اتوار 6 اکتوبر، 2019 |

اتوار 6 اکتوبر، 2019



مضمون۔ غیر واقعیت

SubjectUnreality

سنہری متن:سنہری متن: افسیوں 5باب14 آیت

’’اے سونے والے جاگ اور مردوں میں سے جی اٹھ تو مسیح کا نور تجھ پر چمکے گا ۔‘‘



Golden Text: Ephesians 5 : 14

Awake thou that sleepest, and arise from the dead, and Christ shall give thee light.





سبق کی آڈیو کے لئے یہاں کلک کریں

یوٹیوب سے سننے کے لئے یہاں کلک کریں

████████████████████████████████████████████████████████████████████████


جوابی مطالعہ: یسعیاہ 60 باب 1تا4، 18تا20 آیات


1۔ اْٹھ منور ہو کیونکہ تیرا نور آگیا ہے اور خداوند کا جلال تجھ پر ظاہر ہوا۔

2۔ کیونکہ دیکھ تاریکی زمین پر چھا جائے گی اور تیرگی اْمتوں پر لیکن خداوند تجھ پر طالع ہوگا اور اْس کا جلال تجھ پر نمایاں ہوگا۔

3۔ اور قومیں تیری روشنی کی طرف آئیں گی اور سلاطین تیرے طلوع کی تجلی میں چلیں گے۔

4۔ اپنی آنکھیں اْٹھا کر چاروں طرف دیکھ۔

18۔ پھر تیرے ملک میں ظلم کاذکر نہ ہوگا اور نہ تیری حدود کے اندر خرابی یا بربادی کا بلکہ تو اپنی دیواروں کا نام نجات اور اپنے پھاٹکوں کا حمد رکھے گی۔

19۔ پھر تیری روشنی نہ دن کو سورج سے ہوگی نہ چاند کے چمکنے سے بلکہ خداوند تیرا ابدی نور اور تیرا خدا تیرا جلال ہوگا۔

20۔ تیرا سورج پھر کبھی نہ ڈھلے گا اور تیرے چاند کو زوال نہ ہوگا کیونکہ تیرا خداوند تیرا ابدی نور ہوگا اور تیرے ماتم کے دن ختم ہو جائیں گے۔

Responsive Reading: Isaiah 60 : 1-4, 18-20

1.     Arise, shine; for thy light is come, and the glory of the Lord is risen upon thee.

2.     For, behold, the darkness shall cover the earth, and gross darkness the people: but the Lord shall arise upon thee, and his glory shall be seen upon thee.

3.     And the Gentiles shall come to thy light, and kings to the brightness of thy rising.

4.     Lift up thine eyes round about, and see.

18.     Violence shall no more be heard in thy land, wasting nor destruction within thy borders; but thou shalt call thy walls Salvation, and thy gates Praise.

19.     The sun shall be no more thy light by day; neither for brightness shall the moon give light unto thee: but the Lord shall be unto thee an everlasting light, and thy God thy glory.

20.     Thy sun shall no more go down; neither shall thy moon withdraw itself: for the Lord shall be thine everlasting light, and the days of thy mourning shall be ended.



درسی وعظ



بائبل


درسی وعظ

بائبل

1۔ پیدائش 1باب1، 26 (تا:)، 27، 31 (تا پہلا)آیات۔

1۔ خدا نے ابتداء میں زمین و آسمان کو پیدا کیا۔

26۔ پھر خدا نے کہا کہ ہم انسان کو اپنی صورت پر اپنی شبیہ کی مانند بنائیں۔

27۔ اور خدا نے انسان کو اپنی صورت پر پیدا کیا۔ خدا کی صورت پر اْس کو پیدا کیا۔ نر و ناری اْن کو پیدا کیا۔

31۔ اور خدا نے سب پر جو اْس نے بنایا تھا نظر کی اور دیکھا کہ بہت اچھا ہے۔

1. Genesis 1 : 1, 26 (to :), 27, 31 (to 1st .)

1     In the beginning God created the heaven and the earth.

26     And God said, Let us make man in our image, after our likeness:

27     So God created man in his own image, in the image of God created he him; male and female created he them.

31     And God saw every thing that he had made, and, behold, it was very good.

2۔ پیدائش 2باب6، 7، 21 (تا)آیات۔

6۔ بلکہ زمین سے کْہر اٹھتی تھی اور تمام روئے زمین کو سیراب کرتی تھی۔

7۔ اور خداوند خدا نے زمین کی مٹی سے انسان کو بنایا اور اْس کے نتھنوں میں زندگی کا دم پھْونکا اور انسان جیتی جان ہوا۔

21۔ اور خداوند خدا نے آدم پر گہری نیند بھیجی اور وہ سو گیا۔

2. Genesis 2 : 6, 7, 21 (to :)

6     But there went up a mist from the earth, and watered the whole face of the ground.

7     And the Lord God formed man of the dust of the ground, and breathed into his nostrils the breath of life; and man became a living soul.

21     And the Lord God caused a deep sleep to fall upon Adam, and he slept:

3۔ امثال 6باب9، 20، 22، 23 (تا پہلا؛)آیات

9۔ اے کاہل! تْو کب تک پڑا رہے گا؟ تْو نیند سے کب اٹھے گا؟

20۔ اے میرے بیٹے اپنے باپ کے فرمان کو بجا لااور اپنی ماں کی تعلیم کو نہ چھوڑ۔

22۔ یہ چلتے وقت تیری راہبری اور سوتے وقت تیری نگہبانی اور جاگتے وقت تجھ سے باتیں کرے گی۔

23۔ کیونکہ فرمان چراغ ہے۔

3. Proverbs 6 : 9, 20, 22, 23 (to 1st ;)

9     How long wilt thou sleep, O sluggard? when wilt thou arise out of thy sleep?

20     My son, keep thy father’s commandment, and forsake not the law of thy mother:

22     When thou goest, it shall lead thee; when thou sleepest, it shall keep thee; and when thou awakest, it shall talk with thee.

23     For the commandment is a lamp;

4۔ یسعیاہ 52باب1 (تا دوسرا)، 2 (تا پہلا،)، 5،6 آیات

1۔ جاگ جاگ اپنی شوکت سے مْلبس ہو۔

2۔ اپنے اوپر سے گرد جھاڑ دے، اْٹھ بیٹھ۔

5۔ پس خداوند یوں فرماتا ہے کہ اب میرا یہاں کیا کام حالانکہ میرے لوگ مفت اسیری میں گئے ہیں؟ وہ جو اْن پر مسلط ہیں للکارتے ہیں خداوند فرماتا ہے اور ہر روز متواتر میرے نام کی تکفیر کی جاتی ہے۔

6۔ یقیناً میرے لوگ میرا نام جانیں گے اور اْس روز سمجھیں گے کہ کہنے والا میں ہی ہوں۔ دیکھو میں حاضر ہوں۔

4. Isaiah 52 : 1 (to 2nd ,), 2 (to 1st ,), 5, 6

1     Awake, awake; put on thy strength,

2     Shake thyself from the dust; arise,

5     Now therefore, what have I here, saith the Lord, that my people is taken away for nought? they that rule over them make them to howl, saith the Lord; and my name continually every day is blasphemed.

6     Therefore my people shall know my name: therefore they shall know in that day that I am he that doth speak: behold, it is I.

5۔ یوحنا 11باب1، 4، (تا دوسرا)، 11 (ہمارا) تا 15، 32، 34، 38 تا44 آیات

1۔ مریم اور اْس کی بہن مارتھا کے گاؤں بیت عنیاہؔ کا لعزر نامی ایک آدمی بیمار تھا۔

4۔ یسوع نے سْن کر کہا

11۔ ہمارا دوسر لعزر سو گیا ہے اور میں اْسے جگانے جاتا ہوں۔

12۔ پس شاگردوں نے اْس سے کہا، اے خداوند! اگر سو گیا ہے تو بچ جائے گا۔

13۔ یسوع نے تو اْس کی موت کی بابت کہا تھا مگر وہ سمجھے کہ آرام کی نیند کی بابت کہا۔

14۔ تب یسوع نے اْن سے صاف کہہ دیا کہ لعزر مر گیا۔

15۔ اور میں تمہارے سبب سے خوش ہوں کہ وہاں نہ تھا تاکہ تم ایمان لاؤ، لیکن آؤ ہم اْس کے پاس چلیں۔

17۔ پس یسوع کو آکر معلوم ہوا کہ اْسے قبر میں رکھے چار دن ہوئے۔

32۔ جب مریم وہاں پہنچی جہاں یسوع تھا اور اْسے دیکھا تو اْس کے قدموں میں گر کر اْس سے کہا اے خداوند اگر تْو یہاں نہ ہوتا تو میرا بھائی نہ مرتا۔

33۔جب یسوع نے اْسے اور اْن یہودیوں کو جو اْس کے ساتھ آئے تھے روتے دیکھا تو دل میں نہایت رنجیدہ ہوا اور گھبرا کر کہا

34۔ تم نے اْسے کہاں رکھا ہے؟ انہوں نے کہا اے خداوند چل کر دیکھ لے۔

38۔ یسوع پھر اپنے دل میں نہایت رنجیدہ ہو کر قبر پر آیا۔ وہ ایک غار تھا اور اْس پر پتھر دھرا تھا۔

39۔ یسوع نے کہا پتھر کو ہٹاؤ۔ اْس مرے ہوئے شخص کی بہن مارتھا نے اْس سے کہا اے خداوند! اْس میں سے تو اب بدبو آتی ہے کیونکہ اْسے چار دن ہو گئے۔

40۔ یسوع نے اْس سے کہا میں نے تجھ سے کہا نہ تھا کہ اگر تْو ایمان لائے گی تو خدا کا جلال دیکھے گی؟

41۔ پس انہوں نے اْس پتھر کو ہٹا دیا۔ پھر یسوع نے آنکھیں اْٹھا کر کہا اے باپ میں تیرا شکر کرتا ہوں کہ تْو نے میری سْن لی۔

42۔ اور مجھے تو معلوم تھا کہ تْو ہمیشہ میری سْنتا ہے مگر ان لوگوں کے باعث جو آس پاس کھڑے ہیں مَیں نے کہا تاکہ وہ ایمان لائیں کہ تْو ہی نے مجھے بھیجا ہے۔

43۔ اور یہ کہہ اْس نے بلند آواز سے پکارا کہ اے لعزر نکل آ۔

44۔ جو مر گیا تھا کفن سے ہاتھ پاؤں بندھے ہوئے نکل آیا اور اْس کا چہرہ رومال سے لپٹا ہوا تھا۔ یسوع نے اْن سے کہا اِسے کھول کر جانے دو۔

5. John 11 : 1, 4 (to 2nd ,), 11 (Our)-15, 17, 32-34, 38-44

1     Now a certain man was sick, named Lazarus, of Bethany, the town of Mary and her sister Martha.

4     When Jesus heard that, he said,

11     Our friend Lazarus sleepeth; but I go, that I may awake him out of sleep.

12     Then said his disciples, Lord, if he sleep, he shall do well.

13     Howbeit Jesus spake of his death: but they thought that he had spoken of taking of rest in sleep.

14     Then said Jesus unto them plainly, Lazarus is dead.

15     And I am glad for your sakes that I was not there, to the intent ye may believe; nevertheless let us go unto him.

17     Then when Jesus came, he found that he had lain in the grave four days already.

32     Then when Mary was come where Jesus was, and saw him, she fell down at his feet, saying unto him, Lord, if thou hadst been here, my brother had not died.

33     When Jesus therefore saw her weeping, and the Jews also weeping which came with her, he groaned in the spirit, and was troubled,

34     And said, Where have ye laid him? They said unto him, Lord, come and see.

38     Jesus therefore again groaning in himself cometh to the grave. It was a cave, and a stone lay upon it.

39     Jesus said, Take ye away the stone. Martha, the sister of him that was dead, saith unto him, Lord, by this time he stinketh: for he hath been dead four days.

40     Jesus saith unto her, Said I not unto thee, that, if thou wouldest believe, thou shouldest see the glory of God?

41     Then they took away the stone from the place where the dead was laid. And Jesus lifted up his eyes, and said, Father, I thank thee that thou hast heard me.

42     And I knew that thou hearest me always: but because of the people which stand by I said it, that they may believe that thou hast sent me.

43     And when he thus had spoken, he cried with a loud voice, Lazarus, come forth.

44     And he that was dead came forth, bound hand and foot with graveclothes: and his face was bound about with a napkin. Jesus saith unto them, Loose him, and let him go.

6۔ اعمال26 باب8، 16(اٹھ) (تا:)، 18 (کھول) (تا پہلا)، 18 (رجوع کریں) (تا دوسرا)، 27 (میں) آیات

8۔ جب خدا مردوں کوجِلاتا ہے تو یہ بات تمہارے نزدیک کیوں غیر معتبر سمجھی جاتی ہے؟

16۔ ۔۔۔اْٹھ اپنے پاؤں پر کھڑا ہو۔

18۔ ۔۔۔اْن کی آنکھیں کھول دے۔۔۔اندھیرے سے روشنی کی طرف رجوع دے۔

27۔ مَیں جانتا ہوں کہ تْو یقین کرتا ہے۔

6. Acts 26 : 8, 16 (rise) (to :), 18 (open) (to 1st ,), 18 (turn) (to 2nd ,), 27 (I)

8     Why should it be thought a thing incredible with you, that God should raise the dead?

16     …rise, and stand upon thy feet:

18     …open their eyes, turn them from darkness to light,

27     I know that thou believest.

7۔ 1 کرنتھیوں 15باب22، 33(تا:)، 34 (تا)، 45، 47، 49، 51 آیات(ہم)۔

22۔ اور جیسے آدم میں سب مرتے ہیں ویسے ہیں مسیح میں سب زندہ کئے جائیں گے۔

33۔ فریب نہ کھاؤ۔

34۔ راستباز ہونے کے لئے ہوش میں آؤ اور گناہ نہ کرو۔

45۔ چنانچہ لکھا بھی ہے کہ پہلا آدمی یعنی آدم زندہ نفس بنا۔ پچھلا آدم زندگی بخشنے والی روح بنا۔

47۔ پہلا آدمی زمین سے یعنی خاکی تھا۔ اور دوسرا آدمی آسمانی تھا۔

49۔ اور جس طرح ہم اس خاکی کی صورت پر ہوئے اْسی طرح اْس آسمانی کی صورت پر بھی ہوں گے۔

51۔ ہم سب تو نہیں سوئیں گے مگر سب بدل جائیں گے۔

7. I Corinthians 15 : 22, 33 (to :), 34 (to ;), 45, 47, 49, 51 (We)

22     For as in Adam all die, even so in Christ shall all be made alive.

33     Be not deceived:

34     Awake to righteousness, and sin not;

45     And so it is written, The first man Adam was made a living soul; the last Adam was made a quickening spirit.

47     The first man is of the earth, earthy: the second man is the Lord from heaven.

49     And as we have borne the image of the earthy, we shall also bear the image of the heavenly.

51     We shall not all sleep, but we shall all be changed,

8۔ رومیوں 13باب1، 11، 12 آیات

1۔ ہر شخص اعلیٰ حکومتوں کا تابعدار رہے کیونکہ کوئی حکومت ایسی نہیں جو خدا کی طرف سے نہ ہو اور جو حکومتیں موجود ہیں وہ خدا کی طرف سے مقرر ہیں۔

11۔ اور وقت کو پہچان کر ایسا ہی کرو۔ اس لئے کہ اب وہ گھڑی آپہنچی کہ تم نیند سے جاگو کیونکہ جس وقت ہم ایمان لائے تھے اْس وقت کی نسبت اب ہماری نجات نزدیک ہے۔

12۔ رات بہت گزر گئی اور دن نکلنے والا ہے۔ پس ہم تاریکی کے کاموں کو ترک کر کے روشنی کے ہتھیار باندھ لیں۔

8. Romans 13 : 1, 11, 12

1     Let every soul be subject unto the higher powers. For there is no power but of God: the powers that be are ordained of God.

11     And that, knowing the time, that now it is high time to awake out of sleep: for now is our salvation nearer than when we believed.

12     The night is far spent, the day is at hand: let us therefore cast off the works of darkness, and let us put on the armour of light.



سائنس اور صح


1۔ 516: 9 صرف

خدا تمام چیزوں کو اپنی شبیہ پر بناتا ہے۔

1. 516 : 9 only

God fashions all things, after His own likeness.

2۔ 249: 21 (خدا)۔ 22

خدا کبھی نہیں سوتا اور اْس کی شبیہ کبھی خوابیدہ نہیں ہوتی۔

2. 249 : 21 (God)-22

God never slumbers, and His likeness never dreams.

3۔ 556 :18۔24

نیند تاریکی ہے، لیکن خدا کا تخلیقی فرمان یہ تھا، ”روشنی ہو۔“ نیند میں وجہ اور اثر محض بھرم ہیں۔ وہ کچھ دکھائی دیتے ہیں، لیکن ہوتے نہیں۔ بدکاری اور خواب، نہ کہ حقیقتیں، نیند سے آتے ہیں۔ حتیٰ کہ آدم کا یقین بھی ایسا ہی تھا، جس کے مطابق فانی اور مادی زندگی خواب ہے۔

3. 556 : 18-24

Sleep is darkness, but God's creative mandate was, "Let there be light." In sleep, cause and effect are mere illusions. They seem to be something, but are not. Oblivion and dreams, not realities, come with sleep. Even so goes on the Adam-belief, of which mortal and material life is the dream.

4۔ 230 :4 (جاگنا)۔ 8

۔۔۔اس فانی خواب یا دھوکے سے بیدار ہونا ہمارے لئے صحت، پاکیزگی اور لافانیت پیدا کرے گا۔یہ بیداری مسیح کی ہمیشہ کے لئے آمد ہے، یعنی سچائی کا ترقی یافتہ ظہور، جو غلطی کو دور کرتا اوربیمار کو شفا دیتا ہے۔

4. 230 : 4 (awakening)-8

…awakening from this mortal dream, or illusion, will bring us into health, holiness, and immortality. This awakening is the forever coming of Christ, the advanced appearing of Truth, which casts out error and heals the sick.

5۔ 493 :24۔2

انسان مادی ہے اور مادہ تکلیف اٹھاتا ہے، یہ تجاویز محض بھرم میں ہی حقیقی اور فطری دکھائی دے سکتی ہیں۔ مادے میں روح کا کوئی بھی فہم ہستی کی حقیقت نہیں ہے۔

اگر یسوع نے لعزر کو موت کے خواب، بھرم سے جگایا ہوتا تو اس سے ثابت ہوجاتا کہ مسیح ایک جھوٹے فہم کو فروغ دیتا تھا۔ الٰہی عقل کی رضا اور قوت کی اس طے شْدہ آزمائش پر کون شک کرنے کی جسارت کرتا ہے تاکہ انسان کو ہمیشہ اْس کی حالت میں برقرار رکھے اور انسان کے تمام تر کاموں کی نگرانی کرے؟

5. 493 : 24-2

That man is material, and that matter suffers, — these propositions can only seem real and natural in illusion. Any sense of soul in matter is not the reality of being.

If Jesus awakened Lazarus from the dream, illusion, of death, this proved that the Christ could improve on a false sense. Who dares to doubt this consummate test of the power and willingness of divine Mind to hold man forever intact in his perfect state, and to govern man's entire action?

6۔ 75 :12۔20

یسوع نے لعزر سے کہا: ”ہمارا دوسر لعزر سو گیا ہے اور میں اْسے جگانے جاتا ہوں۔“یسوع نے لعزر کو اس فہم کے ساتھ بحال کیا کہ لعز کبھی مرا نہیں تھا، نہ کہ اس بات کو تسلیم کرتے ہوئے کہ اْس کا بدن مر گیا تھا اور وہ پھر زندہ ہوگیا۔ اگر یسوع یہ مانتا کہ لعزر اپنے بدن میں جیتا تھا یا مرگیا، تو ہمارا مالک ایمان کے بالکل اْسی مقام پر کھڑا ہوتا جہاں وہ لوگ تھے جنہوں نے لعزر کو دفنایا تھا، اور وہ اْسے بازیافت نہ کر پاتا۔

6. 75 : 12-20

Jesus said of Lazarus: "Our friend Lazarus sleepeth; but I go, that I may awake him out of sleep." Jesus restored Lazarus by the understanding that Lazarus had never died, not by an admission that his body had died and then lived again. Had Jesus believed that Lazarus had lived or died in his body, the Master would have stood on the same plane of belief as those who buried the body, and he could not have resuscitated it.

7۔ 76 :18۔21

دْکھوں کے، گناہ کرنے کے، مرنے کے عقائد غیر حقیقی ہیں۔جب الٰہی سائنس کو عالمگیر طور پر سمجھا جاتا ہے تو اْن کا انسان پر کوئی اختیار نہیں ہوتا، کیونکہ انسان لافانی ہے اور الٰہی اختیار کے وسیلہ جیتا ہے۔

7. 76 : 18-21

Suffering, sinning, dying beliefs are unreal. When divine Science is universally understood, they will have no power over man, for man is immortal and lives by divine authority.

8۔ 472 :26۔30

اس لئے گناہ، بیماری اور موت کی حقیقت یہ ہولناک اصلیت ہے کہ غیر واقعیات انسانی غلط عقائد کو تب تک حقیقی دکھائی دیتے ہیں جب تک کہ خدا اْن کے بہروپ کو اتار نہیں دیتا۔وہ سچ نہیں ہیں کیونکہ وہ خدا کی طرف سے نہیں ہیں۔

8. 472 : 26-30

Therefore the only reality of sin, sickness, or death is the awful fact that unrealities seem real to human, erring belief, until God strips off their disguise. They are not true, because they are not of God.

9۔ 417 :20۔26

کرسچن سائنس کے مشفی کے لئے بیماری ایک خواب ہے جس سے مریض کو جاگنے کی ضرورت ہے۔ معالج کو بیماری حقیقی نہیں لگنی چاہئے، کیونکہ یہ بات قابل اثبات ہے کہ مریض کو ٹھیک کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ اْسے بیماری غیر حقیقی ظاہر کی جائے۔ یہ کرنے کے لئے، معالج کو سائنس میں بیماری کی غیر واقعیت کو سمجھنا چاہئے۔

9. 417 : 20-26

To the Christian Science healer, sickness is a dream from which the patient needs to be awakened. Disease should not appear real to the physician, since it is demonstrable that the way to cure the patient is to make disease unreal to him. To do this, the physician must understand the unreality of disease in Science.

10۔ 396 :26۔32

واضح طور پر یہ بات ذہن میں رکھیں کہ انسان خدا کی اولاد ہے، نہ کہ انسان کی؛ کہ انسان روحانی ہے نہ کہ مادی؛ کہ جان مادے کے بغیر روح ہے مادے کے اندر کبھی نہیں، جو بدن کو کبھی زندگی اور احساس نہیں دیتا۔ یہ بیماری کے خواب کو توڑ دیتا ہے تاکہ اس بات کو سمجھے کہ بیماری انسانی عقل سے تشکیل پاتی ہے نہ کہ مادے سے اورنہ ہی الٰہی عقل سے۔

10. 396 : 26-32

Keep distinctly in thought that man is the offspring of God, not of man; that man is spiritual, not material; that Soul is Spirit, outside of matter, never in it, never giving the body life and sensation. It breaks the dream of disease to understand that sickness is formed by the human mind, not by matter nor by the divine Mind.

11۔ 71 :10۔20

اپنی آنکھیں بند کریں اور آپ خواب دیکھیں کہ آپ ایک پھول کو دیکھتے ہیں، آپ اْسے چھوتے اور سونگھتے ہیں۔ پس آپ سیکھتے ہیں کہ پھول نام نہاد عقل کی ایک پیداوار ہے، مادے کی بجائے تصور کی تشکیل ہے۔ دوبارہ اپنی آنکھیں بند کریں، آپ مناظر، آدمی اور عورتیں دیکھتے ہیں۔ یوں آپ سیکھتے ہیں کہ یہ بھی عکس ہیں، جو مادی عقل رکھتی ہے اور یہ تیار کرتی ہے اور یہ عقل، زندگی اور ذہانت کی نقل ہوتے ہیں۔ خوابوں سے آپ یہ بھی سیکھتے ہیں کہ نہ فانی عقل نہ مادہ خدا کی شبیہ یا صورت ہے، اور کہ غیر فانی عقل مادے میں نہیں ہے۔

11. 71 : 10-20

Close your eyes, and you may dream that you see a flower, — that you touch and smell it. Thus you learn that the flower is a product of the so-called mind, a formation of thought rather than of matter. Close your eyes again, and you may see landscapes, men, and women. Thus you learn that these also are images, which mortal mind holds and evolves and which simulate mind, life, and intelligence. From dreams also you learn that neither mortal mind nor matter is the image or likeness of God, and that immortal Mind is not in matter.

12۔ 250 :14۔27 (تا دوسرا)

فانی بدن اور عقل ایک ہیں، اور ایک انسان کہلاتا ہے، لیکن ان میں سے فانی انسان نہیں ہے، کیونکہ انسان لافانی ہے۔ ایک بشر شاید پریشان ہوسکتا اور درد محسوس کرسکتا، خوش ہو سکتا یا دکھ اٹھا سکتا ہے، خواب کے مطابق وہ نیند میں تفریح کرتا ہے۔ جب یہ خواب غائب ہو جاتا ہے تو بشرخود کو اِن خوابی احساسات میں سے کسی کا تجربہ نہ کرتے ہوئے پائے گا۔ مبصر کے لئے بدن بے توجہی، سکوت اور بے حس پڑا رہتا ہے، اورعقل غائب معلوم ہوتی ہے۔

اب میں پوچھتا ہوں کہ فانی وجودیت کے جاگتے ہوئے خواب میں کوئی حقیقت ہے یا سوتے ہوئے خواب میں؟ ایسا نہیں ہوسکتا کیونکہ جو کچھ بھی فانی انسان دکھائی دیتا ہے وہ ایک فانی خواب ہے۔ فانی عقل کو ہٹا دیا جائے تو مادے میں بطور ایک انسان کسی درخت سے زیادہ فہم نہیں ہوگا۔ لیکن روحانی، حقیقی انسان لافانی ہے۔

12. 250 : 14-27 (to 2nd .)

Mortal body and mind are one, and that one is called man; but a mortal is not man, for man is immortal. A mortal may be weary or pained, enjoy or suffer, according to the dream he entertains in sleep. When that dream vanishes, the mortal finds himself experiencing none of these dream-sensations. To the observer, the body lies listless, undisturbed, and sensationless, and the mind seems to be absent.

Now I ask, Is there any more reality in the waking dream of mortal existence than in the sleeping dream? There cannot be, since whatever appears to be a mortal man is a mortal dream. Take away the mortal mind, and matter has no more sense as a man than it has as a tree. But the spiritual, real man is immortal.

13۔ 491 :21۔23، 28۔2

سائنس مادی انسان کو کبھی بطور حقیقی ہستی پیش نہیں کرتی۔ خواب اور ایمان جاری رہتے ہیں، خواہ ہماری آنکھیں کھْلی ہوں یا بند ہوں۔

جب ہم جاگ جاتے ہیں، ہم مادے کی تکالیف اور خوشیوں کے خواب دیکھتے ہیں۔ کون کہہ سکتا ہے، اگرچہ وہ کرسچن سائنس کو نہ سمجھتا ہو، کہ یہ خواب، خواب دیکھنے والے کی بجائے، فانی انسان نہیں ہوسکتا؟ وگرنہ کون عقلی طور پر یہ کہہ سکتا ہے، خواب فانی انسان کو بدن اور خیال کے ساتھ جوڑ کر کب ختم ہوگیا، حالانکہ نام نہاد خواب دیکھنے والا بے ہوش ہوتا ہے؟

13. 491 : 21-23, 28-2

Science reveals material man as never the real being. The dream or belief goes on, whether our eyes are closed or open.

When we are awake, we dream of the pains and pleasures of matter. Who will say, even though he does not understand Christian Science, that this dream — rather than the dreamer — may not be mortal man? Who can rationally say otherwise, when the dream leaves mortal man intact in body and thought, although the so-called dreamer is unconscious?

14۔ 223 :25۔31

وہ ذرات جو خوابیدہ خیالات کو اْن کے غلط خواب سے جھنجھوڑتے ہیں وہ جزوی طور پر بے سْدھ ہوتے ہیں؛ لیکن آخری تْرم ابھی نہیں سنائی دیا گیا، یا ایسا نہیں ہوا۔عجائب، آفات اور گناہ مزید بڑھ جائیں گے جب سچائی بشروں پر اپنے مذاحمتی دعووں کو اکساتی ہے؛ مگر گناہ کی ہولناک جہد گناہ کو نیست کر دیتی ہے، اور سچائی کی فتح کی پیش گوئی کرتی ہے۔

14. 223 : 25-31

Peals that should startle the slumbering thought from its erroneous dream are partially unheeded; but the last trump has not sounded, or this would not be so. Marvels, calamities, and sin will much more abound as truth urges upon mortals its resisted claims; but the awful daring of sin destroys sin, and foreshadows the triumph of truth.

15۔ 347 :26۔27

لیکن اس خواب کو کہ مادہ اور غلطی کوئی چیز ہے مکاشفہ اور وجہ کو تسلیم کرنا چاہئے۔

15. 347 : 26-27

The dream that matter and error are something must yield to reason and revelation.

16۔ 529 :8 (یہ)۔12

۔۔۔یہ مکاشفہ وجودیت کے خواب، حقیقت کی بحالی، سائنس کے عشرہ اور تخلیق کی جلالی حقیقت کو نیست کرے گا، کہ آدمی اور عورت دونوں خدا سے جنم لیتے اور اْس کی ابدی اولاد ہیں، جو اس سے کم والدین سے تعلق نہیں رکھتے۔

16. 529 : 8 (this)-12

…this revelation will destroy the dream of existence, reinstate reality, usher in Science and the glorious fact of creation, that both man and woman proceed from God and are His eternal children, belonging to no lesser parent.

17۔ 218 :32۔2

جب ہم ہستی کی سچائی میں بیدار ہوتے ہیں تو سب بیماری، درد، کمزوری، مایوسی، دْکھ، گناہ اور موت اجنبی ہو جائیں گے، اور فانی خواب ہمیشہ کے لئے بند ہوجائے گا۔

17. 218 : 32-2

When we wake to the truth of being, all disease, pain, weakness, weariness, sorrow, sin, death, will be unknown, and the mortal dream will forever cease.


روز مرہ کے فرائ

منجاب میری بیکر ایڈ

روز مرہ کی دعا

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ ہر روز یہ دعا کرے: ’’تیری بادشاہی آئے؛‘‘ الٰہی حق، زندگی اور محبت کی سلطنت مجھ میں قائم ہو، اور سب گناہ مجھ سے خارج ہو جائیں؛ اور تیرا کلام سب انسانوں کی محبت کو وافر کرے، اور اْن پر حکومت کرے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 4۔

مقاصد اور اعمال کا ایک اصول

نہ کوئی مخالفت نہ ہی کوئی محض ذاتی وابستگی مادری چرچ کے کسی رکن کے مقاصد یا اعمال پر اثر انداز نہیں ہونی چاہئے۔ سائنس میں، صرف الٰہی محبت حکومت کرتی ہے، اور ایک مسیحی سائنسدان گناہ کو رد کرنے سے، حقیقی بھائی چارے ، خیرات پسندی اور معافی سے محبت کی شیریں آسائشوں کی عکاسی کرتا ہے۔ اس چرچ کے تمام اراکین کو سب گناہوں سے، غلط قسم کی پیشن گوئیوں،منصفیوں، مذمتوں، اصلاحوں، غلط تاثر ات کو لینے اور غلط متاثر ہونے سے آزاد رہنے کے لئے روزانہ خیال رکھنا چاہئے اور دعا کرنی چاہئے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 1۔

فرض کے لئے چوکس

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ وہ ہر روز جارحانہ ذہنی آراء کے خلاف خود کو تیار رکھے، اور خدا اور اپنے قائد اور انسانوں کے لئے اپنے فرائض کو نہ کبھی بھولے اور نہ کبھی نظر انداز کرے۔ اس کے کاموں کے باعث اس کا انصاف ہوگا، وہ بے قصور یا قصوارہوگا۔ 

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 6۔


████████████████████████████████████████████████████████████████████████