اتوار 7فروری،2021



مضمون۔ روح

SubjectSpirit

سنہری متن: زکریاہ 4باب6 آیت

”نہ تو زور سے اور نہ توانائی سے بلکہ میری روح سے رب الافواج فرماتا ہے۔“



Golden Text: Zechariah 4 : 6

Not by might, nor by power, but by my spirit, saith the Lord of hosts.





سبق کی آڈیو کے لئے یہاں کلک کریں

یوٹیوب سے سننے کے لئے یہاں کلک کریں

████████████████████████████████████████████████████████████████████████


جوابی مطالعہ: 1 کرنتھیوں 2 باب 9، 10آیات • گلتیوں 5 باب 16تا18، 22، 23 آیات


9۔ بلکہ جیسا لکھا ہے ویسا ہی ہوا جو چیزیں نہ آنکھوں نے دیکھیں اور نہ کانوں نے سنیں نہ آدمی کے دل میں آئیں۔ وہ سب خدا نے اپنے محبت رکھنے والوں کے لئے تیار کر دیں۔

10۔ لیکن ہم پر خدا نے اْن کو روح کے وسیلہ سے ظاہر کیا کیونکہ روح سب باتوں بلکہ خدا کی تہہ کی باتیں بھی دریافت کر لیتا ہے۔

16۔ مگر مَیں یہ کہتا ہوں کہ روح کے موافق چلو تو جسم کی خواہش کو ہر گز پورا نہ کروگے۔

17۔ کیونکہ جسم روح کے خلاف خواہش کرتا ہے اور روح جسم کے خلاف اور یہ ایک دوسرے کے مخالف ہیں تاکہ جو تم چاہتے ہو وہ نہ کرو۔

18۔ اور اگر تم روح کی ہدایت سے چلتے ہو تو شریعت کے ماتحت نہیں رہے۔

22۔ مگرروح کا پھل محبت۔ خوشی۔ اطمینان۔ تحمل۔ مہربانی۔ نیکی۔ ایمانداری۔

23۔ حلم۔ پرہیزگاری ہے۔ ایسے کاموں کی کوئی شریعت مخالف نہیں۔

Responsive Reading: I Corinthians 2 : 9, 10 ; Galatians 5 : 16-18, 22, 23

9.     As it is written, Eye hath not seen, nor ear heard, neither have entered into the heart of man, the things which God hath prepared for them that love him.

10.     But God hath revealed them unto us by his Spirit: for the Spirit searcheth all things, yea, the deep things of God.

16.     This I say then, Walk in the Spirit, and ye shall not fulfil the lust of the flesh.

17.     For the flesh lusteth against the Spirit, and the Spirit against the flesh: and these are contrary the one to the other: so that ye cannot do the things that ye would.

18.     But if ye be led of the Spirit, ye are not under the law.

22.     But the fruit of the Spirit is love, joy, peace, longsuffering, gentleness, goodness, faith,

23.     Meekness, temperance: against such there is no law.



درسی وعظ



بائبل


درسی وعظ

بائبل

1۔ زبور 143: 1، 10 آیات

1۔ اے خداوند! میری دعا سن۔ میری التجا پر کان لگا۔ اپنی وفا اور صداقت میں مجھے جواب دے۔

10۔ مجھے سکھا کہ تیری مرضی پر چلوں اِس لئے کہ تْو میرا خدا ہے۔ تیری نیک روح مجھے راستی کے ملک میں لے چلے۔

1. Psalm 143 : 1, 10

1     Hear my prayer, O Lord, give ear to my supplications: in thy faithfulness answer me, and in thy righteousness.

10     Teach me to do thy will; for thou art my God: thy spirit is good; lead me into the land of uprightness.

2۔ 1 کرنتھیوں 12 باب13 آیت

13۔ کیونکہ ہم سب نے خواہ یہودی ہو خواہ یونانی۔ خواہ غلام ہو خواہ آزاد۔ ایک ہی روح کے وسیلہ سے ایک بدن کے ہونے کے لئے بپتسمہ لیا اور ہم سب کو ایک ہی روح پلایا گیا۔

2. I Corinthians 12 : 13

13     For by one Spirit are we all baptized into one body, whether we be Jews or Gentiles, whether we be bond or free; and have been all made to drink into one Spirit.

3۔ مرقس 1باب9تا11 آیات

9۔ اور اْن دنوں ایسا ہوا کہ یسوع نے گلیل کے ناصرت سے آکر یردن میں یوحنا سے بپتسمہ لیا۔

10۔ اور جب وہ پانی سے نکل کر اوپر آیا تو فی الفور اْس نے آسمان کو پھٹتے اور روح کو کبوتر کی مانند اپنے اوپر اْترتے دیکھا۔

11۔ اور آسمان سے آواز آئی کہ تْو میرا پیارا بیٹا ہے۔ تجھ سے مَیں خوش ہوں۔

3. Mark 1 : 9-11

9     And it came to pass in those days, that Jesus came from Nazareth of Galilee, and was baptized of John in Jordan.

10     And straightway coming up out of the water, he saw the heavens opened, and the Spirit like a dove descending upon him:

11     And there came a voice from heaven, saying, Thou art my beloved Son, in whom I am well pleased.

4۔ لوقا 4 باب 14، 15، 33تا36 آیات

14۔ پھر یسوع روح کی قوت سے بھرا ہوا گللیل لوٹا اور سارے گردو نواح میں اْس کی شہرت پھیل گئی۔

15۔ اور وہ اْن کے عبادت خانوں میں تعلیم دیتا رہا اور سب اْس کی بڑائی کرتے رہے۔

33۔ اور عبادتخانہ میں ایک آدمی تھا جس میں ناپاک دیو کی روح تھی وہ بڑی آواز سے چلااْٹھا کہ

34۔ اے یسوع ناصری ہمیں تجھ سے کیا کام؟ کیا تْو ہمیں ہلاک کرنے آیا ہے؟ مَیں تجھے جانتا ہوں کہ تْو کون ہے۔ خدا کا قدوس ہے۔

35۔ یسوع نے اْسے جھڑک کر کہا چْپ رہ اور اْس میں سے نکل جا۔ اِس پر بد روح اْسے بیچ میں پٹک کر بغیر ضرر پہنچائے اْس میں سے نکل گئی۔

36۔ اور سب حیران ہو کر آپس میں کہنے لگے یہ کیسا کلام ہے؟ کیونکہ وہ اختیار اور قدرت سے ناپاک روحوں کو حکم دیتا ہے اور وہ نکل جاتی ہیں۔

4. Luke 4 : 14, 15, 33-36

14     And Jesus returned in the power of the Spirit into Galilee: and there went out a fame of him through all the region round about.

15     And he taught in their synagogues, being glorified of all.

33     And in the synagogue there was a man, which had a spirit of an unclean devil, and cried out with a loud voice,

34     Saying, Let us alone; what have we to do with thee, thou Jesus of Nazareth? art thou come to destroy us? I know thee who thou art; the Holy One of God.

35     And Jesus rebuked him, saying, Hold thy peace, and come out of him. And when the devil had thrown him in the midst, he came out of him, and hurt him not.

36     And they were all amazed, and spake among themselves, saying, What a word is this! for with authority and power he commandeth the unclean spirits, and they come out.

5۔ متی 12 باب22تا28 آیات

22۔اْس وقت لوگ اْس کے پاس ایک اندھے گونگے کو لائے جس میں بد روح تھی۔ اْس نے اْسے اچھا کر دیا، چنانچہ وہ گونگاہ بولنے اور دیکھنے لگا۔

23۔ اور ساری بھیڑ حیران ہو کر کہنے لگی کیا یہ ابنِ داؤد ہے؟

24۔ فریسیوں نے سْن کر کہا کیا یہ بدوحوں کے سردار بعلزبول کی مدد کے بغیر بدروحوں کو نہیں نکالتا۔

25۔ اْس نے اْن کے خیالوں کو جان کراْن سے کہا جس بادشاہی میں پھوٹ پڑتی ہے وہ ویران ہو جاتی ہے اور جس شہر یا گھر میں پھوٹ پڑے گی وہ قائم نہ رہے گا۔

26۔ اور اگر شیطان ہی نے شیطان کو نکالا تو وہ آپ اپنا مخالف ہو گیا۔ پھر اْس کی بادشاہی کیونکر قائم رہے گی؟

27۔ اور اگر میں بعلزبول کی مدد سے بدروحوں کو نکالتا ہوں تو تمہارے بیٹے کس کی مدد سے نکالتے ہیں؟ پس وہی تمہارے مْنصف ہوں گے۔

28۔ لیکن اگر میں خدا کی روح کی مدد سے روحیں نکالتا ہوں تو خدا کی بادشای تمہارے پاس آ پہنچی۔

5. Matthew 12 : 22-28

22     Then was brought unto him one possessed with a devil, blind, and dumb: and he healed him, insomuch that the blind and dumb both spake and saw.

23     And all the people were amazed, and said, Is not this the son of David?

24     But when the Pharisees heard it, they said, This fellow doth not cast out devils, but by Beelzebub the prince of the devils.

25     And Jesus knew their thoughts, and said unto them, Every kingdom divided against itself is brought to desolation; and every city or house divided against itself shall not stand:

26     And if Satan cast out Satan, he is divided against himself; how shall then his kingdom stand?

27     And if I by Beelzebub cast out devils, by whom do your children cast them out? therefore they shall be your judges.

28     But if I cast out devils by the Spirit of God, then the kingdom of God is come unto you.

6۔ یوحنا 6 باب63 آیت

63۔ زندہ کرنے والی تو روح ہے۔ جسم سے کچھ فائدہ نہیں۔ جو باتیں مَیں نے تم سے کہی ہیں وہ روح ہیں اور زندگی بھی ہیں۔

6. John 6 : 63

63     It is the spirit that quickeneth; the flesh profiteth nothing: the words that I speak unto you, they are spirit, and they are life.

7۔ 2 کرنتھیوں 3باب4تا6، 17، 18 آیات

4۔ ہم مسیح کی معرفت خدا پر ایسا ہی بھروسہ رکھتے ہیں۔

5۔ یہ نہیں کہ بذاتِ خود ہم اِس لائق ہیں کہ اپنی طرف سے کچھ خیال بھی کر سکیں بلکہ ہماری لیاقت خدا کی طرف سے ہے۔

6۔ جس نے ہم کو نئے عہد کے خادم ہونے کے لائق بھی کیا۔ لفظوں کے خادم نہیں بلکہ روح کے کیونکہ لفظ مار ڈالتے ہیں مگر روح زندہ کرتی ہے۔

17۔ اور وہ خداوند روح ہے اور جہاں کہیں خداوند کا روح ہے وہاں آزادی ہے۔

18۔ مگر جب ہم سب کے بے گناہ چہروں سے خداوند کا جلال اِس طرح منعکس ہوتا ہے جس طرح آئینے میں تو اْس خداوند کے وسیلہ سے جو روح ہے ہم اْسی جلالی صورت میں درجہ بدرجہ بدلتے جاتے ہیں۔

7. II Corinthians 3 : 4-6, 17, 18

4     And such trust have we through Christ to God-ward:

5     Not that we are sufficient of ourselves to think any thing as of ourselves; but our sufficiency is of God;

6     Who also hath made us able ministers of the new testament; not of the letter, but of the spirit: for the letter killeth, but the spirit giveth life.

17     Now the Lord is that Spirit: and where the Spirit of the Lord is, there is liberty.

18     But we all, with open face beholding as in a glass the glory of the Lord, are changed into the same image from glory to glory, even as by the Spirit of the Lord.

8۔ 2 کرنتھیوں 5 باب1تا8 آیات

1۔ کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ جب ہمارا خیمہ کا گھر جو زمین پر ہے گرایا جائے گا تو ہم کو خدا کی طرف سے آسمان پر ایک ایسی عمارت ملے گی جو ہاتھ کا بنا ہوا گھر نہیں بلکہ ابدی ہے۔

2۔ چنانچہ ہم اس میں کراہتے ہیں اور بڑی آرزو رکھتے ہیں کہ اپنے آسمانی گھر سے ملبس ہو جائیں۔

3۔ تاکہ ملبس ہونے کے باعث ننگے نہ پائے جائیں۔

4۔ کیونکہ ہم اس خیمہ میں رہ کر بوجھ کے مارے کراہتے ہیں۔ اس لئے نہیں کہ یہ لباس اتارنا چاہتے ہیں بلکہ اس پر اور پہننا چاہتے ہیں تاکہ وہ جو فانی ہے زندگی میں غرق ہو جائے۔

5۔ اور جس نے ہم کو اِس بات کے لئے تیار کیا وہ خدا ہے اور اسی نے ہمیں روح بیعانہ میں دیا۔

6۔ پس ہمیشہ ہماری خاطر جمع رہتی ہے اور یہ جانتے ہیں کہ جب تک ہم بدن کے وطن میں ہیں خداوند کے ہاں سے جلاوطن ہیں۔

7۔ (کیونکہ ہم ایمان پر چلتے ہیں نہ کہ آنکھوں دیکھے پر۔)

8۔ غرض ہماری خاطر جمع ہے اور ہم کو بدن کے وطن سے جدا ہوکر خداوند کے وطن میں رہنا زیادہ منظور ہے۔

8. II Corinthians 5 : 1-8

1     For we know that if our earthly house of this tabernacle were dissolved, we have a building of God, an house not made with hands, eternal in the heavens.

2     For in this we groan, earnestly desiring to be clothed upon with our house which is from heaven:

3     If so be that being clothed we shall not be found naked.

4     For we that are in this tabernacle do groan, being burdened: not for that we would be unclothed, but clothed upon, that mortality might be swallowed up of life.

5     Now he that hath wrought us for the selfsame thing is God, who also hath given unto us the earnest of the Spirit.

6     Therefore we are always confident, knowing that, whilst we are at home in the body, we are absent from the Lord:

7     (For we walk by faith, not by sight:)

8     We are confident, I say, and willing rather to be absent from the body, and to be present with the Lord.

9۔ رومیوں 8 باب1تا6، 16، 17 (تا دوسرا؛) آیات

1۔ پس اب جو مسیح یسوع میں ہیں اُن پر سزا کا حکم نہیں۔ جو جسم کے مطابق نہیں بلکہ روح کے مطابق چلتے ہیں۔

2۔ کیونکہ زندگی کے روح کی شریعت نے مسیح یسوع میں مجھے گناہ اورموت کی شریعت سے آزاد کردیا۔

3۔اس لئے کہ جو کام شریعت جسم کے سبب سے کمزور ہو کر نہ کر سکی وہ خدا نے کیا یعنی اْس نے اپنے بیٹے کو گناہ آلود جسم کی صورت میں اور گناہ کی قربانی کے لئے بھیج کر جسم میں گناہ کی سزا کا حکم دیا۔

4۔تاکہ شریعت کا تقاضا ہم میں پورا ہو جو جسم کے مطابق نہیں بلکہ روح کے مطابق چلتے ہیں۔

5۔کیونکہ جو جسمانی ہیں وہ جسمانی باتوں کے خیال میں رہتے ہیں لیکن جو روحانی ہیں وہ روحانی باتوں کے خیال میں رہتے ہیں۔

6۔اور جسمانی نیت موت ہے مگر روحانی نیت زندگی اور اطمینان ہے۔

16۔ روح خود ہماری روح کے ساتھ مل کر گواہی دیتا ہے کہ ہم خدا کے فرزند ہیں۔

17۔ اور اگر فرزند ہیں تو وارِث بھی ہیں یعنی خدا کے وارث اور مسیح کے ہم میراث۔

9. Romans 8 : 1-6, 16, 17 (to 2nd ;)

1     There is therefore now no condemnation to them which are in Christ Jesus, who walk not after the flesh, but after the Spirit.

2     For the law of the Spirit of life in Christ Jesus hath made me free from the law of sin and death.

3     For what the law could not do, in that it was weak through the flesh, God sending his own Son in the likeness of sinful flesh, and for sin, condemned sin in the flesh:

4     That the righteousness of the law might be fulfilled in us, who walk not after the flesh, but after the Spirit.

5     For they that are after the flesh do mind the things of the flesh; but they that are after the Spirit the things of the Spirit.

6     For to be carnally minded is death; but to be spiritually minded is life and peace.

16     The Spirit itself beareth witness with our spirit, that we are the children of God:

17     And if children, then heirs; heirs of God, and joint-heirs with Christ;



سائنس اور صح


1۔ 335 :12۔15

روح ہی واحد مواد ہے، یعنی دیدہ اور نادیدہ لامحدود خدا۔ روحانی اور ابدی سب چیزیں حقیقی ہیں۔ مادی اور عارضی چیزیں غیر مادی ہیں۔

1. 335 : 12-15

Spirit is the only substance, the invisible and indivisible infinite God. Things spiritual and eternal are substantial. Things material and temporal are insubstantial.

2۔ 468 :11۔12 (تا؛)12۔13 (تا؛)13۔15

روح لافانی سچائی ہے؛۔۔۔ روح ابدی اور حقیقی ہے؛۔۔۔ روح خدا ہے اور انسان اْس کہ صورت اور شبیہ۔ اس لئے انسان مادی نہیں بلکہ وہ روحانی ہے۔

2. 468 : 11-12 (to ;), 12-13 (to ;), 13-15

Spirit is immortal Truth; … Spirit is the real and eternal; … Spirit is God, and man is His image and likeness. Therefore man is not material; he is spiritual.

3۔ 481 :2۔9

انسان خدا، روح کا معاون ہے اور کسی کا نہیں۔ خدا کا ہونا لامتناہی، آزادی، ہم آہنگی اور بے پناہ فرحت کا ہونا ہے۔ ”جہاں کہیں خداوند کا روح ہے وہاں آزادی ہے۔“ یور کے آرچ کاہن کی مانند، انسان ”پاک ترین مقام میں داخل ہونے“ کے لئے آزاد ہے، یعنی خدا کی سلطنت میں۔

مادی فہم روح، خدا کو سمجھنے میں بشر کی کبھی مدد نہیں کرتا۔ صرف روحانی فہم کے وسیلہ انسان خدائی کو سمجھتا اوراْس سے محبت کرتا ہے۔

3. 481 : 2-9

Man is tributary to God, Spirit, and to nothing else. God's being is infinity, freedom, harmony, and boundless bliss. "Where the Spirit of the Lord is, there is liberty." Like the archpriests of yore, man is free "to enter into the holiest," — the realm of God.

Material sense never helps mortals to understand Spirit, God. Through spiritual sense only, man comprehends and loves Deity.

4۔ 505 :16۔17، 20۔28

روح اْس فہم سے آگاہ کرتی ہے جو شعور کو بلند کرتا اور سچائی کی جانب راہنمائی دیتا ہے۔۔۔۔روحانی حس روحانی نیکی کا شعور ہے۔ فہم حقیقی اورغیر حقیقی کے مابین حد بندی کی لکیر ہے۔ روحانی فہم عقل -یعنی زندگی، سچائی اور محبت، کو کھولتا ہے اور الٰہی حس کو، کرسچن سائنس میں کائنات کا روحانی ثبوت فراہم کرتے ہوئے، ظاہر کرتا ہے۔

یہ فہم شعوری نہیں ہے،محققانہ حاصلات کا نتیجہ نہیں ہے؛ یہ نور میں لائی گئی سب چیزوں کی حقیقت ہے۔

4. 505 : 16-17, 20-28

Spirit imparts the understanding which uplifts consciousness and leads into all truth. … Spiritual sense is the discernment of spiritual good. Understanding is the line of demarcation between the real and unreal. Spiritual understanding unfolds Mind, — Life, Truth, and Love, — and demonstrates the divine sense, giving the spiritual proof of the universe in Christian Science.

This understanding is not intellectual, is not the result of scholarly attainments; it is the reality of all things brought to light.

5۔ 312 :31۔1 (تا پہلا)

یسوع کے روحانی اصل اوراْس کی طرف سے الٰہی اصول کے اظہار نے اْسے سائنس میں فرزندگی کا رتبہ بخشا اور بھر پور طریقے سے بخشا۔

5. 312 : 31-1 (to 1st .)

Jesus' spiritual origin and his demonstration of divine Principle richly endowed him and entitled him to sonship in Science.

6۔ 315 :11۔24، 29۔2

لوگوں کے مخالف اور جھوٹے نظریات نے مسیح کی خدا کے ساتھ فرزندگی کو اْن کے فہم سے چھپائے رکھا۔ وہ اْس کی روحانی وجودیت کا شعور نہ پا سکے۔ اْن کے جسمانی ذہن اِس کے ساتھ عداوت رکھتے تھے۔ اْن کے خیالات خدا کے اْس روحانی نظریے کی بجائے جسے مسیح یسوع نے پیش کیا فانی غلطی سے بھر پور تھے۔ خدا کی شبیہ جسے ہم گناہ کی بدولت نظر انداز کر دیتے ہیں، جو سچائی کے روحانی فہم پر پردہ ڈالتی ہے، اور ہم اِس شبیہ کو صرف تبھی سمجھتے ہیں جب ہم گناہ کے زیر اثر ہوتے ہیں اور اِسے انسان کی وراثت ثابت کرتے ہیں، یعنی خدا کے فرزندوں کی آزادی مانتے ہیں۔

یسوع کے روحانی اصل اور سمجھ نے اْسے ہستی کے حقائق کو ظاہر کرنے کے، ناقابلِ تردید طور پر یہ ثابت کرنے کے قابل بنایا کہ کیسے روحانی سچائی مادی غلطی کو تباہ کرتی، بیماری کو ٹھیک کرتی اور موت پر فتح پاتی ہے۔

انسانی شبیہ اپناتے ہوئے (یعنی جیسا کہ فانی نظر کو دکھائی دیتا ہے)، انسانی ماں کے پیٹ میں حمل لیتے ہوئے، یسوع روح اور جسم کے مابین، سچائی اور غلطی کے مابین درمیانی تھا۔ الٰہی سائنس کی راہ کو واضح کرتے اور ظاہر کرتے ہوئے، وہ اْن سب کے لئے نجات کی راہ بن گیا جنہوں نے اْس کے کلام کو قبول کیا۔

6. 315 : 11-24, 29-2

The opposite and false views of the people hid from their sense Christ's sonship with God. They could not discern his spiritual existence. Their carnal minds were at enmity with it. Their thoughts were filled with mortal error, instead of with God's spiritual idea as presented by Christ Jesus. The likeness of God we lose sight of through sin, which beclouds the spiritual sense of Truth; and we realize this likeness only when we subdue sin and prove man's heritage, the liberty of the sons of God.

Jesus' spiritual origin and understanding enabled him to demonstrate the facts of being, — to prove irrefutably how spiritual Truth destroys material error, heals sickness, and overcomes death.

Wearing in part a human form (that is, as it seemed to mortal view), being conceived by a human mother, Jesus was the mediator between Spirit and the flesh, between Truth and error. Explaining and demonstrating the way of divine Science, he became the way of salvation to all who accepted his word.

7۔ 146 :2۔12

قدیم مسیحی معالج تھے۔مسیحت کا یہ عنصر کھو کیوں گیا ہے؟ کیونکہ ہمارا مذہبی نظام کم و بیش ہمارے طبی نظاموں کے زیر اطاعت ہوگیا ہے۔ پہلی بت پرستی مادے پر یقین تھا۔سکولوں نے خدائی پر ایمان کی بجائے، منشیات کے فیشن پر ایمان کو فروغ دیا ہے۔ مادے کے اپنے ہی مخالف کو تباہ کرنے کا یقین رکھتے ہوئے، صحت اور ہم آہنگی کو قربان کر دیا گیا ہے۔ اس قسم کے نظام روحانی قوت کی وحدت سے بنجر ہوتے ہیں، جس کے باعث مادی فہم سائنس کا غلام بنایا جاتا ہے اور مذہب مسیح کی مانند بن جاتا ہے۔

7. 146 : 2-12

The ancient Christians were healers. Why has this element of Christianity been lost? Because our systems of religion are governed more or less by our systems of medicine. The first idolatry was faith in matter. The schools have rendered faith in drugs the fashion, rather than faith in Deity. By trusting matter to destroy its own discord, health and harmony have been sacrificed. Such systems are barren of the vitality of spiritual power, by which material sense is made the servant of Science and religion becomes Christlike.

8۔ 97 :17۔20

جتنا زیادہ عقیدہ مادی ہوگا، اتنا ہی واضح اِس کی غلطی ہوگی، جب تک کہ الٰہی روح، اپنی سلطنت میں اعلیٰ ترین، سارے مادے پر غالب نہیں آتی، اور انسان روح کی شبیہ، اپنی اصل ہستی، میں نہیں پایا جاتا۔

8. 97 : 17-20

The more material the belief, the more obvious its error, until divine Spirit, supreme in its domain, dominates all matter, and man is found in the likeness of Spirit, his original being.

9۔ 490 :19۔27

”روح کو نہ بجھاؤ۔ نبوتوں کی حقارت نہ کرو۔“نام نہاد مادی حواس سے حاصل ہونے والا انسانی عقیدہ یا علم، جائز منطق کے وسیلہ، انسان کو مٹی کے حل ہونے والے عناصر کے ہمراہ نیست کر دے گا۔انسان کے اصل اور فطرت سے متعلق سائنسی طور پر مسیحی وضاحتیں سارے مادی فہم کو لافانی گواہی کے ساتھ تباہ کرتی ہیں۔یہ لافانی گواہی ہستی کے روحانی فہم میں شروع ہوتی ہے، جو دوسرے طریقے سے حاصل کیا جاسکتا ہے۔

9. 490 : 19-27

"Quench not the Spirit. Despise not prophesyings." Human belief — or knowledge gained from the so-called material senses — would, by fair logic, annihilate man along with the dissolving elements of clay. The scientifically Christian explanations of the nature and origin of man destroy all material sense with immortal testimony. This immortal testimony ushers in the spiritual sense of being, which can be obtained in no other way.

10۔ 7: 18۔21

اگر روحانی فہم نے ہمیشہ انسان کی راہنمائی کی ہوتی، تو یہاں پْر جوش لمحات کی، ایک بڑے تجربے کی اور مزید خود ایثاری اور پاکیزگی کے ساتھ ایک بہتر زندگی کی شروعات ہوتی۔

10. 7 : 18-21

If spiritual sense always guided men, there would grow out of ecstatic moments a higher experience and a better life with more devout self-abnegation and purity.

11۔ 14 :1۔11

اگر ہم صحیح طور پر جسم کے ساتھ ہیں اور قادر مطلق کو بطور جسم، مادی شخص دیکھتے ہیں، جس کے ہم کان حاصل کریں گے، تو ہم روح کے اظہار کے لئے ”بدن سے جْدا“ اور ”خداوند میں موجود“ نہیں ہیں۔ ہم ”دو مالکوں کی غلامی“ نہیں کر سکتے۔ ”خداوند کے وطن“ میں رہنا محض جذباتی خوشی یا ایمان رکھنا نہیں بلکہ زندگی کا اصل اظہار اور سمجھ رکھنا ہے جیسا کہ کرسچن سائنس میں ظاہر کیا گیا ہے۔ ”خداوند کے وطن“ میں رہنا خدا کی شریعت کا فرمانبردار ہونا، مکمل طور پر الٰہی محبت کی، روح کی نہ کہ مادے کی،حکمرانی میں رہنا ہے۔

11. 14 : 1-11

If we are sensibly with the body and regard omnipotence as a corporeal, material person, whose ear we would gain, we are not "absent from the body" and "present with the Lord" in the demonstration of Spirit. We cannot "serve two masters." To be "present with the Lord" is to have, not mere emotional ecstasy or faith, but the actual demonstration and understanding of Life as revealed in Christian Science. To be "with the Lord" is to be in obedience to the law of God, to be absolutely governed by divine Love, — by Spirit, not by matter.

12۔ 96 :4۔11 (تا دوسرا)

محبت بالاآخر ہم آہنگی کا وقت مقرر کرے گی، اور روحانیت اِس کی پیروی کرے گی، کیونکہ محبت روح ہے۔غلطی کے مکمل تباہ ہونے سے قبل عام مادی معمول کی مداخلتیں ہوں گی۔ زمین بے لْطف اور ویران ہو جائے گی، مگرموسمِ گرما اور سرما، تخم ریزی اور کاشت (البتہ بدلتے حالات میں)، آخر تک جاری رہیں گے، جب تک سب چیزیں کی روحانیت نہ ہو جائے۔”تاریک گھڑی فجرسے پہلے ہوتی ہے۔“

12. 96 : 4-11 (to 2nd .)

Love will finally mark the hour of harmony, and spiritualization will follow, for Love is Spirit. Before error is wholly destroyed, there will be interruptions of the general material routine. Earth will become dreary and desolate, but summer and winter, seedtime and harvest (though in changed forms), will continue unto the end, — until the final spiritualization of all things. "The darkest hour precedes the dawn."

13۔ 14 :12۔30

ایک لمحے کے لئے ہوش کریں کہ زندگی اور ذہانت خالصتاً روحانی ہیں، نہ مادے میں نہ مادے سے، اورپھر بدن کو کوئی شکایت نہیں ہوگی۔ اگر بیماری پر ایک عقیدے کی بدولت تکلیف میں ہیں تو اچانک آپ خود کو ٹھیک پائیں گے۔جب جسم پر روحانی زندگی، سچائی اور محبت کا پہرہ ہو گا تو دْکھ خوشی میں بدل جائیں گے۔لہٰذہ اْس وعدے کی امید جو یسوع دلاتا ہے: ”جو مجھ پر ایمان رکھتا ہے یہ کام جو مَیں کرتا ہوں وہ بھی کرے گا؛۔۔۔کیونکہ مَیں باپ کے پاس جاتا ہوں،“ ]کیونکہ انا بدن سے غائب ہو چکی اور اْس میں سچائی اور محبت آ موجود ہوتی ہے۔[ دعائے ربانی روح کی دعا ہے نہ کہ مادی فہم کی۔

مادی زندگی کے عقیدے اور خواب سے مکمل طور پر منفرد، الٰہی زندگی ہے، جو روحانی فہم اور ساری زمین پر انسان کی حکمرانی کے شعور کو ظاہرکرتی ہے۔یہ فہم غلطی کو باہر نکالتا اور بیمار کو شفا دیتا ہے، اوراِس کے ساتھ آپ ”صاحب اختیار کی مانند“ بات کر سکتے ہیں۔

13. 14 : 12-30

Become conscious for a single moment that Life and intelligence are purely spiritual, — neither in nor of matter, — and the body will then utter no complaints. If suffering from a belief in sickness, you will find yourself suddenly well. Sorrow is turned into joy when the body is controlled by spiritual Life, Truth, and Love. Hence the hope of the promise Jesus bestows: "He that believeth on me, the works that I do shall he do also; … because I go unto my Father," — [because the Ego is absent from the body, and present with Truth and Love.] The Lord's Prayer is the prayer of Soul, not of material sense.

Entirely separate from the belief and dream of material living, is the Life divine, revealing spiritual understanding and the consciousness of man's dominion over the whole earth. This understanding casts out error and heals the sick, and with it you can speak "as one having authority."


روز مرہ کے فرائ

منجاب میری بیکر ایڈ

روز مرہ کی دعا

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ ہر روز یہ دعا کرے: ’’تیری بادشاہی آئے؛‘‘ الٰہی حق، زندگی اور محبت کی سلطنت مجھ میں قائم ہو، اور سب گناہ مجھ سے خارج ہو جائیں؛ اور تیرا کلام سب انسانوں کی محبت کو وافر کرے، اور اْن پر حکومت کرے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 4۔

مقاصد اور اعمال کا ایک اصول

نہ کوئی مخالفت نہ ہی کوئی محض ذاتی وابستگی مادری چرچ کے کسی رکن کے مقاصد یا اعمال پر اثر انداز نہیں ہونی چاہئے۔ سائنس میں، صرف الٰہی محبت حکومت کرتی ہے، اور ایک مسیحی سائنسدان گناہ کو رد کرنے سے، حقیقی بھائی چارے ، خیرات پسندی اور معافی سے محبت کی شیریں آسائشوں کی عکاسی کرتا ہے۔ اس چرچ کے تمام اراکین کو سب گناہوں سے، غلط قسم کی پیشن گوئیوں،منصفیوں، مذمتوں، اصلاحوں، غلط تاثر ات کو لینے اور غلط متاثر ہونے سے آزاد رہنے کے لئے روزانہ خیال رکھنا چاہئے اور دعا کرنی چاہئے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 1۔

فرض کے لئے چوکس

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ وہ ہر روز جارحانہ ذہنی آراء کے خلاف خود کو تیار رکھے، اور خدا اور اپنے قائد اور انسانوں کے لئے اپنے فرائض کو نہ کبھی بھولے اور نہ کبھی نظر انداز کرے۔ اس کے کاموں کے باعث اس کا انصاف ہوگا، وہ بے قصور یا قصوارہوگا۔ 

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 6۔


████████████████████████████████████████████████████████████████████████