اتوار 4 اپریل،2021



مضمون۔ غیر واقعیت

SubjectUnreality

سنہری متن: کاشفہ 19 باب6 آیت

”پھر مَیں نے بڑی جماعت کی سی آواز اور زور کے پانی کی سی آواز اور سخت گرجوں کی سی آواز سنی کہ ہیلیلویاہ! اِس لئے کہ خداوند ہمارا خدا قادرِ مطلق بادشاہی کرتا ہے۔“



Golden Text:

Revelation 19 : 6

And I heard as it were the voice of a great multitude, and as the voice of many waters, and as the voice of mighty thunderings, saying, Alleluia: for the Lord God omnipotent reigneth.





سبق کی آڈیو کے لئے یہاں کلک کریں

یوٹیوب سے سننے کے لئے یہاں کلک کریں

████████████████████████████████████████████████████████████████████████


جوابی مطالعہ: مکاشفہ 19باب11تا16 آیات


11۔ پھر میں نے آسمان کو کھْلا ہوا دیکھا اور کیا دیکھتا ہوں کہ ایک سفید گھوڑا ہے اور اْس پر ایک سوار ہے جو سچا اور برحق کہلاتا ہے اور وہ راستی کے ساتھ انصاف اور لڑائی کرتا ہے۔

12۔ اور اْس کی آنکھیں آگ کے شعلے ہیں اور اْس کے سر پر بہت سے تاج ہیں اور اْس کا ایک نام لکھا ہوا ہے جسے اْس کے سوا اور کوئی نہیں جانتا۔

13۔ اور وہ خون کی چھِڑکی ہوئی پوشاک پہنے ہوئے ہے اور اْس کا نام کلامِ خدا کہلاتا ہے۔

14۔ اور آسمان کی فوجیں سفید گھوڑوں پر سوا راور سفید صاف مہین کتانی کپڑے پہنے ہوئے اْس کے پیچھے پیچھے ہیں۔

15۔اور قوموں کے مارنے کے لئے اْس کے منہ سے ایک تیز تلوار نکلتی ہے اور وہ لوہے کے عصا سے اْس پر حکومت کرے گا اور قادر مطلق خدا کی سخت غضب کی مے کے حوض میں انگور روندے گا۔

16۔اور اْس کی پوشاک اور ان پر یہ نام لکھا ہوا ہے کہ بادشاہوں کا بادشاہ اور خداوندوں کا خداوند۔

Responsive Reading:

Revelation 19 : 11-16

11.     And I saw heaven opened, and behold a white horse; and he that sat upon him was called Faithful and True, and in righteousness he doth judge and make war.

12.     His eyes were as a flame of fire, and on his head were many crowns; and he had a name written, that no man knew, but he himself.

13.     And he was clothed with a vesture dipped in blood: and his name is called The Word of God.

14.     And the armies which were in heaven followed him upon white horses, clothed in fine linen, white and clean.

15.     And out of his mouth goeth a sharp sword, that with it he should smite the nations: and he shall rule them with a rod of iron: and he treadeth the winepress of the fierceness and wrath of Almighty God.

16.     And he hath on his vesture and on his thigh a name written, KING OF KINGS, AND LORD OF LORDS.



درسی وعظ



بائبل


درسی وعظ

بائبل

1۔ یسعیاہ 40 باب1تا5 آیات

1۔ تسلی دو تم میرے لوگوں کو تسلی دو۔ تمہارا خدا فرماتا ہے۔

2۔ یروشلیم کو دلاسا دو اور اْسے پکار کر کہو کہ اْس کی مصیبت کے دن جو جنگ و جدل کے تھے گذر گئے۔ اْس کے گناہوں کا کفارہ ہوا اور اْس نے خداوند کے ہاتھ سے اپنے سب گناہوں کا بدلہ دو چند پایا۔

3۔ پکارنے والے کی آواز! بیابان میں خداوند کی راہ درست کرو۔ صحرا میں ہمارے خداوند کی شاہراہ ہموار کرو۔

4۔ ہر ایک نشیب اونچا کیا جائے گا اور ہر ایک ٹیڑھی چیز سیدھی اور ہر ایک نا ہموار جگہ ہموار کی جائے گی۔

5۔ اور خداوند کا جلال آشکارا ہوگا اور تمام بشر اْس کو دیکھیں گے کیونکہ خداوند نے اپنے منہ سے فرمایا ہے۔

1. Isaiah 40 : 1-5

1     Comfort ye, comfort ye my people, saith your God.

2     Speak ye comfortably to Jerusalem, and cry unto her, that her warfare is accomplished, that her iniquity is pardoned: for she hath received of the Lord’s hand double for all her sins.

3     The voice of him that crieth in the wilderness, Prepare ye the way of the Lord, make straight in the desert a highway for our God.

4     Every valley shall be exalted, and every mountain and hill shall be made low: and the crooked shall be made straight, and the rough places plain:

5     And the glory of the Lord shall be revealed, and all flesh shall see it together: for the mouth of the Lord hath spoken it.

2۔ لوقا 4 باب14تا21 آیات

14۔ پھر یسوع روح کی قوت سے بھرا ہوا گلیل کو لوٹا اور سارے گردو نواح میں اْس کی شہرت پھیل گئی۔

15۔ اور وہ اْن کے عبادتخانوں میں تعلیم دیتا رہا اور سب اْس کی بڑائی کرتے رہے۔

16۔ اور وہ ناصرت میں آیا جہاں اْس نے پرورش پائی تھی اور اپنے دستور کے موافق سبت کے دن عبادتخانہ میں گیا اور پڑھنے کو کھڑا ہوا۔

17۔ اور یسعیاہ نبی کی کتاب اْس کو دی گئی اور کتاب کھول کر اْس نے وہ مقام نکالا جہاں یہ لکھا تھا کہ۔

18۔ خداوند کا روح مجھ پر ہے۔ اِس لئے کہ اْس نے مجھے غریبوں کو خوشخبری دینے کے لئے مسح کیا۔ اْس نے مجھے بھیجا ہے کہ قیدیوں کو رہائی اور اندھوں کو بینائی پانے کی خبر سناؤں۔ کچلے ہوؤں کو آزاد کروں۔

19۔ اور خداوند کے سالِ مقبول کی منادی کروں۔

20۔ پھر وہ کتاب بند کر کے اور خادم کوواپس دے کر بیٹھ گیا اور جتنے عبادتخانہ میں تھے سب کی آنکھیں اْس پر لگی تھیں۔

21۔ وہ اْن سے کہنے لگا کہ آج یہ نوشتہ تمہارے سامنے پورا ہوا۔

2. Luke 4 : 14-21

14     And Jesus returned in the power of the Spirit into Galilee: and there went out a fame of him through all the region round about.

15     And he taught in their synagogues, being glorified of all.

16     And he came to Nazareth, where he had been brought up: and, as his custom was, he went into the synagogue on the sabbath day, and stood up for to read.

17     And there was delivered unto him the book of the prophet Esaias. And when he had opened the book, he found the place where it was written,

18     The Spirit of the Lord is upon me, because he hath anointed me to preach the gospel to the poor; he hath sent me to heal the brokenhearted, to preach deliverance to the captives, and recovering of sight to the blind, to set at liberty them that are bruised,

19     To preach the acceptable year of the Lord.

20     And he closed the book, and he gave it again to the minister, and sat down. And the eyes of all them that were in the synagogue were fastened on him.

21     And he began to say unto them, This day is this scripture fulfilled in your ears.

3۔ لوقا 8 باب41، 42 (تا پہلا)، 49 تا55 آیات

41۔ اور دیکھو یائیر نام ایک شخص جو عبادتخانہ کا سردار تھا آیا اور یسوع کے قدموں پرگر کر اْس سے منت کی کہ میر ے گھر چل۔

42۔ کیونکہ اْس کی اکلوتی بیٹی قریباً بارہ برس کی تھی مرنے کو تھی۔

49۔ وہ یہ کہہ ہی رہا تھا کہ عبادتخانہ کے سردار کے ہاں سے کسی نے آکر کہا تیری بیٹی مرگئی۔استاد کو تکلیف نہ دے۔

50۔ یسوع نے سن کر اْسے جواب دیا خوف نہ کر فقط اعتقاد رکھ۔ وہ بچ جائے گی۔

51۔ اور گھر میں پہنچ کر پطرس اور یوحنا اور یعقوب اور لڑکی کے ماں باپ کے سوا کسی کو اپنے ساتھ اندر نہ جانے دیا۔

52۔ اور سب اْس کے لئے رو پیٹ رہے تھے مگر اْس نے کہا ماتم نہ کرو۔ وہ مر نہیں گئی بلکہ سوتی ہے۔

53۔ وہ اْس پر ہنسنے لگے کیونکہ جانتے تھے کہ وہ مر گئی ہے۔

54۔ مگر اْس نے اْس کا ہاتھ پکڑا اور پکار کر کہا اے لڑکی اْٹھ۔

55۔ اْس کی روح پھر آئی اور وہ اْسی دم اْٹھی۔ پھر یسوع نے حکم دیا کہ لڑکی کو کچھ کھانے کو دو۔

3. Luke 8 : 41, 42 (to 1st .), 49-55

41     And, behold, there came a man named Jairus, and he was a ruler of the synagogue: and he fell down at Jesus’ feet, and besought him that he would come into his house:

42     For he had one only daughter, about twelve years of age, and she lay a dying.

49     While he yet spake, there cometh one from the ruler of the synagogue’s house, saying to him, Thy daughter is dead; trouble not the Master.

50     But when Jesus heard it, he answered him, saying, Fear not: believe only, and she shall be made whole.

51     And when he came into the house, he suffered no man to go in, save Peter, and James, and John, and the father and the mother of the maiden.

52     And all wept, and bewailed her: but he said, Weep not; she is not dead, but sleepeth.

53     And they laughed him to scorn, knowing that she was dead.

54     And he put them all out, and took her by the hand, and called, saying, Maid, arise.

55     And her spirit came again, and she arose straightway: and he commanded to give her meat.

4۔ لوقا 22 باب1، 2 آیات

1۔ اور عیدِ فطیر جسے عیدِ فسح کہتے ہیں نزدیک تھی۔

2۔ اور سردار کاہن اور فقیہ موقع ڈھونڈ رہے تھے کہ اْسے کس طرح مار ڈالیں کیونکہ لوگوں سے ڈرتے تھے۔

4. Luke 22 : 1, 2

22     Now the feast of unleavened bread drew nigh, which is called the Passover.

2     And the chief priests and scribes sought how they might kill him; for they feared the people.

5۔ لوقا 23 باب1تا4، 20،21،24، 33،34، 45تا47 آیات

1۔ پھر اْن کی ساری جماعت اْٹھ کر اْسے پلاطوس کے پاس لے گئی۔

2۔ اور اْنہوں نے اْس پر الزام لگانا شروع کیا کہ اِسے ہم نے اپنی قوم کو بہکاتے اور قیصر کو خراج دینے سے منع کرتے اور اپنے آپ کو مسیح بادشاہ کہتے پایا۔

3۔ پلاطوس نے اْس سے کہا کیا تْو یہودیوں کا بادشاہ ہے؟ اْس نے اْس کے جواب میں کہا تْو خود کہتا ہے۔

4۔ پلاطوس نے سردار کاہنوں اور عام لوگوں سے کہا مَیں اِس شخص میں کچھ قصور نہیں پاتا۔

20۔ مگر پلاطوس نے یسوع کو چھوڑنے کے ارادہ سے پھر اْن سے کہا۔

21۔ لیکن وہ چلا کر کہنے لگے اِس کو صلیب دے صلیب!

24۔ پس پلاطوس نے حکم دیا کہ اْن کی درخواست کے موافق ہو۔

33۔ جب وہ اْس جگہ پہنچے جسے کھوپڑی کہتے ہیں تو وہاں اْسے مصلوب کیا اور بدکاروں کو بھی ایک کو دہنی اور دوسرے کو بائیں طرف۔

34۔ یسوع نے کہا اے باپ! اِن کو معاف کر کیونکہ یہ نہیں جانتے کہ کیا کرتے ہیں۔ اور اْنہوں نے اْس کے کپڑوں کے حصے کئے اور اْن پر قرعہ ڈالا۔

45۔ اور سورج کی روشنی جاتی رہی اور مقدِس کا پردہ بیچ سے پھٹ گیا۔

46۔ پھر یسوع نے بڑی آواز سے پکار کر کہا اے باپ! مَیں اپنی روح تیرے ہاتھوں میں سونپتا ہوں اور یہ کہہ کر دم دے دیا۔

47۔ یہ ماجرہ دیکھ کر صوبیدار نے خدا کی تمجید کی اور کہا بیشک یہ آدمی راستباز تھا۔

5. Luke 23 : 1-4, 20, 21, 24, 33, 34, 45-47

1     And the whole multitude of them arose, and led him unto Pilate.

2     And they began to accuse him, saying, We found this fellow perverting the nation, and forbidding to give tribute to Cæsar, saying that he himself is Christ a King.

3     And Pilate asked him, saying, Art thou the King of the Jews? And he answered him and said, Thou sayest it.

4     Then said Pilate to the chief priests and to the people, I find no fault in this man.

20     Pilate therefore, willing to release Jesus, spake again to them.

21     But they cried, saying, Crucify him, crucify him.

24     And Pilate gave sentence that it should be as they required.

33     And when they were come to the place, which is called Calvary, there they crucified him, and the malefactors, one on the right hand, and the other on the left.

34     Then said Jesus, Father, forgive them; for they know not what they do. And they parted his raiment, and cast lots.

45     And the sun was darkened, and the veil of the temple was rent in the midst.

46     And when Jesus had cried with a loud voice, he said, Father, into thy hands I commend my spirit: and having said thus, he gave up the ghost.

47     Now when the centurion saw what was done, he glorified God, saying, Certainly this was a righteous man.

6۔ مرقس 16 باب9تا15، 17تا20 آیات

9۔ ہفتہ کے پہلے روز جب وہ جی اٹھا تو پہلے مگدلینی کو جس میں سے اْس نے سات بدروحیں نکالی تھیں دکھائی دیا۔

10۔ اْس نے جا کر اْس کے ساتھیوں کو جو ماتم کرتے اور روتے تھے خبر دی۔

11۔ اور انہوں نے یہ سن کر کہ وہ جیتا ہے اور اْس نے اْسے دیکھا ہے یقین نہ کیا۔

12۔ اِس کے بعد وہ دوسری صورت میں اْن میں سے دو کو جب وہ دیہات کی طرف پیدل جا رہے تھے دکھائی دیا۔

13۔ انہوں نے بھی جا کر باقی لوگوں کو خبر دی مگر اْنہوں نے اْن کا بھی یقین نہ کیا۔

14۔ پھر وہ اْن گیارہ کو بھی جب کھانا کھانے بیٹھے تھے دکھائی دیا اور اْس نے اْن کی بے اعتقادی اور سخت دلی پر اْن کو ملامت کی کیونکہ جنہوں نے اْس کے جی اٹھنے کے بعد اْسے دیکھا تھا اْنہوں نے اْن کا یقین نہ کیا تھا۔

15۔ اور اْس نے اْن سے کہا کہ تم تمام دنیا میں جا کر ساری خلق کے سامنے انجیل کی منادی کرو۔

17۔ اور ایمان لانے والوں کے درمیان یہ معجزے ہوں گے۔ وہ میرے نام سے بدروحوں کو نکالیں گے۔ نئی نئی زبانیں بولیں گے۔

18۔ سانپوں کو اٹھا لیں گے اور اگر کوئی ہلاک کرنے والی چیز پئیں گے تو اْنہیں کچھ ضرر نہ پہنچے گا۔ وہ بیماروں پر ہاتھ رکھیں گے تو وہ اچھے ہو جائیں گے۔

19۔ غرض خداوند یسوع اْن سے کلام کرنے کے بعد آسمان پر اٹھایا گیا اور خدا کی دہنی طرف بیٹھ گیا۔

20۔ پھر اْنہوں نے نکل کر ہر جگہ منادی کی اور خداوند اْن کے ساتھ کام کرتا رہا اور کلام کو اْن معجزوں کے وسیلہ سے جو ساتھ ساتھ ہوتے تھے ثابت کرتا رہا۔ آمین۔

6. Mark 16 : 9-15, 17-20

9     Now when Jesus was risen early the first day of the week, he appeared first to Mary Magdalene, out of whom he had cast seven devils.

10     And she went and told them that had been with him, as they mourned and wept.

11     And they, when they had heard that he was alive, and had been seen of her, believed not.

12     After that he appeared in another form unto two of them, as they walked, and went into the country.

13     And they went and told it unto the residue: neither believed they them.

14     Afterward he appeared unto the eleven as they sat at meat, and upbraided them with their unbelief and hardness of heart, because they believed not them which had seen him after he was risen.

15     And he said unto them, Go ye into all the world, and preach the gospel to every creature.

17     And these signs shall follow them that believe; In my name shall they cast out devils; they shall speak with new tongues;

18     They shall take up serpents; and if they drink any deadly thing, it shall not hurt them; they shall lay hands on the sick, and they shall recover.

19     So then after the Lord had spoken unto them, he was received up into heaven, and sat on the right hand of God.

20     And they went forth, and preached every where, the Lord working with them, and confirming the word with signs following. Amen.



سائنس اور صح


1۔ 76 :18۔21

دْکھوں کے، گناہ کرنے کے، مرنے کے عقائد غیر حقیقی ہیں۔جب الٰہی سائنس کو عالمگیر طور پر سمجھا جاتا ہے تو اْن کا انسان پر کوئی اختیار نہیں ہوتا، کیونکہ انسان لافانی ہے اور الٰہی اختیار کے وسیلہ جیتا ہے۔

1. 76 : 18-21

Suffering, sinning, dying beliefs are unreal. When divine Science is universally understood, they will have no power over man, for man is immortal and lives by divine authority.

2۔ 487 :27۔29

زندگی کی لازوال حقیقت، اس کی قدرت اور لافانیت پر ہمارے بھروسے کو مضبوط کرتے ہوئے یہ فہم کہ خدا، روح، زندگی ہے ہمارے ایام کو دراز کرتا ہے۔

2. 487 : 27-29

The understanding that Life is God, Spirit, lengthens our days by strengthening our trust in the deathless reality of Life, its almightiness and immortality.

3۔ 428 :3۔6، 30۔10

زندگی حقیقی ہے، اور موت بھرم ہے۔ یسوع کی راہ میں روح کے حقائق کا ایک اظہار مادی فہم کے تاریک ادراک میں ہم آہنگی اور لافانیت کو حل کرتا ہے۔

مصنف نے نا اْمید عضوی بیماری کو شفا بخشی، اور صرف خدا کو ہی زندگی تصو کرنے کے باعث مرنے والے کو زندہ کیا۔ یہ یقین رکھنا گناہ ہے کہ کوئی چیز قادر مطلق اور ابدی زندگی کو زیر کرسکتی ہے،اور یہ سمجھتے ہوئے کہ موت نہیں ہے اور اس کے ساتھ ساتھ روح کے دیگر فضائل کو سمجھنا زندگی میں روشنی لا سکتا ہے۔ تاہم ہمیں مزید اختیار کے سادہ اظہار کے ساتھ آغاز کرنا چاہئے، اور جتنا جلدی ہم یہ شروع کریں اْتنا ہی اچھا ہے۔ آخری اظہار اس کے مکمل ہونے میں تھوڑا وقت لیتا ہے۔ چلتے وقت ہمیں آنکھ سے ہدایت ملتی ہے۔ ہم اپنے پاؤں کے سامنے دیکھتے ہیں، اور اگر ہم عقلمند ہوں تو ہم روحانی ترقی کی راہ میں ایک قدم آگے دیکھتے ہیں۔

3. 428 : 3-6, 30-10

Life is real, and death is the illusion. A demonstration of the facts of Soul in Jesus' way resolves the dark visions of material sense into harmony and immortality.

The author has healed hopeless organic disease, and raised the dying to life and health through the understanding of God as the only Life. It is a sin to believe that aught can overpower omnipotent and eternal Life, and this Life must be brought to light by the understanding that there is no death, as well as by other graces of Spirit. We must begin, however, with the more simple demonstrations of control, and the sooner we begin the better. The final demonstration takes time for its accomplishment. When walking, we are guided by the eye. We look before our feet, and if we are wise, we look beyond a single step in the line of spiritual advancement.

4۔ 429 :31۔12

یسوع نے کہا (یوحنا 8 باب51 آیت)، ”اگر کوئی شخص میرے کلام پر عمل کرے گا تو ابدتک کبھی موت کو نہ دیکھے گا۔“ یہ بیان روحانی زندگی تک محدود نہیں، بلکہ اس میں وجودیت کا کرشمہ بھی شامل ہے۔ یسوع نے اس کا اظہار مرنے والے کو شفا دیتے اور مردہ کو زندہ کرتے ہوئے کیا۔ فانی عقل کو غلطی سے دور ہونا چاہئے، خود کو اس کے کاموں سے الگ رکھنا چاہئے تو لافانی جوان مردی، مثالی مسیح، غائب ہو جائے گا۔ مادے کی بجائے روح پر انحصار کرتے ہوئے ایمان کو اپنی حدود کو وسیع کرنا اور اپنی بنیاد کو مضبوط کرنا چاہئے۔ جب انسان موت پر اپنے یقین کو ترک کر دیتا ہے،وہ مزید تیزی سے خدا، زندگی اور محبت کی جانب بڑھے گا۔ بیماری اور موت پر یقین، یقیناً گناہ پر یقین کی مانند، زندگی اور صحت مندی کے سچے فہم کو بند کرنے کی جانب رجوع کرتا ہے۔انسان کب سائنس میں اِس حقیقت کے لئے بیدار ہوگا؟

4. 429 : 31-12

Jesus said (John viii. 51), "If a man keep my saying, he shall never see death." That statement is not confined to spiritual life, but includes all the phenomena of existence. Jesus demonstrated this, healing the dying and raising the dead. Mortal mind must part with error, must put off itself with its deeds, and immortal manhood, the Christ ideal, will appear. Faith should enlarge its borders and strengthen its base by resting upon Spirit instead of matter. When man gives up his belief in death, he will advance more rapidly towards God, Life, and Love. Belief in sickness and death, as certainly as belief in sin, tends to shut out the true sense of Life and health. When will mankind wake to this great fact in Science?

5۔ 289 :14۔20

یہ حقیقت کہ مسیح، یا سچائی نے موت پر فتح پائی یا ابھی بھی فتح پاتا ہے،”دہشت کے بادشاہ“ کو محض ایک فانی عقیدے یا غلطی کے علاوہ کچھ بھی ثابت نہیں کرتی، جسے سچائی زندگی کی روحانی شہادتوں کے ساتھ تباہ کرتی ہے؛ اور یہ ظاہر کرتا ہے کہ حواس کو جو موت دکھائی دیتی ہے فانی فریب نظری کے سوا کچھ نہیں، کیونکہ حقیقی انسان اور حقیقی کائنات کے لئے کوئی موت کا عمل نہیں۔

5. 289 : 14-20

The fact that the Christ, or Truth, overcame and still overcomes death proves the "king of terrors" to be but a mortal belief, or error, which Truth destroys with the spiritual evidences of Life; and this shows that what appears to the senses to be death is but a mortal illusion, for to the real man and the real universe there is no death-process.

6۔ 24 :27۔31

مصلوبیت کی افادیت اس عملی پیار اور اچھائی میں پنہاں ہے جو انسان کے لئے ظاہر ہوتی ہے۔ سچائی انسانوں کے درمیان رہتی رہی ہے؛ لیکن جب تک انہوں نے یہ نہ دیکھا کہ اس سچائی نے اْن کے مالک کو قبر پر فتح بخشی ہے، اْس کے اپنے شاگردوں نے اس بات کا یقین نہ کیا کہ ایسا ہونا بھی ممکن ہوسکتا تھا۔

6. 24 : 27-31

The efficacy of the crucifixion lay in the practical affection and goodness it demonstrated for mankind. The truth had been lived among men; but until they saw that it enabled their Master to triumph over the grave, his own disciples could not admit such an event to be possible.

7۔ 42 :5۔8، 15۔2

موت پر عالمگیر ایمان کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ یہ زندگی یا سچائی کو آشکارنہیں کر سکتا۔ موت بالاآخر ایک فانی خواب ہی پائی جائے گی، جو تاریکی میں آتی اور نور سے غائب ہو جاتی ہے۔

خدا کی طاقت کے عظیم مظہر کا جی اٹھنا مادے اور جسم پر اْس کی آخری فتح کا ثبوت تھا اور اِس نے الٰہی سائنس کی مکمل گواہی دی، وہ گواہی جو انسانوں کے لئے بہت اہم ہے۔ یہ عقیدہ کہ انسان خدا سے الگ وجود یا عقل رکھتا ہے فنا ہونے والی ایک غلطی ہے۔ اِس کا سامنا یسوع نے الٰہی سائنس کے ساتھ کیا اور اس کے عدم کو ثابت کیا۔ْس حیرت انگیز جلال کی بدولت جو خدا نے اپنے مسح پر نچھاور کیا، آزمائش، گناہ، بیماری اور موت کا یسوع کو کوئی خوف نہیں تھا۔ آدمیوں کو سمجھنے دیں کہ انہوں نے بدن کو قتل کر دیا ہے! بعد ازیں وہ انہیں جوں کا توں دکھائے گا۔ یہ ظاہرکرتا ہے کہ کرسچن سائنس میں حقیقی انسان پر خدا یعنی اچھائی حکومت کرتی ہے نہ کہ بدی، اور اسی لئے وہ فانی نہیں بلکہ لافانی ہے۔ یسوع نے اپنے شاگردوں کو اس ثبوت کی سائنس سکھائی تھی۔ وہ انہیں ابھی تک اس نہ سمجھے جانے والے قول کو آزمانے کے قابل بنا رہا تھا کہ، ”جو مجھ پر ایمان رکھتا ہے یہ کام جو مَیں کرتا ہوں وہ بھی کرے گا۔“ اْس کے غلطی کو دور کرنے، بیمار کو شفا دینے اور مردے کو زندہ کرنے کے عمل سے انہیں اْس کی زندگی کے اصول کو مکمل طور پر مزید سمجھنا چاہئے، جیسا کہ انہوں نے اْس کی جسمانی روانگی کے بعد سمجھا تھا۔

7. 42 : 5-8, 15-2

The universal belief in death is of no advantage. It cannot make Life or Truth apparent. Death will be found at length to be a mortal dream, which comes in darkness and disappears with the light.

The resurrection of the great demonstrator of God's power was the proof of his final triumph over body and matter, and gave full evidence of divine Science, — evidence so important to mortals. The belief that man has existence or mind separate from God is a dying error. This error Jesus met with divine Science and proved its nothingness. Because of the wondrous glory which God bestowed on His anointed, temptation, sin, sickness, and death had no terror for Jesus. Let men think they had killed the body! Afterwards he would show it to them unchanged. This demonstrates that in Christian Science the true man is governed by God — by good, not evil — and is therefore not a mortal but an immortal. Jesus had taught his disciples the Science of this proof. He was here to enable them to test his still uncomprehended saying, "He that believeth on me, the works that I do shall he do also." They must understand more fully his Life-principle by casting out error, healing the sick, and raising the dead, even as they did understand it after his bodily departure.

8۔ 43 :32۔19

محبت کو نفرت پر ہمیشہ فتح مند ہونا چاہئے۔ اس سے قبل کہ کانٹوں کو تاج بنانے کے لئے چنا جائے اور روح کی برتری کو ظاہر کیا جائے، سچائی اور زندگی کو غلطی اور موت پر فتح کی مہر ثبت کرنی چاہئے، دعائے خیر کہتی ہے، ”ایک اچھے اور وفادار خادم، تو نے بہت اچھا کیا“۔

قبر کی سونی دیواروں نے یسوع کو اْس کے دْشمنوں سے پناہگاہ فراہم کی، یعنی ایسی جگہ مہیا کی جس میں رہتے ہوئے اْس نے ہستی کے سب سے بڑے مسئلہ کو حل کیا۔ قبر میں اْس کے تین دن کے کام نے وقت پر ابدیت کی مہر ثبت کی۔ اْس نے زندگی کو لازوال اور محبت کو نفرت کی اْستاد ثابت کیا۔ وہ آیا اور اْس نے کرسچن سائنس کی بنیاد پر مادے پر عقل کی طاقت، ادویات، سرجری اور حفظانِ صحت کے تمام تر دعووں میں مہارت حاصل کی۔

اْس نے سوجن دور کرنے کے لئے کسی دوائی کا استعما ل نہیں کیا۔ اْس نے ضائع شدہ توانائیوں کو بحال کرنے کے لئے خوراک یا صاف ہوا پر انحصار نہیں کیا۔ اْسے پھٹی ہوئی ہتھیلیوں کو شفا دینے، زخمی حصے کو ٹھیک کرنے اور پٹھے پیروں کو ٹھیک کرنے کے لئے کسی طبیب کی مہارت کی ضرورت نہیں پڑی، کہ وہ اْن ہاتھوں کوپٹیاں اور شیٹس اتارنے کے لئے استعمال کرتا اور پاؤں کو پہلے کی طرح استعمال کرتا۔

8. 43 : 32-19

Love must triumph over hate. Truth and Life must seal the victory over error and death, before the thorns can be laid aside for a crown, the benediction follow, "Well done, good and faithful servant," and the supremacy of Spirit be demonstrated.

The lonely precincts of the tomb gave Jesus a refuge from his foes, a place in which to solve the great problem of being. His three days' work in the sepulchre set the seal of eternity on time. He proved Life to be deathless and Love to be the master of hate. He met and mastered on the basis of Christian Science, the power of Mind over matter, all the claims of medicine, surgery, and hygiene.

He took no drugs to allay inflammation. He did not depend upon food or pure air to resuscitate wasted energies. He did not require the skill of a surgeon to heal the torn palms and bind up the wounded side and lacerated feet, that he might use those hands to remove the napkin and winding-sheet, and that he might employ his feet as before.

9۔ 44 :28۔5

اْس کے شاگرد اْسے مردہ سمجھ رہے تھے جب وہ قبر میں پوشیدہ تھا،جبکہ وہ زندہ تھا، روح کی طاقت کو فانی، مادی حس پر فتح پانے کے لئے بند قبر میں ظاہر کرر ہا تھا۔ اْس کی راہ میں پتھریلی دیواریں تھیں، اور غار کے منہ پر ایک بڑا پتھر لڑھکایا گیا تھا؛ لیکن یسوع ہر مادی رکاوٹ پر مغلوب ہوا، ہر مادی قانون پر فتح مند ہوا اور اپنی تاریک رہائش گاہ سے باہر نکلا، شاندار کامیابی اور ایک ابدی فتح یابی کے جلال سے تاجدار بنا۔

9. 44 : 28-5

His disciples believed Jesus to be dead while he was hidden in the sepulchre, whereas he was alive, demonstrating within the narrow tomb the power of Spirit to overrule mortal, material sense. There were rock-ribbed walls in the way, and a great stone must be rolled from the cave's mouth; but Jesus vanquished every material obstacle, overcame every law of matter, and stepped forth from his gloomy resting-place, crowned with the glory of a sublime success, an everlasting victory.

10۔ 45 :16۔21

خدا کی تمجید ہو اور جدوجہد کرنے والے دلوں کے لئے سلامتی ہو! مسیح نے انسانی امید اور ایمان کے درواز ے سے پتھر ہٹا دیا ہے، اور خدا میں زندگی کے اظہار اور مکاشفہ کی بدولت اْس نے انسان کے روحانی خیال اور اْس کے الٰہی اصول، یعنی محبت کے ساتھ ممکنہ کفارے سے انہیں بلند کیا۔

10. 45 : 16-21

Glory be to God, and peace to the struggling hearts! Christ hath rolled away the stone from the door of human hope and faith, and through the revelation and demonstration of life in God, hath elevated them to possible at-one-ment with the spiritual idea of man and his divine Principle, Love.

11۔ 31:17۔22 (تا)۔

اْس کے بیش قیمت احکامات کی فرمانبرداری کرتے ہوئے، جتنا ہم یہ سمجھ سکیں اتنا اْس کے اظہار کی پیروی کرتے ہوئے، ہم اْس کے پیالے میں سے پیتے ہیں، اْس کی روٹی میں شریک ہوتے ہیں،اور اْس کی پاکیزگی میں بپتسمہ پاتے ہیں، اور بالا آخر ہم جو موت پر فتح مند ہوتا ہے اْس الٰہی اصول کے مکمل فہم میں اْس کے ساتھ بیٹھیں گے، آرام کریں گے۔

11. 31 : 17-22 (to .)

Obeying his precious precepts, — following his demonstration so far as we apprehend it, — we drink of his cup, partake of his bread, are baptized with his purity; and at last we shall rest, sit down with him, in a full understanding of the divine Principle which triumphs over death.


روز مرہ کے فرائ

منجاب میری بیکر ایڈ

روز مرہ کی دعا

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ ہر روز یہ دعا کرے: ’’تیری بادشاہی آئے؛‘‘ الٰہی حق، زندگی اور محبت کی سلطنت مجھ میں قائم ہو، اور سب گناہ مجھ سے خارج ہو جائیں؛ اور تیرا کلام سب انسانوں کی محبت کو وافر کرے، اور اْن پر حکومت کرے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 4۔

مقاصد اور اعمال کا ایک اصول

نہ کوئی مخالفت نہ ہی کوئی محض ذاتی وابستگی مادری چرچ کے کسی رکن کے مقاصد یا اعمال پر اثر انداز نہیں ہونی چاہئے۔ سائنس میں، صرف الٰہی محبت حکومت کرتی ہے، اور ایک مسیحی سائنسدان گناہ کو رد کرنے سے، حقیقی بھائی چارے ، خیرات پسندی اور معافی سے محبت کی شیریں آسائشوں کی عکاسی کرتا ہے۔ اس چرچ کے تمام اراکین کو سب گناہوں سے، غلط قسم کی پیشن گوئیوں،منصفیوں، مذمتوں، اصلاحوں، غلط تاثر ات کو لینے اور غلط متاثر ہونے سے آزاد رہنے کے لئے روزانہ خیال رکھنا چاہئے اور دعا کرنی چاہئے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 1۔

فرض کے لئے چوکس

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ وہ ہر روز جارحانہ ذہنی آراء کے خلاف خود کو تیار رکھے، اور خدا اور اپنے قائد اور انسانوں کے لئے اپنے فرائض کو نہ کبھی بھولے اور نہ کبھی نظر انداز کرے۔ اس کے کاموں کے باعث اس کا انصاف ہوگا، وہ بے قصور یا قصوارہوگا۔ 

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 6۔


████████████████████████████████████████████████████████████████████████