اتوار 5 مئی ، 2019 |

اتوار 5 مئی ، 2019



مضمون۔ دائمی سزا

SubjectEverlasting Punishment

سنہری متن:سنہری متن: دانی ایل 9باب9آیت

’’ہمارا خداوند ہمارا خدا رحیم و غفور ہے اگر چہ ہم نے اْس سے بغاوت کی۔‘‘



Golden Text: Daniel 9 : 9

To the Lord our God belong mercies and forgivenesses, though we have rebelled against him.





سبق کی آڈیو کے لئے یہاں کلک کریں

یوٹیوب سے سننے کے لئے یہاں کلک کریں

████████████████████████████████████████████████████████████████████████


جوابی مطالعہ: زبور 85: 1 تا9آیات


1۔ اے خداوند! تُو اپنے ملک پر مہربان رہا ہے۔ تُو یعقوب کو اسیری سے وآپس لایا ہے۔ 

2۔ تُو نے اپنے لوگوں کی بدکاری معاف کردی ہے۔ تُو نے انکے سب گُناہ ڈھانک دئیے ہیں۔ 

3۔ تُو نے اپنا غضب بالکل اٹھا لیا۔ تُو اپنے قہر شدید سے باز آیا ہے۔ 

4۔ اے ہمارے نجات دینے والے خدا! ہم کو بحال کر۔ اپنا غضب ہم سے دور کر۔ 

5۔ کیا تُو سدا ہم سے ناراض رہے گا؟ کیا تُو اپنے قہر کو پشت در پشت جاری رکھے گا؟ 

6۔ کیا تُو ہم کو پھر زِندہ کرے گا تاکہ تیرے لوگ تجھ میں شادمان ہوں؟ 

7۔ اے خداوند! تُو اپنی شفقت ہم کو دکھا اور اپنی نجات ہم کو بخش۔ 

8۔ میں سنونگا کہ خداوند خدا کیا فرماتا ہے۔ کیونکہ وہ اپنے لوگوں اور اپنے مقدسوں سے سلامتی کی باتیں کرے گا۔ پر وہ پھر حماقت کی طرف رجوع نہ کریں۔ 

9۔ یقیناً اُسکی نجات اُس سے ڈرنے والوں کے قریب ہے تاکہ جلال ہمارے ملک میں بسے۔

Responsive Reading: Psalm 85 : 1-9

1.     Lord, thou hast been favourable unto thy land: thou hast brought back the captivity of Jacob.

2.     Thou hast forgiven the iniquity of thy people, thou hast covered all their sin.

3.     Thou hast taken away all thy wrath: thou hast turned thyself from the fierceness of thine anger.

4.     Turn us, O God of our salvation, and cause thine anger toward us to cease.

5.     Wilt thou be angry with us for ever? wilt thou draw out thine anger to all generations?

6.     Wilt thou not revive us again: that thy people may rejoice in thee?

7.     Shew us thy mercy, O Lord, and grant us thy salvation.

8.     I will hear what God the Lord will speak: for he will speak peace unto his people, and to his saints: but let them not turn again to folly.

9.     Surely his salvation is nigh them that fear him; that glory may dwell in our land.



درسی وعظ



بائبل


درسی وعظ

بائبل

1۔ زبور 32: 1، 2، 5آیات (تا دوسرا) ۔

1۔ مبارک ہے وہ جس کی خطا بخشی گئی اور جس کا گناہ ڈھانکا گیا۔

2۔ مبارک ہے وہ آدمی جس کی بدکاری کو خداوند حساب میں نہیں لاتا اور جس کے دل میں مکر نہیں۔

5۔میں نے تیرے حضور اپنے گناہ کو مان لیا اور اپنی بدکاری کو نہ چھپایا ۔ میں نے کہا میں خداوند کے حضور اپنی خطاؤں کا اقرار کروں گا اور تْو نے میرے گناہ کی بدی کو معاف کیا (سلاہ)۔

1. Psalm 32 : 1, 2, 5 (to 2nd .)

1     Blessed is he whose transgression is forgiven, whose sin is covered.

2     Blessed is the man unto whom the Lord imputeth not iniquity, and in whose spirit there is no guile.

5     I acknowledged my sin unto thee, and mine iniquity have I not hid. I said, I will confess my transgressions unto the Lord; and thou forgavest the iniquity of my sin.

2۔ یسعیاہ 33باب10تا16، 22، 24آیات

10۔ خداوند فرماتا ہے اب میں اٹھونگا۔ اب میں سرفراز ہونگا۔ اب میں سر بلند ہو نگا۔ 

11۔ تم بھوسے سے باردار ہو گے پھوس تم سے پیدا ہو گا۔ تمہارا دم آگ کی طرح تم کو بھسم کریگا۔ 

12۔ اور لوگ جلے چونے کی مانند ہونگے۔ وہ ان کانٹوں کی مانند ہونگے جو کاٹ کر آگ میں جلائے جائیں۔ 

13۔ تم جو دور ہو سنو کہ میں نے کیا کیا اورتم جو نزدیک ہو میری قدرت کا اقرار کرو۔ 

14۔ وہ گنہگار جو صیون میں ہیں ڈر گئے۔ کپکپی نے بے دینوں کو آ دبایا ہے۔ کون ہم میں سے اس مہلک آگ میں رہ سکتا ہے؟ اور کون ہم میں سے ابدی شعلوں کے درمیان بس سکتا ہے؟

15۔ وہ جو راست رفتار اور درست گفتار ہیں۔ جو ظلم کے نفع کو حقیر جانتا ہے۔ جو رشوت سے دست بردارہے جو اپنے کان بند کرتا ہے تاکہ خونریزی کے مضمون نہ سنے اور آنکھیں موندتا ہے تاکہ زیان کاری نہ دیکھے۔ 

16۔ وہ بلندی پر رہیگا اسکی پناہ گاہ پہاڑ کا قلعہ ہو گا۔ اسکو روٹی دی جائیگی اسکا پانی مقرر ہو گا۔

22۔ کیونکہ خداوند ہمارا حاکم ہے۔ خداوند ہمارا شریعت دینے والا ہے۔ خداوند ہمارا بادشاہ ہے وہی ہم کو بچائیگا۔

24۔ وہاں کے باشندوں میں بھی کوئی نہ کہیگا کہ میں بیمار ہوں اور انکے گناہ بخشے جائینگے۔

2. Isaiah 33 : 10-16, 22, 24

10     Now will I rise, saith the Lord; now will I be exalted; now will I lift up myself.

11     Ye shall conceive chaff, ye shall bring forth stubble: your breath, as fire, shall devour you.

12     And the people shall be as the burnings of lime: as thorns cut up shall they be burned in the fire.

13     Hear, ye that are far off, what I have done; and, ye that are near, acknowledge my might.

14     The sinners in Zion are afraid; fearfulness hath surprised the hypocrites. Who among us shall dwell with the devouring fire? who among us shall dwell with everlasting burnings?

15     He that walketh righteously, and speaketh uprightly; he that despiseth the gain of oppressions, that shaketh his hands from holding of bribes, that stoppeth his ears from hearing of blood, and shutteth his eyes from seeing evil;

16     He shall dwell on high: his place of defence shall be the munitions of rocks: bread shall be given him; his waters shall be sure.

22     For the Lord is our judge, the Lord is our lawgiver, the Lord is our king; he will save us.

24     And the inhabitant shall not say, I am sick: the people that dwell therein shall be forgiven their iniquity.

3۔ لوقا 4باب1 (تا پہلا،)

1۔ پھر یسوع روح القدس سے بھرا ہوا یردن سے لوٹا۔

3. Luke 4 : 1 (to 1st,)

1     And Jesus being full of the Holy Ghost returned from Jordan,

4۔ لوقا 15باب1تا7، 11تا24 آیات (تا پہلا۔)

1۔ سب محصول لینے والے اور گنہگار اُس کے پاس آتے تھے تاکہ اُس کی باتیں سنیں۔ 

2۔ اور فریسی اور فقیہ بڑ بڑا کر کہنے لگے یہ آدمی گنہگاروں سے ملتا اور اُن کے ساتھ کھانا کھاتا ہے۔ 

3۔ اُس نے اُن سے یہ تمثیل کہی کہ۔ 

4۔ تم میں سے کون سا ایسا آدمی ہے جس کے پاس سو بھیڑیں ہوں اور ان میں سے ایک کھو جائے تو ننانوے کو بیابان میں چھوڑ کر اس کھوئی ہوئی کو جب تک مل نہ جائے ڈھونڈتا نہ رہے؟ 

5۔ پھر جب مل جاتی ہے تو وہ خوش ہو کر اسے کندھے پر اٹھا لیتا ہے۔ 

6۔ اور گھر پہنچ کر دوستوں اور پڑوسیوں کو بلاتا ہے اور کہتا ہے میرے ساتھ خوشی کرو کیونکہ میری کھوئی ہوئی بھیڑ مل گئی۔ 

7۔ میں تم سے کہتا ہوں کہ اسی طرح ننانوے راستبازوں کی نسبت جوتوبہ کی حاجت نہیں رکھتے ایک توبہ کرنے والے گنہگار کے باعث آسمان پر زیادہ خوشی ہوگی۔

11۔ پھر اُس نے کہا کہ کسی شخص کے دو بیٹے تھے۔ 

12۔ ان میں سے چھوٹے نے باپ سے کہا اے باپ! مال کا جو حصہ مجھ کو پہنچتا ہے مجھے دے دے۔ اُس نے اپنا مال متاع انہیں بانٹ دیا۔ 

13۔ اور بہت دن نہ گذرے کہ چھوٹا بیٹا اپنا سب کچھ جمع کر کے دور دراز ملک کو روانہ ہواا اور وہاں اپنا مال بدچلنی میں اڑا دیا۔ 

14۔ اور جب سب کچھ خرچ کر چکا تو اس ملک میں سخت کال پڑا اور وہ محتاج ہونے لگا۔ 

15۔ پھر اس مُلک کے ایک باشندہ کے ہاں جا پڑا۔ اس نے اُس کو اپنے کھیتوں میں سور چرانے بھیجا۔ 

16۔ اور اُسے آرزو تھی کہ جو پھلیاں سور کھاتے تھے انہی سے اپنا پیٹ بھرے مگر کوئی اسے نہ دیتا تھا۔ 

17۔ پھر اُس نے ہوش میں آ کر کہا میرے باپ کے بہت سے مزدوروں کو افراط سے روٹی ملتی ہے اور مَیں یہاں بھوکا مر رہا ہوں! 

18۔ میں اٹھ کر اپنے باپ کے پاس جاؤں گا اور اس سے کہوں گا اے باپ! میں آسمان کا اور تیری نظر میں گنہگار ہوا۔ 

19۔ اب اس لائق نہیں رہا پھر تیرا بیٹا کہلاؤں۔ مجھے اپنے مزدوروں جیسا کرلے۔ 

20۔ پس وہ اٹھ کر اپنے باپ کے پاس چلا۔ وہ ابھی دور ہی تھا کہ اسے دیکھ کر اُس کے باپ کو ترس آیا اور دوڑ کر اُس کو گلے لگایا اور چومہ۔ 

21۔ بیٹے نے اُس سے کہا اے باپ! میں آسمان کا اور تیری نظر میں گنہگار ہوا۔ اب اس لائق نہیں رہا کہ پھر تیرا بیٹا کہلاؤں۔ 

22۔ باپ نے اپنے نوکروں سے کہا اچھے سے اچھا لباس جلد نکال کر اسے پہناؤ اور اُس کے ہاتھ میں انگوٹھی اور پاؤں میں جوتی پہناؤ۔ 

23۔ اور پلے ہوئے بچھڑے کو لا کر ذبح کرو تاکہ ہم کھا کر خوشی منائیں۔ 

24۔ کیونکہ میرا یہ بیٹا مردہ تھا۔ اب زندہ ہوا۔ کھو گیا تھا۔ اب ملا ہے۔

4. Luke 15 : 1-7, 11-24 (to 1st .)

1     Then drew near unto him all the publicans and sinners for to hear him.

2     And the Pharisees and scribes murmured, saying, This man receiveth sinners, and eateth with them.

3     And he spake this parable unto them, saying,

4     What man of you, having an hundred sheep, if he lose one of them, doth not leave the ninety and nine in the wilderness, and go after that which is lost, until he find it?

5     And when he hath found it, he layeth it on his shoulders, rejoicing.

6     And when he cometh home, he calleth together his friends and neighbours, saying unto them, Rejoice with me; for I have found my sheep which was lost.

7     I say unto you, that likewise joy shall be in heaven over one sinner that repenteth, more than over ninety and nine just persons, which need no repentance.

11     And he said, A certain man had two sons:

12     And the younger of them said to his father, Father, give me the portion of goods that falleth to me. And he divided unto them his living.

13     And not many days after the younger son gathered all together, and took his journey into a far country, and there wasted his substance with riotous living.

14     And when he had spent all, there arose a mighty famine in that land; and he began to be in want.

15     And he went and joined himself to a citizen of that country; and he sent him into his fields to feed swine.

16     And he would fain have filled his belly with the husks that the swine did eat: and no man gave unto him.

17     And when he came to himself, he said, How many hired servants of my father’s have bread enough and to spare, and I perish with hunger!

18     I will arise and go to my father, and will say unto him, Father, I have sinned against heaven, and before thee,

19     And am no more worthy to be called thy son: make me as one of thy hired servants.

20     And he arose, and came to his father. But when he was yet a great way off, his father saw him, and had compassion, and ran, and fell on his neck, and kissed him.

21     And the son said unto him, Father, I have sinned against heaven, and in thy sight, and am no more worthy to be called thy son.

22     But the father said to his servants, Bring forth the best robe, and put it on him; and put a ring on his hand, and shoes on his feet:

23     And bring hither the fatted calf, and kill it; and let us eat, and be merry:

24     For this my son was dead, and is alive again; he was lost, and is found.

5۔ لوقا 6باب37، 38آیات

37۔ عیب جوئی نہ کرو۔ تمہاری بھی عیب جوئی نہ کی جائے گی۔ مجرم نہ ٹھہراؤ۔ تم بھی مجرم نہ ٹھہرائے جاؤ گے۔ خلاصی دو، تم بھی خلاصی پاؤ گے۔ 

38۔دِیا کرو تمہیں بھی دیا جائے گا۔ اچھا پیمانہ داب داب کر اور ہلا ہلا کر اور لبریز کر کے تمہارے پلے میں ڈالیں گے کیونکہ جس پیمانے سے تم ناپتے ہو اْسی سے تمہارے لئے ناپا جائے گا۔

5. Luke 6 : 37, 38

37     Judge not, and ye shall not be judged: condemn not, and ye shall not be condemned: forgive, and ye shall be forgiven:

38     Give, and it shall be given unto you; good measure, pressed down, and shaken together, and running over, shall men give into your bosom. For with the same measure that ye mete withal it shall be measured to you again.

6۔ افسیوں 1باب3تا7آیات

3۔ ہمارے خداوند یسوع مسیح کے خدا اور باپ کی حمد ہو جس نے ہم کو مسیح میں آسمانی مقاموں پر ہر طرح کی روحانی برکت بخشی۔ 

4۔چنانچہ اْس نے ہم کو بنائے عالم سے پیشتر اْس میں چن لیا تاکہ ہم اْس کے نزدیک محبت میں پاک اور بے عیب ہوں۔

5۔ اور اْس نے اپنی مرضی کے نیک ارادہ کے موافق ہمیں اپنے لئے پیشتر سے مقرر کیا کہ یسوع مسیح کے وسیلہ سے اْس کے لے پالک بیٹے ہوں۔

6۔ تاکہ اْس کے اْس فضل کے جلال کی ستائش ہو جو ہمیں اْس عزیز میں مفت بخشا۔

7۔ ہم کو اْس میں اْس کے خون کے وسیلہ سے مخلصی یعنی قصوروں کی معافی اْس کے اْس فضل کی دولت کے موافق حاصل ہے۔

6. Ephesians 1 : 3-7

3     Blessed be the God and Father of our Lord Jesus Christ, who hath blessed us with all spiritual blessings in heavenly places in Christ:

4     According as he hath chosen us in him before the foundation of the world, that we should be holy and without blame before him in love:

5     Having predestinated us unto the adoption of children by Jesus Christ to himself, according to the good pleasure of his will,

6     To the praise of the glory of his grace, wherein he hath made us accepted in the beloved.

7     In whom we have redemption through his blood, the forgiveness of sins, according to the riches of his grace;



سائنس اور صح


1۔ 205: 12۔13

خدا نے سب کچھ عقل سے خلق کیا، اور سب کچھ کامل اور ابدی بنایا۔

1. 205 : 12-13

God created all through Mind, and made all perfect and eternal.

2۔ 476: 28۔5

خدا کے لوگوں سے متعلق، نہ کہ انسان کے بچوں سے متعلق، بات کرتے ہوئے یسوع نے کہا، ’’خدا کی بادشاہی تمہارے درمیان ہے؛ ‘‘ یعنی سچائی اور محبت حقیقی انسان پر سلطنت کرتی ہے، یہ ظاہر کرتے ہوئے کہ انسان خدا کی صورت پر بے گناہ اور ابدی ہے۔ یسوع نے سائنس میں کامل آدمی کو دیکھا جو اْس پر وہاں ظاہر ہوا جہاں گناہ کرنے والا فانی انسان لافانی پر ظاہر ہوا۔ اس کامل شخص میں نجات دہندہ نے خدا کی اپنی شبیہ اور صورت کو دیکھا اور انسان کے اس درست نظریے نے بیمار کو شفا بخشی۔ لہٰذہ یسوع نے تعلیم دی کہ خدا برقرار اور عالمگیر ہے اور یہ کہ انسان پاک اور مقدس ہے۔ 

2. 476 : 28-5

When speaking of God's children, not the children of men, Jesus said, "The kingdom of God is within you;" that is, Truth and Love reign in the real man, showing that man in God's image is unfallen and eternal. Jesus beheld in Science the perfect man, who appeared to him where sinning mortal man appears to mortals. In this perfect man the Saviour saw God's own likeness, and this correct view of man healed the sick. Thus Jesus taught that the kingdom of God is intact, universal, and that man is pure and holy.

3۔ 337: 16۔19

اپنی پاکیزگی کے تناسب میں انسان کامل ہے، اور کاملیت ہستی کی آسمانی ترتیب ہے جو مسیح میں زندگی ، زندگی کے روحانی خیال کو ظاہر کرتی ہے۔ 

3. 337 : 16-19

In proportion to his purity is man perfect; and perfection is the order of celestial being which demonstrates Life in Christ, Life's spiritual ideal.

4۔ 480: 19 (خدا ، یا) ۔ 20

خدا یا اچھائی نے انسان کو کبھی گناہ کے قابل نہیں بنایا۔

4. 480 : 19 (God, or)-20

God, or good, never made man capable of sin.

5۔ 356: 19۔23 

خدا ویسے ہی گناہ، بیماری اور موت کو پیدا کرنے کے لئے نااہل ہے جیسے وہ ان غلطیوں کا تجربہ کرنے کے لئے نااہل ہے۔ تو پھر اْس کے لئے یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ غلطیوں کے ترازو سے مزین انسان کو خلق کرے، ایسا انسان جو الٰہی صورت پر پیدا کیا گیا ہے؟

5. 356 : 19-23

God is as incapable of producing sin, sickness, and death as He is of experiencing these errors. How then is it possible for Him to create man subject to this triad of errors, — man who is made in the divine likeness?

6۔ 357: 4۔ 13 (تا؛)

خدا ’’کی آنکھیں ایسی پاک ہیں کہ بدی کو نہیں دیکھ سکتیں۔‘‘ ہم جھوٹ کو قبول کرنے سے نہیں بلکہ رد کرنے سے سچائی میں قائم رہتے ہیں۔ 

یسوع نے مجسم بدی سے متعلق کہا کہ یہ ’’جھوٹا ہے، اور جھوٹ کا باپ ہے۔‘‘ سچائی نہ جھوٹ کو ، جھوٹ کی لیاقت کو پیدا کرتی ہے نہ جھوٹے کو پیدا کرتی ہے۔ اگر انسان یہ یقین رکھنا چھوڑ دے کہ خدا بیماری، گناہ اور موت کو بناتا ہے یا انسان کو اس دروہی ترازو کی تکلیفوں کے قابل بناتا ہے تو غلطی کی بنیادیں زائل ہو جائیں گی اور غلطی کی تباہی یقینی ہو گی۔

6. 357 : 4-13 (to ;)

God is "of purer eyes than to behold evil." We sustain Truth, not by accepting, but by rejecting a lie.

Jesus said of personified evil, that it was "a liar, and the father of it." Truth creates neither a lie, a capacity to lie, nor a liar. If mankind would relinquish the belief that God makes sickness, sin, and death, or makes man capable of suffering on account of this malevolent triad, the foundations of error would be sapped and error's destruction ensured;

7۔ 481: 24 (گناہ) ۔27

گناہ میں خود کار تباہی کے عناصر پائے جاتے ہیں۔ یہ خود کو قائم نہیں رکھ سکتا۔ اگر گناہ کو حمایت حاصل ہوتی تو خدا اسے ضرور پکڑ لیتا، اور یہ ناممکن ہے کیونکہ سچائی غلطی کو سہارا نہیں دے سکتی۔

7. 481 : 24 (Sin)-27

Sin has the elements of self-destruction. It cannot sustain itself. If sin is supported, God must uphold it, and this is impossible, since Truth cannot support error.

8 ۔ 339: 1(دی) ۔4

گناہ کی تباہی معافی کا الٰہی طریقہ کار ہے۔ الٰہی زندگی موت کوتباہ کرتی ہے، سچائی غلطی کو نیست کرتی ہے، اور محبت نفرت کو نیست کرتی ہے۔ تباہ ہونے کے بعد، گناہ کو معافی کی کسی اور صورت کی ضرورت نہیں رہتی۔

8. 339 : 1 (The)-4

The destruction of sin is the divine method of pardon. Divine Life destroys death, Truth destroys error, and Love destroys hate. Being destroyed, sin needs no other form of forgiveness.

9۔ 6: 11۔ 14، 18۔ 27

گناہ کے نتیجے میں تکالیف کا موجب بننا، گناہ کو تباہ کرنے کا وسیلہ ہے۔ گناہ میں ملنے والی ہر فرضی تسکین اس کے متوازی درد سے زیادہ آراستہ ہوگی، جب تک کہ مادی زندگی اور گناہ پر یقین تباہ نہیں کر دیا جاتا۔ 

یہ فرض کرنا کہ جیسے خدا کا رحم مطلوب یا غیر مطلوب ہوتا ہے اْسی کے مطابق خدا گناہ کو معاف کرتا یا سزا دیتا ہے، محبت کی غلط سمجھ ہے اور یہ اپنے غلط اعمال کے لئے دعا کو حفاظتی در بنانے کے مترادف ہے۔

اسے ختم کرنے سے قبل یسوع گناہ کو بے نقاب کرتا اور ملامت کرتا ہے۔ بیمار عورت سے اْس نے کہا کہ تجھے شیطان نے جکڑرکھا تھا، اور پطرس سے کہا، ’’تْو میرے لئے ٹھوکر کا باعث ہے۔‘‘ وہ انسان کو دکھانے اور تعلیم دینے آیا کہ کیسے گناہ ، بیماری اور موت کو تباہ کرنا ہے۔ 

9. 6 : 11-14, 18-27

To cause suffering as the result of sin, is the means of destroying sin. Every supposed pleasure in sin will furnish more than its equivalent of pain, until belief in material life and sin is destroyed.

To suppose that God forgives or punishes sin according as His mercy is sought or unsought, is to misunderstand Love and to make prayer the safety-valve for wrong-doing.

Jesus uncovered and rebuked sin before he cast it out. Of a sick woman he said that Satan had bound her, and to Peter he said, "Thou art an offence unto me." He came teaching and showing men how to destroy sin, sickness, and death.

10۔ 5: 3۔ 13

غلط کام پر شرمندگی اصلاح کی جانب ایک قدم ہے لیکن بہت آسان قدم ہے۔ عقل کے باعث جو اگلا اور بڑا قدم اٹھانے کی ضرورت ہے وہ وفاداری کی آزمائش ہے، یعنی اصلاح ۔ یہاں تک ہمیں حالات کے دباؤ میں رکھا جاتا ہے۔ آزمائش ہمیں جرم کو دوہرانے کی دعوت دیتی ہے، اورجو کچھ ہوا ہوتا ہے اس کے عوض غم و الم ملتے ہیں۔ یہ ہمیشہ ہوگا، جب تک ہم یہ نہیں سیکھتے کہ عدل کے قانون میں کوئی رعایت نہیں ہے اور ہمیں ’’کوڑی کوڑی ‘‘ ادا کرنا ہوگی۔جس پیمانے سے تم ناپتے ہو ’’اسی سے تمہارے لئے ناپا جائے گا‘‘، اور یہ لبریز ہوگا اور ’’باہر چھلکے گا۔‘‘

10. 5 : 3-13

Sorrow for wrong-doing is but one step towards reform and the very easiest step. The next and great step required by wisdom is the test of our sincerity, — namely, reformation. To this end we are placed under the stress of circumstances. Temptation bids us repeat the offence, and woe comes in return for what is done. So it will ever be, till we learn that there is no discount in the law of justice and that we must pay "the uttermost farthing." The measure ye mete "shall be measured to you again," and it will be full "and running over."

11۔ 201: 20۔ 5

پاکیزگی پر پاکیزگی کی پیوند کاری کرنا، یہ فرض کرنا کہ گناہ بِنا ترک کئے معاف کیا جاسکتا ہے، ایسی ہی بیوقوفی ہے جیسے مچھروں کو نکیل ڈالنا اور اونٹوں کو نگلنا ہوتا ہے۔ 

سائنسی اتحاد جو خدا اور انسا ن کے درمیان موجود ہے اْسے عملی زندگی میں کشیدہ کرنا چاہئے اور خدا کی مرضی عالگیر طور پر پوری کی جانی چاہئے۔

11. 201 : 20-5

Grafting holiness upon unholiness, supposing that sin can be forgiven when it is not forsaken, is as foolish as straining out gnats and swallowing camels.

The scientific unity which exists between God and man must be wrought out in life-practice, and God's will must be universally done.

12۔ 22: 3۔ 31

پینڈولم کی طرح گناہ اور معافی کی امید میں جھْولتے ہوئے، خود غرضی اور نفس پرستی کو متواتر تنزلی کا موجب بنتے ہوئے ہماری اخلاقی ترقی دھیمی ہو جائے گی۔مسیح کے مطالبے پر بیدار ہونے سے بشر مصائب کا تجربہ کرتے ہیں ۔ یہ انہیں ، ایک ڈوبتے ہوئے شخص کی مانند خود کو بچانے کی بھرپور کوششیں کرنے کی ترغیب دیتا ہے؛ اور مسیح کے بیش قیمت خون کے وسیلہ یہ کوششیں کامیابی کا سہرا پاتی ہیں۔ 

’’اپنی نجات کے لئے کوشش کریں‘‘، یہ زندگی اور محبت کا مطالبہ ہے، کیونکہ یہاں پہنچنے کے لئے خدا آپ کے ساتھ کام کرتا ہے۔ ’’قائم رہو جب تک کہ میں نہ آؤں!‘‘ اپنے اجر کا انتظار کریں، اور ’’نیک کام کرنے میں ہمت نہ ہاریں۔‘‘ اگر آپ کی کوششیں خوف و ہراس کی مشکلات میں گھِری ہیں، اور آپ کو موجودہ کوئی اجر نہیں مل رہا، واپس غلطی پر مت جائیں، اور نہ ہی اس دوڑ میں کاہل ہو جائیں۔

جب جنگ کا دھواں چھٹ جاتا ہے، آپ اْس اچھائی کو جان جائیں گے جو آپ نے کی ہے، اور آپ کے حق کے مطابق آپ کو ملے گا۔ خدا ہمیں آزمائش سے نکالنے کے لئے جلد باز نہیں ہے، کیونکہ محبت کا مطلب ہے کہ آپ کو آزمایا اور پاک کیا جائے گا۔

غلطی سے حتمی رہائی ، جس کے تحت ہم لافانیت، بے انتہا آزادی، بے گناہ فہم میں شادمان ہوتے پھولوں سے سجی راہوں سے ہو کر نہیں پائے جاتے نہ کسی کے ایمان کے بغیر کسی اور کی متبادل کوشش سے سامنے آتے ہیں۔ جو کوئی یہ مانتا ہے کہ قہر راست ہے یا الوہیت انسانی تکالیف سے آسودہ ہوتی ہے، وہ خدا کو نہیں سمجھتا۔ 

عدل کے لئے گناہگار کواصلاح کی ضرورت ہے۔ رحم صرف تبھی قرض بخشتا ہے جب عدل تصدیق کرتا ہے۔ 

12. 22 : 3-31

Vibrating like a pendulum between sin and the hope of forgiveness, — selfishness and sensuality causing constant retrogression, — our moral progress will be slow. Waking to Christ's demand, mortals experience suffering. This causes them, even as drowning men, to make vigorous efforts to save themselves; and through Christ's precious love these efforts are crowned with success.

"Work out your own salvation," is the demand of Life and Love, for to this end God worketh with you. "Occupy till I come!" Wait for your reward, and "be not weary in well doing." If your endeavors are beset by fearful odds, and you receive no present reward, go not back to error, nor become a sluggard in the race.

When the smoke of battle clears away, you will discern the good you have done, and receive according to your deserving. Love is not hasty to deliver us from temptation, for Love means that we shall be tried and purified.

Final deliverance from error, whereby we rejoice in immortality, boundless freedom, and sinless sense, is not reached through paths of flowers nor by pinning one's faith without works to another's vicarious effort. Whosoever believeth that wrath is righteous or that divinity is appeased by human suffering, does not understand God.

Justice requires reformation of the sinner. Mercy cancels the debt only when justice approves.

13۔ 404: 3۔ 16

اگر کوئی شخص تمباکو نوشی کا متوالا ، غلام ہے یا گناہ کی بیشمار اقسام میں سے کسی ایک کا خاص غلام ہے، وہ سچائی کے ہونے سے ان غلطیوں کا سامنا کرے اور انہیں تباہ کردے، اور غلط کام کرنے والے پر اْن تکالیف کو ایاں کرنے سے یہ کام سر انجام دے جو ایسی عادات اپنانے والے پر نازل ہوتی ہیں، اور اْسے اس بات پر قائل کرے کہ ان جھوٹی رغبتوں میں حقیقی خوشی نہیں ہے۔ بدعنوان سوچ بد عنوان جسم میں ظاہر ہوتی ہے۔ شہوت، بْغض اور ہر طرح کی بدکاری بیماری کے عقائد ہیں، اور آپ انہیں صرف اْن بدکار مقاصد کو ختم کرنے سے تباہ کر سکتے ہیں جن سے یہ جنم لیتے ہیں۔ اگر کسی معاف کئے گئے انسانی فہم سے بدی ختم ہو چکی ہے ، حالانکہ اس کے اثرات ابھی بھی اْس شخص پر ہوں گے، تو آپ اس بے ترتیبی کو ختم کر سکتے ہیں جیسے خدا کی شریعت مکمل ہو جاتی ہے اور اصلاح جرم کو ختم کر دیتی ہے۔ صحتمند گناہگار سخت ترین گناہگار ہوتا ہے۔

13. 404 : 3-16

If a man is an inebriate, a slave to tobacco, or the special servant of any one of the myriad forms of sin, meet and destroy these errors with the truth of being, — by exhibiting to the wrong-doer the suffering which his submission to such habits brings, and by convincing him that there is no real pleasure in false appetites. A corrupt mind is manifested in a corrupt body. Lust, malice, and all sorts of evil are diseased beliefs, and you can destroy them only by destroying the wicked motives which produce them. If the evil is over in the repentant mortal mind, while its effects still remain on the individual, you can remove this disorder as God's law is fulfilled and reformation cancels the crime. The healthy sinner is the hardened sinner.

14۔ 11: 17۔ 18

سچائی غلطی پر معافی عطا نہیں کرتی، بلکہ نہایت موثر انداز سے اسے صاف کردیتی ہے۔

14. 11 : 17-18

Truth bestows no pardon upon error, but wipes it out in the most effectual manner.

15۔ 242: 1۔8

معافی، روحانی بپتسمہ، اور نئی پیدائش کے وسیلہ بشر اپنے لافانی عقائد اور جھوٹی انفرادیت کو اتار پھینکتے ہیں۔ یہ بس وقت کی بات ہے کہ ’’چھوٹے سے بڑے تک وہ سب مجھے (خدا کو) جانیں گے۔‘‘ مادے کے دعووں سے انکار خوشی کی روح کی جانب انسانی آزادی اور بدن پر آخری فتح کی جانب بڑا قدم ہے۔ 

15. 242 : 1-8

Through repentance, spiritual baptism, and regeneration, mortals put off their material beliefs and false individuality. It is only a question of time when "they shall all know Me [God], from the least of them unto the greatest." Denial of the claims of matter is a great step towards the joys of Spirit, towards human freedom and the final triumph over the body.


روز مرہ کے فرائ

منجاب میری بیکر ایڈ

روز مرہ کی دعا

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ ہر روز یہ دعا کرے: ’’تیری بادشاہی آئے؛‘‘ الٰہی حق، زندگی اور محبت کی سلطنت مجھ میں قائم ہو، اور سب گناہ مجھ سے خارج ہو جائیں؛ اور تیرا کلام سب انسانوں کی محبت کو وافر کرے، اور اْن پر حکومت کرے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 4۔

مقاصد اور اعمال کا ایک اصول

نہ کوئی مخالفت نہ ہی کوئی محض ذاتی وابستگی مادری چرچ کے کسی رکن کے مقاصد یا اعمال پر اثر انداز نہیں ہونی چاہئے۔ سائنس میں، صرف الٰہی محبت حکومت کرتی ہے، اور ایک مسیحی سائنسدان گناہ کو رد کرنے سے، حقیقی بھائی چارے ، خیرات پسندی اور معافی سے محبت کی شیریں آسائشوں کی عکاسی کرتا ہے۔ اس چرچ کے تمام اراکین کو سب گناہوں سے، غلط قسم کی پیشن گوئیوں،منصفیوں، مذمتوں، اصلاحوں، غلط تاثر ات کو لینے اور غلط متاثر ہونے سے آزاد رہنے کے لئے روزانہ خیال رکھنا چاہئے اور دعا کرنی چاہئے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 1۔

فرض کے لئے چوکس

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ وہ ہر روز جارحانہ ذہنی آراء کے خلاف خود کو تیار رکھے، اور خدا اور اپنے قائد اور انسانوں کے لئے اپنے فرائض کو نہ کبھی بھولے اور نہ کبھی نظر انداز کرے۔ اس کے کاموں کے باعث اس کا انصاف ہوگا، وہ بے قصور یا قصوارہوگا۔ 

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 6۔


████████████████████████████████████████████████████████████████████████