اتوار 5 جولائی، 2020 |

اتوار 5 جولائی، 2020



مضمون۔ خدا

SubjectGod

سنہری متن:سنہری متن: خروج 15 باب26 آیت

’’مَیں خداوند تیرا شافی ہوں۔‘‘



Golden Text: Exodus 15 : 26

I am the Lord that healeth thee.





سبق کی آڈیو کے لئے یہاں کلک کریں

یوٹیوب سے سننے کے لئے یہاں کلک کریں

████████████████████████████████████████████████████████████████████████


جوابی مطالعہ: احبار 26 باب 3تا6، 12، 13 آیات


3۔ اگر تم میری شریعت پر چلو گے اور میرے حکموں کو مانو گے اور اْن پر عمل کرو گے۔

4۔ تو مَیں تمہارے لئے بروقت مینہ برساؤں گا اور زمین سے اناج پیدا ہوگا اور میدان کے درخت پھلیں گے۔

5۔ یہاں تک کہ انگور جمع کرنے کے وقت تم داوتے رہو گے اور جوتنے بونے کے وقت تک انگور جمع کرو گے اور پیٹ بھر اپنی روٹی کھایا کرو گے اور چین سے اپنے ملک میں بسے رہو گے۔

6۔ اور مَیں ملک میں امن بخشوں گا اور تم سوؤ گے اور تم کو کوئی نہیں ڈرائے گا اور میں برے درندوں کو ملک سے نیست کر دوں گا اور تلوار تمہارے ملک میں نہیں چلے گی۔

12۔ اور مَیں تمہارے درمیان چلا پھرا کروں گا اور تمہارا خدا ہوں گا اور تم میری امت ہوگے۔

13۔ مَیں خداوند تمہارا خدا ہوں۔

Responsive Reading: Leviticus 26 : 3-6, 12, 13

3.     If ye walk in my statutes, and keep my commandments, and do them;

4.     Then I will give you rain in due season, and the land shall yield her increase, and the trees of the field shall yield their fruit.

5.     And your threshing shall reach unto the vintage, and the vintage shall reach unto the sowing time: and ye shall eat your bread to the full, and dwell in your land safely.

6.     And I will give peace in the land, and ye shall lie down, and none shall make you afraid: and I will rid evil beasts out of the land, neither shall the sword go through your land.

12.     And I will walk among you, and will be your God, and ye shall be my people.

13.     I am the Lord your God.



درسی وعظ



بائبل


درسی وعظ

بائبل

1۔ استثنا 6باب1، 4تا9 آیات

1۔ یہ وہ فرمان اور آئین اور احکام ہیں جن کو خداوند تمہارے خدا نے تمہیں سکھانے کا حکم دیا ہے تاکہ تم اْن پر اْس ملک میں عمل کرو جس پر قبضہ کرنے کے لئے پار جانے کو ہو۔

4۔ سْن اے اسرائیل! خداوند ہمارا خدا ایک ہی خداوند ہے۔

5۔ تْو اپنے سارے دل اور اپنی ساری جان اور اپنی ساری طاقت سے خداوند اپنے خدا سے محبت رکھ۔

6۔ اور یہ باتیں جن کا حکم میں آج تجھے دیتا ہوں تیرے دل پر نقش رہیں۔

7۔ اور تْو اِن کو اپنی اولاد کے ذہن نشین کرنا اور گھر بیٹھے اور راہ چلتے اور لیٹتے اور اْٹھتے وقت اِن کا ذکر کیا کرنا۔

8۔ اور تْو نشان کے طور پر اِن کو اپنے ہاتھ پر باندھنا اور وہ تیری پیشانی پر ٹیکوں کی مانند ہوں۔

9۔ اورتْو اْن کو اپنے گھر کی چوکھٹوں اور اپنے پھاٹکوں پر لکھنا۔

1. Deuteronomy 6 : 1, 4-9

1     Now these are the commandments, the statutes, and the judgments, which the Lord your God commanded to teach you, that ye might do them in the land whither ye go to possess it:

4     Hear, O Israel: The Lord our God is one Lord:

5     And thou shalt love the Lord thy God with all thine heart, and with all thy soul, and with all thy might.

6     And these words, which I command thee this day, shall be in thine heart:

7     And thou shalt teach them diligently unto thy children, and shalt talk of them when thou sittest in thine house, and when thou walkest by the way, and when thou liest down, and when thou risest up.

8     And thou shalt bind them for a sign upon thine hand, and they shall be as frontlets between thine eyes.

9     And thou shalt write them upon the posts of thy house, and on thy gates.

2۔ خروج 20 باب1تا6 آیات

1۔ اور خدا نے یہ ساب باتیں اْن کو بتائیں۔

2۔ خداوند تیرا خدا جو تجھے ملک مصر سے غلامی کے گھر سے نکال لایا مَیں ہوں۔

3۔ میرے حضور تْو غیر معبودوں کو نہ ماننا۔

4۔ تْو اپنے لئے کوئی تراشی ہوئی مورت نہ بنانا۔ نہ کسی چیز کی صورت بنانا جو آسمان میں یا نیچے زمین پر یا زمین کے نیچے پانی میں ہے۔

5۔ تْو اْن کے آگے سجدہ نہ کرنا اور نہ اْن کی عبادت کرنا کیونکہ مَیں خداوند تیرا خدا غیور خدا ہوں اور جو مجھ سے عداوت رکھتے ہیں اْن کی اولاد کو تیسری اور چوتھی پشت تک باپ دادا کی بدکاری کی سزادیتا ہوں۔

6۔ اور ہزاروں پر جو مجھ سے محبت رکھتے ہیں اور میرے حکموں کو مانتے ہیں رحم کرتا ہوں۔

2. Exodus 20 : 1-6

1     And God spake all these words, saying,

2     I am the Lord thy God, which have brought thee out of the land of Egypt, out of the house of bondage.

3     Thou shalt have no other gods before me.

4     Thou shalt not make unto thee any graven image, or any likeness of any thing that is in heaven above, or that is in the earth beneath, or that is in the water under the earth:

5     Thou shalt not bow down thyself to them, nor serve them: for I the Lord thy God am a jealous God, visiting the iniquity of the fathers upon the children unto the third and fourth generation of them that hate me;

6     And shewing mercy unto thousands of them that love me, and keep my commandments.

3۔ یوحنا 5 باب1(یسوع) تا9، 16، 17، 19 (سچ)، 20، 30 آیات

1۔ یسوع یروشلیم کر گیا۔

2۔ یروشلیم میں بھیڑ دروازے کے پاس ایک حوض ہے جو عبرانی میں بیتِ صیداکہلاتا ہے اور اْس کے پانچ بر آمدے ہیں۔

3۔ اْن میں بہت سے بیمار اور اندھے اور لنگڑے اور پژمردہ لوگ جو پانی کے ہلنے کے منتظر ہو کر پڑے تھے۔

4۔ کیونکہ وقت پر خداوند کا فرشتہ حوض پر اتر کر پانی ہلایا کرتا تھا۔ پانی ہلتے ہی جو کوئی پہلے اترتا سو شفا پاتا اْس کی جو کچھ بیماری کیوں نہ ہو۔

5۔ وہاں ایک شخص تھا جو اڑتیس برس سے بیماری میں مبتلا تھا۔

6۔ اْس کو یسوع نے پڑا دیکھا اور یہ جان کر کہ وہ بڑی مدت سے اس حالت میں ہے اْس سے کہا کیا تْو تندرست ہونا چاہتا ہے؟

7۔ اْس بیمار نے جواب دیا اے خداوند میرے پاس کوئی آدمی نہیں کہ جب پانی ہلایا جائے تو مجھے حوض میں اْتار دے بلکہ میرے پہنچتے پہنچتے دوسرا مجھ سے پہلے اتر پڑتا ہے۔

8۔ یسوع نے اْس سے کہا اْٹھ اپنی چار پائی اْٹھا کرچل پھر۔

9۔ وہ شخص فوراً تندرست ہوگیا اوراپنی چار پائی اٹھا کر چلنے پھرنے لگا۔وہ دن سبت کا تھا۔

16۔ اِس لئے یہودی یسوع کو ستانے لگے کیونکہ وہ ایسے کام سبت کے دن کرتا تھا۔

17۔ لیکن یسوع نے اْن سے کہا کہ میرا باپ اب تک کام کرتا ہے اور مَیں بھی کام کرتا ہوں۔

19۔ مَیں تم سے سچ کہتا ہوں کہ بیٹا آپ سے کچھ نہیں کر سکتا سوا اْس کے جو باپ کو کرتے دیکھتا ہے کیونکہ جن کاموں کو وہ کرتا ہے انہیں بیٹا بھی اْسی طرح کرتا ہے۔

20۔اِس لئے کہ باپ بیٹے کو عزیز رکھتا ہے اور جتنے کام خود کرتا ہے اْسے دکھاتا ہے بلکہ اِن سے بھی بڑے کام انہیں دکھائے گا تاکہ تم تعجب کرو۔

30۔ مَیں اپنے آپ سے کچھ نہیں کر سکتا۔ جیسا سنتا ہوں عدالت کرتا ہوں اور میری عدالت راست ہے کیونکہ مَیں اپنی مرضی نہیں بلکہ اپنے بھیجنے والے کی مرضی چاہتا ہوں۔

3. John 5 : 1 (Jesus)-9, 16, 17, 19 (Verily), 20, 30

1     Jesus went up to Jerusalem.

2     Now there is at Jerusalem by the sheep market a pool, which is called in the Hebrew tongue Bethesda, having five porches.

3     In these lay a great multitude of impotent folk, of blind, halt, withered, waiting for the moving of the water.

4     For an angel went down at a certain season into the pool, and troubled the water: whosoever then first after the troubling of the water stepped in was made whole of whatsoever disease he had.

5     And a certain man was there, which had an infirmity thirty and eight years.

6     When Jesus saw him lie, and knew that he had been now a long time in that case, he saith unto him, Wilt thou be made whole?

7     The impotent man answered him, Sir, I have no man, when the water is troubled, to put me into the pool: but while I am coming, another steppeth down before me.

8     Jesus saith unto him, Rise, take up thy bed, and walk.

9     And immediately the man was made whole, and took up his bed, and walked: and on the same day was the sabbath.

16     And therefore did the Jews persecute Jesus, and sought to slay him, because he had done these things on the sabbath day.

17     But Jesus answered them, My Father worketh hitherto, and I work.

19     Verily, verily, I say unto you, The Son can do nothing of himself, but what he seeth the Father do: for what things soever he doeth, these also doeth the Son likewise.

20     For the Father loveth the Son, and sheweth him all things that himself doeth: and he will shew him greater works than these, that ye may marvel.

30     I can of mine own self do nothing: as I hear, I judge: and my judgment is just; because I seek not mine own will, but the will of the Father which hath sent me.

4۔ مکاشفہ 1باب 1 (تا؛) آیت

1۔ یسوع مسیح کا مکاشفہ جواْسے خدا کی طرف سے اس لئے ہواکہ اپنے بندوں کو وہ باتیں دکھائے جن کا ہونا ضرور ہے۔

4. Revelation 1 : 1 (to ;)

1     The Revelation of Jesus Christ, which God gave unto him, to shew unto his servants things which must shortly come to pass;

5۔ مکاشفہ 21 باب 1تا5 (تا پہلا۔)

1۔ پھر مَیں نے ایک نیا آسمان اور نئی زمین کو دیکھا کیونکہ پہلا آسمان اور پہلی زمین جاتی رہی تھی اور سمندر بھی نہ رہا۔

2۔ پھر مَیں نے شہرِ مقدس نئے یروشلیم کو آسمان پر سے خدا کے پاس سے اْترتے دیکھا اور وہ اْس دلہن کی مانند آراستہ تھا جس نے اپنے شوہر کے لئے شنگھار کیا ہو۔

3۔ پھر مَیں نے تخت میں سے کسی کو بلند آواز سے یہ کہتے سنا کہ دیکھ خدا کا خیمہ آدمیوں کے درمیان ہے اور وہ اْن کے ساتھ سکونت کرے گا اور وہ اْس کے لوگ ہوں گے اور خدا آپ اْن کے ساتھ رہے گا اور اْن کا خدا ہوگا۔

4۔ اور وہ اْن کی آنکھوں کے سب آنسو پونچھ دے گا۔ اِس کے بعد نہ موت رہے گی نہ ماتم رہے گا۔ نہ آہ و نالہ نہ درد۔ پہلی چیزیں جاتی رہیں۔

5۔ اور جو تخت پر بیٹھا ہوا تھا اْس نے کہا دیکھ مَیں سب چیزوں کو نیا بنا دیتا ہوں۔

5. Revelation 21 : 1-5 (to 1st .)

1     And I saw a new heaven and a new earth: for the first heaven and the first earth were passed away; and there was no more sea.

2     And I John saw the holy city, new Jerusalem, coming down from God out of heaven, prepared as a bride adorned for her husband.

3     And I heard a great voice out of heaven saying, Behold, the tabernacle of God is with men, and he will dwell with them, and they shall be his people, and God himself shall be with them, and be their God.

4     And God shall wipe away all tears from their eyes; and there shall be no more death, neither sorrow, nor crying, neither shall there be any more pain: for the former things are passed away.

5     And he that sat upon the throne said, Behold, I make all things new.



سائنس اور صح


1۔ 7: 17۔21

خدا سے لا علمی مزید ایمان کے راستے کا پتھر نہیں رہا۔ وفاداری کی واحد ضمانت اْس ہستی سے متعلق درست فہم ہے جسے بہتر طور پر جاننا ہی ابدی زندگی ہے۔ اگرچہ سلنطنتیں نیست ہو جاتی ہیں، مگر ”خداوند ابد الا باد سلطنت کرے گا۔“

1. vii : 17-21

Ignorance of God is no longer the steppingstone to faith. The only guarantee of obedience is a right apprehension of Him whom to know aright is Life eternal. Though empires fall, "the Lord shall reign forever."

2۔ 256 :12۔23

”سْن اے اسرائیل! خداوند ہمارا خدا ایک ہی خداوند ہے۔“

ابدی ”میں ہوں“ جسمانی انسانیت کی تنگ حدود میں محدود یا دبایا نہیں جا سکتا، نہ ہی اْسے فانی نظریات کے وسیلہ درست سمجھا جا سکتا ہے۔ اِس عظیم سوال کے ساتھ موازنہ میں خدا کی عین صورت کی کم اہمیت ہونی چاہئے کہ،لامحدود عقل یا الٰہی محبت کیا ہے؟

یہ کون ہے جو ہماری وفاداری کا طالب ہے؟ وہ جو، کلام کی زبان میں، ”آسمانی لشکر اور اہلِ زمین کے ساتھ جو کچھ چاہتا ہے کرتا ہے اور کوئی نہیں جو اْس کا ہاتھ روک سکے یا اْس سے کہے کہ تْو کیا کرتا ہے؟“

2. 256 : 12-23

"Hear, O Israel: the Lord our God is one Lord."

The everlasting I am is not bounded nor compressed within the narrow limits of physical humanity, nor can He be understood aright through mortal concepts. The precise form of God must be of small importance in comparison with the sublime question, What is infinite Mind or divine Love?

Who is it that demands our obedience? He who, in the language of Scripture, "doeth according to His will in the army of heaven, and among the inhabitants of the earth; and none can stay His hand, or say unto Him, What doest Thou?"

3۔ 330 :19 (خدا)۔20

خدا وہ ہے جو کلام اْسے کہتا ہے، زندگی، سچائی، محبت۔

3. 330 : 19 (God)-20

God is what the Scriptures declare Him to be, — Life, Truth, Love.

4۔ 331 :11 (دی)۔13

کلام تقلیدکرتا کہ خدا حاکمِ کْل ہے۔اِس سے یہ بات آگے آتی ہے کہ الٰہی عقل اور اْس کے خیال کے سِوا کچھ بھی حقیقت اور وجودیت کی ملکیت نہیں رکھتا۔

4. 331 : 11 (The)-13

The Scriptures imply that God is All-in-all. From this it follows that nothing possesses reality nor existence except the divine Mind and His ideas.

5۔ 587 :5۔8، 17۔18

خدا۔ عظیم مَیں ہوں؛ سب جاننے والا، سب دیکھنے والا، سب عمل کرنے والا، عقل کْل، کْلی محبت، اور ابدی؛ اصول؛ جان، روح، زندگی، سچائی، محبت، سارا مواد؛ ذہانت۔

خدا واحد خدا، لامحدود اور کامل ہے، اور وہ محدود اور غیر کامل نہیں بن سکتا۔

5. 587 : 5-8, 17-18

God. The great I am; the all-knowing, all-seeing, all-acting, all-wise, all-loving, and eternal; Principle; Mind; Soul; Spirit; Life; Truth; Love; all substance; intelligence.

God is one God, infinite and perfect, and cannot become finite and imperfect.

6۔ 94 :1۔3

یسوع نے تعلیم دی کہ ایک خدا، ایک روح جو انسان کو خود کی شبیہ اور صورت پر خلق کرتا ہے، روح سے ہے نہ کہ مادے سے۔

6. 94 : 1-3

Jesus taught but one God, one Spirit, who makes man in the image and likeness of Himself, — of Spirit, not of matter.

7۔ 276 :1۔11

ایک خدا، ایک عقل کو ماننا اْس قوت کو ایاں کرتا ہے جو بیمار کو شفا دیتی اور کلام کے ان اقوال کو پورا کرتی ہے کہ، ”مَیں خداوند تیرا شافی ہوں“ اور ”مجھے فدیہ مل گیا ہے۔“جب الٰہی احکامات کو سمجھ لیا جاتا ہے تو وہ شراکت کی اْس بنیاد کو ایاں کرتے ہیں جس میں ایک عقل دوسری کے ساتھ جنگ نہیں کرتی، بلکہ سب میں ایک روح، خدا، ایک ذہین وسیلہ ہوتا ہے، جو کلام کے اِس حکم سے مطابقت رکھتا ہے کہ: ”ویسا ہی مزاج رکھو جیسا مسیح کا تھا۔“انسان اور اْس کا خالق الٰہی سائنس میں باہمی شراکت رکھتے ہیں، اور حقیقی شعور صرف خدا کی باتوں سے ہی پہچانا جاتا ہے۔

7. 276 : 1-11

Having one God, one Mind, unfolds the power that heals the sick, and fulfils these sayings of Scripture, "I am the Lord that healeth thee," and "I have found a ransom." When the divine precepts are understood, they unfold the foundation of fellowship, in which one mind is not at war with another, but all have one Spirit, God, one intelligent source, in accordance with the Scriptural command: "Let this Mind be in you, which was also in Christ Jesus." Man and his Maker are correlated in divine Science, and real consciousness is cognizant only of the things of God.

8۔ 180 :25۔2

جب خدا، ازلی فہم جو سب باتیں سمجھتا ہے، انسان پر حکومت کرتا ہے تو انسان جانتا ہے کہ خدا کے سب سب کچھ ممکن ہے۔ اِس زندہ سچائی کو جاننے کا واحد راستہ، جو بیمار کو شفا دیتی ہے، الٰہی فہم کی سائنس میں پایا جاتا ہے کیونکہ یہ مسیح یسوع کے وسیلہ سے سکھائی گئی اور ظاہر ہوئی۔

سوجن کم کرنے، رسولی کو ختم کرنے یا جسمانی بیماری کاعلاج کرنے کے لئے،مَیں نے دیگر سبھی ادنیٰ علاجوں کی نسبت الٰہی سچائی کو زیادہ قوی پایا ہے۔اور کیوں نہیں، جبکہ عقل یعنی خدا ہی ساری وجودیت کا منبع اور لازمی شرط ہے۔

8. 180 : 25-2

When man is governed by God, the ever-present Mind who understands all things, man knows that with God all things are possible. The only way to this living Truth, which heals the sick, is found in the Science of divine Mind as taught and demonstrated by Christ Jesus.

To reduce inflammation, dissolve a tumor, or cure organic disease, I have found divine Truth more potent than all lower remedies. And why not, since Mind, God, is the source and condition of all existence?

9۔ 166 :16 (تا)۔32

بیماری میں خدا کوادنیٰ مستعمل تصور کرنا ایک غلطی ہے۔ جسمانی مصائب کے دوران اْسے ایک طرف کرنے، اور اْسے قبول کرنے کی گھڑی کا انتظار کرنے کی بجائے ہمیں سیکھنا چاہئے کہ وہ بیماری میں بھی سب کام کر سکتا ہے جیسے صحت میں کرسکتا ہے۔

علم الحیات اور حفظان صحت کے فروغ کے وسیلہ صحت مندی کو بحال کرنے میں ناکام ہونا، مایوس باطل اکثر اْنہیں ترک کردیتا ہے، اور اپنی انتہا میں اور صرف بطور آخری قیام گاہ، خدا کی طرف واپس لے جاتا ہے۔ ادویات، ہوا اور تجربے پریقین کی نسبت باطل کا الٰہی عقل پر یقین کم ہوتا ہے، وگرنہ وہ پہلے عقل سے ہی بحال ہوجاتا۔ زیادہ تر طبی نظاموں کی جانب سے قوت کا توازن مادے کی بدولت تسلیم کیا جاتا ہے؛ لیکن جب عقل کم از کم اپنی مہارت کاگناہ، بیماری اور موت پر دعویٰ کرتی ہے، تبھی انسان ہم آہنگ اور لافانی پایا جاتا ہے۔

9. 166 : 16 (To)-32

To ignore God as of little use in sickness is a mistake. Instead of thrusting Him aside in times of bodily trouble, and waiting for the hour of strength in which to acknowledge Him, we should learn that He can do all things for us in sickness as in health.

Failing to recover health through adherence to physiology and hygiene, the despairing invalid often drops them, and in his extremity and only as a last resort, turns to God. The invalid's faith in the divine Mind is less than in drugs, air, and exercise, or he would have resorted to Mind first. The balance of power is conceded to be with matter by most of the medical systems; but when Mind at last asserts its mastery over sin, disease, and death, then is man found to be harmonious and immortal.

10۔ 167 :11۔14، 16 (کیا) (تا؟)، 17۔19، 22۔31

ہم دو مالکوں کی غلامی نہیں کرسکتے اور نہ مادی حواس کے ساتھ الٰہی سائنس کو سمجھ سکتے ہیں۔ ادویات اور حفظانِ صحت ساری تندرستی اور کاملیت کے منبع کی طاقت اور مقام پر غاصب نہیں ہوسکتے۔۔۔۔خدا کے کام کی اصلاح کیا کرسکتا ہے؟۔۔۔ ایک خدا کو ماننے اور خود کو روح کی قوت کے لئے دستیاب کرنے کے لئے آپ کو خدا کے ساتھ بے حد محبت رکھنا ہوگی۔

ساکن ہونا اور درمیانی راہ اپنانا یا روح اور مادے، سچائی اور غلطی سے اکٹھے کام کرنے کی توقع رکھنا عقلمندی نہیں۔ راہ ہے مگر صرف ایک، یعنی، خدا اور اْس کا خیال، جو روحانی ہستی کی جانب راہنمائی کرتا ہے۔ بدن پر سائنسی حکمرانی الٰہی عقل کے وسیلہ حاصل ہونی چاہئے۔ کسی دوسرے طریقے سے بدن پر قابو پانا ممکن ہے۔ اِس بنیادی نقطہ پر، کمزورقدامت پسندی بالکل ناقابل تسلیم ہے۔ سچائی پر صرف انتہائی بھروسے کے وسیلہ ہی سائنسی شفائیہ قوت کو محسوس کیا جا سکتا ہے۔

10. 167 : 11-14, 16 (What) (to ?), 17-19, 22-31

We cannot serve two masters nor perceive divine Science with the material senses. Drugs and hygiene cannot successfully usurp the place and power of the divine source of all health and perfection. … What can improve God's work? … To have one God and avail yourself of the power of Spirit, you must love God supremely.

It is not wise to take a halting and half-way position or to expect to work equally with Spirit and matter, Truth and error. There is but one way — namely, God and His idea — which leads to spiritual being. The scientific government of the body must be attained through the divine Mind. It is impossible to gain control over the body in any other way. On this fundamental point, timid conservatism is absolutely inadmissible. Only through radical reliance on Truth can scientific healing power be realized.

11۔ 182 :30۔7

یہ تسلیم کرنا کہ بیماری ایسی حالت ہے جس پر خدا کا کوئی اختیار نہیں، پہلے سے اِس بات کو فرض کرنے کے مترادف ہے کہ بعض اوقات قادرِ مطلق میں کوئی طاقت نہیں ہوتی۔ مسیح یا سچائی کی شریعت روح کے لئے سب باتوں کو ممکن بناتی ہے؛ مگر نام نہاد مادے کی شریعت روح کو بے فائدہ پیش کرے گی اوریوں ایک خدا، ایک شریعت بنانے والے کی بنیاد سے جدا ہوتے ہوئے، مادی ضوابط پر وفادری کی شرط عائد کرے گی۔یہ فرض کرنا کہ خدا غیر آہنگی کے قوانین قائم کرتا ہے ایک غلطی ہے؛ مخالفتوں کی حمایت فطرت یا الٰہی شریعت کی طرف سے نہیں، تاہم اِس کے برعکس بہت کچھ کہا گیا ہے۔

11. 182 : 30-7

To admit that sickness is a condition over which God has no control, is to presuppose that omnipotent power is powerless on some occasions. The law of Christ, or Truth, makes all things possible to Spirit; but the so-called laws of matter would render Spirit of no avail, and demand obedience to materialistic codes, thus departing from the basis of one God, one lawmaker. To suppose that God constitutes laws of inharmony is a mistake; discords have no support from nature or divine law, however much is said to the contrary.

12۔ 249 :1۔4، 6۔11

آئیے سائنس کو قبول کریں، عقلی گواہی پر مشتمل تمام نظریات کو ترک کریں، ناقص نمونوں اور پْر فریب قیاس آرائیوں سے دست بردار ہوں؛ اور آئیے ہم ایک خدا، ایک عقل، اور اْس واحد کامل کو رکھیں جو فضیلت کے اپنے نمونوں کو پیدا کررہا ہے۔

ہمارے لئے زندگی میں جدت لاتی محسوس کرتے ہوئے اور کسی فانی یا مادی طاقت کو تباہی لانے کے قابل نہ سمجھتے ہوئے،آئیے روح کی قوت کو محسوس کریں۔ تو آئیں ہم شادمان ہوں کہ ہم ”ہونے والی الٰہی قوتوں“ کے تابع ہیں۔ ہستی کی حقیقی سائنس ایسی ہی ہے۔ زندگی یا خدا سے متعلق کوئی اور نظریہ فریب دہ اور دیومالائی ہے۔

12. 249 : 1-4, 6-11

Let us accept Science, relinquish all theories based on sense-testimony, give up imperfect models and illusive ideals; and so let us have one God, one Mind, and that one perfect, producing His own models of excellence.

Let us feel the divine energy of Spirit, bringing us into newness of life and recognizing no mortal nor material power as able to destroy. Let us rejoice that we are subject to the divine "powers that be." Such is the true Science of being. Any other theory of Life, or God, is delusive and mythological.

13۔ 205 :32۔3

جب ہم الٰہی کے ساتھ اپنے رشتے کو مکمل طور پر سمجھتے ہیں، تو ہم کوئی اور عقل نہیں رکھتے ماسوائے اْس کی عقل کے، کوئی اور محبت، حکمت یا سچائی نہیں رکھتے، زندگی کا کوئی اور فہم نہیں رکھتے، اور مادے یا غلطی کی وجودیت کا کوئی اور شعور نہیں رکھتے۔

13. 205 : 32-3

When we fully understand our relation to the Divine, we can have no other Mind but His, — no other Love, wisdom, or Truth, no other sense of Life, and no consciousness of the existence of matter or error.

14۔ 340 :15۔29

”میرے حضور تْو غیر معبودوں کو نہ ماننا۔“ (خروج 20 باب3 آیت)۔ پہلا حکم میری پسندیدہ عبارت ہے۔یہ کرسچن سائنس کو ظاہر کرتی ہے۔ یہ خدا، روح، عقل کی تثلیث کا ادراک دیتی ہے؛ یہ جتاتی ہے کہ انسان خدا، ابدی اچھائی کے علاوہ کسی دوسری روح یا عقل کو نہیں مانے گا، اور یہ کہ سب انسان ایک عقل کو مانیں۔ پہلے حکم کا الٰہی اصول ہستی کی سائنس پر بنیاد رکھتا ہے، جس کے وسیلہ انسان تندرستی، پاکیزگی اور ابدی زندگی کو ظاہر کرتا ہے۔ایک لامتناہی خدایعنی اچھائی انسان اور اقوام کو متحد کرتا ہے، انسانوں میں بھائی چارہ قائم کرتا ہے، جنگ و جدول ختم کرتا ہے، اس کلام کو پورا کرتا ہے کہ، ”اپنے پڑوسی سے اپنی مانند پیار کر،“ غیر قوموں اور مسیحی بت پرستوں کواور جو کچھ بھی معاشرتی، شہری، مجرمانہ، سیاسی، اور مذہبی شعبہ جات میں غلط ہو رہا ہے اْسے فنا کرتا ہے، جنس کو مساوی کرتا ہے، انسان پر کی گئی لعنت کو منسوخ کرتا ہے اور ایسا کچھ نہیں چھوڑتا جو گناہ کا مرتکب ہو اور دْکھ اٹھائے، سزاء پائے یا فنا ہو جائے۔

14. 340 : 15-29

"Thou shalt have no other gods before me." (Exodus xx. 3.) The First Commandment is my favorite text. It demonstrates Christian Science. It inculcates the triunity of God, Spirit, Mind; it signifies that man shall have no other spirit or mind but God, eternal good, and that all men shall have one Mind. The divine Principle of the First Commandment bases the Science of being, by which man demonstrates health, holiness, and life eternal. One infinite God, good, unifies men and nations; constitutes the brotherhood of man; ends wars; fulfils the Scripture, "Love thy neighbor as thyself;" annihilates pagan and Christian idolatry, — whatever is wrong in social, civil, criminal, political, and religious codes; equalizes the sexes; annuls the curse on man, and leaves nothing that can sin, suffer, be punished or destroyed.


روز مرہ کے فرائ

منجاب میری بیکر ایڈ

روز مرہ کی دعا

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ ہر روز یہ دعا کرے: ’’تیری بادشاہی آئے؛‘‘ الٰہی حق، زندگی اور محبت کی سلطنت مجھ میں قائم ہو، اور سب گناہ مجھ سے خارج ہو جائیں؛ اور تیرا کلام سب انسانوں کی محبت کو وافر کرے، اور اْن پر حکومت کرے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 4۔

مقاصد اور اعمال کا ایک اصول

نہ کوئی مخالفت نہ ہی کوئی محض ذاتی وابستگی مادری چرچ کے کسی رکن کے مقاصد یا اعمال پر اثر انداز نہیں ہونی چاہئے۔ سائنس میں، صرف الٰہی محبت حکومت کرتی ہے، اور ایک مسیحی سائنسدان گناہ کو رد کرنے سے، حقیقی بھائی چارے ، خیرات پسندی اور معافی سے محبت کی شیریں آسائشوں کی عکاسی کرتا ہے۔ اس چرچ کے تمام اراکین کو سب گناہوں سے، غلط قسم کی پیشن گوئیوں،منصفیوں، مذمتوں، اصلاحوں، غلط تاثر ات کو لینے اور غلط متاثر ہونے سے آزاد رہنے کے لئے روزانہ خیال رکھنا چاہئے اور دعا کرنی چاہئے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 1۔

فرض کے لئے چوکس

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ وہ ہر روز جارحانہ ذہنی آراء کے خلاف خود کو تیار رکھے، اور خدا اور اپنے قائد اور انسانوں کے لئے اپنے فرائض کو نہ کبھی بھولے اور نہ کبھی نظر انداز کرے۔ اس کے کاموں کے باعث اس کا انصاف ہوگا، وہ بے قصور یا قصوارہوگا۔ 

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 6۔


████████████████████████████████████████████████████████████████████████