اتوار 7 مارچ،2021



مضمون۔ انسان

SubjectMan

سنہری متن: 1 کرنتھیوں 15 باب57 آیت

”خدا کا شکر ہے جو ہم کو فتح بخشتا ہے۔“



Golden Text: I Corinthians 15 : 57

Thanks be to God, which giveth us the victory.





سبق کی آڈیو کے لئے یہاں کلک کریں

یوٹیوب سے سننے کے لئے یہاں کلک کریں

████████████████████████████████████████████████████████████████████████


جوابی مطالعہ: 2 کرنتھیوں 4باب8، 9 آیات ∙ رومیوں 8باب31، 35، 37تا39 آیات


8۔ ہم ہر طرف سے مصیبت تو اٹھاتے ہیں لیکن لاچار نہیں ہوتے۔ حیران توہوتے ہیں مگر نا امید نہیں ہوتے۔

9۔ ستائے تو جاتے ہیں مگر اکیلے نہیں چھوڑے جاتے۔ گرائے تو جاتے ہیں لیکن ہلاک نہیں ہوتے۔

31۔ پس ہم اِن باتوں کی بابت کیا کہیں َ اگر خدا ہماری طرف ہے تو کون ہمارا مخالف ہے؟

35۔ کون ہم کو مسیح کی محبت سے جدا کرے گا؟ مصیبت یا تنگی یا ظلم یا کال نہ ننگا پن یا خطرہ یا تلوار؟

37۔ مگر اْن سب حالتوں میں اْس کے وسیلہ سے جس نے ہم سے محبت کی ہم کو فتح سے بھی بڑھ کے غلبہ حاصل ہوتا ہے۔

38۔ کیونکہ مجھ کو یقین ہے کہ خدا کی محبت جو ہمارے خداوند یسوع مسیح میں ہے اْس سے ہم کو نہ موت جدا کر سکے گی نہ زندگی۔

39۔ نہ فرشتے نہ حکومتیں۔ نہ حال کی نہ استقبال کی چیزیں۔ نہ قدرت نہ بلندی نہ پستی نہ کوئی اور مخلوق۔

Responsive Reading: II Corinthians 4 : 8, 9; Romans 8 : 31, 35, 37-39

8.     We are troubled on every side, yet not distressed; we are perplexed, but not in despair;

9.     Persecuted, but not forsaken; cast down, but not destroyed.

31.     What shall we then say to these things? If God be for us, who can be against us?

35.     Who shall separate us from the love of Christ? shall tribulation, or distress, or persecution, or famine, or nakedness, or peril, or sword?

37.     Nay, in all these things we are more than conquerors through him that loved us.

38.     For I am persuaded, that neither death, nor life, nor angels, nor principalities, nor powers, nor things present, nor things to come,

39.     Nor height, nor depth, nor any other creature, shall be able to separate us from the love of God, which is in Christ Jesus our Lord.



درسی وعظ



بائبل


درسی وعظ

بائبل

1۔ امثال 11باب3 (تا:)

3۔ راستبازوں کی راستی اْن کی راہنما ہوگی۔

1. Proverbs 11 : 3 (to :)

3     The integrity of the upright shall guide them:

2۔ فلپیوں 2 باب14، 15 آیات

14۔ سب کام شکایت اور تکرار کے بغیر کیا کرو۔

15۔ تاکہ تم بے عیب اور بھولے ہو کر ٹیڑے اور کج رو لوگوں میں خدا کے بے نقص فرزند بنے رہو۔ جن کے درمیان تم دنیا میں چراغوں کی طرح دکھائی دیتے ہو۔

2. Philippians 2 : 14, 15

14     Do all things without murmurings and disputings:

15     That ye may be blameless and harmless, the sons of God, without rebuke, in the midst of a crooked and perverse nation, among whom ye shine as lights in the world;

3۔ فلپیوں 4 باب11 (کیونکہ) تا 13 آیات

11۔۔۔۔کیونکہ مَیں نے یہ سیکھا ہے کہ جس حالت میں ہو ں اْس میں راضی رہوں۔

12۔ مَیں پست ہونا بھی جانتا ہوں اور بڑھنا بھی جانتا ہوں۔ہر ایک بات اور سب حالتوں میں مَیں نے سیر ہونا بھوکا رہنا اور بڑھنا گھٹنا سیکھا ہے۔

13۔ جو مجھے طاقت بخشتا ہے اْس میں مَیں سب کچھ کر سکتا ہوں۔

3. Philippians 4 : 11 (for)-13

11     …for I have learned, in whatsoever state I am, therewith to be content.

12     I know both how to be abased, and I know how to abound: every where and in all things I am instructed both to be full and to be hungry, both to abound and to suffer need.

13     I can do all things through Christ which strengtheneth me.

4۔ پیدائش 37 باب2 (یوسف) (تا؛)، 3، 4، 24 (تا:)، 28 (تا:) آیات

2۔ یوسف سترہ برس کی عمر میں اپنے بھائیوں کے ساتھ بھیڑ بکریاں چرایا کرتا تھا۔

3۔ اور اسرائیل یوسف کو اپنے سب بیٹوں سے زیادہ پیار کرتا تھا کیونکہ وہ اْس کے بڑھاپے کا بیٹا تھا اور اْس نے اْسے ایک بْو قلبون قبا بھی بنوادی۔

4۔ اور اْس کے بھائیوں نے دیکھا کہ اْن کا باپ اْس کے سب بھائیوں سے زیادہ اْسی کو پیار کرتا ہے۔ سو وہ اْس سے بْغض رکھنے لگے اور ٹھیک طور پر بات بھی نہیں کرتے تھے۔

24۔ اور اْنہوں نے اْسے اٹھا کر گڑھے میں ڈال دیا۔

28۔ پھر وہ مدیانی سوداگر اْدھر سے گزرے۔ تب اْنہوں نے یوسف کو کھینچ کر گڑھے سے باہر نکالا اور اْسے اسمعٰیلیوں کے ہاتھوں بیس روپے کو بیچ دیا۔

4. Genesis 37 : 2 (Joseph) (to ;), 3, 4, 24 (to :), 28 (to :)

2     Joseph, being seventeen years old, was feeding the flock with his brethren;

3     Now Israel loved Joseph more than all his children, because he was the son of his old age: and he made him a coat of many colours.

4     And when his brethren saw that their father loved him more than all his brethren, they hated him, and could not speak peaceably unto him.

24     And they took him, and cast him into a pit:

28     Then there passed by Midianites merchantmen; and they drew and lifted up Joseph out of the pit, and sold Joseph to the Ishmeelites for twenty pieces of silver:

5۔ پیدائش 39 باب 1، 3، 7، 8 (تا پہلا)، 12، 19 (جب) تا 20 (تا دوسرا)، 21، 22آیات

1۔ اور یوسف کو مصر میں لائے اور فوطیفار مصری نے جو فرعون کا ایک حاکم اور جلوداروں کا سردار تھا اْس کو اسمعٰیلیوں کے ہاتھ سے جو اْسے وہاں لے گئے تھے خرید لیا۔

3۔اور اْس کے آقا نے دیکھا کہ خداوند اْس کے ساتھ ہے اور جس کام کو وہ ہاتھ لگاتا ہے خداوند اْس میں اْسے ا قبالمند کرتا ہے۔

7۔ اِن باتوں کے بعد ایسا ہوا کہ اْس کے آقا کی بیوی کی آنکھ یوسف پر لگی اور اْس نے اْس سے کہا کہ میرے ساتھ ہم بستر ہو۔

8۔ لیکن اْس نے انکار کیا۔

12۔ تب اْس عورت نے اْس کا پیراہن پکڑ کر کہا میرے ساتھ ہم بستر ہو۔ وہ اپنا پیراہن اْس کے ہاتھ میں چھوڑ کر بھاگ گیا۔

19۔۔۔۔جب اْس کے آقا نے اپنی بیوی کی وہ باتیں جو اْس نے اْس سے کہیں سْن لیں کہ تیرے غلام نے مجھ سے ایسا ایسا کیا تو اْس کا غضب بھڑکا۔

20۔ اور یوسف کے آقا نے اْس کو لے کر اْسے قید خانہ میں ڈال دیا۔

21۔ لیکن خداوند یوسف کے ساتھ تھا۔ اْس نے اْس پر رحم کیا اور قید خانہ کے داروغہ کی نظر میں اْسے مقبول بنایا۔

22۔اور قید خانہ کے داروغہ نے سب قیدیوں کو جو قید میں تھے یوسف کے ہاتھ میں سونپا اور جو کچھ وہ کرتے اْسی کے حکم سے کرتے تھے۔

5. Genesis 39 : 1, 3, 7, 8 (to 1st ,), 12, 19 (when)-20 (to 2nd ,), 21, 22

1     And Joseph was brought down to Egypt; and Potiphar, an officer of Pharaoh, captain of the guard, an Egyptian, bought him of the hands of the Ishmeelites, which had brought him down thither.

3     And his master saw that the Lord was with him, and that the Lord made all that he did to prosper in his hand.

7     And it came to pass after these things, that his master’s wife cast her eyes upon Joseph; and she said, Lie with me.

8     But he refused,

12     And she caught him by his garment, saying, Lie with me: and he left his garment in her hand, and fled, and got him out.

19     …when his master heard the words of his wife, which she spake unto him, saying, After this manner did thy servant to me; that his wrath was kindled.

20     And Joseph’s master took him, and put him into the prison,

21     But the Lord was with Joseph, and shewed him mercy, and gave him favour in the sight of the keeper of the prison.

22     And the keeper of the prison committed to Joseph’s hand all the prisoners that were in the prison; and whatsoever they did there, he was the doer of it.

6۔ پیدائش 41 باب1 (تا:)، 14 (تا:)، 15، 16، 28تا30 (تا پہلا)، 33، 37تا40 آیات

1۔ پورے دو برس کے بعد فرعون نے خواب دیکھا۔

14۔ تب فرعون نے یوسف کو بلوا بھیجا۔سو انہوں نے جلد اْسے قید خانہ سے باہر نکالا۔

15۔ فرعون نے یوسف سے کہا مَیں نے ایک خواب دیکھا ہے جس کی تعبیر کوئی نہیں کر سکتا اور مجھ سے تیرے بارے میں کہتے ہیں کہ تْو خواب کو سن کر اْس کی تعبیر کرتا ہے؟

16۔ یوسف نے فرعون کو جواب دیا کہ مَیں کچھ نہیں جانتا۔ خدا ہی فرعون کو سلامتی بخش جواب دے گا۔

28۔ یہ وہی بات ہے جو مَیں فرعون سے کہہ چکا ہوں کہ جو کچھ خدا کرنے کو ہے اْسے اْس نے فرعون پر ظاہر کیا ہے۔

29۔ دیکھ! سارے ملک مصر میں سات برس تو پیداوارِ کثیر کے ہوں گے۔

30۔ اْن کے بعد سات برس کال کے آئیں گے۔

33۔ اِس لئے فرعون کو چاہئے کہ ایک دانشور اور عقلمند آدمی کو تلاش کر لے اور اْسے ملکِ مصر پر مختار بنائے۔

37۔ یہ بات فرعون اور اْس کے سب خادموں کو پسند آئی۔

38۔ سو فرعون نے اپنے سب خادموں سے کہا کیا ہم کو ایسا آدمی جیسا یہ ہے جس میں خدا کی روح ہے مل سکتا ہے؟

39۔ اور فرعون نے یوسف سے کہا چونکہ خدا نے تجھے سب کچھ سمجھا دیا ہے اِس لئے تیری مانند دانشور اور عقلمند کوئی نہیں۔

40۔ سو تْو میرے گھر کا مختار ہوگا اور میری ساری رعایا تیرے حکم پر چلے گی۔ فقط تخت کا مالک ہونے کے سبب سے مَیں بزرگ تر ہوں گا۔

6. Genesis 41 : 1 (to :), 14 (to :), 15, 16, 28-30 (to 1st ;), 33, 37-40

1     And it came to pass at the end of two full years, that Pharaoh dreamed:

14     Then Pharaoh sent and called Joseph, and they brought him hastily out of the dungeon:

15     And Pharaoh said unto Joseph, I have dreamed a dream, and there is none that can interpret it: and I have heard say of thee, that thou canst understand a dream to interpret it.

16     And Joseph answered Pharaoh, saying, It is not in me: God shall give Pharaoh an answer of peace.

28     This is the thing which I have spoken unto Pharaoh: What God is about to do he sheweth unto Pharaoh.

29     Behold, there come seven years of great plenty throughout all the land of Egypt:

30     And there shall arise after them seven years of famine;

33     Now therefore let Pharaoh look out a man discreet and wise, and set him over the land of Egypt.

37     And the thing was good in the eyes of Pharaoh, and in the eyes of all his servants.

38     And Pharaoh said unto his servants, Can we find such a one as this is, a man in whom the Spirit of God is?

39     And Pharaoh said unto Joseph, Forasmuch as God hath shewed thee all this, there is none so discreet and wise as thou art:

40     Thou shalt be over my house, and according unto thy word shall all my people be ruled: only in the throne will I be greater than thou.

7۔ پیدائش 42 باب3، 7 (تا پہلا) آیات

3۔ سو یوسف کے دس بھائی غلہ مول لینے کو مصر میں آئے۔

7۔ یوسف نے اپنے بھائیوں کو دیکھا۔

7. Genesis 42 : 3, 7 (to 1st ,)

3     And Joseph’s ten brethren went down to buy corn in Egypt.

7     And Joseph saw his brethren,

8۔ پیدائش 45 باب 4، 5 آیات

4۔ اور یوسف نے اپنے بھائیوں سے کہا ذرا نزدیک آجاؤ اور وہ نزدیک آئے۔ تب اْس نے کہا مَیں تمہارا بھائی یوسف ہوں۔ جس کو تم نے بیچ کر مصر پہنچوایا۔

5۔ اور اِس بات سے کہ تم نے مجھے بیچ کر مصر پہنچوایا نہ تو غمگین ہو اور نہ اپنے اپنے دل میں پریشان ہو کیونکہ خدا نے جانوں کو بچانے کے لئے مجھے تم سے آگے بھیجا۔

8. Genesis 45 : 4, 5

4     And Joseph said unto his brethren, Come near to me, I pray you. And they came near. And he said, I am Joseph your brother, whom ye sold into Egypt.

5     Now therefore be not grieved, nor angry with yourselves, that ye sold me hither: for God did send me before you to preserve life.

9۔ 1پطرس 2 باب19تا23 آیات

19۔ کیونکہ اگر کوئی خدا کے خیال سے بے انصافی کے باعث دْکھ اٹھا کر تکلیفوں کی برداشت کرے تو یہ پسندیدہ ہے۔

20۔ اس لئے کہ اگر تم نے گناہ کر کے مْکے کھائے اور صبر کیا تو کون سا فخر ہے؟ہاں اگر نیکی کر کے دْکھ پاتے اور صبر کرتے ہو تو یہ خدا کے نزدیک پسندیدہ ہے۔

21۔ اور تم اِسی کے لئے بلائے گئے ہو کیونکہ مسیح بھی تمہارے واسطے دْکھ اٹھا کر تمہیں ایک نمونہ دے گیا ہے تاکہ اْس کے نقشِ قدم پر چلو۔

22۔ نہ اْس نے گناہ کیا اور نہ اْس کے منہ سے مکر کی کوئی بات نکلی۔

23۔ نہ وہ گالیاں کھا کر گالی دیتا تھا اور نہ دْکھ پا کر کسی کو دھمکاتا تھا بلکہ اپنے آپ کو سچے انصاف کرنے والے کے سپرد کرتا تھا۔

9. I Peter 2 : 19-23

19     For this is thankworthy, if a man for conscience toward God endure grief, suffering wrongfully.

20     For what glory is it, if, when ye be buffeted for your faults, ye shall take it patiently? but if, when ye do well, and suffer for it, ye take it patiently, this is acceptable with God.

21     For even hereunto were ye called: because Christ also suffered for us, leaving us an example, that ye should follow his steps:

22     Who did no sin, neither was guile found in his mouth:

23     Who, when he was reviled, reviled not again; when he suffered, he threatened not; but committed himself to him that judgeth righteously:

10۔ فلپیوں 2 باب12، 13 آیات

12۔ پس اے میرے عزیزو! جس طرح تم ہمیشہ سے فرمانبرداری کرتے آئے ہو اْسی طرح اب بھی نہ صرف میری حاضری میں بلکہ اِس سے بہت زیادہ میری غیر حاضری میں ڈرتے اور کانپتے ہوئے اپنی نجات کے کام کئے جاؤ۔

13۔ کیونکہ جو تم میں نیت اور عمل دونوں کو اپنے نیک ارادہ کو انجام دینے کے لئے پیدا کرتا ہے وہ خدا ہے۔

10. Philippians 2 : 12, 13

12     Wherefore, my beloved, as ye have always obeyed, not as in my presence only, but now much more in my absence, work out your own salvation with fear and trembling.

13     For it is God which worketh in you both to will and to do of his good pleasure.

11۔ رومیوں 8 باب28 آیت

28۔ اور ہم کو معلوم ہے کہ سب چیزیں مل کر خدا سے محبت رکھنے والوں کے لئے بھلائی پیدا کرتی ہیں یعنی اْن کے لئے جو خدا کے اراداہ کے موافق بلائے گئے۔

11. Romans 8 : 28

28     And we know that all things work together for good to them that love God, to them who are the called according to his purpose.



سائنس اور صح


1۔ 115 :15۔16

انسان: خدا کا روحانی خیال، انفرادی، کامل، ابدی۔

1. 115 : 15-16

Man: God's spiritual idea, individual, perfect, eternal.

2۔ 258 :13۔15، 19۔24

اس کی وسعت اورلامحدود بنیادوں سے اونچی سے اونچی پرواز کو بڑھاتے ہوئے خدا انسان میں لامحدود خیال کو ہمیشہ ظاہر کرتا ہے۔

لامحدود اصول کی عکاسی لامحدود خیال اور روحانی انفرادیت کے وسیلہ ہوتی ہے، لیکن وہ مادہ جو نام نہاد حواس ہیں انہیں یا اصل یا اس کے خیال سے بالکل آگاہی نہیں ہے۔ انسانی قابلیتیں اس تناسب سے بڑھائی یا کامل کی جاتی ہیں جس سے انسان خدا اور انسان سے متعلق حقیقی نظریہ حاصل کرتا ہے۔

2. 258 : 13-15, 19-24

God expresses in man the infinite idea forever developing itself, broadening and rising higher and higher from a boundless basis.

The infinite Principle is reflected by the infinite idea and spiritual individuality, but the material so-called senses have no cognizance of either Principle or its idea. The human capacities are enlarged and perfected in proportion as humanity gains the true conception of man and God.

3۔ 307 :25 (دی)۔30

الٰہی فہم بشر کی جان ہے، اور انسان کو سب چیزوں پر حاکمیت عطا کرتا ہے۔ انسان کو مادیت کی بنیاد پر خلق نہیں کیا گیا اور نہ اسے مادی قوانین کی پاسداری کا حکم دیا گیا جو روح نے کبھی نہیں بنائے؛ اس کا صوبہ روحانی قوانین، فہم کے بلند آئین میں ہے۔

3. 307 : 25 (The)-30

The divine Mind is the Soul of man, and gives man dominion over all things. Man was not created from a material basis, nor bidden to obey material laws which Spirit never made; his province is in spiritual statutes, in the higher law of Mind.

4۔ 90 :24۔32

کسی شخص کا خود یہ قبول کرنا کہ انسان خدا کی اپنی شبیہ ہے انسان کو لامحدود خیال پر حکمرانی کرنے کے لئے آزاد کرتا ہے۔یہ راسخ عقیدہ موت کے لئے دروازہ بند کرتا ہے اور لافانیت کی جانب اِسے وسیع کھول دیتا ہے۔ آخر کار روح کی سمجھ اور پہچان ضرور ہونی چاہئے اور ہم الٰہی اصول کے ادراک کے وسیلہ ہستی کے بھیدوں کو سْلجھانے میں ہمارے وقت کو بہتر فروغ دیں گے۔فی الحال ہم یہ نہیں جانتے کہ انسان کیا ہے مگر ہم یقیناً تب یہ جان پائیں گے جب انسان خدا کی عکاسی کرتا ہے۔

4. 90 : 24-32

The admission to one's self that man is God's own likeness sets man free to master the infinite idea. This conviction shuts the door on death, and opens it wide towards immortality. The understanding and recognition of Spirit must finally come, and we may as well improve our time in solving the mysteries of being through an apprehension of divine Principle. At present we know not what man is, but we certainly shall know this when man reflects God.

5۔ 228 :11۔19

انسان کی غلامی جائز نہیں ہے۔ یہ تب ختم ہوگی جب وہ انسان اپنی آزادی کی وراثت اور مادی حواس پر خدا داد سلطنت میں شامل ہوگا۔ بشر ایک دن قادر مطلق خدا کے نام میں اپنی آزادی کا دعویٰ کریں گے۔ پھر وہ اپنے جسموں کو الٰہی سائنس کی فہم کے وسیلہ قابو کریں گے۔ اپنے موجودہ عقائد کو چھوڑتے ہوئے وہ ہم آہنگی کو بطور روحانی حقیقت اور مخالفت کو بطور مادی غیر واقیعت سمجھیں گے۔

5. 228 : 11-19

The enslavement of man is not legitimate. It will cease when man enters into his heritage of freedom, his God-given dominion over the material senses. Mortals will some day assert their freedom in the name of Almighty God. Then they will control their own bodies through the understanding of divine Science. Dropping their present beliefs, they will recognize harmony as the spiritual reality and discord as the material unreality.

6۔ 262 :9۔16

ہم فانی عقیدے کی کھائیوں میں غوطہ لگانے سے خدا کی تخلیق کے معیار اور فطرت کو نہیں ناپ سکتے۔ہمیں مادے میں سچائی اور زندگی کو تلاش کرنے کے لئے ہمارے کمزور اضطراب کو الٹانا چاہئے، اور مادی حواس کی شہادت سے اونچا، فانی خیال سے خدا کے لافانی خیال تک اونچا اٹھنا چاہئے۔یہ واضح تراور بلند تر خیالات خدا کے بندے کو اپنی ہستی کے احاطے اور مکمل مرکز تک پہنچنے کے لئے حوصلہ افزائی دیتے ہیں۔

6. 262 : 9-16

We cannot fathom the nature and quality of God's creation by diving into the shallows of mortal belief. We must reverse our feeble flutterings — our efforts to find life and truth in matter — and rise above the testimony of the material senses, above the mortal to the immortal idea of God. These clearer, higher views inspire the Godlike man to reach the absolute centre and circumference of his being.

7۔ 517 :30۔4

الٰہی محبت اپنے خود کے خیالات کو برکت دیتا ہے، اور اْنہیں بڑھنے، اْس کی قوت کو ظاہر کرنے کا موجب بنتا ہے۔انسان مٹی جوتنے کے لئے پیدا نہیں کیا گیا۔ اْس کا پیدائشی حق محکومی نہیں حکمرانی ہے۔وہ زمین اور آسمان پر عقیدے کا حاکم ہے، جو خود صرف اپنے خالق کے ماتحت ہے۔ یہ ہستی کی سائنس ہے۔

7. 517 : 30-4

Divine Love blesses its own ideas, and causes them to multiply, — to manifest His power. Man is not made to till the soil. His birthright is dominion, not subjection. He is lord of the belief in earth and heaven, — himself subordinate alone to his Maker. This is the Science of being.

8۔ 444 :2۔6، 10۔12

کسی طریقے سے، جلد یا بدیر، سب مادیت میں برتری کی جانب بڑھتے ہیں، اور تکالیف اکثر اس بلندی کاالٰہی کارگزار بنتا ہے۔ ”سب چیزیں مل کر خدا سے محبت رکھنے والوں کے لئے بھلائی پیدا کرتی ہیں،“ یہ کلام کا دعویٰ ہے۔

وہ جو اْس پر بھروسہ رکھتے ہیں قدم بہ قدم یہ جانیں گے کہ ”خدا ہماری پناہ اور قوت ہے۔ مصیبت میں مستعد مددگار۔“

8. 444 : 2-6, 10-12

In some way, sooner or later, all must rise superior to materiality, and suffering is oft the divine agent in this elevation. "All things work together for good to them that love God," is the dictum of Scripture.

Step by step will those who trust Him find that "God is our refuge and strength, a very present help in trouble."

9۔ 22 :11۔17

”اپنی نجات کے کام کرتے جائیں“، یہ زندگی اور محبت کا مطالبہ ہے، کیونکہ یہاں پہنچنے کے لئے خدا آپ کے ساتھ کام کرتا ہے۔ ”قائم رہو جب تک کہ میں نہ آؤں!“ اپنے اجر کا انتظار کریں، اور ”نیک کام کرنے میں ہمت نہ ہاریں۔“ اگر آپ کی کوششیں خوف و ہراس کی مشکلات میں گھِری ہیں، اور آپ کو موجودہ کوئی اجر نہیں مل رہا، واپس غلطی پر مت جائیں، اور نہ ہی اس دوڑ میں کاہل ہو جائیں۔

9. 22 : 11-17

"Work out your own salvation," is the demand of Life and Love, for to this end God worketh with you. "Occupy till I come!" Wait for your reward, and "be not weary in well doing." If your endeavors are beset by fearful odds, and you receive no present reward, go not back to error, nor become a sluggard in the race.

10۔ 254 :19 (دی)۔23

۔۔۔ انسانی خودی کو انجیلی تبلیغ ملنی چاہئے۔آج خدا ہم سے اِس کام کو قبول کرنے کا اور جلدی سے عملی طور پر مادی کو ترک کرنے اور روحانی پر عمل کرنے کا مطالبہ کرتا ہے جس سے بیرونی اور اصلی کا تعین ہوتا ہے۔

10. 254 : 19 (the) -23

…the human self must be evangelized. This task God demands us to accept lovingly to-day, and to abandon so fast as practical the material, and to work out the spiritual which determines the outward and actual.

11۔ 183 :21۔25

الٰہی عقل بجا طور پر انسان کی مکمل فرمانبرداری، پیار اور طاقت کا مطالبہ کرتی ہے۔ اس سے کم وفاداری کے لئے کوئی تحفظات نہیں رکھے جاتے۔ سچائی کی تابعداری انسان کو قوت اور طاقت فراہم کرتی ہے۔ غلطی کو سپردگی طاقت کی کمی کو بڑھا دیتی ہے۔

11. 183 : 21-25

Divine Mind rightly demands man's entire obedience, affection, and strength. No reservation is made for any lesser loyalty. Obedience to Truth gives man power and strength. Submission to error superinduces loss of power.

12۔ 202 :15۔23

اِس سائنس کے بغیر سب کچھ قابلِ تبدیل ہے؛ مگر لافانی انسان، اپنی ہستی کے الٰہی اصول، یعنی خدا کے ساتھ ہم آہنگی میں، نہ گناہ کرتا، دْکھ اْٹھاتا ہے اور نہ مرتا ہے۔تب ہماری زیارت کے ایام ختم ہونے کی بجائے بڑھ جائیں گے جب خدا کی بادشاہی زمین پر آتی ہے؛ کیونکہ حقیقی راہ موت کی بجائے زندگی کی جانب لے جاتی ہے؛ اور زمینی تجربہ غلطی کی محدودیت اور سچائی کی اْن محدود خصوصیات کو ظاہر کرتا ہے جن میں خدا انسان کو ساری زمین پر اختیار عطا کرتا ہے۔

12. 202 : 15-23

Outside of this Science all is mutable; but immortal man, in accord with the divine Principle of his being, God, neither sins, suffers, nor dies. The days of our pilgrimage will multiply instead of diminish, when God's kingdom comes on earth; for the true way leads to Life instead of to death, and earthly experience discloses the finity of error and the infinite capacities of Truth, in which God gives man dominion over all the earth.

13۔ 571 :15۔19

ہر دور اور ہر حال میں، بدی پر اچھائی کے ساتھ قابو پائیں۔ خود کو جانیں تو خدا بدی پر فتح مندی کے لئے حکمت اور موقع فراہم کرے گا۔ محبت کے لباس میں ملبوس ہوں، تو انسانی نفرت آپ تک پہنچ نہیں سکتی۔

13. 571 : 15-19

At all times and under all circumstances, overcome evil with good. Know thyself, and God will supply the wisdom and the occasion for a victory over evil. Clad in the panoply of Love, human hatred cannot reach you. 

14۔ 452 :10۔15

جب پرانے ہو رہے ہوں تو آپ کو نئے پہنے سے خوفزدہ نہیں ہونا چاہئے۔آپ کی پیش قدمی حسد کو اْکسا سکتی ہے، مگر یہ احترام کو بھی اپنی طرف کھینچے گی۔جب غلطی آپ کا سامنا کرتی ہے، تو اْس ملامت یا وضاحت کو نظر انداز مت کریں جو غلطی کو نیست کرتی ہے۔ ماسوائے اِسے صاف کرنے کی کوشش میں، غیر اخلاقی ماحول پیدا نہ کریں۔

14. 452 : 10-15

When outgrowing the old, you should not fear to put on the new. Your advancing course may provoke envy, but it will also attract respect. When error confronts you, withhold not the rebuke or the explanation which destroys error. Never breathe an immoral atmosphere, unless in the attempt to purify it.

15۔ 261 :4۔7

برداشت، اچھائی اور سچائی کو مضبوطی سے تھام لیں تو آپ انہیں اپنے خیالات کے قبضے کے تناسب سے انہیں اپنے تجربات میں لائیں گے۔

15. 261 : 4-7

Hold thought steadfastly to the enduring, the good, and the true, and you will bring these into your experience proportionably to their occupancy of your thoughts.

16۔ 451 :14۔18

انسان اْسی جانب رواں رہتا ہے جہاں اْس کی نظر ہوتی ہو، اور جہاں اْس کا خزانہ ہو وہیں اْس کا دل بھی لگا رہتا ہے۔ اگر ہماری امیدیں اور احساس روحانی ہیں، تو وہ اوپر سے آتے ہیں نیچے سے نہیں، اور وہ ماضی کی طرح روح کے پھل پیدا کرتے ہیں۔

16. 451 : 14-18

Man walks in the direction towards which he looks, and where his treasure is, there will his heart be also. If our hopes and affections are spiritual, they come from above, not from beneath, and they bear as of old the fruits of the Spirit.

17۔ 21 :9۔14

اگر شاگرد روحانی طور پر ترقی کر رہا ہے، تو وہ داخل ہونے کی جدجہد کر رہا ہے۔ وہ مادی حِس سے دور ہونے کی مسلسل کوشش کررہا ہے اور روح کی ناقابل تسخیر چیزوں کا متلاشی ہے۔اگر ایماندار ہے تو وہ ایمانداری سے ہی آغاز کرے گا اور آئے دن درست سمت پائے گا جب تک کہ وہ آخر کار شادمانی کے ساتھ اپنا سفر مکمل نہیں کر لیتا۔

17. 21 : 9-14

If the disciple is advancing spiritually, he is striving to enter in. He constantly turns away from material sense, and looks towards the imperishable things of Spirit. If honest, he will be in earnest from the start, and gain a little each day in the right direction, till at last he finishes his course with joy.

18۔ 453 :6۔8

جب تک فتح یابی نا قابل تسخیر سچائی کے ساتھ موجود نہیں ہوتی طالب علموں کے ذہنوں میں غلط اور صحیح، سچائی اور غلطی گتھم گتھا رہیں گے۔

18. 453 : 6-8

Right and wrong, truth and error, will be at strife in the minds of students, until victory rests on the side of invincible truth.


روز مرہ کے فرائ

منجاب میری بیکر ایڈ

روز مرہ کی دعا

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ ہر روز یہ دعا کرے: ’’تیری بادشاہی آئے؛‘‘ الٰہی حق، زندگی اور محبت کی سلطنت مجھ میں قائم ہو، اور سب گناہ مجھ سے خارج ہو جائیں؛ اور تیرا کلام سب انسانوں کی محبت کو وافر کرے، اور اْن پر حکومت کرے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 4۔

مقاصد اور اعمال کا ایک اصول

نہ کوئی مخالفت نہ ہی کوئی محض ذاتی وابستگی مادری چرچ کے کسی رکن کے مقاصد یا اعمال پر اثر انداز نہیں ہونی چاہئے۔ سائنس میں، صرف الٰہی محبت حکومت کرتی ہے، اور ایک مسیحی سائنسدان گناہ کو رد کرنے سے، حقیقی بھائی چارے ، خیرات پسندی اور معافی سے محبت کی شیریں آسائشوں کی عکاسی کرتا ہے۔ اس چرچ کے تمام اراکین کو سب گناہوں سے، غلط قسم کی پیشن گوئیوں،منصفیوں، مذمتوں، اصلاحوں، غلط تاثر ات کو لینے اور غلط متاثر ہونے سے آزاد رہنے کے لئے روزانہ خیال رکھنا چاہئے اور دعا کرنی چاہئے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 1۔

فرض کے لئے چوکس

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ وہ ہر روز جارحانہ ذہنی آراء کے خلاف خود کو تیار رکھے، اور خدا اور اپنے قائد اور انسانوں کے لئے اپنے فرائض کو نہ کبھی بھولے اور نہ کبھی نظر انداز کرے۔ اس کے کاموں کے باعث اس کا انصاف ہوگا، وہ بے قصور یا قصوارہوگا۔ 

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 6۔


████████████████████████████████████████████████████████████████████████