اتوار 4 ستمبر ، 2022



مضمون۔ انسان

SubjectMan

سنہری متن: 1 کرنتھیوں 6 باب20 آیت

”کیونکہ تم قیمت سے خریدے گئے ہو۔ پس اپنے بدن سے خدا کا جلال ظاہر کرو۔“



Golden Text: I Corinthians 6 : 20

For ye are bought with a price: therefore glorify God in your body, and in your spirit, which are God’s.





سبق کی آڈیو کے لئے یہاں کلک کریں

یوٹیوب سے سننے کے لئے یہاں کلک کریں

████████████████████████████████████████████████████████████████████████


جوابی مطالعہ: یعقوب 1 باب12تا14، 21، 22، 25 آیات


12۔ مبارک ہے وہ شخص جو آزمائش کی برداشت کرتا ہے کیونکہ جب مقبول ٹھہرا تو زندگی کا وہ تاج حاصل کرے گا جس کا خداوند نے اپنے محبت کرنے والوں سے وعدہ کیا ہے۔

13۔ جب کوئی آزمایا جائے تو یہ نہ کہے کہ میری آزمائش خدا کی طرف سے ہوتی ہے کیونکہ نہ تو خدا بدی سے آزمایا جا سکتا ہے اور نہ وہ کسی کو آزماتا ہے۔

14۔ ہاں ہر شخص اپنی ہی خواہشوں میں کھنچ کر اور پھنس کر آزمایا جاتا ہے۔

21۔ اِس لئے ساری نجاست اور بدی کے فضلہ کو دور کر کے اْس کلام کو حلیمی سے قبول کر لو جو دل میں بویا گیا اور تمہاری روحوں کو نجات دے سکتا ہے۔

22۔ لیکن کلام پر عمل کرنے والے بنو نہ کہ محض سننے والے جو اپنے آپ کو دھوکہ دیتے ہیں۔

25۔ لیکن جو شخص آزادی کی شریعت پر غور سے نظرکرتا رہتا ہے وہ اپنے کام میں اِس لئے برکت پائے گا کہ سْن کر بھولتا نہیں بلکہ عمل کرتا ہے۔

Responsive Reading: James 1 : 12-14, 21, 22, 25

12.     Blessed is the man that endureth temptation: for when he is tried, he shall receive the crown of life, which the Lord hath promised to them that love him.

13.     Let no man say when he is tempted, I am tempted of God: for God cannot be tempted with evil, neither tempteth he any man:

14.     But every man is tempted, when he is drawn away of his own lust, and enticed.

21.     Wherefore lay apart all filthiness and superfluity of naughtiness, and receive with meekness the engrafted word, which is able to save your souls.

22.     But be ye doers of the word, and not hearers only, deceiving your own selves.

25.     But whoso looketh into the perfect law of liberty, and continueth therein, he being not a forgetful hearer, but a doer of the work, this man shall be blessed in his deed.



درسی وعظ



بائبل


درسی وعظ

بائبل

1 . ۔ پیدائش 1 باب27، 31 (تا پہلی) آیات

27۔ اور خدا نے انسان کو اپنی صورت پر پیدا کیا۔ خدا کی صورت پر اْس کو پیدا کیا۔ نر و ناری اْن کو پیدا کیا۔

31۔اور خدا نے سب پر جو اْس نے بنایا تھا نظر کی اور دیکھا کہ بہت اچھا ہے۔

1. Genesis 1 : 27, 31 (to 1st .)

27     So God created man in his own image, in the image of God created he him; male and female created he them.

31     And God saw every thing that he had made, and, behold, it was very good.

2 . ۔ خروج 20 باب1تا3، 13، 14، 17 آیات

1۔ اور خدا نے یہ سب باتیں اْن کو بتائیں۔

2۔ خداوند تیرا خدا جو تجھے ملک مصر سے غلامی کے گھر سے نکال لایا مَیں ہوں۔

3۔ میرے حضور تْو غیر معبودوں کو نہ ماننا۔

13۔ تو خون نہ کر۔

14۔ تو زنا نہ کر۔

17۔ تو اپنے پڑوسی کے گھر کا لالچ نہ کرنا۔ تو اپنے پڑوسی کی بیوی کا لالچ نہ کرنا اور نہ اْس کے غلام اور نہ اْس کی لونڈی اور اْس کے بیل اور اْس کے گدھے کا اور نہ اپنے پڑوسی کی کسی اور چیز کا لالچ کرنا۔

2. Exodus 20 : 1-3, 13, 14, 17

1     And God spake all these words, saying,

2     I am the Lord thy God, which have brought thee out of the land of Egypt, out of the house of bondage.

3     Thou shalt have no other gods before me.

13     Thou shalt not kill.

14     Thou shalt not commit adultery.

17     Thou shalt not covet thy neighbour’s house, thou shalt not covet thy neighbour’s wife, nor his manservant, nor his maidservant, nor his ox, nor his ass, nor any thing that is thy neighbour’s.

3 . ۔ 2 سیموئیل 11 باب2تا6، 14، 15، 26، 27 آیات

2۔ اور شام کے وقت داؤد اپنے پلنگ پر سے اْٹھ کر بادشاہی محل کی چھت پر ٹہلنے لگا اور چھت پر سے اْس نے ایک عورت کو دیکھا جو نہا رہی تھی اور وہ عورت نہایت خوبصورت تھی۔

3۔ تب داؤد نے لوگ بھیج کر عورت کا حال دریافت کیا اور کسی نے کہا کیا وہ الِعام کی بیٹی بیتِ سبع نہیں جو حِتی اوریاہ کی بیوی ہے؟

4۔ اور داؤد نے لوگ بھیج کر اْسے بلایا۔ وہ اْس کے پاس آئی اور اْس نے اْس کے ساتھ صحبت کی کیونکہ وہ اپنی ناپاکی سے پاک ہو چکی تھی۔ پھر وہ اپنے گھر کو چلی گئی۔

5۔ اور وہ عورت حاملہ ہوگئی۔ سو اْس نے داؤد کے پاس خبر بھیجی کہ مَیں حاملہ ہوں۔

6۔ اور داؤد نے یوآب کو کہلا بھیجا کہ حِتی اوریاہ کو میرے پاس بھیج دے۔ سو یوآب نے اوریاہ کو داؤد کے پاس بھیج دیا۔

14۔ صبح کو داؤد نے یوآب کے لئے ایک خط لکھا اور اْسے اوریاہ کے ہاتھ بھیجا۔

15۔ اور اْس نے خط میں لکھا کہ اوریاہ کو گھمسان میں سب سے آگے رکھنا اور تم اْس کے پاس سے ہٹ جانا تاکہ وہ مارا جائے اور جان بحق ہو۔

26۔ جب اوریاہ کی بیوی نے سنا کہ اْس کا شوہر اوریاہ مر گیا تو وہ اپنے شوہر کے لئے ماتم کرنے لگی۔

27۔ اور جب سوگ کے دن گزر گئے تو داؤد نے اْسے بلوا کر اْس کو اپنے محل میں رکھ لیا اور وہ اْس کی بیوی ہو گئی اور اْس سے اْس کے ایک لڑکا ہوا پر اْس کام سے جسے داؤد نے کیا تھا خداوند ناراض ہوا۔

3. II Samuel 11 : 2-6, 14, 15, 26, 27

2     And it came to pass in an eveningtide, that David arose from off his bed, and walked upon the roof of the king’s house: and from the roof he saw a woman washing herself; and the woman was very beautiful to look upon.

3     And David sent and enquired after the woman. And one said, Is not this Bath-sheba, the daughter of Eliam, the wife of Uriah the Hittite?

4     And David sent messengers, and took her; and she came in unto him, and he lay with her; for she was purified from her uncleanness: and she returned unto her house.

5     And the woman conceived, and sent and told David, and said, I am with child.

6     And David sent to Joab, saying, Send me Uriah the Hittite. And Joab sent Uriah to David.

14     And it came to pass in the morning, that David wrote a letter to Joab, and sent it by the hand of Uriah.

15     And he wrote in the letter, saying, Set ye Uriah in the forefront of the hottest battle, and retire ye from him, that he may be smitten, and die.

26     And when the wife of Uriah heard that Uriah her husband was dead, she mourned for her husband.

27     And when the mourning was past, David sent and fetched her to his house, and she became his wife, and bare him a son. But the thing that David had done displeased the Lord.

4 . ۔ متی 4 باب23 آیت

23۔ اور یسوع تمام گلیل میں پھرتا رہا اور اْن کے عبادتخانوں میں تعلیم دیتا اور بادشاہی کی خوشخبری کی منادی کرتا اور لوگوں کی ہر طرح کی بیماری اور ہر طرح کی کمزوری کو دور کرتا رہا۔

4. Matthew 4 : 23

23     And Jesus went about all Galilee, teaching in their synagogues, and preaching the gospel of the kingdom, and healing all manner of sickness and all manner of disease among the people.

5 . ۔ متی 5 باب2 آیت

2۔ اور وہ اپنی زبان کھول کراْن کو یوں تعلیم دینے گا۔

5. Matthew 5 : 2

2     And he opened his mouth, and taught them, saying,

6 . ۔ متی 6 باب9 (تا:)، 13 آیات

9۔ پس تم اِس طرح دعا کیا کرو:

13۔ اور ہمیں آزمائش میں نہ لا بلکہ برائی سے بچا۔کیونکہ بادشاہی اور قدرت اور جلال ہمیشہ تیرے ہی ہیں۔ آمین۔

6. Matthew 6 : 9 (to :), 13

9     After this manner therefore pray ye:

13     And lead us not into temptation, but deliver us from evil: For thine is the kingdom, and the power, and the glory, for ever. Amen.

7 . ۔ یوحنا 8 باب2تا11 آیات

2۔ صبح سویرے ہی وہ پھر ہیکل میں آیا اور سب لوگ اس کے پاس آئے اور وہ بیٹھ کر انہیں تعلیم دینے لگا۔

3۔ اور فقیہ اور فریسی ایک عورت کو لائے جو زنا میں پکڑی گئی تھی اور اسے بیچ میں کھڑا کر کے یسوع سے کہا۔

4۔ اے استاد!یہ عورت زنا میں عین فعل کے وقت پکڑی گئی ہے۔

5۔ توریت میں موسٰی نے ہم کوحکم دیا ہے کہ ایسی عورتوں کو سنگسار کریں۔ پس تو اس عورت کی نسبت کیا کہتا ہے؟

6۔ انہوں نے اسے آزمانے کے لئے یہ کہا تاکہ اس پر الزام لگانے کا کوئی سبب نکالیں مگر یسوع جھک کر انگلی سے زمین پر لکھنے لگا۔

7۔ جب وہ اس سے سوال کرتے ہی رہے تو اس نے سیدھے ہو کر ان سے کہا کہ جو تم میں بیگناہ ہو وہی پہلے اس کے پتھر مارے۔

8۔ اور پھر جھک کر زمین پر انگلی سے لکھنے لگا۔

9۔ وہ یہ سن کر بڑوں سے لے کر چھوٹوں تک ایک ایک کر کے نکل گئے اور یسوع اکیلا رہ گیا اور عورت وہیں بیچ میں رہ گئی۔

10۔ یسوع نے سیدھے ہو کر اس سے کہا اے عورت یہ لوگ کہاں گئے؟کیا کسی نے تجھ پرحکم نہیں لگایا؟

11۔ اس نے کہا اے خداوند کسی نے نہیں۔ یسوع نے کہا میں بھی تجھ پر حکم نہیں لگاتا۔ جا۔ پھر گناہ نہ کرنا۔

7. John 8 : 2-11

2     And early in the morning he came again into the temple, and all the people came unto him; and he sat down, and taught them.

3     And the scribes and Pharisees brought unto him a woman taken in adultery; and when they had set her in the midst,

4     They say unto him, Master, this woman was taken in adultery, in the very act.

5     Now Moses in the law commanded us, that such should be stoned: but what sayest thou?

6     This they said, tempting him, that they might have to accuse him. But Jesus stooped down, and with his finger wrote on the ground, as though he heard them not.

7     So when they continued asking him, he lifted up himself, and said unto them, He that is without sin among you, let him first cast a stone at her.

8     And again he stooped down, and wrote on the ground.

9     And they which heard it, being convicted by their own conscience, went out one by one, beginning at the eldest, even unto the last: and Jesus was left alone, and the woman standing in the midst.

10     When Jesus had lifted up himself, and saw none but the woman, he said unto her, Woman, where are those thine accusers? hath no man condemned thee?

11     She said, No man, Lord. And Jesus said unto her, Neither do I condemn thee: go, and sin no more.

8 . ۔ 1 کرنتھیوں 6 باب19 آیت

19۔ کیا تم نہیں جانتے کہ تمہارا بدن روح القدس کا مقدِس ہے جو تم میں بسا ہوا ہے اور تم کو خدا کی طرف سے ملا ہے؟ اور تم اپنے نہیں۔

8. I Corinthians 6 : 19

19     What? know ye not that your body is the temple of the Holy Ghost which is in you, which ye have of God, and ye are not your own?

9 . ۔ گلتیوں 5 باب1، 19تا23 آیات

1۔ مسیح نے ہمیں آزاد رہنے کے لئے آزاد کیا ہے پس قائم رہو اور دوبارہ غلامی کے جوئے میں نہ جتو۔

19۔ اب جسم کے کام توظاہر ہیں یعنی حرامکاری، ناپاکی، شہوت پرستی۔

20۔ بْت پرستی، جادوگری، عداوتیں، جھگڑا، حسد، غصہ، تفرقے، جدائیاں، بدعتیں۔

21۔ بْغض، نشہ بازی، ناچ رنگ، اور اَور اِن کی مانند۔ ان کی بابت تمہیں پہلے سے کہہ دیتا ہوں جیسا کہ پیشتر جتا چْکا ہوں کہ ایسے کام کرنے والے خدا کی بادشاہی کے وارث نہ ہوں گے۔

22۔ مگر روح کا پھل محبت، خوشی، اطمینان، تحمل، مہربانی، نیکی، ایمانداری۔

23۔ حلم، پرہیزگاری ہے۔ ایسے کاموں کی کوئی شریعت مخالف نہیں۔

9. Galatians 5 : 1, 19-23

1     Stand fast therefore in the liberty wherewith Christ hath made us free, and be not entangled again with the yoke of bondage.

19     Now the works of the flesh are manifest, which are these; Adultery, fornication, uncleanness, lasciviousness,

20     Idolatry, witchcraft, hatred, variance, emulations, wrath, strife, seditions, heresies,

21     Envyings, murders, drunkenness, revellings, and such like: of the which I tell you before, as I have also told you in time past, that they which do such things shall not inherit the kingdom of God.

22     But the fruit of the Spirit is love, joy, peace, longsuffering, gentleness, goodness, faith,

23     Meekness, temperance: against such there is no law.



سائنس اور صح


1 . ۔ 516 :19۔21

انسان، اْس کی شبیہ پر خلق کئے جانے سے پوری زمین پر خدا کی حاکمیت کی عکاسی کرتا اور ملکیت رکھتا ہے۔

1. 516 : 19-21

Man, made in His likeness, possesses and reflects God's dominion over all the earth.

2 . ۔ 519 :3۔6

خدا اپنے کام سے مطمین تھا۔وہ اپنی لافانی خود ساختگی اور لافانی حکمت کا اجرکیسے ہو سکتا ہے جبکہ روحانی تخلیق اِس کا شاخسانہ تھی؟

2. 519 : 3-6

Deity was satisfied with His work. How could He be otherwise, since the spiritual creation was the outgrowth, the emanation, of His infinite self-containment and immortal wisdom?

3 . ۔ 102 :9۔11

مگر یہاں روح کی ایک حقیقی دلکشی ہے۔ سوئی کی نوک سے قطر تک خدا، یعنی الٰہی عقل کی سب کو سمیٹنے والی طاقت یا دلکشی کی نشاندہی کرتی ہے۔

3. 102 : 9-11

There is but one real attraction, that of Spirit. The pointing of the needle to the pole symbolizes this all-embracing power or the attraction of God, divine Mind.

4 . ۔ 337 :6۔13، 14 (مسیحی)۔19

شہوت پرستی نعمت نہیں بلکہ غلامی ہے۔ حقیقی خوشی کے لئے انسان کو اپنے اصول، الٰہی محبت کے ساتھ ہم آہنگ ہونا چاہئے؛ بیٹے کو باپ کے ساتھ،مسیح میں مطابقت کے ساتھ متحد ہونا چاہئے۔الٰہی سائنس کے مطابق انسا ن کا درجہ ویسا ہی کامل ہے جیسی وہ عقل ہے جو اْسے بناتی ہے۔ہستی کی حقیقت انسان کو ہم آہنگ اور لافانی بناتی ہے، جبکہ غلطی فانی اور بے ہنگم ہے۔

کرسچن سائنس بیان کرتی ہے، جیسا کہ بائبل سکھاتی ہے، کہ پاکدل کے علاوہ کوئی خدا کو نہیں دیکھ سکتا۔ اس پاکیزگی کے تناسب میں انسان کامل ہے، اور کاملیت آسمانی ہستی کی ترتیب ہے جو مسیح میں زندگی کو ظاہر کرتی ہے، جو زندگی کا روحانی نمونہ ہے۔

4. 337 : 6-13, 14 (Christian)-19

Sensualism is not bliss, but bondage. For true happiness, man must harmonize with his Principle, divine Love; the Son must be in accord with the Father, in conformity with Christ. According to divine Science, man is in a degree as perfect as the Mind that forms him. The truth of being makes man harmonious and immortal, while error is mortal and discordant.

Christian Science demonstrates that none but the pure in heart can see God, as the gospel teaches. In proportion to his purity is man perfect; and perfection is the order of celestial being which demonstrates Life in Christ, Life's spiritual ideal.

5 . ۔ 272 :19۔27

یہ مادی وجودیت کے بھیانک نقلی نتائج کے مقابلے میں خیالات کی روحانیت اور روز مرہ کی مسیحت پسندی ہے؛ یہ نچلے رجحانات اور ناپاکی اور شہوت پرستی کی زمینی کشش کے مقابلے میں پاکیزگی اور صداقت ہے، جو حقیقتاً کرسچن سائنس کی الٰہی ابتدا اور کام کی تصدیق کرتی ہے۔ کرسچن سائنس کی کامیابیاں غلطی اور بدی کی تباہی سے ریکارڈ کی جاتی ہیں، جس سے گناہ، بیماری اور موت کے ناپاک عقائد کی ترویج ہوتی ہے۔

5. 272 : 19-27

It is the spiritualization of thought and Christianization of daily life, in contrast with the results of the ghastly farce of material existence; it is chastity and purity, in contrast with the downward tendencies and earthward gravitation of sensualism and impurity, which really attest the divine origin and operation of Christian Science. The triumphs of Christian Science are recorded in the destruction of error and evil, from which are propagated the dismal beliefs of sin, sickness, and death.

6 . ۔ 51 :28۔32

یسوع بے غرض تھا۔ اْس کی روحانیت نے اْسے حسی لوگوں سے منفرد رکھا، اور خود غرض مادی لوگوں کی اْس کے لئے نفرت کا سبب بھی یہی بنی؛ مگر یہ اْس کی روحانیت ہی تھی جس نے یسوع کو بیمار کو شفا دینے، بدروح کو نکالنے اور مردوں کو زندہ کرنے کے قابل بنایا۔

6. 51 : 28-32

Jesus was unselfish. His spirituality separated him from sensuousness, and caused the selfish materialist to hate him; but it was this spirituality which enabled Jesus to heal the sick, cast out evil, and raise the dead.

7 . ۔ 85 :24۔27

یسوع بدکار اور زناکار نسل کو جانتا تھا جو روحانی کی بجائے مادی چیزوں کی تلاش میں رہتی ہے۔ مادیت پرستی کے لئے اْس کی مذمت شدید مگر بہت ضروری تھی۔

7. 85 : 24-27

Jesus knew the generation to be wicked and adulterous, seeking the material more than the spiritual. His thrusts at materialism were sharp, but needed.

8 . ۔ 11 :1 (یسوع کی)۔4

یسوع کی دعا، ”ہمارے قرض ہمیں بخش“ نے معافی کی اصطلاح کی وضاحت کی۔ جب زناکار عورت سے اْس نے کہا، ”جا اور پھر گناہ نہ کرنا۔“

8. 11 : 1 (Jesus’)-4

Jesus' prayer, "Forgive us our debts," specified also the terms of forgiveness. When forgiving the adulterous woman he said, "Go, and sin no more."

9 . ۔ 51 :19۔27

اْس کا کامل نمونہ ہم سب کی نجات کے لئے تھا، مگر صرف وہ کام کرنے کے وسیلہ سے جو اْس نے کئے اور دوسروں کو اْن کی تعلیم دی۔ شفا کے لئے اْس کا مقصد صرف صحت کو بحال کرنا نہیں تھا بلکہ اپنا الٰہی اصول ظاہر کرنا بھی تھا۔ جو کچھ اْس نے کیا اور کہا اْس میں وہ خدا سے، سچائی اور محبت سے متاثر تھا۔ اْس کو اذیت دینے والوں کے مقاصد غرور، حسد، ظلم اور بدلہ تھا جو جسمانی یسوع پر اْترا، مگر نشانہ الٰہی اصول یعنی محبت تھی، جس نے اْن کی شہوت پرستی کو ملامت کیا تھا۔

9. 51 : 19-27

His consummate example was for the salvation of us all, but only through doing the works which he did and taught others to do. His purpose in healing was not alone to restore health, but to demonstrate his divine Principle. He was inspired by God, by Truth and Love, in all that he said and did. The motives of his persecutors were pride, envy, cruelty, and vengeance, inflicted on the physical Jesus, but aimed at the divine Principle, Love, which rebuked their sensuality.

10 . ۔ 201 :1۔2 اگلا صفحہ

اب تک کا بہترین وعظ جسکی تعلیم دی گئی ہے وہ سچائی ہے جس کا اظہار اور مشق گناہ، بیماری اور موت کی تباہی سے ہوا ہے۔یہ سب جانتے ہوئے اور اِس کے ساتھ ساتھ یہ بھی جانتے ہوئے کہ ہماری ایک رغبت ہمارے اندر اعلیٰ ہے اور وہ ہماری زندگیوں میں آگے بڑھتی ہے، یسوع نے کہا، ”کوئی آدمی دو مالکوں کی خدمت نہیں کرسکتا۔“

ہم جھوٹی بنیادوں پر محفوظ تعمیرات نہیں کر سکتے۔سچائی ایک نئی مخلوق بناتی ہے، جس میں پرانی چیزیں جاتی رہتی ہیں اور ”سب چیزیں نئی ہو جاتی ہیں۔“جذبات، خود غرضی، نفرت، خوف، ہر سنسنی خیزی، روحانیت کو تسلیم کرتے ہیں اور ہستی کی افراط خدا، یعنی اچھائی کی طرف ہے۔

ہم بھرے ہوئے برتنوں کو پھر سے نہیں بھر سکتے۔ انہیں پہلے خالی ہونا ہوگا۔آئیے ہم غلطی سے منحرف ہوں۔ پھر، جب خدا کی آندھی چلتی ہے، تو ہم اپنے قریبی خستہ حالوں کو گلے نہیں لگائیں گے۔

مادی عقل میں سے غلطی کو باہر نکالنے کا راستہ یہ ہے کہ اْس میں محبت کی سیلابی لہروں کے وسیلہ سچائی کو بھر دیا جائے۔مسیحی کاملیت کو کسی اور بنیاد پر فتح نہیں کیا جاتا۔

پاکیزگی پر پاکیزگی کی پیوند کاری کرنا، یہ فرض کرنا کہ گناہ بِنا ترک کئے معاف کیا جاسکتا ہے، ایسی ہی بیوقوفی ہے جیسے مچھروں کو نکیل ڈالنا اور اونٹوں کو نگلنا ہوتا ہے۔

10. 201 : 1-2 next page

The best sermon ever preached is Truth practised and demonstrated by the destruction of sin, sickness, and death. Knowing this and knowing too that one affection would be supreme in us and take the lead in our lives, Jesus said, "No man can serve two masters."

We cannot build safely on false foundations. Truth makes a new creature, in whom old things pass away and "all things are become new." Passions, selfishness, false appetites, hatred, fear, all sensuality, yield to spirituality, and the superabundance of being is on the side of God, good.

We cannot fill vessels already full. They must first be emptied. Let us disrobe error. Then, when the winds of God blow, we shall not hug our tatters close about us.

The way to extract error from mortal mind is to pour in truth through flood-tides of Love. Christian perfection is won on no other basis.

Grafting holiness upon unholiness, supposing that sin can be forgiven when it is not forsaken, is as foolish as straining out gnats and swallowing camels.

11 . ۔ 82 :31۔2

طاقت کی عظیم تر ترقی کی جانب تیزی سے بڑھتے ہوئے گناہ اور عیاشی کی دنیا میں اس بات پرتوجہ سے غور کرنا عقلمندی ہے کہ آیامتاثر کرنے والی عقل انسانی ہے یا الٰہی۔

11. 82 : 31-2

In a world of sin and sensuality hastening to a greater development of power, it is wise earnestly to consider whether it is the human mind or the divine Mind which is influencing one.

12 . ۔ 56 :15۔3

شادی کے عہد سے بے وفائی نسلِ انسانی میں معاشرتی لعنت بن چکی ہے، ”وہ وبا جو اندھیرے میں چلتی ہے،۔۔۔وہ ہلاکت جو دوپہر کو ویران کرتی ہے۔“ یہ حکم کہ ”تو زنا نہ کر“ اِس حکم سے کم ناگزیر نہیں ہے کہ ”تو خون نہ کر“۔

پاک دامنی تہذیب اور ترقی کا سیمنٹ ہے۔ اِس کے بغیر معاشرے میں استحکام نہیں اور اِس کے بغیر کوئی شخص زندگی کی سائنس نہیں پا سکتا۔

12. 56 : 15-3

Infidelity to the marriage covenant is the social scourge of all races, "the pestilence that walketh in darkness, ... the destruction that wasteth at noonday." The commandment, "Thou shalt not commit adultery," is no less imperative than the one, "Thou shalt not kill."

Chastity is the cement of civilization and progress. Without it there is no stability in society, and without it one cannot attain the Science of Life.

13 . ۔ 234 :26۔3

آپ کو چاہئے کہ برے خیالات کو پہلی فرصت میں قابو کر لیں، ورنہ دوسری مرتبہ یہ آپ کو قابو کر لیں گے۔ یسوع نے واضح کیا تھا کہ ممنوع چیزوں کا لالچ کرنا ایک اخلاقی حکم کو توڑنا تھا۔ اْس نے انسانی عقل کے اْس عمل پر بہت زور دیاجو حواس کے لئے غیبی ہو۔

برے خیالات اور ارادے کسی شخص کے ایمان کی اجازت سے زیادہ آگے نہیں جاتے اور نہ زیادہ نقصان پہنچاتے ہیں۔ اگر فضیلت اور سچائی مضبوط دفاع قائم کریں تو برے خیالات، شہوت اور بدخواہی پر مبنی مقاصد آگے نہیں بڑھ سکتے، اور منتشر ہونے والے زدانوں کی مانند ایک انسانی ذہن سے دوسرے میں غیر متوقع مسکن کی تلاش میں نہیں رہتے۔

13. 234 : 26-3

You must control evil thoughts in the first instance, or they will control you in the second. Jesus declared that to look with desire on forbidden objects was to break a moral precept. He laid great stress on the action of the human mind, unseen to the senses.

Evil thoughts and aims reach no farther and do no more harm than one's belief permits. Evil thoughts, lusts, and malicious purposes cannot go forth, like wandering pollen, from one human mind to another, finding unsuspected lodgment, if virtue and truth build a strong defence.

14 . ۔ 406 :19۔25

بدی، ہر قسم کی غلطی، کا مقابلہ کریں، تو وہ آپ کے پاس سے بھاگ جائے گی۔غلطی زندگی کی مخالف ہے۔ ہم سچائی پر غلطی، زندگی پر موت اور اچھائی پر بدی کی فوقیت کو ہر سمت میں خود کو دستیاب رکھنے کے لئے بہت اونچا کرسکتے، اور بالاآخر کریں گے، اور یہ ترقی تب تک جاری رہے گی جب تک ہم خدا کے خیال کی کاملیت تک نہیں پہنچتے اور اس بات کا مزید کوئی خوف نہیں رکھتے کہ ہم بیمار ہوں گے یا مر جائیں گے۔

14. 406 : 19-25

Resist evil — error of every sort — and it will flee from you. Error is opposed to Life. We can, and ultimately shall, so rise as to avail ourselves in every direction of the supremacy of Truth over error, Life over death, and good over evil, and this growth will go on until we arrive at the fulness of God's idea, and no more fear that we shall be sick and die.

15 . ۔ 60 :29۔1

جان میں لامتناہی وسائل ہیں جن سے انسان کو برکت دینا ہوتی ہے اور خوشی مزید آسانی سے حاصل کی جاتی ہے اور ہمارے قبضہ میں مزید محفوظ رہے گی، اگر جان میں تلاش کی جائے گی۔ صرف بلند لطف ہی لافانی انسان کے نقوش کو تسلی بخش بنا سکتے ہیں۔

15. 60 : 29-1

Soul has infinite resources with which to bless mankind, and happiness would be more readily attained and would be more secure in our keeping, if sought in Soul. Higher enjoyments alone can satisfy the cravings of immortal man.

16 . ۔ 495 :14۔24

جب بیماری یا گناہ کا بھرم آپ کو آزماتا ہے تو خدا اور اْس کے خیال کے ساتھ مضبوطی کے ساتھ منسلک رہیں۔ اْس کے مزاج کے علاوہ کسی چیز کو آپ کے خیال میں قائم ہونے کی اجازت نہ دیں۔ کسی خوف یا شک کو آپ کے اس واضح اورمطمین بھروسے پر حاوی نہ ہونے دیں کہ پہچانِ زندگی کی ہم آہنگی، جیسے کہ زندگی ازل سے ہے، اس چیز کے کسی بھی درد ناک احساس یا یقین کو تبا ہ کر سکتی ہے جو زندگی میں ہے ہی نہیں۔جسمانی حس کی بجائے کرسچن سائنس کو ہستی سے متعلق آپ کی سمجھ کی حمایت کرنے دیں، اور یہ سمجھ غلطی کو سچائی کے ساتھ اکھاڑ پھینکے گی، فانیت کوغیر فانیت کے ساتھ تبدیل کرے گی، اور خاموشی کی ہم آہنگی کے ساتھ مخالفت کرے گی۔

16. 495 : 14-24

When the illusion of sickness or sin tempts you, cling steadfastly to God and His idea. Allow nothing but His likeness to abide in your thought. Let neither fear nor doubt overshadow your clear sense and calm trust, that the recognition of life harmonious — as Life eternally is — can destroy any painful sense of, or belief in, that which Life is not. Let Christian Science, instead of corporeal sense, support your understanding of being, and this understanding will supplant error with Truth, replace mortality with immortality, and silence discord with harmony.

17 . ۔ 527 :4۔5

انسان خدا کا عکس ہے، جسے پرورش کی ضرورت نہیں، بلکہ وہ ہمیشہ خوبصورت اور مکمل عکس رہتاہے۔

17. 527 : 4-5

Man is God's reflection, needing no cultivation, but ever beautiful and complete.


روز مرہ کے فرائ

منجاب میری بیکر ایڈ

روز مرہ کی دعا

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ ہر روز یہ دعا کرے: ’’تیری بادشاہی آئے؛‘‘ الٰہی حق، زندگی اور محبت کی سلطنت مجھ میں قائم ہو، اور سب گناہ مجھ سے خارج ہو جائیں؛ اور تیرا کلام سب انسانوں کی محبت کو وافر کرے، اور اْن پر حکومت کرے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 4۔

مقاصد اور اعمال کا ایک اصول

نہ کوئی مخالفت نہ ہی کوئی محض ذاتی وابستگی مادری چرچ کے کسی رکن کے مقاصد یا اعمال پر اثر انداز نہیں ہونی چاہئے۔ سائنس میں، صرف الٰہی محبت حکومت کرتی ہے، اور ایک مسیحی سائنسدان گناہ کو رد کرنے سے، حقیقی بھائی چارے ، خیرات پسندی اور معافی سے محبت کی شیریں آسائشوں کی عکاسی کرتا ہے۔ اس چرچ کے تمام اراکین کو سب گناہوں سے، غلط قسم کی پیشن گوئیوں،منصفیوں، مذمتوں، اصلاحوں، غلط تاثر ات کو لینے اور غلط متاثر ہونے سے آزاد رہنے کے لئے روزانہ خیال رکھنا چاہئے اور دعا کرنی چاہئے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 1۔

فرض کے لئے چوکس

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ وہ ہر روز جارحانہ ذہنی آراء کے خلاف خود کو تیار رکھے، اور خدا اور اپنے قائد اور انسانوں کے لئے اپنے فرائض کو نہ کبھی بھولے اور نہ کبھی نظر انداز کرے۔ اس کے کاموں کے باعث اس کا انصاف ہوگا، وہ بے قصور یا قصوارہوگا۔ 

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 6۔


████████████████████████████████████████████████████████████████████████