اتوار 8مارچ، 2020 |

اتوار 8مارچ، 2020



مضمون۔ انسان

SubjectMan

سنہری متن:سنہری متن: فلپیوں 4باب13 آیت

’’مسیح جو مجھے طاقت بخشتا ہے اْس میں مَیں سب کچھ کر سکتا ہوں۔‘‘



Golden Text: Philippians 4 : 13

I can do all things through Christ which strengtheneth me.





سبق کی آڈیو کے لئے یہاں کلک کریں

یوٹیوب سے سننے کے لئے یہاں کلک کریں

████████████████████████████████████████████████████████████████████████


جوابی مطالعہ: ایوب 22باب21تا23 آیات • ایوب 23باب10،11، 13، 14 آیات


21۔ اْس سے ملا رہ تو سلامت رہے گا اور اِس سے تیرا بھلا ہوگا۔

22۔ میں تیری منت کرتا ہوں کہ شریعت کو اْس کی زبانی قبول کر اور اْس کی باتوں کو اپنے دل میں رکھ۔

23۔ اگر تْو قادر مطلق کی طرف پھرے تو بحال کیا جائے گا۔ بشرطیکہ تْو ناراستی کو اپنے خیموں سے دور کرے۔

10۔ لیکن وہ اْس راستہ کو جس پرمیں چلتا ہوں جانتا ہے۔ جب وہ مجھے تا لے گا تو میں سونے کی مانند نکل آؤں گا۔

11۔میرا پاؤں اْس کے قدموں سے لگا رہا ہے۔ مَیں اْس کے راستے پر چلتا رہا ہوں برگشتہ نہیں ہوا۔

13۔لیکن وہ ایک خیال میں رہتا ہے اور کون اْس کو پھرا سکتا ہے؟ اور جو کچھ اْس کا جی چاہتا ہے وہ کرتا ہے۔

14۔کیونکہ جو کچھ میرے لئے مقرر ہے وہ پورا کرتا ہے اور بہت سی ایسی باتیں اْس کے ہاتھ میں ہیں۔

Responsive Reading: Job 22 : 21-23 • Job 23 : 10, 11, 13, 14

21.     Acquaint now thyself with him, and be at peace: thereby good shall come unto thee.

22.     Receive, I pray thee, the law from his mouth, and lay up his words in thine heart.

23.     If thou return to the Almighty, thou shalt be built up, thou shalt put away iniquity far from thy tabernacles.

10.     He knoweth the way that I take: when he hath tried me, I shall come forth as gold.

11.     My foot hath held his steps, his way have I kept, and not declined.

13.     But he is in one mind, and who can turn him? and what his soul desireth, even that he doeth.

14.     For he performeth the thing that is appointed for me: and many such things are with him.



درسی وعظ



بائبل


درسی وعظ

بائبل

1۔ 2سیموئیل 22باب33 آیت

33۔ خدا میرا مضبوط قلعہ ہے۔ وہ اپنی راہ میں کامل شخص کی راہنمائی کرتا ہے۔

1. II Samuel 22 : 33

33     God is my strength and power: and he maketh my way perfect.

2۔ دانی ایل 2 باب 1تا6، 10، 12، 16تا20، 25 تا28 (تا)، 36، 46تا48 آیات

1۔ اور نبو کد نضر نے اپنی سلطنت کے دوسرے سال میں ایسے خواب دیکھے جن سے اْس دل گھبرا گیا اور اْس کی نیند جاتی رہی۔

2۔ تب بادشاہ نے حکم دیا کہ فالگیروں اور نجومیوں اور جادوگروں اور کسدیوں کو بلائیں کہ بادشاہ کے خواب اْسے بتائیں چنانچہ وہ آئے اور بادشاہ کے حضور کھڑے ہوئے۔

3۔ اور بادشاہ نے اْن سے کہا میں نے ایک خواب دیکھا ہے اور اْس خواب کو دریافت کرنے کے لئے میری جان بے تاب ہے۔

4۔ تب کسدیوں نے بادشاہ کے حضور ارامی زبان میں عرض کی کہ اے بادشاہ ابد تک جیتا رہ! اپنے خادموں سے خواب بیان کر اور ہم اْس کی تعبیر بیان کریں گے۔

5۔ بادشاہ نے کسدیوں کو جواب دیا کہ میں تو یہ حکم دے چکا ہوں کہ اگر تم خواب نہ بتاؤ اور اْس کی تعبیر نہ کر و تو ٹکڑے ٹکڑے کئے جا ؤ گے اور تمہارے گھر مزبلہ ہو جائیں گے۔

6۔ لیکن اگر خواب اور اْس کی تعبیر بتاؤ تو مجھ سے انعام اور صلہ اور بڑی عزت حاصل کرو گے۔ اِس لئے خواب اور اْس کی تعبیر مجھ سے بیان کرو۔

10۔ کسدیوں نے بادشاہ سے عرض کی کہ روئے زمین پر ایسا تو کوئی نہیں جو بادشاہ کی بات بتا سکے اور نہ کوئی بادشاہ یا امیر یا حاکم ہوا ہے جس نے ایسا سوال کسی فالگیر یا نجومی یا کسدی سے کیا ہو۔

12۔ اس لئے بادشاہ غضب ناک اور سخت قہر آلودہ ہوا اور اْس نے حکم کیا کہ بابل کے تمام حکیموں کو ہلاک کریں۔

16۔ اور دانی ایل نے اندر جا کر بادشاہ سے عرض کی کہ مجھے مہلت ملے تو میں بادشاہ کے حضور تعبیر بیان کروں گا۔

17۔ تب دانی ایل نے اپنے گھر جا کر حننیاہ، اور میسائیل اور عزریاہ اپنے رفیقوں کو اطلاع دی۔

18۔ تاکہ وہ اِس راز کے باب میں آسمان کے خدا سے رحمت طلب کریں کہ دانی ایل اور اْس کے رفیق بابل کے باقی حکیموں کے ساتھ ہلاک نہ ہوں۔

19۔ پھر رات کوخواب میں دانی ایل پر وہ راز کھْل گیا اور اْس نے آسمان کے خدا کو مبارک کہا۔

20۔دانی ایل نے کہا خدا کا نام تاابد مبارک ہو کیونکہ حکمت اور قدرت اْسی کی ہے۔

25۔ تب اریوک دانی ایل کو شتابی سے بادشاہ کے حضور لے گیا اور عرض کی مجھے یہودیوں کے اسیروں میں ایک شخص مل گیا ہے جو بادشاہ کو تعبیر بتا دے گا۔

26۔ بادشاہ نے دانی ایل سے جس کا لقب بلطیشضر تھا پوچھا کیا تْو اْس خواب کو جو میں نے دیکھا اور اْس کی تعبیر کو مجھے بیان کر سکتا ہے؟

27۔ دانی ایل نے بادشاہ سے عرض کی کہ وہ بھید جو بادشاہ نے پوچھا حکما اور نجومی اور جادو گر اور فالگیر بادشاہ کو بتا نہیں سکتے۔

28۔لیکن آسمان پر ایک خدا ہے جو راز کی باتیں آشکارا کرتا ہے اور اْس نے نبوکد نضر بادشاہ پر ظاہر کیا ہے کہ آخری ایام میں کیا وقوع میں آئے گا۔

36۔ وہ خواب یہ ہے اور میں اْس کی تعبیر بادشاہ کے حضور بیان کرتا ہوں۔

46۔ تب نبو کد نضر بادشاہ نے منہ کے بل گر کر دانی ایل کو سجدہ کیا اور حکم کیا کہ اْسے ہدیہ دیں اور اْس کے سامنے بخْور جلائیں۔

47۔ بادشاہ نے دانی ایل سے کہا فی الحقیقت تیرا خدا معبودوں کا معبود اور بادشاہوں کا خداوند اور بھیدوں کا کھولنے والا ہے کیونکہ تْو اِس راز کو کھول سکا۔

48۔ تب بادشاہ نے دانی ایل کو سرفراز کیا اور اْسے بہت سے بڑے بڑے تحفے عطا کئے اور اْسے بابل کے تمام صوبوں پر فرمانروائی بخشی اور بابل کے تمام حکیموں پر حکمرانی عنایت کی۔

2. Daniel 2 : 1-6, 10, 12, 16-20, 25-28 (to .), 36, 46-48

1     And in the second year of the reign of Nebuchadnezzar Nebuchadnezzar dreamed dreams, wherewith his spirit was troubled, and his sleep brake from him.

2     Then the king commanded to call the magicians, and the astrologers, and the sorcerers, and the Chaldeans, for to shew the king his dreams. So they came and stood before the king.

3     And the king said unto them, I have dreamed a dream, and my spirit was troubled to know the dream.

4     Then spake the Chaldeans to the king in Syriack, O king, live for ever: tell thy servants the dream, and we will shew the interpretation.

5     The king answered and said to the Chaldeans, The thing is gone from me: if ye will not make known unto me the dream, with the interpretation thereof, ye shall be cut in pieces, and your houses shall be made a dunghill.

6     But if ye shew the dream, and the interpretation thereof, ye shall receive of me gifts and rewards and great honour: therefore shew me the dream, and the interpretation thereof.

10     The Chaldeans answered before the king, and said, There is not a man upon the earth that can shew the king’s matter: therefore there is no king, lord, nor ruler, that asked such things at any magician, or astrologer, or Chaldean.

12     For this cause the king was angry and very furious, and commanded to destroy all the wise men of Babylon.

16     Then Daniel went in, and desired of the king that he would give him time, and that he would shew the king the interpretation.

17     Then Daniel went to his house, and made the thing known to Hananiah, Mishael, and Azariah, his companions:

18     That they would desire mercies of the God of heaven concerning this secret; that Daniel and his fellows should not perish with the rest of the wise men of Babylon.

19     Then was the secret revealed unto Daniel in a night vision. Then Daniel blessed the God of heaven.

20     Daniel answered and said, Blessed be the name of God for ever and ever: for wisdom and might are his:

25     Then Arioch brought in Daniel before the king in haste, and said thus unto him, I have found a man of the captives of Judah, that will make known unto the king the interpretation.

26     The king answered and said to Daniel, whose name was Belteshazzar, Art thou able to make known unto me the dream which I have seen, and the interpretation thereof?

27     Daniel answered in the presence of the king, and said, The secret which the king hath demanded cannot the wise men, the astrologers, the magicians, the soothsayers, shew unto the king;

28     But there is a God in heaven that revealeth secrets, and maketh known to the king Nebuchadnezzar what shall be in the latter days.

36     This is the dream; and we will tell the interpretation thereof before the king.

46     Then the king Nebuchadnezzar fell upon his face, and worshipped Daniel, and commanded that they should offer an oblation and sweet odours unto him.

47     The king answered unto Daniel, and said, Of a truth it is, that your God is a God of gods, and a Lord of kings, and a revealer of secrets, seeing thou couldest reveal this secret.

48     Then the king made Daniel a great man, and gave him many great gifts, and made him ruler over the whole province of Babylon, and chief of the governors over all the wise men of Babylon.

3۔ امثال 3باب1، 4تا6 آیات

1۔ اے میرے بیٹے میری تعلیم کو فراموش نہ کر۔ بلکہ تیرا دل میرے حکموں کو مانے۔

4۔ یوں تو خدا اور انسان کی نظر میں مقبولیت اور عقلمندی حاصل کرے گا۔

5۔ سارے دل سے خداوند پر توکل کر اور اپنے فہم پر تکیہ نہ کر۔

6۔ اپنی سب راہوں میں اْس کو پہچان اور وہ تیری راہنمائی کرے گا۔

3. Proverbs 3 : 1, 4-6

1     My son, forget not my law; but let thine heart keep my commandments:

4     So shalt thou find favour and good understanding in the sight of God and man.

5     Trust in the Lord with all thine heart; and lean not unto thine own understanding.

6     In all thy ways acknowledge him, and he shall direct thy paths.

4۔ یوحنا 5باب1تا9، 16تا19، 30 (تا پہلا:) آیات

1۔ اِن باتوں کے بعد یہودیوں کی ایک عید ہوئی اور یسوع یروشلیم کو گیا۔

2۔ یروشلیم میں بھیڑ دروازے کے پاس ایک حوض ہے جو عبرانی میں بیتِ سدا کہلاتا ہے اور اْس کے پانچ برآمدے ہیں۔

3۔ اِن میں بہت سے بیمار اور اندھے اور لنگڑے اور پژمردہ لوگ پانی کے ہلنے کے منتظر ہوکر پڑے تھے۔

4۔ کیونکہ ایک وقت پر خداوند کا فرشتہ حوض پر اْتر کر پانی کو ہلایا کرتا تھا۔ پانی ہلتے ہی جو کوئی پہلے اْترتا تھا سو شفا پاتا خواہ اْس کی جو کچھ بیماری کیوں نہ ہو۔

5۔وہاں ایک شخص تھا جو اڑتیس برس سے بیماری میں مبتلا تھا۔

6۔ اْس کو یسوع نے پڑا دیکھ کر اور یہ جان کر کہ وہ بڑی مدت سے اس حالت میں ہے اْس سے کہا کیا تْو تندرست ہونا چاہتا ہے؟

7۔ اْس بیمار نے اْسے جواب دیا۔ اے خداوند میرے پاس کوئی آدمی نہیں کہ جب پانی ہلایا جائے تو مجھے حوض میں اْتار دے بلکہ میرے پہنچتے پہنچتے دوسرا مجھ سے پہلے اْتر پڑتا ہے۔

8۔ یسوع نے اْس سے کہا اْٹھ اور اپنی چار پائی اْٹھا کر چل پھر۔

9۔ وہ شخص فوراً تندرست ہو گیا اور اپنی چار پائی اْٹھا کر چلنے پھرنے لگا۔ وہ دن سبت کا تھا۔

16۔ اس لئے یہودی یسوع کو ستانے لگے کیونکہ وہ ایسے کام سبت کے دن کرتا تھا۔

17۔ لیکن اْس نے کہا میرا باپ اب تک کام کرتا ہے اور مَیں بھی کام کرتا ہوں۔

18۔ اِس سبب سے یہودی اور بھی زیادہ اْس کو قتل کرنے کی کوشش کرنے لگے کہ وہ نہ فقط سبت کا حکم توڑتا بلکہ خدا کو خاص اپنا باپ کہہ کر اپنے آپ کو خدا کے برابر بناتا تھا۔

19۔ پس یسوع نے اْن سے کہا میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ بیٹا آپ سے کچھ نہیں کر سکتا سوائے اْس کے جو باپ کو کرتے دیکھتا ہے کیونکہ جن کاموں کو وہ کرتا ہے اْنہیں بیٹا بھی اْسی طرح کرتا ہے۔

30۔ مَیں اپنے آپ سے کچھ نہیں کرسکتا۔

4. John 5 : 1-9, 16-19, 30 (to 1st :)

1     After this there was a feast of the Jews; and Jesus went up to Jerusalem.

2     Now there is at Jerusalem by the sheep market a pool, which is called in the Hebrew tongue Bethesda, having five porches.

3     In these lay a great multitude of impotent folk, of blind, halt, withered, waiting for the moving of the water.

4     For an angel went down at a certain season into the pool, and troubled the water: whosoever then first after the troubling of the water stepped in was made whole of whatsoever disease he had.

5     And a certain man was there, which had an infirmity thirty and eight years.

6     When Jesus saw him lie, and knew that he had been now a long time in that case, he saith unto him, Wilt thou be made whole?

7     The impotent man answered him, Sir, I have no man, when the water is troubled, to put me into the pool: but while I am coming, another steppeth down before me.

8     Jesus saith unto him, Rise, take up thy bed, and walk.

9     And immediately the man was made whole, and took up his bed, and walked: and on the same day was the sabbath.

16     And therefore did the Jews persecute Jesus, and sought to slay him, because he had done these things on the sabbath day.

17     But Jesus answered them, My Father worketh hitherto, and I work.

18     Therefore the Jews sought the more to kill him, because he not only had broken the sabbath, but said also that God was his Father, making himself equal with God.

19     Then answered Jesus and said unto them, Verily, verily, I say unto you, The Son can do nothing of himself, but what he seeth the Father do: for what things soever he doeth, these also doeth the Son likewise.

30     I can of mine own self do nothing:

5۔ یوحنا 14باب10 (باپ جو) آیت

10۔۔۔۔ باپ جو مجھ میں ہے وہ اپنے کام کرتا ہے۔

5. John 14 : 10 (the Father that)

10     …the Father that dwelleth in me, he doeth the works.



سائنس اور صح


1۔ 281 :14۔17

ایک خودی، ایک عقل یا روح جسے خدا کہا جاتا ہے لامتناہی انفرادیت ہے، جو سب روپ اور خوبصورتی دستیاب کرتا ہے اور جو انفرادی روحانی انسان اور چیزوں میں حقیقت اور الوہیت کی عکاسی کرتا ہے۔

1. 281 : 14-17

The one Ego, the one Mind or Spirit called God, is infinite individuality, which supplies all form and comeliness and which reflects reality and divinity in individual spiritual man and things.

2۔ 475 :5۔22

سوال: انسان کیا ہے؟

جواب: انسان مادا نہیں ہے، وہ دماغ، خون، ہڈیوں اور دیگر مادی عناصر سے نہیں بنایا گیا۔کلام پاک ہمیں اس بات سے آگاہ کرتا ہے کہ انسان خدا کی شبیہ اور صورت پر خلق کیا گیا ہے۔ یہ مادے کی شبیہ نہیں ہے۔ روح کی شبیہ اس قدر غیر روحانی نہیں ہوسکتی۔ انسان روحانی اور کامل ہے؛ اور چونکہ وہ روحانی اور کامل ہے اس لئے اْسے کرسچن سائنس میں ایسا ہی سمجھا جانا چاہئے۔ انسان محبت کا خیال، شبیہ ہے؛ وہ بدن نہیں ہے۔ وہ خدا کا ایک مرکب خیال ہے،جس میں تمام تر درست خیالات شامل ہیں، ایسی عمومی اصطلاح جو خدا کی صورت اور شبیہ کی عکاسی کرتی ہے؛ سائنس میں پائے جانے والی ہستی کی با خبر شناخت، جس میں انسان خدا یا عقل کی عکاسی ہے، اور اسی لئے وہ ابدی ہے،یعنی وہ جس کی خدا سے مختلف کوئی عقل نہیں ہے؛ وہ جس میں ایسی ایک بھی خاصیت نہیں جو خدا سے نہ لی گئی ہو؛ وہ جو خود سے اپنی کوئی زندگی، ذہانت اور نہ ہی کوئی تخلیقی قوت رکھتا ہے؛ مگر اْس سب کی روحانی طور پر عکاسی کرتا ہے جو اْس کے بنانے والے سے تعلق رکھتی ہے۔

2. 475 : 5-22

Question. — What is man?

Answer. — Man is not matter; he is not made up of brain, blood, bones, and other material elements. The Scriptures inform us that man is made in the image and likeness of God. Matter is not that likeness. The likeness of Spirit cannot be so unlike Spirit. Man is spiritual and perfect; and because he is spiritual and perfect, he must be so understood in Christian Science. Man is idea, the image, of Love; he is not physique. He is the compound idea of God, including all right ideas; the generic term for all that reflects God's image and likeness; the conscious identity of being as found in Science, in which man is the reflection of God, or Mind, and therefore is eternal; that which has no separate mind from God; that which has not a single quality underived from Deity; that which possesses no life, intelligence, nor creative power of his own, but reflects spiritually all that belongs to his Maker.

3۔ 258 :9۔14 اگلا صفحہ

انسان اپنے اندر ایک دماغ رکھتے ہوئے مادی صورت سے کہیں بڑھ کر ہے، جسے لا فانی رہنے کے لئے اپنے ماحول سے محفوظ رہنا چاہئے۔ انسان ابدیت کی عکاسی کرتا ہے، اور یہ عکس خدا کا حقیقی خیال ہے۔

اس کی وسعت اورلامحدود بنیادوں سے اونچی سے اونچی پرواز کو بڑھاتے ہوئے خدا انسان میں لامحدود خیال کو ہمیشہ ظاہر کرتا ہے۔ عقل اْس سب کو ایاں کرتی ہے جو سچائی کی ابدیت میں پایا جاتا ہے۔ ہم حقیقی الٰہی صورت اور شبیہ سے متعلق اتنا نہیں جانتے جتنا ہم خدا سے متعلق جانتے ہیں۔

لامحدود اصول کی عکاسی لامحدود خیال اور روحانی انفرادیت کے وسیلہ ہوتی ہے، لیکن وہ مادہ جو نام نہاد حواس ہیں انہیں یا اصل یا اس کے خیال سے بالکل آگاہی نہیں ہے۔ انسانی قابلیتیں اس تناسب سے بڑھائی یا کامل کی جاتی ہیں جس سے انسان خدا اور انسان سے متعلق حقیقی نظریہ حاصل کرتا ہے۔

بشر کو روحانی انسان کی اوراْس کے خیالات کی لامحدود وسعت کی بہت نامکمل سمجھ ہے۔ابدی زندگی اْس سے تعلق رکھتی ہے۔خدا کی حکمرانی کے تحت ابدی سائنس میں کبھی نہ پیدا ہونے اور کبھی نہ مرنے سے انسان کے لئے اپنے بلند مقام سے نیچے گرنا ناممکن تھا۔

روحانی حس کی بدولت آپ الوہیت کے دل کو پہچان سکتے ہیں، اور یوں سائنس میں عمومی اصطلاح انسان کو سمجھ سکتے ہیں۔ انسان دیوتا سے نہیں لیا گیا، اور انسان اپنی ہستی کو کھو نہیں سکتا، کیونکہ وہ ابدی زندگی کی عکاسی کرتا ہے، نہ ہی وہ الگ تھلگ، تنہا خیال ہے، کیونکہ وہ لامتناہی عقل، سارے مواد کے منبع کی نمائندگی کرتا ہے۔

الٰہی سائنس میں، انسان خدا کی حقیقی شبیہ ہے۔ الٰہی فطرت میں یسوع مسیح کو بہترین طریقے سے بیان کیا گیا ہے، جس نے انسانوں پر خدا کی مناسب تر عکاسی ظاہر کی اورکمزور سوچ کے نمونے کی سوچ سے بڑی معیارِ زندگی فراہم کی، یعنی ایسی سوچ جو انسان کے گرنے، بیماری، گناہ کرنے اور مرنے کو ظاہر کرتی ہے۔ سائنسی ہستی اور الٰہی شفا کی مسیح جیسی سمجھ میں کامل اصول اور خیال، کامل خدا اور کامل انسان، بطور سوچ اور اظہار کی بنیاد شامل ہوتے ہیں۔

3. 258 : 9-14 next page

Man is more than a material form with a mind inside, which must escape from its environments in order to be immortal. Man reflects infinity, and this reflection is the true idea of God.

God expresses in man the infinite idea forever developing itself, broadening and rising higher and higher from a boundless basis. Mind manifests all that exists in the infinitude of Truth. We know no more of man as the true divine image and likeness, than we know of God.

The infinite Principle is reflected by the infinite idea and spiritual individuality, but the material so-called senses have no cognizance of either Principle or its idea. The human capacities are enlarged and perfected in proportion as humanity gains the true conception of man and God.

Mortals have a very imperfect sense of the spiritual man and of the infinite range of his thought. To him belongs eternal Life. Never born and never dying, it were impossible for man, under the government of God in eternal Science, to fall from his high estate.

Through spiritual sense you can discern the heart of divinity, and thus begin to comprehend in Science the generic term man. Man is not absorbed in Deity, and man cannot lose his individuality, for he reflects eternal Life; nor is he an isolated, solitary idea, for he represents infinite Mind, the sum of all substance.

In divine Science, man is the true image of God. The divine nature was best expressed in Christ Jesus, who threw upon mortals the truer reflection of God and lifted their lives higher than their poor thought-models would allow, — thoughts which presented man as fallen, sick, sinning, and dying. The Christlike understanding of scientific being and divine healing includes a perfect Principle and idea, — perfect God and perfect man, — as the basis of thought and demonstration.

4۔ 302 :3۔24

مادی بدن اور عقل عارضی ہیں، لیکن حقیقی انسان روحانی اور ابدی ہے۔حقیقی انسان کی شناخت کھوئی نہیں ہے، بلکہ اِس وضاحت کے وسیلہ پائی گئی ہے، کیونکہ یہاں وجود کی اور پوری شناخت کی شعوری لامحدودیت سمجھی گئی ہے اور یہ ناقابل تبدیل رہتی ہے۔ یہ ناممکن ہے کہ انسان کسی ایسی چیز سے محروم ہوجائے جو حقیقی ہے، جب خدا مکمل طور پر ہمیشہ کے لئے اْس کا ہو۔یہ تصور کہ عقل مادا میں ہے،اور یہ کہ نام نہاد خوشیاں اور درد، پیدائش، گناہ، بیماری اور مادے کی موت حقیقی ہیں، یہ ایک فانی عقیدہ ہے، اور صرف یہی ایک عقیدہ ہے جو کبھی نہیں کھوسکے گا۔

بشر کے حوالے سے ہماری تشریح کو جاری رکھتے ہوئے آئیے یاد کریں کہ ہم ساز اورغیر فانی انسان ہمیشہ سے موجود ہے اور بطور مادہ وجود رکھتے ہوئے کسی فانی زندگی، جوہر یا ذہانت سے ہمیشہ بلند اور پار رہتا ہے۔ یہ بیان حقیقت پر مبنی ہے نہ کہ افسانوی ہے۔ ہستی کی سائنس انسان کو کامل ظاہر کرتی ہے، حتیٰ کہ جیسا کہ باپ کامل ہے، کیونکہ روحانی انسان کی جان یا عقل خدا ہے، جو تمام تر مخلوقات کا الٰہی اصول ہے، اور یہ اس لئے کہ اس حقیقی انسان پر فہم کی بجائے روح کی حکمرانی ہوتی ہے، یعنی شریعت کی روح کی، نہ کہ نام نہاد مادے کے قوانین کی۔

4. 302 : 3-24

The material body and mind are temporal, but the real man is spiritual and eternal. The identity of the real man is not lost, but found through this explanation; for the conscious infinitude of existence and of all identity is thereby discerned and remains unchanged. It is impossible that man should lose aught that is real, when God is all and eternally his. The notion that mind is in matter, and that the so-called pleasures and pains, the birth, sin, sickness, and death of matter, are real, is a mortal belief; and this belief is all that will ever be lost.

Continuing our definition of man, let us remember that harmonious and immortal man has existed forever, and is always beyond and above the mortal illusion of any life, substance, and intelligence as existent in matter. This statement is based on fact, not fable. The Science of being reveals man as perfect, even as the Father is perfect, because the Soul, or Mind, of the spiritual man is God, the divine Principle of all being, and because this real man is governed by Soul instead of sense, by the law of Spirit, not by the so-called laws of matter.

5۔ 94 :1۔11، 24 (تا)، 30۔32 (تا پہلا)

یسوع نے تعلیم دی کہ ایک خدا، ایک روح جو انسان کو خود کی شبیہ اور صورت پر خلق کرتا ہے، روح سے ہے نہ کہ مادے سے۔ انسان لامتناہی سچائی، زندگی اور محبت کی عکاسی کرتا ہے۔لہٰذہ انسان کی فطرت ”شبیہ“ اور ”صورت“ کی اصطلاحات جس کسی چیز کے لئے بھی استعمال ہوتی ہیں اْسے سمجھتی اور شامل کرتی ہیں، جیسے کہ کلام میں استعمال ہوا ہے۔ شخصیت اور خدا کے ساتھ انسان کے تعلق کے حقیقتاً مسیحی اور سائنسی بیان نے، اْس اظہار کے ساتھ جو اِس کے ہمراہ ہوتا ہے، ربیوں کو ناراض کیا اور انہوں نے کہا: ”اِسے صلیب دے، اسے صلیب دے۔۔۔ ہم اہل شریعت کے موافق وہ قتل کے لائق ہے کیونکہ اْس نے اپنے آپ کو خدا کا بیٹا بنایاہے۔“

ہمارے مالک نے با آسانی انسان کے خیالات کو پڑھ لیا۔

اِس خیال کی مشابہت ایک عقل کی لامتناہی صلاحیتوں کے ساتھ اتحاد اور روحانی ترقی کی طرف اشارہ کرتی ہے۔

5. 94 : 1-11, 24 (to ,), 30-32 (to 1st .)

Jesus taught but one God, one Spirit, who makes man in the image and likeness of Himself, — of Spirit, not of matter. Man reflects infinite Truth, Life, and Love. The nature of man, thus understood, includes all that is implied by the terms "image" and "likeness" as used in Scripture. The truly Christian and scientific statement of personality and of the relation of man to God, with the demonstration which accompanied it, incensed the rabbis, and they said: "Crucify him, crucify him …. by our law he ought to die, because he made himself the Son of God."

Our Master easily read the thoughts of mankind,

An approximation of this discernment indicates spiritual growth and union with the infinite capacities of the one Mind.

6۔ 128 :7 (کاروبار)۔19

۔۔۔تاجران اور مہذب علماء نے دیکھا ہے کہ کرسچن سائنس اْن کی برداشت اور ذہنی قوتوں کو فروغ دیتی ہے، کردار کے لئے اْن کی سوچ کو وسیع کرتی ہے، انہیں فراست اور ادراک اور اپنی عام گنجائش کو بڑھانے کی قابلیت دیتی ہے۔ انسانی سوچ روحانی سمجھ سے بھرو پور ہوکر مزید لچکدار ہوجاتی ہے، تو یہ بہت برداشت اور کسی حد تک خود سے فرارکے قابل ہوجاتی ہے اور کم آرام طلب ہوتی ہے۔ ہستی کی سائنس کا علم انسان کی قابلیت کے فن اور امکانات کو فروغ دیتا ہے۔ فانی لوگوں کو بلند اور وسیع ریاست تک رسائی دیتے ہوئے یہ سوچ کے ماحول کو بڑھاتا ہے۔ یہ سوچنے والے کو اْس کے ادراک اور بصیرت کی مقامی ہوا میں پروان چڑھاتا ہے۔

6. 128 : 7 (business)-19

…business men and cultured scholars have found that Christian Science enhances their endurance and mental powers, enlarges their perception of character, gives them acuteness and comprehensiveness and an ability to exceed their ordinary capacity. The human mind, imbued with this spiritual understanding, becomes more elastic, is capable of greater endurance, escapes somewhat from itself, and requires less repose. A knowledge of the Science of being develops the latent abilities and possibilities of man. It extends the atmosphere of thought, giving mortals access to broader and higher realms. It raises the thinker into his native air of insight and perspicacity.

7۔ 519 :11۔21

انسانی صلاحیت، اِس کی روحانی ابتدا کو ظاہر کرتے ہوئے، خدا کی تخلیق اور اْس قوت اور حضوری کوسمجھنے اور جاننے کے لئے دھیمی ہے جو اِس کے ساتھ چلتی ہے۔ بشر اْس وقت تک کبھی لامتناہی کو نہیں جان سکتے جب تک کہ وہ پرانی انسانیت کو اْتار نہیں پھینکتے اور روحانی شبیہ اور صورت تک نہیں پہنچتے۔ لامحدودیت کو کون جان سکتا ہے! رسول کی اِس زبان کے بغیر ہم اْس کا اظہار کیسے کر سکتے ہیں کہ ”جب تک ہم سب کے سب خدا کے بیٹے کے ایمان اور اْس کی پہچان میں ایک نہ ہو جائیں اور کامل انسان نہ بنیں یعنی مسیح کے پورے قد کے اندازہ تک نہ پہنچ جائیں“؟

7. 519 : 11-21

Human capacity is slow to discern and to grasp God's creation and the divine power and presence which go with it, demonstrating its spiritual origin. Mortals can never know the infinite, until they throw off the old man and reach the spiritual image and likeness. What can fathom infinity! How shall we declare Him, till, in the language of the apostle, "we all come in the unity of the faith, and of the knowledge of the Son of God, unto a perfect man, unto the measure of the stature of the fulness of Christ"?


روز مرہ کے فرائ

منجاب میری بیکر ایڈ

روز مرہ کی دعا

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ ہر روز یہ دعا کرے: ’’تیری بادشاہی آئے؛‘‘ الٰہی حق، زندگی اور محبت کی سلطنت مجھ میں قائم ہو، اور سب گناہ مجھ سے خارج ہو جائیں؛ اور تیرا کلام سب انسانوں کی محبت کو وافر کرے، اور اْن پر حکومت کرے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 4۔

مقاصد اور اعمال کا ایک اصول

نہ کوئی مخالفت نہ ہی کوئی محض ذاتی وابستگی مادری چرچ کے کسی رکن کے مقاصد یا اعمال پر اثر انداز نہیں ہونی چاہئے۔ سائنس میں، صرف الٰہی محبت حکومت کرتی ہے، اور ایک مسیحی سائنسدان گناہ کو رد کرنے سے، حقیقی بھائی چارے ، خیرات پسندی اور معافی سے محبت کی شیریں آسائشوں کی عکاسی کرتا ہے۔ اس چرچ کے تمام اراکین کو سب گناہوں سے، غلط قسم کی پیشن گوئیوں،منصفیوں، مذمتوں، اصلاحوں، غلط تاثر ات کو لینے اور غلط متاثر ہونے سے آزاد رہنے کے لئے روزانہ خیال رکھنا چاہئے اور دعا کرنی چاہئے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 1۔

فرض کے لئے چوکس

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ وہ ہر روز جارحانہ ذہنی آراء کے خلاف خود کو تیار رکھے، اور خدا اور اپنے قائد اور انسانوں کے لئے اپنے فرائض کو نہ کبھی بھولے اور نہ کبھی نظر انداز کرے۔ اس کے کاموں کے باعث اس کا انصاف ہوگا، وہ بے قصور یا قصوارہوگا۔ 

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 6۔


████████████████████████████████████████████████████████████████████████