اتوار 3 مئی، 2020 |

اتوار 3 مئی، 2020



مضمون۔ دائمی سزا

SubjectEverlasting Punishment

سنہری متن:سنہری متن: امثال 28 باب13آیت

’’جو اپنے گناہوں کو چھپاتا ہے کامیاب نہ ہوگا لیکن جو اْن کا اقرار کر کے اْن کو ترک کرتا ہے اْس پر رحمت ہوگی۔‘‘



Golden Text: Proverbs 28 : 13

He that covereth his sins shall not prosper: but whoso confesseth and forsaketh them shall have mercy.





سبق کی آڈیو کے لئے یہاں کلک کریں

یوٹیوب سے سننے کے لئے یہاں کلک کریں

████████████████████████████████████████████████████████████████████████


جوابی مطالعہ: زبور 25: 1، 2، 5، 8، 11، 16،18 آیات


1۔ اے خداوند! میں اپنی جان تیری طرف اٹھاتا ہوں۔

2۔ اے میرے خدا! میں نے تجھ پر توکل کیا۔ مجھے شرمندہ نہ ہونے دے۔ میرے دشمن مجھ پر شادیانہ نہ بجائیں۔

5۔ مجھے اپنی سچائی پر چلا اور تعلیم دے۔ کیونکہ تْو میرا نجات دینے والا خدا ہے۔ مَیں دن بھر تیرا ہی منتظر رہتا ہوں۔

8۔ خداوند نیک اور راست ہے۔ اِس لئے وہ گناہگار کو راہِ حق کی تعلیم دے گا۔

11۔ اے خداوند اپنے نام کی خاطر میری بدکاری معاف کر دے کیونکہ وہ بڑی ہے۔

16۔ میری طرف متوجہ ہو اور مجھ پر رحم کر کیونکہ میں بے کس اور مصیبت زدہ ہوں۔

18۔ تْو میری مصیبت اور جانفشانی کو دیکھ اور میرے سب گناہ معاف فرما۔

Responsive Reading: Psalm 25 : 1, 2, 5, 8, 11, 16, 18

1.     Unto thee, O Lord, do I lift up my soul.

2.     O my God, I trust in thee: let me not be ashamed, let not mine enemies triumph over me.

5.     Lead me in thy truth, and teach me: for thou art the God of my salvation; on thee do I wait all the day.

8.     Good and upright is the Lord: therefore will he teach sinners in the way.

11.     For thy name’s sake, O Lord, pardon mine iniquity; for it is great.

16.     Turn thee unto me, and have mercy upon me; for I am desolate and afflicted.

18.     Look upon mine affliction and my pain; and forgive all my sins.



درسی وعظ



بائبل


درسی وعظ

بائبل

1۔ 2 سیموئیل 12باب 1 تا 10، 13، 24 (بیتِ شبیاہ) (بیوی کو)، 24 (پیدا ہوا)، 29، 30 آیات

1۔ اور خداوند نے داؤد کو ناتن کے پاس بھیجا۔ اْس نے اْس کے پاس آکر کہا کسی شہر میں دو شخص تھے ایک امیر دوسرا غریب۔

2۔ اْس امیر کے پاس بہت سے ریوڑاور گلے تھے۔

3۔ پر اْس غریب کے پاس ایک بھیڑ کی پٹھیا کے سوا کچھ نہ تھا جسے اْس نے خرید کر پالا تھا اور وہ اْس کے اور اْس کے بال بچوں کے ساتھ بڑھی تھی۔ وہ اْسی کے نوالہ میں سے کھاتی اور اْس کے پیالہ سے پیتی اور اْس کی گود میں سوتی تھی اور اْس کے لئے بطور بیٹی کے تھی۔

4۔ اور اْس امیر کے ہاں کوئی مسافر آیا۔ سو اْس نے اْس مسافر کے لئے جو اْس کے ہاں آیا تھا پکانے کے لئے اپنے ریوڑ اور گلہ میں سے کچھ نہ لیا بلکہ اْس غریب کی بھیڑ لے لی اور اْس شخص کے لئے جو اْس کے ہاں آیا تھا پکائی۔

5۔ تب داؤد کا غضب اْس شخص پر بشدت بھڑکا اور اْس نے ناتن سے کہا خداوند کی حیات کی قسم کہ وہ شخص واجب القتل ہے۔

6۔سو اْس شخص کو اْس بھیڑ کا چوگنا بھرنا پڑے گا کیونکہ اْس نے ایسا کام کیا اور اْسے ترس نہ آیا۔

7۔ تب ناتن نے داؤد سے کہا وہ شخص تْو ہی ہے۔خداوند اسرائیل کا خدا یوں فرماتا ہے کہ میں نے تجھے مسح کر کے اسرائیل کا بادشاہ بنایا اور مَیں نے تجھے ساؤل کے ہاتھ سے چھڑایا۔

8۔ اور مَیں نے تیرے آقا کا گھر تجھے دیا اور تیرے آقا کی بیویاں تیری گود میں کر دیں اور اسرائیل اور یہودہ کا گھرانہ تجھ کو دیا اور اگر یہ سب کچھ تھوڑا تھا تو میں تجھ کو اور اور چیزیں بھی دیتا۔

9۔ سو تْو نے کیوں خداوند کی بات کی تحقیر کر کے اْس کے حضور بدی کی؟ تْو نے حِتی اوریاہ کو تلوار سے مارا اور اْس کی بیوی لے لی تاکہ وہ تیری بیوی بنے اور اْس کو بنی عمون کی تلوار سے قتل کروایا۔

10۔ سو اب تیرے گھر سے تلوار کبھی الگ نہ ہوگی کیونکہ تْو نے مجھے حقیر جانا اور حِتی اوریاہ کی بیوی لے لی تاکہ وہ تیری بیوی ہو۔

13۔ تب داؤد نے ناتن سے کہا میں نے خداوند کا گناہ کیا۔ ناتن نے کہا خداوند نے بھی تیرا گناہ بخشا۔ تْو مرے گا نہیں۔

24۔ اْس کی بیوی بیت سبع۔۔۔ کے ہاں ایک بیٹا ہوا اْس نے اْس کا نام سلیمان رکھا اور وہ خداوند کا پیارا ہوا۔

29۔ تب داؤد نے سب لوگوں کو جمع کیا اور ربہّ کو گیا اور اْس سے لڑا اور اْس کو لے لیا۔

30۔ اور اْس نے اْن کے بادشاہ کا تاج اْس کے سر سے اتار لیا۔ اْس کا وزن سونے کا ایک قنطار تھا اور اْس میں جواہر جڑے ہوئے تھے۔ سو وہ داؤد کے سر پر رکھا گیا اور وہ اْس شہر سے لوٹ کابہت سا مال نکال لایا۔

1. II Samuel 12 : 1-10, 13, 24 (Bathsheba) (to wife), 24 (bare), 29, 30

1     And the Lord sent Nathan unto David. And he came unto him, and said unto him, There were two men in one city; the one rich, and the other poor.

2     The rich man had exceeding many flocks and herds:

3     But the poor man had nothing, save one little ewe lamb, which he had bought and nourished up: and it grew up together with him, and with his children; it did eat of his own meat, and drank of his own cup, and lay in his bosom, and was unto him as a daughter.

4     And there came a traveller unto the rich man, and he spared to take of his own flock and of his own herd, to dress for the wayfaring man that was come unto him; but took the poor man’s lamb, and dressed it for the man that was come to him.

5     And David’s anger was greatly kindled against the man; and he said to Nathan, As the Lord liveth, the man that hath done this thing shall surely die:

6     And he shall restore the lamb fourfold, because he did this thing, and because he had no pity.

7     And Nathan said to David, Thou art the man. Thus saith the Lord God of Israel, I anointed thee king over Israel, and I delivered thee out of the hand of Saul;

8     And I gave thee thy master’s house, and thy master’s wives into thy bosom, and gave thee the house of Israel and of Judah; and if that had been too little, I would moreover have given unto thee such and such things.

9     Wherefore hast thou despised the commandment of the Lord, to do evil in his sight? thou hast killed Uriah the Hittite with the sword, and hast taken his wife to be thy wife, and hast slain him with the sword of the children of Ammon.

10     Now therefore the sword shall never depart from thine house; because thou hast despised me, and hast taken the wife of Uriah the Hittite to be thy wife.

13     And David said unto Nathan, I have sinned against the Lord. And Nathan said unto David, The Lord also hath put away thy sin; thou shalt not die.

24     Bath-sheba his wife … bare a son, and he called his name Solomon: and the Lord loved him.

29     And David gathered all the people together, and went to Rabbah, and fought against it, and took it.

30     And he took their king’s crown from off his head, the weight whereof was a talent of gold with the precious stones: and it was set on David’s head. And he brought forth the spoil of the city in great abundance.

2۔ 51 زبور 1تا4، 6تا 10، 12 آیات

1۔ اے خداوند اپنی شفقت کے مطابق مجھ پر رحم کر۔ اپنی رحمت کی کثرت کے مطابق میری خطائیں مٹا دے۔

2۔ میری بدی کو مجھ سے دھو ڈال اور میرے گناہ سے مجھے پاک کر۔

3۔ کیونکہ میں اپنی خطاؤں کو مانتا ہوں۔اور میرا گناہ ہمیشہ میرے سامنے ہے۔

4۔میں نے فقط تیرا ہی گناہ کیا ہے۔ اور وہ کام کیا ہے جو تیری نظر میں برا ہے۔ تاکہ تْو اپنی باتوں میں راست ٹھہرے۔ اور اپنی عدالت میں بے عیب رہے۔

6۔ دیکھ تْو باطن کی سچائی پسند کرتا ہے۔ اور باطن میں مجھے ہی دانائی سکھائے گا۔

7۔ زْوفے سے مجھے صاف کر تو مَیں ہوں گا۔ مجھے دھو اور میں برف سے زیادہ سفید ہوں گا۔

8۔ مجھے خوشی اور خرمی کی خبر سنا تاکہ وہ ہڈیاں جو تْو نے توڑ ڈالی ہیں شادمان ہوں۔

9۔ میرے گناہوں کی طرف سے اپنا منہ پھیر۔اور میری سب بدکاریاں مٹا ڈال۔

10۔ اے خدا میرے اندر پاک دل پیدا کر اور میرے اندر از سرے نو مستقیم روح ڈال۔

12۔ اپنی نجات کی شادمانی مجھے پھر عنایت کر اور مستعد روح سے مجھے سنبھال۔

2. Psalm 51 : 1-4, 6-10, 12

1     Have mercy upon me, O God, according to thy lovingkindness: according unto the multitude of thy tender mercies blot out my transgressions.

2     Wash me throughly from mine iniquity, and cleanse me from my sin.

3     For I acknowledge my transgressions: and my sin is ever before me.

4     Against thee, thee only, have I sinned, and done this evil in thy sight: that thou mightest be justified when thou speakest, and be clear when thou judgest.

6     Behold, thou desirest truth in the inward parts: and in the hidden part thou shalt make me to know wisdom.

7     Purge me with hyssop, and I shall be clean: wash me, and I shall be whiter than snow.

8     Make me to hear joy and gladness; that the bones which thou hast broken may rejoice.

9     Hide thy face from my sins, and blot out all mine iniquities.

10     Create in me a clean heart, O God; and renew a right spirit within me.

12     Restore unto me the joy of thy salvation; and uphold me with thy free spirit.

3۔ لوقا 19 باب1تا 10 آیات

1۔ وہ یریحو میں داخل ہو کر جا رہا تھا۔

2۔ اور دیکھو زکائی نام ایک آدمی تھا جو محصول لینے والوں کا سردار اور دولتمند تھا۔

3۔ وہ یسوع کو دیکھنے کی کوشش کرتا تھا لیکن بھیڑ کے سبب سے دیکھ نہ سکتا تھا۔ اس لئے کہ اْس کا قد چھوٹا تھا۔

4۔پس اْسے دیکھنے کے لئے آگے دوڑ کر ایک گولر کے پیڑ پر چڑھ گیا کیونکہ وہ اْسی راہ سے جانے کو تھا۔

5۔ جب یسوع اْس جگہ پہنچا تو اوپر نگاہ کر کے اْس سے کہا اے زکائی جلد اْتر آ کیونکہ آج مجھے تیرے گھر رہنا ضرور ہے۔

6۔ وہ جلد اْتر کر خوشی سے اْس کو اپنے گھر لے گیا۔

7۔ جب لوگوں نے یہ دیکھا تو سب بڑبڑا کر کہنے لگے یہ تو ایک گناہگار شخص کے ہاں جا اْترا۔

8۔ اور زکائی نے کھڑے ہو کر خداوند سے کہا اے خداوند دیکھ میں اپنا آدھا مال غریبوں کو دیتا ہوں اور اگر کسی کا کچھ ناحق لے لیا ہے تو اْس کو چوگْنا ادا کرتا ہوں۔

9۔ یسوع نے اْس سے کہا آج اِس گھر میں نجات آئی ہے۔ اِس لئے کہ یہ بھی ابراہام کا بیٹا ہے۔

10۔ کیونکہ ابن آدم کھوئے ہوؤں کو ڈھونڈنے اور نجات دینے آیا ہے۔

3. Luke 19 : 1-10

1     And Jesus entered and passed through Jericho.

2     And, behold, there was a man named Zacchæus, which was the chief among the publicans, and he was rich.

3     And he sought to see Jesus who he was; and could not for the press, because he was little of stature.

4     And he ran before, and climbed up into a sycomore tree to see him: for he was to pass that way.

5     And when Jesus came to the place, he looked up, and saw him, and said unto him, Zacchæus, make haste, and come down; for to day I must abide at thy house.

6     And he made haste, and came down, and received him joyfully.

7     And when they saw it, they all murmured, saying, That he was gone to be guest with a man that is a sinner.

8     And Zacchæus stood, and said unto the Lord; Behold, Lord, the half of my goods I give to the poor; and if I have taken any thing from any man by false accusation, I restore him fourfold.

9     And Jesus said unto him, This day is salvation come to this house, forsomuch as he also is a son of Abraham.

10     For the Son of man is come to seek and to save that which was lost.

4۔ 2تواریخ 7 باب 14 آیت

14۔ تب اگر میرے لوگ جو میرے نام سے کہلاتے ہیں خاکسار بن کر دعا کریں اور میرے نام کے طالب ہوں اور اپنی بری راہوں سے پھریں تو میں آسمان پر سے سْن کر اْن کا گناہ معاف کروں گا اور اْن کے ملک کو بحال کروں گا۔

4. II Chronicles 7 : 14

14     If my people, which are called by my name, shall humble themselves, and pray, and seek my face, and turn from their wicked ways; then will I hear from heaven, and will forgive their sin, and will heal their land.

5۔ 2تواریخ 30 باب 9 (کیونکہ) آیت

9۔۔۔۔کیونکہ خداوند تمہارا خدا رحیم و غفور ہے اور اگر تم اْس کی طرف پھرو تو وہ تم سے اپنا منہ پھیر نہ لے گا۔

5. II Chronicles 30 : 9 (for)

9     …for the Lord your God is gracious and merciful, and will not turn away his face from you, if ye return unto him.

6۔ یہوداہ 24، 25 آیات

24۔ اب جو تم کو ٹھوکر کھانے سے بچا سکتا ہے اور اپنے پر جلال حضور میں کمال خوشی کے ساتھ بے عیب کر کے کھڑا کر سکتا ہے۔

25۔ اْس خدائے واحد کا جو ہمارا منجی ہے جلال اور عظمت اور سلطنت اور اختیار ہمارے خداوند یسوع مسیح کے وسیلہ سے جیسا ازل سے ہے اب بھی ہو اور ابدلا آباد رہے۔آمین۔

6. Jude : 24, 25

24     Now unto him that is able to keep you from falling, and to present you faultless before the presence of his glory with exceeding joy,

25     To the only wise God our Saviour, be glory and majesty, dominion and power, both now and ever. Amen.



سائنس اور صح


1۔ 35 :30 صرف

محبت کا نمونہ گناہگار کی اصلاح ہے۔

1. 35 : 30 only

The design of Love is to reform the sinner.

2۔ 10 :31۔4

کیا آپ گناہ کو سزا دینے کے لئے نہیں بلکہ رحیم بننے کے لئے حکمت مانگتے ہیں؟ تو ”آپ غلط مانگتے ہیں“۔ سزا کے بغیر گناہ بڑھے گا۔ یسوع کی دعا، ”ہمارے قرض ہمیں بخش“ نے معافی کی اصطلاح کی وضاحت کی۔ جب زناکار عورت کو اْس نے معاف کیا تو کہا، ”جا اور پھر گناہ نہ کرنا۔“

2. 10 : 31-4

Do you ask wisdom to be merciful and not to punish sin? Then "ye ask amiss." Without punishment, sin would multiply. Jesus' prayer, "Forgive us our debts," specified also the terms of forgiveness. When forgiving the adulterous woman he said, "Go, and sin no more."

3۔ 497 :9 (ہم)۔12

ہم گناہ کی تباہی اور اْس روحانی فہم میں خدا کی معافی کو تسلیم کرتے ہیں جو بدی کو بطور غیر حقیقی باہر نکالتا ہے۔ لیکن گناہ پر یقین تب تک سزا پاتا ہے جب تک یہ یقین ختم نہیں ہوجاتا۔

3. 497 : 9 (We)-12

We acknowledge God's forgiveness of sin in the destruction of sin and the spiritual understanding that casts out evil as unreal. But the belief in sin is punished so long as the belief lasts.

4۔ 5: 22۔28

دعا کو گناہ کو ختم کرنے کے لئے بطور اعتراف استعمال نہیں ہوناچاہئے۔ ایسی غلطی سچے مذہب کو روکے گی۔ گناہ صرف تب معاف ہوگا جب اسے مسیح، سچائی اور زندگی کے وسیلہ تباہ کیا جائے گا۔اگر دعا اِس یقین کو قوت بخشتی ہے کہ گناہ ختم ہو چکا ہے، اور یہ کہ انسان محض دعا کرنے سے بہتر بن گیا ہے، تو دعا ایک برائی ہے۔ وہ شخص مزید برا ہوتا جاتا ہے جو گناہ کواِس لئے جاری رکھتا ہے کیونکہ وہ خود کو معاف کیا گیا تصور کرتا رہتا ہے۔

4. 5 : 22-28

Prayer is not to be used as a confessional to cancel sin. Such an error would impede true religion. Sin is forgiven only as it is destroyed by Christ, — Truth and Life. If prayer nourishes the belief that sin is cancelled, and that man is made better merely by praying, prayer is an evil. He grows worse who continues in sin because he fancies himself forgiven.

5۔ 5 :3۔6

غلط کام پر شرمندگی اصلاح کی جانب ایک قدم ہے لیکن بہت آسان قدم ہے۔ عقل کے باعث جو گلا اور بڑا قدم اٹھانے کی ضرورت ہے وہ وفاداری کی آزمائش ہے، یعنی اصلاح۔

5. 5 : 3-6

Sorrow for wrong-doing is but one step towards reform and the very easiest step. The next and great step required by wisdom is the test of our sincerity, — namely, reformation.

6۔ 357 :1۔6

عام انصاف میں، ہمیں یہ قبول کرنا چاہئے کہ خدا انسان کو اْس کے لئے سزا نہیں دے گا جو کرنے کے قابل خدا نے انسان پیدا کیا تھا، اور وہ ابتدا سے جانتا تھا کہ انسان یہ کرے گا۔ خدا ”کی آنکھیں ایسی پاک ہیں کہ بدی کو نہیں دیکھ سکتیں۔“ ہم جھوٹ کو قبول کرنے سے نہیں بلکہ رد کرنے سے سچائی میں قائم رہتے ہیں۔

6. 357 : 1-6

In common justice, we must admit that God will not punish man for doing what He created man capable of doing, and knew from the outset that man would do. God is "of purer eyes than to behold evil." We sustain Truth, not by accepting, but by rejecting a lie.

7۔ 4: 17۔22

محض یہ کہنے سے کہ ہم خدا سے محبت کرتے ہیں ہمیں خدا سے محبت نہیں ہوجائے گی؛ بلکہ بہتر اور پاک تر ہونے کی خواہش کرنے سے، روزانہ کی چوکسی اور الٰہی کردار میں مزید ضم ہونے کی کوشش کرنے سے ہم خود کو نئی انسانیت میں تبدیل کریں گے اور ڈھالیں گے، جب تک کہ ہم اْس کی شبیہ میں بیدار نہیں ہوجاتے۔

7. 4 : 17-22

Simply asking that we may love God will never make us love Him; but the longing to be better and holier, expressed in daily watchfulness and in striving to assimilate more of the divine character, will mould and fashion us anew, until we awake in His likeness.

8۔ 242 :1۔14

معافی، روحانی بپتسمہ، اور نئی پیدائش کے وسیلہ بشر اپنے لافانی عقائد اور جھوٹی انفرادیت کو اتار پھینکتے ہیں۔ یہ بس وقت کی بات ہے کہ ”چھوٹے سے برے تک وہ سب مجھے (خدا کو) جانیں گے۔“ مادے کے دعووں سے انکار خوشی کی روح کی جانب انسانی آزادی اور بدن پر آخری فتح کی جانب بڑا قدم ہے۔

آسمان پر جانے کا واحد راستہ ہم آہنگی ہے اور مسیح الٰہی سائنس میں ہمیں یہ راستہ دکھاتا ہے۔ اس کا مطلب خدا، اچھائی اور اْس کے عکس کے علاوہ کسی اور حقیقت کو نہ جاننا، زندگی کے کسی اور ضمیر کو نا جاننا ہے، اور نام نہاد درد اور خوشی کے احساسات سے برتر ہونا ہے۔

8. 242 : 1-14

Through repentance, spiritual baptism, and regeneration, mortals put off their material beliefs and false individuality. It is only a question of time when "they shall all know Me [God], from the least of them unto the greatest." Denial of the claims of matter is a great step towards the joys of Spirit, towards human freedom and the final triumph over the body.

There is but one way to heaven, harmony, and Christ in divine Science shows us this way. It is to know no other reality — to have no other consciousness of life — than good, God and His reflection, and to rise superior to the so-called pain and pleasure of the senses.

9۔ 404 :10۔16، 19۔21 (اگلا صفحہ)

شہوت، بْغض اور ہر طرح کی بدکاری بیمارکے عقائد ہیں، اور آپ انہیں صرف اْن بدکار مقاصد کو ختم کرنے سے تباہ کر سکتے ہیں جن سے یہ جنم لیتے ہیں۔ اگر کسی معاف کئے گئے انسانی فہم سے بدی ختم ہو چکی ہے، حالانکہ اس کے اثرات ابھی بھی اْس شخص پر ہوں گے، تو آپ اس بے ترتیبی کو ختم کر سکتے ہیں جیسے خدا کی شریعت مکمل ہو جاتی ہے اور اصلاح جرم کو ختم کر دیتی ہے۔ صحتمند گناہگار سخت ترین گناہگار ہوتا ہے۔

یہ احساس کہ گناہ میں حقیقی خوشی نہیں ہے، کرسچن سائنس کی الٰہیات کے سب سے اہم نکات میں سے ایک ہے۔ گناہ کے اس نئے اور حقیقی منظر کو گناہگار پر اجاگر کریں، اْس پر ظاہر کریں کہ گناہ کوئی اطمینان نہیں بخشتا، اور یہ علم اْس کی اخلاقی ہمت کو مضبوط کرتا ہے اور بدی پر فتح پانے اور اچھائی سے محبت کرنے کی اْس کی قابلیت کو فروغ دیتا ہے۔

بیمار کو شفا دینا اور گناہگار کی اصلاح کرنا کرسچن سائنس میں ایک ہی بات ہے۔دونوں شفاؤں کے لئے ایک ہی طریقہ کار کی ضرورت ہوتی ہے اور دونوں سچائی میں غیر مْنفک ہیں۔نفرت، حسد، بے ایمانی، خوف اور ایسی دیگر چیزیں انسان کوبیمار بناتی ہیں اورجب تک یہ بدن میں ذہنی طور پر خود کو بہتر نہیں بنا تا نہ مادی ادویات نہ ہی عقل مستقل طور پر اْس کی مددکر سکتی ہے، اور یوں اْسے اْس کے تباہ کرنے والوں سے محفوظ رکھتی ہے۔ بنیادی غلطی فانی عقل ہے۔ نفرت ظالمانہ خواہشات کو بھڑکاتی ہے۔ بدکار عزائم اور مقاصد کسی بھی ایسے انسان کو جو نیچ قسم کی جوانمردی سے اوپر ہو، ایک مصیبت زدہ مایوس انسان بناتے ہیں۔

کرسچن سائنس انسان کو خواہشات کا مالک بننے، شفقت کے ساتھ نفرت کو ایک تعطل میں روکنے، پاکیزگی کے ساتھ شہوت پر، خیرات کے ساتھ بدلے پرفتح پانے اور ایمانداری کے ساتھ فریب پر قابو پانے کا حکم دیتی ہے۔اگر آپ صحت، خوشی اور کامیابی کے خلاف سازشیوں کی ایک فوج نہیں لانا چاہتے تو اِن غلطیوں کو ابتدائی مراحل میں ہی تلف کر دیں۔یہ آپ کو غلطی کے خلاف سچے منصف، ثالثی کے پاس لائیں گے۔ منصف آپ کو انصاف تک لے جائے گا، اور اخلاقی قانون کی سزا فانی عقل اور بدن پر صادر کی جائے گی۔ تب تک دونوں کو ہتھکڑی لگا دی جائے گی جب تک دوہری ادائیگی نہیں ہوگی، جب تک خدا کے ساتھ آپ کا اکاؤنٹ متوازن نہیں ہوگا۔ ”آدمی جو کچھ بوتا ہے، وہی کاٹے گا۔“نیک انسان بالا آخر گناہ کے خوف پر فتح پائے گا۔ یہ گناہ کی ضرورت ہے کہ یہ خود کو تباہ کرے۔ لافانی انسان خدا، اچھائی، کی حکمرانی ظاہر کرتا ہے، جس کے مقابلے گناہ میں کوئی طاقت نہیں ہے۔

9. 404 : 10-16, 19-21 next page

Lust, malice, and all sorts of evil are diseased beliefs, and you can destroy them only by destroying the wicked motives which produce them. If the evil is over in the repentant mortal mind, while its effects still remain on the individual, you can remove this disorder as God's law is fulfilled and reformation cancels the crime. The healthy sinner is the hardened sinner.

This conviction, that there is no real pleasure in sin, is one of the most important points in the theology of Christian Science. Arouse the sinner to this new and true view of sin, show him that sin confers no pleasure, and this knowledge strengthens his moral courage and increases his ability to master evil and to love good.

Healing the sick and reforming the sinner are one and the same thing in Christian Science. Both cures require the same method and are inseparable in Truth. Hatred, envy, dishonesty, fear, and so forth, make a man sick, and neither material medicine nor Mind can help him permanently, even in body, unless it makes him better mentally, and so delivers him from his destroyers. The basic error is mortal mind. Hatred inflames the brutal propensities. The indulgence of evil motives and aims makes any man, who is above the lowest type of manhood, a hopeless sufferer.

Christian Science commands man to master the propensities, — to hold hatred in abeyance with kindness, to conquer lust with chastity, revenge with charity, and to overcome deceit with honesty. Choke these errors in their early stages, if you would not cherish an army of conspirators against health, happiness, and success. They will deliver you to the judge, the arbiter of truth against error. The judge will deliver you to justice, and the sentence of the moral law will be executed upon mortal mind and body. Both will be manacled until the last farthing is paid, — until you have balanced your account with God. "Whatsoever a man soweth, that shall he also reap." The good man finally can overcome his fear of sin. This is sin's necessity, — to destroy itself. Immortal man demonstrates the government of God, good, in which is no power to sin.

10۔ 339 :11۔19

ایک گناہگار کو اس حقیقت سے کوئی حوصلہ نہیں مل سکتا کہ سائنس بدی کی غیر حقیقت کو ظاہر کرتی ہے،کیونکہ گناہگار بدی کی حقیقت کو سنوارتا ہے، اس چیز کو حقیقی بناتا ہے جو غیر حقیقی ہے، اور یوں ”قہر کے دن کے لئے غضب“ کا ڈھیر لگا تا ہے۔وہ خود کے خلاف،ایک خوفناک غیر حقیقت میں بیداری کے خلاف سازش میں شریک ہو رہا ہے، جس سے وہ دھوکہ کھا رہا ہے۔ صرف وہ لوگ جو گناہ سے توبہ کرتے اور غیر حقیقت کو ترک کرتے ہیں، وہی بدی کی غیر حقیقت کو مکمل طور پر سمجھ سکتے ہیں۔

10. 339 : 11-19

A sinner can receive no encouragement from the fact that Science demonstrates the unreality of evil, for the sinner would make a reality of sin, — would make that real which is unreal, and thus heap up "wrath against the day of wrath." He is joining in a conspiracy against himself, — against his own awakening to the awful unreality by which he has been deceived. Only those, who repent of sin and forsake the unreal, can fully understand the unreality of evil.

11۔ 6: 17 صرف، 18۔22

”خدا محبت ہے۔“

یہ فرض کرنا کہ جیسے خدا کا رحم مطلوب یا غیر مطلوب ہوتا ہے اْسی کے مطابق خدا گناہ کو معاف کرتا یا سزا دیتا ہے، محبت کی غلط سمجھ ہے اور یہ اپنے غلط اعمال کے لئے دعا کو حفاظتی در بنانے کے مترادف ہے۔

11. 6 : 17 only, 18-22

"God is Love."

To suppose that God forgives or punishes sin according as His mercy is sought or unsought, is to misunderstand Love and to make prayer the safety-valve for wrong-doing.

12۔ 4: 12۔16

ہمیشہ اچھے بنے رہنے کی عادتاً جدوجہد دائمی دعا ہے۔اس کے مقاصد اْن برکات سے ظاہر ہوتے ہیں جو یہ لاتی ہے، وہ برکات جنہیں اگر ناقابل سماعت الفاظ میں بھی نہ سْنا جائے، محبت کے ساتھ حصہ دار بننے کے لئے ہماری قابلیت کی تصدیق کرتی ہے۔

12. 4 : 12-16

The habitual struggle to be always good is unceasing prayer. Its motives are made manifest in the blessings they bring, — blessings which, even if not acknowledged in audible words, attest our worthiness to be partakers of Love.

13۔ 6: 3۔5

الٰہی محبت انسان کی اصلاح کرتی اور اْس پر حکمرانی کرتی ہے۔ انسان معافی مانگ سکتے ہیں لیکن صرف الٰہی اصول ہی گناہگار کی اصلاح کرتا ہے۔

13. 6 : 3-5

Divine Love corrects and governs man. Men may pardon, but this divine Principle alone reforms the sinner.


روز مرہ کے فرائ

منجاب میری بیکر ایڈ

روز مرہ کی دعا

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ ہر روز یہ دعا کرے: ’’تیری بادشاہی آئے؛‘‘ الٰہی حق، زندگی اور محبت کی سلطنت مجھ میں قائم ہو، اور سب گناہ مجھ سے خارج ہو جائیں؛ اور تیرا کلام سب انسانوں کی محبت کو وافر کرے، اور اْن پر حکومت کرے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 4۔

مقاصد اور اعمال کا ایک اصول

نہ کوئی مخالفت نہ ہی کوئی محض ذاتی وابستگی مادری چرچ کے کسی رکن کے مقاصد یا اعمال پر اثر انداز نہیں ہونی چاہئے۔ سائنس میں، صرف الٰہی محبت حکومت کرتی ہے، اور ایک مسیحی سائنسدان گناہ کو رد کرنے سے، حقیقی بھائی چارے ، خیرات پسندی اور معافی سے محبت کی شیریں آسائشوں کی عکاسی کرتا ہے۔ اس چرچ کے تمام اراکین کو سب گناہوں سے، غلط قسم کی پیشن گوئیوں،منصفیوں، مذمتوں، اصلاحوں، غلط تاثر ات کو لینے اور غلط متاثر ہونے سے آزاد رہنے کے لئے روزانہ خیال رکھنا چاہئے اور دعا کرنی چاہئے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 1۔

فرض کے لئے چوکس

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ وہ ہر روز جارحانہ ذہنی آراء کے خلاف خود کو تیار رکھے، اور خدا اور اپنے قائد اور انسانوں کے لئے اپنے فرائض کو نہ کبھی بھولے اور نہ کبھی نظر انداز کرے۔ اس کے کاموں کے باعث اس کا انصاف ہوگا، وہ بے قصور یا قصوارہوگا۔ 

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 6۔


████████████████████████████████████████████████████████████████████████