اتوار 31 مئی، 2020 |

اتوار 31 مئی، 2020 



مضمون۔ قدیم و جدید جادوگری، عرفیت، تنویم اور علم نومیات سے انکار

SubjectAncient and Modern Necromancy, Alias Mesmerism and Hypnotism, Denounced

سنہری متن:سنہری متن: یعقوب 4 باب 8 آیت

’’خدا کے نزدیک جاؤ وہ تمہارے نزدیک آئے گا۔‘‘



Golden Text: James 4 : 8

Draw nigh to God, and he will draw nigh to you.





سبق کی آڈیو کے لئے یہاں کلک کریں

یوٹیوب سے سننے کے لئے یہاں کلک کریں

████████████████████████████████████████████████████████████████████████


جوابی مطالعہ: 1 پطرس 2 باب 1، 2،9 تا12، 15 آیات


1۔ پس ہر طرح کی بد خواہی اور سارے فریب اور ریاکاری اور حسد اور ہر طرح کی بد گوئی کو دور کر کے

2۔ نوزاد بچوں کی مانند خالص روحانی دودھ کے مشتاق رہو تاکہ اْس کے ذریعہ سے نجات حاصل کر نے کے لئے بڑھتے جاؤ۔

9۔لیکن تم ہر ایک برگزیدہ نسل۔ شاہی کاہنوں کا فرقہ۔ مقدس قوم اور ایسی امت ہو جو خدا کی خاص ملکیت ہے تاکہ اْس کی خوبیاں ظاہر کرو جس نے تمہیں تاریکی سے اپنی عجیب روشنی میں بلایا۔

10۔ پہلے تم کوئی امت نہ تھے مگراب تم خدا کی امت ہو۔

11۔ اے پیارو! میں تمہاری منت کرتا ہوں کہ تم اپنے آپ کو پردیسی اور مسافر جان کر اْن جسمانی خواہشوں سے پرہیز کرو جو روح سے لڑائی رکھتی ہیں۔

12۔ اور غیر قوموں میں اپنا چال چلن نیک رکھو تاکہ جن باتوں میں وہ تمہیں بدکار جان کر تمہاری بدگوئی کرتے ہیں تمہارے نیک کاموں کو دیکھ کر انہی کے سبب سے ملاحظہ کے دن خدا کی تمجید کریں۔

15۔ کیونکہ خدا کی یہ مرضی ہے کہ تم نیکی کر کے نادان آدمیوں کی جہالت کی باتوں کو بند کردو۔

Responsive Reading: I Peter 2 : 1, 2, 9-12, 15

1.     Wherefore laying aside all malice, and all guile, and hypocrisies, and envies, and all evil speakings,

2.     As newborn babes, desire the sincere milk of the word, that ye may grow thereby.

9.     Ye are a chosen generation, a royal priesthood, an holy nation, a peculiar people; that ye should shew forth the praises of him who hath called you out of darkness into his marvellous light:

10.     Which in time past were not a people, but are now the people of God.

11.     Dearly beloved, I beseech you as strangers and pilgrims, abstain from fleshly lusts, which war against the soul;

12.     Having your conversation honest among the Gentiles: that, whereas they speak against you as evildoers, they may by your good works, which they shall behold, glorify God in the day of visitation.

15.     For so is the will of God, that with well-doing ye may put to silence the ignorance of foolish men.



درسی وعظ



بائبل


درسی وعظ

بائبل

1۔ خروج 20 باب1تا3 آیات

1۔ اور خدا نے یہ سب باتیں اْن کو بتائیں۔

2۔ خداوند تیرا خدا جو تجھے ملک مصر سے غلامی کے گھر سے نکال لایا میں ہوں۔

3۔ میرے حضور تْو غیر معبودوں کو نہ ماننا۔

1. Exodus 20 : 1-3

1     And God spake all these words, saying,

2     I am the Lord thy God, which have brought thee out of the land of Egypt, out of the house of bondage.

3     Thou shalt have no other gods before me.

2۔ 1سیموئیل 28 باب3تا8، 11، 12(تا:)، 14 (اور ساؤل)تا 20 (تا:) آیات

3۔ اور سیموئیل مر چکا تھا اور سب اسرائیلیوں نے اْس پر نوحہ کر کے اْسے اْس کے شہر رامہ میں دفن کیا تھا اور ساؤل نے جنات کے آشناؤں اور افسون گروں کو ملک سے خارج کر دیا تھا۔

4۔ اور فلستی جمع ہوئے اور آکر شونیم میں ڈیرے ڈالے اور ساؤل نے بھی سب اسرائیلیوں کو جمع کیا اور وہ جلبوہ میں خیمہ زن ہوئے۔

5۔ اور جب ساؤل نے فلستیوں کا لشکر دیکھا تو ہراساں ہوا اور اْس کا دل بہت کانپنے لگا۔

6۔ اور جب ساؤل نے خداوند سے سوال کیا تو خداوند نے نہ تو اْسے خوابوں اور نہ اوریم اور نہ نبیوں کے وسیلہ سے کوئی جواب دیا۔

7۔ تب ساؤل نے اپنے ملازموں سے کہا کوئی ایسی عورت میرے لئے تلاش کرو جس کا آشنا جن ہو تاکہ میں اْس کے پاس جا کر اْس سے پوچھوں۔ اْس کے غلاموں نے اْس سے کہا دیکھ عین دور میں ایک عورت ہے جس کا آشنا جن ہے۔

8۔ سو ساؤل نے اپنا بھیس بدل کر دوسری پوشاک پہنی اور دو آدمیوں کو ساتھ لے کر چلا اور وہ رات کو اْس عورت کے پاس آئے اور اْس نے کہا ذرا میری خاطر جن کے ذریعہ سے میرا فال کھول اور جس کا نام میں تجھے بتاؤں اْسے اوپر بلا دے۔

11۔ تب اْس عورت نے کہا میں کس کو تیرے لئے اوپر بلا دوں؟ اْس نے کہا سیموئیل کو میرے لئے بلا دے۔

12۔ جب اْس عورت نے سیموئیل کو دیکھا تو بلند آواز سے چلائی۔

14۔تب اْس نے اْس سے کہا اْس کی شکل کیسی ہے؟ اْس نے کہا ایک بْڈھا اوپر کو آرہا ہے اور وہ جْبہ پہنے ہوئے ہے۔ تب ساؤل جان گیا کہ وہ سیموئیل ہے اور اْس نے منہ کے بل گر کر سجدہ کیا۔

15۔ سیموئیل نے ساؤل سے کہا تْو نے مجھے کیوں بے چین کیا کہ مجھے اوپر بلوایا؟ ساؤل نے جواب دیا میں سخت پریشان ہوں کیونکہ فلستی مجھ سے لڑتے ہیں اور خداوند مجھ سے الگ ہو گیا ہے اورنہ تو وہ نبیوں اور نہ خوابوں کے وسیلہ سے مجھے جواب دیتا ہے اس لئے میں نے تجھے بلایا کہ تْو مجھے بتائے کہ میں کیا کروں۔

16۔ سیموئیل نے کہا پس تْو مجھ سے کس لئے پوچھتا ہے جس حال کہ خداوند تجھ سے الگ ہو گیا اور تیرا دشمن بنا؟

17۔ اور خداوند نے جیسا میری معرفت کہا تھا ویسا ہی کیا ہے۔ خداوند نے تیرے ہاتھ سے سلطنت چاک کر لی اور تیرے پڑوسی داؤد کو عنایت کی ہے۔

18۔ اس لئے کہ تْو نے خداوند کی بات نہیں مانی اور عمالیقیوں سے اِس قدر قہرِ شدید سے پیش نہیں آیا اسی سبب سے خداوند نے آج کے دن تجھ سے ایسا برتاؤ کیا۔

19۔ ماسوائے اِس کے خداوند تیرے ساتھ اسرائیلیوں کو بھی فلستیوں کے ہاتھ میں کردے گا اور کل تْو اور تیرے بیٹے میرے ساتھ ہوگے اور خداوند اسرائیلی لشکر کو بھی فلستیوں کے ہاتھ میں کر دے گا۔

20۔ تب ساؤل فوراً زمین پر لمبا ہو کر گرا اور سیموئیل کی باتوں سے نہایت ڈر گیا۔

2. I Samuel 28 : 3-8, 11, 12 (to :), 14 (And Saul)-20 (to :)

3     Now Samuel was dead, and all Israel had lamented him, and buried him in Ramah, even in his own city. And Saul had put away those that had familiar spirits, and the wizards, out of the land.

4     And the Philistines gathered themselves together, and came and pitched in Shunem: and Saul gathered all Israel together, and they pitched in Gilboa.

5     And when Saul saw the host of the Philistines, he was afraid, and his heart greatly trembled.

6     And when Saul inquired of the Lord, the Lord answered him not, neither by dreams, nor by Urim, nor by prophets.

7     Then said Saul unto his servants, Seek me a woman that hath a familiar spirit, that I may go to her, and inquire of her. And his servants said to him, Behold, there is a woman that hath a familiar spirit at Endor.

8     And Saul disguised himself, and put on other raiment, and he went, and two men with him, and they came to the woman by night: and he said, I pray thee, divine unto me by the familiar spirit, and bring me him up, whom I shall name unto thee.

11     Then said the woman, Whom shall I bring up unto thee? And he said, Bring me up Samuel.

12     And when the woman saw Samuel, she cried with a loud voice:

14     And Saul perceived that it was Samuel, and he stooped with his face to the ground, and bowed himself.

15     And Samuel said to Saul, Why hast thou disquieted me, to bring me up? And Saul answered, I am sore distressed; for the Philistines make war against me, and God is departed from me, and answereth me no more, neither by prophets, nor by dreams: therefore I have called thee, that thou mayest make known unto me what I shall do.

16     Then said Samuel, Wherefore then dost thou ask of me, seeing the Lord is departed from thee, and is become thine enemy?

17     And the Lord hath done to him, as he spake by me: for the Lord hath rent the kingdom out of thine hand, and given it to thy neighbour, even to David:

18     Because thou obeyedst not the voice of the Lord, nor executedst his fierce wrath upon Amalek, therefore hath the Lord done this thing unto thee this day.

19     Moreover the Lord will also deliver Israel with thee into the hand of the Philistines: and to morrow shalt thou and thy sons be with me: the Lord also shall deliver the host of Israel into the hand of the Philistines.

20     Then Saul fell straightway all along on the earth, and was sore afraid, because of the words of Samuel:

3۔ یسعیاہ 8باب19 (تا پہلا؟)آیت

19۔ اور جب وہ تم سے کہیں کہ تم جنات کے یاروں اور افسون گروں کی جو پھْسپھْساتے اور گڑگڑاتے ہیں تلاش کرو تو تم کہو کیا لوگوں کو مناسب نہیں کہ اپنے خدا کے طالب ہوں؟

3. Isaiah 8 : 19 (to 1st ?)

19     And when they shall say unto you, Seek unto them that have familiar spirits, and unto wizards that peep, and that mutter: should not a people seek unto their God?

4۔ خروج 20باب5 (کیونکہ)، 6 آیات

5۔۔۔۔کیونکہ میں خداوند تیرا خدا غیور خدا ہوں اور جو مجھ سے عداوت رکھتے ہیں اْن کی اولاد کو تیسری اور چوتھی پشت تک باپ دادا کی بدکاری کی سزاء دیتا ہوں۔

6۔ اور ہزاروں پر جو مجھ سے محبت رکھتے ہیں اور میرے حکموں کو مانتے ہیں رحم کرتا ہوں۔

4. Exodus 20 : 5 (for), 6

5     …for I the Lord thy God am a jealous God, visiting the iniquity of the fathers upon the children unto the third and fourth generation of them that hate me;

6     And shewing mercy unto thousands of them that love me, and keep my commandments.

5۔ متی 24 باب1، 2 (تا پہلا،)، 4 (خبردار) تا 7، 10 تا 14 (تا؛) آیات

1۔ اور یسوع ہیکل سے نکل کر جا رہا تھا اور اْس کے شاگرد اْس کے پاس آئے تاکہ اْسے ہیکل کی عمارتیں دکھائیں۔

2۔ یسوع نے جواب میں اْن سے کہا

4۔ خبردار! کوئی تم کو گمراہ نہ کردے۔

5۔ کیونکہ بہتیرے میرے نام سے آئیں گے اور کہیں گے میں مسیح ہوں اور بہت سے لوگوں کو گمراہ کریں گے۔

6۔ اور تم لڑائیاں اور لڑائیوں کی افواہ سنو گے۔ خبردار! گھبرا نہ جانا! کیونکہ اِن باتوں کا واقع ہونا ضرور ہے لیکن اْس وقت خاتمہ نہ ہوگا۔

7۔ کیونکہ قوم پر قوم اور سلطنت پر سلطنت چڑھائی کرے گی اور جگہ جگہ کال پڑیں گے اور بھونچال آئیں گے۔

10۔ اور اْس وقت بہتیرے ٹھوکر کھائیں گے اور ایک دوسرے کو پکڑوائیں گے اور ایک دوسرے سے عداوت رکھیں گے۔

11۔ اور بہت سے جھوٹے نبی اْٹھ کھڑے ہوں گے اور بہتیروں کو گمراہ کریں گے۔

12۔ اور بے دینی کے بڑھ جانے سے بہتیروں کی محبت ٹھنڈی پڑ جائے گی۔

13۔ مگر جو آخر تک برداشت کرے گا وہ نجات پائے گا۔

14۔ اور بادشاہی کی اِس خوشخبری کی منادی تمام دنیا میں ہوگی تاکہ سب قوموں کے لئے گواہی ہو۔

5. Matthew 24 : 1, 2 (to 1st ,), 4 (Take)-7, 10-14 (to ;)

1     And Jesus went out, and departed from the temple: and his disciples came to him for to shew him the buildings of the temple.

2     And Jesus said unto them,

4     Take heed that no man deceive you.

5     For many shall come in my name, saying, I am Christ; and shall deceive many.

6     And ye shall hear of wars and rumours of wars: see that ye be not troubled: for all these things must come to pass, but the end is not yet.

7     For nation shall rise against nation, and kingdom against kingdom: and there shall be famines, and pestilences, and earthquakes, in divers places.

10     And then shall many be offended, and shall betray one another, and shall hate one another.

11     And many false prophets shall rise, and shall deceive many.

12     And because iniquity shall abound, the love of many shall wax cold.

13     But he that shall endure unto the end, the same shall be saved.

14     And this gospel of the kingdom shall be preached in all the world for a witness unto all nations;

6۔ 2 تھسلینکیوں 2باب1تا3 (تا دوسرا) آیات

1۔ اے بھائیو! ہم اپنے خداوند یسوع مسیح کے آنے اور اْس کے پاس اپنے جمع ہونے کی بابت تم سے درخواست کرتے ہیں۔

2۔ کہ کسی روح یا کلام یا خط سے جو گویا ہماری طرف سے ہو یہ سمجھ کر کہ خداوندکا دن آپہنچا ہے تمہاری عقل دفعتاً پریشان نہ ہو جائے اور نہ تم گھبراؤ۔

3۔ کسی طرح سے کسی کے فریب میں نہ آنا کیونکہ وہ دن نہیں آئے گا جب تک کہ پہلے برگشتگی نہ ہو۔

6. II Thessalonians 2 : 1-3 (to 2nd ,)

1     Now we beseech you, brethren, by the coming of our Lord Jesus Christ, and by our gathering together unto him,

2     That ye be not soon shaken in mind, or be troubled, neither by spirit, nor by word, nor by letter as from us, as that the day of Christ is at hand.

3     Let no man deceive you by any means: for that day shall not come, except there come a falling away first,

7۔ 2 تمیتھیس 3باب1تا5، 14 تا17 آیات

1۔ لیکن یہ جان رکھ کہ اخیر زمانہ میں برے دن آئیں گے۔

2۔ کیونکہ آدمی خود غرض۔ زر دوست۔ شیخی باز۔ مغرور۔ بد گو۔ ماں باپ کے نافرمان۔ ناشکر۔ ناپاک۔

3۔ طبعی محبت سے خالی۔ سنگدل۔ تہمت لگانے والے۔ بے ضبط۔ تْند مزاج۔ نیکی کے دشمن۔

4۔ دغا باز۔ ڈھیٹھ۔ گھمنڈ کرنے والے۔ خدا کی نسبت عیش و عشرت کو زیادہ دوست رکھنے والے ہوں گے۔

5۔ وہ دینداری کی وضع تو رکھیں گے مگر اْس کے اثر کو قبول نہ کریں گے۔ ایسوں سے بھی کنارہ کرنا۔

7. II Timothy 3 : 1-5, 14-17

1     This know also, that in the last days perilous times shall come.

2     For men shall be lovers of their own selves, covetous, boasters, proud, blasphemers, disobedient to parents, unthankful, unholy,

3     Without natural affection, trucebreakers, false accusers, incontinent, fierce, despisers of those that are good,

4     Traitors, heady, highminded, lovers of pleasures more than lovers of God;

5     Having a form of godliness, but denying the power thereof: from such turn away.

14     But continue thou in the things which thou hast learned and hast been assured of, knowing of whom thou hast learned them;

15     And that from a child thou hast known the holy scriptures, which are able to make thee wise unto salvation through faith which is in Christ Jesus.

16     All scripture is given by inspiration of God, and is profitable for doctrine, for reproof, for correction, for instruction in righteousness:

17     That the man of God may be perfect, throughly furnished unto all good works.



سائنس اور صح


1۔ 102 :9۔11

یہاں روح کی ایک حقیقی دلکشی کے سوا کچھ نہیں ہے۔ سوئی کی نوک سے قطر تک خدا، یعنی الٰہی عقل کی سب کو سمیٹنے والی طاقت یا دلکشی کی نشاندہی کرتی ہے۔

1. 102 : 9-11

There is but one real attraction, that of Spirit. The pointing of the needle to the pole symbolizes this all-embracing power or the attraction of God, divine Mind.

2۔ 213 :11۔15

اچھائی کی جانب ہر بڑھتا قدم مادیت پرستی سے علیحدگی ہے، اور یہ خدا، روح کی جانب ایک رجحان ہے۔ مادی نظریات جزوی طور پرمتناہی، عارضی اور مخالف کی ایک برعکس دلکشی کی بدولت لامتناہی اور ابدی کی جانب اِس دلکشی کو مفلوج کر دیتی ہیں۔

2. 213 : 11-15

Every step towards goodness is a departure from materiality, and is a tendency towards God, Spirit. Material theories partially paralyze this attraction towards infinite and eternal good by an opposite attraction towards the finite, temporary, and discordant.

3۔ 536 :11۔29

اگر انسان کوواحد باپ، جس میں ہم ”جیتے اور چلتے پھرتے اور موجود ہوتے ہیں،“ کی جانب اپنی کشش اور دلکشی کھو دینی چاہئے، اور اگر انسان پر الٰہی اصول کی بجائے جسمانیت کی حکمرانی، روح کی بجائے بدن کی حکمرانی ہونی چاہئے، تو انسان فنا ہو جائے گا۔روح کی بجائے جسم کے وسیلہ خلق ہوتے ہوئے، خدا کی بجائے مادے سے شروع ہوتے ہوئے، فانی انسان پر خود کی حکمرانی ہوگی۔اندھے کو اندھا راہ دکھائے تو دونوں گریں گے۔

جذبات اور بھوک درد پر اختتام پذیر ہونے چاہئیں۔وہ ”تھوڑے دنوں کے ہیں اور دْکھ سے بھرے ہیں۔“اْن کی فرضی خوشیاں دھوکہ ہیں۔اْن کی تنگ نظری اْن کی خوشیوں کی بے حرمتی کرتی ہے اور اْن کی کامیابیوں میں کانٹوں کی رکاوٹ ڈالتی ہے۔

فانی عقل زندگی اور خوشی کے غلط اور مادی نظریے کو قبول کرتی ہے، مگر حقیقی خیال لافانی سمت سے حاصل کیا جاتا ہے۔سخت محنت، کوشش اور دْکھ کے وسیلہ بشر کیا حاصل کر تے ہیں؟ وہ اپنے عقیدے کو قابل تسخیر زندگی اور خوشی کی نظر کر دیتے ہیں؛ فانی اور مادی راکھ میں لوٹ جاتے ہیں، اور لافانی ہی رسائی پاتا ہے۔

3. 536 : 11-29

If man's spiritual gravitation and attraction to one Father, in whom we "live, and move, and have our being," should be lost, and if man should be governed by corporeality instead of divine Principle, by body instead of by Soul, man would be annihilated. Created by flesh instead of by Spirit, starting from matter instead of from God, mortal man would be governed by himself. The blind leading the blind, both would fall.

Passions and appetites must end in pain. They are "of few days, and full of trouble." Their supposed joys are cheats. Their narrow limits belittle their gratifications, and hedge about their achievements with thorns.

Mortal mind accepts the erroneous, material conception of life and joy, but the true idea is gained from the immortal side. Through toil, struggle, and sorrow, what do mortals attain? They give up their belief in perishable life and happiness; the mortal and material return to dust, and the immortal is reached.

4۔ 183 :16۔25

فرضی قوانین جن کا نتیجہ مایوسی اور بیماری نکلتی ہیں اْس کے قوانین نہیں ہیں، کیونکہ سچائی کاواحد جائز اور ممکن عمل ہم آہنگی کی ہی پیداوار ہے۔ فطرت کے قوانین روح کے قوانین ہیں۔ الٰہی عقل بجا طور پر انسان کی مکمل فرمانبرداری، پیار اور طاقت کا مطالبہ کرتی ہے۔ اس سے کم وفاداری کے لئے کوئی تحفظات نہیں رکھے جاتے۔ سچائی کی تابعداری انسان کو قوت اور طاقت فراہم کرتی ہے۔ غلطی کو سپردگی طاقت کی کمی کو بڑھا دیتی ہے۔

4. 183 : 16-25

The supposed laws which result in weariness and disease are not His laws, for the legitimate and only possible action of Truth is the production of harmony. Laws of nature are laws of Spirit; but mortals commonly recognize as law that which hides the power of Spirit. Divine Mind rightly demands man's entire obedience, affection, and strength. No reservation is made for any lesser loyalty. Obedience to Truth gives man power and strength. Submission to error superinduces loss of power.

5۔ 537 :9۔10

بدی کی پہچان الوہیت یا انسانیت کا جوہر کبھی نہیں تھی۔

5. 537 : 9-10

A knowledge of evil was never the essence of divinity or manhood.

6۔ 102 :30۔31

انسانیت کو یہ سیکھنا چاہئے کہ بدی کوئی طاقت نہیں ہے۔اس کی نام نہاد جبری حکومت عدم کے سوا کچھ نہیں۔

6. 102 : 30-31

Mankind must learn that evil is not power. Its so-called despotism is but a phase of nothingness.

7۔ 103 :18۔24۔ 29۔2

جیسے کہ کرسچن سائنس میں نام دیا گیا ہے، حیوانی مقناطیسیت یا علم نومیات غلطی یا فانی عقل کے لئے خاص اصطلاح ہے۔ یہ ایک جھوٹا عقیدہ ہے کہ عقل مادے میں ہے اور کہ یہ اچھائی اور برائی دونوں ہے؛ کہ بدی اچھائی جتنی حقیقی اور زیادہ طاقتور ہے۔ اس عقیدے میں سچائی کی ایک بھی خصوصیت نہیں ہے۔ یہ یا توبے خبر ہے یا حاسدہے۔ نومیات کی حاسد شکل اخلاقی گراوٹ میں بنیاد رکھتی ہے۔

حقیقت میں کوئی فانی عقل نہیں ہے، اور نتیجتاً فانی خیال اور قوت ارادی کی منتقلی نہیں ہے۔زندگی اور ہستی خدا ہیں۔کرسچن سائنس میں، انسان کوئی نقصان نہیں دے سکتا، کیونکہ سائنسی خیالات حقیقی خیالات ہیں، جو خدا سے انسان میں منتقل ہوتے ہیں۔

7. 103 : 18-24, 29-2

As named in Christian Science, animal magnetism or hypnotism is the specific term for error, or mortal mind. It is the false belief that mind is in matter, and is both evil and good; that evil is as real as good and more powerful. This belief has not one quality of Truth. It is either ignorant or malicious. The malicious form of hypnotism ultimates in moral idiocy.

In reality there is no mortal mind, and consequently no transference of mortal thought and will-power. Life and being are of God. In Christian Science, man can do no harm, for scientific thoughts are true thoughts, passing from God to man.

8۔ 104 :13۔18

کرسچن سائنس ذہنی عمل کے پیندے تک جاتی ہے، اور اثبات ِعدل الٰہی کو ظاہر کرتی ہے جو پورے الٰہی عمل کی درستگی کی طرف اشارہ کرتی ہے، جیسے کہ الٰہی عقل کا اجرااور نتیجہ مخالف نام نہاد عمل کی غلطی ہوتا ہے، بدی، سحر پرستی، جادو گری، تنویم، حیوانی مقناطیسیت، علم نومیات۔

8. 104 : 13-18

Christian Science goes to the bottom of mental action, and reveals the theodicy which indicates the rightness of all divine action, as the emanation of divine Mind, and the consequent wrongness of the opposite so-called action, — evil, occultism, necromancy, mesmerism, animal magnetism, hypnotism.

9۔ 72 :9 (جیسے)۔12، 21۔32

جیسے روشنی تاریکی کو نیست کردیتی ہے اور تاریکی کی جگہ ہر طرف روشنی ہو جاتی ہے، اسی طرح (مطلق سائنس میں) روح، یا خدا انسان کوسچائی دینے والا ہے۔

خدائی ہستی، اچھائی، ہمیشہ سے موجود ہے، یہ الٰہی منطق میں مانتی ہے کہ بدی، اچھائی کی فرضی مخالف، کبھی موجود نہیں ہے۔سائنس میں، خدا، لامتناہی،حاکم کل سے اخذ شدہ انفرادی اچھائی، انسان کی طرف سے بہہ سکتی ہے، مگر بدی ترسیل پذیر ہے نہ سائنسی۔ ایک گناہگار، زمینی بشر زندگی کی حقیقت نہیں اور نہ ہی وہ وسیلہ ہے جس کے ذریعے سچائی زمین پر پہنچتی ہے۔ جب بدی اور دْکھ ترسیل پذیر ہوتے ہیں تو مباشرت کی تسکین گناہ کا مذاق بن جاتی ہے۔ الٰہی قانون نہیں بلکہ ذاتی عمل اشتراک انسانیت اور زمین کے لئے سچائی، صحت اور ہم آہنگی کا رابطہ کار ہے۔

9. 72 : 9 (As)-12, 21-32

As light destroys darkness and in the place of darkness all is light, so (in absolute Science) Soul, or God, is the only truth-giver to man.

God, good, being ever present, it follows in divine logic that evil, the suppositional opposite of good, is never present. In Science, individual good derived from God, the infinite All-in-all, may flow from the departed to mortals; but evil is neither communicable nor scientific. A sinning, earthly mortal is not the reality of Life nor the medium through which truth passes to earth. The joy of intercourse becomes the jest of sin, when evil and suffering are communicable. Not personal intercommunion but divine law is the communicator of truth, health, and harmony to earth and humanity.

10۔ 73 :8۔14

یہ عقیدہ کہ ایک شخص، بطور روح، دوسرے شخص کو، بطور مادا، قابو میں کر سکتا ہے، انسان کی سائنس اور انفرادیت دونوں کو پریشان کر سکتا ہے، کیونکہ انسان شبیہ ہے۔خدا انسان پر اختیار رکھتا ہے اور خدا واحد روح ہے۔ نام نہاد روح کا کوئی اور اختیار یا کشش ایک فانی عقیدہ ہے، جسے اْس کے پھل کے وسیلہ، بدی کے تکرار سے پہچاننا چاہئے۔

10. 73 : 8-14

The belief that one man, as spirit, can control another man, as matter, upsets both the individuality and the Science of man, for man is image. God controls man, and God is the only Spirit. Any other control or attraction of so-called spirit is a mortal belief, which ought to be known by its fruit, — the repetition of evil.

11۔ 74 :29۔32

کرسچن سائنس میں پیچھے ہٹنے والا کوئی قدم نہیں ہے، آگے نکلنے والی حالت سے کوئی واپسی نہیں ہے۔ نام نہاد مردہ یا زندہ ایک دوسرے کے ساتھ شراکت نہیں رکھ سکتے، کیونکہ وہ وجودیت یا شعور کی لگ الگ حالت میں ہوتے ہیں۔

11. 74 : 29-32

In Christian Science there is never a retrograde step, never a return to positions outgrown. The so-called dead and living cannot commune together, for they are in separate states of existence, or consciousness.

12۔ 82 :31۔9

طاقت کی عظیم تر ترقی کی جانب تیزی سے بڑھتے ہوئے گناہ اور عیاشی کی دنیا میں اس بات پرتوجہ سے غور کرنا عقلمندی ہے کہ آیامتاثر کرنے والی عقل انسانی ہے یا الٰہی۔ جو کام یہواہ کے انبیاء نے کیا وہ بعل کے پرستار کرنے میں ناکام رہے، تاہم چالاکی اور فریب نظری نے یہ دعویٰ کیا کہ وہ حکمت کے کاموں کے مساوی کر سکتے تھے۔

سائنس محض ناقابل یقین اچھائی اور بدی کے عناصر کو واضح کر سکتی ہے جو سامنے آرہے ہیں۔ ان بعد کے ایام سے بچنے کے لئے انسانوں کو سچائی میں پناہ لینی چاہئے۔

12. 82 : 31-9

In a world of sin and sensuality hastening to a greater development of power, it is wise earnestly to consider whether it is the human mind or the divine Mind which is influencing one. What the prophets of Jehovah did, the worshippers of Baal failed to do; yet artifice and delusion claimed that they could equal the work of wisdom.

Science only can explain the incredible good and evil elements now coming to the surface. Mortals must find refuge in Truth in order to escape the error of these latter days.

13۔ 96 :12۔15، 21۔23

اب یہ مادی دنیا بھی متصادم قوتوں کا اکھاڑا بن رہی ہے۔ایک طرف تو یہاں مخالفت اور مایوسی ہوگی؛ جبکہ دوسری طرف یہاں سائنس اور امن ہوگا۔

بشری غلطی ایک اخلاقی کیمیائی عمل میں غائب ہوجائے گی۔ یہ ذہنی ابال شروع ہو چکا ہے،اور یہ تب تک جاری رہے گا جب تک ایمان کی تمام تر غلطیاں فہم کو تسلیم نہ کرلیں۔

13. 96 : 12-15, 21-23

This material world is even now becoming the arena for conflicting forces. On one side there will be discord and dismay; on the other side there will be Science and peace.

Mortal error will vanish in a moral chemicalization. This mental fermentation has begun, and will continue until all errors of belief yield to understanding.

14۔ 97 :5۔25

حقیقت میں، جتنی زیادہ قربت کے ساتھ غلطی سچائی کی نقل کرتی ہے اور نام نہاد مادا اس کے جوہر، فانی عقل، سے مشابہت رکھتا ہے اتنی ہی کمزور غلطی ایک عقیدے کے طور پر سامنے آتی ہے۔انسانی عقیدے کے مطابق، روشنی شدید اور برقی کرنٹ کی تیزی ہے، تاہم کرسچن سائنس میں ایک کی اڑان اور دوسرے کی نمود بے ضرر بنے گی۔جتنا زیادہ مادا تباہ کن بنتا ہے، اتنا ہی اِس کا عدم ظاہر ہوگا، جب تک کہ مادا فریب نظری میں اِس کے فانی زوال تک نہیں پہنچتا اور ہمیشہ کے لئے غائب نہیں ہو جاتا۔اْس حدود کے بغیر جہاں، الٰہی محبت کے وسیلہ تباہ ہوتے ہوئے، ایک جھوٹا عقیدہ ایک فریب نظری ہونا ترک کرتے ہوئے، جتنا سچائی کے قریب تر ہوتا جاتا ہے، اتنا ہی یہ تباہی کے لئے پکتا جاتا ہے۔جتنا زیادہ عقیدہ مادی ہوگا، اتنا ہی واضح اِس کی غلطی ہوگی، جب تک کہ الٰہی روح، اپنی سلطنت میں اعلیٰ ترین، سارے مادے پر غالب نہیں آتی، اور انسان روح کی شبیہ، اپنی اصل ہستی، میں نہیں پایا جاتا۔

وسیع تر حقائق خود کے خلاف بڑی غلطیاں ترتیب دیتے ہیں، کیونکہ وہ خفیہ طور پر غلطی کو لاتے ہیں۔سچ بولنے کے لئے ہمت کی ضرورت ہوتی ہے؛ کیونکہ سچائی جتنی زیادہ اپنی آواز بلند کرتی ہے، غلطی کی چیخ اْتنی ہی اونچی ہوگی، جب تک کہ فراموشی میں اِس کی غیر واضح آواز کو ہمیشہ کے لئے خاموش نہ کر دیا جائے۔

14. 97 : 5-25

In reality, the more closely error simulates truth and so-called matter resembles its essence, mortal mind, the more impotent error becomes as a belief. According to human belief, the lightning is fierce and the electric current swift, yet in Christian Science the flight of one and the blow of the other will become harmless. The more destructive matter becomes, the more its nothingness will appear, until matter reaches its mortal zenith in illusion and forever disappears. The nearer a false belief approaches truth without passing the boundary where, having been destroyed by divine Love, it ceases to be even an illusion, the riper it becomes for destruction. The more material the belief, the more obvious its error, until divine Spirit, supreme in its domain, dominates all matter, and man is found in the likeness of Spirit, his original being.

The broadest facts array the most falsities against themselves, for they bring error from under cover. It requires courage to utter truth; for the higher Truth lifts her voice, the louder will error scream, until its inarticulate sound is forever silenced in oblivion.


روز مرہ کے فرائ

منجاب میری بیکر ایڈ

روز مرہ کی دعا

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ ہر روز یہ دعا کرے: ’’تیری بادشاہی آئے؛‘‘ الٰہی حق، زندگی اور محبت کی سلطنت مجھ میں قائم ہو، اور سب گناہ مجھ سے خارج ہو جائیں؛ اور تیرا کلام سب انسانوں کی محبت کو وافر کرے، اور اْن پر حکومت کرے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 4۔

مقاصد اور اعمال کا ایک اصول

نہ کوئی مخالفت نہ ہی کوئی محض ذاتی وابستگی مادری چرچ کے کسی رکن کے مقاصد یا اعمال پر اثر انداز نہیں ہونی چاہئے۔ سائنس میں، صرف الٰہی محبت حکومت کرتی ہے، اور ایک مسیحی سائنسدان گناہ کو رد کرنے سے، حقیقی بھائی چارے ، خیرات پسندی اور معافی سے محبت کی شیریں آسائشوں کی عکاسی کرتا ہے۔ اس چرچ کے تمام اراکین کو سب گناہوں سے، غلط قسم کی پیشن گوئیوں،منصفیوں، مذمتوں، اصلاحوں، غلط تاثر ات کو لینے اور غلط متاثر ہونے سے آزاد رہنے کے لئے روزانہ خیال رکھنا چاہئے اور دعا کرنی چاہئے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 1۔

فرض کے لئے چوکس

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ وہ ہر روز جارحانہ ذہنی آراء کے خلاف خود کو تیار رکھے، اور خدا اور اپنے قائد اور انسانوں کے لئے اپنے فرائض کو نہ کبھی بھولے اور نہ کبھی نظر انداز کرے۔ اس کے کاموں کے باعث اس کا انصاف ہوگا، وہ بے قصور یا قصوارہوگا۔ 

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 6۔


████████████████████████████████████████████████████████████████████████