اتوار 30 اگست ، 2020 |

اتوار 30 اگست ، 2020 



مضمون۔ مسیح یسوع

SubjectChrist Jesus

سنہری متن: 1 یوحنا 4 باب14 آیت

”اور ہم نے دیکھ لیا ہے اور گواہی دیتے ہیں کہ باپ نے بیٹے کو دنیا کا منجی کر کے بھیجا ہے۔“



Golden Text: I John 4 : 14

And we have seen and do testify that the Father sent the Son to be the Saviour of the world.





سبق کی آڈیو کے لئے یہاں کلک کریں

یوٹیوب سے سننے کے لئے یہاں کلک کریں

████████████████████████████████████████████████████████████████████████


جوابی مطالعہ: یسعیاہ 9 باب2تا4، 6 تا 8 آیات


2۔ جو لوگ تاریکی میں چلتے تھے انہوں نے بڑی روشنی دیکھی۔ جو موت کے سایہ کے ملک میں رہتے تھے اْن پر نور چمکا۔

3۔ تْو نے قوم کو بڑھایا۔ تْو نے اْن کی شادمانی کو زیادہ کیا۔ وہ تیرے حضور ایسے خوش ہیں جیسے فصل کاٹتے وقت اور غنیمت کی تقسیم کے وقت لوگ خوش ہوتے ہیں۔

4۔ کیونکہ تْو نے اْن کے بوجھ کے جوئے اور اْن کے کندھے کے لٹھ اور اْن پر ظلم کرنے والے کے عصا کو ایسا توڑا جیسا مدیان کے دن میں کیا تھا۔

6۔ اس لئے ہمارے لئے ایک لڑکا تولد ہوا اور ہم کو ایک بیٹا بخشا گیا اور سلطنت اْس کے کندھے پر ہوگی اور اْس کا نام عجیب مشیر خدائے قادر ابدیت کا باپ سلامتی کا شہزادہ ہوگا۔

7۔ اْس کی سلطنت کے اقبال اور سلامتی کی انتہا نہ ہوگی۔ وہ داؤد کے تخت اور اْس کی مملکت پر آج سے ابد تک حکمران رہے گا اور عدالت اور صداقت سے اْسے قیام بخشے گا رب الا افواج کی غیوری یہ کرے گی۔

8۔ خداوند نے یعقوب کے پاس پیغام بھیجااور وہ اسرائیل پر نازل ہوا۔

Responsive Reading: Isaiah 9 : 2-4, 6-8

2.     The people that walked in darkness have seen a great light: they that dwell in the land of the shadow of death, upon them hath the light shined.

3.     Thou hast multiplied the nation, and not increased the joy: they joy before thee according to the joy in harvest, and as men rejoice when they divide the spoil.

4.     For thou hast broken the yoke of his burden, and the staff of his shoulder, the rod of his oppressor, as in the day of Midian.

6.     For unto us a child is born, unto us a son is given: and the government shall be upon his shoulder: and his name shall be called Wonderful, Counsellor, The mighty God, The everlasting Father, The Prince of Peace.

7.     Of the increase of his government and peace there shall be no end, upon the throne of David, and upon his kingdom, to order it, and to establish it with judgment and with jus­tice from henceforth even for ever. The zeal of the Lord of hosts will perform this.

8.     The Lord sent a word into Jacob, and it hath lighted upon Israel.



درسی وعظ



بائبل


درسی وعظ

بائبل

1۔ یسعیاہ 42 باب1تا4 آیات

1۔ دیکھو میرا خادم جس کو میں سنبھالتا ہوں۔ میرا برگزیدہ جس سے میرا دل خوش ہوتا ہے۔ مَیں نے اپنی روح اْس پر ڈالی۔وہ قوموں میں عدالت جاری کرے گا۔

2۔ وہ نہ چلائے گا اور نہ شور کرے گا اور نہ بازاروں میں اْس کی آواز سنائی دے گی۔

3۔ وہ مسلے ہوئے سر کنڈے کو نہ توڑے گا اور ٹمٹماتی بتی کو نہ بجھائے گا۔ وہ راستی سے عدالت کرے گا۔

4۔ وہ ماندہ نہ ہوگا اور ہمت نہ ہارے گا جب تک کہ عدالت کو زمین پر قائم نہ کر لے۔ جزیرے اْس کی شریعت کا انتظار کریں گے۔

1. Isaiah 42 : 1-4

1     Behold my servant, whom I uphold; mine elect, in whom my soul delighteth; I have put my spirit upon him: he shall bring forth judgment to the Gentiles.

2     He shall not cry, nor lift up, nor cause his voice to be heard in the street.

3     A bruised reed shall he not break, and the smoking flax shall he not quench: he shall bring forth judgment unto truth.

4     He shall not fail nor be discouraged, till he have set judgment in the earth: and the isles shall wait for his law.

2۔ یسعیاہ 61 باب1تا3 آیات

1۔ خداوند خدا کی روح مجھ پر ہے اْس نے مجھے مسح کیا تاکہ حلیموں کو خوشخبری سناؤں۔ اْس نے مجھے بھیجا ہے کہ شکستہ دلوں کو تسلی دوں۔ قیدیوں کے لئے رہائی اور اسیروں کے لئے آزادی کا اعلان کروں۔

2۔ تاکہ خداوند کے سالِ مقبول کا اور خدا کے انتقام کے روز کا اشتہار دوں اور سب غمگینوں کو دلاسا دوں۔

3۔ صیون کے غمزدوں کے لئے یہ مقرر کر دوں کہ اْن کو راکھ کے بدلے سہرا اور ماتم کی جگہ خوشی کا روغن اور اْداسی کے بدلے ستائش کا خعلت بخشوں تاکہ وہ صداقت کے درخت اور خداوند کے لگائے ہوئے کہلائیں کہ اْس کا جلال ظاہر ہو۔

2. Isaiah 61 : 1-3

1     The Spirit of the Lord God is upon me; because the Lord hath anointed me to preach good tidings unto the meek; he hath sent me to bind up the brokenhearted, to proclaim liberty to the captives, and the opening of the prison to them that are bound;

2     To proclaim the acceptable year of the Lord, and the day of vengeance of our God; to comfort all that mourn;

3     To appoint unto them that mourn in Zion, to give unto them beauty for ashes, the oil of joy for mourning, the garment of praise for the spirit of heaviness; that they might be called trees of righteousness, the planting of the Lord, that he might be glorified.

3۔ مرقس 1باب1 آیت

1۔ یسوع مسیح ابنِ خدا کی خوشخبری کا شروع۔

3. Mark 1 : 1

1     The beginning of the gospel of Jesus Christ, the Son of God;

4۔ مرقس 3باب1تا5، 13 تا15، 22تا27 آیات

1۔ اور وہ عبادت خانہ میں پھر داخل ہوا اور وہاں ایک آدمی تھا جس کا ہاتھ سوکھا ہوا تھا۔

2۔ اور وہ اْس کی تاک میں رہے کہ اگر وہ اْسے سبت کے دن اچھا کرے تو اْس پر الزام لگائیں۔

3۔ اْس نے اْس آدمی سے جس کا ہاتھ سوکھا ہوا تھا کہا بیچ میں کھڑا ہو۔

4۔ اور اْن سے کہا سبت کے دن نیکی کرنا روا ہے یا بدی کرنا؟ جان بچانا یا قتل کرنا؟ وہ چپ رہے۔

5۔ اْس نے اْن کی سخت دلی کے سبب سے غمگین ہو کر اور چاروں طرف اْن پر غصے سے نظر کر کے اْس آدمی سے کہا اپنا ہاتھ بڑھا۔ اْس نے بڑھا دیا اور اْس کا ہاتھ درست ہوگیا۔

13۔ پھر وہ پہاڑ پر چڑھ گیا اور جن کو وہ آپ چاہتا تھا اْن کو پاس بلایااور وہ اْس کے پاس چلے آئے۔

14۔ اور اْس نے بارہ کو مقرر کیا تاکہ اْس کے ساتھ رہیں اور وہ اْن کو بھیجے کہ منادی کریں۔

15۔ اور بدروحوں کو نکالنے کا اختیار رکھیں۔

22۔ اور فقیہ جو یروشلیم سے آئے تھے اور کہتے تھے کہ اْس کے ساتھ بعلزبول ہے اور یہ بھی کہ وہ بدروحوں کے سردار کی مدد سے بدروحوں کو نکالتا ہے۔

23۔ وہ اْن کو پاس بلاکر اْن کو تمثیلوں میں کہنے لگا شیطان کو شیطان کس طرح نکال سکتا ہے؟

24۔ اور اگر کسی سلطنت میں پھوٹ پڑ جائے تو وہ سلطنت قائم نہیں رہ سکتی۔

25۔ اور اگر کسی گھر میں پھوٹ پڑ جائے تو وہ گھر قائم نہیں رہ سکے گا۔

26۔ اگر شیطان اپنا ہی مخاطب ہو کر اپنے میں پھوٹ ڈالے تو وہ قائم نہیں رہ سکتا بلکہ اْس کا خاتمہ ہو جائے گا۔

27۔ لیکن کوئی آدمی کسی زور آور کے گھر میں گھس کر اْس کے اسباب کو لْوٹ نہیں سکتا جب تک کہ پہلے وہ اْس زور آور کو نہ باندھ لے تب اْس کا گھر لْوٹ لے گا۔

4. Mark 3 : 1-5, 13-15, 22-27

1     And he entered again into the synagogue; and there was a man there which had a withered hand.

2     And they watched him, whether he would heal him on the sabbath day; that they might accuse him.

3     And he saith unto the man which had the withered hand, Stand forth.

4     And he saith unto them, Is it lawful to do good on the sabbath days, or to do evil? to save life, or to kill? But they held their peace.

5     And when he had looked round about on them with anger, being grieved for the hardness of their hearts, he saith unto the man, Stretch forth thine hand. And he stretched it out: and his hand was restored whole as the other.

13     And he goeth up into a mountain, and calleth unto him whom he would: and they came unto him.

14     And he ordained twelve, that they should be with him, and that he might send them forth to preach,

15     And to have power to heal sicknesses, and to cast out devils:

22     And the scribes which came down from Jerusalem said, He hath Beelzebub, and by the prince of the devils casteth he out devils.

23     And he called them unto him, and said unto them in parables, How can Satan cast out Satan?

24     And if a kingdom be divided against itself, that kingdom cannot stand.

25     And if a house be divided against itself, that house cannot stand.

26     And if Satan rise up against himself, and be divided, he cannot stand, but hath an end.

27     No man can enter into a strong man’s house, and spoil his goods, except he will first bind the strong man; and then he will spoil his house.

5۔ یوحنا 8 باب31تا36 آیات

31۔ پس یسوع نے اْن یہودیوں سے کہا جنہوں نے اْس کا یقین کیا تھا کہ اگر تم میرے کلام پر قائم رہو گے تو حقیقت میں میرے شاگرد ٹھہرو گے۔

32۔ اور سچائی سے واقف ہو گے اور سچائی تم کو آزاد کرے گی۔

33۔ اْنہوں نے اْسے جواب دیا ہم تو ابراہام کی نسل سے ہیں اور کبھی کسی کی غلامی میں نہیں رہے۔ تْو کیونکر کہتا ہے کہ تم آزاد کئے جاؤ گے؟

34۔ یسوع نے اْنہیں جواب دیا میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ جو کوئی گناہ کرتا ہے گناہ کا غلام ہے۔

35۔اور غلام ابد تک گھر میں نہیں رہتا بیٹا ابد تک رہتا ہے۔

36۔ پس اگر بیٹا تمہیں آزاد کرے گا تو تم واقعی آزاد ہوگے۔

5. John 8 : 31-36

31     Then said Jesus to those Jews which believed on him, If ye continue in my word, then are ye my disciples indeed;

32     And ye shall know the truth, and the truth shall make you free.

33     They answered him, We be Abraham’s seed, and were never in bondage to any man: how sayest thou, Ye shall be made free?

34     Jesus answered them, Verily, verily, I say unto you, Whosoever committeth sin is the servant of sin.

35     And the servant abideth not in the house for ever: but the Son abideth ever.

36     If the Son therefore shall make you free, ye shall be free indeed.

6۔ یوحنا 14 باب5، 6، 10، 12، 15 آیات

5۔توما نے اْس سے کہا اے خداوند ہم نہیں جانتے کہ تْو کہاں جاتا ہے پھر راہ کس طرح جانیں گے؟

6۔ یسوع نے اْس سے کہا کہ راہ اور حق اور زندگی میں ہوں کوئی میرے وسیلہ کے بغیر باپ کے پاس نہیں آتا۔

10۔ کیا تْو یقین نہیں کرتا کہ مَیں باپ ہوں اور باپ مجھ میں ہے؟ یہ باتیں مَیں جو تم سے کہتا ہوں اپنی طرف سے نہیں کہتا لیکن باپ مجھ میں رہ کر اپنے کام کرتا ہے۔

12۔ مَیں تم سے سچ کہتا ہوں کہ جو مجھ پر ایمان رکھتا ہے یہ کام جو میں کرتا ہوں وہ بھی کرے گا بلکہ اِن سے بھی بڑے بڑے کام کرے گا کیونکہ میں باپ کے پاس جاتا ہوں۔

15۔ اگر تم مجھ سے محبت رکھتے ہو تو میرے حکموں پر عمل کرو گے۔

6. John 14 : 5, 6, 10, 12, 15

5     Thomas saith unto him, Lord, we know not whither thou goest; and how can we know the way?

6     Jesus saith unto him, I am the way, the truth, and the life: no man cometh unto the Father, but by me.

10     Believest thou not that I am in the Father, and the Father in me? the words that I speak unto you I speak not of myself: but the Father that dwelleth in me, he doeth the works.

12     Verily, verily, I say unto you, He that believeth on me, the works that I do shall he do also; and greater works than these shall he do; because I go unto my Father.

15     If ye love me, keep my commandments.

7۔ یوحنا 15 باب1تا12 آیات

1۔ انگور کا حقیقی درخت مَیں ہوں اور میرا باپ باغبان ہے۔

2۔ جو ڈالی مجھ میں ہے اور پھل نہیں لاتی اسے وہ کاٹ ڈالتا ہے اور جوپھل لاتی ہے اُسے چھانٹتا ہے تاکہ زیادہ پھل لائے۔

3۔ اب تم اُس کلام کے سبب سے جو مَیں نے تم سے کیا پاک ہو۔

4۔ تم مجھ میں قائم رہو اور مَیں تم میں۔ جس طرح ڈالی اگر انگور کے درخت میں قائم نہ رہے تو اپنے آپ سے پھل نہیں لاسکتی اُسی طرح تم بھی اگر مجھ میں قائم نہ رہو تو پھل نہیں لاسکتے۔

5۔ مَیں انگور کا درخت ہوں تُم ڈالیاں ہو۔ جو مجھ قائم رہتا ہے اور مَیں اُس میں وہی بہت پھل لاتا ہے کیونکہ مجھ سے جدا ہوکرتم کچھ نہیں کرسکتے۔

6۔اگر کوئی مجھ میں قائم نہ رہے تو وہ ڈالی کی طرح پھینک دیا جاتا اور سُوکھ جاتا ہے اور لوگ اُنہِیں جمع کر کے آگ میں جھونک دیتے ہیں اور وہ جل جاتی ہیں۔

7۔ اگر تم مجھ میں قائم رہو اور میری باتیں تم میں قائم رہیں تو جو چاہو مانگو۔ وہ تمہارے لئے ہوجائے گا۔

8۔میرے باپ کا جلال اِسی سے ہوتا ہے کہ تم بہت سا پھل لاؤ۔ جب ہی تم میرے شاگرد ٹھہرو گے۔

9۔جیسے باپ نے مجھ سے محبت رکھی ویسے ہی مَیں نے تم سے محبت رکھی تم میری محبت میں قائم رہو۔

10۔ اگر تم میرے حکموں پر عمل کروگے تو میری محبت میں قائم رہوگے جیسے مَیں نے اپنے باپ کے حُکموں پر عمل کیا ہے اور اُس کی محبت میں قائم ہوں۔

11۔ مَیں نے یہ باتیں اس لئے تم سے کہی ہیں کہ میری خوشی تم میں ہو اورتمہاری خوشی پوری ہوجائے۔

12۔میرا حکم یہ ہے جیسے مَیں نے تم سے محبت رکھی تم بھی ایک دوسرے سے محبت رکھو۔

7. John 15 : 1-12

1     I am the true vine, and my Father is the husbandman.

2     Every branch in me that beareth not fruit he taketh away: and every branch that beareth fruit, he purgeth it, that it may bring forth more fruit.

3     Now ye are clean through the word which I have spoken unto you.

4     Abide in me, and I in you. As the branch cannot bear fruit of itself, except it abide in the vine; no more can ye, except ye abide in me.

5     I am the vine, ye are the branches: He that abideth in me, and I in him, the same bringeth forth much fruit: for without me ye can do nothing.

6     If a man abide not in me, he is cast forth as a branch, and is withered; and men gather them, and cast them into the fire, and they are burned.

7     If ye abide in me, and my words abide in you, ye shall ask what ye will, and it shall be done unto you.

8     Herein is my Father glorified, that ye bear much fruit; so shall ye be my disciples.

9     As the Father hath loved me, so have I loved you: continue ye in my love.

10     If ye keep my commandments, ye shall abide in my love; even as I have kept my Father’s commandments, and abide in his love.

11     These things have I spoken unto you, that my joy might remain in you, and that your joy might be full.

12     This is my commandment, That ye love one another, as I have loved you.



سائنس اور صح


1۔ 433 :31۔1

اوہ! مگر مسیح، سچائی، زندگی کا روح اور فانی بشر کا دوست، قید خانوں کے دروازوں کو کھول سکتا اور قیدیوں کو رہاکر سکتا ہے۔

1. 433 : 31-1

Ah! but Christ, Truth, the spirit of Life and the friend of Mortal Man, can open wide those prison doors and set the captive free.

2۔ 583 :10۔11

مسیح۔ خدا کا الٰہی اظہار، جو مجسم غلطی کو نیست کرنے کے لئے بدن کی صورت میں آتا ہے۔

2. 583 : 10-11

Christ. The divine manifestation of God, which comes to the flesh to destroy incarnate error.

3۔ 288 :29۔1

مسیحا کے اندر مسیحائی کے عنصر نے اْسے راہ دکھانے والا، سچائی اور زندگی بنایا۔

ابدی سچائی اِسے تباہ کرتی ہے جو بشر کو غلطی سے سیکھا ہوا دکھائی دیتا ہے، اور بطور خدا کے فرزند انسان کی حقیقت روشنی میں آتی ہے۔

3. 288 : 29-1

The Christ-element in the Messiah made him the Way-shower, Truth and Life.

The eternal Truth destroys what mortals seem to have learned from error, and man's real existence as a child of God comes to light.

4۔ 136 :1۔5، 32۔1

یسوع نے مسیح کی شفا کی روحانی بنیاد پر اپنا چرچ قائم کیا اور اپنے مشن کو برقرار رکھا۔ اْس نے اپنے پیروکاروں کو سکھایا کہ اْس کا مذہب الٰہی اصول تھا، جو خطا کو خارج کرتا اور بیمار اور گناہگار دونوں کو شفا دیتا تھا۔

یسوع صبر کے ساتھ اور سچائی کی ہستی کو ظاہر کرتے ہوئے اپنی تعلیم پر قائم رہا۔

4. 136 : 1-5, 32-1

Jesus established his church and maintained his mission on a spiritual foundation of Christ-healing. He taught his followers that his religion had a divine Principle, which would cast out error and heal both the sick and the sinning.

Jesus patiently persisted in teaching and demonstrating the truth of being.

5۔ 315 :29۔7

انسانی شبیہ اپناتے ہوئے (یعنی جیسا کہ فانی نظر کو دکھائی دیتا ہے)، انسانی ماں کے پیٹ میں حمل لیتے ہوئے، یسوع روح اور جسم کے مابین، سچائی اور غلطی کے مابین درمیانی تھا۔ الٰہی سائنس کی راہ کو واضح کرتے اور ظاہر کرتے ہوئے، وہ اْن سب کے لئے نجات کی راہ بن گیا جنہوں نے اْس کے کلام کو قبول کیا۔ بشر اْس سے یہ سیکھ سکتے ہیں کہ بدی سے کیسے بچا جائے۔ حقیقی انسان کا سائنس کی بدولت اپنے خالق سے تعلق استوار کرتے ہوئے، بشر کو صرف گناہ سے دور ہونے اور مسیح، یعنی حقیقی انسان اور خدا کے ساتھ اْس کے تعلق کو پانے اور الٰہی فرزندگی کو پہچاننے کے لئے فانی خودی سے نظر ہٹانے کی ضرورت ہے۔

5. 315 : 29-7

Wearing in part a human form (that is, as it seemed to mortal view), being conceived by a human mother, Jesus was the mediator between Spirit and the flesh, between Truth and error. Explaining and demonstrating the way of divine Science, he became the way of salvation to all who accepted his word. From him mortals may learn how to escape from evil. The real man being linked by Science to his Maker, mortals need only turn from sin and lose sight of mortal selfhood to find Christ, the real man and his relation to God, and to recognize the divine sonship.

6۔ 399 : 29۔19

ہمارے مالک نے کہا: ”کسی زور آور شخص کے گھر میں کوئی کیسے گھْس کر اْسے لوٹ سکتا ہے جب تک کہ پہلے اْس کے ہاتھ نہ باندھ لے؟“ دوسرے الفاظ میں: میں جسم کو کیسے شفا دے سکتا ہوں، بغیرنام نہاد عقل سے شروع کئے، جو براہِ راست جسم کو کنٹرول کرتا ہے؟ جب ایک بار بیماری اِس نام نہاد عقل میں نیست کر دی جاتی ہے، تو بیماری کا خوف دور ہو جاتا ہے، اور اِسی لئے بیماری کا علاج بھی مکمل طور پرہو جاتا ہے۔ فانی بشر ”زور آور آدمی“ ہے، جسے تابع رہنا چاہئے اِس سے قبل کہ اِس کا اثر صحت اور اخلاقیات پر سے ختم کیا جائے۔اِس غلطی کو فتح کرنے سے، ہم ”زور آور آدمی“ کی چیزوں، یعنی گناہ اور بیماری کو لْوٹ سکتے ہیں۔

انسان صحت کی ہم آہنگی پاتے ہیں صرف تب جب وہ مخالفت کو ترک کرتے، الٰہی عقل کی بالا دستی کو پہچانتے اور اپنے مادی عقائد کو چھوڑتے ہیں۔بیماری کی شبیہ کو مایوس کْن خیالات سے تلف کریں اس سے پہلے کہ یہ شعوری سوچ،عْرف بدن، میں ٹھوس شکل اختیار کرے، تو آپ بیماری کی ترقی کو روک سکیں گے۔ یہ کام آسان ہوجاتا ہے، اگر آپ یہ سمجھ لیں کہ ہر بیماری ایک غلطی ہے اور اِس کی نہ کوئی علامت اور نہ کوئی قسم ہے، ماسوائے اِس کے جو فانی عقل اِسے سونپتی ہے۔غلطی یا بیماری سے سوچ کو اونچا کرنے سے، اور سچائی کے لئے مسلسل جد و جہد کرنے سے آپ غلطی کو نیست کر تے ہیں۔

6. 399 : 29-19

Our Master asked: "How can one enter into a strong man's house and spoil his goods, except he first bind the strong man?" In other words: How can I heal the body, without beginning with so-called mortal mind, which directly controls the body? When disease is once destroyed in this so-called mind, the fear of disease is gone, and therefore the disease is thoroughly cured. Mortal mind is "the strong man," which must be held in subjection before its influence upon health and morals can be removed. This error conquered, we can despoil "the strong man" of his goods, — namely, of sin and disease.

Mortals obtain the harmony of health, only as they forsake discord, acknowledge the supremacy of divine Mind, and abandon their material beliefs. Eradicate the image of disease from the per-turbed thought before it has taken tangible shape in conscious thought, alias the body, and you prevent the development of disease. This task becomes easy, if you understand that every disease is an error, and has no character nor type, except what mortal mind assigns to it. By lifting thought above error, or disease, and contending persistently for truth, you destroy error.

7۔ 25 :13۔21

یسوع نے اظہار کی بدولت زندگی کا طریقہ کار سکھایا، تاکہ ہم یہ سمجھ سکیں کہ کیسے الٰہی اصول بیمار کو شفادیتا، غلطی کو باہر نکالتا اور موت پر فتح مند ہوتا ہے۔ کسی دوسرے شخص کی نسبت جس کا اصل کم روحانی ہویسوع نے خدا کی مثال کو بہت بہتر انداز میں پیش کیا۔ خدا کے ساتھ اْس کی فرمانبرداری سے اْس نے دیگر سبھی لوگوں کی نسبت ہستی کے اصول کو زیادہ روحانی ظاہر کیا۔ اسی طرح اْس کی اس نصیحت کی طاقت ہے کہ ”اگر تم مجھ سے محبت رکھتے ہو تو میرے حکموں پر عمل کرو گے۔“

7. 25 : 13-21

Jesus taught the way of Life by demonstration, that we may understand how this divine Principle heals the sick, casts out error, and triumphs over death. Jesus presented the ideal of God better than could any man whose origin was less spiritual. By his obedience to God, he demonstrated more spiritually than all others the Principle of being. Hence the force of his admonition, "If ye love me, keep my commandments."

8۔ 54 :1۔17

اْس کی انسانی زندگی کی عظمت کے وسیلہ اْس نے الٰہی زندگی کو ظاہر کیا۔ اْس کے خالص خلوص کی وسعت کے وسیلہ اْس نے محبت کی وضاحت کی۔ سچائی کی فراوانی سے اْس نے غلطی کو فتح کیا۔ دنیا نے، یہ نہ دیکھتے ہوئے، اْس کی راستبازی کو تسلیم نہ کیا، بلکہ زمین کو وہ ہم آہنگی نصیب ہوئی جسے اْس کے جلالی نمونے نے متعارف کیا تھا۔

اْس کی تعلیم اور نمونے کی پیروی کرنے کے لئے کون تیار ہے؟ سب کو جلد یا بدیر مسیح یعنی خدا کے حقیقی تصور میں خود کو پیوست کرنا ہوگا۔یسوع کی انتہائی انسانی قربانی کی ہدایت یہ تھی کہ وہ اپنا خریدا ہوا عزیز خزانہ گناہ آلود انسان کے خالی گوداموں میں آزادی کے ساتھ اْنڈیلے۔اْس کے الٰہی اختیار کی گواہی میں، اْس نے یہ ثبوت فراہم کیا کہ زندگی، سچائی اور محبت بیماری اور گناہگار کو شفا دیتے ہیں اور عقل کے وسیلہ نہ کہ مادے کے وسیلہ موت پر فتح پاتے ہیں۔الٰہی محبت کا یہ سب سے بلند ترین ثبوت تھا جو وہ پیش کر سکتا تھا۔

8. 54 : 1-17

Through the magnitude of his human life, he demonstrated the divine Life. Out of the amplitude of his pure affection, he defined Love. With the affluence of Truth, he vanquished error. The world acknowledged not his righteousness, seeing it not; but earth received the harmony his glorified example introduced.

Who is ready to follow his teaching and example? All must sooner or later plant themselves in Christ, the true idea of God. That he might liberally pour his dear-bought treasures into empty or sin-filled human storehouses, was the inspiration of Jesus' intense human sacrifice. In witness of his divine commission, he presented the proof that Life, Truth, and Love heal the sick and the sinning, and triumph over death through Mind, not matter. This was the highest proof he could have offered of divine Love. 

9۔ 18 :3۔9

یسوع ناصری نے انسان کی باپ کے ساتھ یگانگت کو بیان کیا، اور اس کے لئے ہمارے اوپر اْس کی لامتناہی عقیدت کا قرض ہے۔ اْس کا مشن انفرادی اور اجتماعی دونوں تھا۔ اْس نے زندگی کا مناسب کام سر انجام دیا نہ صرف خود کے انصاف کے لئے بلکہ انسانوں پر رحم کے باعث، انہیں یہ دکھانے کے لئے کہ انہیں اپنا کام کیسے کرنا ہے، بلکہ نہ تو اْن کے لئے خود کچھ کرنے یا نہ ہی اْنہیں کسی ایک ذمہ داری سے آزاد کرنے کے لئے یہ کیا۔

9. 18 : 3-9

Jesus of Nazareth taught and demonstrated man's oneness with the Father, and for this we owe him endless homage. His mission was both individual and collective. He did life's work aright not only in justice to himself, but in mercy to mortals, — to show them how to do theirs, but not to do it for them nor to relieve them of a single responsibility.

10۔ 227 :14۔26

انسان کے حقوق کو سمجھتے ہوئے ہم تمام مظالم کی تباہی سے متعلق پیش بینی کرنے میں ناکام نہیں ہو سکتے۔غلامی انسان کی جائزحالت نہیں ہے۔ خدا نے انسان کو آزاد پیدا کیا۔ پولوس نے کہا، ”میں آزاد پیدا ہوا۔“ سب انسانوں کو آزاد ہونا چاہئے۔ ”جہاں کہیں خداوند کا روح ہے، وہاں آزادی ہے۔“ محبت اور سچائی آزاد کرتے ہیں، لیکن بدی اور غلطی غلامی کی جانب لے جاتے ہیں۔

کرسچن سائنس آزادی کو اونچا کرتی اور چلاتی ہے کہ: ”میری پیروی کریں! بیماری، گناہ اور موت کے بندھنوں سے بچیں!“ یسوع نے راستہ متعین کیا ہے۔ دنیا کے باسیو، ”خدا کے فرزندوں کی جلالی آزادی“ کو قبول کریں، اور آزاد ہوں! یہ آپ کا الٰہی حق ہے۔

10. 227 : 14-26

Discerning the rights of man, we cannot fail to foresee the doom of all oppression. Slavery is not the legitimate state of man. God made man free. Paul said, "I was free born." All men should be free. "Where the Spirit of the Lord is, there is liberty." Love and Truth make free, but evil and error lead into captivity.

Christian Science raises the standard of liberty and cries: "Follow me! Escape from the bondage of sickness, sin, and death!" Jesus marked out the way. Citizens of the world, accept the "glorious liberty of the children of God," and be free! This is your divine right.

11۔ 37 :22۔27

یہ ممکن ہے، ہاں یہ ہر بچے، مرد اور عورت کی ذمہ داری اور استحقاق ہے کہ وہ زندگی اور سچائی، صحت اور پاکیزگی کے اظہار کے وسیلہ مالک کے نمونے کی کسی حد تک پیروی کریں۔ مسیحی لوگ اْس کے پیروکار ہونے کا دعویٰ تو کرتے ہیں مگر کیا وہ اْس کی پیروی اْسی طرح کرتے ہیں جیسے اْس نے حکم دیا ہے؟

11. 37 : 22-27

It is possible, — yea, it is the duty and privilege of every child, man, and woman, — to follow in some degree the example of the Master by the demonstration of Truth and Life, of health and holiness. Christians claim to be his followers, but do they follow him in the way that he commanded?

12۔ 572 :6۔8

’آپس میں محبت رکھیں“ (1یوحنا 3باب23 آیت)، الہامی مصنف کی سب سے سادہ اور گہری نصیحت ہے۔

12. 572 : 6-8

"Love one another" (I John, iii. 23), is the most simple and profound counsel of the inspired writer.

13۔ 45 :16۔21

خدا کی تمجید ہو اور جدوجہد کرنے والے دلوں کے لئے سلامتی ہو! مسیح نے انسانی امید اور ایمان کے درواز ے سے پتھر ہٹا دیا ہے، اور خدا میں زندگی کے اظہار اور مکاشفہ کی بدولت اْس نے انسان کے روحانی خیال اور اْس کے الٰہی اصول، یعنی محبت کے ساتھ ممکنہ کفارے سے انہیں بلند کیا۔

13. 45 : 16-21

Glory be to God, and peace to the struggling hearts! Christ hath rolled away the stone from the door of human hope and faith, and through the revelation and demonstration of life in God, hath elevated them to possible at-one-ment with the spiritual idea of man and his divine Principle, Love.

14۔ 434 :6۔7

”مسیح کی شریعت ہمارے قوانین پر فوقیت رکھتی ہے؛ پس آئیں مسیح کی پیروی کریں۔“

14. 434 : 6-7

"The law of Christ supersedes our laws; let us follow Christ."


روز مرہ کے فرائ

منجاب میری بیکر ایڈ

روز مرہ کی دعا

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ ہر روز یہ دعا کرے: ’’تیری بادشاہی آئے؛‘‘ الٰہی حق، زندگی اور محبت کی سلطنت مجھ میں قائم ہو، اور سب گناہ مجھ سے خارج ہو جائیں؛ اور تیرا کلام سب انسانوں کی محبت کو وافر کرے، اور اْن پر حکومت کرے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 4۔

مقاصد اور اعمال کا ایک اصول

نہ کوئی مخالفت نہ ہی کوئی محض ذاتی وابستگی مادری چرچ کے کسی رکن کے مقاصد یا اعمال پر اثر انداز نہیں ہونی چاہئے۔ سائنس میں، صرف الٰہی محبت حکومت کرتی ہے، اور ایک مسیحی سائنسدان گناہ کو رد کرنے سے، حقیقی بھائی چارے ، خیرات پسندی اور معافی سے محبت کی شیریں آسائشوں کی عکاسی کرتا ہے۔ اس چرچ کے تمام اراکین کو سب گناہوں سے، غلط قسم کی پیشن گوئیوں،منصفیوں، مذمتوں، اصلاحوں، غلط تاثر ات کو لینے اور غلط متاثر ہونے سے آزاد رہنے کے لئے روزانہ خیال رکھنا چاہئے اور دعا کرنی چاہئے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 1۔

فرض کے لئے چوکس

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ وہ ہر روز جارحانہ ذہنی آراء کے خلاف خود کو تیار رکھے، اور خدا اور اپنے قائد اور انسانوں کے لئے اپنے فرائض کو نہ کبھی بھولے اور نہ کبھی نظر انداز کرے۔ اس کے کاموں کے باعث اس کا انصاف ہوگا، وہ بے قصور یا قصوارہوگا۔ 

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 6۔


████████████████████████████████████████████████████████████████████████