اتوار 4 جولائی،2021



مضمون۔ خدا

SubjectGod

سنہری متن: زبور 19: 1 آیت

”آسمان خدا کا جلال ظاہر کرتا ہے اور فضا اْس کی دستکاری دکھاتی ہے۔“



Golden Text: Psalm 19 : 1

The heavens declare the glory of God; and the firmament sheweth his handiwork.





سبق کی آڈیو کے لئے یہاں کلک کریں

یوٹیوب سے سننے کے لئے یہاں کلک کریں

████████████████████████████████████████████████████████████████████████


جوابی مطالعہ: زبور 18:30 تا35 آیات


30۔ لیکن خدا کی راہ کامل ہے۔ خداوند کا کلام تایا ہوا۔ وہ اْن سب کی سپر ہے جو اْس پر بھروسہ رکھتے ہیں۔

31۔ کیونکہ خداوند کے سوا اور کون چٹان ہے؟

32۔ خدا ہی مجھے قوت سے کمر بستہ کرتا ہے اور میری راہ کامل کرتا ہے۔

33۔ وہی میرے پاؤں ہرنیوں کے سے بناتا ہے اور مجھے میری اونچی جگہوں میں قائم کرتا ہے۔

34۔ وہ میرے ہاتھوں کو جنگ کرنا سکھاتا ہے یہاں تک کہ میرے بازو پیتل کی کمان کو جھکا دیتے ہیں۔

35۔ تْو نے مجھ کو اپنی نجات کی سپر بخشی اور تیرے دہنے ہاتھ نے مجھے سنبھالا اور تیری نرمی نے مجھے بزرگ بنایا۔

Responsive Reading: Psalm 18 : 30-35

30.     As for God, his way is perfect: the word of the Lord is tried: he is a buckler to all those that trust in him.

31.     For who is God save the Lord? or who is a rock save our God?

32.     It is God that girdeth me with strength, and maketh my way perfect.

33.     He maketh my feet like hinds’ feet, and setteth me upon my high places.

34.     He teacheth my hands to war, so that a bow of steel is broken by mine arms.

35.     Thou hast also given me the shield of thy salvation: and thy right hand hath holden me up, and thy gentleness hath made me great.



درسی وعظ



بائبل


درسی وعظ

بائبل

1۔ یسعیاہ 61 باب 10، 11 آیات

10۔مَیں خداوند سے بہت شادمان ہوں گا۔ میری جان خداوند میں مسرور ہوگی کیونکہ اْس نے مجھے نجات کے کپڑے پہنائے۔ اْس نے راستبازی کے خلعت سے مجھے ملبس کیا جیسے دلہا سہرے سے اپنے آپ کو آراستہ کرتا ہے اور دلہن اپنے زیوروں سے اپنا سنگھار کرتی ہے۔

11۔ کیونکہ جس طرح زمین اپنے نباتات کو پیدا کرتی ہے اور جس طرح باغ اْن چیزوں کو جو اْس میں بوئی گئی ہیں اگاتا ہے اِسی طرح خداوند خدا صداقت اور ستائش کو تمام قوموں کے سامنے ظہور میں لائے گا۔

1. Isaiah 61 : 10, 11

10     I will greatly rejoice in the Lord, my soul shall be joyful in my God; for he hath clothed me with the garments of salvation, he hath covered me with the robe of righteousness, as a bridegroom decketh himself with ornaments, and as a bride adorneth herself with her jewels.

11     For as the earth bringeth forth her bud, and as the garden causeth the things that are sown in it to spring forth; so the Lord God will cause righteousness and praise to spring forth before all the nations.

2۔ 2 سیموئیل 22 باب1(داؤد) تا 7، 14تا22آیات

1۔ جب خداوند نے داؤد کو اْس کے سب دشمنوں اور ساؤل کے ہاتھ سے رہائی دی تو اْس نے خداوند کے حضور اِس مضمون کا گیت گایا۔

2۔ وہ کہنے لگا: خداوند میری چٹان اور میرا قلعہ اور میرا چھڑانے والا ہے۔

3۔ خدا میری چٹان ہے۔ مَیں اْسی پر بھروسہ رکھوں گا۔ وہی میری سِپر اور میری چٹان ہے۔ میرا اونچا برج اور میری پناہ ہے۔ میرے نجات دینے والے! تْو ہی مجھے ظلم سے بچاتا ہے۔

4۔ مَیں خداوند کو جو ستائش کے لائق ہے پکاروں گا۔ یوں مَیں اپنے دشمنوں سے بچایا جاؤں گا۔

5۔ کیونکہ موت کی موجوں نے مجھے گھیرا۔ بے دینی کے سیلابوں نے مجھے ڈرایا۔

6۔ پاتال کی رسیاں میرے چوگرد تھیں۔ موت کے پھندے مجھ پر آپڑے۔

7۔ اپنی مصیبت میں مَیں نے خداوند کو پکارا۔ مَیں اپنے خدا کے حضور چلایا۔ اْس نے اپنی ہیکل میں سے میری آواز سنی اور میری فریاد اْس کے کان میں پہنچی۔

14۔ خداوند آسمان سے گرجا اور حق تعالیٰ نے اپنی آواز سنائی۔

15۔ اْس نے تیر چلا کر اْن کو پراگندہ کیا اور بجلی سے اْن کو شکست دی۔

16۔ تب خداوند کی ڈانٹ سے اْس کے نتھنوں کے دم سے سمندر کی تھاہ دکھائی دینے لگی اور جہان کی بنیادیں نمودار ہونے لگیں۔

17۔ اْس نے اوپر سے ہاتھ بڑھا کر مجھے تھام لیا اور مجھے بہت پانی میں سے کھینچ کر باہر نکالا۔

18۔ اْس نے میرے زور دار دشمن اور میرے عداوت رکھنے والوں سے مجھے چھڑایا کیونکہ وہ میرے لئے نہایت زبردست تھے۔

19۔وہ میری مصیبت کے دن مجھ پر آپڑے پر خداوند میرا سہارا تھا۔

20۔ وہ مجھے کشادہ جگہ میں نکال بھی لایا۔ اْس نے مجھے چھڑایا۔ اِس لئے کہ وہ مجھ سے خوش تھا۔

21۔ خداوند نے میری راستی کے موافق مجھے جزا دی اور میرے ہاتھوں کی پاکیزگی کے مطابق مجھے بدلہ دیا۔

22۔ کیونکہ مَیں خداوند کی راہوں پر چلتا رہا اور شرارت سے اپنے خدا سے الگ نہ ہوا۔

2. II Samuel 22 : 1 (David)-7, 14-22

1     David spake unto the Lord the words of this song in the day that the Lord had delivered him out of the hand of all his enemies, and out of the hand of Saul:

2     And he said, The Lord is my rock, and my fortress, and my deliverer;

3     The God of my rock; in him will I trust: he is my shield, and the horn of my salvation, my high tower, and my refuge, my saviour; thou savest me from violence.

4     I will call on the Lord, who is worthy to be praised: so shall I be saved from mine enemies.

5     When the waves of death compassed me, the floods of ungodly men made me afraid;

6     The sorrows of hell compassed me about; the snares of death prevented me;

7     In my distress I called upon the Lord, and cried to my God: and he did hear my voice out of his temple, and my cry did enter into his ears.

14     The Lord thundered from heaven, and the most High uttered his voice.

15     And he sent out arrows, and scattered them; lightning, and discomfited them.

16     And the channels of the sea appeared, the foundations of the world were discovered, at the rebuking of the Lord, at the blast of the breath of his nostrils.

17     He sent from above, he took me; he drew me out of many waters;

18     He delivered me from my strong enemy, and from them that hated me: for they were too strong for me.

19     They prevented me in the day of my calamity: but the Lord was my stay.

20     He brought me forth also into a large place: he delivered me, because he delighted in me.

21     The Lord rewarded me according to my righteousness: according to the cleanness of my hands hath he recompensed me.

22     For I have kept the ways of the Lord, and have not wickedly departed from my God.

3۔ یسعیاہ 12 باب2تا6 آیات

2۔ دیکھو خدا میری نجات ہے مَیں اْس پر توکل کروں گا اور نہ ڈروں گا کیونکہ یہواہ میرا زور ہے اور وہ میری نجات ہوا ہے۔

3۔ پس تم خوش ہو کر نجات کے چشموں سے پانی بھرو گے۔

4۔ اور اِس وقت تم کہو گے کہ خداوند کی ستائش کرو اْس سے دعا کرو۔ لوگوں کے درمیان اْس کے کاموں کا بیان کرو اور کہو کہ اْس کا نام بلند ہے۔

5۔ خداوند کی مداح سرائی کرو کیونکہ اْس نے جلالی کام کئے جن کو تمام دنیا جانتی ہے۔

6۔ اے صیون کی بسنے والی تْو چلا اور للکار کیونکہ تجھ میں اسرائیل کا قدوس بزرگ ہے۔

3. Isaiah 12 : 2-6

2     Behold, God is my salvation; I will trust, and not be afraid: for the Lord JEHOVAH is my strength and my song; he also is become my salvation.

3     Therefore with joy shall ye draw water out of the wells of salvation.

4     And in that day shall ye say, Praise the Lord, call upon his name, declare his doings among the people, make mention that his name is exalted.

5     Sing unto the Lord; for he hath done excellent things: this is known in all the earth.

6     Cry out and shout, thou inhabitant of Zion: for great is the Holy One of Israel in the midst of thee.

4۔ 1 تواریخ 14 باب8(جب) تا 17 آیات

8۔۔۔۔جب فلستیوں نے سنا کہ داؤد ممسوح ہو کر سارے اسرائیل کا بادشاہ بنا ہے تو سب فلستی داؤد کی تلاش میں چڑھ آئے اور داؤد یہ سْن کر اْن کے مقابلے کو نکلا۔

9۔اور فلستیوں نے آکر رفائیم کی وادی میں دھاوا مارا۔

10۔ تب داؤ دنے خداوند سے سوال کیا کہ مَیں فلستیوں پر چڑھ جاؤں؟ کیا تْو اْن کو میرے ہاتھ میں کر دے گا؟ خداوند نے فرمایا کہ چڑھ جا کیونکہ مَیں اْن کو تیرے ہاتھ میں کر دوں گا۔

11۔ سو وہ بعل پراضیم میں آئے اور داؤد نے وہیں اْن کو مارا اور داؤد نے کہا خدا نے میرے ہاتھ میں میرے دشمنوں کو ایسا چیرا جیسے پانی چاک چاک ہو جاتا ہے۔ اِس سبب سے انہوں نے اْس مقام کا نام بعل پراضیم رکھا۔

12۔ اور وہ اپنے بتوں کو وہاں چھوڑ گئے اور وہ داؤد کے حکم سے آگ میں جلا دیئے گئے۔

13۔ اور فلستیوں نے پھر اْس وادی میں دھاوا مارا۔

14۔ اور داؤد نے پھر خدا سے سوال کیا اور خدا نے اْس سے کہا کہ تْو اْن کا پیچھا نہ کر بلکہ اْن کے پاس سے کترا کر نکل جا اور تْوت کے پیڑوں کے سامنے سے اْن پر حملہ کر۔

15۔ اور جب تْو تْوت کے درختوں کی پھْنگیوں پر چلنے کی سی آواز سنے تب لڑائی کو نکلناکیونکہ خدا تیرے آگے آگے فلستیوں کے لشکر کو مارنے کے لئے نکلا ہے۔

16۔ اور داؤدنے جیسا خدا نے اْسے فرمایا تھا کیا اور اْنہوں نے فلستیوں کی فوج کو جبعون سے جزر تک قتل کیا۔

17۔ اور داؤد کی شہرت سب ملکوں میں پھیل گئی اور خداوند نے سب قوموں پر اْس کا خوف بٹھا دیا۔

4. I Chronicles 14 : 8 (when)-17

8     …when the Philistines heard that David was anointed king over all Israel, all the Philistines went up to seek David. And David heard of it, and went out against them.

9     And the Philistines came and spread themselves in the valley of Rephaim.

10     And David inquired of God, saying, Shall I go up against the Philistines? and wilt thou deliver them into mine hand? And the Lord said unto him, Go up; for I will deliver them into thine hand.

11     So they came up to Baal-perazim; and David smote them there. Then David said, God hath broken in upon mine enemies by mine hand like the breaking forth of waters: therefore they called the name of that place Baal-perazim.

12     And when they had left their gods there, David gave a commandment, and they were burned with fire.

13     And the Philistines yet again spread themselves abroad in the valley.

14     Therefore David inquired again of God; and God said unto him, Go not up after them; turn away from them, and come upon them over against the mulberry trees.

15     And it shall be, when thou shalt hear a sound of going in the tops of the mulberry trees, that then thou shalt go out to battle: for God is gone forth before thee to smite the host of the Philistines.

16     David therefore did as God commanded him: and they smote the host of the Philistines from Gibeon even to Gazer.

17     And the fame of David went out into all lands; and the Lord brought the fear of him upon all nations.

5۔ مکاشفہ 21 باب2 (مَیں) تا 7 آیات

2۔ پھر مَیں نے شہرِ مقدس نئے یرشلیم کو آسمان پر سے خدا کے پاس سے اترتے دیکھا اور وہ اْس دلہن کی مانند آراستہ تھا جس نے اپنے شوہر کے لئے شنگھار کیا ہو۔

3۔ پھر مَیں نے تخت میں سے کسی کو بلند آواز سے یہ کہتے سنا کہ دیکھ خدا کا خیمہ آدمیوں کے درمیان ہے اور وہ اْن کے ساتھ سکونت کرے گا اور وہ اْس کے لوگ ہوں گے اور خدا آپ اْن کے ساتھ رہے گا اور اْن کا خدا ہوگا۔

4۔ اور وہ اْن کی آنکھوں کے سب آنسو پونچھ دے گا۔ اور اْس کے بعد نہ موت رہے گی نہ ماتم رہے گا۔ نہ آہ و نالہ نہ درد۔ پہلی چیزیں جاتی رہیں۔

5۔ اور جو تخت پر بیٹھا ہوا تھا اْس نے کہا دیکھ مَیں سب چیزوں کو نیا بنا دیتا ہوں۔ پھر اْس نے کہا لکھ لے کیونکہ یہ باتیں سچ اور بر حق ہیں۔

6۔ پھر اْس نے مجھ سے کہا یہ باتیں پوری ہوگئیں۔ مَیں الفا اور اومیگا یعنی ابتدا اور انتہا ہوں۔ مَیں پیاسے کو آبِ حیات کے چشمے سے مفت پلاؤں گا۔

7۔ جو غالب آئے وہی اِن چیزوں کا وارث ہوگا اور مَیں اْس کا خدا ہوں گا اور وہ میرا بیٹا ہوگا۔

5. Revelation 21 : 2 (I)-7

2     I John saw the holy city, new Jerusalem, coming down from God out of heaven, prepared as a bride adorned for her husband.

3     And I heard a great voice out of heaven saying, Behold, the tabernacle of God is with men, and he will dwell with them, and they shall be his people, and God himself shall be with them, and be their God.

4     And God shall wipe away all tears from their eyes; and there shall be no more death, neither sorrow, nor crying, neither shall there be any more pain: for the former things are passed away.

5     And he that sat upon the throne said, Behold, I make all things new. And he said unto me, Write: for these words are true and faithful.

6     And he said unto me, It is done. I am Alpha and Omega, the beginning and the end. I will give unto him that is athirst of the fountain of the water of life freely.

7     He that overcometh shall inherit all things; and I will be his God, and he shall be my son.



سائنس اور صح


1۔ 472 :24 (سب)۔26

خدا اور اْس کی تخلیق میں پائی جانے والی ساری حقیقت ہم آہنگ اور ابدی ہے۔ جو کچھ وہ بناتا ہے اچھا بناتا ہے، اور جو کچھ بنا ہے اْسی نے بنایاہے۔

1. 472 : 24 (All)-26

All reality is in God and His creation, harmonious and eternal. That which He creates is good, and He makes all that is made.

2۔ 465 :8۔1

سوال۔ خدا کیا ہے؟

جواب۔ خدا غیر جسمانی، الٰہی، اعلیٰ، لامحدود عقل، روح، جان، اصول، زندگی، سچائی، محبت ہے۔

سوال۔ کیا یہ اصطلاحات مترادف الفاظ ہیں؟

جواب۔ جی ہاں یہ ہیں۔یہ ایک مطلق خدا کا حوالہ دیتے ہیں۔ اِس کا مقصد الٰہی کی فطرت، جوہر اور کاملیت کو ظاہر کرنا بھی ہے۔خدا کی خاصیتیں انصاف، رحم، حکمت، نیکی وغیر وغیرہ ہیں۔

سوال۔ کیا ایک سے زاید خدا یا اصول ہے؟

جواب۔ نہیں ہے۔اصول اور اْس کا خیال ایک ہے، اور وہ ایک خدا، قادر مطلق، ہمہ دانی اور ہمہ جائی ہستی ہے، اور اْس کا سایہ انسان اور کائنات ہے۔

2. 465 : 8-1

Question. —What is God?

Answer. — God is incorporeal, divine, supreme, infinite Mind, Spirit, Soul, Principle, Life, Truth, Love.

Question. — Are these terms synonymous?

Answer. — They are. They refer to one absolute God. They are also intended to express the nature, essence, and wholeness of Deity. The attributes of God are justice, mercy, wisdom, goodness, and so on.

Question. — Is there more than one God or Principle?

Answer. — There is not. Principle and its idea is one, and this one is God, omnipotent, omniscient, and omnipresent Being, and His reflection is man and the universe.

3۔ 275 :20۔24

الٰہی طبعیات، جیسے کہ روحانی فہم پر ظاہر ہوئی ہے، واضح طور پرایاں کرتی ہیں کہ سب کچھ عقل ہی ہے، اور یہ عقل خدا، قادرِ مطلق، قاد ر الظہور، علام الغیوب، یعنی سب قدرت والا، سب جگہ ظاہر، اور سب جاننے والا ہے۔ لہٰذہ سب کچھ جو حقیقی ہے وہ عقل کا اظہار ہے۔

3. 275 : 20-24

Divine metaphysics, as revealed to spiritual understanding, shows clearly that all is Mind, and that Mind is God, omnipotence, omnipresence, omniscience, — that is, all power, all presence, all Science. Hence all is in reality the manifestation of Mind.

4۔ 469 :25۔10

جب ہم یہ تسلیم کر لیتے ہیں کہ خدا، یا اچھائی، ہر جا موجود اور ساری طاقت رکھتا ہے تو ہم قادر مطلق کے بلند مفہوم کو کھو دیتے ہیں، ہم ابھی بھی یہ مانتے ہیں کہ شیطان نامی ایک اور طاقت موجود ہے۔ یہ ایمان کہ ایک سے زیادہ عقل موجود ہیں الٰہی تھیالوجی کے لئے اس قدر تباہ کن ہے جتنی قدیم دیو مالائی کہانیاں اور غیر قوموں کی بْت پرستی ہے۔ ایک باپ،حتیٰ کے خدا،کے ساتھ انسان کا پورا خاندان بھائی ہوں گے اور ایک عقل اور خدا، یا اچھائی کے ساتھ انسان کا بھائی چارہ محبت اور سچائی پر اور اصول اور روحانی قوت پر مشتمل ہو گا جو الٰہی سائنس کو قائم کرتے ہیں۔ ایک سے زیادہ عقل کی فرضی موجودگی بت پرستی کی غلطی پر بنیاد رکھتی تھی۔ اس غلطی نے روحانی قوت کی گمشدگی کو، زندگی کی روحانی موجودگی کو ایک عدم احتمال سے مبرا لامتناہی سچائی کے طور پراور بطور ازلی اور عالگیر محبت کی گمشدگی کو فرض کر لیاہے۔

4. 469 : 25-10

We lose the high signification of omnipotence, when after admitting that God, or good, is omni-present and has all-power, we still believe there is another power, named evil. This belief that there is more than one mind is as pernicious to divine theology as are ancient mythology and pagan idolatry. With one Father, even God, the whole family of man would be brethren; and with one Mind and that God, or good, the brotherhood of man would consist of Love and Truth, and have unity of Principle and spiritual power which constitute divine Science. The supposed existence of more than one mind was the basic error of idolatry. This error assumed the loss of spiritual power, the loss of the spiritual presence of Life as infinite Truth without an unlikeness, and the loss of Love as ever present and universal.

5۔ 130 :7۔14

اْس الٰہی سائنس سے متعلق بے ایمانی سے بات کرنا فضول ہے جو تمام مخالفت کو نیست کرتی ہے جب آپ سائنس کی حقیقت کو ظاہر کرسکتے ہیں۔اگر حقیقت خدا، الٰہی اصول، کے ساتھ مکمل ہم آہنگی میں ہے تو شک کرنا بے وقوفی ہوگا، اگر سائنس، جب سمجھی جائے اور ظاہر کی جائے، ساری مخالفت کو نیست کرتی ہے، چونکہ آپ قبول کرلیتے ہیں کہ خدا قادر مطلق ہے؛ کیونکہ اِس بنیاد پر یہ بات سامنے آتی ہے کہ اچھائی اور اِس کی شیریں مخالفتوں میں تمام قدرت پائی جاتی ہے۔

5. 130 : 7-14

It is vain to speak dishonestly of divine Science, which destroys all discord, when you can demonstrate the actuality of Science. It is unwise to doubt if reality is in perfect harmony with God, divine Principle, — if Science, when understood and demonstrated, will destroy all discord, — since you admit that God is omnipotent; for from this premise it follows that good and its sweet concords have all-power.

6۔ 102 :12۔15

سیاروں کا انسان پر اِس کی نسبت زیادہ اختیار نہیں ہے جتنا اْن کے خالق پر ہے، کیونکہ خدا کائنات پر حکمرانی کرتا ہے، مگر انسان، خدا کی قدرت کی عکاسی کرتے ہوئے، پوری زمین اور اْس کے تمام لشکروں پر حاکمیت رکھتا ہے۔

6. 102 : 12-15

The planets have no more power over man than over his Maker, since God governs the universe; but man, reflecting God's power, has dominion over all the earth and its hosts.

7۔ 275 :6۔19

الٰہی سائنس کا واضح نقطہ یہ ہے کہ خدا، روح، حاکمِ کْل ہے، اور اْس کے علاوہ کوئی طاقت ہے نہ کوئی عقل ہے، کہ خدا محبت ہے، اور اسی لئے وہ الٰہی اصول ہے۔

ہستی کی حقیقت اور ترتیب کو اْس کی سائنس میں تھامنے کے لئے، وہ سب کچھ حقیقی ہے اْس کے الٰہی اصول کے طور پر آپ کو خدا کا تصور کرنے کی ابتدا کرنی چاہئے۔ روح، زندگی، سچائی، محبت یکسانیت میں جْڑ جاتے ہیں، اور یہ سب خدا کے روحانی نام ہیں۔سب مواد، ذہانت، حکمت، ہستی، لافانیت، وجہ اور اثر خْدا سے تعلق رکھتے ہیں۔یہ اْس کی خصوصیات ہیں، یعنی لامتناہی الٰہی اصول، محبت کے ابدی اظہار۔ کوئی حکمت عقلمند نہیں سوائے اْس کی؛ کوئی سچائی سچ نہیں، کوئی محبت پیاری نہیں، کوئی زندگی زندگی نہیں ماسوائے الٰہی کے، کوئی اچھائی نہیں ماسوائے اْس کے جو خدا بخشتا ہے۔

7. 275 : 6-19

The starting-point of divine Science is that God, Spirit, is All-in-all, and that there is no other might nor Mind, — that God is Love, and therefore He is divine Principle.

To grasp the reality and order of being in its Science, you must begin by reckoning God as the divine Principle of all that really is. Spirit, Life, Truth, Love, combine as one, — and are the Scriptural names for God. All substance, intelligence, wisdom, being, immortality, cause, and effect belong to God. These are His attributes, the eternal manifestations of the infinite divine Principle, Love. No wisdom is wise but His wisdom; no truth is true, no love is lovely, no life is Life but the divine; no good is, but the good God bestows.

8۔ 2: 15۔2

دعا ہستی کی سائنس کو تبدیل نہیں کر سکتی، لیکن یہ ہمیں اس کے ساتھ ہم آہنگ ہونے کا رجحان رکھتی ہے۔ بھلائی سچائی کا اظہار حاصل کرتی ہے۔ خدا ہمیں نجات دے گا یہ التجا ہی وہ سب کچھ نہیں جس کی ضرورت ہے۔ الٰہی عقل سے التجا کرنے کی محض عادت، جیسا کہ کوئی شخص انسان ہوتے ہوئے التجا کرتا ہے، انسانی حدود میں خدا پر بھروسہ رکھنا جاری رکھتا ہے، جو ایک ایسی غلطی ہے جس سے روحانی ترقی رکاوٹ کا شکار ہوتی ہے۔

خدا محبت ہے۔ کیا ہم اِس سے زیادہ اْ س سے توقع کر سکتے ہیں؟ خدا ذہانت ہے۔ کیا ہم اْس لامتناہی عقل کو اس سے آگاہ کر سکتے ہیں جو وہ پہلے سے نہ جانتا ہو؟کیا ہم کاملیت کو تبدیل کرنے کی توقع کر تے ہیں؟ کیا ہمیں کسی فوارے کے سامنے اور التجا کرنی چاہئے جو ہماری توقع سے زیادہ پانی انڈیل رہا ہو؟ اَن کہی خواہش ہمیں تمام وجودیت اور فضل کے منبع کے قریب تر لے جاتی ہے۔

خدا کے آگے خدا بننے کی التجا کرنا بیکار کی تکرار ہے۔ خدا ”کل اور آج بلکہ ابد تک یکساں“ہے، اور وہ جو ناقابل تبدیل اچھا ہے وہ اْس کی لیاقت کی یاد دہانی کے بغیر ہی سب اچھا کرے گا۔

8. 2 : 15-2

Prayer cannot change the Science of being, but it tends to bring us into harmony with it. Goodness attains the demonstration of Truth. A request that God will save us is not all that is required. The mere habit of pleading with the divine Mind, as one pleads with a human being, perpetuates the belief in God as humanly circumscribed, — an error which impedes spiritual growth.

God is Love. Can we ask Him to be more? God is intelligence. Can we inform the infinite Mind of anything He does not already comprehend? Do we expect to change perfection? Shall we plead for more at the open fount, which is pouring forth more than we accept? The unspoken desire does bring us nearer the source of all existence and blessedness.

Asking God to be God is a vain repetition. God is "the same yesterday, and to-day, and forever;" and He who is immutably right will do right without being reminded of His province.

9۔ 467 :9۔13

اس بات کی پوری طرح سے سمجھ آجانی چاہئے کہ تمام انسانوں کی عقل ایک ہے، ایک خدا اور باپ، ایک زندگی، حق اور محبت ہے۔ جب یہ حقیقت ایک تناسب میں ایاں ہوگی تو انسان کامل ہوجائے گا، جنگ ختم ہو جائے گی اور انسان کا حقیقی بھائی چارہ قائم ہو جائے گا۔

9. 467 : 9-13

It should be thoroughly understood that all men have one Mind, one God and Father, one Life, Truth, and Love. Mankind will become perfect in proportion as this fact becomes apparent, war will cease and the true brotherhood of man will be established.

10۔ 340 :15۔29

”میرے حضور تْو غیر معبودوں کو نہ ماننا۔“ (خروج 20 باب3 آیت)۔ پہلا حکم میری پسندیدہ عبارت ہے۔یہ کرسچن سائنس کو ظاہر کرتی ہے۔ یہ خدا، روح، عقل کی تثلیث کا ادراک دیتی ہے؛ یہ جتاتی ہے کہ انسان خدا، ابدی اچھائی کے علاوہ کسی دوسری روح یا عقل کو نہیں مانے گا، اور یہ کہ سب انسان ایک عقل کو مانیں۔ پہلے حکم کا الٰہی اصول ہستی کی سائنس پر بنیاد رکھتا ہے، جس کے وسیلہ انسان تندرستی، پاکیزگی اور ابدی زندگی کو ظاہر کرتا ہے۔ایک لامتناہی خدایعنی اچھائی انسان اور اقوام کو متحد کرتا ہے، انسانوں میں بھائی چارہ قائم کرتا ہے، جنگ و جدول ختم کرتا ہے، اس کلام کو پورا کرتا ہے کہ، ”اپنے پڑوسی سے اپنی مانند پیار کر،“ غیر قوموں اور مسیحی بت پرستوں کواور جو کچھ بھی معاشرتی، شہری، مجرمانہ، سیاسی، اور مذہبی شعبہ جات میں غلط ہو رہا ہے اْسے فنا کرتا ہے، جنس کو مساوی کرتا ہے، انسان پر کی گئی لعنت کو منسوخ کرتا ہے اور ایسا کچھ نہیں چھوڑتا جو گناہ کا مرتکب ہو اور دْکھ اٹھائے، سزاء پائے یا فنا ہو جائے۔

10. 340 : 15-29

"Thou shalt have no other gods before me." (Exodus xx. 3.) The First Commandment is my favorite text. It demonstrates Christian Science. It inculcates the triunity of God, Spirit, Mind; it signifies that man shall have no other spirit or mind but God, eternal good, and that all men shall have one Mind. The divine Principle of the First Commandment bases the Science of being, by which man demonstrates health, holiness, and life eternal. One infinite God, good, unifies men and nations; constitutes the brotherhood of man; ends wars; fulfils the Scripture, "Love thy neighbor as thyself;" annihilates pagan and Christian idolatry, — whatever is wrong in social, civil, criminal, political, and religious codes; equalizes the sexes; annuls the curse on man, and leaves nothing that can sin, suffer, be punished or destroyed.


روز مرہ کے فرائ

منجاب میری بیکر ایڈ

روز مرہ کی دعا

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ ہر روز یہ دعا کرے: ’’تیری بادشاہی آئے؛‘‘ الٰہی حق، زندگی اور محبت کی سلطنت مجھ میں قائم ہو، اور سب گناہ مجھ سے خارج ہو جائیں؛ اور تیرا کلام سب انسانوں کی محبت کو وافر کرے، اور اْن پر حکومت کرے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 4۔

مقاصد اور اعمال کا ایک اصول

نہ کوئی مخالفت نہ ہی کوئی محض ذاتی وابستگی مادری چرچ کے کسی رکن کے مقاصد یا اعمال پر اثر انداز نہیں ہونی چاہئے۔ سائنس میں، صرف الٰہی محبت حکومت کرتی ہے، اور ایک مسیحی سائنسدان گناہ کو رد کرنے سے، حقیقی بھائی چارے ، خیرات پسندی اور معافی سے محبت کی شیریں آسائشوں کی عکاسی کرتا ہے۔ اس چرچ کے تمام اراکین کو سب گناہوں سے، غلط قسم کی پیشن گوئیوں،منصفیوں، مذمتوں، اصلاحوں، غلط تاثر ات کو لینے اور غلط متاثر ہونے سے آزاد رہنے کے لئے روزانہ خیال رکھنا چاہئے اور دعا کرنی چاہئے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 1۔

فرض کے لئے چوکس

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ وہ ہر روز جارحانہ ذہنی آراء کے خلاف خود کو تیار رکھے، اور خدا اور اپنے قائد اور انسانوں کے لئے اپنے فرائض کو نہ کبھی بھولے اور نہ کبھی نظر انداز کرے۔ اس کے کاموں کے باعث اس کا انصاف ہوگا، وہ بے قصور یا قصوارہوگا۔ 

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 6۔


████████████████████████████████████████████████████████████████████████