اتوار 7 جون، 2020 |

اتوار 7 جون، 2020



مضمون۔ خدا واحد وجہ اور خالق

SubjectGod the only Cause and Creator

سنہری متن:سنہری متن: امثال3 باب 19آیت

’’خداوند نے حکمت سے زمین کی بنیاد ڈالی اور فہم سے آسمان کو قائم کیا۔‘‘



Golden Text: Proverbs 3 : 19

The Lord by wisdom hath founded the earth; by understanding hath he established the heavens.





سبق کی آڈیو کے لئے یہاں کلک کریں

یوٹیوب سے سننے کے لئے یہاں کلک کریں

████████████████████████████████████████████████████████████████████████


جوابی مطالعہ: زبور 95: 1تا6 آیات


1۔ آؤ ہم خداوند کے حضور نغمہ سرائی کریں! اپنی چٹان کے سامنے خوشی سے للکاریں۔

2۔ شکر کرتے ہوئے اْس کے حضور حاضر ہوں۔مزمور گاتے ہوئے اْس کے آگے خوشی سے للکاریں۔

3۔ کیونکہ خداوند خدائے عظیم ہے۔ اور سب الہٰوں پر شاہ عظیم ہے۔

4۔ زمین کے گہراؤ اْس کے قبضہ میں ہیں پہاڑوں کی چوٹیاں بھی اْسی کی ہیں۔

5۔ سمندر اْس کا ہے۔ اْسی نے اْس کو بنایا۔ اور اْس کے ہاتھوں نے خشکی کو بھی تیار کیا۔

6۔ آؤ ہم جھکیں اور سجدہ کریں! اور اپنے خالق ِخداوند کے حضور گھٹنے ٹیکیں۔

Responsive Reading: Psalm 95 : 1-6

1.     O come, let us sing unto the Lord: let us make a joyful noise to the rock of our salvation.

2.     Let us come before his presence with thanksgiving, and make a joyful noise unto him with psalms.

3.     For the Lord is a great God, and a great King above all gods.

4.     In his hand are the deep places of the earth: the strength of the hills is his also.

5.     The sea is his, and he made it: and his hands formed the dry land.

6.     O come, let us worship and bow down: let us kneel before the Lord our maker.



درسی وعظ



بائبل


درسی وعظ

بائبل

1۔ پیدائش 1باب 1، 26، 27، 31 (تا پہلا۔)آیات

1۔ خدا نے ابتدا میں زمین وآسمان کو پیدا کیا۔

26۔ پھر خدا نے کہا ہم انسان کو اپنی صورت پر اپنی شبیہ کی مانند بنائیں اور وہ سمندر کی مچھلیوں اور آسمان کے پرندوں اور چوپاؤں اور تمام زمین اور سب جانداروں پر جو زمین پر رینگتے ہیں اختیار رکھیں۔

27۔ اور خدا نے انسان کو اپنی صورت پر پیدا کیا۔ اور خدا کی صورت پر اْس کو پیدا کیا۔ نر و ناری اْن کو پیدا کیا۔

31۔ اور خدا نے سب پر جو اْس نے بنایا تھا نظر کی اور دیکھا کہ بہت اچھا ہے۔

1. Genesis 1 : 1, 26, 27, 31 (to 1st .)

1     In the beginning God created the heaven and the earth.

26     And God said, Let us make man in our image, after our likeness: and let them have dominion over the fish of the sea, and over the fowl of the air, and over the cattle, and over all the earth, and over every creeping thing that creepeth upon the earth.

27     So God created man in his own image, in the image of God created he him; male and female created he them.

31     And God saw every thing that he had made, and, behold, it was very good.

2۔ یسعیاہ 45 باب 5، 8، 12، 18 آیات

5۔ مَیں ہی خداوند ہو ں اور کوئی نہیں میرے سوا کوئی خدا نہیں۔ مَیں نے تیری کمر باندھی اگر چہ تْونے مجھے نہ پہچانا۔

8۔ اے آسمان! اوپر سے ٹپک پڑ! بادل راستبازی برسائیں۔ زمین کھل جائے اور نجات اور صداقت کا پھل لائے۔ وہ اْن کو اکٹھے اگائے۔ مَیں خداوند اْس کا پیدا کرنے والا ہوں۔

12۔مَیں نے زمین بنائی اْس پر انسان کو پیدا کیا اور مَیں ہی نے آسمان کو تانا اور اْس کے سب لشکروں پر مَیں نے حکم کیا۔

18۔ کیونکہ خداوند جس نے آسمان پیدا کئے وہی خدا ہے۔ اْسی نے زمین بنائی اور تیار کی اْسی نے اْسے قائم کیا اْس نے اْسے عبث پیدا نہیں کیا بلکہ اْس کو آبادی کے لئے آراستہ کیا۔ وہ یوں فرماتا ہے کہ میں خدا ہوں اور میرے سوا کوئی نہیں۔

2. Isaiah 45 : 5, 8, 12, 18

5     I am the Lord, and there is none else, there is no God beside me: I girded thee, though thou hast not known me:

8     Drop down, ye heavens, from above, and let the skies pour down righteousness: let the earth open, and let them bring forth salvation, and let righteousness spring up together; I the Lord have created it.

12     I have made the earth, and created man upon it: I, even my hands, have stretched out the heavens, and all their host have I commanded.

18     For thus saith the Lord that created the heavens; God himself that formed the earth and made it; he hath established it, he created it not in vain, he formed it to be inhabited: I am the Lord; and there is none else.

3۔ ہوسیع 11باب1 آیت

1۔ جب اسرائیل ابھی بچہ ہی تھا مَیں نے اْس سے محبت رکھی اور اپنے بیٹے کو مصر سے بلایا۔

3. Hosea 11 : 1

1     When Israel was a child, then I loved him, and called my son out of Egypt.

4۔ خروج 12باب40 آیت

40۔ اور بنی اسرائیل کو مصر میں بودوباش کرتے ہوئے چار سو تیس برس ہوئے تھے۔

4. Exodus 12 : 40

40     Now the sojourning of the children of Israel, who dwelt in Egypt, was four hundred and thirty years.

5۔ خروج 13باب 3 (موسیٰ) (تا)، 18 (خدا)، 21 آیات

3۔اور موسیٰ نے لوگوں سے کہا کہ تم اِس دن کو یاد رکھنا جس میں تم مصر سے جو غلامی کا گھر ہے نکلے کیونکہ خداوند اپنے زورِ بازو سے تمہیں وہاں سے نکال لایا۔

18۔بلکہ خدا اْن کو چکر کھلا کر بحرِ قلزم کے بیابان کے راستہ سے لے گیا اور بنی اسرائیل ملک مصر سے مسلح نکلے تھے۔

21۔اور خداوند اْن کو دن کو راستہ دکھانے کے لئے ستون میں اور رات کو روشنی دینے کے لئے آگ کے ستون میں ہو کر اْن کے آگے چلا کرتا تھا تاکہ وہ دن اور رات دونوں چل سکیں۔

5. Exodus 13 : 3 (Moses) (to :), 18 (God), 21

3     Moses said unto the people, Remember this day, in which ye came out from Egypt, out of the house of bondage; for by strength of hand the Lord brought you out from this place:

18     God led the people about, through the way of the wilderness of the Red sea: and the children of Israel went up harnessed out of the land of Egypt.

21     And the Lord went before them by day in a pillar of a cloud, to lead them the way; and by night in a pillar of fire, to give them light; to go by day and night:

6۔ خروج 14 باب1، 4 (میں)، 5، 7، 8، 10، 13، 21 تا23، 26، 28 تا 31 آیات

1۔ اور خداوند نے موسیٰ سے فرمایا۔

4۔اورمَیں فرعون کے دل کو سخت کروں گااور وہ اْن کا پیچھا کرے گااور مَیں فرعون اور اْس کے سارے لشکرپر ممتاز ہوں گا اور مصری جان لیں گے کہ خداوند مَیں ہوں اور اْنہوں نے ایسا ہی کیا۔

5۔جب مصر کے بادشاہ کو خبر ملی کہ وہ لوگ چل دئیے تو فرعون اور اْس کے خادموں کا دل اْن لوگوں کی طرف سے پھر گیا اور وہ کہنے لگے کہ ہم نے یہ کیا کِیا کہ اسرائیلیوں کو اپنی خدمت سے چھٹی دے کراْن کو جانے دیا۔

7۔ اور اْس نے چھ سو چنے ہوئے رتھ بلکہ مصر کے سب رتھ لئے اور اْن سبھوں میں سرداروں کو بٹھایا۔

8۔ اور خداوند نے مصر کے بادشاہ فرعون کا دل سخت کر دیا اور اْس نے بنی اسرائیل کا پیچھا کیا کیونکہ بنی اسرائیل بڑے فخر سے نکلے تھے۔

10۔اور جب فرعون نزدیک آگیا تب بنی اسرائیل نے آنکھ اْٹھا کر دیکھا کہ مصری اْن کا پیچھا کئے چلے آتے ہیں اور وہ نہایت خوف زدہ ہوگئے تب بنی اسرائیل نے خداوند سے فریاد کی۔

13۔ تب موسیٰ نے لوگوں سے کہاڈرو مت چپ چاپ کھڑے ہو کر خداوند کی نجات کے کام کو دیکھو جو وہ آج تمہارے لئے کرے گا کیونکہ جن مصریوں کو آج تم لوگ دیکھتے ہو اْن کو پھر کبھی ابد تک نہ دیکھو گے۔

21۔ پھر موسیٰ نے اپنا ہاتھ سمندر کے اوپر بڑھایا اور خداوند نے رات بھر تْند پوربی آندھی چلاکر اور سمندر کو پیچھے ہٹا کر اْسے خشک زمین بنا دیا اور پانی دو حصے ہو گیا۔

22۔ اور بنی اسرائیل سمندر کے بیچ میں سے خشک زمین پر چل کر نکل گئے اور اْن کے دہنے اور بائیں ہاتھ پانی دیوار کی طرح تھا۔

23۔ اور مصریوں نے تعاقب کیا اور فرعون کے سب گھوڑے اور رتھ سوار اْن کے پیچھے پیچھے سمندر کے بیچ میں چلے گئے۔

26۔ اور خداوند نے موسیٰ سے کہا کہ اپنا ہاتھ سمندر کے اوپر بڑھا تاکہ پانی مصریوں اور اْن کے رتھوں اور سواروں پر پھر بہنے لگے۔

28۔ اور پانی پلٹ کر آیا اور اْس نے رتھوں اور سواروں اور فرعون کے سارے لشکر کو جو اسرائیلیوں کا پیچھا کرتا ہوا سمندر میں گیا تھا غرق کر دیا اور ایک بھی اْن میں سے نہ چھوٹا۔

29۔ پر بنی اسرائیل سمندر کے بیچ میں سے خشک زمین پر چل کر نکل گئے اور پانی اْن کے دہنے اور بائیں ہاتھ پر دیوار کی طرح تھا۔

30۔ سو خداوند نے اْس دن اسرائیلیوں کو مصریوں کے ہاتھ سے اِس طرح بچایا اور اسرائیلیوں نے مصریوں کو سمندر کے کنارے مرے ہوئے پڑے دیکھا۔

31۔ اور اسرائیلیوں نے وہ بڑی قدرت جو خداوند نے مصریوں پر ظاہر کی دیکھی اور وہ لوگ خداوندسے ڈرے اور خداوند پراور اْس کے بندے موسیٰ پر ایمان لائے۔

6. Exodus 14 : 1, 4 (I), 5, 7, 8, 10, 13, 21-23, 26, 28-31

1     And the Lord spake unto Moses, saying,

4     I will harden Pharaoh’s heart, that he shall follow after them; and I will be honoured upon Pharaoh, and upon all his host; that the Egyptians may know that I am the Lord. And they did so.

5     And it was told the king of Egypt that the people fled: and the heart of Pharaoh and of his servants was turned against the people, and they said, Why have we done this, that we have let Israel go from serving us?

7     And he took six hundred chosen chariots, and all the chariots of Egypt, and captains over every one of them.

8     And the Lord hardened the heart of Pharaoh king of Egypt, and he pursued after the children of Israel: and the children of Israel went out with an high hand.

10     And when Pharaoh drew nigh, the children of Israel lifted up their eyes, and, behold, the Egyptians marched after them; and they were sore afraid: and the children of Israel cried out unto the Lord.

13     And Moses said unto the people, Fear ye not, stand still, and see the salvation of the Lord, which he will shew to you to day: for the Egyptians whom ye have seen to day, ye shall see them again no more for ever.

21     And Moses stretched out his hand over the sea; and the Lord caused the sea to go back by a strong east wind all that night, and made the sea dry land, and the waters were divided.

22     And the children of Israel went into the midst of the sea upon the dry ground: and the waters were a wall unto them on their right hand, and on their left.

23     And the Egyptians pursued, and went in after them to the midst of the sea, even all Pharaoh’s horses, his chariots, and his horsemen.

26     And the Lord said unto Moses, Stretch out thine hand over the sea, that the waters may come again upon the Egyptians, upon their chariots, and upon their horsemen.

28     And the waters returned, and covered the chariots, and the horsemen, and all the host of Pharaoh that came into the sea after them; there remained not so much as one of them.

29     But the children of Israel walked upon dry land in the midst of the sea; and the waters were a wall unto them on their right hand, and on their left.

30     Thus the Lord saved Israel that day out of the hand of the Egyptians; and Israel saw the Egyptians dead upon the sea shore.

31     And Israel saw that great work which the Lord did upon the Egyptians: and the people feared the Lord, and believed the Lord, and his servant Moses.

7۔ ہوسیع 1باب10 (دی) آیت

10۔۔۔۔اسرائیل دریا کی ریت کی مانند بیشمار و بے قیاس ہوں گے اور جہاں اْن سے یہ کہا جاتا تھا کہ تم میرے لوگ نہیں ہو زندہ خدا کے فرزند کہلائیں گے۔

7. Hosea 1 : 10 (the)

10     …the number of the children of Israel shall be as the sand of the sea, which cannot be measured nor numbered; and it shall come to pass, that in the place where it was said unto them, Ye are not my people, there it shall be said unto them, Ye are the sons of the living God.

8۔ یسعیاہ 43 باب1(پس) تا3 (یا:) آیات

1۔۔۔۔اے یعقوب! خداوند جس نے تجھ کو پیدا کیا اور جس نے اے اسرائیل تجھ کو بنایایوں فرماتا ہے کہ خوف نہ کر کیونکہ میں نے تیرا فدیہ دیا ہے مَیں نے تیرا نام لے کر تجھے بلایا ہے تْو میرا ہے۔

2۔ جب تْو سیلاب میں سے گزرے تو مَیں تیرے ساتھ ہوں گااور جب تْو ندیوں میں سے گزرے تو وہ تجھے نہ ڈبائیں گی۔ جب تْو آگ پر چلے گا تو تجھ کو آنچ نہ لگے گی اور شلعہ تجھے نہ جلائے گا۔

3۔ کیونکہ میں خداوند تیرا خدا اسرائیل کا قدوس تیرا نجات دینے والا ہوں۔

8. Isaiah 43 : 1 (thus)-3 (to :)

1     …thus saith the Lord that created thee, O Jacob, and he that formed thee, O Israel, Fear not: for I have redeemed thee, I have called thee by thy name; thou art mine.

2     When thou passest through the waters, I will be with thee; and through the rivers, they shall not overflow thee: when thou walkest through the fire, thou shalt not be burned; neither shall the flame kindle upon thee.

3     For I am the Lord thy God, the Holy One of Israel, thy Saviour:



سائنس اور صح


1۔ 295 :5۔8

خدا کائنات کو،بشمول انسان،خلق کرتا اور اْس پر حکومت کرتا ہے، یہ کائنات روحانی خیالات سے بھری پڑی ہے، جنہیں وہ تیار کرتا ہے، اور وہ اْس عقل کی فرمانبرداری کرتے ہیں جو انہیں بناتی ہے۔

1. 295 : 5-8

God creates and governs the universe, including man. The universe is filled with spiritual ideas, which He evolves, and they are obedient to the Mind that makes them.

2۔ 470 :21۔28، 32۔5

خدا انسان کا خالق ہے، اور انسان کا الٰہی اصول کامل ہونے سے الٰہی خیال یا عکس یعنی انسان کامل ہی رہتا ہے۔ انسان خدا کی ہستی کا ظہور ہے۔ اگر کوئی ایسا لمحہ تھا جب انسان نے الٰہی کاملیت کا اظہار نہیں کیا تو یہ وہ لمحہ تھا جب انسان نے خدا کو ظاہر نہیں کیا، اور نتیجتاً یہ ایک ایسا وقت تھا جب الوہیت یعنی وجود غیر متوقع تھا۔

سائنس میں خدا اور انسان، الٰہی اصول اور خیال، کے تعلقات لازوال ہیں؛ اور سائنس بھول چوک جانتی ہے نہ ہم آنگی کی جناب واپسی، لیکن یہ الٰہی ترتیب یا روحونی قانون رکھتی ہے جس میں خدا اور جو کچھ وہ خلق کرتا ہے کامل اور ابدی ہیں، جو اس کی پوری تاریخ میں غیر متغیر رہے ہیں۔

2. 470 : 21-28, 32-5

God is the creator of man, and, the divine Principle of man remaining perfect, the divine idea or reflection, man, remains perfect. Man is the expression of God's being. If there ever was a moment when man did not express the divine perfection, then there was a moment when man did not express God, and consequently a time when Deity was unexpressed — that is, without entity.

The relations of God and man, divine Principle and idea, are indestructible in Science; and Science knows no lapse from nor return to harmony, but holds the divine order or spiritual law, in which God and all that He creates are perfect and eternal, to have remained unchanged in its eternal history.

3۔ 525 :22۔29

پیدائش کی سائنس میں ہم پڑھتے ہیں کہ جو کچھ اْس نے بنایا تھا اْس پر نظر کی ”اور دیکھا کہ اچھا ہے۔“ دوسری صورت میں جسمانی حواس یہ واضح کرتے ہیں، اگر ہم غلطی کی تاریخ کو سچائی کے ریکارڈ کی مانند توجہ دیتے ہیں،تو گناہ اور بیماری کا روحانی ریکارڈ مادی حواس کے جھوٹے نتیجے کی حمایت کرتا ہے۔ گناہ، بیماری اور موت کو حقیقت سے خالی تصور کیا جانا چاہئے جیسے کہ وہ اچھائی، یعنی خدا سے خالی ہیں۔

3. 525 : 22-29

In the Science of Genesis we read that He saw everything which He had made, "and, behold, it was very good." The corporeal senses declare otherwise; and if we give the same heed to the history of error as to the records of truth, the Scriptural record of sin and death favors the false conclusion of the material senses. Sin, sickness, and death must be deemed as devoid of reality as they are of good, God.

4۔ 583 :20۔25

خالق۔ روح؛ عقل؛ ذہانت؛ ساری اچھائی اور حقیقت کے الٰہی اصول پر زور دینے والا؛ خود موجود زندگی، سچائی اور محبت؛ وہ جو کامل اور ابدی ہے؛ مادے اور بدی کا مخالف، جس کا کوئی اصول نہیں؛ خدا جس وہ سب کچھ بنایا جو بنایا گیا تھا اور خود کے مخالف کوئی ایٹم یا عنصر نہ بنا سکا۔

4. 583 : 20-25

Creator. Spirit; Mind; intelligence; the animating divine Principle of all that is real and good; self-existent Life, Truth, and Love; that which is perfect and eternal; the opposite of matter and evil, which have no Principle; God, who made all that was made and could not create an atom or an element the opposite of Himself.

5۔ 332 :4 (باپ)۔8

الوہیت کے لئے مادر پدر نام ہے، جو اْس کی روحانی مخلوق کے ساتھ اْس کے شفیق تعلق کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ جیسا کہ رسول نے ان الفاظ میں یہ ظاہر کیا جنہیں ایک بہترین شاعر کی منظوری سے لیا گیا ہے: ”اسلئے کہ ہم بھی اْس کی اولاد ہیں“۔

5. 332 : 4 (Father)-8

Father-Mother is the name for Deity, which indicates His tender relationship to His spiritual creation. As the apostle expressed it in words which he quoted with approbation from a classic poet: "For we are also His offspring."

6۔ 262 :27۔20

فانی مخالفت کی بنیاد انسانی ابتداء کا جھوٹا فہم ہے۔ درست طور پر شروع کرنا درست طور پر آخر ہونا ہے۔ ہر وہ نظریہ جو دماغ سے شروع ہوتا دکھائی دیتا ہے غلط شروع ہوتا ہے۔الٰہی عقل ہی وجودیت کی واحدوجہ یا اصول ہے۔ وجہ مادے میں، فانی عقل میں یا جسمانی شکل میں موجود نہیں ہے۔

بشر غرور پسند ہوتے ہیں۔وہ خود کو آزاد کارکنان، ذاتی مصنف، کسی ایسی چیز کے بنانے والے تصور کرتے ہیں جو خدا نہ بنا سکا یا نہیں بنا سکتا۔فانی عقل کی تخلیقات مادی ہیں۔لافانی روحانی انسان تنہا سچائی کی تخلیق کو پیش کرتا ہے۔

جب بشر اپنے وجودیت کے خیالات کو روحانی کے ساتھ جوڑتا ہے اور خدا کی مانند کام کرتا ہے، تو وہ اندھیرے میں نہیں ٹٹولے گا اور زمین کے ساتھ نہیں جڑا رہے گا کیونکہ اْس نے آسمان کا مزہ نہیں چکھا۔جسمانی عقائد ہمیں دھوکہ دیتے ہیں۔ وہ انسان کو غیر اختیاری ریاکار بناتے ہیں جو اچھائی پیدا کرتے ہوئے بدی پیدا کرتا ہے، فضل اور خوبصورتی کا خاکہ بناتے ہوئے بد نمائی بناتا ہے،جنہیں برکت دیتا ہے انہیں وہ زخمی کر دیتا ہے۔وہ ایک عام غلط خالق بن جاتا ہے، جس سےیہ مانتا ہے کہ وہ ایک نصف خدا ہے۔اْس کی ”چھوون امید کو خاک بناتی، وہ خاک جسے ہم سب نے اپنے قدموں تلے روندا۔“ وہ شاید بائبل کی زبان میں کہے گا: ”جس نیکی کا ارادہ کرتا ہوں وہ تو نہیں کرتا، مگر جس بدی کا ارادہ نہیں کرتا وہ کر لیتا ہوں۔“

یہاں صرف ایک خالق کے علاوہ کوئی نہیں، جس نے سب کچھ خلق کیا۔

6. 262 : 27-20

The foundation of mortal discord is a false sense of man's origin. To begin rightly is to end rightly. Every concept which seems to begin with the brain begins falsely. Divine Mind is the only cause or Principle of existence. Cause does not exist in matter, in mortal mind, or in physical forms.

Mortals are egotists. They believe themselves to be independent workers, personal authors, and even privileged originators of something which Deity would not or could not create. The creations of mortal mind are material. Immortal spiritual man alone represents the truth of creation.

When mortal man blends his thoughts of existence with the spiritual and works only as God works, he will no longer grope in the dark and cling to earth because he has not tasted heaven. Carnal beliefs defraud us. They make man an involuntary hypocrite, — producing evil when he would create good, forming deformity when he would outline grace and beauty, injuring those whom he would bless. He becomes a general mis-creator, who believes he is a semi-god. His "touch turns hope to dust, the dust we all have trod." He might say in Bible language: "The good that I would, I do not: but the evil which I would not, that I do."

There can be but one creator, who has created all.

7۔ 286 :16۔26

سیکسن اور بیس دیگر زبانوں میں اچھائی خدا کے لئے ایک اصطلاح ہے۔ صحائف اْس سب کو ظاہر کرتے ہیں جو اْس نے اچھا بنایا، جیسے کہ وہ خود،اصول اور خیال میں اچھا۔اس لئے روحانی کائنات اچھی ہے، اور یہ خدا کو ویسا ہی ظاہر کرتی ہے جیسا وہ ہے۔

خدا کے خیالات کامل اور ابدی ہیں، وہ مواد اور زندگی ہیں۔مادی اور عارضی خیالات انسانی ہیں، جن میں غلطی شامل ہوتی ہے، اور چونکہ خدا، روح ہی واحد وجہ ہے، اس لئے وہ الٰہی وجہ سے خالی ہیں۔ تو پھر عارضی اور مادی روح کی تخلیقات نہیں ہیں۔ یہ روحانی اور ابدی چیزوں کے مخالف ہونے کے علاوہ کچھ نہیں۔

7. 286 : 16-26

In the Saxon and twenty other tongues good is the term for God. The Scriptures declare all that He made to be good, like Himself, — good in Principle and in idea. Therefore the spiritual universe is good, and reflects God as He is.

God's thoughts are perfect and eternal, are substance and Life. Material and temporal thoughts are human, involving error, and since God, Spirit, is the only cause, they lack a divine cause. The temporal and material are not then creations of Spirit. They are but counterfeits of the spiritual and eternal.

8۔ 68 :27۔16

کرسچن سائنس تخلیق کو نہیں بلکہ افشائی کو پیش کرتی ہے، یہ مالیکیول سے عقل تک کی مادی ترقی کو نہیں بلکہ انسان اور کائنات کے لئے الٰہی عقل کی عنایت کو ظاہر کرتی ہے۔متناسب طور پر جب انسانی نسل ابدی کے ساتھ روابط کو ختم کردیتی ہے، تو ہم آہنگ ہستی کو روحانی طور پر سمجھا جائے گا، اوروہ انسان ظاہر ہوگا جو زمینی نہ ہو بلکہ خدا کے ساتھ باہم ہو۔ یہ سائنسی حقیقت کہ انسان اور کائنات روح سے مرتب ہوتے ہیں، اور اسی طرح روحانی بھی ہوتے ہیں، الٰہی سائنس میں اتنی ہی مضبوط ہوتی ہے جتنا کہ یہ ثبوت ہے کہ فانی بشر صرف تبھی صحتمندی کا فہم پاتے ہیں جب وہ گناہ اور بیماری کا فہم کھودیتے ہیں۔یہ مانتے ہوئے کہ انسان خالق ہے بشر خدا کی تخلیق کو کبھی نہیں سمجھ سکتے۔ پہلے سے تخلیق شدہ خدا کے فرزند صرف تب اپنی پہچان پاتے ہیں جب انسان ہستی کی سچائی کو پا لیتا ہے۔سچائی یہ ہے کہ حقیقی، مثالی انسان اسی تناسب میں ظاہر ہوتے ہیں جب جھوٹے اور مادی غائب ہوتے ہیں۔مزید شادی نہ کرنایا ”شادی میں دئیے“ جانا نہ ہی انسان کے تسلسل کو بند کرتا ہے اور نہ ہی خدا کے لامتناہی منصوبے میں اْس کی بڑھتی ہوئی تعداد کے فہم کو بند کرتا ہے۔روحانی طور پر یہ سمجھنا کہ ماسوائے ایک خالق، خدا کے اور کوئی نہیں، ساری تخلیق کو ایاں کرتا، صحائف کی تصدیق کرتا، علیحدگی، یا درد اور ازلی اور کامل اور ابدی انسانیت کی شیریں یقین دہانی لاتا ہے۔

8. 68 : 27-16

Christian Science presents unfoldment, not accretion; it manifests no material growth from molecule to mind, but an impartation of the divine Mind to man and the universe. Proportionately as human generation ceases, the unbroken links of eternal, harmonious being will be spiritually discerned; and man, not of the earth earthly but coexistent with God, will appear. The scientific fact that man and the universe are evolved from Spirit, and so are spiritual, is as fixed in divine Science as is the proof that mortals gain the sense of health only as they lose the sense of sin and disease. Mortals can never understand God's creation while believing that man is a creator. God's children already created will be cognized only as man finds the truth of being. Thus it is that the real, ideal man appears in proportion as the false and material disappears. No longer to marry or to be "given in marriage" neither closes man's continuity nor his sense of increasing number in God's infinite plan. Spiritually to understand that there is but one creator, God, unfolds all creation, confirms the Scriptures, brings the sweet assurance of no parting, no pain, and of man deathless and perfect and eternal.

9۔ 502 :27۔5

تخلیقی اصول، زندگی، سچائی اور محبت، خدا ہے۔ کائنات خدا کی عکاسی کرتی ہے۔ ایک خالق اور ایک تخلیق کے سوا اور کوئی نہیں۔ یہ تخلیق روحانی خیالات اور اْن کی شناختوں کے ایاں ہونے پر مشتمل ہے، جو لامحدود عقل کے دامن سے جڑے ہیں اور ہمیشہ منعکس ہوتے ہیں۔ یہ خیالات محدود سے لامحدود تک وسیع ہیں اور بلند تیرین خیالات خدا کے بیٹے اور بیٹیاں ہیں۔

9. 502 : 27-5

The creative Principle — Life, Truth, and Love — is God. The universe reflects God. There is but one creator and one creation. This creation consists of the unfolding of spiritual ideas and their identities, which are embraced in the infinite Mind and forever reflected. These ideas range from the infinitesimal to infinity, and the highest ideas are the sons and daughters of God.


روز مرہ کے فرائ

منجاب میری بیکر ایڈ

روز مرہ کی دعا

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ ہر روز یہ دعا کرے: ’’تیری بادشاہی آئے؛‘‘ الٰہی حق، زندگی اور محبت کی سلطنت مجھ میں قائم ہو، اور سب گناہ مجھ سے خارج ہو جائیں؛ اور تیرا کلام سب انسانوں کی محبت کو وافر کرے، اور اْن پر حکومت کرے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 4۔

مقاصد اور اعمال کا ایک اصول

نہ کوئی مخالفت نہ ہی کوئی محض ذاتی وابستگی مادری چرچ کے کسی رکن کے مقاصد یا اعمال پر اثر انداز نہیں ہونی چاہئے۔ سائنس میں، صرف الٰہی محبت حکومت کرتی ہے، اور ایک مسیحی سائنسدان گناہ کو رد کرنے سے، حقیقی بھائی چارے ، خیرات پسندی اور معافی سے محبت کی شیریں آسائشوں کی عکاسی کرتا ہے۔ اس چرچ کے تمام اراکین کو سب گناہوں سے، غلط قسم کی پیشن گوئیوں،منصفیوں، مذمتوں، اصلاحوں، غلط تاثر ات کو لینے اور غلط متاثر ہونے سے آزاد رہنے کے لئے روزانہ خیال رکھنا چاہئے اور دعا کرنی چاہئے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 1۔

فرض کے لئے چوکس

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ وہ ہر روز جارحانہ ذہنی آراء کے خلاف خود کو تیار رکھے، اور خدا اور اپنے قائد اور انسانوں کے لئے اپنے فرائض کو نہ کبھی بھولے اور نہ کبھی نظر انداز کرے۔ اس کے کاموں کے باعث اس کا انصاف ہوگا، وہ بے قصور یا قصوارہوگا۔ 

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 6۔


████████████████████████████████████████████████████████████████████████