اتوار 31مارچ ، 201 |

اتوار 31مارچ ، 2019



مضمون۔ حقیقت

سنہری متن:وعظ 3باب 14آیت



’’اور مَیں نے جانا ہے کہ جو کچھ خدا کرتا ہے وہ ابد تک رہے گا۔ اْس پر زیادہ نہیں کیا جا سکتا اور اْس سے گھٹایا نہیں جا سکتا؛ اور خدا یوں کرتا ہے تاکہ انسان اْس کے حضور ڈرتا رہے۔‘‘





سبق کی آڈیو کے لئے یہاں کلک کریں

یوٹیوب سے سننے کے لئے یہاں کلک کریں

████████████████████████████████████████████████████████████████████████


زبور 19: 1، 7تا 10 ، 14آیات


1۔ آسمان خُدا کا جلال ظاہر کرتا ہے اور فضا اُس کی دستکاری دکھاتی ہے۔

7۔ خُداوند کی شریعت کامل ہے۔ وہ جان کو بحال کرتی ہے۔ خداوندکی شہادت برحق ہے۔ نادان کو دانش بخشتی ہے۔ 

8۔ خُداوند کے قوانین راست ہیں۔ وہ دِل کو فرحت پہنچاتے ہیں۔ خُداوند کا حکم بے عیب ہے۔ وہ آنکھوں کو روشن کرتا ہے۔ 

9۔ خُداوند کا خُوف پاک ہے۔ وہ ابد تک قائم رہتا ہے۔ خُداوند کے احکام برحق اور بالکل راست ہیں۔ 

10۔ وہ سونے سے بلکہ بہت کُندن سے زیادہ پسندیدہ ہیں۔ وہ شہد سے بلکہ چھتے کے ٹپکوں سے بھی شیریں ہیں۔

14۔ میرے منہ کا کلام اور میرے دِل کا خیال تیرے حضور مقبول ٹھہرے۔ اے خُداوند! اے میرے چٹان اور میرے فدیہ دینے والے!



درسی وعظ



بائبل


درسی وعظ

بائبل

1۔ زبور16: 1، 2(تا :) ، 5، 8، 10، 11 آیات

1۔ اے خدا! میری حفاظت کر کیونکہ میں تجھ ہی میں پناہ لیتا ہوں۔ 

2۔ میں نے خداوند سے کہا ہے تو ہی رب ہے۔ تیرے سوا میری بھلائی نہیں۔ 

5۔ خداوندہی میری میراث اور میرے پیالے کا حصہ ہے۔ تُو میرے بخرے کا محافظ ہے۔ 

8۔ میں نے خداوند کو ہمیشہ اپنے سامنے رکھا ہے۔ چونکہ وہ میرے دہنے ہاتھ ہے اِس لئے مجھے جنبش نہ ہوگی۔ 

10۔ کیونکہ تُو نہ میری جان کو پاتال میں رہنے دے گا نہ اپنے مُقدس کو سٹرنے دیگا۔ 

11۔ تومجھے زندگی کی راہ دکھائے گا۔تیرے حضور میں کامل شادمانی ہے۔ تیرے دہنے ہاتھ میں دائمی خوشی ہے۔

2۔ یسعیاہ 43باب 1تا5، 7 آیات

1۔ اور اب اے یعقوب! خداوند جس نے تجھ کو پیدا کیا اورجس نے اے اسرائیل تجھ کو بنایا یوں فرماتا ہے کہ خوف نہ کر کیونکہ میں نے تیرا فدیہ دیا ہے۔ میں نے تیرا نام لے کر تجھے بلایا ہے تومیرا ہے۔ 

2۔ جب تو سیلاب میں سے گذرے تو میں تیرے ساتھ ہونگا اورجب تو ندیوں میں سے گزرے تو وہ تجھے نہ ڈبائیں گی۔ جب تو آگ پر چلے گا تو تجھے آنچ نہ لگے گی اورشعلہ تجھے نہ جلائے گا۔ 

3۔ کیونکہ میں خداوند تیرا خدا اسرائیل کا قدوس تیرا نجات دینے والا ہوں۔ میں نے تیرے فدیہ میں مصر کو اورتیرے بدلے میں کوش اور سبا کو دیا۔ 

4۔ چونکہ تو میری نگاہ میں بیش قیمت اور مکرم ٹھہرااور میں نے تجھ سے محبت رکھی اس لیے میں تیرے بدلے لوگ اورتیری جان کے بدلے میں امتیں دے دونگا۔ 

5۔ تو خوف نہ کر کیونکہ میں تیرے ساتھ ہوں۔ میں تیری نسل کو مشرق سے لے آونگا اور مغرب سے تجھے فراہم کرونگا۔ 

7۔ ہر ایک کو جو میرے نام سے کہلاتا ہے اور جس کو میں نے اپنے جلال کے لیے خلق کیاجسے میں نے پیدا کیا ہاں جسے میں ہی نے بنایا۔

3۔ دانی ایل 3باب 1 (تا پہلا) ، 8، 9(تاپہلا) ، 12 ، 14، 15 (اگر تم سجدہ نہ کروگے) ۔ 18، 21، 24 ، 25، 27آیات

1۔ نبُوکدنضر بادشاہ نے ایک سونے کی مورت بنوائی جس کی لمبائی ساٹھ ہاتھ اور چوڑائی چھ ہاتھ تھی اور اُسے دُرا کے میدان صوبہ بابل میں نصب کیا۔ 

8۔ پس اُس وقت چند کسدیوں نے آکر یہوداہ پر الزام لگایا۔ 

9۔ اُنہوں نے نبُوکدنضر بادشاہ سے کہا اے بادشاہ ابد تک جیتا رہ۔ 

12۔ اب چند یہودی ہیں جن کو تونے بابل کے صوبہ کی کار پر دازی پر معین کیا ہے یعنی سدرک اور میسک اور عبد نجو۔ ان آدمیوں نے اے بادشاہ تیری تعظیم نہیں کی۔ وہ تیرے معبودوں کی عبادت نہیں کرتے اور اُس سونے کی مورت کو جسے تو نے نصب کیا سجدہ نہیں کرتے۔ 

14۔ نبُوکدنضر نے اُن سے کہا اے سدرک اور میسک اور عبد نجو کیا یہ سچ ہے کہ تم میرے معبودوں کی عبادت نہیں کرتے اور اُس سونے کی مورت کو جسے میں نے نصب کیا سجدہ نہیں کرتے؟۔ 

15۔ ... اگر سجدہ نہ کرو گے تو اُسی وقت آگ کی جلتی بھٹی میں ڈالے جاؤ گے اور کون سا معبود تم کو میرے ہاتھ سے چھڑائے گا؟۔ 

16۔ سدرک اور میسک اور عبد نجو نے بادشاہ سے عرض کی کہ اے نبُوکدنضر اس امر میں ہم تجھے جواب دینا ضروری نہیں سمجھتے۔ 

17۔ دیکھ ہمارا خدا جس کی ہم عبادت کرتے ہیں ہم کو آگ کی جلتی ہوئی بھٹی سے چھڑانے کی قدرت رکھتا ہے اور اے بادشاہ وہی ہم کو تیرے ہاتھ سے چُھڑائے گا۔ 

18۔ اور نہیں تو اے بادشاہ تجھے معلُوم ہو کہ ہم تیرے معبودوں کی عبادت نہیں کریں گے اور اُس سونے کی مورت کو جو تونے نصب کی ہے سجدہ نہیں کریں گے۔ 

21۔ تب یہ مرد اپنے زیر جاموں قمیضوں اور عماموں سمیت باندھے گئے اور آگ کی جلتی بھٹی میں پھینک دے گئے۔ 

24۔ تب نبُوکدنضر بادشاہ سراسیمہ ہو کر جلد اٹھا اور ارکان دولت سے مخاطب ہو کر کہنے لگا کیا ہم نے تین شخصوں کو بندھوا کر آگ میں نہیں ڈلوایا؟ اُنہوں نے جواب دیا کہ بادشاہ نے سچ فرمایا ہے۔ 

25۔ اُس نے کہا دیکھو میں چار شخص آگ میں کھلے پھرتے دیکھتا ہوں اور اُن کو کچھ ضرر نہیں پہنچا اور چوتھے کی صورت الہٰ زادہ کی سی ہے۔ 

27۔ تب ناظموں اور حاکموں اور سرداروں اور بادشاہ کے مشیروں نے فراہم ہو کر اُن شخصوں پر نظر کی اور دیکھا کہ آگ نے اُن کے بدنوں پر کچھ تاثیر نہیں کی اور اُن کے سر کا ایک بال بھی نہ جلایا اور اُن کی پوشاک میں مُطلق فرق نہ آیا اور اُن سے آگ سے جلنے کی بوبھی نہ آتی تھی۔ 

4۔ لوقا 17باب 11تا14آیات

11۔ اور ایساہواکہ یروشلیم کو جاتے ہوئے وہ سامریہ اور گلیل کے بیچ سے ہوکر جا رہا تھا۔ 

12۔ اور ایک گاؤں میں داخِل ہوتے وقت دس کوڑھی اُس کو ملے۔ 

13۔ انہوں نے دور کھڑے ہوکر بلند آواز سے کہا اے یسوع! اے صاحب ! ہم پر رحم کر۔ 

14۔ اُس نے انہیں دیکھ کر کہا جاؤ۔ اپنے تئیں کاہنوں کو دکھاؤاور اَیسا ہوا کہ وہ جاتے جاتے پاک صاف ہوگئے۔

5۔ 1کرنتھیوں 13باب 9، 10آیات

9۔ کیونکہ ہمارا علم ناقص ہے اور ہماری نبوت ناتمام۔

10۔ لیکن جب کامل آئے گا تو ناقص جاتا رہے گا۔

6۔ 1یوحنا 5باب18 ، 20آیات

18۔ ہم جانتے ہیں کہ جو کوئی خدا سے پیدا ہوا ہے وہ گناہ نہیں کرتا بلکہ اُس کی حفاظت وہ کرتا ہے جو خدا سے پیدا ہواا اور وہ شریر اسے چھونے نہیں پاتا۔ 

20۔ اور یہ بھی جانتے ہیں کہ خدا کا بیٹا آگیا ہے اور اُس نے ہمیں سمجھ بخشی ہے تاکہ اُس کو جو حقیقی ہے جانیں اور ہم اُس میں جو حقیقی ہے یعنی اُس کے بیٹے یسوع مسیح میں ہیں۔ حقیقی خدا اور ہمیشہ کی زِندگی یہی ہے۔

7۔ رومیوں 12باب1 ، 2آیات

1۔ پس اے بھائیو! مَیں خدا کی رحمتیں یاد دلا کر تم سے التماس کرتا ہوں کہ اپنے بدن ایسی قربانی ہونے کے لئے نذر کرو جو زندہ اور پاک اور خدا کو پسندیدہ ہو۔ یہی تمہاری معقول عبادت ہے۔

2۔ اور اِس جہان کے ہم شکل نہ بنو بلکہ عقل نئی ہوجانے سے اپنی صورت بدلتے جاؤ تاکہ خدا کی نیک اور پسندیدہ اور کامل مرضی تجربے سے معلوم کرتے جاؤ۔

8۔ متی 5باب48آیت

45۔پس چاہئے کہ تم کامل ہو جیسا تمہارا آسمانی باپ کامل ہے۔



سائنس اور صح


1۔ 335: 27۔28

حقیقت روحانی، ہم آہنگ، ناقابل تبدیل، لافانی، الٰہی ، ابدی ہے۔ 

2۔ 475:11۔13

انسان روحانی اور کامل ہے، اور کیونکہ وہ روحانی اور کامل ہے اس لئے اْسے کرسچ سائنس میں ایسا ہی سمجھا جانا چاہئے۔

3۔ 256:6۔21

الٰہی سائنس میں، انسان خدا کی حقیقی شبیہ ہے۔ الٰہی فطرت کو یسوع مسیح میں بہترین طریقے سے بیان کیا گیا ہے، جس نے انسانوں پر خدا کی مناسب تر عکاسی ظاہر کی اورکمزور سوچ کے نمونے کی سوچ سے بڑی معیارِ زندگی فراہم کی ، یعنی ایسی سوچ جو انسان کے گرنے، بیماری، گناہ کرنے اور مرنے کو ظاہر کرتی ہے۔ سائنسی ہستی اور الٰہی شفا کی مسیح جیسی سمجھ میں کامل اصول اور خیال، کامل خدا اور کامل انسان ، بطور سوچ اور اظہار کی بنیاد شامل ہوتے ہیں۔ 

اگر انسان کبھی کامل تھا لیکن اب اپنی کاملیت کھو بیٹھا ہے تو پھر بشر خدا کی شبیہ کا عکس اپنے اندر کبھی نہ رکھتے۔ کھوئی ہوئی شبیہ کوئی شبیہ نہیں ہے۔ الٰہی عکس میں حقیقی مشابہت کھو نہیں سکتی۔ اسے سمجھتے ہوئے ، یسوع نے کہا، ’’پس چاہئے کہ تم کامل ہو جیسا تمہارا آسمانی باپ کامل ہے۔‘‘

4۔ 253:32۔8

الٰہی مطالبہ ، ’’چاہئے کہ تم کامل ہو‘‘، سائنسی ہے، اور کاملیت کی جانب رہنمائی دینے والے انسانی نقش قدم ناگزیر ہیں۔ وہ لوگ مستحکم ہوتے ہیں جو دھیان رکھتے ہوئے اور دعا کرتے ہوئے ’’دوڑتے ہیں اور تھک نہیں سکتے۔۔۔ چلتے ہیں لیکن ماندہ نہیں ہوسکتے‘‘، جو تیزی کے ساتھ اچھائی حاصل کرتے ہیں اور اپنی اس حالت کو برقرار رکھتے ہیں، یا دھیرے دھیرے حاصل کرتے ہیں اور نہ امیدی کو جنم نہیں لینے دیتے۔ خدا کاملیت مانگتا ہے لیکن تب تک نہیں جب تک روح اور بدن کے مابین جنگ لڑی اور فتح نہ کی جائے۔ 

5۔ 414:26۔31

ہستی کی حقیقت کو ذہن میں رکھیں، انسان خدا کی شبیہ کی صورت ہے، جس میں تمام انسانیت درد سے مبرا اور مستقل ہے۔ یاد رکھیں کہ انسان کی کاملیت حقیقی اور ناقابل اعتراض ہے، جبکہ ناکاملیت قابلِ الزام، غیرحقیقی، اور الٰہی محبت سے پیدا ہونے والی نہیں ہے۔ 

6۔ 275:20۔24

جیسا کہ روحانی سمجھ پر ظاہر ہوا ہے، الٰہی مابعدلاطبیعیات واضح طور پر دکھاتا ہے کہ سب کچھ عقل ہی ہے اور یہ عقل خدا ، قادر مطلق، ہمہ جائی، علام الغیوب ہے یعنی کہ سبھی طاقت والا، ہر جگہ موجود اور سبھی سائنس پر قادر ہے۔ لہٰذہ حقیقت میں سبھی کچھ عقل کا اظہار ہے۔ 

7۔ 337:10۔17

الٰہی سائنس کے مطابق انسا ن کا درجہ ویسا ہی کامل ہے جیسی وہ عقل ہے جو اْسے بناتی ہے۔

8 ۔ 353:14(وقت) ۔19

وقت ابھی ابدیت، لافانیت مکمل حقیقت تک نہیں پہنچا۔ سبھی حقیقت ابدی ہے۔ کاملیت حقیقت کو عیاں کرتی ہے۔ کاملیت کے بِنا کچھ بھی مکمل طور پر حقیقی نہیں ہے۔ جب تک کاملیت ظاہر نہیں ہوتی اور حقیقت تک نہیں پہنچتی سبھی چیزیں غائب ہونا جاری رہیں گی۔ 

9۔ 478:24۔27

شروع سے آخر تک جو کچھ بھی فانی ہے وہ مادی انسان کے یقین سے بنا ہے اور کسی چیز سے نہیں۔ صرف وہی حقیقی ہے جو خدا کی عکاسی کرتا ہے۔ 

10۔ 130: 32۔5

سچائی کو غلطی کی مانند تعجب انگیز اور غیر فطری دکھائی نہیں دینا چاہئے، اور غلطی کو سچائی کی مانند حقیقی نہیں لگنا چاہئے۔ بیماری کو صحتیابی جیسا دکھائی نہیں دینا چاہئے۔ سائنس میں کوئی غلطی نہیں ہے، اور خدا یعنی سب چیزوں کے الٰہی اصول، کے ساتھ ہم آہنگ ہونے کے لئے ہماری زندگیوں پر حقیقت کی حکمرانی ہونی چاہئے۔

11۔ 475:28۔5

انسان گناہ، بیماری اور موت سے عاجز ہے۔ حقیقی انسان پاکیزگی سے الگ نہیں ہو سکتا اور نہ ہی خدا، جس سے انسان نشوونما پاتا ہے، گناہ کے خلاف قوت یا آزادی پیدا کرسکتا ہے۔ ایک بشری گناہگار خدا کا بند ہ نہیں ہے۔ بشر لافانیوں کا فریب ہیں۔ وہ بدکرداروں ، یا بدوں کی اولاد ہیں جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ انسان مٹی سے شروع ہوایا مادی ایمبریو کے طور پر پیدا ہوا ہے۔

12۔ 258:25۔30

بشر کو روحانی انسان کی اوراْس کے خیالات کی لامحدود وسعت کی بہت نامکمل سمجھ ہے۔ابدی زندگی اْس سے تعلق رکھتی ہے۔خدا کی حکمرانی کے تحت ابدی سائنس میں کبھی نہ پیدا ہونے اور کبھی نہ مرنے سے انسان کے لئے اپنے بلند مقام سے نیچے گرنا ناممکن تھا۔ 

13۔ 297:32(بیماری) ۔4

بیماری، گناہ اور موت انسانی نتائج کی مبہم حقیقتیں ہیں۔ زندگی، سچائی اور محبت الٰہی سائنس کی حقیقتیں ہیں۔ ان کا آغاز ایمان میں ہوتا ہے اور روحانی سمجھ میں مکمل مدار کے ساتھ روشن ہوتے ہیں۔ 

14۔ 393:29۔4

انسان کبھی بیمار نہیں ہوتا، کیونکہ عقل کبھی بیمار نہیں ہوتی اور نہ ہی مادا۔ آزمائش کرنے والا اور آزمایا جانے والا، گناہ اور گناہگار، بیماری اور اْس کی وجہ دونوں جھوٹا ایمان ہیں۔ بیماری میں پرسکون رہنا اچھا ہے؛ پر امید ہونا بھی بہتر ہے؛ لیکن یہ سمجھنا کہ بیماری حقیقی نہیں اور کہ سچائی اس کی دکھائی دینے والی حقیقت کو تباہ کر سکتی ہے سب سے بہتر ہے کیونکہ یہ سمجھ عالمگیر اور کامل علاج ہے۔ 

15۔ 161:3۔10

آپ کہتے ہیں ’’میں نے اپنی انگلی جلا لی ہے۔‘‘یہ ایک بر محل بیان ہے، آپ کی سوچ سے زیادہ برمحل، کیونکہ بشری عقل ، نہ کہ مادی، اسے جلاتی ہے۔ پاک الہام نے ایسی ذہنی حالتیں پیدا کیں ہیں جو شعلوں کے رد عمل کوکالعدم قرار دینے کے قابل ہیں ، جیسا کہ بائبل میں تین عبرانی قیدیوں کا معاملہ تھا، انہیں بابلیوں کی بھٹی میں ڈالا گیا، جبکہ ایک مخالف ذہنی حالت اچانک سْلگن کو پیدا کر سکتی ہے۔

16۔ 260:7۔12

بشری خیالات یعنی غلط تصورات کو اْن تمام تصورات کا راستہ ہموار کرنا چاہئے جو کامل اور ابدی ہیں۔ کئی نسلوں سے انسانی عقائد الٰہی تصورات کو حاصل کریں گے اور خدا کی تخلیق کا لافانی اور کامل نمونہ آخر کار صرف ہستی کے حقیقی تصور کے طور پر دکھائی دے گا۔ 

17۔ 470: 11۔16 (تاپہلا) ، 32۔5

الٰہی سائنس درج ذیل خود عیاں تجویز کے ذریعے اِس خیالی بیان کو واضح کرتی ہے کہ عقل ایک ہے: اگر خدا، یا نیکی حقیقی ہے تو بدی، خدا کی غیر مشابہت بھی غیر حقیقی ہے۔ اور بدی محض غیر حقیقی کو حقیقت کا روپ دینے سے ہی حقیقی دکھائی دے سکتی ہے۔ 

سائنس میں خدا اور انسان، الٰہی اصول اور خیال کے تعلقات لازوال ہیں، اور سائنس غیر متغیر رہنے میں بھول چوک نہیں جانتی اور نہ ہی اِس کی ابدی تاریخ سے ہم آہنگی کی جانب واپسی جانتی ہے، لیکن الٰہی حْکم یا روحانی قانون ضرور رکھتی ہے جس میں خدا جو کچھ وہ بناتا ہے کامل اور ابدی ہیں۔


روز مرہ کے فرائ

منجاب میری بیکر ایڈ

روز مرہ کی دعا

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ ہر روز یہ دعا کرے: ’’تیری بادشاہی آئے؛‘‘ الٰہی حق، زندگی اور محبت کی سلطنت مجھ میں قائم ہو، اور سب گناہ مجھ سے خارج ہو جائیں؛ اور تیرا کلام سب انسانوں کی محبت کو وافر کرے، اور اْن پر حکومت کرے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 4۔

مقاصد اور اعمال کا ایک اصول

نہ کوئی مخالفت نہ ہی کوئی محض ذاتی وابستگی مادری چرچ کے کسی رکن کے مقاصد یا اعمال پر اثر انداز نہیں ہونی چاہئے۔ سائنس میں، صرف الٰہی محبت حکومت کرتی ہے، اور ایک مسیحی سائنسدان گناہ کو رد کرنے سے، حقیقی بھائی چارے ، خیرات پسندی اور معافی سے محبت کی شیریں آسائشوں کی عکاسی کرتا ہے۔ اس چرچ کے تمام اراکین کو سب گناہوں سے، غلط قسم کی پیشن گوئیوں،منصفیوں، مذمتوں، اصلاحوں، غلط تاثر ات کو لینے اور غلط متاثر ہونے سے آزاد رہنے کے لئے روزانہ خیال رکھنا چاہئے اور دعا کرنی چاہئے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 1۔

فرض کے لئے چوکس

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ وہ ہر روز جارحانہ ذہنی آراء کے خلاف خود کو تیار رکھے، اور خدا اور اپنے قائد اور انسانوں کے لئے اپنے فرائض کو نہ کبھی بھولے اور نہ کبھی نظر انداز کرے۔ اس کے کاموں کے باعث اس کا انصاف ہوگا، وہ بے قصور یا قصوارہوگا۔ 

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 6۔


████████████████████████████████████████████████████████████████████████