اتوار 6ستمبر ، 2020 |

اتوار 6ستمبر ، 2020 



مضمون۔ انسان

SubjectMan

سنہری متن: 1کرنتھیوں 15 باب10 آیت

”لیکن جو کچھ ہوں خدا کے فضل سے ہوں اْس کا جو فضل مجھ پر ہوا بے فائدہ نہیں ہوا۔“



Golden Text: I Corinthians 15 : 10

By the grace of God I am what I am: and his grace which was bestowed upon me was not in vain.





سبق کی آڈیو کے لئے یہاں کلک کریں

یوٹیوب سے سننے کے لئے یہاں کلک کریں

████████████████████████████████████████████████████████████████████████


جوابی مطالعہ: متی 5 باب13تا16 آیات • رومیوں 8 باب28 آیت


13۔تم زمین کے نمک ہو لیکن اگر نمک کا مزہ جاتا رہے تو وہ کس چیز سے نمکین کیا جائے گا؟ پھر وہ کسی کام کا نہیں سوا اس کے کہ باہر پھینکا جائے اور آدمیوں کے پاؤں کے نیچے روندا جائے۔

14۔تم دنیا کے نور ہو اور جو شہر پہاڑوں میں بسا ہے وہ چھپ نہیں سکتا۔

15۔ اور چراغ جلا کر پیمانے کے نیچے نہیں بلکہ چراغدان پر رکھتے ہیں تو اِس سے گھر کے سب لوگوں کو روشنی پہنچتی ہے۔

16۔اسی طرح تمہاری روشنی آدمیوں کے سامنے چمکے تاکہ وہ تمہارے نیک کاموں کو دیکھ کر تمہارے باپ کی جو آسمان پر ہے تمجید کریں۔

28۔ اور ہم کو معلوم ہے کہ سب چیزیں مل کر خدا سے محبت رکھنے والوں کے لئے بھلائی پیدا کرتی ہیں یعنی اْن کے لئے جو خدا کے ارادہ کے موافق بلائے گئے۔

Responsive Reading: Matthew 5 : 13-16; Romans 8 : 28

13.     Ye are the salt of the earth: but if the salt have lost his savour, wherewith shall it be salted? it is thenceforth good for nothing, but to be cast out, and to be trodden under foot of men.

14.     Ye are the light of the world. A city that is set on an hill cannot be hid.

15.     Neither do men light a candle, and put it under a bushel, but on a candlestick; and it giveth light unto all that are in the house.

16.     Let your light so shine before men, that they may see your good works, and glorify your Father which is in heaven.

28.     And we know that all things work together for good to them that love God, to them who are the called according to his purpose.



درسی وعظ



بائبل


درسی وعظ

بائبل

1۔ پیدائش 1باب26،27، 31 (تا پہلا) آیات

26۔ پھر خدا نے کہا کہ ہم انسان کو اپنی صور ت پر اپنی شبیہ کی مانند بنائیں اور وہ سمندر کی مچھلیوں اور آسمان کے پرندوں اور چوپایوں اور تمام زمین اور سب جانداروں پر جو زمین پر رینگتے ہیں اختیار رکھیں۔

27۔ اور خدا نے انسان کو اپنی صورت پر پیدا کیا۔ خدا کی صورت پر اْس کو پیدا کیا۔ نر و ناری اْن کو پیدا کیا۔

31۔ اور خدا نے سب پر جو اْس نے بنایا تھا نظر کی اور دیکھا کہ بہت اچھا ہے۔

1. Genesis 1 : 26, 27, 31 (to 1st .)

26     And God said, Let us make man in our image, after our likeness: and let them have dominion over the fish of the sea, and over the fowl of the air, and over the cattle, and over all the earth, and over every creeping thing that creepeth upon the earth.

27     So God created man in his own image, in the image of God created he him; male and female created he them.

31     And God saw every thing that he had made, and, behold, it was very good.

2۔ زبور 8: 1، 3تا6 آیات

1۔ اے خداوند ہمارے رب! تیرا نام تمام زمین پر کیسا بزرگ ہے! تْو نے اپنا جلال آسمان پر قائم کیا۔

3۔ جب مَیں تیرے آسمان پر جو تیری دستکاری ہے اور چاند اور ستاروں پر جن کو تْو نے مقرر کیا غور کرتا ہوں۔

4۔ تو پھر انسان کیا ہے کہ تْو اْسے یاد رکھے اور آدم زاد کیا ہے کہ تْو اْس کی خبر لے؟

5۔ کیونکہ تْو نے اْسے خدا سے کچھ ہی کمتر بنایا ہے اور جلال اور شوکت سے اْسے تاجدار کرتا ہے۔

6۔ تْو نے اْسے اپنی دستکاری پر تسلط بخشا ہے۔ تْو نے سب کچھ اْس کے قدموں کے نیچے کر دیا ہے۔

2. Psalm 8 : 1, 3-6

1     O Lord our Lord, how excellent is thy name in all the earth! who hast set thy glory above the heavens.

3     When I consider thy heavens, the work of thy fingers, the moon and the stars, which thou hast ordained;

4     What is man, that thou art mindful of him? and the son of man, that thou visitest him?

5     For thou hast made him a little lower than the angels, and hast crowned him with glory and honour.

6     Thou madest him to have dominion over the works of thy hands; thou hast put all things under his feet:

3۔ متی 3 باب16، 17آیات

16۔ اور یسوع بپتسمہ لے کر فی الفور پانی کے پاس سے اوپر گیا اور دیکھو اْس کے لئے آسمان کھل گیا اور اْس نے خدا کے روح کو کبوتر کی مانند اْترتے اور اپنے اوپر آتے دیکھا۔

17۔ اور دیکھو آسمان سے یہ آواز آئی کہ یہ میرا پیارا بیٹا ہے جس سے مَیں خوش ہوں۔

3. Matthew 3 : 16, 17

16     And Jesus, when he was baptized, went up straightway out of the water: and, lo, the heavens were opened unto him, and he saw the Spirit of God descending like a dove, and lighting upon him:

17     And lo a voice from heaven, saying, This is my beloved Son, in whom I am well pleased.

4۔ متی 5 باب1تا3، 5، 6، 8، 20، 43تا45، 48 آیات

1۔ وہ اِس بھیڑ کو دیکھ کر پہاڑ پر چڑھ گیا اور جب بیٹھ گیا تو اْس کے شاگرد اْس کے پاس آئے۔

2۔ اور وہ اپنی زبان کھول کر اْنہیں یوں تعلیم دینے لگا۔

3۔ مبارک ہیں وہ جو دل کے غریب ہیں کیونکہ آسمان کی بادشاہی اْن ہی کی ہے۔

5۔ مبارک ہیں وہ جو حلیم ہیں کیونکہ وہ زمین کے وارث ہوں گے۔

6۔ مبارک ہیں وہ جو راستبازی کے بھوکے اور پیاسے ہیں کیونکہ وہ آسودہ ہوں گے۔

8۔ مبارک ہیں وہ جو پاک دل ہیں کیونکہ وہ خدا کو دیکھیں گے۔

20۔ کیونکہ مَیں تم سے کہتا ہوں کہ اگر تمہاری راستبازی فقیہوں اور فریسیوں کی راستبازی سے زیادہ نہ ہوگی تو تم آسمان کی بادشاہی میں ہر گز داخل نہ ہوگے۔

43۔ تم سْن چکے ہو کہ کہا گیا تھا کہ اپنے پڑوسی سے محبت رکھ اور اپنے دشمن سے عداوت۔

44۔ لیکن مَیں تم سے کہتا ہوں کہ اپنے دشمنوں سے محبت رکھو اور اپنے ستانے والوں کے لئے دعا کرو۔

45۔ تاکہ تم اپنے باپ کے جو آسمان پر ہے بیٹے ٹھہرو کیونکہ وہ اپنے سورج کوبدوں اور نیکوں دونوں پر چمکاتا ہے اور راستبازوں اور نا راستوں دونوں پر مینہ برساتا ہے۔

48۔پس چاہئے کہ تم کامل ہو جیسا تمہارا آسمانی باپ کامل ہے۔

4. Matthew 5 : 1-3, 5, 6, 8, 20, 43-45, 48

1     And seeing the multitudes, he went up into a mountain: and when he was set, his disciples came unto him:

2     And he opened his mouth, and taught them, saying,

3     Blessed are the poor in spirit: for theirs is the kingdom of heaven.

5     Blessed are the meek: for they shall inherit the earth.

6     Blessed are they which do hunger and thirst after righteousness: for they shall be filled.

8     Blessed are the pure in heart: for they shall see God.

20     For I say unto you, That except your righteousness shall exceed the righteousness of the scribes and Pharisees, ye shall in no case enter into the kingdom of heaven.

43     Ye have heard that it hath been said, Thou shalt love thy neighbour, and hate thine enemy.

44     But I say unto you, Love your enemies, bless them that curse you, do good to them that hate you, and pray for them which despitefully use you, and persecute you;

45     That ye may be the children of your Father which is in heaven: for he maketh his sun to rise on the evil and on the good, and sendeth rain on the just and on the unjust.

48     Be ye therefore perfect, even as your Father which is in heaven is perfect.

5۔ 1کرنتھیوں 12 باب1، 4تا13 آیات

1۔ اے بھائیو! مَیں نہیں چاہتا کہ تم روحانی نعمتوں کے بارے میں بے خبر رہو۔

4۔نعمتیں تو طرح طرح کی ہیں مگر روح ایک ہی ہے۔

5۔اور خدمتیں بھی طرح طرح کی ہیں مگر خداوند ایک ہی ہے۔

6۔اور تاثیریں بھی طرح طرح کی ہیں مگر خدا ایک ہی ہے جو سب میں ہر طرح کا اثر پیدا کرتا ہے۔

7۔ لیکن ہر شخص میں روح کا ظہور فائدہ پہنچانے کے لئے ہوتا ہے۔

8۔ کیونکہ ایک کو روح کے وسیلہ سے حکمت کا کلام عنایت ہوتا ہے اور دوسرے کو اْسی روح کے موافق علمیت کا کلام۔

9۔ کسی کو اْس روح سے ایمان اور کسی کو اْسی روح سے شفا دینے کی توفیق۔

10۔ کسی کو معجزوں کی قدرت۔ کسی کو نبوت کی۔ کسی کو روح کا امتیاز۔ کسی کو طرح طرح کی زبانیں۔ کسی کو زبانوں کا ترجمہ۔

11۔ لیکن یہ سب تاثیریں وہی ایک روح کرتا ہے اور جس کو جو چاہتا ہے بانٹتا ہے۔

12۔ کیونکہ جس طرح بدن ایک ہے اور اْس کے اعضا بہت سے ہیں اور بدن کے سب اعضا گو بہت سے ہیں مگر باہم مل کر ایک ہی بدن ہیں اْسی طرح مسیح بھی ایک ہی ہے۔

13۔ کیونکہ ہم سب نے خواہ یہودی ہو خواہ یونانی۔ خواہ غلام ہو خواہ آزاد۔ ایک ہی روح کے وسیلہ سے ایک بدن کے ہونے کے لئے بپتسمہ لیا اور ہم سب کو ایک ہی روح پلایا گیا۔

5. I Corinthians 12 : 1, 4-13

1     Now concerning spiritual gifts, brethren, I would not have you ignorant.

4     Now there are diversities of gifts, but the same Spirit.

5     And there are differences of administrations, but the same Lord.

6     And there are diversities of operations, but it is the same God which worketh all in all.

7     But the manifestation of the Spirit is given to every man to profit withal.

8     For to one is given by the Spirit the word of wisdom; to another the word of knowledge by the same Spirit;

9     To another faith by the same Spirit; to another the gifts of healing by the same Spirit;

10     To another the working of miracles; to another prophecy; to another discerning of spirits; to another divers kinds of tongues; to another the interpretation of tongues:

11     But all these worketh that one and the selfsame Spirit, dividing to every man severally as he will.

12     For as the body is one, and hath many members, and all the members of that one body, being many, are one body: so also is Christ.

13     For by one Spirit are we all baptized into one body, whether we be Jews or Gentiles, whether we be bond or free; and have been all made to drink into one Spirit.

6۔ افسیوں 4باب1،2، 13، 22 تا24 آیات

1۔ پس مَیں جو خداوند میں قیدی ہوں تم سے التماس کرتا ہوں کہ جس بلاوے سے تم بلائے گئے تھے اْس کے لائق چال چلو۔

2۔ یعنی کمال فروتنی یعنی حلم کے ساتھ تحمل کر کے محبت سے ایک دوسرے کی برداشت کرو۔

13۔ جب تک ہم سب کے سب خدا کے بیٹے اور اْس کی پہچان میں ایک نہ ہو جائیں اور کامل انسان نہ بنیں یعنی مسیح کے پورے قد کے اندازہ تک نہ پہنچ جائیں۔

22۔ کہ تم اپنے اگلے چال چلن کی اْس پرانی انسانیت کو اتار ڈالو جو فریب کی شہوتوں کے سبب خراب ہوتی جاتی ہے۔

23۔ اور اپنی عقل کی روحانی حالت میں نئے بنتے جاؤ۔

24۔ اور نئی انسانیت کو پہنو جو خدا کے مطابق سچائی کی راستبازی اور پاکیزگی میں پیدا کی گئی ہے۔

6. Ephesians 4 : 1, 2, 13, 22-24

1     I therefore, the prisoner of the Lord, beseech you that ye walk worthy of the vocation wherewith ye are called,

2     With all lowliness and meekness, with longsuffering, forbearing one another in love;

13     Till we all come in the unity of the faith, and of the knowledge of the Son of God, unto a perfect man, unto the measure of the stature of the fulness of Christ:

22     That ye put off concerning the former conversation the old man, which is corrupt according to the deceitful lusts;

23     And be renewed in the spirit of your mind;

24     And that ye put on the new man, which after God is created in righteousness and true holiness.

7۔ کلسیوں 3 باب11تا15 آیات

11۔ وہاں نہ یونانی رہا نہ یہودی۔ نہ ختنہ نہ نامختونی۔ نہ وحشی نہ سکوتی۔ نہ غلام نہ آزاد۔ صرف مسیح سب کچھ اور سب میں ہے۔

12۔ پس خدا کے برگزیدوں کی طرح جو پاک اور عزیز ہیں دردمندی اور مہربانی اور فروتنی اور حلم اور تحمل کا لباس پہنو۔

13۔ اگر کسی کو دوسرے کی شکایت ہو تو ایک دوسرے کی برداشت کرے اور ایک دوسرے کے قصور معاف کرے۔ جیسے خداوند نے تمہارے قصور معاف کئے ویسے ہی تم بھی کرو۔

14۔ اور اِن سب کے اوپر محبت کو جو کمال کا پٹکا ہے باندھ لو۔

15۔ اور مسیح کا اطمینان جس کے لئے تم ایک بدن ہوکر بلائے بھی گئے ہو تمہارے دلوں پر حکومت کرے اور تم شکرگزار رہو۔

7. Colossians 3 : 11-15

11     Where there is neither Greek nor Jew, circumcision nor uncircumcision, Barbarian, Scythian, bond nor free: but Christ is all, and in all.

12     Put on therefore, as the elect of God, holy and beloved, bowels of mercies, kindness, humbleness of mind, meekness, longsuffering;

13     Forbearing one another, and forgiving one another, if any man have a quarrel against any: even as Christ forgave you, so also do ye.

14     And above all these things put on charity, which is the bond of perfectness.

15     And let the peace of God rule in your hearts, to the which also ye are called in one body; and be ye thankful.

8۔ افسیوں 2باب10 آیت

10۔ کیونکہ ہم اْسی کی کاریگری ہیں اور مسیح یسوع میں اْن نیک اعمال کے واسطے مخلوق ہوئے جن کو خدا نے پہلے سے ہمارے کرنے کے لئے تیار کیاتھا۔

8. Ephesians 2 : 10

10     For we are his workmanship, created in Christ Jesus unto good works, which God hath before ordained that we should walk in them.



سائنس اور صح


1۔ 76 :20 (انسان ہے)۔21

انسان لافانی ہے اور الٰہی اختیار کے وسیلہ جیتا ہے۔

1. 76 : 20 (man is)-21

…man is immortal and lives by divine authority.

2۔ 475 :7۔13، 14۔15 (تا؛)، 16 (دی)۔22

کلام پاک ہمیں اس بات سے آگاہ کرتا ہے کہ انسان خدا کی شبیہ اور صورت پر خلق کیا گیا ہے۔ یہ مادے کی شبیہ نہیں ہے۔ روح کی شبیہ اس قدر غیر روحانی نہیں ہوسکتی۔ انسان روحانی اور کامل ہے؛ اور چونکہ وہ روحانی اور کامل ہے اس لئے اْسے کرسچن سائنس میں ایسا ہی سمجھا جانا چاہئے۔۔۔وہ خدا کا جامع تصور ہے، جس میں تمام درست خیالات شامل ہیں۔۔۔وہ جس میں ایسی کوئی خاصیت نہیں جو خدائی سے ماخوذ نہ ہو؛ ایسی خاصیت جس میں زندگی ہو نہ عقل، نہ خود کی تخلیقی قوت ہو، بلکہ وہ روحانی طور پراْس سب چیزوں کی عکاسی کرتا ہے جو اْس کے خالق میں ہیں۔

2. 475 : 7-13, 14-15 (to ;), 16 (the)-22

The Scriptures inform us that man is made in the image and likeness of God. Matter is not that likeness. The likeness of Spirit cannot be so unlike Spirit. Man is spiritual and perfect; and because he is spiritual and perfect, he must be so understood in Christian Science. … He is the compound idea of God, including all right ideas; … the conscious identity of being as found in Science, in which man is the reflection of God, or Mind, and therefore is eternal; that which has no separate mind from God; that which has not a single quality underived from Deity; that which possesses no life, intelligence, nor creative power of his own, but reflects spiritually all that belongs to his Maker.

3۔ 63 :9۔11

روح اْس کی ہستی کا ابتدائی اور اصلی منبع ہے؛ خدا اْس کا باپ ہے، اور زندگی اْس کی ہستی کا قانون ہے۔

3. 63 : 9-11

Spirit is his primitive and ultimate source of being; God is his Father, and Life is the law of his being.

4۔ 259 :6 (الٰہی)۔14

الٰہی فطرت میں یسوع مسیح کو بہترین طریقے سے بیان کیا گیا ہے، جس نے انسانوں پر خدا کی مناسب تر عکاسی ظاہر کی اورکمزور سوچ کے نمونے کی سوچ سے بڑی معیارِ زندگی فراہم کی، یعنی ایسی سوچ جو انسان کے گرنے، بیماری، گناہ کرنے اور مرنے کو ظاہر کرتی ہے۔ سائنسی ہستی اور الٰہی شفا کی مسیح جیسی سمجھ میں کامل اصول اور خیال، کامل خدا اور کامل انسان، بطور سوچ اور اظہار کی بنیاد شامل ہوتے ہیں۔

4. 259 : 6 (The divine)-14

The divine nature was best expressed in Christ Jesus, who threw upon mortals the truer reflection of God and lifted their lives higher than their poor thought-models would allow, — thoughts which presented man as fallen, sick, sinning, and dying. The Christlike understanding of scientific being and divine healing includes a perfect Principle and idea, — perfect God and perfect man, — as the basis of thought and demonstration.

5۔ 476 :32۔7

یسوع نے سائنس میں کامل آدمی کو دیکھا جو اْس پر وہاں ظاہر ہوا جہاں گناہ کرنے والا فانی انسان لافانی پر ظاہر ہوا۔ اس کامل شخص میں نجات دہندہ نے خدا کی اپنی شبیہ اور صورت کو دیکھا اور انسان کے اس درست نظریے نے بیمار کو شفا بخشی۔ لہٰذہ یسوع نے تعلیم دی کہ خدا برقرار اور عالمگیر ہے اور یہ کہ انسان پاک اور مقدس ہے۔روح کے لئے انسان مادی رہائش گاہ نہیں ہے؛ وہ خود روحانی ہے۔

5. 476 : 32-7

Jesus beheld in Science the perfect man, who appeared to him where sinning mortal man appears to mortals. In this perfect man the Saviour saw God's own likeness, and this correct view of man healed the sick. Thus Jesus taught that the kingdom of God is intact, universal, and that man is pure and holy. Man is not a material habitation for Soul; he is himself spiritual.

6۔ 477 :9 (تا)۔17

پانچ جسمانی حواس کے لئے انسان بطور مادا اور عقل ایک ساتھ سامنے آتا ہے؛ مگر کرسچن سائنس یہ پیش کرتی ہے کہ انسان خدا کا خیال ہے اور واضح کرتی ہے کہ جسمانی حواس فانی اور جھوٹے بھرم ہیں۔ الٰہی سائنس اِسے ناممکن پیش کرتی ہے کہ مادی بدن کو، مادے کی بلند سطح کے ساتھ باہم ہونے کے وسیلہ، جس کا اْلٹا نام عقل لیا جاتا ہے، انسان ہونا چاہئے، یعنی اصلی اور کامل انسان، ہستی کا لافانی خیال، لازوال اور ابدی انسان۔

6. 477 : 9 (To)-17

To the five corporeal senses, man appears to be matter and mind united; but Christian Science reveals man as the idea of God, and declares the corporeal senses to be mortal and erring illusions. Divine Science shows it to be impossible that a material body, though interwoven with matter's highest stratum, misnamed mind, should be man, — the genuine and perfect man, the immortal idea of being, indestructible and eternal.

7۔ 302 :3۔9

مادی بدن اور عقل عارضی ہیں، مگر حقیقی انسان روحانی اور ابدی ہے۔حقیقی انسان کی شناخت کھو نہیں جاتی، بلکہ اِس وضاحت کے وسیلہ پائی جاتی ہے؛ کیونکہ ہستی اور پوری شناخت کی شعوری لامحدودیت غیر ترمیم شْدہ سمجھی جاتی اورقائم رہتی ہے۔جب خدا مکمل اور ابدی طور پر اْس کا ہے، تو یہ ناممکن ہے کہ انسان ایسا کچھ گوا بیٹھے جو حقیقی ہے۔

7. 302 : 3-9

The material body and mind are temporal, but the real man is spiritual and eternal. The identity of the real man is not lost, but found through this explanation; for the conscious infinitude of existence and of all identity is thereby discerned and remains unchanged. It is impossible that man should lose aught that is real, when God is all and eternally his. 

8۔ 254 :19 (دی)۔23

۔۔۔ انسانی خودی کو انجیلی تبلیغ ملنی چاہئے۔آج خدا ہم سے اِس کام کو قبول کرنے کا اور جلدی سے عملی طور پر مادی کو ترک کرنے اور روحانی پر عمل کرنے کا مطالبہ کرتا ہے جس سے بیرونی اور اصلی کا تعین ہوتا ہے۔

8. 254 : 19 (the)-23

…the human self must be evangelized. This task God demands us to accept lovingly to-day, and to abandon so fast as practical the material, and to work out the spiritual which determines the outward and actual.

9۔ 265 :10۔15

ہستی کا یہ سائنسی فہم، روح کے لئے مادے کو ترک کرتے ہوئے، کسی وسیلہ کے بغیر الوہیت میں انسان کے سوکھے پن اوراْس کی شناخت کی گمشْدگی کی تجویز دیتا ہے، لیکن انسان پر ایک وسیع تر انفرادیت نچھاور کرتا ہے،یعنی اعمال اور خیالات کا ایک بڑا دائرہ، وسیع محبت اور ایک بلند اورمزید مستقل امن عطا کرتا ہے۔

9. 265 : 10-15

This scientific sense of being, forsaking matter for Spirit, by no means suggests man's absorption into Deity and the loss of his identity, but confers upon man enlarged individuality, a wider sphere of thought and action, a more expansive love, a higher and more permanent peace.

10۔ 317 :16۔20

انسان کی انفرادیت کم ٹھوس نہیں ہے کیونکہ یہ روحانی ہے اور کیونکہ اْس کی زندگی مادے کے رحم و کرم پر نہیں ہے۔ خود کی روحانیت انفرادیت کا ادراک انسان کو مزید مزید حقیقی، سچائی میں مزید مضبوط بناتا ہے اور اْسے گناہ، بیماری اور موت کو فتح کرنے کے قابل بناتا ہے۔

10. 317 : 16-20

The individuality of man is no less tangible because it is spiritual and because his life is not at the mercy of matter. The understanding of his spiritual individuality makes man more real, more formidable in truth, and enables him to conquer sin, disease, and death.

11۔ 128 :6۔19

اِس سے یہ پتا چلتا ہے کہ تاجران اور مہذب علماء نے دیکھا ہے کہ کرسچن سائنس اْن کی برداشت اور ذہنی قوتوں کو فروغ دیتی ہے، کردار کے لئے اْن کی سوچ کو وسیع کرتی ہے، انہیں فراست اور ادراک اور اپنی عام گنجائش کو بڑھانے کی قابلیت دیتی ہے۔ انسانی سوچ روحانی سمجھ سے بھرو پور ہوکر مزید لچکدار ہوجاتی ہے، تو یہ بہت برداشت اور کسی حد تک خود سے فرارکے قابل ہوجاتی ہے اور کم آرام طلب ہوتی ہے۔ ہستی کی سائنس کا علم انسان کی قابلیت کے فن اور امکانات کو فروغ دیتا ہے۔ فانی لوگوں کو بلند اور وسیع ریاست تک رسائی دیتے ہوئے یہ سوچ کے ماحول کو بڑھاتا ہے۔ یہ سوچنے والے کو اْس کے ادراک اور بصیرت کی مقامی ہوا میں پروان چڑھاتا ہے۔

11. 128 : 6-19

From this it follows that business men and cultured scholars have found that Christian Science enhances their endurance and mental powers, enlarges their perception of character, gives them acuteness and comprehensiveness and an ability to exceed their ordinary capacity. The human mind, imbued with this spiritual understanding, becomes more elastic, is capable of greater endurance, escapes somewhat from itself, and requires less repose. A knowledge of the Science of being develops the latent abilities and possibilities of man. It extends the atmosphere of thought, giving mortals access to broader and higher realms. It raises the thinker into his native air of insight and perspicacity.

12۔ 491 :9۔16

انسان کی روحانی انفرادیت کبھی غلط نہیں ہوتی۔یہ انسان کے خالق کی شبیہ ہے۔ مادہ بشر کو حقیقی ابتداء اور ہستی کے حقائق سے نہیں جوڑ سکتا، جس میں سب کچھ ختم ہو جانا چاہئے۔ یہ صرف روح کی برتری کو تسلیم کرنے سے ہوگا، جو مادے کے دعووں کو منسوخ کرتی ہے، کہ بشر فانیت کو برخاست کرسکتے ہیں اور کسی مستحکم روحانی تعلق کو تلاش کر سکتے ہیں جو انسان کو ہمیشہ کے لئے، اپنے خالق کی طرف سے لازم و ملزوم الٰہی شبیہ میں قائم رکھتا ہے۔

12. 491 : 9-16

Man's spiritual individuality is never wrong. It is the likeness of man's Maker. Matter cannot connect mortals with the true origin and facts of being, in which all must end. It is only by acknowledging the supremacy of Spirit, which annuls the claims of matter, that mortals can lay off mortality and find the indissoluble spiritual link which establishes man forever in the divine likeness, inseparable from his creator.

13۔ 519 :14۔21

انسان لامحدود کو کبھی نہیں جان سکتے جب تک کہ وہ پرانی انسانیت کو اتارتے نہیں اور روحانی شبیہ اور صورت تک نہیں پہنچتے۔لامحدودیت کو کون ناپ سکتا ہے! رسول کی زبانی، ہم اْس کا اقرار کیسے کر سکتے ہیں جب تک ”ہم سب کے سب خدا کے بیٹے کے ایمان اور اْس کی پہچان میں ایک نہ ہو جائیں اور کامل انسان نہ بنیں یعنی مسیح کے پورے قد کے اندازہ تک نہ پہنچ جائیں“؟

13. 519 : 14-21

Mortals can never know the infinite, until they throw off the old man and reach the spiritual image and likeness. What can fathom infinity! How shall we declare Him, till, in the language of the apostle, "we all come in the unity of the faith, and of the knowledge of the Son of God, unto a perfect man, unto the measure of the stature of the fulness of Christ"?

14۔ 241 :23۔30

ایمان سے آگے، کسی شخص کا مقصد سچائی کے نقش قدم کو ڈھونڈنا ہونا چاہئے جو صحت اور پاکیزگی کی راہ ہے۔ہمیں حوریب کی چوٹی تک پہنچنے کی کوشش کرنی چاہئے جہاں خدا ظاہر ہوتا ہے؛ اور روحانی عمارت کے کونے کے سِرے کا پتھر پاکیزگی ہے۔روح کا بپتسمہ، بدن کی ساری ناپاکی کو دھونا، اس بات کا اشارہ دیتا ہے کہ پاک دل خدا کو دیکھتے ہیں اور وہ روحانی زندگی اور اْس کے اظہار تک پہنچ رہے ہیں۔

14. 241 : 23-30

One's aim, a point beyond faith, should be to find the footsteps of Truth, the way to health and holiness. We should strive to reach the Horeb height where God is revealed; and the corner-stone of all spiritual building is purity. The baptism of Spirit, washing the body of all the impurities of flesh, signifies that the pure in heart see God and are approaching spiritual Life and its demonstration.

15۔ 337 :16۔19

اپنی پاکیزگی کے تناسب میں انسان کامل ہے، اور کاملیت ہستی کی آسمانی ترتیب ہے جو مسیح میں زندگی، زندگی کے روحانی خیال کو ظاہر کرتی ہے۔

15. 337 : 16-19

In proportion to his purity is man perfect; and perfection is the order of celestial being which demonstrates Life in Christ, Life's spiritual ideal.

16۔ 99 :23۔29

سچی روحانیت کے پْر سکون، مضبوط دھارے، جن کے اظہار صحت، پاکیزگی اور خود کار قربانی ہیں، اِنہیں اْس وقت انسانی تجربے کو گہرا کرنا چاہئے جب تک مادی وجودیت کے عقائد واضح مسلط ہوتے ہوئے دکھائی نہیں دیتے اور گناہ، بیماری اور موت روحانی الوہیت کے سائنسی اظہاراور خدا کے روحانی، کامل انسان کو جگہ فراہم نہیں کرتے۔

16. 99 : 23-29

The calm, strong currents of true spirituality, the manifestations of which are health, purity, and self-immolation, must deepen human experience, until the beliefs of material existence are seen to be a bald imposition, and sin, disease, and death give everlasting place to the scientific demonstration of divine Spirit and to God's spiritual, perfect man.


روز مرہ کے فرائ

منجاب میری بیکر ایڈ

روز مرہ کی دعا

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ ہر روز یہ دعا کرے: ’’تیری بادشاہی آئے؛‘‘ الٰہی حق، زندگی اور محبت کی سلطنت مجھ میں قائم ہو، اور سب گناہ مجھ سے خارج ہو جائیں؛ اور تیرا کلام سب انسانوں کی محبت کو وافر کرے، اور اْن پر حکومت کرے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 4۔

مقاصد اور اعمال کا ایک اصول

نہ کوئی مخالفت نہ ہی کوئی محض ذاتی وابستگی مادری چرچ کے کسی رکن کے مقاصد یا اعمال پر اثر انداز نہیں ہونی چاہئے۔ سائنس میں، صرف الٰہی محبت حکومت کرتی ہے، اور ایک مسیحی سائنسدان گناہ کو رد کرنے سے، حقیقی بھائی چارے ، خیرات پسندی اور معافی سے محبت کی شیریں آسائشوں کی عکاسی کرتا ہے۔ اس چرچ کے تمام اراکین کو سب گناہوں سے، غلط قسم کی پیشن گوئیوں،منصفیوں، مذمتوں، اصلاحوں، غلط تاثر ات کو لینے اور غلط متاثر ہونے سے آزاد رہنے کے لئے روزانہ خیال رکھنا چاہئے اور دعا کرنی چاہئے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 1۔

فرض کے لئے چوکس

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ وہ ہر روز جارحانہ ذہنی آراء کے خلاف خود کو تیار رکھے، اور خدا اور اپنے قائد اور انسانوں کے لئے اپنے فرائض کو نہ کبھی بھولے اور نہ کبھی نظر انداز کرے۔ اس کے کاموں کے باعث اس کا انصاف ہوگا، وہ بے قصور یا قصوارہوگا۔ 

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 6۔


████████████████████████████████████████████████████████████████████████