اتوار 3 اکتوبر،2021



مضمون۔ غیر واقعیت

SubjectUnreality

سنہری متن: یوحنا 7 باب24 آیت

”ظاہر کے موافق فیصلہ نہ کرو بلکہ انصاف سے فیصلہ کرو۔“



Golden Text: John 7 : 24

Judge not according to the appearance, but judge righteous judgment.





سبق کی آڈیو کے لئے یہاں کلک کریں

یوٹیوب سے سننے کے لئے یہاں کلک کریں

████████████████████████████████████████████████████████████████████████


جوابی مطالعہ: 2کرنتھیوں 10 باب3تا7 آیات


3۔ کیونکہ ہم اگرچہ جسم میں زندگی گُذارتے ہیں مگر جسم کے طور پر لڑتے نہیں۔

4۔ اس لئے کہ ہماری لڑائی کے ہتھیار جِسمانی نہیں بلکہ خدا کے نزدیک قلعوں کو ڈھا دینے کے قابل ہیں۔

5۔ چنانچہ ہم تصورات اور ہر ایک اونچی چیز کو جو خدا کی پہچان کے بر خلاف سر اٹھائے ہوئے ہے ڈھا دیتے ہیں اور ہر ایک خیال کو قید کر کے مسِیح کا فرمانبردار بنا دیتے ہیں۔

6۔ اور ہم تیار ہیں کہ جب تمہاری فرمانبرداری پوری ہو تو ہر طرح کی نافرمانی کا بدلہ لیں۔

7۔ تم اْن چیزوں پر نظر کرتے ہو جو آنکھوں کے سامنے ہیں۔ اگر کسی کو اپنے آپ پر یہ بھروسہ ہے کہ وہ مسیح کا ہے تو اپنے دل میں یہ بھی سوچ لے کہ جیسے وہ مسیح کا ہے ویسے ہم بھی ہیں۔

Responsive Reading: II Corinthians 10 : 3-7

3.     For though we walk in the flesh, we do not war after the flesh:

4.     (For the weapons of our warfare are not carnal, but mighty through God to the pulling down of strong holds;)

5.     Casting down imaginations, and every high thing that exalteth itself against the knowledge of God, and bringing into captivity every thought to the obedience of Christ;

6.     And having in a readiness to revenge all disobedience, when your obedience is fulfilled.

7.     Do ye look on things after the outward appearance? If any man trust to himself that he is Christ’s, let him of himself think this again, that, as he is Christ’s, even so are we Christ’s.



درسی وعظ



بائبل


درسی وعظ

بائبل

1 . ۔ 1 سیموئیل 16باب7 آیت (خداوند دیکھتا ہے)

7۔۔۔۔ خداوند انسان کی مانند نظر نہیں کرتا اس لئے کہ انسان ظاہری صورت کو دیکھتا ہے پر خداوند دل کو دیکھتا ہے۔

1. I Samuel 16 : 7 (the Lord seeth)

7     …the Lord seeth not as man seeth; for man looketh on the outward appearance, but the Lord looketh on the heart.

2 . ۔ یرمیاہ 17 باب 5تا8، 13 14 آیات

5۔ خداوند یوں فرماتا ہے کہ ملعون ہے وہ آدمی جو انسان پر توکل کرتا ہے اور بشر کو اپنا بازو جانتا ہے اور جس کا دل خداوند سے برگشتہ ہو جاتا ہے۔

6۔ کیونکہ وہ رتمہ کی مانند ہوگا جو بیابان میں ہے اور کبھی بھلائی نہ دیکھے گا بلکہ بیابان کی بے آب جگہوں میں اور غیر آباد زمین شور میں رہے گا۔

7۔ مبارک ہے وہ آدمی جو خداوند پر توکل کرتا ہے اور جس کی اْمیدگاہ خداوند ہے۔

8۔ کیونکہ وہ اْس درخت کی مانند ہے جو پانی پر لگایا جائے اور اپنی جڑ دریا کی طرف پھیلائے اور جب گرمی آئے تو اْسے کچھ خطرہ نہ ہو بلکہ اْس کے پتے ہرے رہیں اور خشک سالی کا اْسے کچھ خوف نہ ہو اور پھل لانے سے باز نہ رہے۔

13۔ اے خداوند اسرائیل کی امید گاہ! تجھ کو ترک کرنے والے سب شرمندہ ہوں گے۔ مجھ کو ترک کرنے والے خاک میں مل جائیں گے کیونکہ اْنہوں نے جو آبِ حیات کا چشمہ ہے ترک کردیا۔

14۔ اے خداوند! تْو مجھے شفا بخشے تو مَیں شفا پاؤں گا۔ تْو ہی بچائے تو بچوں گا کیونکہ تْو میرا فخر ہے۔

2. Jeremiah 17 : 5-8, 13, 14

5     Thus saith the Lord; Cursed be the man that trusteth in man, and maketh flesh his arm, and whose heart departeth from the Lord.

6     For he shall be like the heath in the desert, and shall not see when good cometh; but shall inhabit the parched places in the wilderness, in a salt land and not inhabited.

7     Blessed is the man that trusteth in the Lord, and whose hope the Lord is.

8     For he shall be as a tree planted by the waters, and that spreadeth out her roots by the river, and shall not see when heat cometh, but her leaf shall be green; and shall not be careful in the year of drought, neither shall cease from yielding fruit.

13     O Lord, the hope of Israel, all that forsake thee shall be ashamed, and they that depart from me shall be written in the earth, because they have forsaken the Lord, the fountain of living waters.

14     Heal me, O Lord, and I shall be healed; save me, and I shall be saved: for thou art my praise.

3 . ۔ متی 8باب5تا10، 13 آیات

5۔ اور جب وہ کفر نحوم میں داخل ہوا تو ایک صوبہ دار اْس کے پاس آیا اور اْس کی منت کر کے کہا

6۔ اے خداوند میرا خادم فالج کا مارا گھرمیں پڑا ہے اور نہایت تکلیف میں ہے۔

7۔ اْس نے اْس سے کہا مَیں آکر اْسے شفا دوں گا۔

8۔ صوبہ دار نے جواب میں کہا اے خداوند مَیں اِس لائق نہیں کہ تْو میری چھت کے نیچے آئے بلکہ صرف زبان سے کہہ دے تو میرا خادم شفا پا جا ئے گا۔

9۔ کیونکہ مَیں بھی دوسروں کے اختیار میں ہوں اور سپاہی میرے ماتحت ہیں جب ایک سے کہتا ہوں کہ جا تو وہ جاتا ہے اور دوسرے سے کہ آ تو وہ آتا ہے اور اپنے نوکر سے کہ یہ کر تو وہ کرتا ہے۔

10۔ یسوع نے یہ سْن کر تعجب کیا اور پیچھے آنے والوں سے کہا مَیں تم سے سچ کہتا ہوں کہ مَیں نے اسرائیل میں بھی ایسا ایمان نہیں پایا۔

13۔ اور یسوع نے صوبہ دار سے کہا جا جیسا تو نے اعتقاد کیا ہے تیرے لئے ویسا ہی ہواور اْسی گھڑی خادم نے شفا پائی۔

3. Matthew 8 : 5-10, 13

5     And when Jesus was entered into Capernaum, there came unto him a centurion, beseeching him,

6     And saying, Lord, my servant lieth at home sick of the palsy, grievously tormented.

7     And Jesus saith unto him, I will come and heal him.

8     The centurion answered and said, Lord, I am not worthy that thou shouldest come under my roof: but speak the word only, and my servant shall be healed.

9     For I am a man under authority, having soldiers under me: and I say to this man, Go, and he goeth; and to another, Come, and he cometh; and to my servant, Do this, and he doeth it.

10     When Jesus heard it, he marvelled, and said to them that followed, Verily I say unto you, I have not found so great faith, no, not in Israel.

13     And Jesus said unto the centurion, Go thy way; and as thou hast believed, so be it done unto thee. And his servant was healed in the selfsame hour.

4 . ۔ یوحنا 12 باب 37تا46 آیات

37۔ اور اگر چہ اْس نے اْن کے سامنے اتنے معجزے دکھائے تو بھی وہ اْس پر ایمان نہ لائے۔

38۔ تاکہ یسعیاہ نبی کا کلام پورا ہو جو اْس نے کہا کہ اے خداوند ہمارے پیغام کا کس نے یقین کیا ہے؟ اور خداوند کا ہاتھ کس پر ظاہر ہوا ہے؟

39۔ اِس سبب سے وہ پھر ایمان نہ لاسکے یسعیاہ نے پھر کہا۔

40۔ اْس نے اْن کی آنکھوں کو اندھا اور اْن کے دل کو سخت کردیا۔ ایسا نہ ہو کہ وہ آنکھوں سے دیکھیں اور دل سے سمجھیں اور رجوح کریں۔ اور مَیں اْنہیں شفا بخشوں۔

41۔ یسعیاہ نے یہ باتیں اِس لئے کہیں کہ اْس نے اْس کا جلال دیکھا اور اْس نے اْسی کے بارے میں کلام کیا۔

42۔ تو بھی سرداروں میں سے بھی بہتیرے اْس پر ایمان لائے مگر فریسیوں کے سبب سے اقرار نہ کرتے تھے تاایسا نہ ہو کہ عبادتخانہ سے خارج کئے جائیں۔

43۔ کیونکہ وہ خدا سے عزت حاصل کرنے کی نسبت انسان سے عزت حاصل کرنا زیادہ چاہتے تھے۔

44۔ یسوع نے پکار کر کہا جو مجھ پر ایمان لاتا ہے وہ مجھ پر نہیں بلکہ میرے بھیجنے والے پر ایمان لاتا ہے۔

45۔ اور جو مجھے دیکھتا ہے وہ میرے بھیجنے والے کو دیکھتا ہے۔

46۔ مَیں نور ہو کر دنیا میں آیا ہوں تاکہ جو مجھ پر ایمان لائے اندھیرے میں نہ رہے۔

4. John 12 : 37-46

37     But though he had done so many miracles before them, yet they believed not on him:

38     That the saying of Esaias the prophet might be fulfilled, which he spake, Lord, who hath believed our report? and to whom hath the arm of the Lord been revealed?

39     Therefore they could not believe, because that Esaias said again,

40     He hath blinded their eyes, and hardened their heart; that they should not see with their eyes, nor understand with their heart, and be converted, and I should heal them.

41     These things said Esaias, when he saw his glory, and spake of him.

42     Nevertheless among the chief rulers also many believed on him; but because of the Pharisees they did not confess him, lest they should be put out of the synagogue:

43     For they loved the praise of men more than the praise of God.

44     Jesus cried and said, He that believeth on me, believeth not on me, but on him that sent me.

45     And he that seeth me seeth him that sent me.

46     I am come a light into the world, that whosoever believeth on me should not abide in darkness.

5 . ۔ متی 23 باب 1تا3، 23، 24، 26، 27 (کیونکہ)، 28 آیات

1۔ اْس وقت یسوع نے بھیڑ سے اور اپنے شاگردوں سے یہ باتیں کہیں۔

2۔ فقیہ اور فریسی موسیٰ کی گدّی پر بیٹھے ہیں۔

3۔ پس جو کچھ وہ تمہیں بتائیں وہ سب کرو اور مانو لیکن اْن کے سے کام نہ کرو کیونکہ وہ کہتے ہیں اور کرتے نہیں۔

23۔ اے ریاکارو فقیہوں اور فریسیو تم پر افسوس!کہ پودینہ اور سونف اور زیرہ تو دہ یکی دیتے ہوپر تم نے شریعت کی زیادہ بھاری باتوں یعنی انصاف اور رحم اور ایمان کو چھوڑ دیا ہے۔ لازم تھا کہ یہ بھی کرتے اور وہ بھی نہ چھوڑتے۔

24۔ اے اندھے راہ بتانے والو جو مچھر کو تو چھانتے ہو اور اونٹ کو نگل جاتے ہو۔

26۔ اے اندھے فریسی! پہلے پیالے اور رکابی کو اندر سے صاف کر تاکہ اوپر سے بھی صاف ہو جائیں۔

27۔۔۔۔کہ تم سفیدی پھری ہوئی قبروں کی مانند ہو جو اوپر سے تو خوبصورت دکھائی دیتی ہیں۔ مگر اندر مردوں کی ہڈیوں اور ہر طرح کی نجاست سے بھری ہیں۔

28۔ اسی طرح تم بھی ظاہر میں تو لوگوں کو راستباز دکھائی دیتے ہو مگر باطن میں ریاکاری اور بے دینی سے بھرے ہو۔

5. Matthew 23 : 1-3, 23, 24, 26, 27 (for), 28

1     Then spake Jesus to the multitude, and to his disciples,

2     Saying, The scribes and the Pharisees sit in Moses’ seat:

3     All therefore whatsoever they bid you observe, that observe and do; but do not ye after their works: for they say, and do not.

23     Woe unto you, scribes and Pharisees, hypocrites! for ye pay tithe of mint and anise and cummin, and have omitted the weightier matters of the law, judgment, mercy, and faith: these ought ye to have done, and not to leave the other undone.

24     Ye blind guides, which strain at a gnat, and swallow a camel.

26     Thou blind Pharisee, cleanse first that which is within the cup and platter, that the outside of them may be clean also.

27     …for ye are like unto whited sepulchres, which indeed appear beautiful outward, but are within full of dead men’s bones, and of all uncleanness.

28     Even so ye also outwardly appear righteous unto men, but within ye are full of hypocrisy and iniquity.

6 . ۔ 2 کرنتھیوں 5 باب6تا8، 16تا18 (تا دوسرا) آیات

6۔ پس ہمیشہ ہماری خاطر جمع رہتی ہے اور یہ جانتے ہیں کہ جب تک ہم بدن کے وطن میں ہیں خداوند کے ہاں سے جلا وطن ہیں۔

7۔ کیونکہ ہم ایمان پر چلتے ہیں نہ کہ آنکھوں دیکھے پر۔

8۔ غرض ہماری خاطر جمع ہے اور ہم کو بدن کے وطن سے جدا ہو کر خداوند کے وطن میں رہنا زیادہ منظور ہے۔

16۔ پس اب سے ہم کسی کو جسم کی حیثیت سے نہ پہچانیں گے۔ ہاں اگرچہ مسیح کو بھی جسم کی حیثیت سے جانا تھا مگر اب سے نہیں جانیں گے۔

17۔ اس لئے اگر کوئی مسیح میں ہے تو وہ نیا مخلوق ہے۔ پرانی چیزیں جاتی رہیں۔ دیکھو وہ نئی ہو گئیں۔

18۔ اور سب چیزیں خدا کی طرف سے ہیں جس نے مسیح کے وسیلہ سے اپنے ساتھ ہمارا میل ملاپ کر لیا۔

6. II Corinthians 5 : 6-8, 16-18 (to 2nd ,)

6     Therefore we are always confident, knowing that, whilst we are at home in the body, we are absent from the Lord:

7     (For we walk by faith, not by sight:)

8     We are confident, I say, and willing rather to be absent from the body, and to be present with the Lord.

16     Wherefore henceforth know we no man after the flesh: yea, though we have known Christ after the flesh, yet now henceforth know we him no more.

17     Therefore if any man be in Christ, he is a new creature: old things are passed away; behold, all things are become new.

18     And all things are of God, who hath reconciled us to himself by Jesus Christ,

7 . ۔ 2 کرنتھیوں 6 باب14تا18 آیات

14۔ بے ایمانوں کے ساتھ ناہموار جوئے میں نہ جْتو کیونکہ راستبازی اور بے دینی میں کیا میل؟ یا روشنی اور تاریکی میں کیا شراکت؟

15۔ مسیح کو بلیعال کے ساتھ کیا موافقت؟ یا ایماندار کا بے ایمان کے ساتھ کیا واسطہ؟

16۔ اور خدا کے مقدِس کو بتوں سے کیا مناسبت ہے؟ کیونکہ ہم زندہ خدا کا مقدِس ہیں۔ چنانچہ خدا نے فرمایا ہے کہ میں اْن میں بسوں گا اور اْن میں چلوں پھروں گا اور میں اْن کا خدا ہوں گا اور وہ میری امت ہوں گے۔

17۔ اِس واسطے خداوند فرماتا ہے کہ اْن میں سے نکل کر الگ رہو اور ناپاک چیز کو نہ چھوؤ تو مَیں تم کو قبول کر لوں گا۔

18۔ اور تمہارا باپ ہوں گا اور تم میرے بیٹے بیٹیاں ہوگے۔ یہ خداوند قادر مطلق کا قول ہے۔

7. II Corinthians 6 : 14-18

14     Be ye not unequally yoked together with unbelievers: for what fellowship hath righteousness with unrighteousness? and what communion hath light with darkness?

15     And what concord hath Christ with Belial? or what part hath he that believeth with an infidel?

16     And what agreement hath the temple of God with idols? for ye are the temple of the living God; as God hath said, I will dwell in them, and walk in them; and I will be their God, and they shall be my people.

17     Wherefore come out from among them, and be ye separate, saith the Lord, and touch not the unclean thing; and I will receive you,

18     And will be a Father unto you, and ye shall be my sons and daughters, saith the Lord Almighty.



سائنس اور صح


1 . ۔ 472 :24 (سب)۔26، 30۔3

خدا اور اْس کی تخلیق میں پائی جانے والی ساری حقیقت ہم آہنگ اور ابدی ہے۔ جو کچھ وہ بناتا ہے اچھا بناتا ہے، اور جو کچھ بنا ہے اْسی نے بنایاہے۔۔۔۔کرسچن سائنس میں ہم سیکھتے ہیں مادی سوچ یا جسم کی تمام خارج از آہنگی فریب نظری ہے جو اگرچہ حقیقی اور یکساں دکھائی دیتی ہے لیکن وہ نہ حقیقت کی نہ ہی یکسانیت کی ملکیت رکھتی ہے۔

1. 472 : 24 (All)-26, 30-3

All reality is in God and His creation, harmonious and eternal. That which He creates is good, and He makes all that is made. … We learn in Christian Science that all inharmony of mortal mind or body is illusion, possessing neither reality nor identity though seeming to be real and identical.

2 . ۔ 243 :32۔6

چونکہ خدا نیک اور سب جانداروں کا سر چشمہ ہے، وہ اخلاقی یا جسمانی بدصورتی پیدا نہیں کرتا؛ اس لئے ایسا بگاڑ حقیقی نہیں بلکہ فریب نظری، غلطی کا سراب ہے۔ الٰہی سائنس اِن بڑے حقائق کو ظاہر کرتی ہے۔ اِنہی کی بنیاد پر کسی بھی شکل میں نہ غلطی سے خوف زدہ ہوتے ہوئے نہ ہی اِس کی تابعداری کرتے ہوئے یسوع نے زندگی کا اظہار کیا۔

2. 243 : 32-6

Inasmuch as God is good and the fount of all being, He does not produce moral or physical deformity; therefore such deformity is not real, but is illusion, the mirage of error. Divine Science reveals these grand facts. On their basis Jesus demonstrated Life, never fearing nor obeying error in any form.

3 . ۔ 250 :6۔13

فانی وجود یت ایک خواب ہے؛ فانی وجودیت کی کوئی حقیقی ہستی نہیں ہے، بلکہ یہ کہا جاتا ہے ”یہ انا ہے۔“ روح ایک خودی ہے جو خواب کبھی نہیں دیکھتی بلکہ سب باتوں کو سمجھتی ہے؛ جو کبھی غلطی نہیں کرتی اور ہمیشہ بیدار رہتی ہے، جو کبھی ایمان نہیں رکھتی بلکہ جانتی ہے، جو کبھی پیدا نہیں ہوتی اور نہ مرتی ہے۔ روحانی انسان اس خودی کی شبیہ ہے۔ انسان خدا نہیں ہے بلکہ روشنی کی وہ کرن ہے جو سورج سے نکلتی ہے، انسان یعنی خدا سے نکلا ہوا، خدا کو منعکس کرتا ہے۔

3. 250 : 6-13

Mortal existence is a dream; mortal existence has no real entity, but saith "It is I." Spirit is the Ego which never dreams, but understands all things; which never errs, and is ever conscious; which never believes, but knows; which is never born and never dies. Spiritual man is the likeness of this Ego. Man is not God, but like a ray of light which comes from the sun, man, the outcome of God, reflects God.

4 . ۔ 512 :21۔25

ایک عقل کے لامحدود عناصر سے رنگ، معیار اور تعداد کی تمام تر اشکال ظاہر ہوتی ہیں اور یہ بنیادی اور ثانوی دونوں لحاظ سے ذہنی ہیں۔ اْن کی روحانی فطرت محض روحانی حواس سے ہی سمجھی جاتی ہے۔

4. 512 : 21-25

From the infinite elements of the one Mind emanate all form, color, quality, and quantity, and these are mental, both primarily and secondarily. Their spiritual nature is discerned only through the spiritual senses.

5 . ۔ 21 :25۔10

مادے کے ساتھ ہمدرد ہوتے ہوئے دنیاوی انسان غلطی کے آگے پیچھے ہمہ وقت تیار ہوتا ہے اور وہ اِس طرف رجحان رکھے گا۔وہ کسی مسافر کی طرح مغرب میں ایک تفریحی سفر پر جانے والے کی مانند ہوگا۔ یہاں اْس کی صحبت دلکش اور خواہشیں دلچسپ ہوتی ہیں۔چھ دن تک سورج کا پیچھا کرنے کے بعد وہ ساتویں دن مشرق میں واپس آتا ہے، اگر وہ خود کو درست سمت میں جاتا ہوا تصور کرے گا تو وہ بہت مطمین ہوگا۔اِس کے ساتھ ساتھ اپنے اْلٹے پْلٹے راستوں سے شرمندہ ہوکر وہ کسی دانشمندانہ زیارت کے لئے اپنا پاسپورٹ وصول کرے گا، اور اِس کی مدد سے درست راہ کو پانے اور اِس پر چلنے کا سوچے گا۔

پینڈولم کی طرح گناہ اور معافی کی امید میں جھْولتے ہوئے، خود غرضی اور نفس پرستی کو متواتر تنزلی کا موجب بنتے ہوئے ہماری اخلاقی ترقی دھیمی ہو جائے گی۔مسیح کے مطالبے پر بیدار ہونے سے بشر مصائب کا تجربہ کرتے ہیں۔ یہ انہیں، ایک ڈوبتے ہوئے شخص کی مانند خد کو بچانے کی بھرپور کوششیں کرنے کی ترغیب دیتا ہے؛ اور مسیح کے بیش قیمت خون کے وسیلہ یہ کوششیں کامیابی کا سہرا پاتی ہیں۔

5. 21 : 25-10

Being in sympathy with matter, the worldly man is at the beck and call of error, and will be attracted thitherward. He is like a traveller going westward for a pleasure-trip. The company is alluring and the pleasures exciting. After following the sun for six days, he turns east on the seventh, satisfied if he can only imagine himself drifting in the right direction. By-and-by, ashamed of his zigzag course, he would borrow the passport of some wiser pilgrim, thinking with the aid of this to find and follow the right road.

Vibrating like a pendulum between sin and the hope of forgiveness, — selfishness and sensuality causing constant retrogression, — our moral progress will be slow. Waking to Christ's demand, mortals experience suffering. This causes them, even as drowning men, to make vigorous efforts to save themselves; and through Christ's precious love these efforts are crowned with success.

6 . ۔ 298 :8۔24

جس کی اصطلاح مادی فہم ہے وہ چیزوں کے صرف فانی عارضی فہم کی رپورٹ کر سکتا ہے، جبکہ روحانی فہم صرف سچائی کی گواہی دے سکتا ہے۔مادی فہم کے لئے غیر حقیقی تب تک حقیقی رہتا ہے جب تک کہ کرسچن سائنس کی بدولت اِس فہم کی تصحیح نہیں ہوجاتی۔

مادی فہم کی مخالفت کرتے ہوئے روحانی فہم میں الہام، امید، ایمان، سمجھ، سود مندی، حقیقت شامل ہوتے ہیں۔مادی فہم یہ ایمان ظاہر کرتا ہے کہ عقل مادے میں ہے۔یہ انسانی عقیدہ، خوشی اور درد، امید اور خوف، زندگی اور موت کے فہم کے مابین تبدیلی لاتے ہوئے فانیت یا غیر واقیعت کی حدود سے کبھی تجاوز نہیں کرتا۔جب حقیقی کو حاصل کرلیا جاتا ہے، جس کا اعلان سائنس کی بدولت ہوتا ہے، خوشی مزید ٹھوکر دلانے والی اور نہ ہی امید دھوکہ دینے والی ہوتی ہے۔روحانی خیالات، جیسے کہ اعداد اور خطوط، اصول سے شروع ہوتے ہیں، اور یہ کسی مادی عقیدے کو قبول نہیں کرتے۔روحانی خیالات اْن کی الٰہی ابتدا اور ہستی کے روحانی فہم کی جانب راہنمائی دیتے ہیں۔

6. 298 : 8-24

What is termed material sense can report only a mortal temporary sense of things, whereas spiritual sense can bear witness only to Truth. To material sense, the unreal is the real until this sense is corrected by Christian Science.

Spiritual sense, contradicting the material senses, involves intuition, hope, faith, understanding, fruition, reality. Material sense expresses the belief that mind is in matter. This human belief, alternating between a sense of pleasure and pain, hope and fear, life and death, never reaches beyond the boundary of the mortal or the unreal. When the real is attained, which is announced by Science, joy is no longer a trembler, nor is hope a cheat. Spiritual ideas, like numbers and notes, start from Principle, and admit no materialistic beliefs. Spiritual ideas lead up to their divine origin, God, and to the spiritual sense of being.

7 . ۔ 359 :29۔21

ایک مسیحی سائنسدان اور ایک مخالف دونوں فنکاروں کی مانند ہیں۔ایک کہتا ہے، ”میرے پاس ناقابل تقسیم اور جلالی روحانی خیالات ہیں۔ جب دوسرے میری مانند انہیں اِن کی روشنی اور محبت میں دیکھتے ہیں، اور یہ جانتے ہیں کہ یہ خیالات حقیقی اور ابدی اِس لئے ہیں کیونکہ یہ سچائی سے لئے گئے ہیں، تو انہیں پتا چلے گا کہ کوئی نقصان نہیں ہوا، اور سب جیتا گیا ہے، اِس کے درست اندازے کے مطابق جو حقیقی ہے۔“

دوسرا فنکار جواب دیتا ہے: ”تم نے میرا تجربہ غلط کر دیا۔ میرے ذہنی نظریات نہیں ہیں سوائے اِن کے جو ذہنی اور مادی دونوں ہیں۔یہ سچ ہے کہ مادیت اِن نظریات کو نامکمل اور تباہ کن بناتی ہے؛ پھر بھی مَیں آپ کے ساتھ اپنے تبدیل نہیں کروں گا کیونکہ میرے مجھے ایسی ذاتی خوشی دیتے ہیں اور حیران کن حد تک وہ ماورا نہیں ہیں۔یہ کم خود ساختگی کا مطالبہ رکھتے ہیں اور نظر وں سے دور روح کو رکھتے ہیں۔ اِس کے علاوہ، میرے پاس میرے پرانے عقائد یا انسانی آراء کھونے کا کوئی نشان نہیں ہے۔“

عزیز قارئین! کون سا عقلی تصور یا خارجی خیال آپ کے لئے حقیقی ہوگا، مادی یا روحانی؟ آپ دونوں نہیں رکھ سکتے۔ آپ اپنا خود کا نمونہ لا رہے ہیں۔ یہ نمونہ یا عارضی ہے یا ابدی۔ یا روح یا پھر مادہ آپ کا نمونہ ہے۔ اگر آپ دونمونے رکھنے کی کوشش کرتے ہیں، تو عملی طور پر آپ کے پاس کوئی بھی نہیں ہوگا۔گھڑی میں پینڈولم کی مانند، آپ کو آگے پیچھے دھکیلا جائے گا، تاکہ مادے کی پسلیوں سے ٹکرائیں اور حقیقی اور غیر حقیقی کے مابین جھولیں۔

7. 359 : 29-21

A Christian Scientist and an opponent are like two artists. One says: "I have spiritual ideals, indestructible and glorious. When others see them as I do, in their true light and loveliness, — and know that these ideals are real and eternal because drawn from Truth, — they will find that nothing is lost, and all is won, by a right estimate of what is real."

The other artist replies: "You wrong my experience. I have no mind-ideals except those which are both mental and material. It is true that materiality renders these ideals imperfect and destructible; yet I would not exchange mine for thine, for mine give me such personal pleasure, and they are not so shockingly transcendental. They require less self-abnegation, and keep Soul well out of sight. Moreover, I have no notion of losing my old doctrines or human opinions."

Dear reader, which mind-picture or externalized thought shall be real to you, — the material or the spiritual? Both you cannot have. You are bringing out your own ideal. This ideal is either temporal or eternal. Either Spirit or matter is your model. If you try to have two models, then you practically have none. Like a pendulum in a clock, you will be thrown back and forth, striking the ribs of matter and swinging between the real and the unreal.

8 . ۔ 227 :21۔10

کرسچن سائنس آزادی کو اونچا کرتی اور چلاتی ہے کہ: ”میری پیروی کریں! بیماری، گناہ اور موت کے بندھنوں سے بچیں!“ یسوع نے راستہ متعین کیا ہے۔ دنیا کے باسیو، ”خدا کے فرزندوں کی جلالی آزادی“ کو قبول کریں، اور آزاد ہوں! یہ آپ کا الٰہی حق ہے۔ مادی حِس کے بھرم نے، نہ کہ الٰہی قانون نے، آپ کو باندھا ہوا ہے، آپ کے آزاد اعضاء کو جکڑا ہوا ہے، آپ کی صلاحتیوں کو معزول کر رکھا ہے، آپ کے بدن کو لاغر کیا ہوا ہے، اور آپ کی ہستی کی تختی کو خراب کر رکھا ہے۔

اگر خدا نے انسان پر حکمرانی کے لئے مادی قوانین قائم کئے ہوتے، جن کی نافرمانی انسان کو بیمار بنا دیتی، تو یسوع نے براہ راست مخالفت میں اور تمام مادی حالتوں کی خلاف ورزی میں شفا دیتے ہوئے اِن قوانین کو رد نہ کیا ہوتا۔

بیماری کا یا مادی عقل کے چند مخصوص انداز کاتبادلہ ناممکن ہوتا اگر ہستی کی اِس بڑی حقیقت سے آگاہی نہ پائی ہوتی، یعنی کہ کچھ بھی غیر ہم آہنگ ہستی میں داخل نہیں ہوسکتا کیونکہ زندگی خدا ہے۔نظریات پر الزامات لگانے کے لئے مادی عقیدے کے لئے وراثت ایک ثمر آور موضوع ہے؛ لیکن اگر ہم سیکھتے ہیں کہ کچھ بھی حقیقی نہیں بلکہ درست ہے، تو ہمیں کوئی خطرناک وراثت نہیں ملے گی اور جسمانی بیماریاں دور ہو جائیں گی۔

8. 227 : 21-10

Christian Science raises the standard of liberty and cries: "Follow me! Escape from the bondage of sickness, sin, and death!" Jesus marked out the way. Citizens of the world, accept the "glorious liberty of the children of God," and be free! This is your divine right. The illusion of material sense, not divine law, has bound you, entangled your free limbs, crippled your capacities, enfeebled your body, and defaced the tablet of your being.

If God had instituted material laws to govern man, disobedience to which would have made man ill, Jesus would not have disregarded those laws by healing in direct opposition to them and in defiance of all material conditions.

The transmission of disease or of certain idiosyncrasies of mortal mind would be impossible if this great fact of being were learned, — namely, that nothing inharmonious can enter being, for Life is God. Heredity is a prolific subject for mortal belief to pin theories upon; but if we learn that nothing is real but the right, we shall have no dangerous inheritances, and fleshly ills will disappear.

9 . ۔ 403 :14۔20

اگر آپ یہ سمجھ جائیں کہ یہ فانی وجود خود کار فریب ہے اور حقیقی نہیں ہے تو آپ صورت حال پر قابو پا لیتے ہیں۔فانی فہم متواتر طور پر فانی جسم کے لئے غلط آراء کے نتائج کو جنم دیتا ہے؛ اور یہ تب تک جاری رہتا ہے جب تک حق فانی غلطی کو اس کی فرضی توانائیوں سے برطرف نہیں کرتا، جو فانی فریب کے ہلکے سے جالے کو صاف کر دیتا ہے۔

9. 403 : 14-20

You command the situation if you understand that mortal existence is a state of self-deception and not the truth of being. Mortal mind is constantly producing on mortal body the results of false opinions; and it will continue to do so, until mortal error is deprived of its imaginary powers by Truth, which sweeps away the gossamer web of mortal illusion.

10 . ۔ 208 :20۔24

آئیے حقیقی اور ابدی سے متعلق سیکھیں اور روح کی سلطنت، آسمان کی بادشاہی، عالمگیر ہم آہنگی کی بادشاہی اور حکمرانی کے لئے تیاری کریں جو کبھی کھو نہیں سکتی اور نہ ہمیشہ کے لئے اندیکھی رہ سکتی ہے۔

10. 208 : 20-24

Let us learn of the real and eternal, and prepare for the reign of Spirit, the kingdom of heaven, — the reign and rule of universal harmony, which cannot be lost nor remain forever unseen.


روز مرہ کے فرائ

منجاب میری بیکر ایڈ

روز مرہ کی دعا

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ ہر روز یہ دعا کرے: ’’تیری بادشاہی آئے؛‘‘ الٰہی حق، زندگی اور محبت کی سلطنت مجھ میں قائم ہو، اور سب گناہ مجھ سے خارج ہو جائیں؛ اور تیرا کلام سب انسانوں کی محبت کو وافر کرے، اور اْن پر حکومت کرے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 4۔

مقاصد اور اعمال کا ایک اصول

نہ کوئی مخالفت نہ ہی کوئی محض ذاتی وابستگی مادری چرچ کے کسی رکن کے مقاصد یا اعمال پر اثر انداز نہیں ہونی چاہئے۔ سائنس میں، صرف الٰہی محبت حکومت کرتی ہے، اور ایک مسیحی سائنسدان گناہ کو رد کرنے سے، حقیقی بھائی چارے ، خیرات پسندی اور معافی سے محبت کی شیریں آسائشوں کی عکاسی کرتا ہے۔ اس چرچ کے تمام اراکین کو سب گناہوں سے، غلط قسم کی پیشن گوئیوں،منصفیوں، مذمتوں، اصلاحوں، غلط تاثر ات کو لینے اور غلط متاثر ہونے سے آزاد رہنے کے لئے روزانہ خیال رکھنا چاہئے اور دعا کرنی چاہئے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 1۔

فرض کے لئے چوکس

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ وہ ہر روز جارحانہ ذہنی آراء کے خلاف خود کو تیار رکھے، اور خدا اور اپنے قائد اور انسانوں کے لئے اپنے فرائض کو نہ کبھی بھولے اور نہ کبھی نظر انداز کرے۔ اس کے کاموں کے باعث اس کا انصاف ہوگا، وہ بے قصور یا قصوارہوگا۔ 

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 6۔


████████████████████████████████████████████████████████████████████████