اتوار 31 جنوری،2021



مضمون۔ محبت

SubjectLove

سنہری متن: رومیوں 13 باب10 آیت

”محبت شریعت کی تعمیل ہے۔“



Golden Text: Romans 13 : 10

Love is the fulfilling of the law.





سبق کی آڈیو کے لئے یہاں کلک کریں

یوٹیوب سے سننے کے لئے یہاں کلک کریں

████████████████████████████████████████████████████████████████████████


جوابی مطالعہ: 1 یوحنا 4 باب 7 تا12، 16، 17 آیات


7۔ اے عزیزو! آؤ ہم ایک دوسرے سے محبت رکھیں، کیونکہ محبت خدا کی طرف سے ہے اور جو کوئی خدا سے محبت رکھتا ہے وہ خدا سے پیدا ہوا ہے اور خدا کو جانتا ہے۔

8۔جو محبت نہیں رکھتا وہ خدا کو نہیں جانتا کیونکہ خدا محبت ہے۔

9۔ جو محبت خدا کو ہم سے ہے وہ اس سے ظاہر ہوئی کہ خدا نے اپنے اکلوتے بیٹے کو دنیا میں بھیجا ہے تاکہ ہم اْس کے سبب سے زندہ رہیں۔

10۔ محبت اس میں نہیں کہ ہم نے خدا سے محبت کی بلکہ اس میں ہے کہ اْس نے ہم سے محبت کی اور ہمارے گناہوں کے کفارے کے لئے اپنے بیٹے کو بھیجا۔

11۔ اے عزیزو! جب خدانے ہم سے ایسی محبت کی تو ہم پر بھی ایک دوسرے سے محبت رکھنا فرض ہے۔

12۔ خدا کو کبھی کسی نے نہیں دیکھا۔ اگر ہم ایک دوسرے سے محبت رکھتے ہیں تو خدا ہم میں رہتا ہے اور اْس کی محبت ہمارے دل میں کامل ہو گئی ہے۔

16۔ جو محبت خدا کو ہم سے ہے اْس کو ہم جان گئے اور ہمیں اْس کا یقین ہے۔ خدامحبت ہے اور جو محبت میں قائم رہتا ہے وہ خدا میں قائم رہتا ہے اور خدا اْس میں قائم رہتا ہے۔

17۔ اِسی سبب سے محبت ہم میں کامل ہوگئی ہے تاکہ ہمیں عدالت کے دن دلیری ہو کیونکہ جیسا وہ ہے ویسے ہی دنیا میں ہم بھی ہیں۔

Responsive Reading: I John 4 : 7-12, 16, 17

7.     Beloved, let us love one another: for love is of God; and every one that loveth is born of God, and knoweth God.

8.     He that loveth not knoweth not God; for God is love.

9.     In this was manifested the love of God toward us, because that God sent his only begotten Son into the world, that we might live through him.

10.     Herein is love, not that we loved God, but that he loved us, and sent his Son to be the propitiation for our sins.

11.     Beloved, if God so loved us, we ought also to love one another.

12.     No man hath seen God at any time. If we love one another, God dwelleth in us, and his love is perfected in us.

16.     And we have known and believed the love that God hath to us. God is love; and he that dwelleth in love dwelleth in God, and God in him.

17.     Herein is our love made perfect, that we may have boldness in the day of judgment: because as he is, so are we in this world.



درسی وعظ



بائبل


درسی وعظ

بائبل

1۔ یرمیاہ 31 باب3 آیت

3۔ خداوند قدیم سے مجھ پر ظاہر ہوا اور کہا کہ مَیں نے تجھ سے ابدی محبت رکھی اِسی لئے مَیں نے اپنی شفقت تجھ پر بڑھائی۔

1. Jeremiah 31 : 3

3     The Lord hath appeared of old unto me, saying, Yea, I have loved thee with an everlasting love: therefore with lovingkindness have I drawn thee.

2۔ لوقا 4 باب1 (تا پہلا) آیت

1۔ پھر یسوع روح القدس سے بھرا ہوا یردن سے لوٹا۔

2. Luke 4 : 1 (to 1st ,)

1     And Jesus being full of the Holy Ghost returned from Jordan,

3۔ لوقا 7 باب11تا16 آیات

11۔ تھوڑے عرصے کے بعد ایسا ہوا کہ وہ نائین نام کے ایک شہر کو گیا اور اْس کے شاگرد اور بہت سے لوگ اْس کے ہمراہ تھے۔

12۔ جب وہ شہر کے پھاٹک کے نزدیک پہنچا تو دیکھو ایک مردے کو باہر لئے جاتے تھے۔ وہ اپنی ماں کا اکلوتا بیٹا تھااور وہ بیوہ تھی اور شہر کے بہتیرے لوگ اْس کے ساتھ تھے۔

13۔ اْسے دیکھ کر خداوند کو ترس آیا اور اْس سے کہا مت رو۔

14۔ پھر اْس نے پاس آکر جنازے کو چھوا اور اٹھانے والے کھڑے ہوگئے اور اْس نے کہا اے جوان! مَیں تجھ سے کہتا ہوں اْٹھ۔

15۔ وہ مردہ اْٹھ بیٹھا اور بولنے لگا اور اْس نے اْسے اْس کی ماں کو سونپ دیا۔

16۔ اور سب پر دہشت چھا گئی اور خدا کی تمجید کر کے کہنے لگے کہ ایک بڑا نبی ہم میں برپا ہوا ہے اور خدا نے اپنی امت پر توجہ کی ہے۔

3. Luke 7 : 11-16

11     And it came to pass the day after, that he went into a city called Nain; and many of his disciples went with him, and much people.

12     Now when he came nigh to the gate of the city, behold, there was a dead man carried out, the only son of his mother, and she was a widow: and much people of the city was with her.

13     And when the Lord saw her, he had compassion on her, and said unto her, Weep not.

14     And he came and touched the bier: and they that bare him stood still. And he said, Young man, I say unto thee, Arise.

15     And he that was dead sat up, and began to speak. And he delivered him to his mother.

16     And there came a fear on all: and they glorified God, saying, That a great prophet is risen up among us; and, That God hath visited his people.

4۔ متی 20 باب 30 تا34 آیات

30۔ اور دیکھو دو اندھوں نے جو راہ کے کنارے بیٹھے تھے یہ سن کر کہ یسوع جا رہا ہے چلا کر کہا اے خداوند ابنِ داؤد ہم پر رحم کر۔

31۔ لوگوں نے اْنہیں ڈانٹا کہ چپ رہیں۔ لیکن وہ اور بھی چلا کر کہنے لگے کہ اے خداوند ابنِ داؤد ہم پر رحم کر۔

32۔ یسوع نے کھڑے ہو کر انہیں بلایا اور کہا تم کیا چاہتے ہو کہ مَیں تمہارے لئے کروں؟

33۔ انہوں نے اْس سے کہا اے خداوند یہ کہ ہماری آنکھیں کھْل جائیں۔

34۔ یسوع کو ترس آیا اوراْس نے اْن کی آنکھوں کو چھوا۔ اور وہ فوراً بینا ہو گئے اور اْس کے پیچھے ہو لئے۔

4. Matthew 20 : 30-34

30     And, behold, two blind men sitting by the way side, when they heard that Jesus passed by, cried out, saying, Have mercy on us, O Lord, thou Son of David.

31     And the multitude rebuked them, because they should hold their peace: but they cried the more, saying, Have mercy on us, O Lord, thou Son of David.

32     And Jesus stood still, and called them, and said, What will ye that I shall do unto you?

33     They say unto him, Lord, that our eyes may be opened.

34     So Jesus had compassion on them, and touched their eyes: and immediately their eyes received sight, and they followed him.

5۔ مرقس 1 باب40 تا42 آیات

40۔اور ایک کوڑھی نے اْس کے پاس آکر اْس کی منت کی اور اْس کے سامنے گھٹنے ٹیک کر اْس سے کہا اگر تْو چاہے تو مجھے پاک صاف کر سکتا ہے۔

41۔ اْس نے اْس پر ترس کھا کر ہاتھ بڑھایا اور اْسے چھو کر اْسے کہا مَیں چاہتا ہوں کہ تْو پاک صاف ہوجا۔

42۔ اور فی الفور اْس کا کوڑھ جاتا رہا اور وہ پاک صاف ہوگیا۔

5. Mark 1 : 40-42

40     And there came a leper to him, beseeching him, and kneeling down to him, and saying unto him, If thou wilt, thou canst make me clean.

41     And Jesus, moved with compassion, put forth his hand, and touched him, and saith unto him, I will; be thou clean.

42     And as soon as he had spoken, immediately the leprosy departed from him, and he was cleansed.

6۔ یوحنا 15 باب8تا12 آیات

8۔ میرے باپ کا جلال اِسی سے ہوتا ہے کہ تم بہت سا پھل لاؤ۔ جب ہی تم میرے شاگرد ٹھہرو گے۔

9۔جیسے باپ نے مجھ سے محبت رکھی ویسے ہی مَیں نے تم سے محبت رکھی تم میری محبت میں قائم رہو۔

10۔ اگر تم میرے حکموں پر عمل کرو گے تو میری محبت میں قائم رہو گے جیسے مَیں نے اپنے باپ کے حکموں پر عمل کیا اور اْس کی محبت میں قائم ہوں۔

11۔ مَیں نے یہ باتیں اِس لئے تم سے کہی ہیں کہ میری خوشی تم میں ہو اور تمہاری خوشی پوری ہو جائے۔

12۔ میرا حکم یہ ہے کہ جیسے مَیں نے تم سے محبت رکھی تم بھی ایک دوسرے سے محبت رکھو۔

6. John 15 : 8-12

8     Herein is my Father glorified, that ye bear much fruit; so shall ye be my disciples.

9     As the Father hath loved me, so have I loved you: continue ye in my love.

10     If ye keep my commandments, ye shall abide in my love; even as I have kept my Father’s commandments, and abide in his love.

11     These things have I spoken unto you, that my joy might remain in you, and that your joy might be full.

12     This is my commandment, That ye love one another, as I have loved you.

7۔ رومیوں 8 باب 28، 31 (اگر)، 35، 37 تا39 آیات

28۔ اور ہم کو معلوم ہے کہ سب چیزیں مل کر خدا سے محبت رکھنے والوں کے لئے بھلائی پیدا کرتی ہیں یعنی اْن کے لئے جو خدا کے ارادہ کے موافق بلائے گئے۔

31۔ اگر خدا ہماری طرف ہے تو کون ہمارا مخالف ہے؟

35۔ کون ہم کو مسیح کی محبت سے جدا کرے گا؟ مصیبت یا تنگی یا ظلم یا کال یا ننگا پن یا خطرہ یا تلوار؟

37۔ مگر اْن سب حالتوں میں اْس کے وسیلہ سے جس نے ہم سے محبت کی ہم کو فتح سے بھی بڑھ کر غلبہ حاصل ہوتا ہے۔

38۔ کیونکہ مجھ کو یقین ہے کہ خدا کی محبت جو ہمارے خداوند یسوع مسیح میں ہے اْس سے ہم کو نہ موت جدا کر سکے گی نہ زندگی۔

39۔ نہ فرشتے نہ حکومتیں۔ نہ حال کی نہ استقبال کی چیزیں۔ نہ قدرت نہ بلندی نہ پستی نہ کوئی اور مخلوق۔

7. Romans 8 : 28, 31 (If), 35, 37-39

28     And we know that all things work together for good to them that love God, to them who are the called according to his purpose.

31     If God be for us, who can be against us?

35     Who shall separate us from the love of Christ? shall tribulation, or distress, or persecution, or famine, or nakedness, or peril, or sword?

37     Nay, in all these things we are more than conquerors through him that loved us.

38     For I am persuaded, that neither death, nor life, nor angels, nor principalities, nor powers, nor things present, nor things to come,

39     Nor height, nor depth, nor any other creature, shall be able to separate us from the love of God, which is in Christ Jesus our Lord.

8۔ 1پطرس 3 باب8 (تم بنو) تا 12 (تا:) آیات

8۔۔۔۔سب کے سب یکدل اور ہمدرد ہو۔ برادرانہ محبت رکھو۔ نرم دل اور فروتن بنو۔

9۔ بدی کے عوض بدی نہ کرو اور گالی کے بدلے گالی نہ دو بلکہ اِس کے برعکس برکت چاہو کیونکہ تم برکت کے وارث ہونے کے لئے بلائے گئے ہو۔

10۔ چنانچہ جو کوئی زندگی سے خوش ہونا اور اچھے دن دیکھنا چاہے وہ زبان کو بدی سے اور ہونٹوں کو مکر کی بات کہنے سے باز رکھے۔

11۔ بدی سے کنارہ کرے اور نیکی کو عمل میں لائے۔ صلح کا طالب ہو اور اْس کی کوشش میں رہے۔

12۔ کیونکہ خداوند کی نظر راستبازوں کی طرف ہے اور اْس کے کان اْن کی دعا پر لگے ہیں۔

8. I Peter 3 : 8 (be ye)-12 (to :)

8     …be ye all of one mind, having compassion one of another, love as brethren, be pitiful, be courteous:

9     Not rendering evil for evil, or railing for railing: but contrariwise blessing; knowing that ye are thereunto called, that ye should inherit a blessing.

10     For he that will love life, and see good days, let him refrain his tongue from evil, and his lips that they speak no guile:

11     Let him eschew evil, and do good; let him seek peace, and ensue it.

12     For the eyes of the Lord are over the righteous, and his ears are open unto their prayers:

9۔ 1 کرنتھیوں 13 باب1تا13 آیات

1۔ اگر مَیں فرشتوں کی زبانیں بولوں اور محبت نہ رکھوں تو مَیں ٹھنٹھناتا پیتل یاجھنجھناتی جھانجھ ہوں۔

2۔ اور اگر مجھے نبوت ملے اور سب بھیدوں اور کْل علم کی واقفیت ہو اور میرا ایمان یہاں تک کامل ہو کہ پہاڑوں کو ہٹا دوں اور محبت نہ رکھوں تو مَیں کچھ بھی نہیں۔

3۔ اور اگر اپنا سارا مال غریبوں کو کھِلا دوں اور اپنا بدن جلانے کے لئے دے دوں اور محبت نہ رکھوں تو مجھے کچھ فائدہ نہیں۔

4۔ محبت صابر ہے اور مہربان۔ محبت حسد نہیں کرتی۔ محبت شیخی نہیں مارتی اور پھولتی نہیں۔

5۔ نازیبا کام نہیں کرتی۔ اپنی بہتری نہیں چاہتی۔ جھنجھلاتی نہیں۔ بدگمانی نہیں کرتی۔

6۔ بدکاری سے خوش نہیں ہوتی بلکہ راستی سے خوش ہوتی ہے۔

7۔ سب کچھ سہہ لیتی ہے۔ سب کچھ یقین کرتی ہے سب باتوں کی امید رکھتی ہے۔ سب باتوں کی برداشت کرتی ہے۔

8۔ محبت کو زوال نہیں۔ نبوتیں ہوں تو موقوف ہو جائیں گی۔ زبانیں ہوں تو جاتی رہیں گی۔ علم ہو تو مٹ جائے گا۔

9۔ کیونکہ ہمارا علم ناقص ہے اور ہماری نبوت ناتمام۔

10۔ لیکن جب کامل آئے گا تو ناقص جاتا رہے گا۔

11۔ جب مَیں بچہ تھا تو بچوں کی طرح بولتا تھا۔ بچوں کی سی طبیعت تھی۔ بچوں کی سی سمجھ تھی لیکن جب جوان ہوا تو بچپن کی باتیں ترک کر دیں۔

12۔ اب ہم کو آئینہ میں دھْندلا سا دکھائی دیتا ہے مگر اْس وقت روبرو دیکھیں گے۔ اِس وقت میرا علم ناقص ہے مگر اْس وقت ایسے پورے طور سے پہچانوں گا جیسے مَیں پہچانا گیا ہوں۔

13۔ غر ض ایمان، امید،محبت یہ تینوں دائمی ہیں مگر افضل اِن میں محبت ہے۔

9. I Corinthians 13 : 1-13

1     Though I speak with the tongues of men and of angels, and have not charity, I am become as sounding brass, or a tinkling cymbal.

2     And though I have the gift of prophecy, and understand all mysteries, and all knowledge; and though I have all faith, so that I could remove mountains, and have not charity, I am nothing.

3     And though I bestow all my goods to feed the poor, and though I give my body to be burned, and have not charity, it profiteth me nothing.

4     Charity suffereth long, and is kind; charity envieth not; charity vaunteth not itself, is not puffed up,

5     Doth not behave itself unseemly, seeketh not her own, is not easily provoked, thinketh no evil;

6     Rejoiceth not in iniquity, but rejoiceth in the truth;

7     Beareth all things, believeth all things, hopeth all things, endureth all things.

8     Charity never faileth: but whether there be prophecies, they shall fail; whether there be tongues, they shall cease; whether there be knowledge, it shall vanish away.

9     For we know in part, and we prophesy in part.

10     But when that which is perfect is come, then that which is in part shall be done away.

11     When I was a child, I spake as a child, I understood as a child, I thought as a child: but when I became a man, I put away childish things.

12     For now we see through a glass, darkly; but then face to face: now I know in part; but then shall I know even as also I am known.

13     And now abideth faith, hope, charity, these three; but the greatest of these is charity.



سائنس اور صح


1۔ 6: 17۔18

”خدا محبت ہے۔“ اس سے زیادہ ہم مانگ نہیں سکتے، اِس سے اونچا ہم دیکھ نہیں سکتے اور اس سے آگے ہم جا نہیں سکتے۔

1. 6 : 17-18

"God is Love." More than this we cannot ask, higher we cannot look, farther we cannot go.

2۔ 113 :5۔8

کرسچن سائنس کا لازمی حصہ، دل اور جان محبت ہے۔خط اِس کے بغیر سائنس کا مردہ جسم، بے جان، سرد، بے حس ہے۔

2. 113 : 5-8

The vital part, the heart and soul of Christian Science, is Love. Without this, the letter is but the dead body of Science, — pulseless, cold, inanimate.

3۔ 572 :12۔17

محبت کرسچن سائنس کے قانون کو پورا کرتی ہے، اور اس الٰہی اصول کے بغیر کچھ بھی، سمجھا جانے والا اور ظاہر ہونے والا، آسمانی کتاب کی بصیرت کو آراستہ نہیں کرسکتا، یہ کتاب جو سچائی کے ساتھ غلطی کی سات مہریں کھولتی ہے، یا گناہ، بیماری اور موت کے ہزار ہا بھرموں کو بے نقاب کرتی ہے۔

3. 572 : 12-17

Love fulfils the law of Christian Science, and nothing short of this divine Principle, understood and demonstrated, can ever furnish the vision of the Apocalypse, open the seven seals of error with Truth, or uncover the myriad illusions of sin, sickness, and death.

4۔ 454 :17۔21

شفا اور تعلیم دونوں میں خدا اور انسان سے محبت سچی ترغیب ہے۔محبت راہ کو متاثر کرتی، روشن کرتی، نامزد کرتی اور راہنمائی کرتی ہے۔ درست مقاصد خیالات کو شہ دیتے، اور کلام اور اعمال کو قوت اور آزادی دیتے ہیں۔

4. 454 : 17-21

Love for God and man is the true incentive in both healing and teaching. Love inspires, illumines, designates, and leads the way. Right motives give pinions to thought, and strength and freedom to speech and action.

5۔ 520 :3 (دی)۔9

لامتناہی محبت کی گہرائی، عرض، لمبائی، طاقت، عظمت اور جلال سارے خلا کو پْر کرتے ہیں۔یہ کافی ہے! جو کچھ وجود رکھتا ہے انسانی زبان اْس کا محض بہت محدود حصہ دوہرا سکتی ہے۔انسان کی طرف سے ایک کامل مثالی بشراپنے لامحدود اصول، محبت کی نسبت مزید نہ دیکھا گیا ہے اور نہ سمجھا گیا ہے۔

5. 520 : 3 (The)-9

The depth, breadth, height, might, majesty, and glory of infinite Love fill all space. That is enough! Human language can repeat only an infinitesimal part of what exists. The absolute ideal, man, is no more seen nor comprehended by mortals, than is His infinite Principle, Love.

6۔ 494 :10۔19

الٰہی محبت نے ہمیشہ انسانی ضرورت کو پورا کیا ہے اور ہمیشہ پورا کرے گی۔ اس بات کو تصور کرنا مناسب نہیں کہ یسوع نے محض چند مخصوص تعداد میں یا محدود عرصے تک شفا دینے کے لئے الٰہی طاقت کا مظاہرہ کیا، کیونکہ الٰہی محبت تمام انسانوں کے لئے ہر لمحہ سب کچھ مہیا کرتی ہے۔

فضل کا معجزہ محبت کے لئے کوئی معجزہ نہیں ہے۔ یسوع نے مادیت کی نااہلیت کو اس کے ساتھ ساتھ روح کی لامحدود قابلیت کو ظاہر کیا، یوں غلطی کرنے والے انسانی فہم کو خود کی سزاؤں سے بھاگنے اور الٰہی سائنس میں تحفظ تلاش کرنے میں مدد کی۔

6. 494 : 10-19

Divine Love always has met and always will meet every human need. It is not well to imagine that Jesus demonstrated the divine power to heal only for a select number or for a limited period of time, since to all mankind and in every hour, divine Love supplies all good.

The miracle of grace is no miracle to Love. Jesus demonstrated the inability of corporeality, as well as the infinite ability of Spirit, thus helping erring human sense to flee from its own convictions and seek safety in divine Science.

7۔ 52 :19۔28

”غمزدہ شخص“نے مادی زندگی اور ذہانت کے عدم کواور قادر جامع خدا، اچھائی کی قادر حقیقت کو بہتر طور پر سمجھا۔ شفائیہ عقل یا کرسچن سائنس کے یہ دوافضل نکات ہیں جنہوں نے اْسے محبت سے مسلح کیا۔خدا کے اعلیٰ ترین نمائندے نے، الٰہی اصول کی عکاسی کے لئے انسانی قابلیت سے متعلق بات کرتے ہوئے، اپنے شاگردوں سے پیشن گوئی کے طور پر، نہ صرف اپنے دور بلکہ ہر دور کے لئے کہا: ”جو مجھ پر ایمان رکھتا ہے یہ کام جو مَیں کرتا ہوں وہ بھی کرے گا؛“ اور ”ایمان لانے والوں کے درمیان یہ معجزے ہوں گے۔“

7. 52 : 19-28

The "man of sorrows" best understood the nothingness of material life and intelligence and the mighty actuality of all-inclusive God, good. These were the two cardinal points of Mind-healing, or Christian Science, which armed him with Love. The highest earthly representative of God, speaking of human ability to reflect divine power, prophetically said to his disciples, speaking not for their day only but for all time: "He that believeth on me, the works that I do shall he do also;" and "These signs shall follow them that believe."

8۔ 53 :8۔15

یسوع کی شہرت اْس کے کردار کے عین برعکس تھی۔ کیوں؟ اِس لئے کہ الٰہی اصول اور یسوع کے کام کو غلط سمجھا گیا تھا۔ وہ الٰہی سائنس کے کام میں مامور تھا۔ اْس کی باتیں اور اعمال دنیا کے لئے اجنبی اِس لئے تھے کیونکہ وہ دنیاوی مذہبی فہم سے زیادہ بلند اور مخالف تھے۔بشر خدا پر انسانی طورپر طاقتور ہونے کی حیثیت سے ایمان رکھتے تھے بجائے بطور الٰہی، لامحدود محبت کے۔

8. 53 : 8-15

The reputation of Jesus was the very opposite of his character. Why? Because the divine Principle and practice of Jesus were misunderstood. He was at work in divine Science. His words and works were unknown to the world because above and contrary to the world's religious sense. Mortals believed in God as humanly mighty, rather than as divine, infinite Love.

9۔ 54 :8۔17

اْس کی تعلیم اور نمونے کی پیروی کرنے کے لئے کون تیار ہے؟ سب کو جلد یا بدیر مسیح یعنی خدا کے حقیقی تصور میں خود کو پیوست کرنا ہوگا۔یسوع کی انتہائی انسانی قربانی کی ہدایت یہ تھی کہ وہ اپنا خریدا ہوا عزیز خزانہ گناہ آلود انسان کے خالی گوداموں میں آزادی کے ساتھ اْنڈیلے۔اْس کے الٰہی اختیار کی گواہی میں، اْس نے یہ ثبوت فراہم کیا کہ زندگی، سچائی اور محبت بیماری اور گناہگار کو شفا دیتے ہیں اور عقل کے وسیلہ نہ کہ مادے کے وسیلہ موت پر فتح پاتے ہیں۔الٰہی محبت کا یہ سب سے بلند ترین ثبوت تھا جو وہ پیش کر سکتا تھا۔

9. 54 : 8-17

Who is ready to follow his teaching and example? All must sooner or later plant themselves in Christ, the true idea of God. That he might liberally pour his dear-bought treasures into empty or sin-filled human storehouses, was the inspiration of Jesus' intense human sacrifice. In witness of his divine commission, he presented the proof that Life, Truth, and Love heal the sick and the sinning, and triumph over death through Mind, not matter. This was the highest proof he could have offered of divine Love.

10۔ 364 :32۔24

کیا لاپرواہ ڈاکٹر، نرس، باورچی اور سخت کام کرنے والا شخص ہمدردانہ طور پر اْن کانٹوں سے واقف ہوتے ہیں جو وہ بیماراور اْس آسمانی بیمار کے تکیے میں لگاتے ہیں جو زمین سے دور دکھائی دے رہا ہو، اوہ کیا وہ جانتے تھے! کہ یہ علم بیمار کو شفا دینے اور اْن کے مدد گاروں کو تیار کرنے کے لئے ”خداوند! خداوند!“ پکارنے کی نسبت زیادہ کام آتا ہے؟ یسوع کا بے ضرر خیال، ”اپنی جان کی فکر نہ کرو“ جیسے الفاظ کی ادائیگی پاتے ہوئے، بیمار کو شفا بخشے گا اور انہیں جسمانی خیال اپنانے اور علاج کرنے کے لئے فرضی ضرورت کو ابھارنے کے قابل بناتا ہے؛ لیکن اگر بے غرض محبت کی کمی ہو، اور عمومی فہم اور عمومی انسانیت کو نظر انداز کیا جائے، تو کون سی ذہنی قابلیت باقی رہتی ہے، جس کے وسیلہ راستبازی کے پھیلے ہوئے بازو سے شفا کو ظاہر کیا جا سکے؟

اگر سائنسدان الٰہی محبت کے وسیلہ اپنے مریض تک پہنچتا ہے، تو شفائیہ کام ایک ہی آمد میں مکمل ہو جائے گا، اور بیماری اپنے آبائی عدم میں غائب ہو جائے گی جیسے کہ صبح کے وقت سورج کی روشنی سے پہلے اوس ہوتی ہے۔ اگر سائنسدان میں اپنی خود کی معافی جیتنے کے لئے کافی مسیحی محبت اور ایسی تعریف پائی جاتی ہے جیسی مگدلینی نے یسوع سے پائی، تو سائنسی طور پر عمل کرنے کے لئے اور ہمدردی سے مریضوں کے ساتھ برتاؤ کرنے کے لئے وہ اچھا مسیحی ہے، اور نتیجہ روحانی ارادے کے ساتھ مطابقت رکھے گا۔

10. 364 : 32-24

Did the careless doctor, the nurse, the cook, and the brusque business visitor sympathetically know the thorns they plant in the pillow of the sick and the heavenly homesick looking away from earth, — Oh, did they know! — this knowledge would do much more towards healing the sick and preparing their helpers for the "midnight call," than all cries of "Lord, Lord!" The benign thought of Jesus, finding utterance in such words as "Take no thought for your life," would heal the sick, and so enable them to rise above the supposed necessity for physical thought-taking and doctoring; but if the unselfish affections be lacking, and common sense and common humanity are disregarded, what mental quality remains, with which to evoke healing from the outstretched arm of righteousness?

If the Scientist reaches his patient through divine Love, the healing work will be accomplished at one visit, and the disease will vanish into its native nothingness like dew before the morning sunshine. If the Scientist has enough Christly affection to win his own pardon, and such commendation as the Magdalen gained from Jesus, then he is Christian enough to practise scientifically and deal with his patients compassionately; and the result will correspond with the spiritual intent.

11۔ 365 :31۔2

دْکھ اٹھانے والے غریب دل کو مناسب غذائیت کی ضرورت ہوتی ہے، جیسے کہ سکون، مصیبت میں صبر اور عزیز باپ کی شفقت، ہمدردی کا انمول فہم۔

11. 365 : 31-2

The poor suffering heart needs its rightful nutriment, such as peace, patience in tribulation, and a priceless sense of the dear Father's loving-kindness.

12۔ 366 :12۔19

وہ طبیب جو اپنے ساتھی انسان کے لئے ہمدردی کی کمی رکھتا ہے انسانی احساس میں نامکمل ہے، اور یہ کہنے کے لئے ہمارے پاس رسولی فرمان ہے کہ: ”جو اپنے بھائی سے جسے اْس نے دیکھا ہے محبت نہیں رکھتا وہ خدا سے بھی جسے اْس نے نہیں دیکھا محبت نہیں رکھ سکتا۔“اس روحانی احساس کے نہ ہوتے ہوئے، طبیب الٰہی عقل پر یقین کی کمی رکھتا ہے اور اْسے لامتناہی محبت سے شناسائی نہیں ہے جو اکیلا شفائیہ طاقت عطا کرتا ہے۔

12. 366 : 12-19

The physician who lacks sympathy for his fellow-being is deficient in human affection, and we have the apostolic warrant for asking: "He that loveth not his brother whom he hath seen, how can he love God whom he hath not seen?" Not having this spiritual affection, the physician lacks faith in the divine Mind and has not that recognition of infinite Love which alone confers the healing power.

13۔ 518 :19۔21

محبت کمزور روحانی خیال کو طاقت، لافانیت اور بھلائی عطا کرتی ہے جو سب میں ایسے ہی روشن ہوتی ہے جیسے شگوفہ ایک کونپل میں روشن ہوتا ہے۔

13. 518 : 19-21

Love giveth to the least spiritual idea might, immortality, and goodness, which shine through all as the blossom shines through the bud.

14۔ 55 :16۔26

میری خستہ حال امید اْس خوشی کے دن کا احساس دلانے کی کوشش کرتی ہے، جب انسان مسیح کی سائنس کو سمجھے گا اور اپنے پڑوسی سے اپنی مانند محبت رکھے گا، جب وہ یہ جانے گا کہ خدا قادر مطلق ہے اور جو کچھ اْس نے انسان کے لئے کیا ہے اور کر رہا ہے اْس میں الٰہی محبت کی شفائیہ طاقت کو جانے گا۔ وعدے پورے کئے جائیں گے۔ الٰہی شفا کے دوبارہ ظاہر ہونے کا وقت ہمہ وقت ہوتا ہے؛ اور جو کوئی بھی اپنازمینی سب کچھ الٰہی سائنس کی الطار پر رکھتا ہے، وہ اب مسیح کے پیالے میں سے پیتا ہے، اور وہ روح اور مسیحی شفا کی طاقت سے ملبوس ہوتا ہے۔

14. 55 : 16-26

My weary hope tries to realize that happy day, when man shall recognize the Science of Christ and love his neighbor as himself, — when he shall realize God's omnipotence and the healing power of the divine Love in what it has done and is doing for mankind. The promises will be fulfilled. The time for the reappearing of the divine healing is throughout all time; and whosoever layeth his earthly all on the altar of divine Science, drinketh of Christ's cup now, and is endued with the spirit and power of Christian healing.


روز مرہ کے فرائ

منجاب میری بیکر ایڈ

روز مرہ کی دعا

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ ہر روز یہ دعا کرے: ’’تیری بادشاہی آئے؛‘‘ الٰہی حق، زندگی اور محبت کی سلطنت مجھ میں قائم ہو، اور سب گناہ مجھ سے خارج ہو جائیں؛ اور تیرا کلام سب انسانوں کی محبت کو وافر کرے، اور اْن پر حکومت کرے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 4۔

مقاصد اور اعمال کا ایک اصول

نہ کوئی مخالفت نہ ہی کوئی محض ذاتی وابستگی مادری چرچ کے کسی رکن کے مقاصد یا اعمال پر اثر انداز نہیں ہونی چاہئے۔ سائنس میں، صرف الٰہی محبت حکومت کرتی ہے، اور ایک مسیحی سائنسدان گناہ کو رد کرنے سے، حقیقی بھائی چارے ، خیرات پسندی اور معافی سے محبت کی شیریں آسائشوں کی عکاسی کرتا ہے۔ اس چرچ کے تمام اراکین کو سب گناہوں سے، غلط قسم کی پیشن گوئیوں،منصفیوں، مذمتوں، اصلاحوں، غلط تاثر ات کو لینے اور غلط متاثر ہونے سے آزاد رہنے کے لئے روزانہ خیال رکھنا چاہئے اور دعا کرنی چاہئے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 1۔

فرض کے لئے چوکس

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ وہ ہر روز جارحانہ ذہنی آراء کے خلاف خود کو تیار رکھے، اور خدا اور اپنے قائد اور انسانوں کے لئے اپنے فرائض کو نہ کبھی بھولے اور نہ کبھی نظر انداز کرے۔ اس کے کاموں کے باعث اس کا انصاف ہوگا، وہ بے قصور یا قصوارہوگا۔ 

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 6۔


████████████████████████████████████████████████████████████████████████