ، بلکہ سچائی کے اظہار میں، جیسا معاملہ الٰہی روشنی کے سلسلہ کا ہواہوگا۔ 

یسوع نے مسیح کی شفا کی روحانی بنیاد پر اپنا چرچ قائم کیا اور اپنے مشن کو برقرار رکھا۔ اْس نے اپنے پیروکاروں کو سکھایا کہ اْس کا مذہب الٰہی اصول تھا، جو خطا کو خارج کرتا اور بیمار اور گناہگار دونوں کو شفا دیتا تھا۔ اْس نے خدا سے جدا کسی دانش، عمل اور نہ ہی زندگی کا دعویٰ کیا۔ باوجود اْس ایذا کے جو اِسی کے باعث اْس پر آئی، اْس نے الٰہی قوت کو انسان کو بدنی اور روحانی دونوں لحاظ سے نجات دینے کے لئے استعمال کیا۔ 

اب کی طرح اْس وقت بھی سوال یہ تھا، یسوع نے بیمار کو شفا کیسے دی؟ اس سوال پر اْس کے جواب کو دنیا نے رد کر دیا۔ اْس نے اپنے طالب علموں سے سوال کیا: ’’لوگ ابنِ آدم کو کیا کہتے ہیں؟‘‘یعنی: بدروحوں کونکالنے اور بیماروں کو شفا دینے سے کس کی یا کیا شناخت ہوتی ہے؟

9۔ 137: 16 (شمعون) ۔25

۔۔۔شمعون نے اپنے بھائیوں کے لئے جواب دیا، اور اْس کے جواب نے بڑی حقیقت کو جنم دیا: ’’تْو زندہ خدا کا بیٹا مسیح ہے!‘‘ یعنی کہ: وہ مسیحا ہے جس کا تْو نے پرچار کیا ، مسیح، خدا کا، سچائی کا،اور زندگی کااور محبت کا روح، جو ذہنی طور پر شفا دیتا ہے۔ اس دعوے نے یسوع کی طرف سے دعائے خیر کو ظاہر کیا، ’’ مبارک ہے تْو شمعون بر یوناہ کیونکہ یہ بات گوشت اور خون نے نہیں بلکہ میرے باپ نے جو آسمان پر ہے تْجھ پر ظاہر کی ہے‘‘؛ یعنی، محبت نے تمہارے لئے زندگی کا راستہ کھول دیا ہے!

10۔ 560: 30۔4

الٰہی خیال سے بے خبری خیال ، یعنی محبت اور سچائی سے جہالت، کے الٰہی اصول سے بڑی بے خبری کو ایک دم دھوکہ دیتی ہے۔ سچائی اور محبت ،یعنی اْس اصول کی سمجھ جو ابدی اچھائی کے پورا ہونے کا کام کرتا اور بدی پر ایمان اور بدی کی مشق دونوں کو نیست کرتا ہے، اور یہ سمجھ الٰہی خیال کی فہم و فراست کی جانب لے جاتی ہے۔ 

11۔ 138: 9۔11، 17۔22

اس روحانی طور پر سائنسی بنیاد پر یسوع نے علاج کی وضاحت کی جو غیروں کے لئے معجزاتی ظاہر ہوا۔ 

یسوع نے مسیحی دور میں پوری مسیحت کیلئے مثال، تھیالوجی اور شفا کو فروغ دیا۔ مسیحی لوگ اْسی طرح آج بھی اِن احکامات کے ماتحت ہیں ، جیسے وہ تب تھے، کہ مسیح کی مانند بنیں، مسیح کا روح پائیں، مسیح کے نمونے پر چلیں،اور بیماروں کے ساتھ ساتھ گناہ کرنے والوں کو بھی شفا دیں۔

12۔ 132: 20۔27

آج، ماضی کی طرح، روحانی خیال کی دوبارہ آمد سے غفلت یعنی اندھا ایمان دروازے بند کر دیتا ہے،اور اگر یہ کسی مادے یا نظریاتی علم سے کشیدہ نہ کیا گیا ہو تو بیماروں اور گناہ کرنے والوں کے علاج کی مذمت کرتا ہے۔ خدا کے حقیقی خیال یعنی تمام ذہنی اور جسمانی خطاؤں سے اس نجات کی مثالیت سے انکار کرنے کا تخمینہ لگاتے ہوئے، یسوع نے پوچھا، ’’جب ابن آدم آئے گا تو کیا زمین پر ایمان پائے گا؟‘‘

13۔ 37: 16۔17

یسوع کے دعویدار پیروکار کب اْس کی سب راہوں کی پیروی کریں گے اور اْس کے قادر کاموں کی نقل کریں گے؟

14۔ 55: 22۔26

الٰہی شفا کی دوبارہ آمدکا وقت ہمیشہ سے ہے؛ اورجو کوئی اپنی زمینی چیزیں الٰہی سائنس کے الطار پر لاتا ہے، وہ ابھی مسیح کے پیالے میں سے پیتا ہے اور ابھی مسیحی شفا کی قوت اور روح کو پہنے ہوئے ہے۔

15۔ 34: 13 (سب کو) ، 14(ہوگا) ۔ 17

اگر سب لوگ اپنی صلیب اٹھائیں، بیماروں کو شفا دیں، بدرحوں کو نکالیں، اور غریبوں ، حاصل کنندہ خیال، کو مسیح یا سچائی کی تعلیم دیں تو وہ ہزار برس میں شامل ہوں گے۔


روز مرہ کے فرائ

منجاب میری بیکر ایڈ

روز مرہ کی دعا

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ ہر روز یہ دعا کرے: ’’تیری بادشاہی آئے؛‘‘ الٰہی حق، زندگی اور محبت کی سلطنت مجھ میں قائم ہو، اور سب گناہ مجھ سے خارج ہو جائیں؛ اور تیرا کلام سب انسانوں کی محبت کو وافر کرے، اور اْن پر حکومت کرے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 4۔

مقاصد اور اعمال کا ایک اصول

نہ کوئی مخالفت نہ ہی کوئی محض ذاتی وابستگی مادری چرچ کے کسی رکن کے مقاصد یا اعمال پر اثر انداز نہیں ہونی چاہئے۔ سائنس میں، صرف الٰہی محبت حکومت کرتی ہے، اور ایک مسیحی سائنسدان گناہ کو رد کرنے سے، حقیقی بھائی چارے ، خیرات پسندی اور معافی سے محبت کی شیریں آسائشوں کی عکاسی کرتا ہے۔ اس چرچ کے تمام اراکین کو سب گناہوں سے، غلط قسم کی پیشن گوئیوں،منصفیوں، مذمتوں، اصلاحوں، غلط تاثر ات کو لینے اور غلط متاثر ہونے سے آزاد رہنے کے لئے روزانہ خیال رکھنا چاہئے اور دعا کرنی چاہئے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 1۔

فرض کے لئے چوکس

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ وہ ہر روز جارحانہ ذہنی آراء کے خلاف خود کو تیار رکھے، اور خدا اور اپنے قائد اور انسانوں کے لئے اپنے فرائض کو نہ کبھی بھولے اور نہ کبھی نظر انداز کرے۔ اس کے کاموں کے باعث اس کا انصاف ہوگا، وہ بے قصور یا قصوارہوگا۔ 

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 6۔


████████████████████████████████████████████████████████████████████████