اتوار 5 اپریل، 2020 |

اتوار 5 اپریل، 2020



مضمون۔ غیر واقعیت

SubjectUnreality

سنہری متن:سنہری متن: 2 کرنتھیوں 4 باب 6 آیت

’’خدا ہی ہے جس نے فرمایا کہ تاریکی میں سے نور چمکے اور وہی ہمارے دلوں میں چمکا تاکہ خدا کی پہچان کا نور یسوع مسیح کے چہرے سے جلوہ گر ہو۔‘‘



Golden Text: II Corinthians 4 : 6

God, who commanded the light to shine out of darkness, hath shined in our hearts, to give the light of the knowledge of the glory of God in the face of Jesus Christ.





سبق کی آڈیو کے لئے یہاں کلک کریں

یوٹیوب سے سننے کے لئے یہاں کلک کریں

████████████████████████████████████████████████████████████████████████


جوابی مطالعہ: 91 زبور 2، 3، 5، 6، 9 تا 11آیات


2۔ مَیں خداوند کے بارے میں کہوں گا وہی میری پناہ اور میرا گڑھ ہے۔ وہ میرا خدا ہے جس پر میراتوکل ہے۔

3۔ کیونکہ وہ تجھے صیاد کے پھندے سے اور مہلک وبا سے چھڑا ئے گا۔

5۔ تْو نہ رات کی ہیبت سے ڈرے گا نہ دِن کو اْڑنے والے تیر سے۔

6۔ نہ اْس وبا سے جو اندھیرے میں چلتی ہے۔ نہ اْس ہلاکت سے جودوپہر کو ویران کرتی ہے۔

9۔ پر تْو اے خداوند میری پناہ ہے! تْو نے حق تعالیٰ کو اپنا مسکن بنایا۔

10۔ تجھ پر کوئی آفت نہ آئے گی اور کوئی وبا تیرے خیمے کے نزدیک نہ پہنچے گی۔

11۔ کیونکہ وہ تیری بابت اپنے فرشتوں کو حکم دے گا۔ کہ تیری سب راہوں میں تیری حفاظت کریں۔

Responsive Reading: Psalm 91 : 2, 3, 5, 6, 9-11

2.     I will say of the Lord, He is my refuge and my fortress: my God; in him will I trust.

3.     Surely he shall deliver thee from the snare of the fowler, and from the noisome pestilence.

5.     Thou shalt not be afraid for the terror by night; nor for the arrow that flieth by day;

6.     Nor for the pestilence that walketh in darkness; nor for the destruction that wasteth at noonday.

9.     Because thou hast made the Lord, which is my refuge, even the most High, thy habitation;

10.     There shall no evil befall thee, neither shall any plague come nigh thy dwelling.

11.     For he shall give his angels charge over thee, to keep thee in all thy ways.



درسی وعظ



بائبل


درسی وعظ

بائبل

1۔ یعقوب 1 باب 17 آیت

17۔ ہر اچھی بخشش اور ہر اچھا انعام اوپر سے ہے اور نوروں کے باپ کی طرف سے ملتا ہے جس میں نہ کوئی تبدیلی ہو سکتی ہے اور نہ گردش کے سبب سے اْس پر سایہ پڑ سکتا ہے۔

1. James 1 : 17

17     Every good gift and every perfect gift is from above, and cometh down from the Father of lights, with whom is no variableness, neither shadow of turning.

2۔ 46 زبور 1تا3 (تا پہلا)، 4، 5 آیات

1۔ خدا ہماری پناہ اور قوت ہے۔ مصیبت میں مستید مدد گار۔

2۔ اس لئے ہم کو کچھ خوف نہیں خواہ زمین اْلٹ جائے۔ اور پہاڑ سمندر کی تہہ میں ڈال دیئے جائیں۔

3۔ خواہ اْس کا پانی شور مچائے اور موجزن ہو اور پہاڑ اْس کی طغیانی سے ہل جائیں۔

4۔ ایک ایسا دریا ہے جس کی شاخوں سے خدا کے شہر کو یعنی خدا تعالیٰ کے مقدس مسکن کو فرحت ہوتی ہے۔

5۔ خدا اْس میں ہے۔ اْسے کبھی جنبش نہ ہو گی۔ خدا صبح سویرے اْس کی کْمک کرے گا۔

2. Psalm 46 : 1-3 (to 1st .), 4, 5

1     God is our refuge and strength, a very present help in trouble.

2     Therefore will not we fear, though the earth be removed, and though the mountains be carried into the midst of the sea;

3     Though the waters thereof roar and be troubled, though the mountains shake with the swelling thereof.

4     There is a river, the streams whereof shall make glad the city of God, the holy place of the tabernacles of the most High.

5     God is in the midst of her; she shall not be moved: God shall help her, and that right early.

3۔ مرقس 3باب7 (یسوع) (تا:)، 10 آیات

7۔ اور یسوع اپنے شاگردوں کے ساتھ جھیل کی طرف چلا گیا۔

10۔ کیونکہ اْس نے بہت لوگوں کو اچھا کیا تھا۔ چنانچہ جتنے لوگ سخت بیماریوں میں گرفتارتھے اْس پر گرے پڑتے تھے کہ اْسے چھْو لیں۔

3. Mark 3 : 7 (Jesus) (to :), 10

7     Jesus withdrew himself with his disciples to the sea:

10     For he had healed many; insomuch that they pressed upon him for to touch him, as many as had plagues.

4۔ مرقس 5 باب 21 (تا:)، 22، 23، 35، 36، 38 تا 41 (تا دوسرا)، 41 (لڑکی)، 42 آیات

12۔ جب یسوع پھر کشتی میں پار گیا تو بڑی بھیڑ اْس کے پاس جمع ہوئی۔

22۔ اور عبادتخانے کے سرداروں میں سے ایک یائیر نام آیا اور اْسے دیکھ کر اْس کے قدموں پر گرا۔

23۔ اور یہ کہہ کر اْس کی بہت منت کی میری چھوٹی بیٹی مرنے کو ہے۔ تْو آکراپنے ہاتھ اْس پر رکھ کہ وہ اچھی ہو جائے اور زندہ رہے۔

35۔ وہ یہ کہہ ہی رہا تھا کہ عبادتخانے کے سردار کے ہاں سے لوگوں نے آکر کہا تیری بیٹی مر گئی۔ اب استاد کو کیوں تکلیف دیتا ہے؟

36۔ جو بات وہ کہہ رہے تھے اْس پر یسوع نے توجہ نہ کر کے عبادت خانے کے سردار سے کہا خوف نہ کر فقط اعتقاد رکھ۔

38۔ اور وہ عبادتخانے کے سردار کے گھر میں آئے اور اْس نے دیکھا کہ ہْلڑ ہو رہا ہے اور لوگ بہت رو پیٹ رہے ہیں۔

39۔ اور اندر جا کر اْن سے کہا تم کیوں غْل مچاتے اور روتے ہو؟ لڑکی مر نہیں گئی بلکہ سوتی ہے۔

40۔ وہ اْس پر ہنسنے لگے لیکن وہ سب کو باہر نکال کر لڑکی کے ماں باپ کو اور اپنے ساتھیوں کو لے کر جہاں لڑکی پڑی تھی اندر گیا۔

41۔ اور لڑکی کا پاتھ پکڑ کر اْس سے کہا۔۔۔اے لڑکی مَیں تجھ سے کہتا ہوں اْٹھ۔

42۔ وہ لڑکی فی الفور اٹھ کر چلنے پھرنے لگی کیونکہ وہ بارہ برس کی تھی۔ اِس پر لوگ بہت حیران ہوئے۔

4. Mark 5 : 21 (to :), 22, 23, 35, 36, 38-41 (to 2nd ,), 41 (Damsel), 42

21     And when Jesus was passed over again by ship unto the other side, much people gathered unto him:

22     And, behold, there cometh one of the rulers of the synagogue, Jairus by name; and when he saw him, he fell at his feet,

23     And besought him greatly, saying, My little daughter lieth at the point of death: I pray thee, come and lay thy hands on her, that she may be healed; and she shall live.

35     While he yet spake, there came from the ruler of the synagogue’s house certain which said, Thy daughter is dead: why troublest thou the Master any further?

36     As soon as Jesus heard the word that was spoken, he saith unto the ruler of the synagogue, Be not afraid, only believe.

38     And he cometh to the house of the ruler of the synagogue, and seeth the tumult, and them that wept and wailed greatly.

39     And when he was come in, he saith unto them, Why make ye this ado, and weep? the damsel is not dead, but sleepeth.

40     And they laughed him to scorn. But when he had put them all out, he taketh the father and the mother of the damsel, and them that were with him, and entereth in where the damsel was lying.

41     And he took the damsel by the hand, and said unto her, … Damsel, I say unto thee, arise.

42     And straightway the damsel arose, and walked; for she was of the age of twelve years. And they were astonished with a great astonishment.

5۔ مرقس 6 باب1 (تا؛) آیت

1۔ پھر وہ وہاں سے نکل کر اپنے وطن میں آیا۔

5. Mark 6 : 1 (to ;)

1     And he went out from thence, and came into his own country;

6۔ یوحنا 8 باب2، 26، 31 تا34، 39 (اگر)، 40، 44، 56، 59 آیات

2۔ صبح سویرے ہی وہ پھر ہیکل میں آیا اور سب لوگ اْس کے پاس آئے اور وہ بیٹھ کر اْنہیں تعلیم دینے لگا۔

26۔ مجھے تمہاری نسبت بہت کچھ کہنا ہے اور فیصلہ کرنا ہے لیکن جس نے مجھے بھیجا وہ سچا ہے اور جو مَیں نے اْس سے سنا وہی دنیا سے کہتا ہوں۔

31۔ پس یسوع نے اْن یہودیوں سے کہا جنہوں نے اْس کا یقین کیا تھا کہ اگر تم میرے کلام پر قائم رہو گے تو حقیقت میں میرے شاگرد ٹھہرو گے۔

32۔ اور سچائی سے واقف ہو گے اور سچائی تم کو آزاد کرے گی۔

33۔ اْنہوں نے اْسے جواب دیا ہم تو ابراہام کی نسل سے ہیں اور کبھی کسی کے غلام نہیں رہے۔تْو کیونکر کہتا ہے کہ تم آزاد کئے جاؤ گے؟

34۔ یسوع نے اْنہیں جواب دیا میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ جو کوئی گناہ کرتا ہے گناہ کا غلام ہے۔

39۔ اگر تم ابراہام کے فرزند ہوتے تو ابراہام کے سے کام کرتے۔

40۔ لیکن اب تم مجھ جیسے شخص کے قتل کی کوشش میں ہو جس نے تم کو وہی حق بات بتائی جو خدا سے سنی۔ ابراہام نے تو یہ نہیں کیا تھا۔

44۔ تم اپنے باپ ابلیس سے ہو اور اپنے باپ کی خواہشوں کو پورا کرنا چاہتے ہو۔ وہ شروع ہی سے خونی ہے اور سچائی پر قائم نہیں رہا کیونکہ اْس میں سچائی ہے ہی نہیں۔ جب وہ جھوٹ بولتا ہے تو اپنی ہی سی کہتا ہے کیونکہ وہ جھوٹا ہے بلکہ جھوٹ کا باپ ہے۔

56۔ تمہارا باپ ابراہام میرا دن دیکھنے کی امید پر بہت خوش تھا چنانچہ اْس نے دیکھا اور خوش ہوا۔

59۔ پس اْنہوں نے اْسے مارنے کو پتھر اٹھائے مگر یسوع چھپ کر اْن کے بیچ میں سے ہیکل سے نکل گیا۔

6. John 8 : 2, 26, 31-34, 39 (If), 40, 44, 56, 59

2     And early in the morning he came again into the temple, and all the people came unto him; and he sat down, and taught them.

26     I have many things to say and to judge of you: but he that sent me is true; and I speak to the world those things which I have heard of him.

31     Then said Jesus to those Jews which believed on him, If ye continue in my word, then are ye my disciples indeed;

32     And ye shall know the truth, and the truth shall make you free.

33     They answered him, We be Abraham’s seed, and were never in bondage to any man: how sayest thou, Ye shall be made free?

34     Jesus answered them, Verily, verily, I say unto you, Whosoever committeth sin is the servant of sin.

39     If ye were Abraham’s children, ye would do the works of Abraham.

40     But now ye seek to kill me, a man that hath told you the truth, which I have heard of God: this did not Abraham.

44     Ye are of your father the devil, and the lusts of your father ye will do. He was a murderer from the beginning, and abode not in the truth, because there is no truth in him. When he speaketh a lie, he speaketh of his own: for he is a liar, and the father of it.

56     Your father Abraham rejoiced to see my day: and he saw it, and was glad.

59     Then took they up stones to cast at him: but Jesus hid himself, and went out of the temple, going through the midst of them, and so passed by.

7۔ افسیوں 5 باب 14 (جاگ) آیت

14۔ اے سونے والے! جاگ اور مردوں میں سے جی اٹھ تو مسیح کا نور تجھ پر چمکے گا۔

7. Ephesians 5 : 14 (Awake)

14     Awake thou that sleepest, and arise from the dead, and Christ shall give thee light.

8۔ یوحنا 3 باب19 آیت

19۔ اور سزا کے حکم کا سبب یہ ہے کہ نور دنیا میں آیاہے اور آدمیوں نے تاریکی کو نور سے زیادہ پسند کیا۔ اِس لئے کہ اْن کے کام برے تھے۔

8. John 3 : 19

19     And this is the condemnation, that light is come into the world, and men loved darkness rather than light, because their deeds were evil.

9۔ 2 کرنتھیوں 6 باب 14 تا 18 آیات

14۔ بے ایمانوں کے ساتھ ناہموار جوئے میں نہ جْتو کیونکہ راستبازی اور بے دینی میں کیا میل؟ یا روشنی اور تاریکی میں کیا شراکت؟

15۔ مسیح کو بلیعال کے ساتھ کیا موافقت؟ یا ایماندار کا بے ایمان کے ساتھ کیا واسطہ؟

16۔ اور خدا کے مقدِس کو بتوں سے کیا مناسبت ہے؟ کیونکہ ہم زندہ خدا کا مقدِس ہیں۔ چنانچہ خدا نے فرمایا ہے کہ میں اْن میں بسوں گا اور اْن میں چلوں پھروں گا اور میں اْن کا خدا ہوں گا اور وہ میری امت ہوں گے۔

17۔ اِس واسطے خداوند فرماتا ہے کہ اْن میں سے نکل کر الگ رہو اور ناپاک چیز کو نہ چھوؤ تو مَیں تم کو قبول کر لوں گا۔

18۔ اور تمہارا باپ ہوں گا اور تم میرے بیٹے بیٹیاں ہوگے۔ یہ خداوند قادر مطلق کا قول ہے

9. II Corinthians 6 : 14-18

14     Be ye not unequally yoked together with unbelievers: for what fellowship hath righteousness with unrighteousness? and what communion hath light with darkness?

15     And what concord hath Christ with Belial? or what part hath he that believeth with an infidel?

16     And what agreement hath the temple of God with idols? for ye are the temple of the living God; as God hath said, I will dwell in them, and walk in them; and I will be their God, and they shall be my people.

17     Wherefore come out from among them, and be ye separate, saith the Lord, and touch not the unclean thing; and I will receive you,

18     And will be a Father unto you, and ye shall be my sons and daughters, saith the Lord Almighty.

10۔ افسیوں 6 باب10 تا 13 آیات

10۔ غرض خداوند میں اور اْس کی قدرت کے زور میں مظبوط بنو۔

11۔ خدا کے سب ہتھیار باندھ لو تاکہ تم ابلیس کے منصوبوں کے مقابلہ میں قائم رہ سکو۔

12۔ کیونکہ ہمیں خون اور گوشت سے کشتی نہیں کرنا ہے بلکہ حکومت والوں اور اختیار والوں اور اِس دنیا کی تاریکی کے حاکموں اور شرارت کی اْن فوجوں سے جو آسمانی مقاموں میں ہیں۔

13۔ اِس واسطے تم خدا کے سب ہتھیار باندھ لو تاکہ برے دن میں مقابلہ کر سکو اور سب کاموں کو انجام دے کر قائم رہ سکو۔

10. Ephesians 6 : 10-13

10     Finally, my brethren, be strong in the Lord, and in the power of his might.

11     Put on the whole armour of God, that ye may be able to stand against the wiles of the devil.

12     For we wrestle not against flesh and blood, but against principalities, against powers, against the rulers of the darkness of this world, against spiritual wickedness in high places.

13     Wherefore take unto you the whole armour of God, that ye may be able to withstand in the evil day, and having done all, to stand.



سائنس اور صح


1۔ 472 :24 (تمام)۔26

خدا اور اْس کی تخلیق میں پائی جانے والی ساری حقیقت ہم آہنگ اور ابدی ہے۔ جو کچھ وہ بناتا ہے اچھا بناتا ہے، اور جو کچھ بنا ہے اْسی نے بنایاہے۔

1. 472 : 24 (All)-26

All reality is in God and His creation, harmonious and eternal. That which He creates is good, and He makes all that is made.

2۔ 275 :10۔19

ہستی کی حقیقت اور ترتیب کو اْس کی سائنس میں تھامنے کے لئے، وہ سب کچھ حقیقی ہے اْس کے الٰہی اصول کے طور پر آپ کو خدا کا تصور کرنے کی ابتدا کرنی چاہئے۔ روح، زندگی، سچائی، محبت یکسانیت میں جْڑ جاتے ہیں، اور یہ سب خدا کے روحانی نام ہیں۔سب مواد، ذہانت، حکمت، ہستی، لافانیت، وجہ اور اثر خْدا سے تعلق رکھتے ہیں۔یہ اْس کی خصوصیات ہیں، یعنی لامتناہی الٰہی اصول، محبت کے ابدی اظہار۔ کوئی حکمت عقلمند نہیں سوائے اْس کی؛ کوئی سچائی سچ نہیں، کوئی محبت پیاری نہیں، کوئی زندگی زندگی نہیں ماسوائے الٰہی کے، کوئی اچھائی نہیں ماسوائے اْس کے جو خدا بخشتا ہے۔

2. 275 : 10-19

To grasp the reality and order of being in its Science, you must begin by reckoning God as the divine Principle of all that really is. Spirit, Life, Truth, Love, combine as one, — and are the Scriptural names for God. All substance, intelligence, wisdom, being, immortality, cause, and effect belong to God. These are His attributes, the eternal manifestations of the infinite divine Principle, Love. No wisdom is wise but His wisdom; no truth is true, no love is lovely, no life is Life but the divine; no good is, but the good God bestows.

3۔ 207 :20۔26

یہاں صرف ایک بنیادی وجہ ہے۔ اس لئے کسی اور وجہ کا کوئی اثر نہیں ہو سکتا، اور یہاں صفر میں کوئی حقیقت نہیں ہو سکتی جو اس اعلیٰ اور واحد وجہ سے ماخوذ نہیں ہو سکتی۔گناہ، بیماری اور موت ہستی کی سائنس سے تعلق نہیں رکھتے۔ یہ غلطیاں ہیں، جو سچائی، زندگی یا محبت کا قیاس کرتی ہیں۔

3. 207 : 20-26

There is but one primal cause. Therefore there can be no effect from any other cause, and there can be no reality in aught which does not proceed from this great and only cause. Sin, sickness, disease, and death belong not to the Science of being. They are the errors, which presuppose the absence of Truth, Life, or Love.

4۔ 215 :15۔21

بعض اوقات ہمیں یہ ایمان رکھنے کی ہدایت دی جاتی ہے کہ تاریکی نور ہی کی مانند حقیقی ہے؛ مگر سائنس اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ تاریکی محض اْس روشنی کی غیر موجودگی کا ایک فانی فہم ہے، جس کے آنے سے تاریکی حقیقت کی شکل کھو دیتی ہے۔پس گناہ اور رنج، بیماری اور موت زندگی، خدا کی فرضی غیر موجودگی کی علامات ہیں، اور یہ سچ اور محبت کے سامنے غلطی کے سایے کی مانند بھاگ جاتے ہیں۔

4. 215 : 15-21

We are sometimes led to believe that darkness is as real as light; but Science affirms darkness to be only a mortal sense of the absence of light, at the coming of which darkness loses the appearance of reality. So sin and sorrow, disease and death, are the suppositional absence of Life, God, and flee as phantoms of error before truth and love.

5۔ 91 :16۔10

مادی خودی میں ڈوب کر ہم زندگی اور عقل کے مادے کو ہلکا سا منعکس کرتے اور اسے جان لیتے ہیں۔ مادی خودی سے انکار انسان کی روحانی اور ابدی انفرادیت سے متعلق جاننے میں مدد دیتا ہے، اور مادے سے یا جنہیں مادی حواس کی اصطلاح دی گئی ہے اْن کے وسیلہ غلط علم کو تباہ کرتا ہے۔

یہاں چند غلط مفروضوں پر غور کرنا چاہئے تاکہ روحانی حقائق کو بہتر طور پر سمجھا جا سکے۔

ایمان کا پہلا غلط مفروضہ یہ ہے کہ مواد، زندگی اور ذہانت خدا سے الگ قسم کی چیزیں ہیں۔

دوسرا غلط مفروضہ یہ ہے کہ انسان ذہنی اور مادی دونوں ہے۔

تیسرا غلط مفروضہ یہ ہے کہ عقل نیکی اور بدی دونوں ہے؛ جبکہ حقیقی عقل بدی ہے نہ بدی کا آلہ ہے؛ کیونکہ عقل خدا ہے۔

چوتھا غلط مفروضہ یہ ہے کہ مادہ ذہین ہے اور یہ کہ انسان کے پاس مادی جسم ہے جو اْس کے خود کا حصہ ہے۔

پانچواں غلط مفرضہ یہ ہے کہ مادہ خود کے اندر زندگی اور موت کے مسائل سمائے رکھتا ہے، کہ مادہ نہ صرف خوشی اور درد کا تجربہ کرنے کے قابل ہے بلکہ ان جذبات کو مہیا کرنے کے قابل بھی ہے۔ اِس آخری مفروضے سے مضمر ہونے والی فریب نظری موت کی اصطلاح پانے والے فانی بدنوں کی تباہی کو جنم دیتی ہے۔

عقل کھوپڑی کے اندر اب اور ہمیشہ کے لئے گناہ کرنے کی قوت رکھنے والی ہستی نہیں ہے۔

5. 91 : 16-10

Absorbed in material selfhood we discern and reflect but faintly the substance of Life or Mind. The denial of material selfhood aids the discernment of man's spiritual and eternal individuality, and destroys the erroneous knowledge gained from matter or through what are termed the material senses.

Certain erroneous postulates should be here considered in order that the spiritual facts may be better apprehended.

The first erroneous postulate of belief is, that substance, life, and intelligence are something apart from God.

The second erroneous postulate is, that man is both mental and material.

The third erroneous postulate is, that mind is both evil and good; whereas the real Mind cannot be evil nor the medium of evil, for Mind is God.

The fourth erroneous postulate is, that matter is intelligent, and that man has a material body which is part of himself.

The fifth erroneous postulate is, that matter holds in itself the issues of life and death, — that matter is not only capable of experiencing pleasure and pain, but also capable of imparting these sensations. From the illusion implied in this last postulate arises the decomposition of mortal bodies in what is termed death.

Mind is not an entity within the cranium with the power of sinning now and forever.

6۔ 92 :25۔31

ہمیں اِسے حقیقت کہتے ہوئے شرمندگی محسوس کرنی چاہئے جو اصل میں ایک غلطی ہے۔ بدی کی بنیاد خدا کے علاوہ کسی اور چیز پر ایمان رکھنے سے پڑتی ہے۔ ایسا ایمان صرف سچائی کے دعووں کی تائید کرنے کی بجائے دو مخالف قوتوں کی حمایت کرنے کا رجحان رکھتا ہے۔ ایسا سوچنے کی غلطی کہ جب سچائی غیر حاضر ہوتی ہے تو غلطی حقیقی ہو سکتی ہے، غلطی کی برتری پر ایمان رکھنے کی جانب لے جاتی ہے۔

6. 92 : 25-31

We should blush to call that real which is only a mistake. The foundation of evil is laid on a belief in something besides God. This belief tends to support two opposite powers, instead of urging the claims of Truth alone. The mistake of thinking that error can be real, when it is merely the absence of truth, leads to belief in the superiority of error.

7۔ 191 :28۔32

فریب زدہ حواس اْن کے مخالفین کے ساتھ سرابوں کا تصور کر سکتے ہیں، مگر کرسچن سائنس میں سچائی غلطی کے ساتھ کبھی ضم نہیں ہوتی۔عقل کا مادے کے ساتھ کوئی واسطہ نہیں ہے، اور اسی لئے سچائی بدن کی بیماریوں کو دور کرنے کے قابل ہے۔

7. 191 : 28-32

The illusive senses may fancy affinities with their opposites; but in Christian Science, Truth never mingles with error. Mind has no affinity with matter, and therefore Truth is able to cast out the ills of the flesh.

8۔ 546 :23۔26

کرسچن سائنس مادی دور پر طلوع ہونے کا نام ہے۔ ہستی کے بڑے روحانی حقائق، روشنی کی کرنوں کی مانند، تاریکی میں چمکتے ہیں، اگر چہ تاریکی، انہیں نہ سمجھتے ہوئے، اْن کی حقیقت سے منکر ہوسکتی ہے۔

8. 546 : 23-26

Christian Science is dawning upon a material age. The great spiritual facts of being, like rays of light, shine in the darkness, though the darkness, comprehending them not, may deny their reality.

9۔ 323 :24۔27

خدا کا حقیقی خیال زندگی اور محبت کا سچا فہم عطا کرتا، فتح کی قبر لوٹ لیتا ہے، ساری بدی اور فریب کو دور کردیتا ہے کہ یہاں اور بھی عقلیں ہیں، اور لافانیت کو نیست کرتا ہے۔

9. 323 : 24-27

The true idea of God gives the true understanding of Life and Love, robs the grave of victory, takes away all sin and the delusion that there are other minds, and destroys mortality.

10۔ 324 :32۔7

در اصل یسوع نے کہا، ”جو مجھ پر ایمان لاتا ہے وہ ابد تک کبھی نہ مرے گا۔“ یعنی، وہ جو زندگی کا حقیقی تصور پا لیتا ہے وہ موت پر اپنا ایمان کھو دیتا ہے۔ جس کے پاس نیکی کا حقیقی تصور ہے وہ بدی کا سارا فہم کھو دیتا ہے، اور اِس وجہ سے روح کے نا مرنے والے حقائق میں رہنمائی پاتا ہے۔ ایسا شخص زندگی میں قائم ہوتا ہے، ایسی زندگی جو زندگی کو سہارا نہ دینے کے قابل بدن سے نہیں بلکہ اْس سچائی سے حاصل کی گئی ہوجو خود کے لافانی خیال کو آشکار کرتی ہے۔

10. 324 : 32-7

Jesus said substantially, "He that believeth in me shall not see death." That is, he who perceives the true idea of Life loses his belief in death. He who has the true idea of good loses all sense of evil, and by reason of this is being ushered into the undying realities of Spirit. Such a one abideth in Life, — life obtained not of the body incapable of supporting life, but of Truth, unfolding its own immortal idea.

11۔ 242 :9۔14

آسمان پر جانے کا واحد راستہ ہم آہنگی ہے اور مسیح الٰہی سائنس میں ہمیں یہ راستہ دکھاتا ہے۔ اس کا مطلب خدا، اچھائی اور اْس کے عکس کے علاوہ کسی اور حقیقت کو نہ جاننا، زندگی کے کسی اور ضمیر کو نا جاننا ہے، اور نام نہاد درد اور خوشی کے احساسات سے برتر ہونا ہے۔

11. 242 : 9-14

There is but one way to heaven, harmony, and Christ in divine Science shows us this way. It is to know no other reality — to have no other consciousness of life — than good, God and His reflection, and to rise superior to the so-called pain and pleasure of the senses.

12۔ 368 :2۔5، 14۔19

سائنس سے متحرک اعتماد اس حقیقت میں پنہاں ہے کہ سچائی حقیقی ہے اور غلطی غیر حقیقی ہے۔ غلطی سچائی کے سامنے بزدل ہے۔

جب ہم غلطی سے زیادہ زندگی کی سچائی پرایمان رکھتے ہیں، مادے سے زیادہ روح پر بھروسہ رکھتے ہیں، مرنے سے زیادہ جینے پر بھروسہ رکھتے ہیں، انسان سے زیادہ خدا پر بھروسہ رکھتے ہیں، تو کوئی مادی مفرضے ہمیں بیماروں کو شفا دینے اور غلطی کو نیست کرنے سے نہیں روک سکتے۔

12. 368 : 2-5, 14-19

The confidence inspired by Science lies in the fact that Truth is real and error is unreal. Error is a coward before Truth.

When we come to have more faith in the truth of being than we have in error, more faith in Spirit than in matter, more faith in living than in dying, more faith in God than in man, then no material suppositions can prevent us from healing the sick and destroying error.

13۔ 494 :25۔29

انسان سے متعلق ان دونظریات میں سے آپ کسے قبول کرنے کے لئے تیار ہیں؟ ایک فانی گواہی ہے جو تبدیل ہوتی، مرتی اور غیر حقیقی ہے۔ دوسری ابدی اور حقیقی شہادت ہے، جس پر سچائی کی مہر ثبت ہے، اِس کی گود لافانی پھلوں سے لدی ہوئی ہے۔

13. 494 : 25-29

Which of these two theories concerning man are you ready to accept? One is the mortal testimony, changing, dying, unreal. The other is the eternal and real evidence, bearing Truth's signet, its lap piled high with immortal fruits.

14۔ 495 :14۔24

جب بیماری یا گناہ کا بھرم آپ کو آزماتا ہے تو خدا اور اْس کے خیال کے ساتھ مضبوطی کے ساتھ منسلک رہیں۔ اْس کے مزاج کے علاوہ کسی چیز کو آپ کے خیال میں قائم ہونے کی اجازت نہ دیں۔ کسی خوف یا شک کو آپ کے اس واضح اورمطمین بھروسے پر حاوی نہ ہونے دیں کہ پہچانِ زندگی کی ہم آہنگی، جیسے کہ زندگی ازل سے ہے، اس چیز کے کسی بھی درد ناک احساس یا یقین کو تبا ہ کر سکتی ہے جو زندگی میں ہے ہی نہیں۔جسمانی حس کی بجائے کرسچن سائنس کو ہستی سے متعلق آپ کی سمجھ کی حمایت کرنے دیں، اور یہ سمجھ غلطی کو سچائی کے ساتھ اکھاڑ پھینکے گی، فانیت کو غیر فانیت کے ساتھ تبدیل کرے گی، اور خاموشی کی ہم آہنگی کے ساتھ مخالفت کرے گی۔

14. 495 : 14-24

When the illusion of sickness or sin tempts you, cling steadfastly to God and His idea. Allow nothing but His likeness to abide in your thought. Let neither fear nor doubt overshadow your clear sense and calm trust, that the recognition of life harmonious — as Life eternally is — can destroy any painful sense of, or belief in, that which Life is not. Let Christian Science, instead of corporeal sense, support your understanding of being, and this understanding will supplant error with Truth, replace mortality with immortality, and silence discord with harmony.


روز مرہ کے فرائ

منجاب میری بیکر ایڈ

روز مرہ کی دعا

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ ہر روز یہ دعا کرے: ’’تیری بادشاہی آئے؛‘‘ الٰہی حق، زندگی اور محبت کی سلطنت مجھ میں قائم ہو، اور سب گناہ مجھ سے خارج ہو جائیں؛ اور تیرا کلام سب انسانوں کی محبت کو وافر کرے، اور اْن پر حکومت کرے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 4۔

مقاصد اور اعمال کا ایک اصول

نہ کوئی مخالفت نہ ہی کوئی محض ذاتی وابستگی مادری چرچ کے کسی رکن کے مقاصد یا اعمال پر اثر انداز نہیں ہونی چاہئے۔ سائنس میں، صرف الٰہی محبت حکومت کرتی ہے، اور ایک مسیحی سائنسدان گناہ کو رد کرنے سے، حقیقی بھائی چارے ، خیرات پسندی اور معافی سے محبت کی شیریں آسائشوں کی عکاسی کرتا ہے۔ اس چرچ کے تمام اراکین کو سب گناہوں سے، غلط قسم کی پیشن گوئیوں،منصفیوں، مذمتوں، اصلاحوں، غلط تاثر ات کو لینے اور غلط متاثر ہونے سے آزاد رہنے کے لئے روزانہ خیال رکھنا چاہئے اور دعا کرنی چاہئے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 1۔

فرض کے لئے چوکس

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ وہ ہر روز جارحانہ ذہنی آراء کے خلاف خود کو تیار رکھے، اور خدا اور اپنے قائد اور انسانوں کے لئے اپنے فرائض کو نہ کبھی بھولے اور نہ کبھی نظر انداز کرے۔ اس کے کاموں کے باعث اس کا انصاف ہوگا، وہ بے قصور یا قصوارہوگا۔ 

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 6۔


████████████████████████████████████████████████████████████████████████