اتوار 30 مئی،2021



مضمون۔ قدیم و جدید جادوگری، عرفیت، تنویم اور علمِ نومیات سے انکار

SubjectAncient and Modern Necromancy, Alias Mesmerism and Hypnotism, Denounced

سنہری متن: 1 یوحنا 3 باب7 آیت

”اے بچو! کسی کے فریب میں نہ آنا۔ جو راستبازی کے کام کرتا ہے وہی اْس کی طرح راستباز ہے۔“



Golden Text: I John 3 : 7

Little children, let no man deceive you: he that doeth righteousness is righteous, even as he is righteous.





سبق کی آڈیو کے لئے یہاں کلک کریں

یوٹیوب سے سننے کے لئے یہاں کلک کریں

████████████████████████████████████████████████████████████████████████


جوابی مطالعہ: 1 پطرس 5 باب6تا11 آیات


6۔ پس خدا کے قوی ہاتھ کے نیچے فروتنی سے رہو تاکہ وہ تمہیں وقت پر سر بلند کرے۔

7۔ اور اپنی ساری فکر اْسی پر ڈال دو کیونکہ اْس کو تمہارا خیال ہے۔

8۔ تم ہوشیار اور بیدار رہو۔ تمہارا مخالف ابلیس گرجنے والے شیر ببر کی طرح ڈھونڈتا پھرتا ہے کہ کس کو پھاڑ کھائے۔

9۔ ایمان میں مضبور رہو۔

10۔ اب خدا جو ہر طرح کے فضل کا چشمہ ہے جس نے تم کو مسیح میں اپنے ابدی جلال کے لئے بلایا تمہارے تھوڑی مدت تک دْکھ اٹھانے کے بعدآپ ہی تمہیں کامل اور قائم اور مضبوط کرے گا۔

11۔ ابد الاآباد اْسی کی سلطنت رہے۔ آمین۔

Responsive Reading: I Peter 5 : 6-11

6.     Humble yourselves therefore under the mighty hand of God, that he may exalt you in due time:

7.     Casting all your care upon him; for he careth for you.

8.     Be sober, be vigilant; because your adversary the devil, as a roaring lion, walketh about, seeking whom he may devour:

9.     Whom resist stedfast in the faith.

10.     But the God of all grace, who hath called us unto his eternal glory by Christ Jesus, after that ye have suffered a while, make you perfect, stablish, strengthen, settle you.

11.     To him be glory and dominion for ever and ever. Amen.



درسی وعظ



بائبل


درسی وعظ

بائبل

1۔ 2 تھسلینکیوں 2 باب 3، 4 (تا پہلا) آیات

3۔ کسی طرح سے کسی کے فریب میں نہ آنا کیونکہ وہ دن نہیں آئے گا جب تک کہ پہلے برگشتگی نہ ہو اور وہ گناہ کا شخص یعنی ہلاکت کا فرزند ظاہر نہ ہو۔

4۔ جو مخالفت کرتا ہے اور ہر ایک سے جو خدا یا معبود کہلاتا ہے اپنے آپ کو بڑا ٹھہراتا ہے۔

1. II Thessalonians 2 : 3, 4 (to 1st ,)

3     Let no man deceive you by any means: for that day shall not come, except there come a falling away first, and that man of sin be revealed, the son of perdition;

4     Who opposeth and exalteth himself above all that is called God,

2۔ 2 تیمیتھیس 3 باب1تا5، 14تا17 آیات

1۔ لیکن یہ جان رکھ کہ اخیر زمانے میں برے دن آئیں گے۔

2۔ کیونکہ آدمی خود غرض۔ زر دوست۔ شیخی باز۔ مغرور۔بدگو۔ ماں باپ کے نافرمان۔ ناشکر۔ ناپاک۔

3۔ طبعی محبت سے خالی۔ سنگدل۔ تہمت لگانے والے۔ بے ضبط۔ تند مزاج۔ نیکی کے دشمن۔

4۔ دغا باز۔ ڈھیٹ۔ گھمنڈ کرنے والے۔ خدا کی نسبت عیش و عشرت کو زیادہ دوست رکھنے والے ہوں گے۔

5۔ وہ دینداری کی وضع تو رکھیں گے مگر اِس کے اثر کو قبول نہ کریں گے۔ ایسوں سے بھی کنارہ کرنا۔

14۔ مگر تْو اْن باتوں پر جو تْو نے سیکھی تھیں اور جن کا یقین تجھے دلایا گیا تھا یہ جان کر قائم رہ کہ تْو نے انہیں کن لوگوں سے سیکھا تھا۔

15۔ اور تْو بچپن سے اْن پاک نوشتوں سے واقف ہے جو تجھے مسیح یسوع پرایمان لانے سے نجات حاصل کرنے کے لئے دانائی بخش سکتے ہیں۔

16۔ ہر ایک صحیفہ جو خدا کے الہام سے ہے تعلیم اور الزام اور اصلاح اور راستبازی میں تربیت کے لئے فائدہ مند بھی ہے۔

17۔ تاکہ مردِ خدا کامل بنے اورہر ایک نیک کام کے لئے بالکل تیار ہو جائے۔

2. II Timothy 3 : 1-5, 14-17

1     This know also, that in the last days perilous times shall come.

2     For men shall be lovers of their own selves, covetous, boasters, proud, blasphemers, disobedient to parents, unthankful, unholy,

3     Without natural affection, trucebreakers, false accusers, incontinent, fierce, despisers of those that are good,

4     Traitors, heady, highminded, lovers of pleasures more than lovers of God;

5     Having a form of godliness, but denying the power thereof: from such turn away.

14     But continue thou in the things which thou hast learned and hast been assured of, knowing of whom thou hast learned them;

15     And that from a child thou hast known the holy scriptures, which are able to make thee wise unto salvation through faith which is in Christ Jesus.

16     All scripture is given by inspiration of God, and is profitable for doctrine, for reproof, for correction, for instruction in righteousness:

17     That the man of God may be perfect, throughly furnished unto all good works.

3۔ 1 سلاطین 13 باب11تا21 (تا چوتھا)، 22، 24 (تا:) آیات

11۔ اور بیت ایل میں ایک بڈھا نبی رہتا تھا۔ سو اْس کے بیٹوں میں سے ایک نے آکر وہ سب کام جو اْس مردِ خدا نے اْس روز بیت ایل میں کئے تھے اْسے بتائے اور جو باتیں بادشاہ نے اْس سے کہی تھیں اْن کو بھی اپنے باپ سے بیان کیا۔

12۔ اور اْن کے باپ نے اْن سے کہا وہ کس راہ سے گیا؟ اْس کے بیٹوں نے دیکھ لیا تھا کہ وہ مردِ خدا جو یہوداہ سے آیا تھاکس راہ سے گیا ہے۔

13۔ سو اْس نے اپنے بیٹوں سے کہا میرے لئے گدھوں پر زین کس دو۔ پس انہوں نے اْس کے لئے گدھے پر زین کس دیا اور وہ اْس پر سوار ہوا۔

14۔اور وہ اْس مردِ خدا کے پیچھے چلا اور اْسے بلوط کے ایک درخت کے نیچے بیٹھے پایا۔ تب اْس نے اْس سے کہا کیا تْو ہی وہ مردِ خدا ہے جو یہوداہ سے آیاتھا؟ اْس نے کہا ہاں۔

15۔ تب اْس نے اْس سے کہا میرے ساتھ گھر چل اور روٹی کھا۔

16۔ اْس نے کہا مَیں تیرے ساتھ لوٹ نہیں سکتا اور تیرے گھر نہیں جا سکتا اور مَیں تیرے ساتھ اِس جگہ نہ روٹی کھاؤں نہ پانی پیوں۔

17۔ کیونکہ خداوند کا مجھ کو یوں حکم ہے کہ تْو وہاں نہ روٹی کھانا نہ پانی پینا اور نہ اْس راہ سے ہو کر لوٹنا جس راہ سے تْو جائے۔

18۔ تب اْس نے اْس سے کہا مَیں بھی تیری طرح نبی ہوں اور خداوند کے حکم سے ایک فرشتے نے مجھ سے کہا کہ اْسے اپنے ساتھ اپنے گھر میں لوٹا کر لے آ تاکہ وہ روٹی کھائے اور پانی پئے۔ لیکن اْس نے اْس سے جھوٹ کہا۔

19۔ سو وہ اْس کے ساتھ لوٹ گیا اور اْس کے گھرمیں روٹی کھائی اور پانی پیا۔

20۔اور جب وہ دسترخوان پر بیٹھے تھے تو خداوند کا کلام اْس نبی پر جو اْسے لوٹا لایا تھا نازل ہوا۔

21۔ اور اْس نے اْس مردِ خدا سے جو یہوداہ سے آیا تھا چلا کر کہا خداوند یوں فرماتا ہے اِس لئے کہ تْو نے خداوند کے کلام سے نافرمانی کی اور اْس حکم کو نہیں مانا جو خداوند تیرے خدا نے تجھے دیا تھا۔

22۔ بلکہ تْو لوٹ آیا بلکہ تْو نے اْسی جگہ جس کی بابت خداوند نے تجھے حکم دیا تھا کہ نہ روٹی کھانا نہ پانی پینا روٹی بھی کھائی اور پانی بھی پیا سو تیری لاش تیرے باپ داد ا کی قبر تک نہیں پہنچے گی۔

24۔ اور جب وہ روانہ ہوا تو راہ میں اْسے ایک شیر ملا جس نے اْسے مار ڈالا۔

3. I Kings 13 : 11-21 (to 4th ,), 22, 24 (to :)

11     Now there dwelt an old prophet in Beth-el; and his sons came and told him all the works that the man of God had done that day in Beth-el: the words which he had spoken unto the king, them they told also to their father.

12     And their father said unto them, What way went he? For his sons had seen what way the man of God went, which came from Judah.

13     And he said unto his sons, Saddle me the ass. So they saddled him the ass: and he rode thereon,

14     And went after the man of God, and found him sitting under an oak: and he said unto him, Art thou the man of God that camest from Judah? And he said, I am.

15     Then he said unto him, Come home with me, and eat bread.

16     And he said, I may not return with thee, nor go in with thee: neither will I eat bread nor drink water with thee in this place:

17     For it was said to me by the word of the Lord, Thou shalt eat no bread nor drink water there, nor turn again to go by the way that thou camest.

18     He said unto him, I am a prophet also as thou art; and an angel spake unto me by the word of the Lord, saying, Bring him back with thee into thine house, that he may eat bread and drink water. But he lied unto him.

19     So he went back with him, and did eat bread in his house, and drank water.

20     And it came to pass, as they sat at the table, that the word of the Lord came unto the prophet that brought him back:

21     And he cried unto the man of God that came from Judah, saying, Thus saith the Lord, Forasmuch as thou hast disobeyed the mouth of the Lord,

22     But camest back, and hast eaten bread and drunk water in the place, of the which the Lord did say to thee, Eat no bread, and drink no water; thy carcase shall not come unto the sepulchre of thy fathers.

24     And when he was gone, a lion met him by the way, and slew him:

4۔ زبور 43: 1، 2 (تا:)، 3تا5 آیات

1۔ اے خدا میرا انصاف کر اور بے دین قوم کے مقابلہ میں میری وکالت کر اور دغا باز اور بے انصاف آدمی سے مجھے چھڑا۔

2۔ کیونکہ تْو ہی میری قوت کا خدا ہے۔

3۔ اپنے نور اور اپنی سچائی کو بھیج۔ وہی میری راہبری کریں۔ وہی مجھ کو تیرے کوہ مْقدس اور تیرے مسکنوں تک پہنچائیں۔

4۔ تب مَیں خدا کے مذبح کے پاس جاؤں گا۔ خدا کے حضور جو میری کمال خوشی ہے۔ اے خدا! اے میرے خدا! مَیں ستار بجا کر تیری ستائش کروں گا۔

5۔ اے میری جان تْو کیوں گری جاتی ہے؟ تْو اندر ہی اندر کیوں بے چین ہے؟ خدا سے امید رکھ کیونکہ وہ میرے چہرے کی رونق اور میرا خدا ہے۔ مَیں پھر اْس کی ستائش کروں گا۔

4. Psalm 43 : 1, 2 (to :), 3-5

1     Judge me, O God, and plead my cause against an ungodly nation: O deliver me from the deceitful and unjust man.

2     For thou art the God of my strength:

3     O send out thy light and thy truth: let them lead me; let them bring me unto thy holy hill, and to thy tabernacles.

4     Then will I go unto the altar of God, unto God my exceeding joy: yea, upon the harp will I praise thee, O God my God.

5     Why art thou cast down, O my soul? and why art thou disquieted within me? hope in God: for I shall yet praise him, who is the health of my countenance, and my God.

5۔ افسیوں 4باب1تا3، 13تا15 آیات

1۔پس مَیں جو خداوند میں قیدی ہوں تم سے التماس کرتا ہوں کہ جس بلاوے سے تم بلائے گئے تھے اْس کے لائق چال چلو۔

2۔ یعنی کمال فروتنی یعنی حلم کے ساتھ تحمل کر کے محبت سے ایک دوسرے کی برداشت کرو۔

3۔ اور اِسی کوشش میں رہو کہ روح کی یگانگی صلح کے بند سے بندھی رہے۔

13۔ جب تک ہم سب کے سب خدا کے بیٹے کے ایمان اور اْس کی پہچان میں ایک نہ ہو جائیں اور کامل انسان نہ بنیں یعنی مسیح کے پورے قد کے اندازہ تک نہ پہنچ جائیں۔

14۔ تاکہ ہم آگے کو بچے نہ رہیں اور آدمیوں کی بازیگری اورمکاری کے سبب اْن کے گمراہ کرنے والے منصوبوں کی طرف ہر ایک تعلیم کے جھوکے سے موجوں کی طرح اچھلتے بہتے نہ پھریں۔

15۔ بلکہ محبت کے ساتھ سچائی پر قائم رہ کر اور اْس کے ساتھ جو سر ہے یعنی مسیح کے ساتھ پیوستہ ہوکر ہر طرح سے بڑھتے جائیں۔

5. Ephesians 4 : 1-3, 13-15

1     I therefore, the prisoner of the Lord, beseech you that ye walk worthy of the vocation wherewith ye are called,

2     With all lowliness and meekness, with longsuffering, forbearing one another in love;

3     Endeavouring to keep the unity of the Spirit in the bond of peace.

13     Till we all come in the unity of the faith, and of the knowledge of the Son of God, unto a perfect man, unto the measure of the stature of the fulness of Christ:

14     That we henceforth be no more children, tossed to and fro, and carried about with every wind of doctrine, by the sleight of men, and cunning craftiness, whereby they lie in wait to deceive;

15     But speaking the truth in love, may grow up into him in all things, which is the head, even Christ:

6۔ افسیوں 6 باب10تا18 (تا،) 23، 24 آیات

10۔ غرض خداوند میں اور اْس کی قدرت کے زور میں مضبوط بنو۔

11۔ خدا کے سب ہتھیار باندھ لو تاکہ تم ابلیس کے منصوبوں کے مقابلے میں قائم رہ سکو۔

12۔ کیونکہ ہمیں خون اور گوشت سے کْشتی نہیں کرنا ہے بلکہ حکومت والوں اور اختیار والوں اوراِس دنیا کی تاریکی کے حاکموں اور شرارت کی اْن روحانی فوجوں سے جو آسمانی مقاموں میں ہیں۔

13۔ اِس واسطے تم خدا کے سب ہتھیار باندھ لو تاکہ برے دن میں مقابلہ کر سکو اور سب کاموں کو انجام دے کر قائم رہ سکو۔

14۔ پس سچائی سے اپنی کمر کس کر اور راستبازی کا بکتر لگا کر۔

15۔ اور پاؤں میں صلح کی خوشخبری کی تیاری کے جوتے پہن کر۔

16۔ اور اْن سب کے ساتھ ایمان کی سپر لگا کر قائم رہو۔ جس سے تم اْس شریر کے سب جلتے ہوئے تیروں کو بجھا سکو۔

17۔اور نجات کا خود اور روح کی تلوار جو خدا کا کلام ہے لے لو۔

18۔ اور ہر وقت ہر طرح سے روح میں دعا اور منت کرتے رہو۔

23۔خدا باپ اور خداوند یسوع مسیح کی طرف سے بھائیوں کو اطمینان حاصل ہو اور اْن میں ایمان کے ساتھ محبت ہو۔

24۔ جو ہمارے خداوند یسوع مسیح سے لازوال محبت رکھتے ہیں اْن سب پر فضل ہوتا رہے۔ آمین۔

6. Ephesians 6 : 10-18 (to ,), 23, 24

10     Finally, my brethren, be strong in the Lord, and in the power of his might.

11     Put on the whole armour of God, that ye may be able to stand against the wiles of the devil.

12     For we wrestle not against flesh and blood, but against principalities, against powers, against the rulers of the darkness of this world, against spiritual wickedness in high places.

13     Wherefore take unto you the whole armour of God, that ye may be able to withstand in the evil day, and having done all, to stand.

14     Stand therefore, having your loins girt about with truth, and having on the breastplate of righteousness;

15     And your feet shod with the preparation of the gospel of peace;

16     Above all, taking the shield of faith, wherewith ye shall be able to quench all the fiery darts of the wicked.

17     And take the helmet of salvation, and the sword of the Spirit, which is the word of God:

18     Praying always with all prayer and supplication in the Spirit,

23     Peace be to the brethren, and love with faith, from God the Father and the Lord Jesus Christ.

24     Grace be with all them that love our Lord Jesus Christ in sincerity. Amen.



سائنس اور صح


1۔ 100 :1۔11

تنویم یا حیوانی مقناطیسیت کو پہلی بار 1775 میں جرمنی کا ایک میسمر لایا۔ امریکی سائیکلو پیڈیا کے مطابق اْس نے اِس نام نہاد قوت کو بیماری کے خاتمے کا وسیلہ کے طور پر پیش کیا جس سے متعلق اْس نے کہا کہ اسے کوئی ایک جاندار ہستی دوسرے پر استعمال کر سکتی تھی۔ اْس کے اقوال یوں تھے:

”یہاں آسمانی مخلوقات، زمین اور انیمیٹڈ چیزوں کے مابین ایک باہمی تاثیر پائی جاتی ہے۔ حیوانی مخلوقات اِس کارگزار کے اثر سے حساس ہیں، جو خود کو اعصاب کے مواد کے وسیلہ منتشر کررہا ہے۔“

1. 100 : 1-11

Mesmerism or animal magnetism was first brought into notice by Mesmer in Germany in 1775. According to the American Cyclopaedia, he regarded this so-called force, which he said could be exerted by one living organism over another, as a means of alleviating disease. His propositions were as follows:

"There exists a mutual influence between the celestial bodies, the earth, and animated things. Animal bodies are susceptible to the influence of this agent, disseminating itself through the substance of the nerves."

2۔ 101 :21۔11

حیوانی مقناطیسیت کے کام سے متعلق مصنف کے خود کے مشاہدات اْسے قائل کرتے ہیں کہ یہ کسی علاج کے لئے کار گزار نہیں ہے، اور یہ کہ جو لوگ اِس کی مشق کرتے ہیں اْن پر اورجو اِن کے محکوم اس کا مقابلہ کرتے ہیں اْن پر اِس کے اثرات اخلاقی اور جسمانی موت کی جانب لے جاتے ہیں۔

اگر حیوانی مقنا طیسیت درد کم کرتی یا بیماری کا اعلاج کرتی ہوئی محسوس ہو تو اِس کا یہ روپ فریبی ہے، کیونکہ غلطی خود غلطی کے اثرات کو تلف نہیں کر سکتی۔غطی تلے بے آرامی سکون پرقابل ترجیح ہے۔حیوانی مقناطیسیت، جسے موجودہ دور میں علم نومیات یاہیپناٹزم کہا جاتا ہے،کسی ایک واقعہ میں اِس کے اثرات فریب نظری کے اثرات سے مختلف نہیں پائے گئے۔بظاہر اِس سے حاصل ہونے والا کوئی بھی فائدہ کسی شخص کے باطنی جادو گری پرایمان کے برابر ہے۔

حیوانی مقناطیسیت کی کوئی سائنسی بنیاد نہیں ہے، کیونکہ جو کچھ حقیقی، ہم آہنگ اور ابدی ہے اْس سب پر خدا حکمرانی کرتا ہے اور اْس کی طاقت حیوانی ہے نہ انسانی، سائنس میں حیوانی مقناطیسیت، تنویم یا علم نومیات محض ایک نفی ہے، جو نہ ذہانت، طاقت رکھتی ہے اور نہ حقیقت، اور اور ایک لحاظ سے یہ نام نہاد فانی عقل کا ایک غیر حقیقی نظریہ ہے۔

مگر یہاں روح کی ایک حقیقی دلکشی ہے۔ سوئی کی نوک سے قطر تک خدا، یعنی الٰہی عقل کی سب کو سمیٹنے والی طاقت یا دلکشی کی نشاندہی کرتی ہے۔

2. 101 : 21-11

The author's own observations of the workings of animal magnetism convince her that it is not a remedial agent, and that its effects upon those who practise it, and upon their subjects who do not resist it, lead to moral and to physical death.

If animal magnetism seems to alleviate or to cure disease, this appearance is deceptive, since error cannot remove the effects of error. Discomfort under error is preferable to comfort. In no instance is the effect of animal magnetism, recently called hypnotism, other than the effect of illusion. Any seeming benefit derived from it is proportional to one's faith in esoteric magic.

Animal magnetism has no scientific foundation, for God governs all that is real, harmonious, and eternal, and His power is neither animal nor human. Its basis being a belief and this belief animal, in Science animal magnetism, mesmerism, or hypnotism is a mere negation, possessing neither intelligence, power, nor reality, and in sense it is an unreal concept of the so-called mortal mind.

There is but one real attraction, that of Spirit. The pointing of the needle to the pole symbolizes this all-embracing power or the attraction of God, divine Mind.

3۔ 102 :16۔23

حیوانی مقناطیسیت کی ہلکی شکل غائب ہو رہی ہے اور اِس کی ناگوار خصوصیات سامنے آرہی ہیں۔ فانی خیالات کی تاریک تعطیلات میں پوشیدہ، جرائم کی مشینیں سمجھ سے مزید بالاتر اور پچیدہ قسم کے جال بْن رہی ہیں۔ لہٰذہ حیوانی مقناطیسیت کے موجودہ طریقوں کا راز یہ ہے کہ یہ وقت کو کاہلی کے جال میں پھنساتے ہیں او اْس محکوم کے لئے سنگدلی پیدا کرتے ہیں جس کے لئے مجرم خواہش رکھتا ہے۔

3. 102 : 16-23

The mild forms of animal magnetism are disappearing, and its aggressive features are coming to the front. The looms of crime, hidden in the dark recesses of mortal thought, are every hour weaving webs more complicated and subtle. So secret are the present methods of animal magnetism that they ensnare the age into indolence, and produce the very apathy on the subject which the criminal desires.

4۔ 95 :28۔3

بد بخت فریب النظری کے باعث خاموش رہ کر،کئی گھنٹوں تک خواب دیکھتے ہوئے، دنیا بچپن کے جھولے میں سو رہی ہے۔مادی فہم وجودیت کے حقائق کو اجاگر نہیں کرتا؛ بلکہ روحانی فہم انسانی شعور کو ابدی سچائی میں بلند کرتا ہے۔انسانیت روحانی سمجھ میں گناہ کے فہم سے آہستہ آہستہ باہر نکلتی ہے؛ سب باتوں کو بہتر سمجھنے کے لئے ناپسندیدگی مسیحی مملکت کو زنجیروں میں جکڑتی ہے۔

4. 95 : 28-3

Lulled by stupefying illusions, the world is asleep in the cradle of infancy, dreaming away the hours. Material sense does not unfold the facts of existence; but spiritual sense lifts human consciousness into eternal Truth. Humanity advances slowly out of sinning sense into spiritual understanding; unwillingness to learn all things rightly, binds Christendom with chains.

5۔ 102 :30۔5 (تا پہلا)۔

انسانیت کو یہ سیکھنا چاہئے کہ بدی کوئی طاقت نہیں ہے۔اس کی نام نہاد جبری حکومت عدم کے سوا کچھ نہیں۔کرسچن سائنس بدی کی سلطنت کو لوٹ لیتی ہے اور خاندانوں اسی طرح معاشرے میں امتیازی طور پر محبت اور نیکی کو فروغ دیتی ہے۔ پولوس رسول بدی کے تجسم کا بطور ”اِس دنیا کی نیکی“ حوالہ دیتا ہے، اور آگے اِسے بطور بے ایمانی اور چالاکی واضح کرتا ہے۔

5. 102 : 30-5 (to 1st .)

Mankind must learn that evil is not power. Its so-called despotism is but a phase of nothingness. Christian Science despoils the kingdom of evil, and pre-eminently promotes affection and virtue in families and therefore in the community. The Apostle Paul refers to the personification of evil as "the god of this world," and further defines it as dishonesty and craftiness.

6۔ 103 :15۔17، 29۔7

اچھائی کی حدلامتناہی خدا اور اْس کا خیال ہے، جو حاکم کل ہے۔ بدی فرضی جھوٹ ہے۔

حقیقت میں کوئی فانی عقل نہیں ہے، اور نتیجتاً فانی خیال اور قوت ارادی کی منتقلی نہیں ہے۔زندگی اور ہستی خدا ہیں۔کرسچن سائنس میں، انسان کوئی نقصان نہیں دے سکتا، کیونکہ سائنسی خیالات حقیقی خیالات ہیں، جو خدا سے انسان میں منتقل ہوتے ہیں۔

جب کرسچن سائنس اور حیوانی مقناطیسیت دونوں کو سمجھا جاتا ہے، جیسا کہ یہ دونوں ایک دوسرے سے زیادہ مختلف نہیں ہوں گے، تو یہ دیکھا جائے گا کہ اِس کتاب کا مصنف بھیڑوں کے روپ میں بھیڑیوں کے ہاتھوں غیر منصفانہ طور پر کیوں مارا اور جھٹلایا گیا۔

6. 103 : 15-17, 29-7

The maximum of good is the infinite God and His idea, the All-in-all. Evil is a suppositional lie.

In reality there is no mortal mind, and consequently no transference of mortal thought and will-power. Life and being are of God. In Christian Science, man can do no harm, for scientific thoughts are true thoughts, passing from God to man.

When Christian Science and animal magnetism are both comprehended, as they will be at no distant date, it will be seen why the author of this book has been so unjustly persecuted and belied by wolves in sheep's clothing.

7۔ 105 :22۔29

جو کوئی بھی اْس کی ترقی یافتہ ذہنی قوتوں کو موقع ملتے ہی خلاصی یافتہ قیدی کی مانند مظالم برپا کرنے کے لئے استعمال کرتا ہے وہ کبھی نہیں بچتا۔ خدا اْسے گرفتار کرے گا۔ الٰہی انصاف اْسے بیڑیاں ڈالے گا۔اْس کے گناہ اْسے کے گلے میں چکی کا پاٹ ہوں گے جو اْسے رسوائی اور موت کی اتھاہ گہرائیوں میں لٹکائیں گے۔غلطی کی شدت اِس کی تباہی کی پیش بینی کرتی ہے، اور اِس قدیم جامع اصول کی تصدیق کرتی ہے: ”جسے دیوتا مارنا چاہیں پہلے اْس کی مت ماریں گے۔“

7. 105 : 22-29

Whoever uses his developed mental powers like an escaped felon to commit fresh atrocities as opportunity occurs is never safe. God will arrest him. Divine justice will manacle him. His sins will be millstones about his neck, weighing him down to the depths of ignominy and death. The aggravation of error foretells its doom, and confirms the ancient axiom: "Whom the gods would destroy, they first make mad."

8۔ 542 :19۔26

خدا کے انداز میں سچائی کو ظہور میں آنے دیں اور غلطی کو نیست ہونے دیں، اور انسانی انصاف کو الٰہی بننے دیں۔ گناہ اِن دونوں باتوں کے لئے، جو یہ خود ہے اور جو یہ کرتا ہے، مکمل سزا پائے گا۔انصاف گناہگاروں پر اپنی مہر لگاتا ہے، اور انسانوں کو سکھاتا ہے کہ خدا کے نشانوں کو ختم نہ کریں۔حسد کے جہنم کے لئے انصاف اِسے ایک جھوٹ سونپتا ہے جو، خود کو آگے بڑھانے کے لئے، خدا کے حکموں کی نافرمانی کرتا ہے۔

8. 542 : 19-26

Let Truth uncover and destroy error in God's own way, and let human justice pattern the divine. Sin will receive its full penalty, both for what it is and for what it does. Justice marks the sinner, and teaches mortals not to remove the waymarks of God. To envy's own hell, justice consigns the lie which, to advance itself, breaks God's commandments.

9۔ 96 :11۔4

”تاریک گھڑی فجرسے پہلے ہوتی ہے۔“

اب یہ مادی دنیا بھی متصادم قوتوں کا اکھاڑا بن رہی ہے۔ایک طرف تو یہاں مخالفت اور مایوسی ہوگی؛ جبکہ دوسری طرف یہاں سائنس اور امن ہوگا۔ مادی عقائد کی منسوخی گناہ، بیماری اور موت کے قحط اور وبا، خواہش اور افسوس کے ساتھ دیکھی جاسکے گی جو اپنے عدم کے ظاہر ہونے تک نئے ادوار کو قبول کرتے ہیں۔یہ پریشانیاں غلطی کے خاتمے تک جاری رہیں گی، جب پوری مخالفت روحانی سچائی سے ہڑپ کر لی جائے گی۔

بشری غلطی ایک اخلاقی کیمیائی عمل میں غائب ہوجائے گی۔ یہ ذہنی ابال شروع ہو چکا ہے،اور یہ تب تک جاری رہے گا جب تک ایمان کی تمام تر غلطیاں فہم کو تسلیم نہ کرلیں۔ ایمان قابل تبدیل ہے، مگر روحانی فہم ناقابل تبدیل ہے۔

جیسے ہی یہ تکمیل قریب تر ہوتی جائے گی، وہ جس نے اپنے چال چلن کو الٰہی سائنس کے مطابق ڈھال لیاہے وہ آخر تک مقابلہ کرے گا۔ جب مادی علم ختم ہوتا اور روحانی سمجھ بڑھتی ہے، تو مادی کی بجائے ذہنی طور پر حقیقی چیزوں پر دھیان دیا جاتا ہے۔

اِس آخری تصادم کے دوران، بدکارذہن ایسے وسائل تلاش کرنے کی کوشش میں ہوں گے جن سے وہ مزید بدی مکمل کر سکیں؛ مگر وہ جو کرسچن سائنس کا ادراک رکھتے ہیں وہ جرم میں رکاوٹیں لائیں گے۔ وہ غلطی کے خاتمے میں مددکریں گے۔ وہ امن و امان کو برقرار رکھیں گے، اور وہ حتمی کاملیت کے یقینی ہونے کا خوشی کے ساتھ انتظار کریں گے۔

9. 96 : 11-4

"The darkest hour precedes the dawn."

This material world is even now becoming the arena for conflicting forces. On one side there will be discord and dismay; on the other side there will be Science and peace. The breaking up of material beliefs may seem to be famine and pestilence, want and woe, sin, sickness, and death, which assume new phases until their nothingness appears. These disturbances will continue until the end of error, when all discord will be swallowed up in spiritual Truth.

Mortal error will vanish in a moral chemicalization. This mental fermentation has begun, and will continue until all errors of belief yield to understanding. Belief is changeable, but spiritual understanding is changeless.

As this consummation draws nearer, he who has shaped his course in accordance with divine Science will endure to the end. As material knowledge diminishes and spiritual understanding increases, real objects will be apprehended mentally instead of materially.

During this final conflict, wicked minds will endeavor to find means by which to accomplish more evil; but those who discern Christian Science will hold crime in check. They will aid in the ejection of error. They will maintain law and order, and cheerfully await the certainty of ultimate perfection.

10۔ 97 :21۔25

وسیع تر حقائق خود کے خلاف بڑی غلطیاں ترتیب دیتے ہیں، کیونکہ وہ خفیہ طور پر غلطی کو لاتے ہیں۔سچ بولنے کے لئے ہمت کی ضرورت ہوتی ہے؛ کیونکہ سچائی جتنی زیادہ اپنی آواز بلند کرتی ہے، غلطی کی چیخ اْتنی ہی اونچی ہوگی، جب تک کہ فراموشی میں اِس کی غیر واضح آواز کو ہمیشہ کے لئے خاموش نہ کر دیا جائے۔

10. 97 : 21-25

The broadest facts array the most falsities against themselves, for they bring error from under cover. It requires courage to utter truth; for the higher Truth lifts her voice, the louder will error scream, until its inarticulate sound is forever silenced in oblivion.


روز مرہ کے فرائ

منجاب میری بیکر ایڈ

روز مرہ کی دعا

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ ہر روز یہ دعا کرے: ’’تیری بادشاہی آئے؛‘‘ الٰہی حق، زندگی اور محبت کی سلطنت مجھ میں قائم ہو، اور سب گناہ مجھ سے خارج ہو جائیں؛ اور تیرا کلام سب انسانوں کی محبت کو وافر کرے، اور اْن پر حکومت کرے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 4۔

مقاصد اور اعمال کا ایک اصول

نہ کوئی مخالفت نہ ہی کوئی محض ذاتی وابستگی مادری چرچ کے کسی رکن کے مقاصد یا اعمال پر اثر انداز نہیں ہونی چاہئے۔ سائنس میں، صرف الٰہی محبت حکومت کرتی ہے، اور ایک مسیحی سائنسدان گناہ کو رد کرنے سے، حقیقی بھائی چارے ، خیرات پسندی اور معافی سے محبت کی شیریں آسائشوں کی عکاسی کرتا ہے۔ اس چرچ کے تمام اراکین کو سب گناہوں سے، غلط قسم کی پیشن گوئیوں،منصفیوں، مذمتوں، اصلاحوں، غلط تاثر ات کو لینے اور غلط متاثر ہونے سے آزاد رہنے کے لئے روزانہ خیال رکھنا چاہئے اور دعا کرنی چاہئے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 1۔

فرض کے لئے چوکس

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ وہ ہر روز جارحانہ ذہنی آراء کے خلاف خود کو تیار رکھے، اور خدا اور اپنے قائد اور انسانوں کے لئے اپنے فرائض کو نہ کبھی بھولے اور نہ کبھی نظر انداز کرے۔ اس کے کاموں کے باعث اس کا انصاف ہوگا، وہ بے قصور یا قصوارہوگا۔ 

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 6۔


████████████████████████████████████████████████████████████████████████