اتوار 4 اکتوبر، 2020 |

اتوار 4 اکتوبر، 2020 



مضمون۔ غیر واقعیت

SubjectUnreality

سنہری متن: 1کرنتھیوں 3باب19 آیت

دنیا کی حکمت خدا کے نزدیک بے وقوفی ہے۔ چنانچہ لکھا ہے کہ وہ حکیموں کو اْن ہی کی چالاکی میں پھنسا دیتا ہے۔“



Golden Text: I Corinthians 3 : 19

The wisdom of this world is foolishness with God. For it is written, He taketh the wise in their own craftiness.





سبق کی آڈیو کے لئے یہاں کلک کریں

یوٹیوب سے سننے کے لئے یہاں کلک کریں

████████████████████████████████████████████████████████████████████████


جوابی مطالعہ: رومیوں 16 باب17تا19 آیات • افسیوں 4باب14، 15 آیات • رومیوں 16 باب20 آیت


17۔ اب اے بھائیو! مَیں تم سے التماس کرتا ہوں کہ جو لوگ اْس تعلیم کے برخلاف جو تم نے پائی ہے ٹھوکر کھانے کا باعث ہیں اْن کو تاڑ لیا کرو اور اْن سے کنارہ کیا کرو۔

18۔ کیونکہ ایسے لوگ ہمارے خداوند مسیح کی نہیں بلکہ اپنے پیٹ کی خدمت کرتے ہیں اورچکنی چْپڑی باتوں سے سادہ دلوں کو بہکاتے ہیں۔

19۔ کیونکہ تمہاری فرمانبرداری سب میں مشہور ہو گئی ہے اِس لئے مَیں تمہارے بارے میں خوش ہوں لیکن یہ چاہتا ہوں کہ تم نیکی کے اعتبار سے دانا بن جاؤ اوربدی کے اعتبار سے بھولے بنے رہو۔

14۔تاکہ ہم آگے کو بچے نہ رہیں اور آدمیوں کی بازیگری اور مکاری کے سبب سے اْن کے گمراہ کرنے والے منصوبوں کی طرف ہر ایک تعلیم کے جھوکے سے موجوں کی طرح اچھلتے بہتے نہ پھریں۔

15۔بلکہ محبت کے ساتھ سچائی پر قائم رہ کر اور اْس کے ساتھ جو سر ہے یعنی مسیح کے ساتھ پوستہ ہو کر ہر طرح سے بڑھتے جائیں۔

20۔ اور خدا جو اطمینان کا چشمہ ہے شیطان کو تمہارے پاؤں سے کچلوا دے گا۔

Responsive Reading: Romans 16 : 17-19; Ephesians 4 : 14, 15; Romans 16 : 20

17.     Now I beseech you, brethren, mark them which cause divisions and offences contrary to the doctrine which ye have learned; and avoid them.

18.     For they that are such serve not our Lord Jesus Christ, but their own belly; and by good words and fair speeches deceive the hearts of the simple.

19.     For your obedience is come abroad unto all men. I am glad therefore on your behalf: but yet I would have you wise unto that which is good, and simple concerning evil.

14.     That we henceforth be no more children, tossed to and fro, and carried about with every wind of doctrine, by the sleight of men, and cunning craftiness, whereby they lie in wait to deceive;

15.     But speaking the truth in love, may grow up into him in all things, which is the head, even Christ.

20.     And the God of peace shall bruise Satan under your feet shortly.



درسی وعظ



بائبل


درسی وعظ

بائبل

1۔ یعقوب 1باب16، 17، 21 آیات

16۔ اے میرے پیارے بھائیو! فریب نہ کھانا۔

17۔ ہر اچھی بخشش اور ہر کامل انعام اوپر سے ہے اور نوروں کے باپ کی طرف سے ملتا ہے جس میں نہ کوئی تبدیلی ہو سکتی ہے اور نہ گردش کے سبب سے اْس پر سایہ پڑتا ہے۔

21۔اِس لئے ساری نجاست اور بدی کے فْضلہ کو دور کر کے اْس کلام کو حلیمی سے قبول کر لو جو دل میں بویا گیا اور تمہاری روحوں کونجات دے سکتا ہے۔

1. James 1 : 16, 17, 21

16     Do not err, my beloved brethren.

17     Every good gift and every perfect gift is from above, and cometh down from the Father of lights, with whom is no variableness, neither shadow of turning.

21     Wherefore lay apart all filthiness and superfluity of naughtiness, and receive with meekness the engrafted word, which is able to save your souls.

2۔ 1 سلاطین 18 باب17تا19، 21تا26 (تا دوسرا)، 30، 33تا36، 38، 39 آیات

17۔ اور جب اخی اب نے ایلیاہ کو دیکھا تو اْس نے اْس سے کہا اے اسرائیل کے ستانے والے کیا تْو ہی ہے؟

18۔ اْس نے جواب دیا مَیں نے اسرائیل کو نہیں ستایا بلکہ تْو اور تیرے باپ کے گھرانے نے کیونکہ تم نے خداوند کے حکموں کو ترک کیا اور تْو بعلیم کا پیرو ہو گیا۔

19۔ اِس لئے اب تْو قاصد بھیج اور سارے اسرائیل کو اور بعل کے ساڑھے چار سو نبیوں کو اور یسیرت کے چار سو نبیوں کو جو ایزبل کے دستر خوان سے کھاتے ہیں کوہِ کرمل پر میرے پاس اکٹھا کر دے۔

21۔ اور ایلیاہ سب لوگوں کے نزدیک آکر کہنے لگا تم کب تک دو خیالوں میں ڈانواڈول رہوگے؟ اگر خداوند ہی خدا ہے تو اْس کے پیرو ہو جاؤ اور اگر بعل ہے تو اْس کی پیروی کرو۔ پر اْن لوگوں نے اْسے ایک حرف جواب نہ دیا۔

22۔ تب ایلیاہ نے اْن لوگوں سے کہا ایک مَیں ہی اکیلا خداوند کا نبی بچ رہا ہوں پر بعل کے نبی چار سو پچاس آدمی ہیں۔

23۔ سو ہم کو دو بیل دئیے جائیں اور وہ اپنے لئے ایک بیل چْن لیں اور اْسے ٹکڑے ٹکڑے کاٹ کر لکڑیوں پر دھریں اور نیچے آگ نہ دیں اور مَیں دوسرا بیل تیار کر کے اْسے لکڑیوں پر دھروں گا اور نیچے آگ نہیں دوں گا۔

24۔تب تم اپنے دیوتا سے دعا کرنا اور مَیں خداوند سے دعا کروں گا اور وہ خدا جو آگ سے جواب دے وہی خدا ٹھہرے اور سب لوگ بول اْٹھے خوب کہا!

25۔ سو ایلیا نے بعل کے نبیوں سے کہا تم اپنے لئے ایک بیل چن لو اور پہلے اْسے تیارکرو کیونکہ تم بہت سے ہو اور اپنے دیوتا سے دعا کرو لیکن نیچے آگ نہ دینا۔

26۔ سو انہوں نے اْس بیل کو لے کر جو اْن کو دیا گیا اْسے تیار کیا اور صبح سے دوپہر تک بعل سے دعا کرتے اور کہتے رہے اے بعل! ہماری سن، پر نہ کچھ آواز آئی اور نہ کوئی جواب دینے والا تھا۔

30۔ تب ایلیاہ نے سب لوگوں سے کہا میرے نزدیک آجاؤ چنانچہ سب لوگ اْس کے نزدیک آگئے۔ تب اْس نے خداوند کے اْس مذبح کو جو ڈھا دیا گیا تھا مرمت کیا۔

33۔ اور لکڑیوں کو قرینہ سے چْنا اور بیل کو ٹکڑے ٹکڑے کاٹ کر لکڑیوں پر دھر دیا اور کہا چار مٹکے پانی سے بھر کر اْس سوختنی قربانی پر اور لکڑیوں پر انڈیل دو۔

34۔ پھر اْس نے کہا دوبارہ کرو۔ پھر اْس نے کہا سہ بار کرو۔ سو اْنہوں نے سہ بار بھی کیا۔

35۔ اور پانی مذبح کے گردا گرد بہنے لگا اور اْس نے کھائی بھی پانی سے بھروا دی۔

36۔اور شام کو قربانی چڑھانے کے وقت ایلیاہ نبی نزدیک آیا اور اْس نے کہا اے خداوندابراہیم اور اضحاق اور اسرائیل کے خدا!آج معلوم ہو جائے کہ اسرائیل میں تْو ہی خدا ہے اور مَیں تیرا بندہ ہوں اور مَیں نے اِن سب باتوں کو تیرے ہی حکم سے کیا ہے۔

38۔ تب خداوند کی آگ نازل ہوئی اوراْس نے اْس سوختنی قربانی کو لکڑیوں اور پتھروں اور مٹی سمیت بھسم کر دیا اور اْس پانی کو جوکھائی میں تھا چاٹ لیا۔

39۔ جب سب لوگوں نے یہ دیکھا تو منہ کے بل گرے اور کہنے لگے خداوند ہی خدا ہے! خداوند ہی خدا ہے!

2. I Kings 18 : 17-19, 21-26 (to 2nd .), 30, 33-36, 38, 39

17     And it came to pass, when Ahab saw Elijah, that Ahab said unto him, Art thou he that troubleth Israel?

18     And he answered, I have not troubled Israel; but thou, and thy father’s house, in that ye have forsaken the commandments of the Lord, and thou hast followed Baalim.

19     Now therefore send, and gather to me all Israel unto mount Carmel, and the prophets of Baal four hundred and fifty, and the prophets of the groves four hundred, which eat at Jezebel’s table.

21     And Elijah came unto all the people, and said, How long halt ye between two opinions? if the Lord be God, follow him: but if Baal, then follow him. And the people answered him not a word.

22     Then said Elijah unto the people, I, even I only, remain a prophet of the Lord; but Baal’s prophets are four hundred and fifty men.

23     Let them therefore give us two bullocks; and let them choose one bullock for themselves, and cut it in pieces, and lay it on wood, and put no fire under: and I will dress the other bullock, and lay it on wood, and put no fire under:

24     And call ye on the name of your gods, and I will call on the name of the Lord: and the God that answereth by fire, let him be God. And all the people answered and said, It is well spoken.

25     And Elijah said unto the prophets of Baal, Choose you one bullock for yourselves, and dress it first; for ye are many; and call on the name of your gods, but put no fire under.

26     And they took the bullock which was given them, and they dressed it, and called on the name of Baal from morning even until noon, saying, O Baal, hear us. But there was no voice, nor any that answered.

30     And Elijah said unto all the people, Come near unto me. And all the people came near unto him. And he repaired the altar of the Lord that was broken down.

33     And he put the wood in order, and cut the bullock in pieces, and laid him on the wood, and said, Fill four barrels with water, and pour it on the burnt sacrifice, and on the wood.

34     And he said, Do it the second time. And they did it the second time. And he said, Do it the third time. And they did it the third time.

35     And the water ran round about the altar; and he filled the trench also with water.

36     And it came to pass at the time of the offering of the evening sacrifice, that Elijah the prophet came near, and said, Lord God of Abraham, Isaac, and of Israel, let it be known this day that thou art God in Israel, and that I am thy servant, and that I have done all these things at thy word.

38     Then the fire of the Lord fell, and consumed the burnt sacrifice, and the wood, and the stones, and the dust, and licked up the water that was in the trench.

39     And when all the people saw it, they fell on their faces: and they said, The Lord, he is the God; the Lord, he is the God.

3۔ یرمیاہ 9 باب6 (سے) آیت

6۔۔۔۔خداوند فرماتا ہے فریب ہی سے وہ مجھ کو جاننے سے انکار کرتے ہیں۔

3. Jeremiah 9 : 6 (through)

6     …through deceit they refuse to know me, saith the Lord.

4۔ 2 تھسلینکیوں 2باب3، 4 آیات

3۔ کسی طرح سے کسی کے فریب میں نہ آنا کیونکہ وہ دن نہیں آئے گا جب تک کہ پہلے برگشتگی نہ ہو اور وہ گناہ کا شخص یعنی ہلاکت کا فرزند ظاہر نہ ہو۔

4۔ جو مخالفت کرتا ہے اور ہر ایک سے جو خدا یا معبود کہلاتا ہے اپنے آپ کو بڑا ٹھہراتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ خدا کے مقدِس میں بیٹھ کر اپنے آپ کو خدا ظاہر کرتا ہے۔

4. II Thessalonians 2 : 3, 4

3     Let no man deceive you by any means: for that day shall not come, except there come a falling away first, and that man of sin be revealed, the son of perdition;

4     Who opposeth and exalteth himself above all that is called God, or that is worshipped; so that he as God sitteth in the temple of God, shewing himself that he is God.

5۔ متی 24 باب1(یسوع)، 4 (یسوع) تا7، 10تا14 آیات

1۔ اور یسوع ہیکل سے نکل کر جا رہا تھا کہ اْس کے شاگرد اْس کے پاس آئے تاکہ اْسے ہیکل کی عمارتیں دکھائیں۔

4۔ یسوع نے جواب میں اْن سے کہا خبردار! کوئی تم کو گمراہ نہ کردے۔

5۔ کیونکہ بہتیرے میرے نام سے آئیں گے اور کہیں گے مَیں مسیح ہوں اور بہت سے لوگوں کو گمراہ کریں گے۔

6۔ اور تم لڑائیاں اور لڑائیوں کی افواہ سنو گے۔ خبردار! گھبرا نہ جانا! کیونکہ اِن باتوں کا واقع ہونا ضرور ہے لیکن اْس وقت خاتمہ نہ ہوگا۔

7۔ کیونکہ قوم پر قوم اور سلطنت پر سلطنت چڑھائی کرے گی اور جگہ جگہ کال پڑیں گے اور بھونچال آئیں گے۔

10۔ اور اْس وقت بہتیرے ٹھوکر کھائیں گے اور ایک دوسرے کو پکڑوائیں گے اور ایک دوسرے سے عداوت رکھیں گے۔

11۔ اور بہت سے جھوٹے نبی اْٹھ کھڑے ہوں گے اور بہتیروں کو گمراہ کریں گے۔

12۔ اور بے دینی کے بڑھ جانے سے بہتیروں کی محبت ٹھنڈی پڑ جائے گی۔

13۔ مگر جو آخر تک برداشت کرے گا وہ نجات پائے گا۔

14۔ اور بادشاہی کی اِس خوشخبری کی منادی تمام دنیا میں ہوگی تاکہ سب قوموں کے لئے گواہی ہو۔ تب خاتمہ ہوگا۔

5. Matthew 24 : 1 (Jesus), 4 (Jesus)-7, 10-14

1     Jesus went out, and departed from the temple: and his disciples came to him for to shew him the buildings of the temple.

4     Jesus answered and said unto them, Take heed that no man deceive you.

5     For many shall come in my name, saying, I am Christ; and shall deceive many.

6     And ye shall hear of wars and rumours of wars: see that ye be not troubled: for all these things must come to pass, but the end is not yet.

7     For nation shall rise against nation, and kingdom against kingdom: and there shall be famines, and pestilences, and earthquakes, in divers places.

10     And then shall many be offended, and shall betray one another, and shall hate one another.

11     And many false prophets shall rise, and shall deceive many.

12     And because iniquity shall abound, the love of many shall wax cold.

13     But he that shall endure unto the end, the same shall be saved.

14     And this gospel of the kingdom shall be preached in all the world for a witness unto all nations; and then shall the end come.



سائنس اور صح


1۔ 472 :24 (سب)۔26

خدا اور اْس کی تخلیق میں پائی جانے والی ساری حقیقت ہم آہنگ اور ابدی ہے۔ جو کچھ وہ بناتا ہے اچھا بناتا ہے، اور جو کچھ بنا ہے اْسی نے بنایاہے۔

1. 472 : 24 (All)-26

All reality is in God and His creation, harmonious and eternal. That which He creates is good, and He makes all that is made.

2۔ 275 :10۔24

ہستی کی حقیقت اور ترتیب کو اْس کی سائنس میں تھامنے کے لئے، وہ سب کچھ حقیقی ہے اْس کے الٰہی اصول کے طور پر آپ کو خدا کا تصور کرنے کی ابتدا کرنی چاہئے۔ روح، زندگی، سچائی، محبت یکسانیت میں جْڑ جاتے ہیں، اور یہ سب خدا کے روحانی نام ہیں۔سب مواد، ذہانت، حکمت، ہستی، لافانیت، وجہ اور اثر خْدا سے تعلق رکھتے ہیں۔یہ اْس کی خصوصیات ہیں، یعنی لامتناہی الٰہی اصول، محبت کے ابدی اظہار۔ کوئی حکمت عقلمند نہیں سوائے اْس کی؛ کوئی سچائی سچ نہیں، کوئی محبت پیاری نہیں، کوئی زندگی زندگی نہیں ماسوائے الٰہی کے، کوئی اچھائی نہیں ماسوائے اْس کے جو خدا بخشتا ہے۔

جیسا کہ روحانی سمجھ پر ظاہر ہوا ہے، الٰہی مابعدلاطبیعیات واضح طور پر دکھاتا ہے کہ سب کچھ عقل ہی ہے اور یہ عقل خدا، قادر مطلق، ہمہ جائی، علام الغیوب ہے یعنی کہ سبھی طاقت والا، ہر جگہ موجود اور سبھی سائنس پر قادر ہے۔ لہٰذہ حقیقت میں سبھی کچھ عقل کا اظہار ہے۔

2. 275 : 10-24

To grasp the reality and order of being in its Science, you must begin by reckoning God as the divine Principle of all that really is. Spirit, Life, Truth, Love, combine as one, — and are the Scriptural names for God. All substance, intelligence, wisdom, being, immortality, cause, and effect belong to God. These are His attributes, the eternal manifestations of the infinite divine Principle, Love. No wisdom is wise but His wisdom; no truth is true, no love is lovely, no life is Life but the divine; no good is, but the good God bestows.

Divine metaphysics, as revealed to spiritual understanding, shows clearly that all is Mind, and that Mind is God, omnipotence, omnipresence, omniscience, — that is, all power, all presence, all Science. Hence all is in reality the manifestation of Mind.

3۔ 273 :1۔9، 29۔9

مادہ اور اِس کے گناہ، بیماری اور موت کے دعوے خدا کے خلاف ہیں اور اْس سے جاری نہیں ہو سکتے۔ مادی سچائی کوئی نہیں ہوتی۔ جسمانی حواس خدا اور روحانی سچائی کی آگاہی نہیں حاصل کر سکتے۔ انسانی عقیدے نے بہت سی ایجادات دریافت کی ہیں، مگر اْن میں سے کوئی ایک بھی الٰہی اصول کے بغیر الٰہی سائنس کے ہونے کے مسئلے کو حل نہیں کرسکتی ہے۔ مادی قیاس کی تفرقات سائنسی نہیں ہیں۔وہ حقیقی سائنس سے مختلف ہوتے ہیں کیونکہ وہ الٰہی قانون پر بنیاد نہیں رکھتے۔

سائنس دکھاتی ہے کہ مادہ، فانی آراء اور عقائد کے ساتھ متصادم ہوتے ہوئے ہر دور میں غلطی کے اثرات کو خارج کرتا ہے،لیکن جب فوری اور مستقل بنیادوں پر اِس کی مخالفت کرسچن سائنس کی جانب سے ہوتی ہے تو فانی عقل کا ماحول اخلاق اور موت کے لئے تباہ کن نہیں ہو سکتا۔ اِس ذہنی غلاظت کے لئے سچائی اور محبت زہر مار ہیں، اور یوں یہ وجودیت کو تقویت دیتے اور برقرار رکھتے ہیں۔ حواسِ خمسہ سے حاصل شدہ غیر ضروری علم محض عارضی، فانی عقل کا نظریہ، فہم کا نتیجہ ہے نہ کہ روح، جان کا، اور یہ اْس سب کی علامت پیش کرتا ہے جو بد اور زوال پذیرہے۔فطری سائنس، جیسا کہ عموماً اِسے کہا جاتا ہے، حقیقتاً فطری نہیں اور نہ سائنسی ہے کیونکہ یہ مادی حواس کی گواہی سے جنم لیتی ہے۔

3. 273 : 1-9, 29-9

Matter and its claims of sin, sickness, and death are contrary to God, and cannot emanate from Him. There is no material truth. The physical senses can take no cognizance of God and spiritual Truth. Human belief has sought out many inventions, but not one of them can solve the problem of being without the divine Principle of divine Science. Deductions from material hypotheses are not scientific. They differ from real Science because they are not based on the divine law.

Science shows that material, conflicting mortal opinions and beliefs emit the effects of error at all times, but this atmosphere of mortal mind cannot be destructive to morals and health when it is opposed promptly and persistently by Christian Science. Truth and Love antidote this mental miasma, and thus invigorate and sustain existence. Unnecessary knowledge gained from the five senses is only temporal, — the conception of mortal mind, the offspring of sense, not of Soul, Spirit, — and symbolizes all that is evil and perishable. Natural science, as it is commonly called, is not really natural nor scientific, because it is deduced from the evidence of the material senses.

4۔ 146 :2 (دی)۔12

قدیم مسیحی معالج تھے۔مسیحت کا یہ عنصر کھو کیوں گیا ہے؟ کیونکہ ہمارا مذہبی نظام کم و بیش ہمارے طبی نظاموں کے زیر اطاعت ہوگیا ہے۔پہلی بت پرستی مادے پر یقین تھا۔ سکولوں نے خدائی پر ایمان کی بجائے، منشیات کے فیشن پر ایمان کو فروغ دیا ہے۔ مادے کے اپنے ہی مخالف کو تباہ کرنے کا یقین رکھتے ہوئے، صحت اور ہم آہنگی کو قربان کر دیا گیا ہے۔ اس قسم کے نظام روحانی قوت کی وحدت سے بنجر ہوتے ہیں، جس کے باعث مادی فہم سائنس کا غلام بنایا جاتا ہے اور مذہب مسیح کی مانند بن جاتا ہے۔

4. 146 : 2 (The)-12

The ancient Christians were healers. Why has this element of Christianity been lost? Because our systems of religion are governed more or less by our systems of medicine. The first idolatry was faith in matter. The schools have rendered faith in drugs the fashion, rather than faith in Deity. By trusting matter to destroy its own discord, health and harmony have been sacrificed. Such systems are barren of the vitality of spiritual power, by which material sense is made the servant of Science and religion becomes Christlike.

5۔ 186 :28۔12

فانی عقل خودی سے بے بہرہ ہوتی ہے، وگرنہ یہ خود فریب کبھی نہ ہوتی۔ اگر فانی عقل جانتی کہ بہتر کیسے بننا ہے، تو یہ بہتر بن جاتی۔ چونکہ اِسے خود کے علاوہ کسی چیز پر یقین رکھنا ہے، لہٰذہ یہ مادے کو بطور دیوتا تخت نشیں کرتی ہے۔ دوسرے دیوتارکھتے ہوئے اور ایک سے زیادہ عقلوں پر یقین رکھتے ہوئے، انسانی عقل ابتداء ہی سے بت پرست تھی۔

چونکہ بشر فانی وجودیت پر بھی غور نہیں کرتا، تو وہ سب جاننے والی عقل اور اْس کی تخلیق سے کس حد تک بے خبرہوگا۔

یہاں آپ دیکھ سکتے ہیں کہ کیسے نام نہاد مادی فہم خود کے خیالات کی اشکال تعمیر کرتا ہے، انہیں مادی نام دیتا ہے، اور پھر ان کی عبادت کرتا اور اْن سے ڈرتا ہے۔غیر قوم کے اندھے پن کے ساتھ، یہ کسی مادی دیوتا یا دوا کو اس سے بڑھ کر ایک طاقت منسوب کرتا ہے۔انسانی عقل کے عقائد اسے چراتے اور غلام بناتے ہیں، اور پھر اِس نتیجے کو ایک اور فریبی شخصیت، بنام شیطان، کے ساتھ منصوب کرتے ہیں۔

5. 186 : 28-12

Mortal mind is ignorant of self, or it could never be self-deceived. If mortal mind knew how to be better, it would be better. Since it must believe in something besides itself, it enthrones matter as deity. The human mind has been an idolater from the beginning, having other gods and believing in more than the one Mind.

As mortals do not comprehend even mortal existence, how ignorant must they be of the all-knowing Mind and of His creations.

Here you may see how so-called material sense creates its own forms of thought, gives them material names, and then worships and fears them. With pagan blindness, it attributes to some material god or medicine an ability beyond itself. The beliefs of the human mind rob and enslave it, and then impute this result to another illusive personification, named Satan.

6۔ 166 :8۔14

ایک محمڈن اپنی جان کی نجات کے لئے مکہ کی زیارت پر یقین رکھتا ہے۔کسی شخص کی جان بچانے کے لئے ایک مشہور ڈاکٹر اپنے نسخہ اور ایک دواساز اپنی دوا کی طاقت پر یقین رکھتا ہے۔ محمڈن کا یقین ایک مذہبی بھرم ہے؛ ڈاکٹر اور دواساز کا یقین ایک طبی غلطی ہے۔

6. 166 : 8-14

The Mohammedan believes in a pilgrimage to Mecca for the salvation of his soul. The popular doctor believes in his prescription, and the pharmacist believes in the power of his drugs to save a man's life. The Mohammedan's belief is a religious delusion; the doctor's and pharmacist's is a medical mistake.

7۔ 82 :31۔5

طاقت کی عظیم تر ترقی کی جانب تیزی سے بڑھتے ہوئے گناہ اور عیاشی کی دنیا میں اس بات پرتوجہ سے غور کرنا عقلمندی ہے کہ آیامتاثر کرنے والی عقل انسانی ہے یا الٰہی۔ جو کام یہواہ کے انبیاء نے کیا وہ بعل کے پرستار کرنے میں ناکام رہے، تاہم چالاکی اور فریب نظری نے یہ دعویٰ کیا کہ وہ حکمت کے کاموں کے مساوی کر سکتے تھے۔

7. 82 : 31-5

In a world of sin and sensuality hastening to a greater development of power, it is wise earnestly to consider whether it is the human mind or the divine Mind which is influencing one. What the prophets of Jehovah did, the worshippers of Baal failed to do; yet artifice and delusion claimed that they could equal the work of wisdom.

8۔ 263 :7۔19

جب بشر اپنے وجودیت کے خیالات کو روحانی کے ساتھ جوڑتا ہے اور خدا کی مانند کام کرتا ہے، تو وہ اندھیرے میں نہیں ٹٹولے گا اور زمین کے ساتھ نہیں جڑا رہے گا کیونکہ اْس نے آسمان کا مزہ نہیں چکھا۔جسمانی عقائد ہمیں دھوکہ دیتے ہیں۔ وہ انسان کو غیر اختیاری ریاکار بناتے ہیں جو اچھائی پیدا کرتے ہوئے بدی پیدا کرتا ہے، فضل اور خوبصورتی کا خاکہ بناتے ہوئے بد نمائی بناتا ہے،جنہیں برکت دیتا ہے انہیں وہ زخمی کر دیتا ہے۔وہ ایک عام غلط خالق بن جاتا ہے، جس سے یہ مانتا ہے کہ وہ ایک نصف خدا ہے۔اْس کی ”چھوون امید کو خاک بناتی، وہ خاک جسے ہم سب نے اپنے قدموں تلے روندا۔“ وہ شاید بائبل کی زبان میں کہے گا: ”جس نیکی کا ارادہ کرتا ہوں وہ تو نہیں کرتا، مگر جس بدی کا ارادہ نہیں کرتا وہ کر لیتا ہوں۔“

8. 263 : 7-19

When mortal man blends his thoughts of existence with the spiritual and works only as God works, he will no longer grope in the dark and cling to earth because he has not tasted heaven. Carnal beliefs defraud us. They make man an involuntary hypocrite, — producing evil when he would create good, forming deformity when he would outline grace and beauty, injuring those whom he would bless. He becomes a general mis-creator, who believes he is a semi-god. His "touch turns hope to dust, the dust we all have trod." He might say in Bible language: "The good that I would, I do not: but the evil which I would not, that I do."

9۔ 403 :14۔20

اگر آپ یہ سمجھ جائیں کہ یہ فانی وجود خود کار فریب ہے اور حقیقی نہیں ہے تو آپ صورت حال پر قابو پا لیتے ہیں۔فانی فہم متواتر طور پر فانی جسم کے لئے غلط آراء کے نتائج کو جنم دیتا ہے؛ اور یہ تب تک جاری رہتا ہے جب تک حق فانی غلطی کو اس کی فرضی توانائیوں سے برطرف نہیں کرتا، جو فانی فریب کے ہلکے سے جالے کو صاف کر دیتا ہے۔

9. 403 : 14-20

You command the situation if you understand that mortal existence is a state of self-deception and not the truth of being. Mortal mind is constantly producing on mortal body the results of false opinions; and it will continue to do so, until mortal error is deprived of its imaginary powers by Truth, which sweeps away the gossamer web of mortal illusion.

10۔ 252 :7۔14

جب جھوٹے انسانی عقائد اپنی بد دیانتی کے متعلق تھوڑا بہت جان لیتے ہیں، تو وہ غائب ہونا شروع ہوجاتے ہیں۔ غلطی اور اِس کے اعمال کے بارے میں علم کو یہ تقدیم کرنی چاہئے کہ سچائی کا فہم جو غلطی کو تباہ کرتا ہے، جب تک کہ ساری لافانی، مادی غلطی بالا آخر غائب ہو جاتی ہے،اور ابدی حقیقت، یعنی انسان روح سے اور روح کے وسیلہ پیدا ہوا ہے، اسے اپنے خالق کی حقیقی شبیہ کے طور پرسمجھا اور پہچانا جاتا ہے۔

10. 252 : 7-14

When false human beliefs learn even a little of their own falsity, they begin to disappear. A knowledge of error and of its operations must precede that understanding of Truth which destroys error, until the entire mortal, material error finally disappears, and the eternal verity, man created by and of Spirit, is understood and recognized as the true likeness of his Maker.


روز مرہ کے فرائ

منجاب میری بیکر ایڈ

روز مرہ کی دعا

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ ہر روز یہ دعا کرے: ’’تیری بادشاہی آئے؛‘‘ الٰہی حق، زندگی اور محبت کی سلطنت مجھ میں قائم ہو، اور سب گناہ مجھ سے خارج ہو جائیں؛ اور تیرا کلام سب انسانوں کی محبت کو وافر کرے، اور اْن پر حکومت کرے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 4۔

مقاصد اور اعمال کا ایک اصول

نہ کوئی مخالفت نہ ہی کوئی محض ذاتی وابستگی مادری چرچ کے کسی رکن کے مقاصد یا اعمال پر اثر انداز نہیں ہونی چاہئے۔ سائنس میں، صرف الٰہی محبت حکومت کرتی ہے، اور ایک مسیحی سائنسدان گناہ کو رد کرنے سے، حقیقی بھائی چارے ، خیرات پسندی اور معافی سے محبت کی شیریں آسائشوں کی عکاسی کرتا ہے۔ اس چرچ کے تمام اراکین کو سب گناہوں سے، غلط قسم کی پیشن گوئیوں،منصفیوں، مذمتوں، اصلاحوں، غلط تاثر ات کو لینے اور غلط متاثر ہونے سے آزاد رہنے کے لئے روزانہ خیال رکھنا چاہئے اور دعا کرنی چاہئے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 1۔

فرض کے لئے چوکس

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ وہ ہر روز جارحانہ ذہنی آراء کے خلاف خود کو تیار رکھے، اور خدا اور اپنے قائد اور انسانوں کے لئے اپنے فرائض کو نہ کبھی بھولے اور نہ کبھی نظر انداز کرے۔ اس کے کاموں کے باعث اس کا انصاف ہوگا، وہ بے قصور یا قصوارہوگا۔ 

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 6۔


████████████████████████████████████████████████████████████████████████