اتوار 7جولائی، 2019 |

اتوار 7جولائی، 2019



مضمون۔ خدا

SubjectGod

سنہری متن:سنہری متن: زبور 18: 32 آیت

’’اخدا ہی مجھے قوت سے کمر بستہ کرتا ہے اور میری راہ کامل کرتا ہے۔‘‘



Golden Text: Psalm 18 : 32

It is God that girdeth me with strength, and maketh my way perfect.





سبق کی آڈیو کے لئے یہاں کلک کریں

یوٹیوب سے سننے کے لئے یہاں کلک کریں

████████████████████████████████████████████████████████████████████████


جوابی مطالعہ: زبور 62: 1، 2، 7، 8، 11، 12 آیات


1۔ میری جان کو خدا ہی کی آس ہے۔ میری نجات اْسی سے ہے۔

2۔ وہی اکیلا میری چٹان اور میری نجات ہے۔ وہی میرا اْونچا برج ہے۔ مجھے زیادہ جنبش نہ ہوگی۔

7۔ میری نجات اور میری شوکت خدا کی طرف سے ہے۔ خدا ہی میری قوت کی چٹان اور میری پناہ ہے۔

8۔ اے لوگو! ہر وقت اْس پر توکل کرو۔ اپنے دل کا حال اْس کے سامنے کھول دو۔ خدا ہماری پناہ گاہ ہے۔

11۔ خدا نے ایک بار فرمایا میں نے دو بار سْنا کہ قدرت خدا ہی کی ہے۔

12۔ شفقت بھی اے خداوند! تیری ہی ہے کیونکہ تْو ہر شخص کو اْس کے عمل کے مطابق بدلہ دیتا ہے۔

Responsive Reading: Psalm 62 : 1, 2, 7, 8, 11, 12

1.     Truly my soul waiteth upon God: from him cometh my salvation.

2.     He only is my rock and my salvation; he is my defence; I shall not be greatly moved.

7.     In God is my salvation and my glory: the rock of my strength, and my refuge, is in God.

8.     Trust in him at all times; ye people, pour out your heart before him: God is a refuge for us.

11.     God hath spoken once; twice have I heard this; that power belongeth unto God.

12.     Also unto thee, O Lord, belongeth mercy: for thou renderest to every man according to his work.



درسی وعظ



بائبل


درسی وعظ

بائبل

1۔ پیدائش 21باب22 آیت(خدا)

22۔ ہر کام میں جوتْو کرتا ہے خدا تیرے ساتھ ہے۔

1. Genesis 21 : 22 (God)

22     God is with thee in all that thou doest:

2۔ خروج 12باب43(تا پہلا)، 51آیات

43۔ پھر خداوند نے موسیٰ اور ہارون سے کہا کہ فسح کی رسم یہ ہے کہ کوئی بیگانہ اْسے کھانے نہ پائے۔

51۔اور ٹھیک اْسی روز خداوند بنی اسرائیل کے سب جتھوں کو ملک مصر سے نکال لے گیا۔

2. Exodus 12 : 43 (to 1st :), 51

43     And the Lord said unto Moses and Aaron, This is the ordinance of the passover:

51     And it came to pass the selfsame day, that the Lord did bring the children of Israel out of the land of Egypt by their armies.

3۔ خروج 13باب3 (تا) آیت

3۔ اور موسیٰ نے لوگوں سے کہا کہ تم اِس دن کو یاد رکھنا جس میں تم مصر سے جو غلامی کا گھر ہے نکلے کیونکہ خداوند اپنے زور بازو سے تم کو وہاں سے نکال لیا۔

3. Exodus 13 : 3 (to :)

3     And Moses said unto the people, Remember this day, in which ye came out from Egypt, out of the house of bondage; for by strength of hand the Lord brought you out from this place:

4۔ زبور78: 1، 4تا7، 12تا16، 24، 25 آیات

1۔ اے میر ے لو گو! میر ی شر یعت کو سنو۔ میر ے منہ کی با تو ں پر کا ن لگاؤ۔

4۔ اور جن کو ہم اپنی اولاد سے پو شیدہ نہیں رکھیں گے۔بلکہ آیند ہ پشت کو بھی خداوند کی تعریف اور اس کی قد رت اور عجا ئب جو اس نے کئے بتائیں گے۔

5۔ کیو نکہ اُس نے یعقو ب میں ایک شہا دت قائم کی او ر اسر ائیل میں شریعت مقر ر کی جن کی با بت اس نے ہما رے با پ دادا کو حکم دیا۔کہ وہ ہمار ی اولاد کو تعلیم دیں۔

6۔ تاکہ آیند ہ پشت یعنی وہ فر زند جو پیدا ہو ں گے۔ان کو جان لیں اور وہ بڑ ے ہو کر اپنی اولاد کو سکھائیں۔

7۔کہ وہ خدا پر آس رکھیں اور اسکے کاموں کو بھو ل نہ جائیں بلکہ اس کے حکمو ں پر عمل کریں۔

12۔ اس نے ملک مصر میں ضعن کے علاقہ میں ان کے باپ دادا کے سامنے عجیب و غریب کام کئے۔

13۔ اس نے سمندر کے دو حصے کر کے ان کو پار اتارا۔ اور پانی کو تودا کی طرح کھڑا کر دیا۔

14۔ اس نے دن کو بادل سے ان کی رہبری کی اور رات بھر آگ کی روشنی سے۔

15۔ اس نے بیابان میں چٹانوں کو چیرا اور ان کو گویا بحر سے خوب پلایا۔

16۔ اس نے چٹانوں میں سے ندیاں جاری کیں۔اور دریاؤں کی طرح پانی بہایا۔

24۔ اور کھانے کے لئے ان پر من برسایا اور ان کو آسمانی خوراک بخشی۔

25۔انسان نے فرشتوں کی غذا کھائی اس نے کھانا بھیج کر ان کو آسودا کیا۔

4. Psalm 78 : 1, 4-7, 12-16, 24, 25

1     Give ear, O my people, to my law: incline your ears to the words of my mouth.

4     We will not hide them from their children, shewing to the generation to come the praises of the Lord, and his strength, and his wonderful works that he hath done.

5     For he established a testimony in Jacob, and appointed a law in Israel, which he commanded our fathers, that they should make them known to their children:

6     That the generation to come might know them, even the children which should be born; who should arise and declare them to their children:

7     That they might set their hope in God, and not forget the works of God, but keep his commandments:

12     Marvellous things did he in the sight of their fathers, in the land of Egypt, in the field of Zoan.

13     He divided the sea, and caused them to pass through; and he made the waters to stand as an heap.

14     In the daytime also he led them with a cloud, and all the night with a light of fire.

15     He clave the rocks in the wilderness, and gave them drink as out of the great depths.

16     He brought streams also out of the rock, and caused waters to run down like rivers.

24     And had rained down manna upon them to eat, and had given them of the corn of heaven.

25     Man did eat angels’ food: he sent them meat to the full.

5۔ 2سیموئیل 22باب7 (تا دوسرا)، 20، 29 تا 31آیات

7۔ اپنی مصیبت میں مَیں نے خداوند کو پکارا۔ مَیں اپنے خدا کے حضور چلایا۔ اْس نے اپنی ہیکل میں سے میری آواز سنی اور میری فریاد اْس کے کان میں پہنچی۔

20۔ وہ مجھے کشادہ جگہ میں نکال لایا۔ اْس نے مجھے چھڑایا۔ اس لئے کہ وہ مجھ سے خوش تھا۔

29۔ کیونکہ اے خداوند تْو میرا چراغ ہے اور خداوند میرے اندھیرے کو اجالا کر دے گا۔

30۔کیونکہ تیری بدولت میں فوج پر دھاوا کرتا ہوں اور اپنے خدا کی بدولت دیوار پھاند جاتا ہوں۔

31۔لیکن خدا کی راہ کامل ہے۔ خداوند کا کلام تایا ہوا ہے۔ وہ اْن سب کی سِپر ہے جو اْس پر بھروسہ رکھتے ہیں۔

5. II Samuel 22 : 7 (to 2nd ,), 20, 29-31

7     In my distress I called upon the Lord, and cried to my God: and he did hear my voice out of his temple,

20     He brought me forth also into a large place: he delivered me, because he delighted in me.

29     For thou art my lamp, O Lord: and the Lord will lighten my darkness.

30     For by thee I have run through a troop: by my God have I leaped over a wall.

31     As for God, his way is perfect; the word of the Lord is tried: he is a buckler to all them that trust in him.

6۔ متی 4باب23آیت

23۔ اور یسوع تمام گلیل میں پھرتا رہا اور اْن کے عبادتخانوں میں تعلیم دیتا اور بادشاہی کی خوشخبری کی منادی کرتا اور لوگوں کی ہر طرح کی بیماری اور ہر طرح کی کمزوری کو دور کرتا رہا۔

6. Matthew 4 : 23

23     And Jesus went about all Galilee, teaching in their synagogues, and preaching the gospel of the kingdom, and healing all manner of sickness and all manner of disease among the people.

7۔ متی 12باب22تا28آیات

22۔اْس وقت لوگ اْس کے پاس ایک اندھے گونگے کو لائے جس میں بد روح تھی۔ اْس نے اْسے اچھا کر دیا، چنانچہ وہ گونگاہ بولنے اور دیکھنے لگا۔

23۔ اور ساری بھیڑ حیران ہو کر کہنے لگی کیا یہ ابنِ داؤد ہے؟

24۔ فریسیوں نے سْن کر کہا کیا یہ بدوحوں کے سردار بعلزبول کی مدد کے بغیر بدروحوں کو نہیں نکالتا۔

25۔ اْس نے اْن کے خیالوں کو جان کراْن سے کہا جس بادشاہی میں پھوٹ پڑتی ہے وہ ویران ہو جاتی ہے اور جس شہر یا گھر میں پھوٹ پڑے گی وہ قائم نہ رہے گا۔

26۔ اور اگر شیطان ہی نے شیطان کو نکالا تو وہ آپ اپنا مخالف ہو گیا۔ پھر اْس کی بادشاہی کیونکر قائم رہے گی؟

27۔ اور اگر میں بعلزبول کی مدد سے بدروحوں کو نکالتا ہوں تو تمہارے بیٹے کس کی مدد سے نکالتے ہیں؟ پس وہی تمہارے مْنصف ہوں گے۔

28۔ لیکن اگر میں خدا کی روح کی مدد سے روحیں نکالتا ہوں تو خدا کی بادشاہی تمہارے پاس آ پہنچی۔

7. Matthew 12 : 22-28

22     Then was brought unto him one possessed with a devil, blind, and dumb: and he healed him, insomuch that the blind and dumb both spake and saw.

23     And all the people were amazed, and said, Is not this the son of David?

24     But when the Pharisees heard it, they said, This fellow doth not cast out devils, but by Beelzebub the prince of the devils.

25     And Jesus knew their thoughts, and said unto them, Every kingdom divided against itself is brought to desolation; and every city or house divided against itself shall not stand:

26     And if Satan cast out Satan, he is divided against himself; how shall then his kingdom stand?

27     And if I by Beelzebub cast out devils, by whom do your children cast them out? therefore they shall be your judges.

28     But if I cast out devils by the Spirit of God, then the kingdom of God is come unto you.

8۔ لوقا 11باب1تا4، 9تا12، 13 آیات (کتنے)

1۔ پھر ایسا ہوا کہ وہ کسی جگہ دعا کر رہا تھا۔ جب کر چکا تو اْس کے شاگردوں میں سے ایک نے اْس سے کہا اے خداوند جیسا یوحنا نے اپنے شاگردوں کو دعا کرنا سکھایا تْو بھی ہمیں سکھا۔

2۔اْس نے اْن سے کہا کہ جب تْم دعا کرو تو کہو اے باپ تیرا نام پاک مانا جائے۔ تیری بادشاہی آئے۔

3۔ ہماری روز کی روٹی ہر روز ہمیں دے۔

4۔ اور ہمارے گناہ معاف کر کیونکہ ہم بھی اپنے ہر قرضدار کو معاف کرتے ہیں اور ہمیں آزمائش میں نہ لا۔

9۔ پس مَیں تم سے کہتا ہوں کہ مانگو تو تمہیں دیا جائے گا۔ ڈھونڈو تو پاؤ گے۔ دروازہ کھٹکھٹاؤ تو تمہارے واسطے کھولا جائے گا۔

10۔ کیونکہ جو کوئی مانگتا ہے اْسے ملتا ہے اور جو ڈھونڈتا ہے وہ پاتا ہے اور جو کھٹکھٹاتا ہے اْس کے واسطے کھوالا جائے گا۔

11۔ تم میں سے ایسا کون سا باپ ہے کہ جب اْس کا بیٹا روٹی مانگے تو اْسے پتھر دے؟ یا مچھلی مانگے تو اْسے مچھلی کے بدلے سانپ دے؟

12۔ یا انڈہ مانگے تو اْسے بِچھو دے؟

13۔ ۔۔۔تو آسمانی باپ اپنے مانگنے والوں کو روح القدس کیوں نہ دے گا؟

8. Luke 11 : 1-4, 9-12, 13 (how much)

1     And it came to pass, that, as he was praying in a certain place, when he ceased, one of his disciples said unto him, Lord, teach us to pray, as John also taught his disciples.

2     And he said unto them, When ye pray, say, Our Father which art in heaven, Hallowed be thy name. Thy kingdom come. Thy will be done, as in heaven, so in earth.

3     Give us day by day our daily bread.

4     And forgive us our sins; for we also forgive every one that is indebted to us. And lead us not into temptation; but deliver us from evil.

9     And I say unto you, Ask, and it shall be given you; seek, and ye shall find; knock, and it shall be opened unto you.

10     For every one that asketh receiveth; and he that seeketh findeth; and to him that knocketh it shall be opened.

11     If a son shall ask bread of any of you that is a father, will he give him a stone? or if he ask a fish, will he for a fish give him a serpent?

12     Or if he shall ask an egg, will he offer him a scorpion?

13     …how much more shall your heavenly Father give the Holy Spirit to them that ask him?

9۔ رومیوں 8باب28، 31، 35، 37تا39(تا چوتھا) آیات

28۔ اور ہم کو معلوم ہے کہ سب چیزیں مل کر خدا سے محبت رکھنے والوں کے لئے بھلائی پیدا کرتی ہیں یعنی اْن کے لئے جو خدا کے ارادہ کے موافق بلائے گئے۔

31۔ پس ہم اِن باتوں کی بابت کیا کہیں؟ اگر خدا ہماری طرف ہے تو کون ہمارا مخالف ہے؟

35۔ کون ہم کو مسیح کی محبت سے جدا کرے گا؟ مصیبت یا تنگی یا ظلم یا کال یا ننگا پن یا خطرہ یا تلوار؟

37۔ مگر اِن سب حالتوں میں اْس کے وسیلہ سے جس نے ہم سے محبت کی ہم کو فتح سے بھی بڑھ کر غلبہ حاصل ہوا ہے۔

38۔ کیونکہ مجھ کو یقین ہے کہ خدا کی محبت ہمارے خداوند یسوع مسیح میں ہے اْس سے ہمیں نہ موت جدا کر سکے گی نہ زندگی۔

39۔ نہ فرشتے نہ حکومتیں۔ نہ حال کی نہ استقبال کی۔نہ قدرت نہ بلندی نہ پستی نہ کوئی اور مخلوق۔

9. Romans 8 : 28, 31, 35, 37-39 (to 4th ,)

28     And we know that all things work together for good to them that love God, to them who are the called according to his purpose.

31     What shall we then say to these things? If God be for us, who can be against us?

35     Who shall separate us from the love of Christ? shall tribulation, or distress, or persecution, or famine, or nakedness, or peril, or sword?

37     Nay, in all these things we are more than conquerors through him that loved us.

38     For I am persuaded, that neither death, nor life, nor angels, nor principalities, nor powers, nor things present, nor things to come,

39     Nor height, nor depth, nor any other creature, shall be able to separate us from the love of God,



سائنس اور صح


1۔ 330: 11 (خدا)۔12

خدا لامتناہی واحد زندگی، مواد، روح یا جان، کائنات کی، بشمول انسان، واحد ذہانت ہے۔

1. 330 : 11 (God)-12

God is infinite, the only Life, substance, Spirit, or Soul, the only intelligence of the universe, including man.

2۔ 336: 25 (خدا)۔26، 30۔31

خدا، انسان کا الٰہی اصول، اور خدا کی شبیہ پر بناانسان غیر منفک، ہم آہنگ اورابدی ہیں۔ ۔۔۔ خدا ولدیت کی عقل ہے اور انسان خدا کی روحانی اولاد ہے۔

2. 336 : 25 (God)-26, 30-31

God, the divine Principle of man, and man in God's likeness are inseparable, harmonious, and eternal. … God is the parent Mind, and man is God's spiritual offspring.

3۔ 332: 4 (باپ)۔8

الوہیت کے لئے مادر پدر نام ہے، جو اْس کی روحانی مخلوق کے ساتھ اْس کے شفیق تعلق کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ جیسا کہ رسول نے ان الفاظ میں یہ ظاہر کیا جنہیں ایک بہترین شاعر کی منظوری سے لیا گیا ہے: ”اسلئے کہ ہم بھی اْس کی اولاد ہیں“۔

3. 332 : 4 (Father)-8

Father-Mother is the name for Deity, which indicates His tender relationship to His spiritual creation. As the apostle expressed it in words which he quoted with approbation from a classic poet: "For we are also His offspring."

4۔ 494:10۔14

الٰہی محبت نے ہمیشہ انسانی ضرورت کو پورا کیا ہے اور ہمیشہ پورا کرے گی۔ اس بات کو تصور کرنا مناسب نہیں کہ یسوع نے محض چند مخصوص تعداد میں یا محدود عرصے تک شفا دینے کے لئے الٰہی طاقت کا مظاہرہ کیا، کیونکہ الٰہی محبت تمام انسانوں کے لئے ہر لمحہ سب کچھ مہیا کرتی ہے۔

4. 494 : 10-14

Divine Love always has met and always will meet every human need. It is not well to imagine that Jesus demonstrated the divine power to heal only for a select number or for a limited period of time, since to all mankind and in every hour, divine Love supplies all good.

5۔ 139:4۔9

ابتدا سے آخر تک، پورا کلام پاک مادے پر روح، عقل کی فتح کے واقعات سے بھرپور ہے۔ موسیٰ نے عقل کی طاقت کو اس کے ذریعے ثابت کیا جسے انسان معجزات کہتا ہے؛ اسی طرح یشوع، ایلیاہ اور الیشع نے بھی کیا۔ مسیحی دور کو علامات اور عجائبات کی مدد سے بڑھایا گیا۔

5. 139 : 4-9

From beginning to end, the Scriptures are full of accounts of the triumph of Spirit, Mind, over matter. Moses proved the power of Mind by what men called miracles; so did Joshua, Elijah, and Elisha. The Christian era was ushered in with signs and wonders.

6۔ 134:31۔8

ایک معجزہ خدا کے قانون کو پورا کرتا ہے، لیکن اْس قانون کو توڑتا نہیں۔ یہ حقیقت خود معجزے کی نسبت زیادہ پْر اسرار لگتی ہے۔ زبور نویس نے یہ گایا: ”اے سمندرتجھے کیا ہواکہ تُو بھاگتا ہے؟ اے یردن!تجھے کیا ہوا کہ تو پیچھے ہٹتا ہے؟ اَے پہاڑو! تمکو کیا ہوا کہ تُم مینڈھوں کی طرح اچھلتے ہو؟ اے پہاڑیو! تمکو کیا ہواکہ تُم بھیڑ کے بچوں کی طرح کودتی ہو؟اَے زمین تُو رب کے حضور۔ یعقوب کے خدا کے حضور تھرتھرا۔“ یہ معجزہ کوئی اختلاف متعارف نہیں کراتا، بلکہ خدا کے ناقابل تبدیل قانون کی سائنس کو قائم کرتے ہوئے بنیادی ترتیب کو واضح کرتا ہے۔

6. 134 : 31-8

A miracle fulfils God's law, but does not violate that law. This fact at present seems more mysterious than the miracle itself. The Psalmist sang: "What ailed thee, O thou sea, that thou fleddest? Thou Jordan, that thou wast driven back? Ye mountains, that ye skipped like rams, and ye little hills, like lambs? Tremble, thou earth, at the presence of the Lord, at the presence of the God of Jacob." The miracle introduces no disorder, but unfolds the primal order, establishing the Science of God's unchangeable law.

7۔ 135:11۔20

جو قوت گناہ سے شفا دیتی ہے وہی بیماری سے بھی شفا دیتی ہے۔ یہ ”پاکیزگی کی خوبصورتی“ ہے، کہ جب سچائی بیمار کو شفا دیتی ہے،بدروحوں کو نکالتی ہے، اور جب سچائی اْس بدی کو نکالتی ہے جسے بیماری کہا جاتا ہے، تو یہ بیمار کو شفا دیتی ہے۔ جب مسیح نے گونگے بہرے شیطان کو نکالا، ”اور ایسا ہو اکہ جب شیطان نکل گیا تو گونگا بولنے لگا۔“آج بھی اسرائیل کے قدوس کے خلاف مخالفت کو دوہراتے اور یہ پوچھتے ہوئے محدود کرنے کے عمل کو دوہرایا جاتا ہے کہ: ”کیا خدا بیابان میں میز بچھا سکتا ہے؟“ خدا کیا نہیں کر سکتا ہے؟

7. 135 : 11-20

The same power which heals sin heals also sickness. This is "the beauty of holiness," that when Truth heals the sick, it casts out evils, and when Truth casts out the evil called disease, it heals the sick. When Christ cast out the devil of dumbness, "it came to pass, when the devil was gone out, the dumb spake." There is to-day danger of repeating the offence of the Jews by limiting the Holy One of Israel and asking: "Can God furnish a table in the wilderness?" What cannot God do?

8۔ 371: 27۔32

دوڑ کو تیز کرنے کی ضرورت اس حقیقت کا باپ ہے کہ عقل یہ کر سکتی ہے؛ کیونکہ عقل آلودگی کی بجائے پاکیزگی، کمزوری کی بجائے طاقت، اور بیماری کی بجائے صحتمندی بخش سکتی ہے۔ یہ پورے نظام میں قابل تبدیل ہے، اور اسے ”ہر ذرے تک“ بنا سکتی ہے۔

8. 371 : 27-32

The necessity for uplifting the race is father to the fact that Mind can do it; for Mind can impart purity instead of impurity, strength instead of weakness, and health instead of disease. Truth is an alterative in the entire system, and can make it "every whit whole."

9۔ 62:22۔24 (تا؛)

الٰہی عقل، جو شگوفے کو کھلاتی ہے، وہ اسی طرح سے انسانی بدن کی فکر کرے گی جیسے وہ سوسن کو ملبوس کرتی ہے۔

9. 62 : 22-24 (to ;)

The divine Mind, which forms the bud and blossom, will care for the human body, even as it clothes the lily;

10۔ 393:8۔15

عقل جسمانی حواس کی مالک ہے، اور بیماری، گناہ اور موت کو فتح کرسکتی ہے۔ اس خداداد اختیار کی مشق کریں۔ اپنے بدن کی ملکیت رکھیں، اور اِس کے احساس اور عمل پر حکمرانی کریں۔ روح کی قوت میں بیدار ہوں اور وہ سب جو بھلائی جیسا نہیں اْسے مسترد کر دیں۔ خدا نے انسان کو اس قابل بنایا ہے، اور کوئی بھی چیز اْس قابل اور قوت کو بگاڑ نہیں سکتی جو الٰہی طور پر انسان کو عطا کی گئی ہے۔

10. 393 : 8-15

Mind is the master of the corporeal senses, and can conquer sickness, sin, and death. Exercise this God-given authority. Take possession of your body, and govern its feeling and action. Rise in the strength of Spirit to resist all that is unlike good. God has made man capable of this, and nothing can vitiate the ability and power divinely bestowed on man.

11۔ 1:1۔4، 10۔14

وہ دعا جو گناہگار کو ٹھیک کرتی اور بیمار کو تندرست کرتی ہے وہ مکمل طور پر یہ ایمان ہے کہ خدا کے لئے سب کچھ ممکن ہے، جو اْس سے متعلق ایک روحانی فہم، ایک بے لوث محبت ہے۔

اَن کہے خیالات الٰہی عقل کے لئے اجنبی نہیں ہیں۔ خواہش دعا ہے؛ اور ہماری خواہشات کے لئے خدا پر بھروسہ کرنے سے کوئی نقصان نہیں ہوتا، کہ وہ الفاظ بننے اور عمل میں آنے سے قبل تشکیل پا چکے اور ممتاز کئے جا چکے ہیں۔

11. 1 : 1-4, 10-14

The prayer that reforms the sinner and heals the sick is an absolute faith that all things are possible to God, — a spiritual understanding of Him, an unselfed love.

Thoughts unspoken are not unknown to the divine Mind. Desire is prayer; and no loss can occur from trusting God with our desires, that they may be moulded and exalted before they take form in words and in deeds.

12۔ 2:15۔2

دعا ہستی کی سائنس کو تبدیل نہیں کر سکتی، لیکن یہ ہمیں اس کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کا رجحان رکھتی ہے۔ بھلائی سچائی کا اظہار حاصل کرتی ہے۔ خدا ہمیں نجات دے گا یہ التجا ہی وہ سب کچھ نہیں جس کی ضرورت ہے۔ الٰہی عقل سے التجا کرنے کی محض عادت، جیسا کہ کوئی شخص انسان ہوتے ہوئے التجا کرتا ہے، انسانی حدود میں خدا پر بھروسہ رکھنا جاری رکھتا ہے، جو ایک ایسی غلطی ہے جس سے روحانی ترقی رکاوٹ کا شکار ہوتی ہے۔

خدا محبت ہے۔ کیا ہم اِس سے زیادہ اْ س سے توقع کر سکتے ہیں؟ خدا ذہانت ہے۔ کیا ہم اْس لامتناہی عقل کو اس سے آگاہ کر سکتے ہیں جو وہ پہلے سے نہ جانتا ہو؟کیا ہم کاملیت کو تبدیل کرنے کی توقع کر تے ہیں؟ کیا ہمیں کسی فوارے کے سامنے اور التجا کرنی چاہئے جو ہماری توقع سے زیادہ پانی انڈیل رہا ہو؟ اَن کہی خواہش ہمیں تمام وجودیت اور فضل کے منبع کے قریب تر لے جاتی ہے۔

خدا کے آگے خدا بننے کی التجا کرنا بیکار کی تکرار ہے۔ خدا ”کل اور آج بلکہ ابد تک یکساں“ہے، اور وہ جو ناقابل تبدیل اچھا ہے وہ اْس کی لیاقت کی یاد دہانی کے بغیر ہی سب اچھا کرے گا۔

12. 2 : 15-2

Prayer cannot change the Science of being, but it tends to bring us into harmony with it. Goodness attains the demonstration of Truth. A request that God will save us is not all that is required. The mere habit of pleading with the divine Mind, as one pleads with a human being, perpetuates the belief in God as humanly circumscribed, — an error which impedes spiritual growth.

God is Love. Can we ask Him to be more? God is intelligence. Can we inform the infinite Mind of anything He does not already comprehend? Do we expect to change perfection? Shall we plead for more at the open fount, which is pouring forth more than we accept? The unspoken desire does bring us nearer the source of all existence and blessedness.

Asking God to be God is a vain repetition. God is "the same yesterday, and to-day, and forever;" and He who is immutably right will do right without being reminded of His province.

13۔ 16:20۔15

صرف جب ہم تمام ترمادی جذباتیت اور گناہ سے اوپر اٹھتے ہیں تو ہم آسمان سے پنپنے والے اطمینان اور روحانی شعور تک پہنچ سکتے ہیں، جس کا اشارہ دعائے ربانی میں کیا گیا ہے اور جو فوری طور پر بیمار کو شفا دیتی ہے۔

یہاں مجھے حاصل ہونے والی دعائے ربانی کی روحانی سمجھ کو واضح کرنے دیجئے:

اے ہمارے باپ تو جو آسمان پر ہے،

اے ہمارے مادر پدر خدا، قادر ہم آہنگ

تیرا نام پاک مانا جائے۔

قابل ستائش

تیری بادشاہی آئے۔

تیری بادشاہی آ گئی ہے؛ تْو ازل سے ہے۔

تیری مرضی جیسے آسمان پر پوری ہوتی ہے زمین پر بھی ہو۔

جیسے آسمان پر ہے زمین پر بھی ہمیں یہ جاننے کے قابل بنا کہ خدا قادر مطلق، اعلیٰ ہے۔

ہمارے روز کی روٹی آج ہمیں دے؛

آج کے لئے ہمیں فضل عطا کر؛ محبت کے بھوکوں کو سیر کر؛

ہمارے قصور ہمیں معاف کر جیسے ہم دوسروں کے قصور معاف کرتے ہیں۔

اور محبت، محبت میں منعکس ہوتی ہے؛

اور ہمیں آزمائش نہ پڑنے دے بلکہ برائی سے بچا؛

اور خدا ہمیں آزمائش میں نہیں ڈالتا، بلکہ ہمیں گناہ، بیماری اور موت سے بچاتا ہے۔

کیونکہ بادشاہت، قدرت اور جلال ہمیشہ تک تیرے ہیں۔

کیونکہ خدا لامحدود، قادر مطلق، بھر پور زندگی، سچائی، محبت، ہر ایک پر اور سب پر حاکم ہے۔

13. 16 : 20-15

Only as we rise above all material sensuousness and sin, can we reach the heaven-born aspiration and spiritual consciousness, which is indicated in the Lord's Prayer and which instantaneously heals the sick.

Here let me give what I understand to be the spiritual sense of the Lord's Prayer:

Our Father which art in heaven,

          Our Father-Mother God, all-harmonious,

Hallowed be Thy name.

          Adorable One.

Thy kingdom come.

          Thy kingdom is come; Thou art ever-present.

Thy will be done in earth, as it is in heaven.

          Enable us to know, — as in heaven, so on earth, — God is omnipotent, supreme.

Give us this day our daily bread;

          Give us grace for to-day; feed the famished affections;

And forgive us our debts, as we forgive our debtors.

          And Love is reflected in love;

And lead us not into temptation, but deliver us from evil;

          And God leadeth us not into temptation, but delivereth us from sin, disease, and death.

For Thine is the kingdom, and the power, and the glory, forever.

          For God is infinite, all-power, all Life, Truth, Love, over all, and All.


روز مرہ کے فرائ

منجاب میری بیکر ایڈ

روز مرہ کی دعا

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ ہر روز یہ دعا کرے: ’’تیری بادشاہی آئے؛‘‘ الٰہی حق، زندگی اور محبت کی سلطنت مجھ میں قائم ہو، اور سب گناہ مجھ سے خارج ہو جائیں؛ اور تیرا کلام سب انسانوں کی محبت کو وافر کرے، اور اْن پر حکومت کرے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 4۔

مقاصد اور اعمال کا ایک اصول

نہ کوئی مخالفت نہ ہی کوئی محض ذاتی وابستگی مادری چرچ کے کسی رکن کے مقاصد یا اعمال پر اثر انداز نہیں ہونی چاہئے۔ سائنس میں، صرف الٰہی محبت حکومت کرتی ہے، اور ایک مسیحی سائنسدان گناہ کو رد کرنے سے، حقیقی بھائی چارے ، خیرات پسندی اور معافی سے محبت کی شیریں آسائشوں کی عکاسی کرتا ہے۔ اس چرچ کے تمام اراکین کو سب گناہوں سے، غلط قسم کی پیشن گوئیوں،منصفیوں، مذمتوں، اصلاحوں، غلط تاثر ات کو لینے اور غلط متاثر ہونے سے آزاد رہنے کے لئے روزانہ خیال رکھنا چاہئے اور دعا کرنی چاہئے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 1۔

فرض کے لئے چوکس

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ وہ ہر روز جارحانہ ذہنی آراء کے خلاف خود کو تیار رکھے، اور خدا اور اپنے قائد اور انسانوں کے لئے اپنے فرائض کو نہ کبھی بھولے اور نہ کبھی نظر انداز کرے۔ اس کے کاموں کے باعث اس کا انصاف ہوگا، وہ بے قصور یا قصوارہوگا۔ 

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 6۔


████████████████████████████████████████████████████████████████████████