اتوار 6 جون،2021



مضمون۔ خدا واحد وجہ اور خالق

SubjectGod the only Cause and Creator

سنہری متن: زبور 139:14آیت

”مَیں تیرا شکر کروں گا کیونکہ مَیں عجیب و غریب طور سے بنا ہوں۔ تیرے کام حیرت انگیز ہیں۔ میرا دل اِسے خوب جانتا ہے۔“



Golden Text: Psalm 139 : 14

I will praise thee; for I am fearfully and wonderfully made: marvellous are thy works; and that my soul knoweth right well.





سبق کی آڈیو کے لئے یہاں کلک کریں

یوٹیوب سے سننے کے لئے یہاں کلک کریں

████████████████████████████████████████████████████████████████████████


جوابی مطالعہ: یسعیاہ 61 باب10،11آیات • یرمیاہ 32باب18، 19 آیات


10۔مَیں خداوند سے بہت شادمان ہوں گا۔ میری جان خداوند میں مسرور ہوگی کیونکہ اْس نے مجھے نجات کے کپڑے پہنائے۔ اْس نے راستبازی کے خلعت سے مجھے ملبس کیا جیسے دلہا سہرے سے اپنے آپ کو آراستہ کرتا ہے اور دلہن اپنے زیوروں سے اپنا سنگھار کرتی ہے۔

11۔ کیونکہ جس طرح زمین اپنے نباتات کو پیدا کرتی ہے اور جس طرح باغ اْن چیزوں کو جو اْس میں بوئی گئی ہیں اگاتا ہے اِسی طرح خداوند خدا صداقت اور ستائش کو تمام قوموں کے سامنے ظہور میں لائے گا۔

18۔ تْو ہزاروں پر شفقت کرتا ہے اور باپ دادا کی بدکرداری کا بدلہ اْن کے بعد اْن کی اولاد کے دامن میں ڈال دیتا ہے جس کا نام خدایِ عظیم و قادر اب الافواج ہے۔

19۔ مشورت میں بزرگ اور کام میں قدرت والا ہے۔ بنی آدم کی سب راہیں تیری زیرِ نظر ہیں تاکہ ہر ایک کو اْس کی روش کے موافق اور اْس کے اعمال کے پھل کے مطابق اجر دے۔

Responsive Reading: Isaiah 61 : 10, 11; Jeremiah 32 : 18, 19

10.     I will greatly rejoice in the Lord, my soul shall be joyful in my God; for he hath clothed me with the garments of salvation, he hath covered me with the robe of righteousness, as a bridegroom decketh himself with ornaments, and as a bride adorneth herself with her jewels.

11.     For as the earth bringeth forth her bud, and as the garden causeth the things that are sown in it to spring forth; so the Lord God will cause righteousness and praise to spring forth before all the nations.

18.     Thou shewest lovingkindness unto thousands, and recompensest the iniquity of the fathers into the bosom of their children after them: the Great, the Mighty God, the Lord of hosts, is his name,

19.     Great in counsel, and mighty in work: for thine eyes are open upon all the ways of the sons of men: to give every one according to his ways, and according to the fruit of his doings.



درسی وعظ



بائبل


درسی وعظ

بائبل

1۔ پیدائش 1 باب1، 3، 4، 10، 12،14 (تا؛) 16، 18، 21، 24تا26 (تا:)، 27، 30، 31 (تا پہلا۔) آیات

1۔ خدا نے ابتدا میں زمین و آسمان کو پیدا کیا۔

3۔ اور خدا نے کہا کہ روشنی ہوجا اور روشنی ہوگئی۔

4۔ اور خدا نے کہا کہ روشنی اچھی ہے اورخدا نے روشنی کو تاریکی سے جدا کیا۔

10۔ اور خدا نے خشکی کو زمین کہا اور جو پانی جمع ہو گیا تھا اْس کو سمندر اور خدا نے دیکھا کہ اچھا ہے۔

12۔ تب زمین نے گھاس اور بوٹیوں کو جو اپنی اپنی جنس کے موافق بیج رکھیں پھلدار درختوں کو جن کے بیج اْن کی جنس کے موافق اْن میں ہیں اْن میں اْگایا اور خدا نے دیکھا کہ اچھا ہے۔

14۔ اور خدا نے کہا کہ فلک پر نیر ہوں کہ دن کو رات سے الگ کریں۔

16۔ خدا نے دو بڑے نیر بنائے ایک نیر اکبر کہ دن کو حکم کرے اور ایک نیر اصغر کہ رات پر حکم کرے اور اْس نے ستاروں کو بھی بنایا۔

18۔ اور دن پر اور رات پر حکم کریں اور اور اجالے کو اندھیرے سے جدا کریں اور خدا نے دیکھا کہ اچھا ہے۔

21۔ اور خدا نے بڑے بڑے دریائی جانوروں کو اور ہر قسم کے جاندار کو جو پانی سے بکثرت پیدا ہوئے تھے اْن کی جنس کے موافق اور ہر قسم کے پرندوں کو اْن کی جنس کے موافق پیدا کیا اور خدا نے دیکھا کہ اچھا ہے۔

24۔ اور خدا نے کہا کہ زمین جانداروں کو اْن کی جنس کے موافق چوپائے اور رینگنے والے جاندا اور جنگلی جانور اْن کی جنس کے موافق پیدا کرے اور ایسا ہی ہوا۔

25۔ اور خدا نے جنگلی جانوروں اور چوپایوں کو اْن کی جنس کے موافق بنایا اور خدا نے دیکھا کہ اچھا ہے۔

26۔ پھر خدا نے کہا کہ ہم انسان کو اپنی صورت اور اپنی شبیہ کی مانند بنائیں۔

27۔ اور خدا نے انسان کو اپنی صورت پر پیدا کیا۔ خدا کی صورت پر اْس کو پیدا کیا۔ نر و ناری اْن کو پیدا کیا۔

30۔اور زمین کے کل جانوروں کے لئے اور ہوا کے کل پرندوں کے لئے اور اْن سب کے لئے جو زمین پر رینگنے والے ہیں جن میں زندگی کا دم ہے کْل ہری بوٹیاں کھانے کو دیتا ہوں اور ایسا ہی ہوا۔

31۔اور خدا نے سب پر جو اْس نے بنایا تھا نظر کی اور دیکھا کہ بہت اچھا ہے۔

1. Genesis 1 : 1, 3, 4, 10, 12, 14 (to ;), 16, 18, 21, 24-26 (to :), 27, 30, 31 (to 1st .)

1     In the beginning God created the heaven and the earth.

3     And God said, Let there be light: and there was light.

4     And God saw the light, that it was good: and God divided the light from the darkness.

10     And God called the dry land Earth; and the gathering together of the waters called he Seas: and God saw that it was good.

12     And the earth brought forth grass, and herb yielding seed after his kind, and the tree yielding fruit, whose seed was in itself, after his kind: and God saw that it was good.

14     And God said, Let there be lights in the firmament of the heaven to divide the day from the night;

16     And God made two great lights; the greater light to rule the day, and the lesser light to rule the night: he made the stars also.

18     And to rule over the day and over the night, and to divide the light from the darkness: and God saw that it was good.

21     And God created great whales, and every living creature that moveth, which the waters brought forth abundantly, after their kind, and every winged fowl after his kind: and God saw that it was good.

24     And God said, Let the earth bring forth the living creature after his kind, cattle, and creeping thing, and beast of the earth after his kind: and it was so.

25     And God made the beast of the earth after his kind, and cattle after their kind, and every thing that creepeth upon the earth after his kind: and God saw that it was good.

26     And God said, Let us make man in our image, after our likeness:

27     So God created man in his own image, in the image of God created he him; male and female created he them.

30     And to every beast of the earth, and to every fowl of the air, and to every thing that creepeth upon the earth, wherein there is life, I have given every green herb for meat: and it was so.

31     And God saw every thing that he had made, and, behold, it was very good.

2۔ یسعیاہ 11باب1، 10 آیات

1۔ اور یسی کے تنے سے ایک کونپل نکلے گی اور اور اْس کی جڑوں سے ایک بار آور شاخ پیدا ہوگی۔

10۔ اور اْس وقت یوں ہوگا کہ لوگ یسی کی اْس جڑ کے طالب ہوں گے جو لوگوں کے لئے ایک نشان ہے اور اْس کی آرامگاہ جلالی ہوگی۔

2. Isaiah 11 : 1, 10

1     And there shall come forth a rod out of the stem of Jesse, and a Branch shall grow out of his roots:

10     And in that day there shall be a root of Jesse, which shall stand for an ensign of the people; to it shall the Gentiles seek: and his rest shall be glorious.

3۔ لوقا 4 باب1 (اور یسوع) صرف، 17 (نکالا)، 18 آیات

1۔ اور یسوع نے۔

17۔۔۔۔وہ مقام نکالا جہاں یہ لکھا تھا:

18۔ خداوند کا روح مجھ پر ہے اِس لئے کہ اْس نے مجھے غریبوں کو خوشخبری دینے کے لئے مسح کیا۔ اْس نے مجھے بھیجا ہے کہ قیدیوں کو رہائی اور اندھوں کو بینائی پانے کی خبر سناؤں۔ کچلے ہوؤں کو آزاد کروں۔

3. Luke 4 : 1 (And Jesus) only, 17 (found), 18

1     And Jesus

17     …found the place where it was written,

18     The Spirit of the Lord is upon me, because he hath anointed me to preach the gospel to the poor; he hath sent me to heal the brokenhearted, to preach deliverance to the captives, and recovering of sight to the blind, to set at liberty them that are bruised,

4۔ متی 4 باب23،24 آیات

23۔ اور یسوع تمام گلیل میں پھرتا رہا اور اْن کے عبادتخانوں میں تعلیم دیتا اور بادشاہی کی خوشخبری کی منادی کرتا اور لوگوں کی ہر طرح کی بیماری اور ہر طرح کی کمزوری کی دور کرتا رہا۔

24۔ اور اْس کی شہرت تمام سوریہ میں پھیل گئی اور لوگ سب بیماروں کو جو طرح طرح کی بیماریوں اور تکلیفوں میں گرفتار تھے اور اْن کو بدروحیں تھیں اور مرگی والوں اور مفلوجوں کو اْس کے پاس لائے اور اْس نے اْن کو اچھا کیا۔

4. Matthew 4 : 23, 24

23     And Jesus went about all Galilee, teaching in their synagogues, and preaching the gospel of the kingdom, and healing all manner of sickness and all manner of disease among the people.

24     And his fame went throughout all Syria: and they brought unto him all sick people that were taken with divers diseases and torments, and those which were possessed with devils, and those which were lunatick, and those that had the palsy; and he healed them.

5۔ متی 9 باب18تا25 آیات

18۔ اور وہ اْن سے یہ باتیں کہہ ہی رہا تھا کہ ایک سردار نے آکر اْسے سجدہ کیا اور کہا کہ میری بیٹی ابھی مری ہے لیکن تْو چل کر اْس پر اپنا ہاتھ رکھ تو وہ زندہ ہو جائے گی۔

19۔ یسوع اْٹھ کر اپنے شاگردوں سمیت اْس کے پیچھے ہولیا۔

20۔ اور دیکھو ایک عورت نے جس کے بارہ برس سے خون جاری تھا اْس کے پیچھے آکر اْس کی پوشاک کا کنارہ چھوا۔

21۔ کیونکہ وہ اپنے جی میں کہتی تھی کہ اگر اْس صرف اْس کی پوشاک ہی چھو لوں گی تو اچھی ہو جاؤں گی۔

22۔ یسوع نے پھر کر اْسے دیکھا اور کہا بیٹی خاطر جمع رکھ تیرے ایمان نے تجھے اچھا کر دیا۔ پس وہ عورت اْسی گھڑی اچھی ہوگئی۔

23۔ اور جب یسوع سردار کے گھر میں آیا اوربانسلی بجانے والوں اور بھیڑ کو غْل مچاتے دیکھا۔

24۔ تو کہا ہٹ جاؤ کیونکہ لڑکی مری نہیں بلکہ سوتی ہے۔ وہ اْس ہر ہنسنے لگے۔

25۔ مگر جب بھیڑ نکال دی گئی تو اْس نے اندر جا کر اْس کا ہاتھ پکڑا اور لڑکی اْٹھی۔

5. Matthew 9 : 18-25

18     While he spake these things unto them, behold, there came a certain ruler, and worshipped him, saying, My daughter is even now dead: but come and lay thy hand upon her, and she shall live.

19     And Jesus arose, and followed him, and so did his disciples.

20     And, behold, a woman, which was diseased with an issue of blood twelve years, came behind him, and touched the hem of his garment:

21     For she said within herself, If I may but touch his garment, I shall be whole.

22     But Jesus turned him about, and when he saw her, he said, Daughter, be of good comfort; thy faith hath made thee whole. And the woman was made whole from that hour.

23     And when Jesus came into the ruler’s house, and saw the minstrels and the people making a noise,

24     He said unto them, Give place: for the maid is not dead, but sleepeth. And they laughed him to scorn.

25     But when the people were put forth, he went in, and took her by the hand, and the maid arose.

6۔ 2کرنتھیوں 4 باب6، 8،9، 16تا18 آیات

6۔ اِس لئے خدا ہی ہے جس نے فرمایا کہ تاریکی میں سے نور چمکے اور وہی ہمارے دلوں میں چمکا تاکہ خدا کے جلال کی پہچان کا نور یسوع مسیح کے چہرے سے جلوہ گر ہو۔

8۔ ہم ہر طرف سے مصیبت تواٹھاتے ہیں لیکن لاچار نہیں ہوتے۔ حیران تو ہوتے ہیں مگر نہ اْمید نہیں ہوتے۔

9۔ ستائے تو جاتے ہیں مگر اکیلے نہیں چھوڑے جاتے۔ گرائے تو جاتے ہیں مگر ہلاک نہیں ہوتے۔

16۔ اِس لئے ہم ہمت نہیں ہارتے بلکہ گو ہماری ظاہری انسانیت زائل ہوتی جاتی ہے پھر بھی ہماری باطنی انسانیت روز بروز نئی ہوتی جاتی ہے۔

17۔ کیونکہ ہماری دم بھر کی ہلکی سی مصیبت ہمارے لئے از حد بھاری اور ابدی جلال پیدا کرتی جاتی ہے۔

18۔ جس حال میں کہ ہم دیکھی ہوئی چیزوں پر نہیں بلکہ اندیکھی چیزوں پر نظر کرتے ہیں کیونکہ دیکھی ہوئی چیزیں چند روزہ ہیں مگر اندیکھی چیزیں ابدی ہیں۔

6. II Corinthians 4 : 6, 8, 9, 16-18

6     For God, who commanded the light to shine out of darkness, hath shined in our hearts, to give the light of the knowledge of the glory of God in the face of Jesus Christ.

8     We are troubled on every side, yet not distressed; we are perplexed, but not in despair;

9     Persecuted, but not forsaken; cast down, but not destroyed;

16     For which cause we faint not; but though our outward man perish, yet the inward man is renewed day by day.

17     For our light affliction, which is but for a moment, worketh for us a far more exceeding and eternal weight of glory;

18     While we look not at the things which are seen, but at the things which are not seen: for the things which are seen are temporal; but the things which are not seen are eternal.

7۔ متی 5 باب48 آیت

48۔ پس چاہئے کہ تم کامل ہو جیسا تمہارا آسمانی باپ کامل ہے۔

7. Matthew 5 : 48

48     Be ye therefore perfect, even as your Father which is in heaven is perfect.



سائنس اور صح


1۔ 85 :30۔32

عظیم اْستاد وجہ اور اثر دونوں کو جانتا تھا، وہ جانتا تھا کہ سچائی خود کو ظاہر کرتی ہے مگر غلطی کو کبھی ظاہر نہیں کرتی۔

1. 85 : 30-32

The great Teacher knew both cause and effect, knew that truth communicates itself but never imparts error.

2۔ 518 :24۔6

پیدائش 1باب 31آیت۔ اور خدا نے سب پر جو اْس نے بنایا تھا نظر کی اور دیکھا کہ بہت اچھا ہے اور شام ہوئی اور صبح ہوئی اور چھٹا دن ہوا۔

الٰہی اصول یا روح سب کچھ سمجھتا اور ظاہر کرتا ہے، اور اسی لئے سب کچھ ویسا ہی کامل ہونا چاہئے جیسا الٰہی اصول کامل ہے۔روح کے لئے کچھ نیا نہیں ہے۔ اْس ابدی عقل کے لئے کچھ بھی افسانوی نہیں ہے، جو سب باتوں کا مصنف ہے، جس نے ساری ابدیت خلق کی ہے وہ اپنے خود کے خیالات کو جانتا ہے۔ خدا اپنے کام سے مطمین تھا۔وہ اپنی لافانی خود ساختگی اور لافانی حکمت کا اجرکیسے ہو سکتا ہے جبکہ روحانی تخلیق اِس کا شاخسانہ تھی؟

2. 518 : 24-6

Genesis i. 31. And God saw everything that He had made, and, behold, it was very good. And the evening and the morning were the sixth day.

The divine Principle, or Spirit, comprehends and expresses all, and all must therefore be as perfect as the divine Principle is perfect. Nothing is new to Spirit. Nothing can be novel to eternal Mind, the author of all things, who from all eternity knoweth His own ideas. Deity was satisfied with His work. How could He be otherwise, since the spiritual creation was the outgrowth, the emanation, of His infinite self-containment and immortal wisdom?

3۔ 472 :24 (سب)۔30

خدا اور اْس کی تخلیق میں پائی جانے والی ساری حقیقت ہم آہنگ اور ابدی ہے۔ جو کچھ وہ بناتا ہے اچھا بناتا ہے، اور جو کچھ بنا ہے اْسی نے بنایاہے۔اس لئے گناہ، بیماری اور موت کی حقیقت یہ ہولناک اصلیت ہے کہ غیر واقعیات انسانی غلط عقائد کو تب تک حقیقی دکھائی دیتے ہیں جب تک کہ خدا اْن کے بہروپ کو اتار نہیں دیتا۔وہ سچ نہیں ہیں کیونکہ وہ خدا کی طرف سے نہیں ہیں۔

3. 472 : 24 (All)-30

All reality is in God and His creation, harmonious and eternal. That which He creates is good, and He makes all that is made. Therefore the only reality of sin, sickness, or death is the awful fact that unrealities seem real to human, erring belief, until God strips off their disguise. They are not true, because they are not of God.

4۔ 286 :21۔26

خدا کے خیالات کامل اور ابدی ہیں، وہ مواد اور زندگی ہیں۔مادی اور عارضی خیالات انسانی ہیں، جن میں غلطی شامل ہوتی ہے، اور چونکہ خدا، روح ہی واحد وجہ ہے، اس لئے وہ الٰہی وجہ سے خالی ہیں۔ تو پھر عارضی اور مادی روح کی تخلیقات نہیں ہیں۔ یہ روحانی اور ابدی چیزوں کے مخالف ہونے کے علاوہ کچھ نہیں۔

4. 286 : 21-26

God's thoughts are perfect and eternal, are substance and Life. Material and temporal thoughts are human, involving error, and since God, Spirit, is the only cause, they lack a divine cause. The temporal and material are not then creations of Spirit. They are but counterfeits of the spiritual and eternal.

5۔ 239 :23۔32

بشری عقل انسانی مقاصد کی تسلیم شْدہ نشست ہے۔ یہ مادی نظریات کو تشکیل دیتی اور بدن کے ہربے آہنگ عمل کو پیدا کرتی ہے۔اگر کوئی عمل الٰہی عقل سے جنم لیتا ہے تو وہ عمل ہم آہنگ ہوگا۔اگر یہ غلطی کرنے والی بشری عقل سے آتا ہے تو یہ بے آہنگ ہوتا ہے اور اِس کا انجام گناہ، بیماری اور موت ہوتا ہے۔یہ دو مخالف ذرائع کبھی چشمے یا ندی میں نہیں ملتے۔کامل عقل کاملیت پیدا کرتی ہے،کیونکہ خدا عقل ہے۔غیر کامل فانی عقل اپنی مشابہتیں پیدا کرتی ہے، جن سے متعلق دانشمند انسان نے کہا، ”سب باطل ہے۔“

5. 239 : 23-32

Mortal mind is the acknowledged seat of human motives. It forms material concepts and produces every discordant action of the body. If action proceeds from the divine Mind, action is harmonious. If it comes from erring mortal mind, it is discordant and ends in sin, sickness, death. Those two opposite sources never mingle in fount or stream. The perfect Mind sends forth perfection, for God is Mind. Imperfect mortal mind sends forth its own resemblances, of which the wise man said, "All is vanity."

6۔ 243 :25۔18

سچائی میں غلطی کا کوئی شعور نہیں ہے۔ محبت میں نفرت کا کوئی فہم نہیں ہے۔ زندگی کی موت کے ساتھ کوئی شراکت نہیں ہے۔ سچائی، زندگی اور محبت ہر اْس چیز کے لئے ہلاکت کا ایک قانون ہے جو اِن کے برعکس ہے، کیونکہ یہ خدا کے سوا کچھ بھی ظاہر نہیں کرتیں۔

بیماری، گناہ اور موت زندگی کے پھل نہیں ہیں۔ یہ بے آہنگیاں ہیں جنہیں سچائی نیست کرتی ہے۔ کاملیت غیر کاملیت کو زندگی نہیں دیتی۔ چونکہ خدا نیک اور سب جانداروں کا سر چشمہ ہے، وہ اخلاقی یا جسمانی بدصورتی پیدا نہیں کرتا؛ اس لئے ایسا بگاڑ حقیقی نہیں بلکہ فریب نظری، غلطی کا سراب ہے۔ الٰہی سائنس اِن بڑے حقائق کو ظاہر کرتی ہے۔ اِنہی کی بنیاد پر کسی بھی شکل میں نہ غلطی سے خوف زدہ ہوتے ہوئے نہ ہی اِس کی تابعداری کرتے ہوئے یسوع نے زندگی کا اظہار کیا۔

جو کچھ جھولے اور قبر کے مابین دیکھا جاتا ہے اگر ہمیں اْس میں ہمارے تمام تر انسانی خیالات کو اخذ کرنا ہو تو خوشی اور اچھائی کے لئے انسان میں پائیدار جگہ نہیں ہوگی، اور اْس کا ماس چھین لیں گے؛ مگر پولوس لکھتا ہے: ”کیونکہ زندگی کے روح کی شریعت نے مسیح یسوع میں مجھے گناہ اور موت کی شریعت سے آزاد کردیا۔

انسان پیدائش، بلوغت اور فنا پذیری کے عمل سے گزرتے ہوئے حیوانات اور نباتات کی مانند، ہلاکت پذیری کے قوانین کے ماتحت ہے۔ اگر انسان اپنی وجودیت کے ابتدائی مراحل میں خاک تھا، تو ہم شاید یہ مفروضے قبول کرلیتے کہ وہ آخر کار اپنی ابتدائی حالت میں لوٹ جاتا ہے مگر انسان کبھی انسان ہونے سے نہ کم نہ زیادہ تھا۔

6. 243 : 25-18

Truth has no consciousness of error. Love has no sense of hatred. Life has no partnership with death. Truth, Life, and Love are a law of annihilation to everything unlike themselves, because they declare nothing except God.

Sickness, sin, and death are not the fruits of Life. They are inharmonies which Truth destroys. Perfection does not animate imperfection. Inasmuch as God is good and the fount of all being, He does not produce moral or physical deformity; therefore such deformity is not real, but is illusion, the mirage of error. Divine Science reveals these grand facts. On their basis Jesus demonstrated Life, never fearing nor obeying error in any form.

If we were to derive all our conceptions of man from what is seen between the cradle and the grave, happiness and goodness would have no abiding-place in man, and the worms would rob him of the flesh; but Paul writes: "The law of the Spirit of life in Christ Jesus hath made me free from the law of sin and death."

Man undergoing birth, maturity, and decay is like the beasts and vegetables, — subject to laws of decay. If man were dust in his earliest stage of existence, we might admit the hypothesis that he returns eventually to his primitive condition; but man was never more nor less than man.

7۔ 275 :10۔19

ہستی کی حقیقت اور ترتیب کو اْس کی سائنس میں تھامنے کے لئے، وہ سب کچھ حقیقی ہے اْس کے الٰہی اصول کے طور پر آپ کو خدا کا تصور کرنے کی ابتدا کرنی چاہئے۔ روح، زندگی، سچائی، محبت یکسانیت میں جْڑ جاتے ہیں، اور یہ سب خدا کے روحانی نام ہیں۔سب مواد، ذہانت، حکمت، ہستی، لافانیت، وجہ اور اثر خْدا سے تعلق رکھتے ہیں۔یہ اْس کی خصوصیات ہیں، یعنی لامتناہی الٰہی اصول، محبت کے ابدی اظہار۔ کوئی حکمت اْس کی عقلمند نہیں سوائے اْس کی؛ کوئی سچائی سچ نہیں، کوئی محبت پیاری نہیں، کوئی زندگی زندگی نہیں ماسوائے الٰہی کے، کوئی اچھائی نہیں ماسوائے اْس کے جو خدا بخشتا ہے۔

7. 275 : 10-19

To grasp the reality and order of being in its Science, you must begin by reckoning God as the divine Principle of all that really is. Spirit, Life, Truth, Love, combine as one, — and are the Scriptural names for God. All substance, intelligence, wisdom, being, immortality, cause, and effect belong to God. These are His attributes, the eternal manifestations of the infinite divine Principle, Love. No wisdom is wise but His wisdom; no truth is true, no love is lovely, no life is Life but the divine; no good is, but the good God bestows.

8۔ 205 :7۔12

یہ ماننا کہ مادے میں زندگی ہے، اور یہ کہ گناہ، بیماری اور موت خدا کی تخلیق کردہ ہیں،یہ غلطی کب بے نقاب ہوگی؟ یہ کب سمجھا جائے گاکہ مادے میں نہ تو ذہانت، زندگی ہے اور نہ ہی احساس ہے اور یہ کہ اِس کا متضاد ایمان تمام دْکھوں کا ثمردار وسیلہ ہے؟

8. 205 : 7-12

When will the error of believing that there is life in matter, and that sin, sickness, and death are creations of God, be unmasked? When will it be understood that matter has neither intelligence, life, nor sensation, and that the opposite belief is the prolific source of all suffering?

9۔ 207 :20۔26

یہاں صرف ایک بنیادی وجہ ہے۔ اس لئے کسی اور وجہ کا کوئی اثر نہیں ہو سکتا، اور یہاں صفر میں کوئی حقیقت نہیں ہو سکتی جو اس اعلیٰ اور واحد وجہ سے ماخوذ نہیں ہو سکتی۔گناہ، بیماری اور موت ہستی کی سائنس سے تعلق نہیں رکھتے۔ یہ غلطیاں ہیں، جو سچائی، زندگی یا محبت کا قیاس کرتی ہیں۔

9. 207 : 20-26

There is but one primal cause. Therefore there can be no effect from any other cause, and there can be no reality in aught which does not proceed from this great and only cause. Sin, sickness, disease, and death belong not to the Science of being. They are the errors, which presuppose the absence of Truth, Life, or Love.

10۔ 200 :16۔19

ہستی کی سائنس میں یہ بڑی حقیقت کہ حقیقی انسان کامل تھا، ہے اور ہمیشہ رہے گا، ناقابل تردید بات ہے؛ کیونکہ اگر انسان خدا کی صورت، شبیہ ہے تو وہ نہ تو اونچا ہے نہ نیچا بلکہ وہ سیدھا اور خدا جیسا ہے۔

10. 200 : 16-19

The great truth in the Science of being, that the real man was, is, and ever shall be perfect, is incontrovertible; for if man is the image, reflection, of God, he is neither inverted nor subverted, but upright and Godlike.

11۔ 276 :17۔24

اگر خدا کو واحد عقل اور زندگی تسلیم کیا جاتا ہے تو اِس سے گناہ اور موت کے لئے کوئی بھی موقع میسر نہیں رہتا۔ جب ہم سائنس میں یہ سیکھ لیتے ہیں کہ ہم کامل کیسے بنیں جیسے ہمار ا آسمانی باپ کامل ہے، تو سوچ جدید اور صحتمند راستوں کی جانب، لافانی چیزوں کی فکرمندی کی طرف مڑ جاتی ہے اور بشمول ہم آہنگ انسان کائنات کے اصلو کی مادیت سے دورہو جاتی ہے۔

11. 276 : 17-24

If God is admitted to be the only Mind and Life, there ceases to be any opportunity for sin and death. When we learn in Science how to be perfect even as our Father in heaven is perfect, thought is turned into new and healthy channels, — towards the contemplation of things immortal and away from materiality to the Principle of the universe, including harmonious man.

12۔ 476 :32۔5

یسوع نے سائنس میں کامل آدمی کو دیکھا جو اْس پر وہاں ظاہر ہوا جہاں گناہ کرنے والا فانی انسان لافانی پر ظاہر ہوا۔ اس کامل شخص میں نجات دہندہ نے خدا کی اپنی شبیہ اور صورت کو دیکھا اور انسان کے اس درست نظریے نے بیمار کو شفا بخشی۔ لہٰذہ یسوع نے تعلیم دی کہ خدا برقرار اور عالمگیر ہے اور یہ کہ انسان پاک اور مقدس ہے۔

12. 476 : 32-5

Jesus beheld in Science the perfect man, who appeared to him where sinning mortal man appears to mortals. In this perfect man the Saviour saw God's own likeness, and this correct view of man healed the sick. Thus Jesus taught that the kingdom of God is intact, universal, and that man is pure and holy.

13۔ 205 :12۔13

خدا نے سب کچھ عقل سے خلق کیا، اور سب کچھ کامل اور ابدی بنایا۔

13. 205 : 12-13

God created all through Mind, and made all perfect and eternal.


روز مرہ کے فرائ

منجاب میری بیکر ایڈ

روز مرہ کی دعا

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ ہر روز یہ دعا کرے: ’’تیری بادشاہی آئے؛‘‘ الٰہی حق، زندگی اور محبت کی سلطنت مجھ میں قائم ہو، اور سب گناہ مجھ سے خارج ہو جائیں؛ اور تیرا کلام سب انسانوں کی محبت کو وافر کرے، اور اْن پر حکومت کرے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 4۔

مقاصد اور اعمال کا ایک اصول

نہ کوئی مخالفت نہ ہی کوئی محض ذاتی وابستگی مادری چرچ کے کسی رکن کے مقاصد یا اعمال پر اثر انداز نہیں ہونی چاہئے۔ سائنس میں، صرف الٰہی محبت حکومت کرتی ہے، اور ایک مسیحی سائنسدان گناہ کو رد کرنے سے، حقیقی بھائی چارے ، خیرات پسندی اور معافی سے محبت کی شیریں آسائشوں کی عکاسی کرتا ہے۔ اس چرچ کے تمام اراکین کو سب گناہوں سے، غلط قسم کی پیشن گوئیوں،منصفیوں، مذمتوں، اصلاحوں، غلط تاثر ات کو لینے اور غلط متاثر ہونے سے آزاد رہنے کے لئے روزانہ خیال رکھنا چاہئے اور دعا کرنی چاہئے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 1۔

فرض کے لئے چوکس

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ وہ ہر روز جارحانہ ذہنی آراء کے خلاف خود کو تیار رکھے، اور خدا اور اپنے قائد اور انسانوں کے لئے اپنے فرائض کو نہ کبھی بھولے اور نہ کبھی نظر انداز کرے۔ اس کے کاموں کے باعث اس کا انصاف ہوگا، وہ بے قصور یا قصوارہوگا۔ 

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 6۔


████████████████████████████████████████████████████████████████████████